Al-Ankaboot 29:41

Al-Ankaboot · from ayah 41

29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ ۚۖ— اِتَّخَذَتْ بَیْتًا ؕ— وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ ۘ— لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۟مَثَلُ الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ كَمَثَلِ الۡعَنۡكَبُوۡتِ ‌ۖۚ اِتَّخَذَتۡ بَيۡتًا ‌ؕ وَ اِنَّ اَوۡهَنَ الۡبُيُوۡتِ لَبَيۡتُ الۡعَنۡكَبُوۡتِ‌ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The example of those who take allies other than Allah is like that of the spider who takes a home. And indeed, the weakest of homes is the home of the spider, if they only knew.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:41

جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دُوسرے سرپرست بنا لیے ہیں اُن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے کاش یہ لوگ علم رکھتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وه بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حاﻻنکہ تمام گھروں سے زیاده بودا گھر مکڑی کا گھر ہی ہے، کاش! وه جان لیتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے رکھوالے بنا رکھے ہیں، ان کی مثال مکڑی کی سی ہے، جس نے کوئی گھر بنا لیا ہو، اور کھلی بات ہے کہ تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر کیا اچھا ہوتا اگر جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ایسے (کافر) لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں (یعنی بتوں) کو کارساز بنا لیا ہے مکڑی کی داستان جیسی ہے جس نے (اپنے لئے جالے کا) گھر بنایا، اور بیشک سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہے، کاش! وہ لوگ (یہ بات) جانتے ہوتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا اور مددگار بنا رکھے ہیں مکڑی کی مثال جیسی ہے، جس نے ایک گھر بنایا، حالانکہ بیشک سب گھروں سے کمزور تو مکڑی کا گھر ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو سرپرست بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جس نے اپنا گھر بنایا ہو اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش ! یہ لوگ کچھ جانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان لوگوں کی تمثیل جنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز بنائے ہیں بالکل مکڑی کی تمثیل ہے جس نے ایک گھر بنایا۔ اور بیشک تمام گھروں سے بودا گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔ کاش کہ وہ اس حقیقت کو جانتے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور کارساز بنا رکھے ہیں مکڑی کی سی ہے کہ وہ اپنا کوئی گھر بنالے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گھروں میں سب سے زیادہ کمزور گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے کاش کہ یہ لوگ جان لیتے حق اور حقیقت کو

— مولانا اسحاق مدنی

جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز تجویز کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی مثال ہے اس نے ایک گھر بنایا اور مکڑی کا گھر سب گھروں سے زیادہ بودا ہوتا ہے۔ کاش انہیں اس حقیقت کا علم ہوتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ حمایتی بنا رکھے ہیں ایسی ہے جیسے مکڑی کی مثال جس نے ایک گھر بنایا اور بیشک تمام گھروں میں سب سے زیادہ کمزور گھر مکڑی ہی کا گھر ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو کارساز بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک طرح کا گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے۔ کاش یہ اس بات کو جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The case of those who took others than Allah as their protectors is that of a spider who builds a house; but the frailest of all houses is the spider's house; if they only knew.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The example of those who have adopted patrons other than Allah is like the spider that has made a house, while indeed the weakest of houses is the house of the spider. If only they know.

— Muhammad Taqi Usmani

The example of those who have adopted patrons other than Allah is like the spider that has made a house, while indeed the weakest of houses is the house of the spider. If only they know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The parable of those who seek protectors from other than Allah is that of a spider who builds a house; but indeed, the weakest of houses is the spider's house -- if they but knew.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The likeness of those who choose other patrons than Allah is as the likeness of the spider when she taketh unto herself a house, and lo! the frailest of all houses is the spider's house, if they but knew.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The example of those who take allies other than Allah is like that of the spider who takes a home. And indeed, the weakest of homes is the home of the spider, if they only knew.

— Saheeh International

The belief of considering other things as one's guardians besides God is as feeble as a spider's web. The spider's web is the frailest of all dwellings, if only they knew it.

— Muhammad Sarwar

The parable of those who take guardians besides Allah is as the parable of the spider that makes for itself a house; and most surely the frailest of the houses is the spider's house did they but know.

— Muhammad Habib Shakir

The likeness of those who take other patrons than Allah is as the likeness of the spider who taketh unto herself a house. And verily the frailest of all houses is the spider's house - if they but knew!

— Abdul Majid Daryabadi

The parable of those who take protectors other than Allah is that of the spider, who builds (to itself) a house; but truly the flimsiest of houses is the spider's house;- if they but knew.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–43

مکڑی کا جالا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کی پرستش اور پوجاپاٹ کرتے ہیں ان کی کمزوری اور بےعلمی کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ ان سے مدد روزی اور سختی میں کام آنے کے امیدوار رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مکڑی کے جالے میں بارش اور دھوپ اور سردی سے پناہ چاہے۔ اگر ان میں علم ہوتا تو یہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ نہ کرتے۔ پس ان کا حال ایمانداروں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ایک مضبوط کڑے کو تھامے ہوئے ہیں اور یہ مکڑی کے جالے میں اپنا سرچھپائے ہوئے ہیں۔ اس کا دل اللہ کی طرف ہے اس کا جسم اعمال صالحہ کی طرف مشغول ہے اور اس کا دل مخلوق کی طرف اور جسم اس کی پرستش کی طرف جھکا ہوا ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 73 اوپر جتنی قوموں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب شرک میں مبتلا تھیں اور اپنے معبودوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ ہمارے حامی و مددگار اور سرپرست (Guardians) ہیں، ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کی قدرت رکھتے ہیں، ان کی پوجاپاٹ کر کے اور انہیں نذر و نیاز دے کر جب ہم ان کی سرپرستی حاصل کرلیں گے تو یہ ہمارے کام بنائیں گے اور ہم کو ہر طرح کی آفات سے محفوظ رکھیں گے۔ لیکن جیسا کہ اوپر کے تاریخی واقعات میں دکھایا گیا ہے، ان کے یہ تمام عقائد و اوہام اس وقت بالکل بےبنیاد ثابت ہوئے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بربادی کا فیصلہ کردیا گیا۔ اس وقت کوئی دیوتا، کوئی اوتار، کوئی ولی، کوئی روح اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–42

وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ ، عنکبوت مکڑی کو کہا جاتا ہے، اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ بعض ان میں سے زمین میں گھر بناتی ہیں، بظاہر وہ یہاں مراد نہیں، بلکہ مراد وہ مکڑی ہے جو جالا تانتی ہے اور اس میں معلق رہتی ہے اس جالے کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے، یہ ظاہر ہے کہ جانوروں کی جتنی قسم کے گھونسلے اور گھر معروف ہیں، یہ جالے کے تار ان سب سے زیادہ کمزور ہیں کہ معمولی ہوا سے بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ اس آیت میں غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں اور ان پر اعتماد کرنے والوں کی مثال مکڑی کے اس جالے سے دی ہے جو کہ نہایت کمزور ہے۔ اسی طرح جو لوگ اللہ کے سوا بتوں پر یا کسی انسان وغیرہ پر بھروسہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت مثل الذین اتحذوا من دون اللہ اولیاء لمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لوکانوا یعلمون (41) اوپر کے بیان کردہ تاریخی حقائق سے یہ ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں بن سکتا۔ مشرکین نے خدا کے سوا جا سہارے ڈھونڈے تھے وہ سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ اور یہ جس طرح اس دنیا میں جھوٹے ثابت ہوئے اسی طرح آخرت میں بھی جھوٹے ہوں گے۔ خدا کا قانون مجازات اور اس کا بےلاگ عدل لازماً ظہور میں آکے رہے گا اور جو اپنے فرضی دیوتائوں کی سفارش پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ جس سہارے کو انہوں نے قلعہ کی دیوار سمجھا اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41-1یعنی جس طرح مکڑی کا جالا (گھر) نہایت، کمزور اور ناپائیدار ہوتا ہے، ہاتھ کے معمولی اشارے سے وہ نابود ہوجاتا ہے۔ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا بھی بالکل ایسا ہی ہے، یعنی بےفائدہ ہے کیونکہ وہ بھی کسی کے کام نہیں آسکتے۔ اس لئے غیر اللہ کے سہارے بھی مکڑی کے جالے کی طرح یکسر ناپائیدار ہیں۔ اگر یہ پائیدار یا نفع بخش ہوتے تو یہ معبود گزشتہ اقوام کو تباہی سے بچا لیتے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ انھیں نہیں بچا سکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

24: یعنی کاش یہ لوگ جانتے کہ جن جھوٹے خداؤں پر انہوں نے بھروسہ کیا ہوا ہے وہ مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہیں، اور انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 41–43

مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ وما یعقلھا الا العلمون (41 – 43) یہ ایک عجیب اور سچی تصویر ہے ، ان تمام قوتوں کی جو اس کائنات میں موجود ہیں۔ اس میں ایک ایسی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے جس سے لوگ بالعموم غافل رہتے ہیں اور اس غفلت کی وجہ سے پھر ان کے پیمانے اور اقدار بدل جاتی ہیں۔ پھر وہ غلط رابطے قائم کرلیتے ہیں ۔ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ وہ صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کیا لیں اور کیا چھوڑیں۔ اس غلط سوچ کی وجہ سے وہ پھر ریاستی قوت سے بھی دھوکہ کھا جاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ریاستی قوت ہی اصل قوت ہے اور سب کچھ ہے۔ اور ہر جگہ موثر ہے۔ اس لیے وہ اس قوت سے ڈرتے ہیں اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی گھر اس واسطے ہے کہ جان مال کا بچاؤ ہو، نہ مکڑی کا جالا کہ دامن کے جھٹکے سے ٹوٹ پڑے۔ یہ ہی مثال اس کی ہے جو اللہ کے سوا کسی کو اپنا بچانے والا اور محافظ سمجھے بدون مشیت الٰہی کچھ بچاؤ نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِج اِتَّخَذَتْ بَیْتًا ط ” اس تمثیل کے اعتبار سے یہ آیت سورت کے اس حصے کی بہت اہم آیت ہے۔ اس تمثیل میں اللہ کے سوا جن مددگاروں کا ذکر ہوا ہے وہ غیر مرئی بھی ہوسکتے ہیں ‘ جیسے کوئی کہے کہ مجھے فلاں دیوی کی کرپا چاہیے یا کوئی کسی ولی اللہ کی نظر کرم کے سہارے کی بات کرے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ظاہری و معنوی طاقت یا مادی وسائل کی بنیاد پر کوئی شخص کسی فرد ‘ قوم یا چیز پر ایسا بھروسا کرے کہ وہ اللہ کے اختیار اور اس کی قدرت کو بھلا بیٹھے۔ جیسے ہم امریکہ کو اپنا پشت پناہ سمجھ کر اس کی جھولی میں جا بیٹھتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 یعنی اوپر جن جن اقوام کا ذکر آیا ہے یہ سب ہی شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھیں۔ انھیں چیزوں کو انہوں نے اپنا مشکل کشا سمجھ رکھا تھا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ان کے سامنے قربانیاں بھی پیش کی جائیں اور نذروں و نیازوں کے چڑھاوے بھی چڑھائے جاتے تھے، اس امید پر ہمارے یہ سرپرست حضرات ہم سے خوش رہیں۔ اور مصیبت کے وقت ہمارے کام آئیں مگر ان مشرکوں کے معبودوں یا سرپرستوں کی مثال تو لکڑی کے گھر جیسی ہے جو اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ انگلی کی ایک ہلکی سی جنبش سے تار تار ہوجاتا ہے اور گرپڑتا ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر جب اللہ کا عذاب آیا تو اس عذاب کی پہلی اور ہلکی سی ضرب سے ہی ان کی تمام تر توقعات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

46۔ یعنی جس طرح وہ مکڑی کا گھر اپنے غایت ضعف کی بناء پر کالعدم ہوتا ہے ان کے یہ معبودان باطل بھی جن کی کارسازی پر انہیں بھروسہ ہے ان کے لیے لاشئے محض ثابت ہوں گے آسرے کے غایت ضعف کے موقع پر مثال اس مکڑی کے جالے کی قدیم صحیفوں میں بھی ملتی ہے۔” ان کی جو خدا کو بھول جاتے ہیں یہ راہیں ہیں اور ریاکار کی امید توڑی جاتی ہے۔ ان کی امید کی جڑکٹ جاتی اور ان کی آس مکڑی کا جالا سا ہے “۔ (ایوب۔ 8: 14) ” وہ ناگ کے انڈے سیتے ہیں اور مکڑی کی طرح جالا بنتے ہیں۔ انکے جالے کی اسٹاک بن نہیں سکتی، وہ اپنی بناوٹ یا آپ کی ڈھانپ نہیں سکتے “۔ (یسعیاہ۔ 59: 60) ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ 47۔ (کہ شرک کس درجہ لچر، مہمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–44

آیت نمبر 31 تا 44 ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

مثل الذین اتخزوا من دون اللہ اولیآ کمثل العنکبوت اتخذت بیتًا . جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنا رکھا ہے ‘ ان کی حالت ایسی ہے جیسے کسی مکڑی نے کوئی جالا بنایا ہو۔ یعنی جو کافر بتوں پر بھروسہ رکھتے ہیں اور انہوں نے بتوں کو اپنا محل اعتماد قرار دے رکھا ہے ‘ ان کی مثال کمزوری ور ضعف کے لحاظ سے ایسی ہے جیسے کسی مکڑی نے اپنا جالا بنا لیا ہو۔ بلکہ مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ ان کا محل اعتماد کمزور ہے ‘ مکڑی کا جالا پھر بھی کوئی حقیقت رکھتا ہے اور اس کا کچھ فائدہ مکڑی کو پہنچتا ہے۔ بت پرستوں کی حالت اس سے بھی گئی گزری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بت پرستوں کے مذہب کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے۔ یا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(41) جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ بتوں وغیرہ میں سے اور کار ساز تجویز کر رکھے ہیں ان لوگوں کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور کچھ شک نہیں کہ سب گھروں میں زیادہ کمزور اور پھس پھسا مکڑی کا گھر ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نہ اس گھر میں گرمی کا بچاؤ ہوسکتا ہے اور نہ اس سے سردی کی حفاظت ہوسکتی ہے اسی طرح یہ جھوٹے معبود اپنے پجاریوں کو نہ دنیا ہی میں کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ آخرت میں ان کے کام آسکتے ہیں کاش وہ حقیقت جانتے لیکن نہ وہ حقیقت کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق ہی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاۗءَ۔۔ : اللہ کے عذاب کے ساتھ ہلاک ہونے والی تمام اقوام اور تمام افراد کا اصل جرم اور اپنی جان پر ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور مددگار اور مشکل کشا بنا رکھے تھے، اب مکہ کے مشرکوں نے بھی انھی کی روش اپنا رکھی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مثال دے کر واضح فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی کو مددگار سمجھنے والوں کی مثال مکڑی کی ہے جو گھر بناتی ہے، گھر کا فائدہ یہ ہے کہ وہ سردی، گرمی، بارش، آندھی اور حملہ آور سے بچاتا ہے، مگر مکڑی کا گھر نہ اسے سردی سے بچاتا ہے نہ گرمی سے، نہ بارش یا طوفان سے نہ ہی کسی حملہ آور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–43

اخفش نے کہا : کمثل العنکبوت پر وقف تام ہے۔ پھر اس کے قصہ کو بیان کیا اور کہا : ابن انباری نے کہا : یہ غلط ہے : کیونکہ یہ عنکبوت کا صلہ ہے : گویا فرمایا : موصول کے بغیر صلہ پر وقف اچھا نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : (الجمعہ 5) یحمل، حمار کا صلہ ہے یحمل کی بجائے حمار پر وقف کرنا اچھا نہیں۔ فراء نے کہا : یہ ضرب المثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے لئے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو معبود بناتا ہے جو نہ نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان دیتے ہیں جس طرح مکڑی کا گھر نہ اسے گرمی سے بچاتا ہے اور نہ ٹھنڈ سے بچاتا ہے۔ عنکبوت پر وقف اچھا نہیں کیونکہ اس گھر جو اسے کسی چیز سے نہیں بچاتا اس کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت مثل الذین اتخذو من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے مشرک کے لیے بیان فرمائی اسے اس معبود اس کی کمزوری اور اجزاء کی قلت کی وجہ سے ذرا بھی فائدہ نہ دیں گے۔ مشرکین کا اپنے باطل معبود سے بہت کمزور تعلق ہے۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کے بارے میں روایت کیا کہ مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا اس شخص کے لیے جو غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس کی مثال مکڑی کے گھر کی مثال کی طرح ہے۔ 3۔ ابو داوء د نے اپنے مراسیل میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَثَلُ الَّذِيْنَ [ان لوگوں کی مثال جنہوں نے ] اتَّخَذُوْا [بنائے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] اَوْلِيَاۗءَ [کچھ کار ساز ] كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ ښ [مکڑی کی مثال کی مانند ہے ] اِتَّخَذَتْ [اس (مکڑی) نے بتایا ] بَيْتًا ۭ [ایک گھر ] وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ [اور بیشک گھروں کا سب سے کمزور ] لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ ۘ [یقینا مکڑی کا گھر ہے ] لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [کاش وہ لوگ جانتے ہوتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–41

مشرکین اپنے معبودوں سے جو امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اس کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عبادت ہمارے لیے فائدہ مند ہوگی اور یہ ہمارے مددگار ہوں گے۔ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتقاد کی ایسی مثال ہے جیسے مکڑی کا گھر ہو، مکڑی جالا بن کر اس میں بیٹھی رہتی ہے اور اس جال کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے۔ جانوروں کے جتنے بھی چھوٹے بڑے گھر گھونسلہ وغیرہ کی صورت میں ہوتے ہیں مکڑی کا گھر ان میں سب سے زیادہ بودا اور کمزور ہوتا ہے، یہی حال ان لوگوں کا ہے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

ابطال شرک و اثبات توحید قال اللہ تعالیٰ مچل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لل مومنین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ ان ظالموں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کفر اور شرک میں مبتلا ہوئے اور مورد عذاب الٰہی بنے اب ان آیات میں ان کے ظلم کی تشریح کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی مثال جو بت پرستی کرتے ہیں مکڑی کی سی ہے جس کا گھر بہت بودا ہوتا ہے مکڑی کی طرح یہ بھی اپنے اعتقاد کا تانا بانا بنتے ہیں جو محض لغو ہے۔ (یا یوں کہو) کہ ان ظالموں نے جس دین کو اپنا قلعہ اور حصن حصین سمجھا ہوا ہے اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں مثال ان لوگوں کی جنہوں نے خدا کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 40–41

33:۔ یہ سورت کا مرکزی دعوی ہے یعنی جب سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو مصائب و مشکلات میں حمایتی اور کارساز بھی وہی ہے۔ اس دعوے کو ایک نہایت ہی واضح مثال کے ساتھ سمجھایا گیا ہے۔ جو لوگ مصائب و مشکلات میں اللہ کے سوا اوروں کو حمایتی اور کارساز سمجھتے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے۔ جو نہایت ہی باریک اور کمزور تاروں سے جالا بن کر اپنے لیے گھر بناتی ہے۔ مکڑی کا یہ گھر نہایت ہی کمزور ہوتا ہے جو نہ سردی سے بچا سکتا ہے نہ گرمی سے، نہ بارش سے نہ آندھی سے۔ بعینہ یہی حال غیر اللہ کی پناہ اور معبودان باطلہ کے سہاروں کا ہے وہ بھی اس قدر کمزور ہیں کہ کسی مصیبت اور مشکل میں کام…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–44

ربط آیات : گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر فرمایا۔ اور کچھ لوگوں کی مثالیں بھی بیان فرمائیں۔ اس سلسلے مٰں اللہ کے پاک انبیاء ، نوح (علیہ السلام) ابراہیم علیہ السلا ، لوط (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا انجام اور ان کو ملنے والی سزاؤں کا تذکرہ کیا۔ ایمان ہی کے سلسلے میں توحید کا بیان ہوا۔ باقی مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی مضامین۔ نبوت و رسالت ، معاد اور وحی الہی کا ذکر ہے جو کہ مختلف سورتوں میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہ۔ اس درس میں مسئلہ توحید کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اَوْلِيَاۗءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ۝ 0ۖۚ اِتَّخَذَتْ بَيْتًا۝ 0ۭ وَاِنَّ اَوْہَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ۝ 0ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۝ 41 مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–43

ترکیب : مثل الذین صلہ و موصول مبتداء کمثل العنکبوت خبر اتخذت بیتا جملہ مستانفہ یا وصف والعنکبوت تقع علی الواحد والجمع والمذکر والمونث والتا، فیہ زائدۃ کتاء طاغوت و یجمع علی عناکیب و عناکب و عکابٍ و عکبۃ واعکبٍ (بیضاوی) مایدعون من دونہ من شیء ما استفہامیۃ منصوبۃ بیدعون بالتاء والیاء ویعلم معلقۃ عنھا (لان من خواص افعال القلوب التعلیق ای ابطال العمل لفظا فقطا) ومن للتنبیین اونافیتہ ومن مزیدۃ وشیء مفعول یدعون او موصولہ مفعول لیعلم و مفعول یدعون محذوف وھو العائد والخبر الامثال و نضربہا حال عنھا ویجوزان یکون خبرا والامثال لغت بالحق حال۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ولکن کانوا انفسہم یظلمون اب یہاں ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَ کَمَثَلِ الْعَنْـکَبُوْتِ صلے ج اِتَّخَذَتْ بَیْتًا ط وَاِنَّ اَوْھَنَ الْـبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْـکَبُوْتِ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 41) (ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں مکڑی کی مثال کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور بیشک سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے، کاش وہ اس حقیقت کو جانتے۔ ) شرک اور اہل شرک کی تمثیل اوپر جتنی قوموں اور جتنے افراد کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب شرک کے مرض میں مبتلا تھے اور جن قوتوں کو انھوں نے اپنا معبود بنا رکھا تھا اور ان کا گمان یہ تھا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : غیر اللہ سے مدد طلب کرنے والے شخص کے عقیدہ کی مثال۔ تباہ ہونے والی اقوام نے اللہ تعالیٰ کے سوا فوت شدہ بزرگوں، پتھر اور مٹی کی مورتیوں اور دنیا کے مختلف اسباب کو ” اللہ “ کا درجہ دے رکھا تھا۔ یہ اقوام سمجھتی تھیں کہ ہمارے بزرگ اور اسباب ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس لیے انہوں نے انبیاء کی دعوت کو قابل توجہ نہ جانا اس جرم کی وجہ سے ان پر رب ذوالجلال کا عذاب آیا تو ان کو بچانے والا کوئی نہ تھا۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے خداؤں اور بزرگوں کو مشکل کشا اور دستگیر سمجھتے تھے۔ ان کے مشرکانہ عقیدے کو مکڑی کے جالے کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے جو دنیا کے گھروں میں سب سے کمزور ترین گھر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41: مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَ (اور حالت ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا رکھا ہے) یعنی معبود۔ مثال اس کی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں کو ضعف اور سوء اختیار میں شریک ٹھہراتے ہیں۔ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا (مکڑی جیسی مثال ہے۔ جس نے گھر بنایا) ۔ یعنی اس میں جو وہ اپنے لئے گھر بناتی ہے۔ یہ گھر گرمی و سردی کو دور نہیں کرسکتا اور نہ اس سے ان چیزوں سے بچا جاسکتا ہے۔ جن چیزوں سے دوسرے گھروں کے ذریعہ بچا جاتا ہے۔ پس اسی طرح بت ان کو دنیا و آخرت میں فائدہ نہیں دے سکتے۔ نحو : حاتم نے اتخذت کو حال قرار دیا ہے۔ وَاِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 41۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیائ، ،، اس سے مراد بت ہیں کہ جو لوگ ان کی پرستش کرتے ہیں وہ انہی سے مدد اور نفع مانگیں گے ۔ کمثل العنکبوت ۔ ” اتخذت بیتا، ، اپنے لیے وہ جالاتی بناتی ہے تاکہ اس میں ٹھکانا اختیار کرے۔ بیشک اس کا گھر ضعیف اور کمزورہوتا ہے جالانہ تو اس کو سردی سے بچاتا ہے اور نہ ہی گرمی سے۔ یہی مثال بتوں کی ہے کہ وہ اپنے عبادت گارو کے نہ نفع کے مالک ہیں اور نہ نقصان کے مالک، وان اوھن البیتو لبیت العنکبوت لوکانوایعلمون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–43

41 تا 43۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کہاوت بیان فرماتا ہے جو خدا کو جھوڑ کر اوروں کو معبود ٹھہراتے ہیں اور اپنی حاجتوں میں ان کو پکارتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا گھر ہے جو نہایت بودا ہے اور گرمی جاڑے بارش کا اس میں کچھ بچاؤ نہیں اسی طرح ان جھوٹے معبودوں سے ان کے پوجنے والوں کو کچھ فائدہ نہیں ان کا دین مکڑی کے گھر کی طرح بودا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹے معبودوں کے پوجنے والوں کی مکڑی کے گھر سے مثال دی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ آفت آجاوے گی تو ان کو اپنے جھوٹے معبودوں سے اسی طرح کچھ مدد نہ ملے گی جس طرح مکڑی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–43

آیت 41 یہ مثال ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس شخص کے لئے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کی عبادت بھی کرتا ہے اور اس کا مقصد ان سے عزت قوت اور منفعت کا حصول ہے حالانہ حقیقت اس کے مقصود کے بالکل برعکس ہے۔ اس شخص کی مثال اس مجڑی کی سی ہے جس نے جالے کا گھر بنایا ہوتا کہ گرمی سردی اور دیگر آفات سے محفوظ رہے۔ (وان اوھن البیوت) مگر سب سے کمزور گھر ( لبیت العنکبوت) ” مکڑی کا گھر ہوتا ہے مکڑی کا شمار کمزور حیوانات میں ہوتا ہے اور اس کا گھر تو سب سے کمزور گھر ہے وہ گھر بنا کر اس میں کمزوری کے سوا کچھ اضاعہ نہیں کرتی۔ اسی طرح مشرکین نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھی ہیں وہ ہر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

57 شرک اور اہل شرک کی تمثیل مکڑی کے جالے سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز بنا رکھے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے مکڑی نے ایک گھر بنایا " اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ سو جس طرح مکڑی کا جالا بظاہر بڑا پھیلا ہوا اور تنا ہوا ہوتا ہے اور وہ مکھی مچھر جیسی کمزور چیزوں کو پھانس بھی لیتا ہے مگر نہ وہ سردی گرمی سے بچا سکتا ہے نہ ہی باد و باراں وغیرہ کے اثرات سے۔ اور وہ ہوا کے ایک ہی جھونکے یا کسی معمولی ٹھوکر سے تار تار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ان کے ان معبودان باطلہ اور کارسازان خود ساختہ کا حال ہے جن کو ان لوگوں نے اللہ پاک کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–44

عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44 اسرارومعارف ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث : اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ اور سمجھتی ہے کہ اس گھر میں گرمی، سردی اور بارش سے محفوظ رہوں گی مگر دراصل یہ حماقت اور نادانی ہے۔ (شوکانی) 4 ۔ کہ ان کا اپنے ان دیوتائوں کو سرپرست بنانا ایسا ہی ہے جیسا مکڑی کا گھر بنانا، جس طرح مکڑی کا گھر ذرا سی چوٹ سے نیچے آرہتا ہے اسی طرح ان کے دیوتائوں کا آسرا بھی بودا ہے جو انہیں کسی مصیبت کے وقت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا، انہیں پکارنا اور نہ پکارنا یکساں ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 41–42

(29:41) اتخذوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے ٹھہرالیا۔ اوھن۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے سب سے کمزور۔ سب سے ضعیف۔ وھن مصدر۔ جس کے معنی جسمانی طور پر کسی معاملہ میں کمزور ہونے یا اخلاقی کمزوری ظاہر کرنے کے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے رب انی وھن العظم منی (19:47) اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں۔ ان اللہ یعلم ما یدعون من دونہ من شیئ۔ میں ما موصولہ ہے اور یعلم کا مفعول ہے من دونہ میں من متعلقہ یدعون ہے۔ ہ ضمیر کا مرجع اللہ ہے من شیء میں من یا تو تبیین کا ہے اور موصول کے بیان کے لئے ہے یا تبعیضیہ ہے۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ یہ جس کسی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

لغات القرآن آیت نمبر (41 تا 44) ۔ العنکبوت (مکڑی) ۔ اتخذت (بنایا) ۔ اوھن (سب سے کمزور۔ کمزور ترین) ۔ خلق (اس نے پیدا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (41 تا 44) ۔ ” ابتدائے کائنات سے نبی کریم ﷺ تک جتنے بھی بیشمار انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے انہوں نے عقیدہ کی گندگیوں میں ملوث لوگوں کی اصلاح کے لئے بتایا کہ اللہ ہی ساری کائنات کا پیدا کرنے والا، سب کو رزق دینے والا اور سب کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے وہ صرف ایک اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہی ہر ایک کا محافظ و نگران، نفع اور نقصان کا مالک اور ہر ایک کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہے وہ اگر کسی پر اپنی رحمتوں کو نازل کرتا ہے تو کوئی اسے روکنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–43

غیروں کو معبود بنانے کا رد۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو اللہ کو چھوڑ کر اور روں کو معبود ٹھہراتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا گھر جو نہایت بودا ہے اور گرمی جاڑے بارش کا اس میں کچھ بچاؤ نہیں، اسی طرح ان جھوٹے معبودوں سے ان کے پوجنے والوں کو کچھ فائدہ نہیں، ان کا دین مکڑی کے گھر کی طرح بودا ہے فرمایا اگر ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ آفت آجائے تو ان کے اپنے جھوٹے معبودوں سے اس طرح کچھ مدد نہ ملے گی جس طرح مکڑی کو اپنے گھر سے جاڑے گرمی میں کچھ بچاؤ کی مدد نہیں ملتی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھوٹے معبودوں کے پوجنے والوں کو دھمکایا کہ ہم سب کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–41

[14] یعنی گھر اس واسطے ہے کہ جان و مال کا بچاؤ ہو نہ کہ مکڑی کا جالا کہ دامن کے جھٹکے سے ٹوٹ پڑے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا بچانے والا اور محافظ سمجھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

ایک بےمثل تشبیہہ 1: حقیقت یہ ہے کہ مشرکین کے عقیدہ کی کمزوری اور ان کی بےچارگی کی اس سے بہتر مثال نہیں بیان کی جاسکتی غور فرمائیے کہ گھر کی غرض کیا ہوسکتی ہے ۔ یہی کہ وہاں آرام اور آسودگی ہو ۔ گرمی اور سردی سے پناہ ملے ۔ اور بادوباران کے وقت آرام میسر ہو ۔ مگر مکڑی کے گھر میں یہ چیزیں کہاں حاصل ہوسکتی ہیں ۔ ہوا کا ایک جھونکا اس کو برباد کرسکتا ہے ۔ اور آگ کا ایک شرارہ اس کے سارے تانے بانے کو فنا کرسکتا ہے ۔ حل لغات :۔ العنکبوت ۔ مکڑی اوھن ۔ بہت زیادہ بودا

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

41۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اورں کو کار ساز تجویز کر رکھا ہے ان لوگوں کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ اس مکڑی نے اپنے خیال میں ایک گھر بنا لیا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور اور بودا گھر مکڑی کا ہوتا ہے کاش وہ اتنی بات کو سمجھتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں گھر اس واسطے ہے کہ جان و مال کا بچائو ہو نہ مکڑی کا جالا کہ دامن کے جھٹکے سے ٹوٹ پڑے ویسا ہی ہے جو اللہ کے سوائے کسی کو اپنا بچائو سمجھے۔ 12 یعنی جو اللہ تعالیٰ کے سوائے دوسروں پر تکیہ اور سہارا لگائے بیٹھے ہیں وہ بدنصیب ایسے ہی ہیں جیسے مکڑی جالا تن کے بیٹھ جائے جو کسی تیز ہوا کے جھونکے یا کسی کا دامن اور ہاتھ لگ جانے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–43

ف 1۔ پس جیسا اس مکڑی نے اپنے زعم میں ایک اپنی پناہ بنائی ہے مگر واقع میں وہ پناہ غایت ضعف سے کالعدم ہے اسی طرح یہ شرک معبودات باطلہ کو اپنے زعم میں اپنی پناہ سمجھتے ہیں مگر واقع میں وہ پناہ لاشے محض ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان نافرمانوں کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا جالا ایک بےحقیقت لیکن دیکھنے میں حیرت زا : 41۔ اوپر اشارات ہی اشارات میں مختصر سا ذکر مختلف اقوام کا کیا گیا اور ان کی عملی خرابیوں کی طرف انگشت نمائی کی گئی کہ ان میں یہ یہ خرابی موجود تھی اور بعض جگہ پر ان کا تفصیلی ذکر کرکے وضاحت بھی کردی گئی جس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی اخلاقی کمزوری کی کیا حالت تھی اور بعض جگہ پر ان کا تفصیلی ذکر کے وضاحت بھی کردی گئی جس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی اخلاقی کمزوری کی کیا حالت تھی اور وہ کس قسم کی تھی اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ان بدکاریوں کا اصل باعث ان کے عقیدہ کی خرابی تھی اور پھر عقیدہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–41

وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ (And surely the weakest of houses is the house of the spider - 29:41). ` Ankabut (عَنكَبُوتِ ) is the Arabic language equivalent for spider. There are different species of spiders. Some of them live underground. Apparently those are not meant here. Instead the specie of spider meant here is the one which weaves web for itself, and stays suspended in it. It attracts and kills flies in the cobweb. Among all the known types of nests, dens and other abodes of animals, the spider's web is the weakest. Even a mild breeze can break its threads. This…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

73 All the above-mentioned nations were involved in shirk, and their belief about their deities was that they were their supporters and helpers and guardians, and had the power to make or mar their destinies; so when they will have won their goodwill by worship and. presentation of offerings they will succour them in need and protect them against calamities and afflictions. But, as shown by the historical events cited above, all their beliefs and superstitions proved to be baseless when their destruction was decreed by Allah. Then no god, and no god incarnate, and no saint or spirit, and no…

Read the full tafseer →