Explained with ayahs 38–40
احقاف کے لوگ
عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 68
یعنی عاد، جن پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک سخت ہوا کا طوفان برپا رہا۔ (سورة الحاقہ آیت 7)
سورة العنکبوت 69
یعنی ثمود۔
سورة العنکبوت 70
یعنی قارون۔
سورة العنکبوت 71
یعنی فرعون اور ہامان۔
سورة العنکبوت 72
یہ تمام قصے جو یہاں تک سنائے گئے ہیں، ان کا روئے سخن دو طرف ہے۔ ایک طرف یہ اہل ایمان کو سنائے گئے ہیں تاکہ وہ پست ہمت اور دل شکستہ و مایوس نہ ہوں اور مشکلات و مصائب کے سخت سے سخت طوفان میں بھی صبر و استقلال کے ساتھ حق و صداقت کا علم بلند کیے رکھیں، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں کہ آخرکار اس کی مدد ضرور آئے گی اور وہ ظالموں کو نیچا دکھائے گا اور کلمہ حق کو سر بلند کردے گا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
معارف و مسائل
ان آیات میں جن انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات اجمالاً بیان کئے گئے ہیں وہ پچھلی سورتوں میں مفصل آ چکے ہیں، مثلاً شعیب ؑ کا قصہ سورة اعراف اور ہود میں، اسی طرح عاد وثمود کا قصہ بھی اعراف اور ہود میں گذر چکا ہے اور قارون، فرعون، ہامان کا قصہ سورة قصص میں ابھی گذرا ہے۔
وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ ، استبصار سے مشتق ہے، جو بصیرت کے معنی میں ہے اور مستبصر بمعنی مبصر، مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جو کفر و شرک پر اصرار کر کے عذاب میں اور ہلاکت میں مبتلا ہوئے کچھ بیوقوف یا دیوانے نہ تھے، دنیا کے کاموں میں بڑے مبصر اور ہوشیار تھے، مگر ان کی عقل اور ہوشیاری اسی مادی دنیا میں مقید…
Read the full tafseer →فکلا اخذنا بذنبہ ج فمنھم من ارسلتا علیہ حاصبا ج ومنھم من اخذتہ الصیعۃ، ومنھم من خسفنا بہ الارض ج ومھم من اغرقنا ج وما کان اللہ لیظلمھم ولکن کانو انفسھم یظلمون (40)
اب یہ آخر میں بطور خلاصہ مذکورہ بالاتمام اقوام و افراد کا انجام یکجا بیان فرمادیا کہ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے اس کے جُرم کی پاداش میں پکڑا۔ کسی پر ہم نے حاصب (کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا) بھجی، کسی پر رعدو برق کا عذاب بھیجا، کسی کو زمین سمیت دھنسا دیا اور کسی کو غرق کردیا۔
پچھلی سورتوں میں ان تمام عذابوں کی تفصیل گزر چکی ہے۔
قوم لوط پر حاصب کا عذاب آیا۔
عاد، ثمود، مدین پر صیحہ کا عذاب نازل ہوا۔
قارون زمین میں دھنسا دیا…
Read the full tafseer →40-1یعنی ان مذکورین میں سے ہر ایک کی ان کے گناہوں کی پاداش میں ہم نے گرفت کی۔
40-2یہ قوم عاد تھی، جس پر نہایت تتند و تیز ہوا کا عذاب آیا۔ یہ ہوا زمین سے کنکریاں اڑا اڑا کر ان پر برساتی، بالآخر اس کی شدت اتنی بڑھی کہ انھیں اچک کر آسمان تک لے جاتی اور انھیں سر کے بل زمین پردے مارتی، جس سے ان کا سر الگ اور دھڑ الگ ہوجاتا گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ (ابن کثیر) بعض مفسرین نے حصبا کا مصداق قوم لوط ؑ کو ٹھہرایا ہے۔ لیکن امام ابن کثیر نے اسے غیر صحیح اور حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب قول کو منقطع قرار دیا ہے۔
40-3حضرت صالح ؑ کی قوم ثمود ہے۔ جنہیں ان کے کہنے پر ایک چٹان سے اونٹنی نکال کر…
Read the full tafseer →20: قوم عاد اسی طرح ہلاک ہوئی۔ دیکھئے سورة اعراف : 64
21: قوم ثمود اسی طرح تباہ ہوئی۔ دیکھئے سورٔ قصص : 75
22: قارون کو زمین میں دھنسایا گیا تھا۔ دیکھئے سورة قصص : 75
23: حضرت نوح ؑ کی قوم پر طوفان آیا تھا جس میں وہ غرق ہوئی، اسی طرح فرعون اور اس کی قوم کو بھی سمندر میں غرق کیا گیا
Read the full tafseer →فکلا اخذنا بذنبہ ۔۔۔۔۔ انفسہم یظلمون (40)
” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے “۔ قوم عاد پر اللہ نے ایسی تیز ہوا بھیجی جو پتھر اڑا کر پھینک رہی تھی۔ اسی طرح جو جہاں تھا ، مارا گیا۔ قوم عود پر سخت دھماکہ دار چیخ آئی اور سب ڈھیر ہوگئے۔ اور قارون معہ اپنی دولت اور کوٹھیوں کے زمین میں دھنس گیا۔ اور فرعون اور ہامان بحراحمر میں غرق ہوئے۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے ظلم…
Read the full tafseer →2 یعنی ان میں سے ہر ایک کو اس کے جرم کے موافق سزا دی گئی۔
3 یہ قوم لوط ہے اور بعض نے " عاد " کو بھی اس میں داخل کیا ہے۔
4 یہ " ثمود " تھے اور اہل مدین بھی۔
5 یعنی قارون کو جیسا کہ سورة قصص میں گزرا۔
6 یہ فرعون و ہامان ہوئے اور بعض نے قوم نوح کو بھی اس میں داخل کیا ہے۔
7 یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ نہیں کہ کوئی ناانصافی یا بےموقع کام کرے، اس کی بارگاہ عیوب و نقائص سے بکلی مبرا ومنزہ ہے۔ ظلم تو وہاں متصور ہی نہیں، ہاں بندے خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، یعنی ایسے کام کرتے ہیں جن کا نتیجہ لا محالہ ان کے حق میں برا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فَمِنْہُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا ج ”
یہ آندھی قوم لوط علیہ السلام پر بھی آئی تھی جو زلزلے سے تلپٹ ہوجانے والی بستیوں پر پتھراؤ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ اس سے پہلے قوم عاد پر بھی آندھی کا عذاب آیا تھا ‘ جس کا ذکر سورة الحاقہ میں اس طرح آیا ہے : وَاَمَّا عَادٌ فَاُہْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ۔ سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ”اور قوم عاد کے لوگ ہلاک کیے گئے تیز آندھی سے ‘ جو ان پر مسلط کردی گئی سات راتیں اور آٹھ دن تک ‘ برباد کردینے کے لیے ‘ پس تو دیکھتا ان…
Read the full tafseer →61 یعنی ہر قوم کو اس کے جرم کے مطابق سزا دے کر صفحہ ہستی سے چلتا کیا اور زمین کو ان لوگوں سے پاک کردیا۔ ان میں پتھروں کی بارش کا عذاب صرف قوم لوط پر آیا تھا۔ اور قوم عاد پر جو عذاب آیا تھا وہ تیز آندھی کی شکل میں تھا جس میں چھوٹے چھوٹے پتھر کنکر بھی ملے ہوئے تھے۔
62 قوم ثمود (حضرت صالح) اور اہل مدین (حضرت شعیب) پر یہی عذاب آیا تھا۔
63 یعنی قارون اور اس کے خدام کو پورے خزانوں سمیت، جس کا قصہ سورة میں پوری تفصیل سے گزر چکا ہے۔
64 یعنی قوم نوح کو اور فرعون اور آل فرعون کو۔
65 ان سب قوموں کی طرف ہم نے نبی بھیجے تاکہ وہ انھیں ان کی گمراہیوں سے مطلع کریں۔ لیکن ان لوگوں نے نبیوں کو جھوٹا سمجھا۔ اور…
Read the full tafseer →44۔ (غرض کسی نہ کسی طریق پر وہ عذاب الہی کی گرفت ہی میں آکر رہے) (آیت) ” من ارسلنا علیہ حاصبا “۔ مثلا قوم عاد پر (آیت) ” من اخذتہ الصیحۃ “۔ مثلا قوم ثمود کو۔ (آیت) ” من خسفنا بہ الارض “۔ مثلا قارون وبیت قارون کو۔ (آیت) ” من اغرقنا “۔ مثلا فرعون اور اس کے لشکر کو۔
45۔ یعنی یہ خود ہی اپنے مستحق عذاب بناتے اور عذاب الہی کی گرفت میں لاتے رہے۔ (آیت) ” ماکان اللہ لیظلمھم “۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے تو ان پر صورۃ بھی ظلم نہیں کیا یعنی یہ کہ انہیں بلاوجہ ظاہری سزادے دیتا۔ واقعۃ وحقیقۃ تو حق تعالیٰ سے ” ظلم “۔ کا صدور کسی حال میں بھی ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →فکلا اخذنا بذنبہ (مگر) ہماری گرفت سے آگے نہ نکل سکے ہم نے ہر ایک کو اس کے جرم کی وجہ سے دھر پکڑا۔
یعنی ہماری گرفت سے چھوٹ نہ سکے بلکہ اللہ کے حکم عذاب نے ان کو آلیا۔
سَابِقِیْنَ بمعنی فاءِتِیْنَ ۔ سَبقَ طَالِبہٗ وہ اپنے طالب (یعنی پکڑنے والے) سے آگے نکل گیا (یعنی چھوٹ گیا ‘ ہاتھ نہ آیا) اَخَذْنَا ہم نے پکڑ لیا یعنی سزا دی۔ فمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا . پس ان کافروں میں سے کچھ تو وہ تھے جن پر ہم نے پتھریاں برسانے والی
ہوا بھیج دی ‘ یعنی قوم لوط۔
ومنھم من اخذتہ الصیحۃ . اور کچھ وہ تھے جن کو ایک چیخ نے دھر پکڑا ‘ یعنی قوم ثمود و مدین۔
ومنھم من خسفنا بہ الارض . اور کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں…
Read the full tafseer →(40) چناچہ ہم نے ہر ایک قوم کو اس کے شرک کے جرم میں پکڑ لیا سو ہم نے ان میں سے بعضوں پر تو پتھر برسا دیے اور وہ لوط ؑ کی قوم ہے اور ان میں سے بعضوں کو سخت عذاب نے آدبایا اور وہ شعیب ؑ و صالح ؑ کی قومیں ہیں بعضوں کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا یعنی قارون اور بعضوں کو پانی میں ڈبو دیا یعنی فرعون وہامان اور ان پر جو عذاب نازل ہو اتو اللہ تعالیٰ ایسا نہیں تھا کہ ان کو ہلاک کرتا لیکن یہی لوگ کفر وشرک اور انبیاء کرام کی تکذیب کرکے اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ۔۔ : تو ہم نے ان میں ہر ایک کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا۔”ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا“”حاصبا“ سخت آندھی جو سنگریزے اور پتھر اڑا کر لائے، یعنی پھر ان میں کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ والی آندھی بھیجی۔ اس سے مراد قوم عاد ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے نہایت ٹھنڈی، سخت تیز اور کنکر و پتھر اڑانے والی آندھی بھیجی جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، جس کے ساتھ تمام کافر اس طرح گرے پڑے تھے جیسے گرے ہوئے کھجور کے درختوں کے تنے ہوں۔ دیکھیے سورة حاقہ (5 تا 8) اور سورة قمر (19، 20) بعض مفسرین نے ان لوگوں سے مراد قوم لوط لی ہے، کیونکہ ان کے متعلق…
Read the full tafseer →کسائی نے کہا : اگر تو چاہے تو یہ عاد پر محمول ہو۔ اس میں ہوا جو ہوا۔ اگر تو چاہے تو پر محمول کرے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے ان کو ہلاک کیا بعد اس کے ان کے پاس رسل آئے۔
انہوں نے زمین میں حق اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تکبر کیا۔ وہ ہماری گرفت سے بچ جانے والے نہ تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ کفر کی طرف سبقت لے جانے والے نہ تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ کفر کی طرف سبقت لے جانے والے نہ تھے بلکہ ان سے پہلے بیشمار لوگ کفر کی طرف سبقت لے جانے والے تھے تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔
کسائی نے کہا : فکلا، اخذنا کی وجہ سے منصوب ہے یعنی ہم نے ہر کسی کو اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا۔ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاخذتہم الرجفۃ یعنی ان کو پکڑ لیا ایک چیخ نے آیت وکان مستبصرین یعنی وہ اپنی گمراہی پر خوش تھے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر وابن المنذروابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبحو فی دارہم جثمین سے مراد ہے کہ وہ مرے ہوئے تھے آپ گھروں میں گھٹنے کے بل گرے ہوئے تھے آیت وکانو مستبصرین میں وہ خوش تھے اپنی گمراہی پر آیت فنہم من ارسلنا علیہ حاصبا اور وہ قوم لوط تھی جن پر پتھروں کی بارش کی گئی آیت ومنہم من اخذتہ الصیحہ اور وہ صالح کی قوم اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی کہ ان…
Read the full tafseer →فَكُلًّا [پھر سب کو ] اَخَذْنَا [ہم نے پکڑا ] بِذَنْۢبِهٖ ۚ [اس کے گناہ کے سبب سے ] فَمِنْهُمْ مَّنْ [تو ان میں وہ بھی ہے ] اَرْسَلْنَا [ہم نے بھیجا ] عَلَيْهِ [جس پر ] حَاصِبًا ۚ[کنکریاں مارنے والی تند ہوا کو ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [اور ان میں وہ بھی ہے ] اَخَذَتْهُ [جس کو پکڑا ] الصَّيْحَةُ ۚ [چنگھاڑنے ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [اور ان میں وہ بھی ہے ] خَسَفْنَا [ہم نے دھنسا دیا ] بِهِ [جس کے ساتھ ] الْاَرْضَ ۚ [زمین کو ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [اور ان میں وہ بھی ہے جس کو ] اَغْرَقْنَا ۚ [ہم نے غرق کیا ] وَمَا كَانَ اللّٰهُ [اور اللہ نہیں ہے ] لِيَظْلِمَهُمْ [کہ وہ ظلم کرے ان پر ] وَلٰكِنْ [اور لیکن ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
مشرکین اپنے معبودوں سے جو امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اس کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے
جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عبادت ہمارے لیے فائدہ مند ہوگی اور یہ ہمارے مددگار ہوں گے۔ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتقاد کی ایسی مثال ہے جیسے مکڑی کا گھر ہو، مکڑی جالا بن کر اس میں بیٹھی رہتی ہے اور اس جال کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے۔ جانوروں کے جتنے بھی چھوٹے بڑے گھر گھونسلہ وغیرہ کی صورت میں ہوتے ہیں مکڑی کا گھر ان میں سب سے زیادہ بودا اور کمزور ہوتا ہے، یہی حال ان لوگوں کا ہے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
قصہء پنجم مشتمل بر ذکر اجمالی عاد وثمود وقارون وفرعون وہامان
قال اللہ تعالیٰ وعادا وثمودا وقد تبین لکم من مسکنہم۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔
یہ پانچواں قصہ ہے جو اجمالی طور پر عاد اور ثمود اور قارون اور فرعون اور ہامان کے ذکر پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان پانچ سرکشوں کا ذکر کر کے ایک جملہ میں اجمالا سب کی سزا کو بیان کردیا۔ فکلا اخذنا بذنبہ۔ ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے سبب پکڑ لیا اور بتلادیا کہ یہ ازلی بدنصیب تھے ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہی لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق سزادی اور ہلاک کیا ان آیات میں ان سرکشوں کی سزاؤں کا اجمالا ذکر کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
33:۔ یہ سورت کا مرکزی دعوی ہے یعنی جب سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو مصائب و مشکلات میں حمایتی اور کارساز بھی وہی ہے۔ اس دعوے کو ایک نہایت ہی واضح مثال کے ساتھ سمجھایا گیا ہے۔ جو لوگ مصائب و مشکلات میں اللہ کے سوا اوروں کو حمایتی اور کارساز سمجھتے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے۔ جو نہایت ہی باریک اور کمزور تاروں سے جالا بن کر اپنے لیے گھر بناتی ہے۔ مکڑی کا یہ گھر نہایت ہی کمزور ہوتا ہے جو نہ سردی سے بچا سکتا ہے نہ گرمی سے، نہ بارش سے نہ آندھی سے۔ بعینہ یہی حال غیر اللہ کی پناہ اور معبودان باطلہ کے سہاروں کا ہے وہ بھی اس قدر کمزور ہیں کہ کسی مصیبت اور مشکل میں کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…
Read the full tafseer →فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِہٖ 0ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْہِ حَاصِبًا 0 ۚ وَمِنْہُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّيْحَۃُ 0 ۚ وَمِنْہُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ 0 ۚ وَمِنْہُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا 0 ۚ وَمَا كَانَ اللہُ لِيَظْلِمَہُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُوْنَ 40
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ترکیب : شعیبًا مفعول لا رسلنا بدل من اخاھم مفسدین حال موکدۃ لعاملھا من عثی بکسر المثلثہ افسد۔ الرجفۃ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ جاثمین بارکین علی الرکب بیتین۔ وعا دا وثموداً ای اھلکنا ثمود بصرف ثمود و ترکہ بمعنی الحی و القبیلۃ مستبصرین ذوی بصائر۔ قارون ای اھلکنا فکلا منصوب باخذنا۔
تفسیر : والیٰ مدین اخاھم شعیبا۔ یہ چوتھا قصہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا قتورہ کے شکم سے تھا۔ عرب کے شمال و غرب میں قلزم کے اس پار آرہے تھے، انہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے، انہی کی اولاد وہاں بستی تھی اور حضرت شعیب ( علیہ…
Read the full tafseer →فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖ ج فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا ج وَمِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ ج وَمِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ ج وَمِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ج وَمَا کَانَ اللّٰـہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 40)
(پس ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا، پس ان میں سے کسی پر ہم نے پتھرائو کرنے والی ہوا بھیجی، اور ان میں سے بعض کو زبردست دھماکے نے آپکڑا، اور ان میں سے کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کسی کو ہم نے غرق کردیا اور اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : متکبرین کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کیا گیا ان میں سے کسی ایک کو بھی ” اللہ “ کی گرفت سے کوئی نہ بچا سکا۔
قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کے دوسرے جرائم کے ساتھ سب سے بڑا جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا تھا۔
قوم عاد کو شدید ترین آندھی کے ساتھ پٹخ پٹخ کر زمین پردے مارا۔ قوم ثمود کو کلیجہ پھاڑ دینے والی دھماکہ خیز آواز اور شدید زلزلے نے آلیا اور پھر ان پر نامزدپتھر برسائے گئے۔ قارون کو اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ قوم نوح کو طوفان بادو باراں اور ہولناک سیلاب کے ساتھ تباہ کیا گیا۔ فرعون اور اس لشکر کو بحر قلزم میں ڈبکیاں دے دے…
Read the full tafseer →40: فَکُلاًّ اَخَذْنَا بِذَنْچبِہٖ (پس تم ہر ایک کو ہم نے ان کے گناہوں کے بدلے پکڑ لیا) ۔ نحو : اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے بلا گناہ عذاب کو جائز قرار دیا۔ فَمِنْہُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا (ان میں سے بعض وہ ہیں جن پر ہم نے پتھر برسانے والی ہوا بھیجی) ۔ حاصب اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جس میں کنکریاں ہوں۔ اس سے مراد قوم لوط ہے۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ (اور ان میں سے بعض کو چیخ نے آپکڑا) ۔ یہ اصحاب مدین اور قوم ثمود ہے۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ (اور ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا) ۔ یعنی قارون۔ وَمِنْہُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا…
Read the full tafseer →41۔ فکلااخذنا بذنبہ فمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا، یہ قوم لوط تھی جن پر ہم نے پتھر برسائے حاصب اس ہوا کو کہتے ہیں جس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پتھر بھی ہوں ، ومنھم من اخذتہ الصیحہ، اس سے مراد ثمود ہے ۔ ومنھم من خسفنا بہ الارض، ، قارون اور اس کے دوست و احباب، ومنھم من اغرقنا ، قوم نوح اور فرعون اور اس کی قوم ، وماکان اللہ لیظلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38 تا 40۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کا احوال مشرکین مکہ کو جتلایا جن امتوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیّٰ نے ان کو کس کس طرح کا عذاب کرکے ہلاک کیا قوم عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کے امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزر ہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھا اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا قوم عادنے دعویٰ کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت 38
اور ہم نے عاد وثمود کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا آپ کو ان کا قصہ معلوم ہے۔ اگر تم ان کے گھروں اور ان کے آثار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو جن کو وہ چھوڑ گئے ہیں تو تم پر کچھ حقیقت واضح ہوجائے گی۔ ان کے رسول ان کے پاس واضح دالائل لے کر آئے جو بصیرت کے لئے مفید تھے مگر انہوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔
(وزین لھم الشیطن اعمالھم) ” اور شیطان انبیاء لے کر آئے ہیں۔ قارون ‘ فرعون اور ہامان کا یہی رویہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران ( علیہ السلام) کو واضح دالائل اور روشن براہین کے ساتھ مبعوث کیا تو انہوں نے ان دلائل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →51 انکار حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار ہم نے ان میں سے ہر ایک کو پکڑا اس کے جرم و گناہ کی پاداش میں۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ انکار حق تمام خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ { ذنب } کو یہاں پر مفرد لایا گیا ہے حالانکہ ان لوگوں کے جرائم متعدد تھے۔ کیونکہ اصل اور بنیاد ان سب جرائم کی ایک ہی تھی۔ یعنی قبول حق سے اعراض و انکار۔ سو معلوم ہوا کہ حق کا انکار کرنا سب برائیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تکذیب اور انکار حق گناہوں کا گناہ اور خرابیوں کی خرابی ہے۔ اور اس کا آخری نتیجہ اور انجام بہرحال ہمیشہ کی ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون
تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
1 ۔ حضرت نوع ( علیہ السلام) کی قوم اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو جن میں ہامان بھی شامل تھا۔ 2 ۔ شرک اور مختلف انواع کے جرائم میں مبتلا تھے۔ اپنی فطرت کو بھی مسخ کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جو پیغمبر بھیجے ان کی بھی ایک نہ سنی۔
Read the full tafseer →(29:40) فلا اخذنا بذنبہ۔ پس ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا۔
حاصب بادسنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ ہواؤں کا پتھر۔ سخت آندھی جس میں کنکریاں ہوں وہ پتھراؤ جس میں تند ہوا ہو۔ حصباء سے مشتق ہے بمعنی کنکریاں (قوم لوط کی سزا) ۔
الصیحۃ۔ چیخ، کڑک، ہولناک آواز۔ صاح یصیح کا مصدر ہے اور بمعنی حاصل مصدر بھی استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے اس لئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی استعمال ہوتا ہے۔ آیت 37 مذکورہ بالا میں اس عذاب کے واسطے لفظ الرجفۃ استعمال ہوا ہے (اہل مدین۔ عاد وثمود کی سزا)
خسقنا بہ۔ ہم نے دھنسا دیا (زمین میں) (قارون کی سزا)
اغرقنا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن آیت نمبر (36 تا 40) ۔
لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ مستبصرین (سمجھ رکھنے والے) ۔ سبقین (آگے نکلنے والے) ۔ حاصبا (پتھروں کی بارش) ۔ الصیحتہ (چنگھاڑ۔ تیز آواز) ۔
تشریح : آیت نمبر (36 تا 40) ۔ ” حضرت شعیب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زندگی اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ان کو کوششوں اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی اور وہ نافرمان جن کو اپنی حکومت و سلطنت، مال و دولت اور بلند وبالا عمارتوں پر بڑا ناز تھا جب ان کی نافرمانیاں حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
)2) ان آیتوں میں فرمایا کہ عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے ۔ عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے پہچانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزرہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھ اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا، قوم عاد نے دعوی کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ، ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر ان کو مارتی تھی اور ان کو اڑا کر آسمان سے سر کے بل پٹخ دیتی تھی کہ جس کے صدمہ سے دھڑ سے سر جدا ہو کر دھڑ کھجور کے تنے کی طرح زمین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
[14] یعنی گھر اس واسطے ہے کہ جان و مال کا بچاؤ ہو نہ کہ مکڑی کا جالا کہ دامن کے جھٹکے سے ٹوٹ پڑے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا بچانے والا اور محافظ سمجھے۔
Read the full tafseer →ف 1: اس لئے ان حالات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا انتقام بھڑکا ۔ اور ان سب کو فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ بعض پر پتھر برسے اور بعض کو چیخ اور شدید آواز نے موت کی نیند سلادیا ۔ بعض زمین میں دھنس گئے ۔ اور بعض پانی میں ڈوب گئے ۔
اللہ عذاب کو پسند نہیں کرتا
1: وماکان اللہ یطبھم سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کا عذاب اس طرح نہیں آتا ۔ کہ وہ یونہی بلا کسی عذر اور وجہ کے غیض وغضب سے بےتاب ہوجائے ۔ اور اپنے بندوں کو ہلاک کردے ۔ بلکہ ہوتا یہ ہے ۔ کہ جب بندے اس کی مہربانیوں کو ٹھکرادیتے ہیں ۔ اس کے پیغام محبت و شفقت کو نہیں مانتے ۔ جب وہ بلاتا ہے ۔ اور یہ اکڑتے ہیں ۔ جب وہ فضل وکرم سے نوازنا چاہتا ہے ۔ تو یہ اپنے…
Read the full tafseer →40۔ پھر ہم نے ان سب کو ان کے گناہوں کی پاداش میں اور جرائم کی سزا میں پکڑ لیا سو ان میں سے بعضوں پر تو ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی اور بعض کو ان میں سے ایک ہولناک آواز اور ایک چنگھاڑنے آپکڑا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور بعضوں کو ان میں سے ہم نے غرق کردیا اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہ تھی کہ وہ ان پر ظلم کرتا بلکہ یہ لوگ خود ہی اپنے ظلم کیا کرتے تھے۔ یعنی ان نافرمانوں میں سے کسی پر کنکر پتھربرسانے والی آندھی ہم نے بھیجی اور وہ ہلاک ہوگئے ۔ جیسے عاد اور کوئی تھا جس کو چنگھاڑ کی ہولناک آواز نے پکڑا اور ان کو ہلاک کردیا جیسے ثمود اور بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا جیسے…
Read the full tafseer →ف 6۔ مراد اس سے قوم عاد ہے۔
7۔ مراد اس سے ثمود ہے۔
8۔ مراد اس سے قارون ہے۔
9۔ مراد اس سے فرعون و ہامان ہے۔
10۔ شروع سورت سوے کفار کے مسلمانوں کو ایذا دینے کے مضمون کا سلسلہ یہاں تک چلا آیا ہے، آگے توحیدو نبوت کی تحقیق ہے، جو بناء تھی اس ایذاء رسانی کی اور اس سے اس ایذا رسانی کا ناحق ہونا بھی واضح ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →ان میں سے ہر ایک اپنے وقت پر پکڑا گیا کیونکہ وہ خود ہی اپنے پر ظلم کرنے والے تھے :
40۔ بلاشبہ ان قوموں کو اور ان قوموں کے ان مذکورہ سرغنوں کو پکڑ لیا گیا جو وقت ہم نے ان کو پکڑنے کے لئے رکھا تھا اگرچہ ان کی پکڑ کے مختلف طریقے رکھے گئے تھے کیونکہ ان کے گناہوں کی نوعیت مختلف قسم کی تھی بعض پر ہم نے تیز وتند ہوا بھیجی جس کے اندر پتھر اور کنکر بھی تھے کسی کو ایک نہایت ہی سخت قسم کی مہیب آواز نے آلیا کہ ان کو سرگرداں کرکے بھسم کردیا ‘ کسی کو زمین میں دھنسا دیا گیا یعنی ایسا ذلیل و خوار کیا کہ اس کی دولت اس کی رسوائی سے ذرا بھی بچا نہ سکی جیسے قارون کا ذکر کرکے دوسری جگہ بات واضح کردی اور بعض کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ (And surely the weakest of houses is the house of the spider - 29:41). ` Ankabut (عَنكَبُوتِ ) is the Arabic language equivalent for spider. There are different species of spiders. Some of them live underground. Apparently those are not meant here. Instead the specie of spider meant here is the one which weaves web for itself, and stays suspended in it. It attracts and kills flies in the cobweb. Among all the known types of nests, dens and other abodes of animals, the spider's web is the weakest. Even a mild breeze can break its threads. This…
Read the full tafseer →68 That is, `Ad who were subjected to a furious windstorm which blew on them for seven nights and eight days continuously.
69 That is, Thamud.
70 That is, Korah.
71 That is, Pharaoh and Haman.
72 The stories that have been related in the foregoing verses, have been addressed and directed both to the believers and to the disbelievers. To the believers they have been addressed so that they do not feel discouraged and distressed at heart, and keep aloft the banner of the Truth firmly and patiently even in the face of the severe persecutions and hardships, and should have full faith in Allah that…
Read the full tafseer →