Explained with ayahs 38–40
احقاف کے لوگ
عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 67
یعنی بھاگ کر اللہ کی گرفت سے بچ نکلنے والے نہ تھے۔ اللہ کی تدبیروں کو ناکام کردینے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
معارف و مسائل
ان آیات میں جن انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات اجمالاً بیان کئے گئے ہیں وہ پچھلی سورتوں میں مفصل آ چکے ہیں، مثلاً شعیب ؑ کا قصہ سورة اعراف اور ہود میں، اسی طرح عاد وثمود کا قصہ بھی اعراف اور ہود میں گذر چکا ہے اور قارون، فرعون، ہامان کا قصہ سورة قصص میں ابھی گذرا ہے۔
وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ ، استبصار سے مشتق ہے، جو بصیرت کے معنی میں ہے اور مستبصر بمعنی مبصر، مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جو کفر و شرک پر اصرار کر کے عذاب میں اور ہلاکت میں مبتلا ہوئے کچھ بیوقوف یا دیوانے نہ تھے، دنیا کے کاموں میں بڑے مبصر اور ہوشیار تھے، مگر ان کی عقل اور ہوشیاری اسی مادی دنیا میں مقید…
Read the full tafseer →وقارون وفرعون وھامن تف ولقد جاء ھم موسیٰ بالبینت فاستکبروا فی الارض وما کانوا سبقین (39)
یہ نام بھی اس فعل مخدوف کے تحت ہیں جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ گزرا۔ اقوام کے ذکر کے بعد تاریخ کے بعض نمایاں متکبرین۔ قارون، فرعون اور ہامان۔ کا ذکر فرمایا ہے۔ ان تینوں کا ذکر تفصیل سے پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے۔ سورة قصص میں ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی قوم میں جو حیثیت قارون کی تھی آنحضرت ﷺ کی قوم میں اس سی ملتی جلتی حیثیت ابو لہب کی تھی۔ اس وجہ سے یہ محض ماضی کے اشخاص کا حوالہ نہیں ہے بلکہ قریش کے سامنے یہ ایک آئینہ رکھا گیا ہے جس میں ان کے لیڈر اپنی اپنی شکلیں بڑی آسانی سے پہنچان…
Read the full tafseer →39-1یعنی دلائل و معجزات کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوا اور بدستور متکبر بنے رہے، یعنی ایمان وتقویٰ اختیار کرنے سے گریز کیا۔
39-2یعنی ہماری گرفت سے بچ کر نہیں جاسکے اور ہمارے عذاب کے شکنجے میں آکر رہے۔ ایک دوسرا ترجمہ ہے کہ ' یہ کفر میں سبقت کرنے والے نہیں تھے ' بلکہ ان سے پہلے بھی بہت سی امتیں گزر چکی ہیں جنہوں نے اس طرح کفر وعناد کا راستہ اختیار کئے رکھا۔
Read the full tafseer →19: دیکھئے سورة قصص : 37، 75
Read the full tafseer →وقارون وفرعون ۔۔۔۔۔ وما کانوا سبقین (39) ” اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا اور موسیٰ ان کے پاس بینات لے کر آیا ، مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا ، حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے “۔
قارون قوم موسیٰ کا فرد تھا مگر اس نے اپنی دولت مندی کی وجہ سے ان سے بغاوت کی۔ اور اس نے نصیحت کرنے والوں کی یہ نصیحت نہ سنی کہ اعتدال اور تواضع کا راستہ اختیار کرو ، لوگوں پر احسان کرو اور سرکشی اور بغاوت نہ کرو۔ اور فرعون ایک جبار اور سرکش حکمران تھا۔ اور قوم کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرتا تھا۔ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا اور پوری طرح کنڑول میں لے رکھا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →1 یعنی کھلی نشانیاں دیکھ کر بھی حق کے سامنے نہ جھکے اور کبر و غرور نے ان کی گردن نیچے نہ ہونے دی۔ پھر نتیجہ کیا ہوا ؟ کیا بڑے بن کر سزا سے بچ گئے ؟ یا العیاذ باللہ خدا کو تھکا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فَمِنْہُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا ج ”
یہ آندھی قوم لوط علیہ السلام پر بھی آئی تھی جو زلزلے سے تلپٹ ہوجانے والی بستیوں پر پتھراؤ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ اس سے پہلے قوم عاد پر بھی آندھی کا عذاب آیا تھا ‘ جس کا ذکر سورة الحاقہ میں اس طرح آیا ہے : وَاَمَّا عَادٌ فَاُہْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ۔ سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ”اور قوم عاد کے لوگ ہلاک کیے گئے تیز آندھی سے ‘ جو ان پر مسلط کردی گئی سات راتیں اور آٹھ دن تک ‘ برباد کردینے کے لیے ‘ پس تو دیکھتا ان…
Read the full tafseer →60 یعنی نہ تو یہ لوگ اپنی تدبیروں سے اللہ کی تدبیر کو ناکام بناسکتے تھے اور نہ ہی اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں جاسکتے تھے۔
Read the full tafseer →43۔ (اور اپنی کسی حکمت وتدبیر، کسی صنعت وتزویر، کسی زور وقوت، کسی دولت و حشمت سے اپنے کو بچا نہ سکے) (آیت) ” فرعون “۔ پر تو بار بار اور (آیت ” قارون وھامن “۔ پر قریب میں حاشیے گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →وقارون و فرعون و ھامان . اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو ہلاک کردیا۔ قارون نسبی لحاظ سے فرعون
و ہامان سے شریف تھا اس لئے قارون کا لفظ فرعون و ہامان سے پہلے ذکر کیا گیا۔ اس سے اشارہ نکلتا ہے اس امر کی طرف کہ اعلیٰ نسب والے سے کفر معصیت کا صدور بہت ہی برا ہے۔
ولقد جآء ھم موسیٰ بالنیت فاستکبروا فی الارض وما کانوا سبقین اور موسیٰ ان کے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر گئے (لیکن) اس سرزمین میں وہ لوگ مغرور ہوگئے
Read the full tafseer →(39) اور ہم نے قارون اور فرعون اور اس کے وزیر ہامان کو بھی ہلاک کیا اس صورت میں کہ موسیٰ ؑ ان کے پاس اوامرو نواہی اور حق کی کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے تو انہوں نے ایمان لانے سے انکار کیا اور ان واضح دلیلوں اور نشانیوں پر ایمان نہ لائے مگر وہ ہمارے عذاب سے بھاگ نہ سکے۔
Read the full tafseer →وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ۔۔ : پچھلی آیات میں کافر اور متکبر اقوام کا ذکر تھا، اس آیت میں ابوجہل، امیہ ابن خلف، عتبہ، شیبہ، ابولہب اور قریش کے دوسرے بڑے بڑے کافر اور متکبر سرداروں کے لیے بطور مثال گزشتہ چند کافر اور متکبر افراد کا ذکر فرمایا جو اپنے کفر و تکبر کی وجہ سے اپنی اور اپنی قوم کی بربادی کا باعث بنے۔ ان میں قارون دولت کی کثرت کی وجہ سے کفر و تکبر کی مثال ہے، فرعون حکومت کی وجہ سے اور ہامان وزارت کی وجہ سے۔ ان تینوں کے پاس موسیٰ ؑ واضح معجزات لے کر آئے، مگر وہ سرزمین مصر میں بڑے بن بیٹھے اور ایمان لانے سے انکار کردیا، پھر جب اللہ کا عذاب آیا تو ایک بھی ایسا نہ تھا کہ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
کسائی نے کہا : بعض نے کہا : یہ سورت کے آغاز کی طرف راجع ہے۔ یعنی ہم نے ان کو آزمایا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور ہم نے عاد اور ثمود کو آزمایا۔ انہوں نے کہا : مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ اس کا عطف پر ہو یعنی رجفہ نے عاد اور ثمود کو پکڑ لیا۔ زجاج نے یہ گمان کیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے دعا کرو یاد کرو جب ہم نے ان کی طرف حضرت ھود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور قوم ثمود کی طرف ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ہم نے صحیحہ کے ساتھ انہیں ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاخذتہم الرجفۃ یعنی ان کو پکڑ لیا ایک چیخ نے آیت وکان مستبصرین یعنی وہ اپنی گمراہی پر خوش تھے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر وابن المنذروابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبحو فی دارہم جثمین سے مراد ہے کہ وہ مرے ہوئے تھے آپ گھروں میں گھٹنے کے بل گرے ہوئے تھے آیت وکانو مستبصرین میں وہ خوش تھے اپنی گمراہی پر آیت فنہم من ارسلنا علیہ حاصبا اور وہ قوم لوط تھی جن پر پتھروں کی بارش کی گئی آیت ومنہم من اخذتہ الصیحہ اور وہ صالح کی قوم اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی کہ ان…
Read the full tafseer →وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ ۣ [اور (ہم نے ہلاک کیا) قارون کو اور فرعون اور ہامان کو ] وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ [اور بیشک آچکے تھے ان کے پاس ] مُّوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) ] بِالْبَيِّنٰتِ [واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] فَاسْتَكْبَرُوْا [پھر وہ بڑے بنے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَمَا كَانُوْا [اور وہ نہیں تھے ] سٰبِقِيْنَ [ بھاگ نکلنے والے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
مشرکین اپنے معبودوں سے جو امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اس کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے
جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عبادت ہمارے لیے فائدہ مند ہوگی اور یہ ہمارے مددگار ہوں گے۔ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتقاد کی ایسی مثال ہے جیسے مکڑی کا گھر ہو، مکڑی جالا بن کر اس میں بیٹھی رہتی ہے اور اس جال کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے۔ جانوروں کے جتنے بھی چھوٹے بڑے گھر گھونسلہ وغیرہ کی صورت میں ہوتے ہیں مکڑی کا گھر ان میں سب سے زیادہ بودا اور کمزور ہوتا ہے، یہی حال ان لوگوں کا ہے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
قصہء پنجم مشتمل بر ذکر اجمالی عاد وثمود وقارون وفرعون وہامان
قال اللہ تعالیٰ وعادا وثمودا وقد تبین لکم من مسکنہم۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔
یہ پانچواں قصہ ہے جو اجمالی طور پر عاد اور ثمود اور قارون اور فرعون اور ہامان کے ذکر پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان پانچ سرکشوں کا ذکر کر کے ایک جملہ میں اجمالا سب کی سزا کو بیان کردیا۔ فکلا اخذنا بذنبہ۔ ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے سبب پکڑ لیا اور بتلادیا کہ یہ ازلی بدنصیب تھے ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہی لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق سزادی اور ہلاک کیا ان آیات میں ان سرکشوں کی سزاؤں کا اجمالا ذکر کیا۔…
Read the full tafseer →32:۔ یہ ساتواں قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) دلائل و بینات لے کر آئے یہ لوگ دولت و حکومت کے نشے میں چور ان کی بات کب سننے والے تھے۔ انہوں نے قبول حق سے استکبار کیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ خدا کی گفرت سے نکل جائیں گے اور اس کے ہاتھ نہیں آئیں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ فکلا اخذنا بذنبہ، ہم نے سب کو پکڑ لیا اور ان کے گناہوں کی دنیا میں بھی انہیں عبرتناک سزا دی۔ ان چاروں قوموں کے ذکر کے بعد فرمایا، وما کانوا سبقین، اس سے معلوم ہوگیا کہ یہ چار قصے، ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا، سے متعلق ہیں۔ کسی قوم کو حاصب یعنی طوفان باد سے ہلاک کیا، مراد قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…
Read the full tafseer →وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ 0ۣ وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مُّوْسٰي بِالْبَيِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانُوْا سٰبِقِيْنَ 39ۚۖ
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ترکیب : شعیبًا مفعول لا رسلنا بدل من اخاھم مفسدین حال موکدۃ لعاملھا من عثی بکسر المثلثہ افسد۔ الرجفۃ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ جاثمین بارکین علی الرکب بیتین۔ وعا دا وثموداً ای اھلکنا ثمود بصرف ثمود و ترکہ بمعنی الحی و القبیلۃ مستبصرین ذوی بصائر۔ قارون ای اھلکنا فکلا منصوب باخذنا۔
تفسیر : والیٰ مدین اخاھم شعیبا۔ یہ چوتھا قصہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا قتورہ کے شکم سے تھا۔ عرب کے شمال و غرب میں قلزم کے اس پار آرہے تھے، انہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے، انہی کی اولاد وہاں بستی تھی اور حضرت شعیب ( علیہ…
Read the full tafseer →وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَھَامٰنَ قف وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَـکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَمَا کَانُوْا سٰبِقِِیْنَ ۔ (العنکبوت : 39)
(اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے زمین میں گھمنڈ کیا حالانکہ وہ ہمارے قابو سے باہر نکل جانے والے نہ تھے۔ )
تاریخ کے چند نمایاں متکبرین
یہاں بھی آیت سے پہلے فعل اَخَذْنَا محذوف ہے۔ تاریخ کی بعض اقوام سے استدلال کرنے کے بعد اب تاریخ کے بعض نمایاں افراد سے استشہاد کیا جارہا ہے جو اسی فکر اور اسی طرززندگی کے نمائندہ تھے جس کی وجہ سے متذکرہ قومیں ہلاک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قوم نوح، قوم ابراہیم، قوم لوط، قوم عاد، قوم ثمود کی طرح آل فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت اور حق کے خلاف تکبر اختیار کیا۔
پہلی اقوام کے کردار اور ان کی تباہی کا ذکر کرنے کے بعد نہایت مختصر الفاظ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تین افراد کا نام لیا ہے جو پوری قوم کی تباہی کا باعث بنے ان میں قارون نے اپنی دولت کی بنیاد پر فرعون اپنے اقتدار کی خاطر اور ہامان نے اپنی سیاست کی بناء پر حقائق کو جھٹلایا اور تکبر کرنے کی انتہاء کردی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اِ ن پر گرفت کی۔ تو قارون کی دولت، فرعون کا اقتدار اور ہامان کی سیاست اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچا…
Read the full tafseer →39: وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ (اور قارون فرعون اور ہامان کو) ہم نے ہلاک کردیا۔ وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَکْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ (تحقیق ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) دلائل لے کر آئے۔ پس انہوں نے زمین) وَمَا کَانُوْا سٰبِقِیْنَ (میں تکبر کیا اور وہ ہم سے آگے بڑھنے والے نہ تھے) کہ گرفت سے نکل جاتے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم عذاب نے ان کو آلیا پس وہ بھاگ نہ سکے۔
Read the full tafseer →39۔ وقارون و فرعون وھامان، ، اور اسی طرح ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا۔
ولقد جاء ھم موسیٰ بالبینات، ، واضح دلیلیں دے کر، فاستکبروا فی الارض وماکانوا سابقین، ، وہ ہمارے عذاب سے بچ نہ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38 تا 40۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کا احوال مشرکین مکہ کو جتلایا جن امتوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیّٰ نے ان کو کس کس طرح کا عذاب کرکے ہلاک کیا قوم عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کے امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزر ہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھا اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا قوم عادنے دعویٰ کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت 38
اور ہم نے عاد وثمود کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا آپ کو ان کا قصہ معلوم ہے۔ اگر تم ان کے گھروں اور ان کے آثار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو جن کو وہ چھوڑ گئے ہیں تو تم پر کچھ حقیقت واضح ہوجائے گی۔ ان کے رسول ان کے پاس واضح دالائل لے کر آئے جو بصیرت کے لئے مفید تھے مگر انہوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔
(وزین لھم الشیطن اعمالھم) ” اور شیطان انبیاء لے کر آئے ہیں۔ قارون ‘ فرعون اور ہامان کا یہی رویہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران ( علیہ السلام) کو واضح دالائل اور روشن براہین کے ساتھ مبعوث کیا تو انہوں نے ان دلائل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →50 استکبار ہلاکت و تباہی کا باعث۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قارون، فرعون اور ہامان وغیرہ سب نے استکبار سے کام لیا اور اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ ایسے نہ تھے کہ ہماری گرفت و پکڑ سے نکل جائیں۔ سو حق کے مقابلے میں تکبر کرنا اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اسے ٹھکرا دینا ہولناک اور دائمی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے مگر یہ ہولناک اور تباہ کن مرض کل کے باطل پرستوں میں بھی موجود تھا اور آج بھی موجود ہے۔ سو کتنے ہی لوگ آپ کو ایسے ملیں گے جو محض اپنی بڑائی کے زعم باطل اور گھمنڈ فاسد میں مبتلا ہو کر قبول حق کے شرف سے محروم رہتے ہیں۔ اور یہی دراصل خرابیوں کی خرابی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون
تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
1 ۔ حضرت نوع ( علیہ السلام) کی قوم اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو جن میں ہامان بھی شامل تھا۔ 2 ۔ شرک اور مختلف انواع کے جرائم میں مبتلا تھے۔ اپنی فطرت کو بھی مسخ کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جو پیغمبر بھیجے ان کی بھی ایک نہ سنی۔
Read the full tafseer →(29:39) وقارون و فرعون وھامان معطوف علی عادا وثمودا۔ ای واھلکنا قارون و فرعون وھامان۔ قارون کو فرعون اور ہامان سے قبل لانے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں :۔
(1) وہ ان سے قبل ہلاک ہوا۔
(2) وہ بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان لایا تھا اور تورات کا علم ان سے زیادہ رکھتا تھا۔
(3) وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے زیادہ نزدیک تھا۔
جاء ہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب قارون و فرعون و ہامان کی طرف راجع ہے ۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس واضح دلائل لائے۔ البینت : روشن دلائل۔ کھلی نشانیاں۔
فاستکبروا۔تعقیب کا ہے استکبروا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے استکبار (استفعال) مصدر انہوں نے گھمنڈ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن آیت نمبر (36 تا 40) ۔
لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ مستبصرین (سمجھ رکھنے والے) ۔ سبقین (آگے نکلنے والے) ۔ حاصبا (پتھروں کی بارش) ۔ الصیحتہ (چنگھاڑ۔ تیز آواز) ۔
تشریح : آیت نمبر (36 تا 40) ۔ ” حضرت شعیب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زندگی اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ان کو کوششوں اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی اور وہ نافرمان جن کو اپنی حکومت و سلطنت، مال و دولت اور بلند وبالا عمارتوں پر بڑا ناز تھا جب ان کی نافرمانیاں حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
)2) ان آیتوں میں فرمایا کہ عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے ۔ عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے پہچانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزرہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھ اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا، قوم عاد نے دعوی کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ، ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر ان کو مارتی تھی اور ان کو اڑا کر آسمان سے سر کے بل پٹخ دیتی تھی کہ جس کے صدمہ سے دھڑ سے سر جدا ہو کر دھڑ کھجور کے تنے کی طرح زمین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
[14] یعنی گھر اس واسطے ہے کہ جان و مال کا بچاؤ ہو نہ کہ مکڑی کا جالا کہ دامن کے جھٹکے سے ٹوٹ پڑے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا بچانے والا اور محافظ سمجھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
حل لغات الرجفتہ زلزلہ ۔ کپکپی
Read the full tafseer →39۔ اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ہلاک کیا اور بلا شبہ ان لوگوں کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) صاف صاف دلائل و احکام لیکر آیا تھا مگر انہوں نے ملک میں سرکشی اور تکبر کیا اور وہ ہم سے جیت نہ سکے اور بچ کر کہیں بھاگ نہ سکے۔ یعنی باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں کے پاس واضح دلائل اور صاف احکام لیکر آئے لیکن ان کی نخوت تکبر اور غرور اور سرکشی میں کمی نہ آئی اور برابر اونچے ہوتے چلے گئے بالآخر ان کے افعال ناشائستہ ان کو بچا نہ سکے اور وہ باوجود اپنی حکومت و دولت کے ہم کو ہرا نہ سکے اور ہم سے بھاگ کر کہیں جا نہ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 5۔ کہ آثار ویرانی اور بربادی کے ان سے نمایاں ہیں، اور یہ مقامات شام جاتے ہوئے ملتے تھے۔
Read the full tafseer →قارون ‘ فرعون اور ہامان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) آئے :
39۔ قارون ‘ فرعون اور ہامان تینوں کا ایک زمانہ تھا فرعون وقت کا بادشاہ تھا جو اپنے آپ کو رب الارباب کہلاتا تھا اور قارون وہامان دونوں اس کے وزیر مملکت تھے جو اس کو رب الارباب مانتے اور تسلیم کرتے تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) بادشاہ وقت کے پاس یعنی فرعون کے پاس بھیجے گئے آپ نے فرعون کی تفہیم کرانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اس نے ایک نہ مانی ۔ قارون ‘ موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی قوم کا آدمی تھا یعنی بنی اسرائیل میں سے ایک فرقہ تھا بلاشبہ اس نے پوری قوم بیچ کر اتنی دولت اکٹھی کرلی کہ شاید اس سے بڑا امیر فرعون کی مملکت میں اور نہ تھا ۔ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ (And surely the weakest of houses is the house of the spider - 29:41). ` Ankabut (عَنكَبُوتِ ) is the Arabic language equivalent for spider. There are different species of spiders. Some of them live underground. Apparently those are not meant here. Instead the specie of spider meant here is the one which weaves web for itself, and stays suspended in it. It attracts and kills flies in the cobweb. Among all the known types of nests, dens and other abodes of animals, the spider's web is the weakest. Even a mild breeze can break its threads. This…
Read the full tafseer →67 That is, "They could not have got away and escaped Allah's grasp: they had no power to frustrate and defeat Allah's plans and schemes."
Read the full tafseer →