Al-Ankaboot 29:38

Al-Ankaboot · from ayah 38

29:38

وَعَادًا وَّثَمُوْدَاۡ وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ ۫— وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ۟ۙوَعَادًا وَّثَمُوۡدَا۟ وَقَدْ تَّبَيَّنَ لَـكُمۡ مِّنۡ مَّسٰكِنِهِمۡ‌ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ وَكَانُوۡا مُسۡتَـبۡصِرِيۡنَۙ

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا) چنانچہ اُن کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے اُن کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو (سیدھے) رستے سے روک دیا۔ حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [We destroyed] 'Aad and Thamud, and it has become clear to you from their [ruined] dwellings. And Satan had made pleasing to them their deeds and averted them from the path, and they were endowed with perception.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:38

اور عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا) چنانچہ اُن کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے اُن کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو (سیدھے) رستے سے روک دیا۔ حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے عادیوں اور ﺛمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ﻇاہر ہیں اور شیطان نے انہیں ان کی بداعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راه سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا، اور ان کی تباہی تم پر ان کے گھروں سے واضح ہوچکی ہے۔ اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر انہیں راہ راست سے روک دیا تھا، حالانکہ وہ سوجھ بوجھ کے لوگ تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور عاد اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور تمہیں ان کی بستیاں معلوم ہوچکی ہیں اور شیطان نے ان کے کوتک ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے اور انہیں راہ سے روکا اور انہیں سوجھتا تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور عاد اور ثمود کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور بیشک ان کے کچھ (تباہ شدہ) مکانات تمہارے لیئے (بطورِ عبرت) ظاہر ہو چکے ہیں اور شیطان نے ان کے اَعمالِ بد، ان کے لئے خوش نما بنا دیئے تھے اورانہیں (حق کی) راہ سے پھیر دیا تھا حالانکہ وہ بینا و دانا تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور عاد اور ثمود کو (ہم نے ہلاک کیا) اور یقینا ان کے رہنے کی کچھ جگہیں تمہارے سامنے آچکی ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے کام مزین کردیے، پس انھیں اصل راستے سے روک دیا، حالانکہ وہ بہت سمجھدار تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور قوم عاد اور ثمود (کو بھی ہم نے ہلاک کردیا) اور یہ بات تمہیں ان کی رہائش گاہوں سے واضح ہوچکی ہے۔ شیطان نے انھیں ان کے کرتوت بڑے خوشنما کرکے دکھائے تھے اور انھیں راہ حق سے برگشتہ کردیا تھا حالانکہ وہ بڑے سمجھ دار لوگ تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کردیا۔ اور تم پر ان کی بستیوں کے نشان واضح ہیں۔ اور شیطان نے ان کے مشاغل ان کی نگاہوں میں کھبا دیے اور اس طرح ان کو صحیح راہ سے روک دیا، حالانکہ وہ بڑے ہی ہوشیار لوگ تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اپنے گھروں میں اور عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کیا اور کھلی پڑی ہے تمہارے سامنے اے لوگو ! ان کی تباہی ان کے مکانون کے ان کھنڈرات سے اور ان کا ھال بھی یہی تھا کہ خوشنما بنا رکھا تھا ان کے لئے شیطان نے ان کے کاموں کو اس طرح اسنے روک دیا تھا ان کو راہ حق وصواب سے اور یوں وہ لوگ بڑے ہوشیار تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور عاد وثمود کو (بھی ہم نے ہلاک کیا) اور یہ تم پر انکے مسکنوں سے ظاہر ہوچکا ہے۔ اور شیطان نے انکے اعمال (بد) کو ان کی نظر میں خوش نما کر دکھایا تھا اور ان کو راہ (حق) سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ (ویسے) ہوشیار تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور عاد اور ثمود (کو بھی ہم نے ہلاک کیا) اور تم پر واضح ہوچکے ہیں ان کے مساکن اور شیطان نے مزین کردیے تھے ان کے لیے ان کے ُ (برے) اعمال اور اس (شیطان) نے روک دیا تھا انہیں سیدھے راستے سے حالانکہ وہ بہت سمجھ بوجھ والے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کردیا چناچہ ان کے ویران گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو سیدھے رستے سے روک دیا حالانکہ وہ بصیرت والے لوگ تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We destroyed Ad and Thamud, whose dwellings you have observed. Satan had embellished their deeds for them and had turned them away from the Right Path although they were a people of clear perception.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (We destroyed) 'Aad and Thamud, and it is visible to you through their dwellings. And the Satan had beautified for them their deeds, so he prevented them from the (right) way, even though they were people of insight.

— Muhammad Taqi Usmani

And (We destroyed) Aad and Thamud, and it is visible to you through their dwellings. And the Satan had beautified for them their deeds, so he prevented them from the (right) way, even though they were people of insight.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And `Ad and Thamud! And indeed (their destruction) is clearly apparent to you from their (ruined) dwellings. Shaytan made their deeds fair seeming to them, and turned them away from the path, though they were intelligent.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (the tribes of) A'ad and Thamud! (Their fate) is manifest unto you from their (ruined and deserted) dwellings. Satan made their deeds seem fair unto them and so debarred them from the Way, though they were keen observers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [We destroyed] 'Aad and Thamud, and it has become clear to you from their [ruined] dwellings. And Satan had made pleasing to them their deeds and averted them from the path, and they were endowed with perception.

— Saheeh International

How the people of Ad and Thamud were destroyed is evident to you from their homes. Satan made their deeds seem attractive to them and prevented them from the right path, even though they had visions.

— Muhammad Sarwar

And (We destroyed) Ad and Samood, and from their dwellings (this) is apparent to you indeed; and the Shaitan made their deeds fair-seeming to them, so he kept them back from the path, though they were endowed with intelligence and skill,

— Muhammad Habib Shakir

And the 'Aad and Thamud and of a surety their destruction is apparent unto you from their dwellings. The Satan made fairseeming their works unto them, and so kept them off from the path, while they were endued with sight.

— Abdul Majid Daryabadi

(Remember also) the 'Ad and the Thamud (people): clearly will appear to you from (the traces) of their buildings (their fate): the Evil One made their deeds alluring to them, and kept them back from the Path, though they were gifted with intelligence and skill.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–40

احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود ؑ کی قوم تھے۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے۔ ثمودی حضرت صالح ؑ کی قوم کے لوگ تھے۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ ؑ نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 65 عرب کے جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں آباد تھیں ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ جو اب احقاف، یمن اور حضرت موت کے نام سے معروف ہے، قدیم زمانہ میں عاد کا مسکن تھا اور اہل عرب اس کو جانتے تھے۔ حجاز کے شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ آثار موجودہ حالت سے کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوں گے۔ سورة العنکبوت 66 یعنی جاہل و نادان نہ تھے۔ اپنے اپنے وقت کے بڑے ترقی یافتہ لوگ تھے۔ اور اپنی دنیا کے معاملات انجام دینے میں پوری ہوشیاری اور دانائی کا ثبوت دیتے تھے۔ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–40

معارف و مسائل ان آیات میں جن انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات اجمالاً بیان کئے گئے ہیں وہ پچھلی سورتوں میں مفصل آ چکے ہیں، مثلاً شعیب ؑ کا قصہ سورة اعراف اور ہود میں، اسی طرح عاد وثمود کا قصہ بھی اعراف اور ہود میں گذر چکا ہے اور قارون، فرعون، ہامان کا قصہ سورة قصص میں ابھی گذرا ہے۔ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ ، استبصار سے مشتق ہے، جو بصیرت کے معنی میں ہے اور مستبصر بمعنی مبصر، مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جو کفر و شرک پر اصرار کر کے عذاب میں اور ہلاکت میں مبتلا ہوئے کچھ بیوقوف یا دیوانے نہ تھے، دنیا کے کاموں میں بڑے مبصر اور ہوشیار تھے، مگر ان کی عقل اور ہوشیاری اسی مادی دنیا میں مقید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وعاد و ثمودا وقد تبین لکم من مسکنھم قف وزین لھم الشیطن اعمالھم حصدھم عن السبیل وکانوا مستبصرین (38) یہاں فعل اخذنا بربنائے قرینی مخدوف ہے، یعنی ہم نے عادو ثمود کو بھی اس سے پہلے عذاب میں پکڑا۔ ان قوموں کی تمدنی و تعمیری ترقیوں کا ذکر پچھی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ وقد تبین لکم من سمکنھم یہ قریش کو توجہ دلائی گئی ہے کہ قوم لوط کی طرح ان کی بستیوں کے آثار بھی تم سے مخفی نہیں ہیں، تم اپنے تجارتی سفروں میں ان کے کھنڈروں پر سے گزرتے ہو اور اندازہ کرسکتے ہو کہ ماضی میں وہ کس شان و شوکت کے مالک تھے، لیکن اب ان کے کھنڈروں کے سوا ان کی کہانی سنانے والا روئے زمین پر کوئی باقی نہیں رہا۔ وکانو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

38-1قوم عاد کی بستی احقاف، حضرموت (یمن) کے قریب اور ثمود کی بستی، حجر، جسے آجکل مدائن صالح کہتے ہیں، حجاز کے شمال میں ہے۔ ان علاقوں سے عربوں کے تجارتی قافلے آتے جاتے تھے، اس لئے یہ بستیاں ان کے لئے انجان نہیں، بلکہ ظاہر تھیں۔ 38-2یعنی تھے وہ عقلمند اور ہوشیار۔ لیکن دین کے معاملے میں انہوں نے اپنی عقل و بصیرت سے کچھ کام نہیں لیا، اس لئے یہ عقل اور سمجھ ان کے کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

17: دیکھئے سورة اعراف : 64 تا 72۔ سورة ہود : 49، 60 18: یعنی دنیا کے معاملات میں بڑے سمجھ دار اور ہوشیار تھے مگر آخرت سے بالکل غافل اور جاہل

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد قوم عاد وثمود کی ہلاکت کی طرف اشارہ : وعادا و ثمودا ۔۔۔۔۔ وکانوا مستبصرین (38) ” اور عاد وثمود کو ہم نے ہلاک کیا ، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے۔ ان کے اعمال کو شیطان نے ان کیلئے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے “۔ عاد کے لوگ جزیرۃ العرب کے جنوب میں علاقہ احقاف میں رہتے تھے۔ یہ علاقہ حضر موت کے قریب ہے۔ اور ثمود علاقہ حجر شمالی جزیرۃ العرب میں رہتے تھے۔ اور یہ وادی القری کے قریب علاقہ ہے ، قوم عاد کو تیز رفتار ہوائی طوفان کے ذریعہ ہلاک کیا گیا جو ناقابل کنٹرول تھا اور قوم ثمود کو ایک ہلاکت خیز چیخ کے ذریعہ جس کے بعد زلزلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 37–38

6 یعنی ان کی بستیوں کے کھنڈر تم دیکھ چکے ہو ان سے عبرت حاصل کرو۔ 7 یعنی دنیا کے کام میں ہشیار تھے اور اپنے نزدیک عقلمند تھے پر شیطان کے بہکائے سے نہ بچ سکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–38

آیت 38 وَعَادًا وَّثَمُوْدَا وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَکُمْ مِّنْ مَّسٰکِنِہِمْوقفۃ ” تمہیں سب معلوم ہے کہ یہ قومیں کس کس علاقے میں کہاں کہاں آباد تھیں۔ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ ” شیطان کے زیر اثر انہیں اپنے مشرکانہ افعال و اعمال بہت خوش نما لگتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ ان ہی میں مگن رہتے تھے۔ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَکَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ” استبصار باب ”استفعال“ سے ہے۔ اس کے معنی بغور دیکھنا کے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ بڑے باریک بین تھے ‘ ہرچیز کا مشاہدہ بڑی احتیاط سے کرتے تھے ‘ بڑے ہوشیار اور دانشور قسم کے لوگ تھے ‘ مگر اس کے باوجود انہیں راہ راست سجھائی نہیں دیتی تھی۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

58 قوم عاد (اولی) کا وطن پورا جنوبی عرب تھا یعنی یمن، حضرموت اور احقاف کا علاقہ اور ثمود کا علاقہ شمالی عرب تھا۔ ان دونوں علاقوں کی تاریخ سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ پھر وہ ان کی تباہ شدہ بستیاں دیکھتے بھی رہتے تھے۔ 59 یعنی وہ دنیا کے کاموں میں بڑے ہوشیار اور فنکار تھے۔ اپنے اپنے دور کی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں تھیں۔ سجھدار تھے۔ طاقتور تھے اور بالخصوص سنگ تراش کے فن یدطولی رکھتے تھے۔ لیکن اللہ کے معاملہ میں شیطان نے ان کی مت مار دی تھی۔ جیسا کہ آج کل عیسائی اقوام کے محققین جب تحقیق و تنقید کے میدان میں اترتے ہیں تو بال کی کھال اتار کے رکھ دیتے ہیں۔ مگر عقیدہ تثلیث کو عقلی دلائل سے ثابت کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

41۔ یعنی ان کی آبادی کے نشان ان کے موجودہ کھنڈروں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہے۔ عاد، ثمود، دونوں پر مفصل حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے ہیں، عرب تجارتی قافلے اپنے شام اور یمن کے سفروں میں اکثر ان مقامات سے گزرتے بھی رہتے تھے۔ 42۔ ان شامت زدہ قوموں میں لوگ ایسے نہ تھے جو عام طور پر سے احمق، بیوقوف، وحشی، لایعقل سمجھے جاتے، اچھے خاصے مہذب، شائستہ، متمدن لوگ تھے، دنیا کے اور سارے معاملات میں بڑے سوجھ بوجھ والے، بڑے بڑے تاجر، بڑے بڑے صناع، بڑے بڑے جہاز راں، بس ایک دین ہی کے معاملہ میں غفلت کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ گویا ہوبہونقشہ آج کے مہذب ومتمدن قوموں کا !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–44

آیت نمبر 31 تا 44 ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وعادًا وثمودًا وقد تبین لکم من مسکنھم وزین لھم الشیطن اعمالھم فصدھم عن السبیل اور ہم نے عاد وثمود کو بھی ہلاک کیا اور یہ امر تمہارے لئے ان کے مقامات سکونت (دیکھنے سے) واضح ہو رہا ہے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نظر میں آراستہ کردیا تھا اور ان کو راہ (حق) سے روک دیا تھا۔ وَعَادًا وَّثَمُوْدَ اس جگہ فعل محذوف ہے یعنی ہم نے عاد وثمود کو ہلاک کیا۔ وَقَدْتَبَیَّنَ لَکُمْ اور اے مکہ والو ! تمہاری نظروں کے سامنے ہیں ‘ واضح ہیں۔ مِنْ مَسٰکِنِھِمْ ان کے کچھ مقامات سکونت ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جب ان کے ویران مقامات کی طرف جاتے ہو اور ادھر سے گزرتے ہو تو ان کے کھنڈروں سے تم پر ان کو تباہ ہوجانا واضح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(38) اور ہم نے قوم ہود اور قوم صالح کو بھی ہلاک کیا اور اے مکہ والو ! ان کی یہ ہلاکت تمہیں کو ان کے ویران مکانات سے نظر آرہی ہے اور شیطان نے ان کے شرک اور ان کی تنگی وفراخی کی حالت کو ان کی نظر میں مستحسن کر رکھا تھا اور اس وجہ سے ان کو رہ حق اور ہدایت سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ چیز حق ہے مگر خود حق پر قائم نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَقَدْ تَّبَيَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ۔۔ :”من“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”ان کے رہنے کی کچھ جگہیں تمہارے سامنے آچکی ہیں“ ظاہر ہے کہ ان کے شہر اور آبادیاں تو اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد ہوچکی تھیں، مگر ان کے آثار اور بچے کھچے کچھ گھر عبرت کے سامان کے طور پر باقی تھے۔ عاد اور ثمود دونوں قومیں جن علاقوں میں آباد تھیں وہ معروف شاہراہوں پر واقع تھے اور عرب کے تمام لوگ ان سے واقف تھے۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ جو اب احقاف، یمن اور حضر موت کے نام سے معروف ہے، قوم عاد کا مسکن تھا اور حجاز کے شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیماء اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–39

کسائی نے کہا : بعض نے کہا : یہ سورت کے آغاز کی طرف راجع ہے۔ یعنی ہم نے ان کو آزمایا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں اور ہم نے عاد اور ثمود کو آزمایا۔ انہوں نے کہا : مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ اس کا عطف پر ہو یعنی رجفہ نے عاد اور ثمود کو پکڑ لیا۔ زجاج نے یہ گمان کیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے دعا کرو یاد کرو جب ہم نے ان کی طرف حضرت ھود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور قوم ثمود کی طرف ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ہم نے صحیحہ کے ساتھ انہیں ہلاک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–40

1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاخذتہم الرجفۃ یعنی ان کو پکڑ لیا ایک چیخ نے آیت وکان مستبصرین یعنی وہ اپنی گمراہی پر خوش تھے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر وابن المنذروابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبحو فی دارہم جثمین سے مراد ہے کہ وہ مرے ہوئے تھے آپ گھروں میں گھٹنے کے بل گرے ہوئے تھے آیت وکانو مستبصرین میں وہ خوش تھے اپنی گمراہی پر آیت فنہم من ارسلنا علیہ حاصبا اور وہ قوم لوط تھی جن پر پتھروں کی بارش کی گئی آیت ومنہم من اخذتہ الصیحہ اور وہ صالح کی قوم اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی کہ ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَعَادًا [اور (ہم نے ہلاک کیا) عاد کو ] وَّثَمُــوْدَا۟ [اور ثمود کو ] وَقَدْ تَّبَيَّنَ [اور واضح ہوچکا ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ ۣ [ان کے مکانوں سے ] وَزَيَّنَ [اور سجایا ] لَهُمُ [ان کے لئے ] الشَّيْطٰنُ [شیطان نے ] اَعْمَالَهُمْ [ان کے اعمال کو ] فَصَدَّهُمْ [پھر اس نے روک دیا ان کو ] عَنِ السَّبِيْلِ [اس (صحیح) راستہ سے ] وَكَانُوْا [حالانکہ وہ لوگ تھے ] مُسْتَبْصِرِيْنَ [غور و فکر کرنے والے ] ۔ نوٹ۔ 2: وکانوا مستبصرین کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو وہ بڑے زیرک و ہوشیار ، تعمیرہ تمدن اور حکومت و سیاست میں بڑے ماہر تھے، لیکن ان کی یہ ہوشیاری ان کو شیطان کے پھندوں سے نہ بچا سکی۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–41

مشرکین اپنے معبودوں سے جو امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اس کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عبادت ہمارے لیے فائدہ مند ہوگی اور یہ ہمارے مددگار ہوں گے۔ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتقاد کی ایسی مثال ہے جیسے مکڑی کا گھر ہو، مکڑی جالا بن کر اس میں بیٹھی رہتی ہے اور اس جال کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے۔ جانوروں کے جتنے بھی چھوٹے بڑے گھر گھونسلہ وغیرہ کی صورت میں ہوتے ہیں مکڑی کا گھر ان میں سب سے زیادہ بودا اور کمزور ہوتا ہے، یہی حال ان لوگوں کا ہے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–40

قصہء پنجم مشتمل بر ذکر اجمالی عاد وثمود وقارون وفرعون وہامان قال اللہ تعالیٰ وعادا وثمودا وقد تبین لکم من مسکنہم۔۔۔ الی۔۔۔ ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔ یہ پانچواں قصہ ہے جو اجمالی طور پر عاد اور ثمود اور قارون اور فرعون اور ہامان کے ذکر پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان پانچ سرکشوں کا ذکر کر کے ایک جملہ میں اجمالا سب کی سزا کو بیان کردیا۔ فکلا اخذنا بذنبہ۔ ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے سبب پکڑ لیا اور بتلادیا کہ یہ ازلی بدنصیب تھے ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہی لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق سزادی اور ہلاک کیا ان آیات میں ان سرکشوں کی سزاؤں کا اجمالا ذکر کیا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31:۔ یہ قوم عاد اور ثمود کے قصوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ دونوں قصے بھی دوسرے دعوے سے متعلق ہیں۔ یہ مشہور و معروف قومیں ہیں، ان کا بھی خیال تھا کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن اے مشرکین مکہ ! ان کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر آج بھی زبان حال سے ان کی بربادی کی کہانی دہرا رہے ہیں۔ وزین لہم الخ شیطان نے ان کے اعمال مشرکانہ اور افعال قبیحہ کو ان کی نظروں میں مزین و مستحسن بنا دیا اور انہیں راہ راست پر آنے سے روک دیا حالانکہ وہ عقلمند تھے۔ اگر وہ عقل و فکر سے کام لیتے تو حق و باطل میں امتیاز کرسکتے تھے۔ مستبصرین ای عقلاء یمکنہم التمییز بین الحق والباطل بالاستدلال والنظر الکنہم اغفلوا ولم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–40

ربط آیات : جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَقَدْ تَّبَيَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِہِمْ۝ 0ۣ وَزَيَّنَ لَہُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ۝ 3 8ۙ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–40

ترکیب : شعیبًا مفعول لا رسلنا بدل من اخاھم مفسدین حال موکدۃ لعاملھا من عثی بکسر المثلثہ افسد۔ الرجفۃ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ جاثمین بارکین علی الرکب بیتین۔ وعا دا وثموداً ای اھلکنا ثمود بصرف ثمود و ترکہ بمعنی الحی و القبیلۃ مستبصرین ذوی بصائر۔ قارون ای اھلکنا فکلا منصوب باخذنا۔ تفسیر : والیٰ مدین اخاھم شعیبا۔ یہ چوتھا قصہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا قتورہ کے شکم سے تھا۔ عرب کے شمال و غرب میں قلزم کے اس پار آرہے تھے، انہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے، انہی کی اولاد وہاں بستی تھی اور حضرت شعیب ( علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَعَادًا وَّ ثَمُوْدَاْ وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَـکُمْ مِّنْ مَّسٰکِنِھِمْ قف وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَکَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 38) (اور عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کردیا اور واضح ہیں تم پر ان کے رہنے کی جگہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنادیا اور اس طرح ان کو صحیح راہ سے برگشتہ کردیا تھا حالانکہ وہ بڑے ہی ہوشیار لوگ تھے۔ ) آیت کے آغاز میں فعل اَخَذْنَا محذوف ہے۔ عاد اور ثمود دو مشہور قومیں ہیں، ان کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ قوم عاد جنوبی عرب کے اس علاقے میں آباد تھی جو اب احقاف، یمن اور حضرموت کے نام سے معروف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قوم مدین کی تباہی کے بعد قوم عاد کی تباہی کا بیان۔ عرب کے جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں آباد تھیں ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ اب جو احقاف، یمن اور حضرت موت کے نام سے معروف ہے، قدیم زمانہ میں عاد کا مسکن تھا اہل عرب اس کو اچھی طرح جانتے تھے، حجاز کی شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ آثار زیادہ نمایاں تھے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ دنیوی اعتبار سے بڑے ترقی یافتہ اور سیاسی لوگ تھے۔ مگر ان کی ترقی اور سیاسی سوج بوجھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

38: وَعَادًا (اور عاد کو ہلاک کیا) ۔ یہ اہلکنا مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ کیونکہ فاخذتہم الرجفۃ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ اہلاک کے ہم معنی ہے۔ وَثَمُوْدَا (اور ثمود کو) ۔ قراءت : حمزہ ٗ حفص اور سہل اور یعقوب نے پڑھا ہے۔ وَقَدْتَّبَیَّنَ لَکُمْ (اور تمہارے لئے واضح ہو رہا ہے) ۔ اس سے جو ان کا ہلاک کرنا بیان کیا۔ مِنْ مَّسٰکِنِہمْ (ان کے مقامات سے) سکونت کی جانب سے۔ جب کہ تم گزرتے ہوئے ان پر نگاہ ڈالو۔ اہل مکہ اپنے سفروں میں آتے جاتے ان کو دیکھتے تھے۔ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ (اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے مزین کردیئے) ۔ اعمال سے کفر و معاصی مراد ہیں۔ فَصَدَّ ہُمْ عَنِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38۔ وعاداوثمود، ، اور ہم نے قوم عاد اور قوم ثمود کو ہلاک کردیا۔ وقد تبین لکم، اور اے اہل مکہ ہم نے تمہارے لیے سب کچھ کھول کر بیان کیا، من مساکنھم ان کے کچھ مقامات سکونت یا یہ مطلب ہے کہ جب ان کے ویران مقامات کی طرف جاتے اورادھر سے گزرتے ہیں تو ان کے کھنڈروں سے تم پر ان کو تباہ ہوجانا واضح ہوجاتا ہے۔ وزین لھم الشیطان ، سیدھے راستے سے۔ وکانوا مستبصرین، مقاتل قتادہ ک اورکلبی نے اس جملہ کی تشریح میں کہا کہ وہ لوگ اپنے مذہب کو اورحق سے گمراہ ہونے کو پسند کرتے تھے اور اپنے آپ کو راہ راست پر خیال کرتے تھے اس تشریح کی بناء پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنی نظر میں بڑے ہوشیار تھے ۔ فراء نے مستبصر ہونے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–40

38 تا 40۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کا احوال مشرکین مکہ کو جتلایا جن امتوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیّٰ نے ان کو کس کس طرح کا عذاب کرکے ہلاک کیا قوم عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کے امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزر ہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھا اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا قوم عادنے دعویٰ کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 38–40

آیت 38 اور ہم نے عاد وثمود کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا آپ کو ان کا قصہ معلوم ہے۔ اگر تم ان کے گھروں اور ان کے آثار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو جن کو وہ چھوڑ گئے ہیں تو تم پر کچھ حقیقت واضح ہوجائے گی۔ ان کے رسول ان کے پاس واضح دالائل لے کر آئے جو بصیرت کے لئے مفید تھے مگر انہوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔ (وزین لھم الشیطن اعمالھم) ” اور شیطان انبیاء لے کر آئے ہیں۔ قارون ‘ فرعون اور ہامان کا یہی رویہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران ( علیہ السلام) کو واضح دالائل اور روشن براہین کے ساتھ مبعوث کیا تو انہوں نے ان دلائل کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 36–38

46 قصہ شعیب کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا رسول بنا کر "۔ یعنی ان کے قومی بھائی کو کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مگر اہل بدعت کا اس سب کے باوجود کہنا ہے کہ نبی کو اپنی امت کا بھائی کہنے میں اس کی توہین ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ان لوگوں کی جہالت یا تجاہل عارفانہ کا نتیجہ ہے ورنہ قرآن پاک جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس حقیقت کو واضح فرماتا ہے۔ بہرکیف قوم شعیب جس کے بارے میں پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے ایک بڑے اہم تجارتی سنگم پر واقع تھی اور یہ ایک بڑی تجارتی قوم تھی۔ خود تجارت پیشہ ہونے اور ایک خاص تجارتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–44

عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44 اسرارومعارف ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث : اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ شام کے راستے میں خیبر و تیما سے تبوک تک قوم ثمود کے آثار پائے جاتے ہیں اور قوم عاد کے آثار جزیرہ عرب کے جنوبی علاقہ میں، جو احقاف اور حضرموت کے نام سے مشہور ہے، پائے جاتے ہیں۔ اب اگر یہ آثار مٹ چکے ہوں تو نزول قرآن کے زمانہ میں تو ضرور پائے جاتے ہوں گے اور عرب کا بچہ بچہ ان سے واقف ہوگا۔ 7 ۔ یعنی جاہل اور بدھو قسم کے لوگ نہ تھے۔ بڑے ہنر مند اور ترقی یافتہ تھے اور اپنے دنیوی معاملات بڑی ہوشیاری اور زیرکی سے سرانجام دیتے تھے مگر شیطان نے ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا تھا اس لئے وہ دین کی سچی راہ نہ پا سکے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:38) وعادا وثمودا۔ منصوب بوجہ فعل مضمر ای واھلکنا عادا وثمودا اور ہم نے ہلاک کیا عاد اور ثمود کو۔ (ثمود بوجہ عجمہ اور معرفہ غیر منصرف ہے) زین۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے سنوارا۔ اس نے زینت دی۔ اس نے بھلا کرکے دکھایا۔ تزیین (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی آراستہ کرنے اور زینت دینے کے ہیں ۔ مستبصرین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کانوا ۔ استبصار (استفعال) مصدر۔ دیکھنے والے۔ عقل مند۔ ھق و باطل میں تمیز رکھنے والے ۔ دور اندیش (دنیاوی امور میں) یعنی باوجود یکہ واضح اور روشن دلائل کی وجہ سے انہوں نے حق کو خوب پہچان لیا تھا۔ لیکن شیطان نے ان کے دنیاوی اعمال کو آراستہ پیراستہ کرکے دکھایا اور راہ راست…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

لغات القرآن آیت نمبر (36 تا 40) ۔ لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ مستبصرین (سمجھ رکھنے والے) ۔ سبقین (آگے نکلنے والے) ۔ حاصبا (پتھروں کی بارش) ۔ الصیحتہ (چنگھاڑ۔ تیز آواز) ۔ تشریح : آیت نمبر (36 تا 40) ۔ ” حضرت شعیب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زندگی اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ان کو کوششوں اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی اور وہ نافرمان جن کو اپنی حکومت و سلطنت، مال و دولت اور بلند وبالا عمارتوں پر بڑا ناز تھا جب ان کی نافرمانیاں حد سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–40

)2) ان آیتوں میں فرمایا کہ عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے ۔ عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے پہچانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزرہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھ اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا، قوم عاد نے دعوی کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ، ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر ان کو مارتی تھی اور ان کو اڑا کر آسمان سے سر کے بل پٹخ دیتی تھی کہ جس کے صدمہ سے دھڑ سے سر جدا ہو کر دھڑ کھجور کے تنے کی طرح زمین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–38

[13] یعنی ان کی آبادی کے نشان ان کے موجودہ کھنڈروں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

38۔ اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا اور ان کی تباہی و ہلاکت ان کے ویران مکانوں سے تم پر ظاہر ہوچکی ہے اور ان کا ہلاک ہونا تم کو ان کے رہنے کے مقامات سے نظر آ رہا ہے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے خوش منظر اور مستحسن بنادیا تھا یعنی برے اعمال کو اچھاجانتے اور اسی وجہ سے شیطان نے ان کو سیدھی راہ سے روک دیا تھا حالانکہ یوں تو وہ لوگ خاصے ہوشیار اور سوجھ بوجھ کے تھے۔ یعنی دنیا کے کاموں میں ہوشیار تھے اور سوجھ بوجھ کے اچھے تھے لیکن دین کے معاملہ میں عقل سے کام نہ لیا اور شیطان کے بہکانے میں آگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کے کام میں ہوشیار تھے اور اپنے نزدیک عقل مند تھے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–39

ف 5۔ کہ آثار ویرانی اور بربادی کے ان سے نمایاں ہیں، اور یہ مقامات شام جاتے ہوئے ملتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عاد اور ثمود بھی اس دنیا میں آئے اور اپنے حصہ سے خوب فائدہ اٹھایا : 38۔ عاد ‘ ہود (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے اور ثمود ‘ صالح (علیہ السلام) کی قوم کا اور بلاشبہ یہ دونوں نبی نوح (علیہ السلام) کے بعد اور ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں دونوں نبیوں یا دونوں قوموں کا تذکرہ قرآن کریم میں سورة الاعراف ‘ سورة ہود اور الشعراء میں تفصیل سے گزر چکا ہے اور ان دونوں نبیوں کی مختصر سرگزشت عروہ الوثقی جلد چہارم سورة ہود میں گزر چکی ہے ۔ ہود (علیہ السلام) کے لئے ص 596 اور صالح (علیہ السلام) کے لئے ص 614 ملاحظہ کریں ، بلاشبہ شیطان نے ان دونوں قوموں کی مت بھی خوب ماری کہ انہوں نے حق کو پہچان کر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–38

Commentary The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu'aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas. وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِ‌ينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

65 Every Arab was acquainted with the lands where these two nations had lived. The whole of southern Arabia now known as Ahqaf, Yaman and Hadramaut, was the land of 'Ad in the ancient times, and the Arabs knew it. The whole area in the north of the Hijaz, from Rabigh to 'Aqabah and from Madinah and Khaiber to Taima' and Tabuk. still abounds with Thamudic monuments, which must have been more prominent than they are today in the time when the Qur'an was being revealed. 66 That is, "They were not ignorant and foolish people, but were the most civilized people of their own times. They performed…

Read the full tafseer →