Explained with ayahs 36–37
فساد نہ کرو
اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب ؑ نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 63
یعنی اس بات کو تسلیم نہ کیا کہ حضرت شعیب اللہ کے رسول ہیں، اور یہ تعلیم جو وہ دے رہے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور اس کو نہ ماننے کا نتیجہ انہیں عذاب الہی کی شکل میں بھگتنا ہوگا۔
سورة العنکبوت 64
گھر سے مراد وہ پورا علاقہ ہے جس میں یہ قوم رہتی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب ایک پوری قوم کا ذکر ہورہا ہو تو اس کا گھر اس کا ملک ہی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
خلاصہ تفسیر
اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان (کی برادری) کے بھائی شعیب ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا سو انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو (اور شرک چھوڑ دو) اور روز قیامت سے ڈرو (اور اس کے انکار سے باز آؤ) اور سر زمین میں فساد مت پھیلاؤ (یعنی حقوق اللہ و حقوق العباد کو ضائع مت کرو، کیونکہ یہ لوگ کفر و شرک کے ساتھ کم ناپنے کم تولنے کے بھی خوگر تھے، جس سے فساد پھیلنا ظاہر ہے) سو ان لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا پس زلزلہ نے ان کو آپکڑا، پھر وہ اپنے گھروں میں گھر کر رہ گئے۔ اور ہم نے عاد وثمود کو بھی (ان کے عناد و خلاف کی وجہ سے) ہلاک کیا اور یہ ہلاک ہونا تم کو ان کے رہنے کے مقامات سے نظر آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
والی مدین اخاھم شعیبا لا فقال یقوم اعبدوا اللہ وارجعوا الیوم الاخرو ولا تعثوا فی الارض مفسدین۔ فکذبوہ فاخزتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین (36۔ 37)
اوپر کی سرگزشتیں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں، لیکن آگے صرف اجمالی حوالے پر اکتفا فرمایا ہے۔ مقصود ان کے حوالہ سے اسی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں مبرہن کرنا ہے جس کی طرف سورة کی تمہید میں ارشاد فرمایا ہے کہ ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا ط سا ئا ما یحکمون (4) (کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے ؟ اگر انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے تو بہت ہی برا فیصلہ کر رہے ہیں) آگے کے تاریخی…
Read the full tafseer →37-1حضرت شعیب ؑ کے وعظ و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا بالآخر بادلوں کے سائے والے دن، جبرائیل ؑ کی ایک سخت چیخ سے زمین زلزلے سے لرز اٹھی، جس سے ان کے دل ان کی آنکھوں میں آگئے اور ان کی موت واقع ہوگئی اور وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
16: دیکھئے سورة اعراف : 84 اور سورة ہود : 83
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
والی مدین اخاھم شعیبا ۔۔۔۔۔۔ دارھم جثمین (36 – 37)
” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، اللہ کی بندگی کرو اور روز آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسدبن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو “۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ دعوت اسلامی تمام ادوار میں ایک رہی ہے اور دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ بھی ایک رہا ہے۔
اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر (29: 36) ” اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کے امیدوار رہو “۔ اللہ واحد کی بندگی کرنا اسلامی نظریہ حیات کی نبی اد ہے اور آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
6 یعنی ان کی بستیوں کے کھنڈر تم دیکھ چکے ہو ان سے عبرت حاصل کرو۔
7 یعنی دنیا کے کام میں ہشیار تھے اور اپنے نزدیک عقلمند تھے پر شیطان کے بہکائے سے نہ بچ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 38 وَعَادًا وَّثَمُوْدَا وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَکُمْ مِّنْ مَّسٰکِنِہِمْوقفۃ ”
تمہیں سب معلوم ہے کہ یہ قومیں کس کس علاقے میں کہاں کہاں آباد تھیں۔
وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ ”
شیطان کے زیر اثر انہیں اپنے مشرکانہ افعال و اعمال بہت خوش نما لگتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ ان ہی میں مگن رہتے تھے۔
فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَکَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ”
استبصار باب ”استفعال“ سے ہے۔ اس کے معنی بغور دیکھنا کے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ بڑے باریک بین تھے ‘ ہرچیز کا مشاہدہ بڑی احتیاط سے کرتے تھے ‘ بڑے ہوشیار اور دانشور قسم کے لوگ تھے ‘ مگر اس کے باوجود انہیں راہ راست سجھائی نہیں دیتی تھی۔…
Read the full tafseer →57 یعنی شعیب کی نبوت کو، آپ کی دعوت کو اور اس وعدے کو بھی جھٹلا دیا کہ اگر تم اپنی ان بداعمالیوں سے باز نہ آئے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
40۔ شعیب (علیہ السلام) ۔ مدین وغیرہ سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ ؛
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →فکذبوہ فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین . پھر قوم نے شعیب (کی نبوت) کی تکذیب
کی ‘ آخر ان کو ایک سخت زلزلہ نے پکڑ لیا اور وہ اپنے اپنے گھر میں زانو کے بل بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے (سب مر کر رہ گئے) ۔
رَجْفَۃٌ سخت بھونچال۔ بعض نے کہا کہ جبرئیل کی چیخ مراد ہے جس سے دل لرز گئے تھے۔
جٰثِمِیْنَ گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے۔ دار سے مراد یا تو شہر ہے یا دار سے مراد ہیں بہت سے مکان ‘ یہ شبہ تو ہوسکتا ہے ہی نہیں کہ سب ایک مکان میں ہوں اس لئے جمع کی بجائے واحد کا صیغہ استعمال کیا۔
Read the full tafseer →(37) سو ان لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا نتیجہ یہ ہوا کہ زلزلے کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گر کر رہ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
وَاِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا۔۔ : ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (رکوع 11) اور سورة ہود (رکوع 8) ”وَارْجُوا الْيَوْمَ الْاٰخِرَ“ ”رَجَاءٌ“ کا معنی امید ہے، یہ خوف کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ امید اور خوف لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی آخرت کے آنے کی امید رکھو، یہ نہ سمجھو کہ زندگی بس دنیا ہی کی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ آخرت کے دن کی امید رکھو کہ اس میں تمہارے نیک اعمال کا پورا بدلا ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
یعنی ہم نے مدین کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ سورة اعراف اور ھود میں ان کا ذکر اور ان کے فساد کا ذکر گزر چکا ہے۔ یونس نحوی نے کہا : اس آخرت سے ڈرو جس میں اعمال پر جزا ہے۔ یعنی کفر نہ کرو کیونکہ کفر ہر فساد کی جڑ ہے۔
عشر اور عشی۔ شدید ترین فساد ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی یوم آخرت کی تصدیق کرو کیونکہ لوگ اس کا انکار کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاخذتہم الرجفۃ یعنی ان کو پکڑ لیا ایک چیخ نے آیت وکان مستبصرین یعنی وہ اپنی گمراہی پر خوش تھے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر وابن المنذروابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبحو فی دارہم جثمین سے مراد ہے کہ وہ مرے ہوئے تھے آپ گھروں میں گھٹنے کے بل گرے ہوئے تھے آیت وکانو مستبصرین میں وہ خوش تھے اپنی گمراہی پر آیت فنہم من ارسلنا علیہ حاصبا اور وہ قوم لوط تھی جن پر پتھروں کی بارش کی گئی آیت ومنہم من اخذتہ الصیحہ اور وہ صالح کی قوم اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی کہ ان…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْهُ [پھر ان لوگوں نے جھٹلایا ان (علیہ السلام) کو ] فَاَخَذَتْهُمُ [تو پکڑا ان لوگوں کو ] الرَّجْفَةُ [زلزلے نے ] فَاَصْبَحُوْا [نتیجتاً وہ ہوگئے ] فِيْ دَارِهِمْ [اپنے (اپنے) گھر میں ] جٰثِمِيْنَ [اوندھے منہ گرے ہوئے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
مشرکین اپنے معبودوں سے جو امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اس کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے
جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی عبادت ہمارے لیے فائدہ مند ہوگی اور یہ ہمارے مددگار ہوں گے۔ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتقاد کی ایسی مثال ہے جیسے مکڑی کا گھر ہو، مکڑی جالا بن کر اس میں بیٹھی رہتی ہے اور اس جال کے ذریعہ مکھی کو شکار کرتی ہے۔ جانوروں کے جتنے بھی چھوٹے بڑے گھر گھونسلہ وغیرہ کی صورت میں ہوتے ہیں مکڑی کا گھر ان میں سب سے زیادہ بودا اور کمزور ہوتا ہے، یہی حال ان لوگوں کا ہے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
قصہء چہارم شعیب (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاہم شعیبا۔۔۔ الی۔۔۔ فاصبحوا فی دارہم جثمین۔
یہ چوتھا قصہ شعیب (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدین کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک صاحبزادے کا نام تھا جو بی بی قتورا کے شکم سے تھے آپ دریائے قلزم کے ایک کنارہ پر بستے تھے اور آپ ہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے حضرت شعیب (علیہ السلام) انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ اس بستی میں نبی بنا کر بھیجے گئے یہ لوگ نہ صرف بت پرست اور منکر قیامت تھے بلکہ قزاقی کا پیشہ بھی کرتے تھے اور مفسد اور فتنہ پرداز تھے۔…
Read the full tafseer →30:۔ وہ اپنی طاقت و قوت اور دولت و شوکت کے نشے میں بد مست تھے۔ شعیب (علیہ السلام) کی ناصحانہ تبلیغ و تلقین کا ان پر کوئی اثر نہ ہو اور وہ بدستور تکذیب و انکار پر اڑے رہے۔ فکذبوہ ای اصروا علی التکذیب (قالہ الشیخ (رح)) ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ کی گرفت سے بالا تر ہیں۔ فاخذتہم الرجفۃ الخ لیکن اللہ تعالیٰ نے الرجفۃ کی صورت میں ان پر عذاب نازل فرما دیا جس سے ان کے گجر پھٹ گئے اور وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مردہ ہو کر گر پڑے۔ الرجفۃ سے شدید زلزلہ یا جبریل (علیہ السلام) کی مہیب اور خارا شگاف آواز مراد ہے۔ الرجفۃ الزلزلۃ الشدیدۃ او صیحۃ جبریل (علیہ السلام) لان القلوب رجفت بہا (مدارک ج 3 ص 197) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…
Read the full tafseer →فَكَذَّبُوْہُ فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِہِمْ جٰثِمِيْنَ 37 ۡ
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ترکیب : شعیبًا مفعول لا رسلنا بدل من اخاھم مفسدین حال موکدۃ لعاملھا من عثی بکسر المثلثہ افسد۔ الرجفۃ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ جاثمین بارکین علی الرکب بیتین۔ وعا دا وثموداً ای اھلکنا ثمود بصرف ثمود و ترکہ بمعنی الحی و القبیلۃ مستبصرین ذوی بصائر۔ قارون ای اھلکنا فکلا منصوب باخذنا۔
تفسیر : والیٰ مدین اخاھم شعیبا۔ یہ چوتھا قصہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا قتورہ کے شکم سے تھا۔ عرب کے شمال و غرب میں قلزم کے اس پار آرہے تھے، انہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے، انہی کی اولاد وہاں بستی تھی اور حضرت شعیب ( علیہ…
Read the full tafseer →فَـکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 37)
(تو انھوں نے اس کو جھٹلا دیا، آخر کار ایک سخت زلزلے نے انھیں آپکڑا، پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ )
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب پر اہل مدین پر عذاب
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تمام تر تبلیغی کاوشوں کے جواب میں قوم شعیب نے کسی بات پر کان دھرنے کی بجائے ان کی تکذیب کردی اور صاف کہا کہ ہم تجھے اللہ تعالیٰ کا نبی ماننے سے انکار کرتے ہیں اور تمہیں ایک جھوٹا آدمی سمجھتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تبلیغی مساعی کی وجہ سے چونکہ ان پر اتمامِ حجت ہوچکا تھا اور انھیں سمجھانے بجھانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کی تباہی کے بعد قوم مدین کی تباہی کا تذکرہ۔
1۔ اہل مدین بھی اپنے پیش رو اقوام کی طرح شرک جیسے غلیظ اور بد ترین عقیدہ میں مبتلا تھی۔ شرک وہ بیماری ہے جسے امّ الامراض کہنا چاہیے۔ قوم مدین کے اندر وہ تمام اخلاقی اور اعتقادی بیمار یوں نے جنم لیا۔ جن میں قوم نوح سے لے کر قوم لوط کے لوگ ملوث چلے آرہے تھے۔ اس امّ الامراض کی جڑ کاٹنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید سے کرتے ہیں۔ (الاعراف، آیت : 85)
2۔ قوم مدین نہ صرف عقیدہ کی خیانت میں مرتکب ہوئی بلکہ گاہک سے پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ ادائیگی کے وقت چیز مقررہ…
Read the full tafseer →37: فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ (پس انہوں نے اس کو جھٹلا دیا) ۔ آخر ان کو سخت زلزلہ نے پکڑ لیا۔ الرجفۃ : سخت زلزلہ۔ نمبر 2۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے چیخ ماری۔ جس سے ان کے دل کانپ اٹھے۔ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِہِمْ (انہوں نے اپنے گھروں میں صبح کی) ۔ اپنے شہر اور سرزمین میں۔ نمبر 2۔ گھروں میں۔ دار کو واحد لائے کیونکہ اس میں کوئی التباس و اشتباہ نہ تھا۔ جٰثِمِیْنَ (زانو کے بل بیٹھے ہوئے مرگئے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ والی مدین اخاھم شعیبا، ، اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، فقال یقوم اعبداللہ وارجوالیوم الاخرہ، ، اور آخرت کے دن سے اللہ سے ڈرو۔ ولاتعثوا فی الارض مفسدین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت 36
” و “ اور یعنی ہم نے مبعوث کیا : (الی مدین) ” اہل مدین کی طرف “ جو ایک مشہور و معروف قبیلہ تھا (اخاھم شعیبا) ” ان کے نسہی بھائی شعیب کو “ جنہوں نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے ‘ آخرت پر ایمان رکھنے اللہ تعالیٰ پر امیدیں رکھنے اور صرف اسی کے لئے عمل کرنے کا حکم دیا اور ان کو زمین میں فساد پھیلانے ناپ تول میں کمی کرنے اور ڈاکہ زنی سے روکا مگر انہوں نے ان کو جھوٹا سمجھا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آلیا (فاصبحوا فی دارھم جثمین) ” پس وہ اپنے گھر میں پڑے کے پڑے رہ گئے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
46 قصہ شعیب کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا رسول بنا کر "۔ یعنی ان کے قومی بھائی کو کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مگر اہل بدعت کا اس سب کے باوجود کہنا ہے کہ نبی کو اپنی امت کا بھائی کہنے میں اس کی توہین ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ان لوگوں کی جہالت یا تجاہل عارفانہ کا نتیجہ ہے ورنہ قرآن پاک جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس حقیقت کو واضح فرماتا ہے۔ بہرکیف قوم شعیب جس کے بارے میں پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے ایک بڑے اہم تجارتی سنگم پر واقع تھی اور یہ ایک بڑی تجارتی قوم تھی۔ خود تجارت پیشہ ہونے اور ایک خاص تجارتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون
تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
5 ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة اعراف رکوع 11، سورة ہود رکوع 8 مع حواشی۔
Read the full tafseer →(29:37) الرجفۃ۔ بھونچال۔ زلزلہ۔ لرزش۔ صدمہ۔ رجف یرجف (باب نصر) رجف رجوف ورجیف۔ روز سے حرکت دینا۔ الرجل سخت بےچین ہونا۔ الارض زمین کا زلزلہ میں آنا۔ قرآن مجید میں ہے یوم ترجف الارض والجبال (73:14) جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے۔
فاصبحوا۔تعقیب کا ہے اصبحوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ وہ ہوگئے۔ انہوں نے صبح کی۔ اصبح افعال ناقصہ میں سے ہے
جثمین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ جاثم واحد۔ اوندھے پڑنے والے۔ زانو کے بل گرنے والے۔ جثم یجثم (ضرب) وجثم یجثم (نصر) جثم وجثوم۔ مصدر۔ پرندہ کا زمین پر سینہ کے بل بیٹھنا۔ اور اس کے ساتھ چمٹ جانا۔ استعارہ کے طور پر انسان کا سینہ کے بل گرنا۔ یا اوندھے پڑنا ہے۔
فاصبحوا فی دارہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن آیت نمبر (36 تا 40) ۔
لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ مستبصرین (سمجھ رکھنے والے) ۔ سبقین (آگے نکلنے والے) ۔ حاصبا (پتھروں کی بارش) ۔ الصیحتہ (چنگھاڑ۔ تیز آواز) ۔
تشریح : آیت نمبر (36 تا 40) ۔ ” حضرت شعیب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زندگی اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ان کو کوششوں اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی اور وہ نافرمان جن کو اپنی حکومت و سلطنت، مال و دولت اور بلند وبالا عمارتوں پر بڑا ناز تھا جب ان کی نافرمانیاں حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
نافرمان لوگوں کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم مدین کے باشندوں کو حکم دیا کہ تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور آخرت کے دن جزا کی توقع رکھو، اور لین دین میں لوگوں کے ساتھ دغابای نہ کرو یہ لوگ تولنے میں دغابازی کرتے تھے اور راستہ بھی لوٹتے تھے اور اللہ رسول کو جھٹلاتے تھے اس لیے ان کو زلزلہ اور سخت آواز نے پکڑا۔ جس سے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے مردہ پڑے ہوئے رہ گئے پوراقصہ سورة اعراف میں اور سورة ہود میں اور سورة شعراء میں بیان ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
[13] یعنی ان کی آبادی کے نشان ان کے موجودہ کھنڈروں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
حل لغات الرجفتہ زلزلہ ۔ کپکپی
Read the full tafseer →37۔ پھر ان اہل مدین نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی لہٰذا زلزلے ان کو آلیا اور بھونچال نے آپکڑا پھر وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل پڑے کے پڑے رہ گئے۔ آخر زلزلے کا عذاب آیا اور اس عذاب نے مدین والوں کا خاتمہ کردیا سورة ہود میں تفصیل گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 4۔ یعنی حقوق اللہ و حقوق العباد کو ضائع مت کرو، جیسا کفر و شرک کے ساتھ کم ناپنے تولنے کے بھی خوگر تھے، اور اقامت عدل کے ترک کا فساد ہونا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کی ایک نہ مانی جس کے نتیجہ میں ان کو بھی ہلاک کردیا گیا :
37۔ شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کو اکثریت نے ماننے سے انکار کردیا اور خصوصا قوم کے وڈیروں نے آپ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دعوت کا تفصیلی ذکر عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الاعراف کی آیات 85 تا 92 جلد چہارم سورة ہود کی آیات 84 تا 95 اور اسی سورة ہود میں شعیب (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے عنوان سے آپ کا تفصیلی ذکر بھی آیا ہے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے مخالفین پوری مکی زندگی میں طرح طرح سے تنگ کرتے رہے اور ظاہر ہے کہ جب نہ چھیڑنے والے کو کوئی اس قدر تنگ کرے تو اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
Commentary
The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu'aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas.
وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner…
Read the full tafseer →61 For comparison, see AI-'raf: 85-93, Hud: 84-96, Ash-Shu araa: 177
62 This can have two meanings: (1) "Look forward to the life hereafter, and do not think that there is no life after this worldly life, when you will have to render an account of your deeds and be rewarded or punished accordingly." (2) "Work righteously so as to meet a good end in the Hereafter."
63 That is, "They did not believe that the Prophet Shu`aib was a Messenger of AIIah and the teachings he gave were from Allah and that if they rejected him they would be punished by a torment from Allah." people.
64…
Read the full tafseer →