Explained with ayahs 36–37
فساد نہ کرو
اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول حضرت شعیب ؑ نے مدین میں اپنی قوم کو وعظ کیا۔ انہیں اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کا حکم دیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے اور اس کی سزاؤں سے ڈرایا انہیں قیامت کے ہونے کا یقین دلاکر فرمایا کہ اس دن کے لئے کچھ تیاریاں کرلو اس دن کا خیال رکھو لوگوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اللہ کی زمین میں فساد نہ کرو برائیوں سے الگ رہو۔ ان میں ایک عیب یہ بھی تھا کہ ناپ تول میں کمی کرتے تھے لوگوں کے حق مارتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے راستے بند کرتے تھے ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسول سے کفر کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نصیحتوں پر کان تک نہ دھرا بلکہ انہیں جھوٹا کہا اس بنا پر ان پر…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 61
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، رکوع 11۔ ہود 8۔ الشعراء 10۔
سورة العنکبوت 62
اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آخرت کے آنے کی توقع رکھو، یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے اور کوئی دوسری زندگی نہیں ہے جس میں تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزا و سزا پانا ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرو جس سے تم آخرت میں انجام بہتر ہونے کی امید کرسکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
خلاصہ تفسیر
اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان (کی برادری) کے بھائی شعیب ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا سو انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو (اور شرک چھوڑ دو) اور روز قیامت سے ڈرو (اور اس کے انکار سے باز آؤ) اور سر زمین میں فساد مت پھیلاؤ (یعنی حقوق اللہ و حقوق العباد کو ضائع مت کرو، کیونکہ یہ لوگ کفر و شرک کے ساتھ کم ناپنے کم تولنے کے بھی خوگر تھے، جس سے فساد پھیلنا ظاہر ہے) سو ان لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا پس زلزلہ نے ان کو آپکڑا، پھر وہ اپنے گھروں میں گھر کر رہ گئے۔ اور ہم نے عاد وثمود کو بھی (ان کے عناد و خلاف کی وجہ سے) ہلاک کیا اور یہ ہلاک ہونا تم کو ان کے رہنے کے مقامات سے نظر آ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
والی مدین اخاھم شعیبا لا فقال یقوم اعبدوا اللہ وارجعوا الیوم الاخرو ولا تعثوا فی الارض مفسدین۔ فکذبوہ فاخزتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین (36۔ 37)
اوپر کی سرگزشتیں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں، لیکن آگے صرف اجمالی حوالے پر اکتفا فرمایا ہے۔ مقصود ان کے حوالہ سے اسی حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں مبرہن کرنا ہے جس کی طرف سورة کی تمہید میں ارشاد فرمایا ہے کہ ام حسب الذین یعملون السیات ان یسبقونا ط سا ئا ما یحکمون (4) (کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے ؟ اگر انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے تو بہت ہی برا فیصلہ کر رہے ہیں) آگے کے تاریخی…
Read the full tafseer →36-1مدین حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے کا نام تھا، بعض کے نزدیک یہ ان کے پوتے کا نام ہے، بیٹے کا نام مدیان تھا ان ہی کے نام پر اس قبیلے کا نام پڑگیا، جو ان ہی کی نسل پر مشتمل تھا۔ اسی قبیلے مدین کی طرف حضرت شعیب ؑ کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ مدین شہر کا نام تھا، یہ قبیلہ یا شہر لوط ؑ کی بستی کے قریب تھا۔
36-2اللہ کی عبادت کے بعد، انھیں آخرت کی یاد دہانی کرائی گئی یا تو اس لئے کہ وہ آخرت کے منکر تھے یا اس لئے کہ وہ اسے فراموش کئے ہوئے تھے اور مستیوں میں مبتلا تھے اور جو قوم آخرت کو فرا موش کر دے، وہ گناہوں میں دلیر ہوتی ہے۔ جیسے آج مسلمانوں کی اکثریت کا حال ہے۔
36۔-3ناپ تول میں کمی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
16: دیکھئے سورة اعراف : 84 اور سورة ہود : 83
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
والی مدین اخاھم شعیبا ۔۔۔۔۔۔ دارھم جثمین (36 – 37)
” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، اللہ کی بندگی کرو اور روز آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسدبن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو “۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ دعوت اسلامی تمام ادوار میں ایک رہی ہے اور دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ بھی ایک رہا ہے۔
اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر (29: 36) ” اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کے امیدوار رہو “۔ اللہ واحد کی بندگی کرنا اسلامی نظریہ حیات کی نبی اد ہے اور آخرت…
Read the full tafseer →4 یعنی آخرت کی طرف سے غافل نہ بنو۔ اکیلے خدائے واحد کی پرستش کرو۔
5 خرابی مچانے سے شاید مراد ہے لین دین میں دغا بازی کرنا، سود بٹہ لگانا، جیسا کہ ان کی عادت تھی۔ اور ممکن ہے رہزنی بھی کرتے ہوں۔ وقیل غیر ذلک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 38 وَعَادًا وَّثَمُوْدَا وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَکُمْ مِّنْ مَّسٰکِنِہِمْوقفۃ ”
تمہیں سب معلوم ہے کہ یہ قومیں کس کس علاقے میں کہاں کہاں آباد تھیں۔
وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ ”
شیطان کے زیر اثر انہیں اپنے مشرکانہ افعال و اعمال بہت خوش نما لگتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ ان ہی میں مگن رہتے تھے۔
فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَکَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ”
استبصار باب ”استفعال“ سے ہے۔ اس کے معنی بغور دیکھنا کے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ بڑے باریک بین تھے ‘ ہرچیز کا مشاہدہ بڑی احتیاط سے کرتے تھے ‘ بڑے ہوشیار اور دانشور قسم کے لوگ تھے ‘ مگر اس کے باوجود انہیں راہ راست سجھائی نہیں دیتی تھی۔…
Read the full tafseer →54 حضرت شعیب اہل مدین کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے اور اصحاب ایکہ کی طرف بھی۔ اور یہ دونوں علاقے آس پاس تھے۔ شعیب نے پہلی بات یہی کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور شرک ایسا مرض ہے جو تمام انبیاء کی قوموں میں پایا جاتا ہے۔ شیطان ہر دور میں انسان کی شرک کی نئی سے نئی شکلیں سمجھاتا رہتا ہے۔ اور اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ خالص اللہ کی عبادت سے برگشتہ کرکے کسی نہ کسی طرح کے شرک میں مبتلا کردے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی دعوت کا بھلا قدم یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک کی نجاستوں سے لوگوں کو مطلع کریں۔ اور انھیں ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلائیں۔
55 اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آخرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
40۔ شعیب (علیہ السلام) ۔ مدین وغیرہ سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ ؛
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →والی مدین اخاھم شعیب فقال یقوم اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر ولا تعثوا فی الأرض
مفسدین . اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو (پیغمبر بناکر) بھیجا۔ شعیب نے کہا : اے میری قوم والو ! اللہ کی عبادت کرو اور روز آخرت سے ڈرو اور ملک میں تباہی کی غرض سے بگاڑ نہ پیدا کرو۔
بعض اہل علم نے کہا : اس جگہ رجاء سے مراد ہے خوف یعنی روز آخرت کے عذاب سے ڈرو ‘ یا رجاء کا معنی اس جگہ بھی امید ہی ہے ‘ اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ ایسے کام کرو جن سے روز آخرت کے ثواب کے تم امیدوار ہو سکو۔ سبب کو مسبب کے قائم مقام ذکر کردیا۔
تَعْثَوْا کا معنی بھی لاَ تُفْسِدُوْا ہے پھر مُفْسِدِیْنَ کا لفظ اس غرض سے ذکر کیا…
Read the full tafseer →(36) اور ہم نے مدین والوں کے پاس شعیب ؑ کو نبی بناکر بھیجا سو انھوں نے فرمایا توحید خداوندی کا اقرار کرو اور قیامت کے دن سے ڈرو اور سر زمین میں فساد اور بدکاریاں مت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
وَاِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا۔۔ : ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (رکوع 11) اور سورة ہود (رکوع 8) ”وَارْجُوا الْيَوْمَ الْاٰخِرَ“ ”رَجَاءٌ“ کا معنی امید ہے، یہ خوف کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ امید اور خوف لازم و ملزوم ہیں۔ یعنی آخرت کے آنے کی امید رکھو، یہ نہ سمجھو کہ زندگی بس دنیا ہی کی ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ آخرت کے دن کی امید رکھو کہ اس میں تمہارے نیک اعمال کا پورا بدلا ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
یعنی ہم نے مدین کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ سورة اعراف اور ھود میں ان کا ذکر اور ان کے فساد کا ذکر گزر چکا ہے۔ یونس نحوی نے کہا : اس آخرت سے ڈرو جس میں اعمال پر جزا ہے۔ یعنی کفر نہ کرو کیونکہ کفر ہر فساد کی جڑ ہے۔
عشر اور عشی۔ شدید ترین فساد ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی یوم آخرت کی تصدیق کرو کیونکہ لوگ اس کا انکار کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاخذتہم الرجفۃ یعنی ان کو پکڑ لیا ایک چیخ نے آیت وکان مستبصرین یعنی وہ اپنی گمراہی پر خوش تھے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جیر وابن المنذروابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبحو فی دارہم جثمین سے مراد ہے کہ وہ مرے ہوئے تھے آپ گھروں میں گھٹنے کے بل گرے ہوئے تھے آیت وکانو مستبصرین میں وہ خوش تھے اپنی گمراہی پر آیت فنہم من ارسلنا علیہ حاصبا اور وہ قوم لوط تھی جن پر پتھروں کی بارش کی گئی آیت ومنہم من اخذتہ الصیحہ اور وہ صالح کی قوم اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی کہ ان…
Read the full tafseer →وَاِلٰى مَدْيَنَ [اور مدین کی طرف ] اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۙ [(ہم بھیج چکے) ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو ] فَقَالَ [تو انہوں (علیہ السلام) نے کہا ] يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اعْبُدُوا [تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [اللہ کی ] وَارْجُوا [اور تم لوگ امید رکھو ] الْيَوْمَ الْاٰخِرَ [آخری دن (قیامت) کی ] وَلَا تَعْثَوْا [اور تم لوگ انتشار مت پھیلاؤ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] مُفْسِدِيْنَ [نظم بگاڑنے والے ہوتے ہوئے ] ۔
نوٹ۔ 1: ان کے مکانوں سے تمہارے لئے واضح ہوچکا ہے۔ یہ قریش کو توجہ دلائی گئی ہے کہ قوم لوط کی طرح ان بستیوں کے آثار بھی تم سے مخفی نہیں ہیں۔ تم اپنے تجارتی سفروں میں ان کے کھنڈروں پر…
Read the full tafseer →اہل مدین اور فرعون، ہامان، قارون کی ہلاکت کا تذکرہ
ان آیات میں اجمالی طور پر بعض گذشتہ اقوام کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ہے، پہلی اور دوسری آیت میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے جو علاقہ مدین میں رہتے تھے، ان لوگوں کو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا اور فرمایا کہ آخرت کا دن بھی واقع ہوگا وہاں کفر کی اور اعمال بد کی سزا ملے گی، تم یہ نہ سمجھو کہ دنیا ہی سب کچھ ہے بلکہ موت کے بعد حساب کتاب ہے، پیشی ہے، اس کے واقع ہونے کا یقین رکھو اور اس کے مطابق عمل کرو اور زندگی گزارو، جو برے افعال کرتے ہو ان کو چھوڑو یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرتے تھے جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
قصہء چہارم شعیب (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ والی مدین اخاہم شعیبا۔۔۔ الی۔۔۔ فاصبحوا فی دارہم جثمین۔
یہ چوتھا قصہ شعیب (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدین کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک صاحبزادے کا نام تھا جو بی بی قتورا کے شکم سے تھے آپ دریائے قلزم کے ایک کنارہ پر بستے تھے اور آپ ہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے حضرت شعیب (علیہ السلام) انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ اس بستی میں نبی بنا کر بھیجے گئے یہ لوگ نہ صرف بت پرست اور منکر قیامت تھے بلکہ قزاقی کا پیشہ بھی کرتے تھے اور مفسد اور فتنہ پرداز تھے۔…
Read the full tafseer →29:۔ یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے یعنی مشرکین کا یہ خیال غلط ہے کہ وہ ہماری گرفت سے بچ کر نکل جائیں گے۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم جو بڑی طاقتور اور سرکش تھی۔ شرک کے علاوہ ظلم و بےانصافی، بد دیانتی اور لوگوں کی حق تلفی ان کا شیوہ تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں ان کاموں سے منع کیا اور فرمایا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو، یوم قیامت کے حساب سے ڈرو اور ظلم و بےانصافی سے زمین پر شر و فساد مت بپا کرو۔ وارجوا الیوم الاخر اخشو الیوم الاخر وخافوہ (خازن ج 5 ص 160) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…
Read the full tafseer →وَاِلٰى مَدْيَنَ اَخَاہُمْ شُعَيْبًا 0 ۙ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ 36
أخ
أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ترکیب : شعیبًا مفعول لا رسلنا بدل من اخاھم مفسدین حال موکدۃ لعاملھا من عثی بکسر المثلثہ افسد۔ الرجفۃ الزلزلۃ الشدیدۃ۔ جاثمین بارکین علی الرکب بیتین۔ وعا دا وثموداً ای اھلکنا ثمود بصرف ثمود و ترکہ بمعنی الحی و القبیلۃ مستبصرین ذوی بصائر۔ قارون ای اھلکنا فکلا منصوب باخذنا۔
تفسیر : والیٰ مدین اخاھم شعیبا۔ یہ چوتھا قصہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا قتورہ کے شکم سے تھا۔ عرب کے شمال و غرب میں قلزم کے اس پار آرہے تھے، انہی کے نام سے اس بستی کو مدین کہنے لگے، انہی کی اولاد وہاں بستی تھی اور حضرت شعیب ( علیہ…
Read the full tafseer →وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًال فَقَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَلاَ تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (العنکبوت : 36)
(اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، تو اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اور یوم آخرت کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو۔ )
مزید چند تاریخی حوالے اختصار کے ساتھ
اس سورة کے آغاز میں تمہیدی طور پر چند بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اور پھر ان کی تائید اور وضاحت کے لیے چند انبیائے کرام کی سرگزشتیں کسی قدر تفصیل کے ساتھ ذکر کی گئی ہیں۔ اب انھیں باتوں کو مزید اجاگر کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کی تباہی کے بعد قوم مدین کی تباہی کا تذکرہ۔
1۔ اہل مدین بھی اپنے پیش رو اقوام کی طرح شرک جیسے غلیظ اور بد ترین عقیدہ میں مبتلا تھی۔ شرک وہ بیماری ہے جسے امّ الامراض کہنا چاہیے۔ قوم مدین کے اندر وہ تمام اخلاقی اور اعتقادی بیمار یوں نے جنم لیا۔ جن میں قوم نوح سے لے کر قوم لوط کے لوگ ملوث چلے آرہے تھے۔ اس امّ الامراض کی جڑ کاٹنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید سے کرتے ہیں۔ (الاعراف، آیت : 85)
2۔ قوم مدین نہ صرف عقیدہ کی خیانت میں مرتکب ہوئی بلکہ گاہک سے پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ ادائیگی کے وقت چیز مقررہ…
Read the full tafseer →36: وَاِلٰی مَدْیَنَ (اور مدین کی طرف) ۔ اور ہم نے مدین کی طرف بھیجا۔ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ (ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) پس انہوں نے کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو) ۔ اور ایسے افعال کرو جس پر آخرت میں ثواب کے امیدوار بن سکو۔ نمبر 2۔ اس سے ڈرو۔ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (اور زمین میں فساد مچاتے مت پھرو) ۔ فساد کا قصد کرتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ والی مدین اخاھم شعیبا، ، اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، فقال یقوم اعبداللہ وارجوالیوم الاخرہ، ، اور آخرت کے دن سے اللہ سے ڈرو۔ ولاتعثوا فی الارض مفسدین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت 36
” و “ اور یعنی ہم نے مبعوث کیا : (الی مدین) ” اہل مدین کی طرف “ جو ایک مشہور و معروف قبیلہ تھا (اخاھم شعیبا) ” ان کے نسہی بھائی شعیب کو “ جنہوں نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے ‘ آخرت پر ایمان رکھنے اللہ تعالیٰ پر امیدیں رکھنے اور صرف اسی کے لئے عمل کرنے کا حکم دیا اور ان کو زمین میں فساد پھیلانے ناپ تول میں کمی کرنے اور ڈاکہ زنی سے روکا مگر انہوں نے ان کو جھوٹا سمجھا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آلیا (فاصبحوا فی دارھم جثمین) ” پس وہ اپنے گھر میں پڑے کے پڑے رہ گئے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
46 قصہ شعیب کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا رسول بنا کر "۔ یعنی ان کے قومی بھائی کو کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ مگر اہل بدعت کا اس سب کے باوجود کہنا ہے کہ نبی کو اپنی امت کا بھائی کہنے میں اس کی توہین ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ان لوگوں کی جہالت یا تجاہل عارفانہ کا نتیجہ ہے ورنہ قرآن پاک جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس حقیقت کو واضح فرماتا ہے۔ بہرکیف قوم شعیب جس کے بارے میں پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے ایک بڑے اہم تجارتی سنگم پر واقع تھی اور یہ ایک بڑی تجارتی قوم تھی۔ خود تجارت پیشہ ہونے اور ایک خاص تجارتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
عبرت کے نشان قوم عاد، ثمود، فرعون، ہامان، قارون
تشریح : الاعراف ‘ ھود ‘ شعراء اور کئی سورتوں میں ان کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں مختصراً دوبارہ ان قوموں کا ذکر کیا جا رہا ہے صرف اس حوالے سے کہ لوگ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وہ قادر مطلق اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اچھے برے کی پہچان واضح کرنے کے لیے نبی بھیجتا رہا مگر اکثر قومیں اس قدر بگڑ چکی تھیں کہ اللہ کو پہچان کر بھی اللہ کی راہ اختیار کرنے کو تیار نہ تھیں اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لیے تباہی و بربادی اور عذاب کے اسباب بنائے۔ مثلاً عاد کی قوم ‘ قوم ثمود ‘ مدین والے، ہامان ‘ فرعون وغیرہ یہ سب اپنے زمانے کی مانی ہوئی طاقتور قومیں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
5 ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورة اعراف رکوع 11، سورة ہود رکوع 8 مع حواشی۔
Read the full tafseer →(29:36) والی مدین اخاہم شعیبا : ای وارسلنا الی مدین اخاہم شعیبا۔ اور (ہم نے بھیجا) اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو ۔
ارجوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ رجاء مصدر (باب نصر) تم امید رکھو۔
لاتعثوا۔ فعل نہی جا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم فساد مت کرو۔ عثی اور عثی مصدر (باب سمع) سے جس کے معنی فساد کرنے کے ہیں باب نصر سے عیث وعثو مصدر ہیں جو اس فساد کے لئے آتے ہیں جس کا ادراک حسی ہو یعنی دنگہ فساد۔ مارکٹائی۔ عثی مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن آیت نمبر (36 تا 40) ۔
لا تعثوا (تم نہ پھرو) ۔ الرجفتہ (زلزلہ۔ بھونچال) ۔ جثمین (اوندھے پڑے ہوئے) ۔ مستبصرین (سمجھ رکھنے والے) ۔ سبقین (آگے نکلنے والے) ۔ حاصبا (پتھروں کی بارش) ۔ الصیحتہ (چنگھاڑ۔ تیز آواز) ۔
تشریح : آیت نمبر (36 تا 40) ۔ ” حضرت شعیب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زندگی اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے ان کو کوششوں اور جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمائی اور وہ نافرمان جن کو اپنی حکومت و سلطنت، مال و دولت اور بلند وبالا عمارتوں پر بڑا ناز تھا جب ان کی نافرمانیاں حد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
نافرمان لوگوں کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم مدین کے باشندوں کو حکم دیا کہ تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور آخرت کے دن جزا کی توقع رکھو، اور لین دین میں لوگوں کے ساتھ دغابای نہ کرو یہ لوگ تولنے میں دغابازی کرتے تھے اور راستہ بھی لوٹتے تھے اور اللہ رسول کو جھٹلاتے تھے اس لیے ان کو زلزلہ اور سخت آواز نے پکڑا۔ جس سے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے مردہ پڑے ہوئے رہ گئے پوراقصہ سورة اعراف میں اور سورة ہود میں اور سورة شعراء میں بیان ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
[13] یعنی ان کی آبادی کے نشان ان کے موجودہ کھنڈروں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہیں۔
Read the full tafseer →ایام اللہ
1: ان آیات میں تذکیر ایام اللہ کے تحت ہلاک شدہ قوموں کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر انہوں نے حق وصداقت کو ٹھکرایا ۔ اور کیونکر عذاب کے مستحق ٹھہرے ۔ ارشاد ہے کہ مدین والوں کے پاس ہم نے حضرت شعیب کو بھیجا ۔ انہوں نے کہا ۔ اے قوم ! ایک اللہ کی عبادت کرو ۔ توحید اصل دین ہے ۔ فطرت کا تقاضا ہے ۔ دل کی آواز ہے معقول اور صحیح حقیقت ہے ۔ اور یوم آخرت کے محاسبہ سے ڈرو ۔ کہ ایمان بالآخرت سے دلوں میں نیکی کی تحریص پیدا ہوتی ہے اور کفر اختیار کرکے زمین میں فساد نہ مچاؤ اس سے معلوم ہوتا ہے ۔ کفر بجائے خود تخریب ہے ۔ تباہی ہے اور ہلاکت ہے ۔ اور جو لوگ انبیاء کے پیش کردہ نظام کو نہیں مانتے وہ عالم کون…
Read the full tafseer →36۔ اور مدین والوں کے پاس ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا ، پس شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کیا کرو یعنی شرک سے پرہیز کیا کرو اور آخرت کا ڈر اور خوف ملحوظ خاطر رکھو اور پچھلے دن سے ڈرتے رہو اور زمین میں فساد برپا کرتے نہ پھرو۔ مدین والوں کا ذکر کئی جگہ آچکا ہے یہ قوم مشرک تو تھی ہی اور شرک کے ساتھ اور بھی بہت سی اخلاق خرابیوں میں مبتلا تھی ، آخرت کے منکر معاملات کے کھوٹے۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان میں عادت تھی دغا بازی کی لین دین کی مگر شاید راہ بھی ٹوٹتے تھے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 4۔ یعنی حقوق اللہ و حقوق العباد کو ضائع مت کرو، جیسا کفر و شرک کے ساتھ کم ناپنے تولنے کے بھی خوگر تھے، اور اقامت عدل کے ترک کا فساد ہونا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →اہل مدین کی طرف شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا تو انہوں نے توحید الہی کا درس دیا :
36۔ ہم اس کی وضاحت پیچھے کتنے مقامات پر کرچکے ہیں کہ مدین ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام تھا اور آپ کے یہ بیٹے بنو قطورا کے نام سے ذکر کئے گئے ہیں کیونکہ قطورا نامی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی تھی ، حجاز کے اندر آج بھی ایک علاقہ مدین کے نام سے موجود ہے یہ انہی کی نسبت سے مدین کہلاتا ہے اس قبیلہ میں شعبے (علیہ السلام) مبعوث کئے گئے انہوں نے قوم کو توحید الہی کا درس دیا اور یوم آخرت کو سچے دل سے تسلیم کرنے کی ہدایت دی آپ کی قوم کی معروف بیماریاں کم تولنا ‘ کم ماپنا ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
Commentary
The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu'aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas.
وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
57 The reason for this anxiety and distress was that the angels had come in the shape of handsome, young boys. The Prophet Lot was aware of his people's morals. Therefore, he became perturbed at their arrival. He was thinking, "If I receive these guests in my house, it will be difficult to save them from the immoral people; if I do not receive them, it will be highly uncivil and unbecoming of the noble people. Moreover, if I do not provide shelter to these travelers, they will stay the night elsewhere, which would mean that I have myself given them away to the wicked people." What happened…
Read the full tafseer →