Explained with ayahs 31–35
فرشتوں کی آمد
حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 59
اس کھلی نشانی سے مراد ہے بحیرہ مردار جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اس ظالم قوم پر اس کے کرتوتوں کی بدولت جو عذاب آیا تھا اس کی ایک نشانی آج بھی شاہراہ عام پر موجود ہے جسے تم شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب و روز دیکھتے ہو۔ وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ (الحجر) اور وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ۔ وَبِالَّيْلِ۔ (الصافات)
موجودہ زمانے میں یہ بات قریب قریب یقین کے ساتھ تسلیم کی جارہی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی بدولت وجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے لوط ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط ؑ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
انا منزلون علی اھل ھذہ القریۃ ر، جزا من السماء بما کانوا لفسقون (34)
حضرت لوط ؑ کو نجات کی خوشخبری دینے کے بعد فرشتوں نے ان کو اس فیصلہ الٰہی سے بھی آگاہ کردیا کہ اس بستی والوں پر ہم قہر آسمانی نازل کرنے والے ہیں۔ ’ رجز ‘ سے مراد اس طرح کا عذاب ہے جو سننے اور دیکھنے والوں کے دلوں میں کپکپی پیدا کردے۔ اس کے ساتھ من السماء کی قید اس کی شدت اور بےپناہی کے اظہار کے لئے ہے۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں قہر الٰہی یا عذاب آسمانی کے الفاظ بولتے ہیں اسی طرح عربی زبان میں یہ اسلوب ہے۔ اس عذاب کی نوعیت پر ہم اس کے محل میں گفتگو کرچکے ہیں۔ بما کانوا یفسقون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کا عذاب…
Read the full tafseer →35-1یعنی پتھروں کے وہ آثار، جن کی بارش ان پر ہوئی سیاہ بدبودار پانی اور الٹی ہوئی بستیاں، یہ سب عبرت کی نشانیاں ہیں مگر کن کے لئے ؟ دانش مندوں کے لئے۔
35-2اس لیے کہ وہی معاملات پر غور کرتے، اسباب و عوامل کا تجزیہ کرتے اور نتائج و آثار کو دیکھتے ہیں کہ لیکن جو لوگ عقل و شعور سے بےبہرہ ہوتے ہیں، انھیں ان چیزوں سے کیا تعلق ؟ وہ تو جانوروں کی طرح ہیں جنہیں ذبح کے لیے بوچڑ خانے لے جایا جاتا ہے لیکن انھیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اس میں مشرکین مکہ کے لیے بھی تعریض ہے کہ وہ بھی تکذیب کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو عقل و دانش سے بےبہرہ لوگوں کا وطیرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
15: یعنی ان کی بستیوں کے کھنڈر آج بھی موجود ہیں، اور نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔
وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34)
” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو…
Read the full tafseer →3 یعنی ان کی الٹی ہوئی بستیوں کے نشان مکہ والوں کو ملک شام کے سفر میں دکھائی دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت 35 وَلَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْہَآ اٰیَۃًَم بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ”
قوم لوط کی بستی کے کھنڈرات قریش کی تجارتی شاہراہ پر موجود تھے ‘ لہٰذا قرآن میں اہل مکہ کو بار بار مخاطب کر کے یاد دلایا گیا ہے کہ تم لوگ ان عذاب زدہ بستیوں کے کھنڈرات پر سے گزرتے ہو اور پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے ہو ! اس کے علاوہ بحیرۂ مردار جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے بھی قوم لوط کی بربادی کی کھلی نشانی ہے۔
Read the full tafseer →53 اس بدبخت قوم پر سب قوموں سے سخت عذاب آیا تھا۔ پہلے فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اپنے پروں پر اٹھایا۔ پھر بلند پر لے جاکر اسے الٹا کر زمین پر پٹخ دیا۔ اور اس زور سے زمین پردے مارا کہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا۔ پھر اس بدبخت قوم پر پتھر برسائے گئے۔ اور اب یہ سارا علاقہ زیر آب آچکا ہے۔ اور اس سمندر کا نام بحرسست یا بحیرہ مردار ہے۔ جس کی گہرائیوں میں یہ بدمعاشی قوم دفن کردی گئی تھی۔ اور یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے اپنے تجارتی سفروں میں آتے ہوئے بھی اور جاتے ہوئے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
39۔ سدوم والوں کی تہ وبالا شدہ آبادیوں کے کھنڈر اب تک نگاہ عبرت کے لیے شرق یردن میں بحرمردہ (DEAD.SEA) کے مشرق میں موجود ہیں۔ اور بحر مردہ خود ایک عبرت گاہ ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون . اور ہم نے ان کے (یعنی قوم لوط کی بستیوں کے) کھلے ہوئے
نشانات ان لوگوں کے (عبرت اندوز ہونے کے) لئے چھوڑ دئیے جو سمجھیں۔ یعنی ان لوگوں کے لئے نشانات چھوڑ دئیے جو آیات قدرت پر غور کرتے ہیں اور ان سے عبرت اندوز ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس کے نزدیک آیَۃًٍم بَیِّنَۃً سے مراد ہیں قوم لوط کی بستیوں کے ویران کھنڈر۔ قتادہ نے کہا کہ اس سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے تھے ‘ اللہ نے وہ پتھر باقی رکھے۔ اس امت کے ابتدائی دور تک وہ پتھر موجود تھے اور اگلے لوگوں نے ان کو دیکھا تھا۔
مجاہد نے کہا کہ زمین کے اندر سے سیاہ پانی برآمد کرنا آیَۃًٍم بَیِّنَۃً سے مراد ہے۔ بعض…
Read the full tafseer →(35) اور ہم نے لوط ؑ کی قوم کی بستیوں کے کچھ ظاہر نشان اب تک رہنے دیے ہیں ان لوگوں کی عبرت کے لیے جو اس چیز کو جانتے اور تصدیق کرتے ہیں کہ ان بدکاریوں کی وجہ سے ان لوگوں کیا انجام ہوا اور ایسے لوگوں کی وہ پیروی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَآ اٰيَةًۢ بَيِّنَةً۔۔ : کھلی نشانی سے مراد اس بستی کے وہ آثار ہیں جو اب تک باقی ہیں۔ یہ اس طرح ہوا کہ جبرائیل ؑ نے ان کی بستیوں کو زمین کی تہ سے اکھاڑا اور آسمان کے بادلوں تک اٹھا کر ان پر الٹا کر دے مارا (جس سے وہ سارا خطہ زمین کی سطح سے کافی نیچے دھنس گیا) اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر والے پتھروں کی بارش برسائی، جو رب تعالیٰ کی طرف سے نشان والے تھے۔ یہ واقعہ نشانی اس لحاظ سے ہے کہ یہ علاقہ اس تجارتی شاہراہ پر واقع ہے جو مکہ سے شام کو جاتی ہے اور کفار مکہ اسے تجارتی سفروں میں آتے وقت اور جاتے وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے کہ اس حد سے گزرنے والی قوم کا انجام کیا ہوا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسائی نے کہا : معنی ہے ہم نے حضرت لوط علیہ لسلام کو نجات دی یا ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا۔ کہا : یہ توجیہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو لوط کو یاد کرو کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے کہا : ان میں قرأت اور اس کی وضاحت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ سورة الاعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ڈاکو تھے، یہ ابن زید نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کو اٹھا لیتے تھے، ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت وتقطعون السبیل کے بارے میں فرمایا کہ السبیل سے مراد وہ راستہ ہے جس پر مسافر گزرے مسافر ابن سبیل ہوتا ہے اس پر وہ ڈاکہ ڈالتے اور اس کے ساتھ برا کام کرتے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم یعنی تم وہ اپنی مجلسوں میں۔
3۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والفاشی فی سندہ والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ تَّرَكْنَا [اور بیشک ہم نے چھوڑا ہے ] مِنْهَآ [اس (بستی) میں ] اٰيَةًۢ بَيِّنَةً [ایک کھلی نشانی ] لِّقَوْمٍ [ایسی قوم کے لئے جو ] يَّعْقِلُوْنَ [عقل (استعمال) کرتی ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: کھلی نشانی سے مراد بحیرۂ مردار ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اس قوم پر جو عذاب آیا تھا اس کی ایک نشانی آج بھی شاہراہ عام پر موجود ہے جسے تم شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب و روز دیکھتے ہو ۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ بحیرۂ مردار کا جنوبی حصہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا ہے اور اسی دھنسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کی بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر گزرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو فہم اور تدبر سے کام لیں) یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں۔ چلو پھرو دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ سورة صافات میں فرمایا (وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ ) (اور بلاشبہ تم ان پر صبح کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل مکہ جب تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
قصہء سوم لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون۔
یہ تیسرا قصہ لوط (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور اپنے چچا کے ساتھ بابل سے ہجرت کر کے آئے تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر مبعوث فرمایا تاکہ دونوں علاقے کے لوگ ہدایت پا ویں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ہجرت کر کے شام چلے آئے اور لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں شہر سدوم اور اس کے اطراف و جوانب کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے یہاں کے لوگ اول درجہ کے بدمعاش اور اوباش اور رہزن اور قزاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
28:۔ ہم نے اس قوم کی ہلاکت و تباہی کی نشانی باقی چھوڑ دی تاکہ عقل و بصیرت رکھنے والے اس سے عبرت حاصل کریں۔ نشانی سے ان کی برباد شدہ بستی کے آثار باقیہ مراد ہیں۔ یا سیاہ پانی جو وہاں زمین سے نمودار ہوا یا وہ پتھر جو ان پر برسائے گئے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سب مراد ہوں تو ان میں کوئی تعارض نہیں (قرطبی) یہاں تک حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ تھا جو بالذات پہلے دعوے سے متعلق ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ لوط (علیہ السلام) کو دین حق کی خاطر سرکش قوم کے ہاتھوں کیسی کیسی مصیبتیں اور ایذائیں پہنچیں۔ اے ایمان والو ! تم پر بھی آزمائشیں آئیں گی۔ ضمنا دوسرا دعوی بھی اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ سرکش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْہَآ اٰيَۃًۢ بَيِّنَۃً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 35
ترك
تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25]
( ت ر ک) ترک
الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
ترکیب : ولوطا معطوف علی نوح و ابراہیم۔ المنکر مفعول تاتون، منجوک و اھلک الکاف فی الموضع خبر عند سیبویہ۔ من الغابرین الباقین فی العذاب اومن الماضین ذکر ہم اومن مضی زمانہ و یفنی، سیء بہم حزن بسببہم وضاق بہم ذرعًا صدرا۔ اوضاق بشانہم و تدبیرا مرھم ذرعہ ای طاقۃ ان جات ان صلتہ لتاکید الفعلین۔
تفسیر : یہ تیسرا قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے جو ان کے ساتھ بابل سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ شام میں پہنچ کر یہ قرار پایا کہ دونوں صاحب جدا جدا رہیں، کیونکہ دونوں کے چار پائے اور مویشی بکثرت تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو کنعان میں رہے اور لوط ( علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً م بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (العنکبوت : 35)
(اور ہم نے اس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ان لوگوں کے لیے جو سوچنا سمجھنا چاہیں۔ )
قوم لوط کی بستی عقل والوں کے لیے نشانی ہے
قومِ لوط کی یہ بستی جس جگہ آباد تھی وہ علاقہ قریش کے تجارتی قافلوں کا راستہ تھا۔ اس لحاظ سے ان بستیوں کا تباہ ہونا اور عذاب الٰہی کا شکار ہونا ایک ایسا واضح نشان تھا جسے ہر گزرنے والا قافلہ دیکھ سکتا تھا۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کھلی نشانی سے مراد بحیرہ مراد ہے جسے بحرلوط بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے کئی جگہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم شام کی طرف اپنے تجارتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط تباہی کے دہانے پر۔ عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں
قرآن مجید بتلارہا ہے کہ جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے ان کے ہاں دوڑی ہوئی آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ (یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ بھاگم بھاگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں…
Read the full tafseer →35: وَلَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْہَا (اور ہم نے چھوڑ دیئے ان بستیوں سے) ۔ ٰایَۃً بَیِّنَۃً (کھلے نشانات) ۔ وہ ان کے برباد شدہ مکانات کے کھنڈرات ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
سطح زمین پر سیاہ پانی۔
لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (عقل والوں کے لئے) نحو۔ : لِقومٍ یہ ترکنا کے متعلق ہے۔ نمبر 2۔ بینۃ کے متعلق ہے۔
Read the full tafseer →35۔ ولقد ترکنامنھا، ، حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں سے، ایہ بینۃ، ظاہری عبرت ، لقوم یعقلون، قرآن کی ایات کی تدبیر کرنے والی قوم ہی تدبیر کرسکتی ہے۔ جو ذوی العقول میں سے ہو، یعنی عقل و شعور والی ہو۔ ابن عباس کے نزدیک، ایہ بینہ، سے مراد ہے قوم لوط کی بستیوں کے ویران کھنڈر، قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسائے گئے تھے اللہ نے وہ پتھر باقی رکھے اس امت کے ابتدائی دور تک وہ پتھر موجود تھے اور اگلے لوگوں نے انکودیکھا تھا، مجاہد کا قول ہے کہ زمین کے اندر سے سیاہ پانی برآمد کرنا، ایہ بینہ ، سے مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ ان کے قصہ کی شہرت مراد ہے یعنی ہم نے قوم لوط کی تباہی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت 28
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب) گرچہ عام ہے مگر حضرت لوط ( علیہ السلام) کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے حلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے لوط ( علیہ السلام) ابراہیم (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
45 قوم لوط پر ہولناک عذاب نازل کرنے کی خبر : بہرکیف فرشتوں نے حضرت لوط کو نجات کی خوشخبری دینے کے بعد ان کو اس فیصلہ خداوندی سے بھی آگاہ کردیا کہ ہم نے اس بستی والوں پر اب آسمانی قہر نازل کرنا ہے۔ ان کی ان بدکاریوں کی بنا پر جو یہ لوگ اب تک کرتے رہے ہیں۔ یعنی اس حقیقت سے ان کو مطلع کردیا کہ ان بدبختوں کی مدت مہلت اب ختم ہوچکی ہے اور اب انہوں نے اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہنا ہے۔ معلوم ہوا کہ گناہوں کی اصل اور پوری سزا تو اگرچہ انسان کو آخرت میں ہی ملے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَ وُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَت وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ } ۔ (آل عمران :25)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
سیدنا لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : اس بستی کا اشارہ قوم لوط کی اس بستی کی طرف ہے جو اب بحیرہ مردار کا حصہ بن چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت فلسطین کے شہر جرون میں رہتے تھے اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Leand Seq) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک شدید زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا اور یہ کھلی نشانی شاہراہ عام پر موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ قوم لوط کی یہ تباہ شدہ بستی ‘ جو ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب کا نشانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
4 ۔ تاکہ اس سے عبرت حاصل کریں کھلی نشانی سے مراد وہ پتھر بھی ہیں جو آسمان سے برسے تھے اور اس سرزمین میں موجود ہوں گے اور بقول مجاہد (رح) وہ کالا پانی بھی جو اس سرزمین میں ایا جاتا ہے اور ان دنوں ” بحر لوط “ یا ” بحرمیت “ کے نام سے مشہور ہے۔ (شوکانی) اس کھلی نشانی کے متعلق سورة حجر میں ارشاد ہے وانھا لسبیل مقیم۔ اور یہ بستی تو سیدھے راستہ پر ہے۔ (آیت 76) اور سورة صافات میں ہے : ” وانکم لتمرون علیھم لمصبحین بالیل۔ اور ” تم صبح اور رات کے وقت ان کے پاس سے گزرتے ہو۔ “ (آیت 137)
Read the full tafseer →(29:35) منھا : ای من القریۃ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القریۃ کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 35 :
لتاتون ( البتہ تم لاتے ہو) ماسبق (پہلے نہیں کیا) تقطعون ( تم کاٹتے ہو) ‘ نادی (محفلیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 28 تا 35 :
اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جب کبھی کسی شہر ‘ علاقے یا ملک کے کچھ لوگ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی حرکتوں پر ان کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن جب پوری قوم کفر و شرک ‘ بےحیائی ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی ‘ زنا اور بدکاریوں میں اس طرح لگ جاتی ہے کہ شرم وحیا کے بجائے کھلم کھلا نجی اور عام محفلوں میں گناہ کرنے کو فیشن بنا لیاجاتا ہے اور خیر و شر کا ہر تصور مٹ کر رہ جاتا ہے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
بدفعلی کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی کیا، حضرت اسحاق ، ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعال کا یہ ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو قائم رکھا یہ ایک اللہ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے خاندان میں سے ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی۔ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔ اسماعیل (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
[13] یعنی ان کی آبادی کے نشان ان کے موجودہ کھنڈروں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
حل لغات :۔ رجز ۔ عذاب سختی ۔ تکلیف وارجوالیوم الاخر رجا کے معنے خوف اور امید دونوں کے ہیں
Read the full tafseer →35۔ اور بیشک ہم نے اس بستی کے کچھ ظاہری نشان ان لوگوں کے لئے چھوڑ رکھے ہیں جو عقل و خر د سے کام لیتے ہیں ۔ یعنی وہ بستیاں آج بھی الٹی پڑی ہیں جو شارع عام سے نظر آتی ہیں حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وے شہر الٹے راہ پر نظر آتے ہیں ۔ 12 بہرحال ! لوط کی نافرمان اور فسق و فجور کا ارتکاب کرنیوالی قوم ختم کردی گئی ، اب آگے مختصرا ً اور چند پیغمبروں کی قوموں کا ذکر ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ چناچہ اہل مکہ سفر شام میں ان ویران مقامات کو دیکھتے تھے اور جو اہل عقل تھے وہ منتفع بھی ہوتے تھے کہ ڈر کر ایمان لے آئے تھے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں میں کھلی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں :
35۔ قصص قرآنی کی غرض زیر نظر آیت میں بیان کردی گئی کہ اگر تم ذرا بھی عقل و فکر سے کام لو تو تم کو معلوم ہوجائے کہ اس قوم کی حالت کیا ہوئی اور کیوں ہوئی ؟ حالت یہ ہوئی کہ اس وقت جہاں وہ بستیاں آباد تھیں اب وہاں بحر میت کے نام سے یا بحر لوط کے نام سے ایک گہرا سمندر موجود ہے بلاشبہ جو کچھ ہوا وہ سنت اللہ کے مطابق ہوا لیکن وہاں کے رہنے والوں ہی میں بچ جانے والے بھی تھے وہ کیوں بچ گئے اور جو غرق ہوئے وہ کیوں ؟ لوط (علیہ السلام) کی بات ماننے والوں کو بچالیا گیا اور نہ ماننے والوں کو زمین نگل گئی ہاں ! بلاشبہ آتش فشاں پھٹا اور وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
Commentary
The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu'aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas.
وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
57 The reason for this anxiety and distress was that the angels had come in the shape of handsome, young boys. The Prophet Lot was aware of his people's morals. Therefore, he became perturbed at their arrival. He was thinking, "If I receive these guests in my house, it will be difficult to save them from the immoral people; if I do not receive them, it will be highly uncivil and unbecoming of the noble people. Moreover, if I do not provide shelter to these travelers, they will stay the night elsewhere, which would mean that I have myself given them away to the wicked people." What happened…
Read the full tafseer →