Al-Ankaboot 29:34

Al-Ankaboot · from ayah 34

29:34

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤی اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۟اِنَّا مُنۡزِلُوۡنَ عَلٰٓى اَهۡلِ هٰذِهِ الۡقَرۡيَةِ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, we will bring down on the people of this city punishment from the sky because they have been defiantly disobedient."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:34

ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم اس بستی والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ یہ بےحکم ہو رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس بستی کے باشندے جو بدکاریاں کرتے رہے ہیں، ان کی وجہ سے ہم ان پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم اس شہر والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں بدلہ ان کی نافرمانیوں کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم اس بستی کے باشندوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم اس بستی والوں پر آسمان سے ایک عذاب اتارنے والے ہیں، اس وجہ سے جو وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم اسی بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں کیونکہ یہ بدکاری کر رہے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم اس بستی والوں پر، ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں، آسمان سے ایک آفت اتارنے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم نے اتارنا ہے اس بستی کے باشندوں پر ایک بڑا ہی ہولناک عذاب آسمان سے ان کی ان بدکاریوں کی بناء پر جو کہ یہ لوگ اب تک کرتے چلے آئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

ہم اس بستی کے باشندوں پر ایک عذاب آسمانی انکی بدکاریوں کی پاداش میں نازل کرنے والے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نازل کرنے والے ہیں اس بستی والوں پر ایک عذاب آسمان سے بسبب اس فسق و فجور کے جو وہ کر رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We shall bring down upon the people of this city a scourge from the heaven because of their evildoing.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We are going to bring down on the people of this town a punishment from the sky, because they used to act sinfully.

— Muhammad Taqi Usmani

We are going to bring down on the people of this town a punishment from the sky, because they used to act sinfully.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, we are about to bring down on the people of this town a great torment from the sky, because they have been rebellious."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We are about to bring down upon the folk of this township a fury from the sky because they are evil-livers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, we will bring down on the people of this city punishment from the sky because they have been defiantly disobedient."

— Saheeh International

We will bring torment from the sky on this town because of the evil-deeds of its inhabitants".

— Muhammad Sarwar

Surely We will cause to come down upon the people of this town a punishment from heaven, because they transgressed.

— Muhammad Habib Shakir

Verily we are about to bring down upon the inhabitants of this city a scourge from the heaven, for they have been transgressing.

— Abdul Majid Daryabadi

"For we are going to bring down on the people of this township a Punishment from heaven, because they have been wickedly rebellious."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–35

فرشتوں کی آمد حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 33–34

سورة العنکبوت 57 اس پریشانی اور دل تنگی کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے بہت خوبصورت نوخیز لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ حضرت لوط اپنی قوم کے اخلاق سے واقف تھے، اس لیے ان کے آتے ہی وہ پریشان ہوگئے کہ میں اپنے ان مہمانوں کو ٹھہراؤں تو اس بدکردار قوم سے ان کو بچانا مشکل ہے اور نہ ٹھہراؤں تو یہ بڑی بےمروتی ہے جسے شرافت گوارا نہیں کرتی۔ مزید برآں یہ اندیشہ بھی ہے کہ اگر میں ان مسافروں کو اپنی پناہ میں نہ لوں گا تو رات انہیں کہیں اور گزارنی پڑے گی اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ گویا میں نے خود انہیں بھیڑیوں کے حوالہ کیا۔ اس کے بعد کا قصہ یہاں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات سورة ہود، الحجر اور القمر میں بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–35

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط ؑ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 34–35

انا منزلون علی اھل ھذہ القریۃ ر، جزا من السماء بما کانوا لفسقون (34) حضرت لوط ؑ کو نجات کی خوشخبری دینے کے بعد فرشتوں نے ان کو اس فیصلہ الٰہی سے بھی آگاہ کردیا کہ اس بستی والوں پر ہم قہر آسمانی نازل کرنے والے ہیں۔ ’ رجز ‘ سے مراد اس طرح کا عذاب ہے جو سننے اور دیکھنے والوں کے دلوں میں کپکپی پیدا کردے۔ اس کے ساتھ من السماء کی قید اس کی شدت اور بےپناہی کے اظہار کے لئے ہے۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں قہر الٰہی یا عذاب آسمانی کے الفاظ بولتے ہیں اسی طرح عربی زبان میں یہ اسلوب ہے۔ اس عذاب کی نوعیت پر ہم اس کے محل میں گفتگو کرچکے ہیں۔ بما کانوا یفسقون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کا عذاب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34-1اس آسمانی عذاب سے وہی عذاب مراد ہے جس کے ذریعے سے قوم لوط کو ہلاک کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جبرائیل ؑ ان کی بستیوں کو زمین سے اکھیڑا آسمان کی بلندیوں تک لے گئے پھر ان ہی پر الٹا دیا گیا، اس کے بعد کھنگر پتھروں کی بارش ان پر ہوئی اور اس جگہ کو سخت بدبو دار بیحرہ (جھیل) میں تبدیل کردیا گیا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–35

15: یعنی ان کی بستیوں کے کھنڈر آج بھی موجود ہیں، اور نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 33–35

ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔ وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34) ” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اپنی قوم کی شرارت سے ڈریے مت۔ یہ کچھ نہیں کرسکتی اور ہمارے بچاؤ کے لیے غمگین نہ ہو ہم آدمی نہیں، فرشتے ہیں، جو تجھ کو اور تیرے ہم مشرب گھر والوں کو بچا کر اس قوم کو غارت کرنے کے لیے آئے ہیں۔ یہ قصہ پہلے کئی جگہ گزر چکا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 34–35

آیت 35 وَلَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْہَآ اٰیَۃًَم بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ” قوم لوط کی بستی کے کھنڈرات قریش کی تجارتی شاہراہ پر موجود تھے ‘ لہٰذا قرآن میں اہل مکہ کو بار بار مخاطب کر کے یاد دلایا گیا ہے کہ تم لوگ ان عذاب زدہ بستیوں کے کھنڈرات پر سے گزرتے ہو اور پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے ہو ! اس کے علاوہ بحیرۂ مردار جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے بھی قوم لوط کی بربادی کی کھلی نشانی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 اللہ کا عذاب صبح دم ان پر نازل ہونے والا ہے۔ لہذا تم دیر نہ کرو۔ اور اپنے ہمراہیوں کو لے کر صبح ہونے سے پہلے پہلے ہی اس بستی سے کافی فاصلہ تک پہنچ جانا چاہئے ہم اس بدکار قوم پر شدید ترین عذاب نازل کرنے کے لئے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 34–35

39۔ سدوم والوں کی تہ وبالا شدہ آبادیوں کے کھنڈر اب تک نگاہ عبرت کے لیے شرق یردن میں بحرمردہ (DEAD.SEA) کے مشرق میں موجود ہیں۔ اور بحر مردہ خود ایک عبرت گاہ ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–44

آیت نمبر 31 تا 44 ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا منزلون علی اھل ھذہ القریۃ رجزًا من السماء بما کانوا یفسقون . ہم اس بستی والوں پر اوپر سے ایک عذاب ان کی بدکاریوں کی وجہ سے نازل کریں گے۔ بقول مقاتل رِجْزٌ سے مراد ہے زمین میں دھنسانے (یعنی زمین الٹ دینے) اور اوپر سے پتھر برسانے کا عذاب۔ رِجْزٌ کا معنی ہے بےچینی ‘ اضطراب۔ اِرْتَجَزَ وہ بےقرار اور بےچین ہوگیا۔ عذاب بھی موجب اضطراب ہوتا ہے اس لئے عذاب کو رجز فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(34) ہم اس بستی کے باشندوں پر پتھروں کا عذاب ان کی بدکاریوں اور کفر کی سزا میں نازل کرنے والے ہیں ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 31–34

ۧوَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بالْبُشْرٰى۔۔ : ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود (69 تا 82) اور سورة حجر (51 تا 79)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–35

کسائی نے کہا : معنی ہے ہم نے حضرت لوط علیہ لسلام کو نجات دی یا ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا۔ کہا : یہ توجیہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو لوط کو یاد کرو کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے کہا : ان میں قرأت اور اس کی وضاحت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ سورة الاعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ڈاکو تھے، یہ ابن زید نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کو اٹھا لیتے تھے، ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–35

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت وتقطعون السبیل کے بارے میں فرمایا کہ السبیل سے مراد وہ راستہ ہے جس پر مسافر گزرے مسافر ابن سبیل ہوتا ہے اس پر وہ ڈاکہ ڈالتے اور اس کے ساتھ برا کام کرتے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم یعنی تم وہ اپنی مجلسوں میں۔ 3۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والفاشی فی سندہ والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّا [بیشک ہم ] مُنْزِلُوْنَ [نازل کرنے والے ہیں ] عَلٰٓي اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ [اس بستی کے لوگوں پر ] رِجْزًا [ایک عذاب ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [آسمان سے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ [یہ لوگ نافرمانی کرتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–35

آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کی بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر گزرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو فہم اور تدبر سے کام لیں) یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں۔ چلو پھرو دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ سورة صافات میں فرمایا (وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ ) (اور بلاشبہ تم ان پر صبح کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل مکہ جب تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے۔ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–35

قصہء سوم لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون۔ یہ تیسرا قصہ لوط (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور اپنے چچا کے ساتھ بابل سے ہجرت کر کے آئے تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر مبعوث فرمایا تاکہ دونوں علاقے کے لوگ ہدایت پا ویں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ہجرت کر کے شام چلے آئے اور لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں شہر سدوم اور اس کے اطراف و جوانب کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے یہاں کے لوگ اول درجہ کے بدمعاش اور اوباش اور رہزن اور قزاق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 34–35

28:۔ ہم نے اس قوم کی ہلاکت و تباہی کی نشانی باقی چھوڑ دی تاکہ عقل و بصیرت رکھنے والے اس سے عبرت حاصل کریں۔ نشانی سے ان کی برباد شدہ بستی کے آثار باقیہ مراد ہیں۔ یا سیاہ پانی جو وہاں زمین سے نمودار ہوا یا وہ پتھر جو ان پر برسائے گئے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سب مراد ہوں تو ان میں کوئی تعارض نہیں (قرطبی) یہاں تک حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ تھا جو بالذات پہلے دعوے سے متعلق ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ لوط (علیہ السلام) کو دین حق کی خاطر سرکش قوم کے ہاتھوں کیسی کیسی مصیبتیں اور ایذائیں پہنچیں۔ اے ایمان والو ! تم پر بھی آزمائشیں آئیں گی۔ ضمنا دوسرا دعوی بھی اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ سرکش…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–40

ربط آیات : جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰٓي اَہْلِ ہٰذِہِ الْقَرْيَۃِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۝ 34 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–35

ترکیب : ولوطا معطوف علی نوح و ابراہیم۔ المنکر مفعول تاتون، منجوک و اھلک الکاف فی الموضع خبر عند سیبویہ۔ من الغابرین الباقین فی العذاب اومن الماضین ذکر ہم اومن مضی زمانہ و یفنی، سیء بہم حزن بسببہم وضاق بہم ذرعًا صدرا۔ اوضاق بشانہم و تدبیرا مرھم ذرعہ ای طاقۃ ان جات ان صلتہ لتاکید الفعلین۔ تفسیر : یہ تیسرا قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے جو ان کے ساتھ بابل سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ شام میں پہنچ کر یہ قرار پایا کہ دونوں صاحب جدا جدا رہیں، کیونکہ دونوں کے چار پائے اور مویشی بکثرت تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو کنعان میں رہے اور لوط ( علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰٓی اَھْلِ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (العنکبوت : 34) (ہم اس بستی کے لوگوں پر ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ ) قوم لوط پر عذاب الٰہی فرشتوں کے توسط سے حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ اطمینان دلا کر کہ آپ اور آپ کے اہل خانہ اس عذاب سے محفوظ رہیں گے تو پھر انھیں اس فیصلہ الٰہی کی خبر دی کہ ہم اس بستی والوں پر قہرآسمانی نازل کرنے والے ہیں۔ ” رجز “ سے مراد اس طرح کا عذاب ہے جو سننے اور دیکھنے والوں کے دلوں میں کپکپی پیدا کردے اور من السماء کے لفظ نے اس کی شدت اور ہولناکی میں اور اضافہ کردیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–35

فہم القرآن ربط کلام : قوم لوط تباہی کے دہانے پر۔ عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں قرآن مجید بتلارہا ہے کہ جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے ان کے ہاں دوڑی ہوئی آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ (یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ بھاگم بھاگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: اِنَّا مُنْزِلُوْنَ (بیشک ہم اتارنے والے ہیں) ۔ قراءت : منزّلون تشدید کے ساتھ شامی نے پڑھا ہے۔ عَلٰٓی اَہْلِ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ رِجْزًا (ان بستی والوں پر عذاب) ۔ مِنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (آسمان سے اس سبب سے کہ وہ فسق کرتے تھے) ۔ یعنی ان کے فسق کے سبب اور ان کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے نکل جانے کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 34۔ انامنزلون ، ، ابن عامر نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ، علی اھل ھذاہ القریۃ ، رجزا اس سے مراد عذاب ہے من السماء مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے خسف اور خصب مراد ہے۔ بماکانوایفسقون،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–35

آیت 28 گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب) گرچہ عام ہے مگر حضرت لوط ( علیہ السلام) کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے حلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے لوط ( علیہ السلام) ابراہیم (…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 34–35

45 قوم لوط پر ہولناک عذاب نازل کرنے کی خبر : بہرکیف فرشتوں نے حضرت لوط کو نجات کی خوشخبری دینے کے بعد ان کو اس فیصلہ خداوندی سے بھی آگاہ کردیا کہ ہم نے اس بستی والوں پر اب آسمانی قہر نازل کرنا ہے۔ ان کی ان بدکاریوں کی بنا پر جو یہ لوگ اب تک کرتے رہے ہیں۔ یعنی اس حقیقت سے ان کو مطلع کردیا کہ ان بدبختوں کی مدت مہلت اب ختم ہوچکی ہے اور اب انہوں نے اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہنا ہے۔ معلوم ہوا کہ گناہوں کی اصل اور پوری سزا تو اگرچہ انسان کو آخرت میں ہی ملے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَ وُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَت وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ } ۔ (آل عمران :25)…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–35

سیدنا لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : اس بستی کا اشارہ قوم لوط کی اس بستی کی طرف ہے جو اب بحیرہ مردار کا حصہ بن چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت فلسطین کے شہر جرون میں رہتے تھے اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Leand Seq) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک شدید زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا اور یہ کھلی نشانی شاہراہ عام پر موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ قوم لوط کی یہ تباہ شدہ بستی ‘ جو ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب کا نشانہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–44

آیات 31 تا 44 اسرارومعارف ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث : اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

4 ۔ تاکہ اس سے عبرت حاصل کریں کھلی نشانی سے مراد وہ پتھر بھی ہیں جو آسمان سے برسے تھے اور اس سرزمین میں موجود ہوں گے اور بقول مجاہد (رح) وہ کالا پانی بھی جو اس سرزمین میں ایا جاتا ہے اور ان دنوں ” بحر لوط “ یا ” بحرمیت “ کے نام سے مشہور ہے۔ (شوکانی) اس کھلی نشانی کے متعلق سورة حجر میں ارشاد ہے وانھا لسبیل مقیم۔ اور یہ بستی تو سیدھے راستہ پر ہے۔ (آیت 76) اور سورة صافات میں ہے : ” وانکم لتمرون علیھم لمصبحین بالیل۔ اور ” تم صبح اور رات کے وقت ان کے پاس سے گزرتے ہو۔ “ (آیت 137)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:34) منزلون۔ اسم فاعل جمع مذکر انزال (افعال) مصدر۔ اتارنے والے ۔ برسانے والے۔ رجزا۔ عقوبت، بلا، عذاب۔ منصوب بوجہ مفعول ۔ الرجز کے معنی اضطراب کے ہیں۔ (خوب ہلنا اور جنبش کرنا۔ اور اسی سے رجز البعیر ہے جس کے معنی ضعف کے سبب چلتے وقت اونٹ کی ٹانگوں کے کپکپانے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے ہیں ایسے اونٹ کو ارجز اور اونٹنی کو رجزاء کہا جاتا ہے کنایۃ عذاب مراد ہے۔ آیت ہذا میں معنی ہوں گے :۔ ہم اس بستی کے باشندوں پر ایک عذاب آسمانی ان کی بدکاریوں کی پاداش میں نازل کرنے والے ہیں۔ اسی مادہ سے الرجز پلیدی کے معنی میں جیسے والرجز فاھجر (76:5) اور نجاست سے الگ رہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 28–35

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 35 : لتاتون ( البتہ تم لاتے ہو) ماسبق (پہلے نہیں کیا) تقطعون ( تم کاٹتے ہو) ‘ نادی (محفلیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 35 : اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جب کبھی کسی شہر ‘ علاقے یا ملک کے کچھ لوگ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی حرکتوں پر ان کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن جب پوری قوم کفر و شرک ‘ بےحیائی ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی ‘ زنا اور بدکاریوں میں اس طرح لگ جاتی ہے کہ شرم وحیا کے بجائے کھلم کھلا نجی اور عام محفلوں میں گناہ کرنے کو فیشن بنا لیاجاتا ہے اور خیر و شر کا ہر تصور مٹ کر رہ جاتا ہے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–35

بدفعلی کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی کیا، حضرت اسحاق ، ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعال کا یہ ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو قائم رکھا یہ ایک اللہ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے خاندان میں سے ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی۔ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔ اسماعیل (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–38

[13] یعنی ان کی آبادی کے نشان ان کے موجودہ کھنڈروں اور آثار قدیمہ سے ظاہر ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 34–35

حل لغات :۔ رجز ۔ عذاب سختی ۔ تکلیف وارجوالیوم الاخر رجا کے معنے خوف اور امید دونوں کے ہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

34۔ ہم اس بستی کے بقیہ باشندوں پر ایک عذاب آسمان سے ان کی بدکرداری کے باعث اتارنے والے ہیں جو بد کرداری اور فسق کیا کرتے ہیں ۔ یعنی آپ حضرات کو بچا لینے کے بعد جو لوگ یہاں رہ جائیں گے جن میں آپ کی بیوی بھی شامل ہوگی ان سب پر ہم ایک آسمانی عذاب نازل کریں گے چناچہ وہ عذاب نازل ہو ان پر پتھروں کا مینہ برسایا گیا اور تباہ و برباد کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرشتوں نے وہ پیغام لوط (علیہ السلام) تک پہنچا دیا جو وہ پہنچانے کے لئے آئے تھے : 34۔ فرشتوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا پیغام لوط (علیہ السلام) تک پہنچایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ ” اس بستی سدوم کے لوگ چونکہ فسق وفجور میں اور گناہوں میں ملوث ہیں اس وجہ سے ہم ان پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اور آج رات کے آخری حصہ میں اس کو تہس نہس کرکے رکھ دیا جائے گا جس کی صورت یہ ہوگی کہ ان پر پتھروں کی بارش ہوگی اور زلزلہ اور سخت چیخ کے ساتھ ان کا کام تمام ہوجائے گا اور اس بستی کو زمین اندر کی طرف اس طرح جذب کرلے گی کہ اس کی جگہ گہرا سمندر بن کر رہ جائے گا ۔ “ اور بلاشبہ وہی ہوا جس کی آنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–38

Commentary The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu'aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas. وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِ‌ينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–36

57 The reason for this anxiety and distress was that the angels had come in the shape of handsome, young boys. The Prophet Lot was aware of his people's morals. Therefore, he became perturbed at their arrival. He was thinking, "If I receive these guests in my house, it will be difficult to save them from the immoral people; if I do not receive them, it will be highly uncivil and unbecoming of the noble people. Moreover, if I do not provide shelter to these travelers, they will stay the night elsewhere, which would mean that I have myself given them away to the wicked people." What happened…

Read the full tafseer →