Explained with ayahs 31–35
فرشتوں کی آمد
حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة العنکبوت 57
اس پریشانی اور دل تنگی کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے بہت خوبصورت نوخیز لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ حضرت لوط اپنی قوم کے اخلاق سے واقف تھے، اس لیے ان کے آتے ہی وہ پریشان ہوگئے کہ میں اپنے ان مہمانوں کو ٹھہراؤں تو اس بدکردار قوم سے ان کو بچانا مشکل ہے اور نہ ٹھہراؤں تو یہ بڑی بےمروتی ہے جسے شرافت گوارا نہیں کرتی۔ مزید برآں یہ اندیشہ بھی ہے کہ اگر میں ان مسافروں کو اپنی پناہ میں نہ لوں گا تو رات انہیں کہیں اور گزارنی پڑے گی اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ گویا میں نے خود انہیں بھیڑیوں کے حوالہ کیا۔ اس کے بعد کا قصہ یہاں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات سورة ہود، الحجر اور القمر میں بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے لوط ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط ؑ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ…
Read the full tafseer →ولما ان جاءت رسلنا لوط سی بھم وضاق بھم زدعا وقالوا لا تخف ولا تحزن قف انا منجوب والھلک الا امراتک کا نت من الغبرین (33)
یہاں زبان کا ایک نکتہ ذہن میں رکھنا چاہیے جس کی طرف علامہ ابن قیم ؒ نے اشارہ فرمایا ہے کہ جب لما اور اس کے بعد کے فعل کے درمیان ان آجائے تو اس صورت میں شرط اور اس کے جواب کے درمیان سبب اور مسبب کا تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔
مطب یہ ہے کہ جب فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس سے ہو کر حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے تو وہ ان کو دیکھ کر آزردہ اور متردد ہوئے۔ یہاں یہ سوال قابل غور ہے کہ حضرت لوط ؑ فرشتوں کی دیکھ کر آزردہ و دل گرفتہ کیوں ہوئے ؟ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کی طرح ان کا خیر مقدم کیوں نہیں…
Read the full tafseer →33-1لوط ؑ نے ان فرشتوں کو، جو انسانی شکل میں آئے تھے، انسان ہی سمجھا۔ ڈرے اپنی قوم کی عادت بد اور سرکشی کی وجہ سے کہ ان خوبصورت مہمانوں کی آمد کا علم اگر انھیں ہوگیا تو وہ زبردستی بےحیائی کا ارتکاب کریں گے جس سے میری رسوائی ہوگی، جس کی وجہ سے وہ غمگین اور دل ہی دل میں پریشان تھے۔
33-2فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کی پریشانی اور غم ورنج کی کیفیت کو دیکھا تو انھیں تسلی دی اور کہا کہ آپ کوئی خوف اور رنج نہ کریں، ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ ہمارا مقصد آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو سوائے آپ کی بیوی کے نجات دلانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
15: یعنی ان کی بستیوں کے کھنڈر آج بھی موجود ہیں، اور نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔
وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34)
” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو…
Read the full tafseer →1 فرشتے نہایت حسین وجمیل مردوں کی شکل میں وہاں پہنچے۔ حضرت لوط نے اول پہچانا نہیں۔ بہت تنگدل اور ناخوش ہوئے کہ اب ان مہمانوں کی عزت قوم کے ہاتھ سے کس طرح بچاؤں گا۔ اگر اپنے یہاں نہ ٹھہراؤں تو اخلاق و مروت اور مہمان نوازی کے خلاف ہے۔ ٹھہراتا ہوں تو اس بدکار قوم سے آبرو کس طرح محفوظ رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت 33 وَلَمَّآ اَنْ جَآءَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِہِمْ وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا ”
حضرت لوط علیہ السلام کی پریشانی کی اصل وجہ یہ تھی کہ فرشتے خوبصورت لڑکوں کے روپ میں وارد ہوئے تھے اور حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کے اخلاق و کردار سے واقف تھے۔
Read the full tafseer →50 فرشتے وہاں حضرت ابراہیم سے رخصت ہو کر سیدھے حضرت لوط کے گھر آپہنچے۔ اب صرف انسانی شکل میں نہیں بلکہ بےریش خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ جو قوم لوط کے اوباش لوگوں کے لئے اپنے اندر کشش رکھتے تھے۔ ان کو دیکھ کر حضرت لوط کے دل میں سخت اضطراب پیدا ہوا۔ کہ اب یہ اوباش ان سے بھی وہی سلوک کرے گی جو مسافروں، مہمانوں اور راہ گیروں سے کیا کرتی ہے۔ فرشتوں نے حضرت لوط کے اس خوف اور خطرہ کو فوراً بھانپ لیا اور کہنے لگے۔ تمہارے ڈرنے اور غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ اس مقام پر کچھ تفصیلات حذف کردی گئی ہیں۔ جو دوسرے مقامات پر ذکر کی گئی ہیں۔
51…
Read the full tafseer →38۔ (اپنی نالائق قوم کی حرکتوں کا خیال کرکے کہ وہ ضرور انہیں چھیڑیں گے) (آیت) ” سی ٓء ...... ذرعا “۔ مرشدد تھانوی (رح) نے یہاں سے مستنبط فرمایا کہ طبعی غم اور حزن، کمال کے منافی نہیں۔ جب کہ ان کے مقتضائے غیر مشروع پر عمل نہ کیا جائے۔ یہ فرشتے حسین لڑکوں کی شکل میں تھے۔ اور سدوم والے یوں بھی پردیسیوں کے دشمن تھے۔ انہیں طرح طرح ستایا کرتے تھے (آیت) ” ضاق بھم ذرعا “۔ عربی محاورہ میں یہ ایسے موقع پر بولتے ہیں جب شدت ناگواری برداشت سے باہر ہوئی جارہی ہو۔ اور انسان عاجز آیا جارہا ہو۔ وقد جعلت العرب ضیق الذراع والذرع عبارۃ عن فقد الطاقۃ (کشاف) اے عجز عنھم (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →ولمت ان جاءت رسلنا لوط سیء بھم وضاق بھم ذرعا . اور جب ہمارے قاصد (ملائکہ)
لوط کے پاس پہنچے تو لوط کو ان کی وجہ سے دکھ (یعنی غم و فکر) ہوا۔
ذَرْعٌ طاقت طویل الذراع ‘ بہت قوی لمبے ہاتھوں والا ‘ ہاتھ بڑھا کر وہ چیز لے لیتا ہے جو کوتاہ دست نہیں لے پاتا۔ مطلب یہ کہ ملائکہ کی حفاظت کیسے کریں ‘ اس کی تدبیر کیا ہو ‘ اس سے لوط کی طاقت عاجز تھی۔
وقالوا لا تخف ولا تحزن انا منجوک وھلک الا امراتک کانت من الغٰبرین . اور ملائکہ
نے کہا : تم نہ کچھ خوف کرو ‘ نہ غم کرو ‘ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو ضرور بچا لیں گے سوائے تمہاری بیوی کے کیونکہ وہ (ا اللہ کے علم میں ہے کہ) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی (اور…
Read the full tafseer →(33) چناچہ جب ہمارے فرشتے لوط ؑ کے پاس پہنچے وہ ان کے آنے کی اس وجہ سے مغموم اور غمزدہ ہوئے، یہ دیکھ کر جبریل امین ؑ اور ان کے ساتھ جو فرشتے تھے وہ حضرت لوط ؑ سے کہنے لگے کہ آپ ہمارے بارے میں کسی بات کا اندیشہ نہ کریں اور نہ آپ پریشان ہوں ہم آپ کو اور آپ کے خاص متعلقین کو بچا لیں گے سوائے آپ کی بیوی کے وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ۧوَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بالْبُشْرٰى۔۔ : ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود (69 تا 82) اور سورة حجر (51 تا 79)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسائی نے کہا : معنی ہے ہم نے حضرت لوط علیہ لسلام کو نجات دی یا ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا۔ کہا : یہ توجیہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو لوط کو یاد کرو کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے کہا : ان میں قرأت اور اس کی وضاحت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ سورة الاعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ڈاکو تھے، یہ ابن زید نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کو اٹھا لیتے تھے، ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت وتقطعون السبیل کے بارے میں فرمایا کہ السبیل سے مراد وہ راستہ ہے جس پر مسافر گزرے مسافر ابن سبیل ہوتا ہے اس پر وہ ڈاکہ ڈالتے اور اس کے ساتھ برا کام کرتے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم یعنی تم وہ اپنی مجلسوں میں۔
3۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والفاشی فی سندہ والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول…
Read the full tafseer →وَلَمَّآ اَنْ [اور جیسے ہی ] جَاۗءَتْ [پہنچے ] رُسُلُنَا [ہمارے رسول (فرشتے)] لُوْطًا [لوط (علیہ السلام) کے پاس ] سِيْۗءَ [تو ان کو برا لگایا گیا ] بِهِمْ [ان (کے آنے) سے ] وَضَاقَ [اور وہ تنگ ہوئے ] بِهِمْ [ان (کے آنے) سے ] ذَرْعًا [بلحاظ کمزوری کے ] وَّقَالُوْا [اور (فرشتوں نے) کہا ] لَا تَخَفْ [آپ (علیہ السلام) مت ڈریں ] وَلَا تَحْزَنْ ۣ[اور غمگین مت ہوں ] اِنَّا [بیشک ہم ] مُنَجُّوْكَ [نجات دینے والے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] وَاَهْلَكَ [اور (نجات دیں گے) آپ (علیہ السلام) کے گھر والوں کو ] اِلَّا امْرَاَتَكَ [ سوائے آپ (علیہ السلام) کی عورت کے ] كَانَتْ [وہ ہے ] مِنَ الْغٰبِرِيْنَ [پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کی بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر گزرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو فہم اور تدبر سے کام لیں) یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں۔ چلو پھرو دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ سورة صافات میں فرمایا (وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ ) (اور بلاشبہ تم ان پر صبح کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل مکہ جب تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
قصہء سوم لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون۔
یہ تیسرا قصہ لوط (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور اپنے چچا کے ساتھ بابل سے ہجرت کر کے آئے تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر مبعوث فرمایا تاکہ دونوں علاقے کے لوگ ہدایت پا ویں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ہجرت کر کے شام چلے آئے اور لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں شہر سدوم اور اس کے اطراف و جوانب کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے یہاں کے لوگ اول درجہ کے بدمعاش اور اوباش اور رہزن اور قزاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
27:۔ جب فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ چونکہ نہایت خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں تھے اس لیے وہ انہیں پہچان نہ سکے کہ یہ فرشتے ہیں اور اپنی قوم کی عادت بد کے پیش نظر بہت غمگین ہوئے اور مہمانوں کی بےعزتی کے ڈر سے سخت آزردہ خاطر ہوئے۔ قالوا لا تخف الخ۔ فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کا اندیشہ بھانپ لیا اور کہا آپ مت ڈریں اور نہ غم کریں کہ ہم تو اللہ کے فرشتے ہیں۔ انا منزلون الخ اور آپ کی قوم کے فسق و فجور کی وجہ سے ان کے لیے اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں۔ آپ کو اور آپ کے متبعین کو بچائیں گے اور باقی ساری قوم کو آپ کی بیوی سمیت ہلاک کر ڈالیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…
Read the full tafseer →وَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْۗءَ بِہِمْ وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا وَّقَالُوْا لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ 0 ۣ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَاَہْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ 33
ساء
ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7]
ساء
اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
ترکیب : ولوطا معطوف علی نوح و ابراہیم۔ المنکر مفعول تاتون، منجوک و اھلک الکاف فی الموضع خبر عند سیبویہ۔ من الغابرین الباقین فی العذاب اومن الماضین ذکر ہم اومن مضی زمانہ و یفنی، سیء بہم حزن بسببہم وضاق بہم ذرعًا صدرا۔ اوضاق بشانہم و تدبیرا مرھم ذرعہ ای طاقۃ ان جات ان صلتہ لتاکید الفعلین۔
تفسیر : یہ تیسرا قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے جو ان کے ساتھ بابل سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ شام میں پہنچ کر یہ قرار پایا کہ دونوں صاحب جدا جدا رہیں، کیونکہ دونوں کے چار پائے اور مویشی بکثرت تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو کنعان میں رہے اور لوط ( علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →وَلَمَّآ اَنْ جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓ ئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِہِمْ ذَرْعًا وَّقَالُوْا لاَ تَخَفْ وَلاَ تَخْزَنْ قف اِنَّا مُنَجُّوْکَ وَاَھْلَکَ اِلاَّ اْمَرَ اَتَکَ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 33)
(جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوئے، اور (انھیں پریشان دیکھ کر) فرشتوں نے کہا، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو، ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو سوائے تمہاری بیوی کے نجات دینے والے ہیں، اور وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ )
حضرت لوط (علیہ السلام) کی آزردگی اور فرشتوں کی تسلی
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے رخصت ہو کر فرشتے حضرت لوط (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط تباہی کے دہانے پر۔ عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں
قرآن مجید بتلارہا ہے کہ جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے ان کے ہاں دوڑی ہوئی آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ (یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ بھاگم بھاگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں…
Read the full tafseer →33: وَلَمَّا اَنْ جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْئَ بِہِمْ (جب ہمارے قاصد لوط کے پاس پہنچے تو لوط کو ان کی وجہ سے دکھ ہوا) ۔ ان کا آناناپسند ہوا۔ ان یہ ایسا صلہ ہے جو دو فعلوں کے وجود کو پختہ کرتا ہے کہ جن میں سے ایک دوسرے پر مرتب ہوتا ہے۔ گویا کہ وہ دونوں فعل ایک ہی جزء زمانہ میں پائے گئے ہیں۔ گویا عبارت اس طرح تھی کما احسّ بمجیئہم فاجاتہ المساءۃ من غیر ریث خیفۃ علیہم من قومہ ان یتناولوہم بالفجور۔ جونہی ان کی آمد کو آپ نے محسوس کیا تو بغیر انتظار کے ناپسندیدگی ان کے ہاں آگئی۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ ان کی قوم ان کو اپنے فجور کا نشانہ نہ بنائیں۔
قراءت : سییٔ بہم باشمام کسرۃ السین الضمۃ کے ساتھ…
Read the full tafseer →33۔ ولماجاء ت رسلنا لوطا، ، انہوں نے یہ گمان کیا کہ یہ انسان ہیں۔ سی بھم، ان کو دیکھ غمگین ہوگئے۔ وضاق بھم، اور ان کے آنے کی وجہ سے ان کے دل میں گھٹن پیدا ہوگئی ، درعا وقالوالاتخف، ، اپنی قوم سے ہمارے میں خوف نہ کھائیے، ولاتحزن، اور ہمارا انکو ہلاک کردینا تمہیں غمگین نہ کرے گا، انامنجوک واھلک الامرتک کانت من الغابرین، ، ابن کثیر ، حمزہ اور کسائی ، ابوبکر، یعقوب نے ، منجوک، تخفیف کے ساتھ پڑھاہے اور دوسرے قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت 28
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب) گرچہ عام ہے مگر حضرت لوط ( علیہ السلام) کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے حلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے لوط ( علیہ السلام) ابراہیم (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
40 حضرت ابراہیم کے لیے تسلیہ و تسکین : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ فرشتوں کی طرف سے حضرت ابراہیم کو لوط کے بارے میں اطمینان دلایا گیا کہ آپ ان کے بارے میں فکرمند نہ ہوں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم کی اس بارے تشویش کے جواب میں ایسوں نے کہا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس میں کون کون ہیں۔ یعنی جب ہم کو انہیں عذاب دینے پر مامور کیا گیا ہے تو اس کے لازمی تقاضے کے طور پر ہمیں یہ بتا کر بھیجا گیا ہے کہ کون کون لوگ عذاب کے مستحق ہیں اور کون نجات کے۔ اور ہم نے اسی کے مطابق حکم بجا لانا ہے۔ اور یہ ایک سیدھی سادی اور مطابق فطرت بات ہے۔ مگر جن لوگوں کو فطرت سے انحراف اور زیغ کی بیماری لگ جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
سیدنا لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : اس بستی کا اشارہ قوم لوط کی اس بستی کی طرف ہے جو اب بحیرہ مردار کا حصہ بن چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت فلسطین کے شہر جرون میں رہتے تھے اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Leand Seq) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک شدید زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا اور یہ کھلی نشانی شاہراہ عام پر موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ قوم لوط کی یہ تباہ شدہ بستی ‘ جو ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب کا نشانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →2 ۔ کہ یہ فرشتے خوبصورت مردوں کی شکل میں آئے تھے اور حضرت لوط کو اپنی قوم کے اخلاق و عادات کا علم تھا۔ اس لئے وہ ان مہمانوں کو دیکھ کر سخت پریشان ہوئے کہ ان مہمانوں کو قوم کے غنڈوں سے کیونکر بچائوں گا۔ 3 ۔ یعنی اس بات سے نہ ڈرو کہ قوم کے غنڈے ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ اس بات کا رنج (فکر) کرو کہ ہمیں ان کے قابو میں آنے سے کیونکر بچایا جائے کیونکہ ہم انسان نہیں، فرشتے ہیں جو اس قوم پر عذاب نازل کرنے بھیجے گئے ہیں۔ اتمام حجت کے لئے ہم ان شکلوں میں آئے ہیں۔ سورة ہود میں یہ تصریح ہے کہ فرشتوں نے یہ بات اس وقت کہی جب غنڈے حضرت لوط ( علیہ السلام) کے گھر آدھمکے اور مطالبہ کرنے لگے ان لڑکوں کو…
Read the full tafseer →(29:33) سیئ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ سوء مصدر (باب نصر) ساء یسوء سوء (برا ہونا) رنجیدہ ہوا۔ غمگین ہوا۔ اسے برا معلوم ہوا ربھم ان کے (آنے) سے ان کی وجہ سے ۔ ان کے بارے میں۔ اور جگہ آیا ہے فلما راوہ زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا (67:27) پھر جب وہ اس عذاب کو پاس آتا دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بڑے ہوجائیں گے۔ بگڑ جائیں گے۔
ضاق ماضی واحد مذکر غائب وہ تنگ ہوا۔ ضاق یضیق ضیق (ضرب) ضیق وضیق : سعۃ (وسعت و کشادگی) کی ضد ہے۔ ضیقۃ اک استعمال فقر، بخل، تنگی۔ غم اور اسی قسم کے معنوں میں آتا ہے۔ ضاق بھم ذرعا۔ یعنی وہ ان کے بارے میں عاجز ہوگیا۔ دل تنگ ہوا۔ اور جگہ ارشاد ہے ضاقت علیہم الارض (9:118) زمین ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 35 :
لتاتون ( البتہ تم لاتے ہو) ماسبق (پہلے نہیں کیا) تقطعون ( تم کاٹتے ہو) ‘ نادی (محفلیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 28 تا 35 :
اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جب کبھی کسی شہر ‘ علاقے یا ملک کے کچھ لوگ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی حرکتوں پر ان کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن جب پوری قوم کفر و شرک ‘ بےحیائی ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی ‘ زنا اور بدکاریوں میں اس طرح لگ جاتی ہے کہ شرم وحیا کے بجائے کھلم کھلا نجی اور عام محفلوں میں گناہ کرنے کو فیشن بنا لیاجاتا ہے اور خیر و شر کا ہر تصور مٹ کر رہ جاتا ہے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
بدفعلی کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی کیا، حضرت اسحاق ، ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعال کا یہ ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو قائم رکھا یہ ایک اللہ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے خاندان میں سے ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی۔ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔ اسماعیل (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
[12] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ہود حاشیہ 42 صفحہ 522۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ (رنجیدہ اور تنگ دل ہوئے) محاورہ ہے ۔ یعنی لوط (علیہ السلام) نے فرشتوں کے آنے سے ایک قسم کی تکلیف اور الجھن محسوس کی ۔
Read the full tafseer →33۔ اور جب ہمارے وہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو لوط ان کے آنے سے غمگین اور تنگ دل ہوا ان فرشتوں نے کہا آپ ڈریں نہیں غمگین نہ ہوں ہم آپ کو اور آپکے متعلقین کو بچا لیں گے مگر ہاں آپ کی بیو ی کہ وہ رہے گی رہ جانے والوں میں یعنی ان کو خوف ہوا اپنی قوم کی بدکاری اور مسافروں کو لوٹنے سے ، چناچہ جب فرشتوں نے یہ حال دیکھا تو ان کو اطمینان دلادیا کہ ہم آدمی نہیں بلکہ فرشتے ہیں ہم آپ کو اور آپکے متعلقین کو بچانکالیں گے باقی آپ کی بیوی یقینا عذاب والوں میں رہ جائے گی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ خفا ہوئے اس سے کہ ان مہمانوں کو کس طرح بچائوں گا اپنی قوم کی بدی سے 12 آگے فرشتوں کا بقیہ قول…
Read the full tafseer →ف 1۔ کیونکہ وہ حسین نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے، اور لوط (علیہ السلام) نے ان کو آدمی سمجھا، اور اپنی قوم کی نامعقول حرکت کا خیال آیا۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) سے فارغ ہو کر یہ فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے :
33۔ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے روانہ ہو کر سدوم میں سیدھے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے یہ نو وارد لوگ تھے اور نو وارد لوگوں کے ساتھ اس بستی والوں کا جو سلوک ہوتا تھا اس کا ذکر عروۃ الوثقی جلد پنجم کی سورة الحجر کی آیات 61 تا 79 تک اور جلد چہارم میں سورة ہود کی آیات 76 تا 83 تک تفصیل سے گزر چکا ہے ، مختصر یہ کہ یہ نو وارد اپنی ظاہری شکل و صورت سے ایسے تھے کہ ان لوگوں کی رغبت ان کی طرف ہوگئی اور لوط (علیہ السلام) پہلے اس حیص بیص میں تھے کہ اگر قوم کو خبر ہوگئی تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
Commentary
The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu'aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas.
وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
57 The reason for this anxiety and distress was that the angels had come in the shape of handsome, young boys. The Prophet Lot was aware of his people's morals. Therefore, he became perturbed at their arrival. He was thinking, "If I receive these guests in my house, it will be difficult to save them from the immoral people; if I do not receive them, it will be highly uncivil and unbecoming of the noble people. Moreover, if I do not provide shelter to these travelers, they will stay the night elsewhere, which would mean that I have myself given them away to the wicked people." What happened…
Read the full tafseer →