Explained with ayahs 50–52
محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم
کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 90
یعنی معجزات جنہیں دیکھ کر یقین آئے کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
تفسیروں میں جو عام مفسرین نے اہل کتاب کی روایات نقل کی ہیں ان کا بھی یہی درجہ ہے اور نقل کرنے کا منشاء بھی صرف اس کی تاریخی حیثیت کو واضح کرنا ہے، احکام حلال و حرام کا ان سے استنباط نہیں کیا جاسکتا، مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی نزول قرآن سے پہلے نہ آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ امی تھے، اگر ایسا نہ ہوتا اور آپ لکھے پڑھے ہوتے تو اہل باطل کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نکل آتی کہ یہ الزام لگاتے کہ آپ نے پچھلی کتابیں تورات و انجیل پڑھی ہیں یا نقل کی ہیں۔ آپ جو کچھ قرآن میں فرماتے ہیں وہ…
Read the full tafseer →وقالو الو لا انزل علیہ ایت من ربہ ط قل انما لایت عند اللہ ط وانما انا نذیر مبین (50)
یہ اہلِ کتاب کا ایک اعتراض نقل کرکے اس کا جواب دیا ہے لیکن جواب کا انداز نہایت بےپروائی کا ہے، یہاں تک کہ ان کو مخاطب کرنا بھی پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ پیغمبر ﷺ کو خطاب کرکے آپ کے واسطہ سے ان کو بات پہنچا دی ہے۔ اہل کتاب کا عام اعتراض نبی ﷺ پر اوّل اوّل یہی رہا ہے کہ اگر ہی اللہ کے رسول ہیں تو ان کو اس طرح کے معجزے کیوں نہیں عطا ہوئے جس طرح کے معجزے ہمارے نبیوں، خاص طور پر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو عطا ہوئے۔ یہ اعتراض وہ قریش کو اکسانے کے لئے اٹھاتے تھے۔ قریش کے لیڈران سے سوال کرتے کہ آپ…
Read the full tafseer →50-1یعنی یہ نشانیاں اس کی حکمت و مشیت، جن بندوں پر اتارنے کی ہوتی ہے، وہاں وہ اتارتا ہے، اس میں اللہ کے سوا کسی کا اختیار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
29: یعنی وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جن کی ہم فرمائش کرتے ہیں۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات عطا فرمائے گئے تھے، لیکن کفار مکہ نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، جیسے سورة بنی اسرائیل : 93 میں تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ معجزات دکھانا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے، میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دار کرنے کے لیے آیا ہوں۔ نیز اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ قرآن کریم بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے جو ایک طالب حق کے لیے بالکل کافی ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →وقالوا لو لا ۔۔۔۔۔ انا نذیر مبین (50)
” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” کیوں نہ اتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے ؟ “ کہو ” نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر “۔
ان معجزات اور نشانیوں سے ان کو مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو آغاز انسانیت بھی انسانیت کے دور طفولیت میں ان کے سامنے پیغمبروں نے پیش کیں ، یعنی مادی معجزات۔ اور یہ معجزات صرف ان لوگوں کے لیے حجت ہوتے تھے جو ان کو دیکھتے تھے۔ جبکہ نبی ﷺ کی رسالت وہ آخری اور دائمی رسالت ہے جو ان تمام لوگوں کے لیے حجت ہے جن تک اس کی دعوت پہنچ جائے اور یہ رسالت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسانیت موجود ہے اور…
Read the full tafseer →1 یعنی میرے قبضہ میں نہیں کہ جو نشان تم طلب کیا کرو وہی دکھلادیا کروں نہ کسی نبی کی تصدیق اس بات پر موقوف ہوسکتی ہے۔ میرا کام تو یہ ہے کہ بدی کے نتائج سے تم کو صاف لفظوں میں آگاہ کرتا رہوں باقی حق تعالیٰ میری تصدیق کے لئے جو نشان چاہے دکھلا دے، یہ اس کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →آیت 50 وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط ”
مشرکین مکہ آئے دن یہ مطالبہ دہراتے رہتے تھے کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو آپ ﷺ کو معجزات کیوں نہیں دیے گئے ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بھی ان کا یہ مطالبہ تکرار کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →82 معجزات کا اتارنا اللہ کا کام ہے اور میرا الوہیت کا کوئی دعویٰ نہیں کہ تمہارے معجزہ کے مطالبہ تمہیں تمہارے حسب پسند معجزہ دکھلا سکوں۔ میرا کام صرف تمہیں اللہ کا پیغام پہنچانا اور تمہیں برے انجام سے بچانا ہے۔ اس میں اگر میں کوئی کوتاہی کر رہا ہوں تو وہ مجھے بتلا دو ۔
Read the full tafseer →62۔ (ہماری خواہش و فرمائش کے مطابق) نشان سے مراد خارق عادت ہے۔ مشرک اور مشرک مزاج قوموں کو ہمیشہ گرویدگی عجائب وخوارق ہی سے رہی ہے۔ اسی بناء پر رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور پیام کو بالکل نظر انداز کرکے فرمائشیں بار بار ہوتی تھیں کہ فلاں اور فلاں معجزہ دکھاؤ ! گویا پیغمبر بھی ایک طرح کا بازیگر ہوتا ہے !
63۔ رسول اللہ ﷺ کی زبان سے قرآن میں یہ بار بار کہلایا گیا ہے کہ واقعات و حوادث تکوینی تمامتر اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ چناچہ خوارق ومعجزات بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ میں جس طرح کسی واقعہ مطابق عادت کی تکوین میں بےبس محض ہوں اسی طرح واقعات خارق عادت میں بھی۔ (آیت) ” انما “۔ کلمہ حصر ہے۔ یعنی میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
آیت نمبر 45 تا 51
ترجمہ : جو کتاب آپ پر یعنی قرآن وحی کی گئی ہے آپ اس کو پڑھا کیجئے اور نماز کی پابندی رکھئے یقیناً نماز بیحیائی اور شرعاً ناشائستہ کاموں سے روک دیتی ہے یعنی نماز کی شان یہی ہے، جب یک انسان نماز میں ہوتا ہے بیشک اللہ کا ذکر دیگر طاعتوں کے مقابلہ میں بہت بڑی چیز ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے اس کی تم کو وہ جزادے گا اور تم اہل کتاب کے ساتھ بجز مہذب طریقہ کے مجادلہ کرو مثلاً اللہ کی طرف اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت دو اور اس کے دلائل پر تنبیہ کرو مگر ان کے ساتھ جو ان میں زیادتی کریں بایں طور کہ محاربہ کریں اور جزیہ دینے سے انکار کریں تو ایسے لوگوں سے جہاد بالسیف…
Read the full tafseer →وقالو لولا انزلہ علیہ ایت من ربہ اور انہوں نے کہا کہ ان پر ان کے رب کی طرف سے معجزات کیوں
نہیں اتارے گئے۔ یعنی ایسے محسوس معجزات کا نزول ان پر کیوں نہیں ہوا جیسے پچھلے انبیاء پر ہوا تھا۔ مثلاً حضرت صالح کی اونٹنی ‘ حضرت موسیٰ کی لاٹھی اور حضرت عیسیٰ کا آسمانی خوان۔
قل انما الایت عندا اللہ آپ کہہ دیجئے کہ سارے معجزات تو اللہ کے پاس ہیں۔ یعنی اس کی قدرت میں ہیں ‘
اس کے ارادہ سے وابستہ ہیں۔ میرے قبضہ میں نہیں ہیں کہ تمہاری فرمائش کے مطابق پیش کر دوں۔
وانمآ انا نذیر مبین . اور میں تو صرف واضح طور پر اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔ یعنی میرا کام صرف
مخالفت اور عذاب سے ڈرانا اور ان معجزات کو ظاہر…
Read the full tafseer →اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ پر ان کے پروردگار کی طرف سے ایسی نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں جیسا موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل کی گئی تھیں۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ : قرآن اور پیغمبر کے حق ہونے کے دلائل کے سامنے جب مشرکین لاجواب ہوجاتے تو عجیب و غریب قسم کے اعتراض اور مطالبے پیش کرتے، جو عناد، تکبر اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایسے چند اعتراض اور ان کے جواب ذکر فرمائے۔ ان میں سے پہلا اعتراض یہ تھا کہ اس پیغمبر پر کوئی نشانیاں کیوں نازل نہیں کی گئیں ؟ اس سے ان کی مراد صالح ؑ کی اونٹنی اور موسیٰ ؑ کے عصا جیسے معجزات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیں نشانیاں اور معجزات تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس اور اسی کے اختیار میں ہیں، نہ یہ میرے قبضے میں ہے کہ جو معجزہ تم طلب کرو وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
یہ مشرکوں کا رسول اللہ ﷺ سے قول ہے : اس کا معنی ہے ان پر ایسی آیت کیوں نازل نہیں ہوئی جیسی آیات انبیاء پر نازل ہوئیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مردے زندہ کرنے کا معجزہ دیا گیا۔ قل اے محمد ﷺ آپ انہیں کہہ دیجیئے۔ معجزات تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو لاتا ہے، جب چاہتا ہے انہیں بھیج دیتا ہے یہ میرے قبضہ میں تو نہیں۔
ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے آیۃ پڑھا (1) ۔ باقی قراء نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
یہ ان کے قول کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک کے بارے میں روایت کیا کہ اہل کتاب اپنی کتابوں میں پاتے تھے کہ محمد ﷺ نہ تو اپنے ہاتھ سے لکھیں گے اور نہ کتاب کو پڑھیں گے تو یہ آیت وماکنت تتلو من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک ولا تکطہ بیمینک اذا لارتاب المبطلہون یعنی آپ سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کوئی کتاب لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو اس وقت باطل پرست یعنی کفار شک میں پڑجاتے۔
2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن المردویہ والاسمعیلی نے اپنی معجم میں ابن عباس ؓ سے آیت وما کنت تتلوا من قبلہ من کتب ولا تخطہ بیمینک…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا [اور انہوں نے کہا ] لَوْلَآ اُنْزِلَ [کیوں نہیں اتاری گئیں ] عَلَيْهِ [ان ﷺ پر ] اٰيٰتٌ [کچھ نشانیاں (معجزات)] مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ [ان کے رب (کی طرف) سے ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْاٰيٰتُ [تمام نشانیاں (معجزات)] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [اللہ کے پاس ہیں ] وَاِنَّمَآ اَنَا [اور میں تو بس ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں ] ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا : (وَ قَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ) (اور انہوں نے کہا کہ ان پر نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں) ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم جن معجزات کی فرمائش کرتے ہیں انہیں کیوں ظاہر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرما دیا (قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ ) (آپ فرما دیجیے کہ نشانیاں اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں) میرے اختیار کی چیزیں نہیں ہیں، (وَ اِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ) (اور میں تو صرف واضح طریقہ پر ڈرانے والا ہوں) تمہارے فرمائشی معجزات لانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…
Read the full tafseer →43:۔ یہ شکوی ہے مشرکین اہل کتاب کے اکسانے پرحضور ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ید بیضا اور عصا کے معجزے دکھائے تھے آپ بھی ایسے معجزے دکھائیں۔ قل انما الایت الخ یہ جواب شکوی ہے۔ یعنی معجزے لانا میرے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ جب چاہتا ہے کوئی معجزہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر ظاہر فرما دیتا ہے میں تو اس کے حکم سے اس کا پیغام پہنچاتا اور نہ ماننے والوں کو اسکے عذاب سے ڈراتا ہے۔ (انما الایت عند اللہ) ینزل ایتھا شاء و لست املک شیئا منہا (مدارک ج 3 ص 200) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ربطِ آیات
سورة العنکبوت اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلاء کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض انبیاء کی آزمائش کے واقعات بیان کرکے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ کسی کو بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پھر اللہ نے شرک کی قباحت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ، پھر توحید کی دعوت دی۔ اس کے بعد نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو چیز آپ کی طرف بصورت وحی ناز کی جاتی ہے اس کو پڑھیں اور نماز قائم رکھیں کہ یہ بےحیائی اور برائی سے روکنے والی چیز ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری تمام کارگزاریوں سے واقف ہے۔
اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ
اہل کتاب اور مشرک لوگ اسلام…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْہِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ 0ۭ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللہِ 0ۭ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 50
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ […
Read the full tafseer →وقالوا لولا انزل علیہ اٰیت من ربہ جب آنحضرت ﷺ کی نبوت دلائل سے ثابت کی گئی اور یہ بتلایا گیا کہ جس طرح پہلے نبیوں پر کتاب نازل کی گئی تھی، اس طرح آپ پر بھی اللہ نے نازل کی ہے، اس پر کفار قریش نے ازخود یا بعض اہل کتاب کے سکھانے سے یہ شبہ کیا کہ اس کو یعنی محمد ﷺ کو وہ معجزات کیوں نہ دیئے گئے تھے۔ نافع و ابن عامر اور بصریوں و حفص کی قرأت میں آیات جمع کا لفظ ہے اور یہی راجح ہے، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل انما الایت عنداللہ وانما انا نذیر مبین کہہ معجزات تو اللہ کے اختیار میں ہیں، جب چاہے منکروں کے الزام کے واسطے ظاہر کرے اور میں رسول ہوں، رسول کے لیے مخالفین کی خواہش کے موافق معجزات کا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
بَلْ ھُوَ اٰیٰتٌ م بلیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ط وَمَایَجْحَدُ بِاٰ یٰـتِـنَـآ اِلاَّ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 49)
(بلکہ یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جن کو علم عطا ہوا ہے، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں۔ )
آیت کے دو مفہوم
اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ھُوَ کا مرجع قرآن کریم کو قرار دیا جائے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اہل کتاب میں سے جن لوگوں کو صحیح علم نصیب ہوا ہے جو علم کے قدرآشنا اور علم کی حدود سے آگاہ ہیں انھیں قرآن کریم کو تسلیم کرنے میں کوئی تأمل نہیں۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں قرآن پاک کی تعلیمات کے بارے میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید عظیم ترین کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کے لیے شفا اور ایمان لانے والوں کے لیے اس کو ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو درجنوں معجزات عنایت فرمائے۔ لیکن ظالم لوگ تمام معجزات دیکھنے کے باوجود یہی کہتے اور مطالبہ کرتے رہے کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی جاتی۔ اس کا اس موقع پر صرف یہ جواب دیا گیا کہ اے نبی ﷺ بےانصاف لوگوں کو یہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو لا تعداد نشانیاں اور معجزات موجود ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر سوال کے جواب میں نشانی پیش کرنے کے لیے نہیں بھیجا اور نہ ہی میرے پاس یہ اختیار ہے…
Read the full tafseer →50: وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّہٖ (اور انہوں نے کہا کیوں نہیں اس پر اتاری گئی اس کے رب کی طرف سے آیات) ۔ قراءت : مکی اور حفص کے علاوہ کوفی قراء نے ایۃ پڑھا۔ انہوں نے مطلب یہ لیا کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی جیسا کہ اونٹنی ٗ عصا ٗ مائدئہ عیسوی وغیرہ۔
قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ (کہہ دیں بیشک آیات تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں) ۔ ان میں سے جو چاہتا ہے۔ اتار دیتا ہے۔ میں ان میں سے کسی کا ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتا۔ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (بلاشبہ میں کھلا ڈرانے والا ہوں) ۔ آپ کو انذار اور جو آیات دی گئیں ان کا مکلف و ذمہ دار بنایا گیا۔…
Read the full tafseer →50۔ وقالوا لولاانزل علیہ ایۃ من ربہ، ، جیسا کہ ماقبل انبیاء پر ہم نے نشانیاں اتاریں۔ یہ قرات ابن کثیر، حمزہ کسائی ابوبکر کے ہاں ہے۔ اللہ کی توحید پر ایک نشانی ہے ، دوسرے قراء نے اس کا معنی بیان کیا کہ یہ سب رب کی طرف سے نشانی ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، قل انماالایات ، عنداللہ، اور وہ پیغمبروں کو رسول بناکربھیجنے پر قادر ہے۔ جب وہ چاہے، وانماانانذیرمبین، اہل معصیت کو آگ سے ڈرایا اور یہ ڈرانا ان کے پاس نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
آیت نمبر : 52-51-50
جب رسول اللہ ﷺ یہ کتاب عظیم لے کر آئے تو ان ظالموں نے اعتراض کیا اور معینہ معجزات کے نزول کا مطالبہ کیا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعا) (بنی اسرائیل : 71/09) ” اور انہوں نے کہا ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو زمین کو پھاڑ کر ہمارے لیے پانی کا ایک چشمہ جاری نہ کردے۔ “ معجزات و آیات کا تعین ان کے بس کی بات ہے نہ رسول ﷺ کے اختیار میں ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی تدابیر ہیں اور کسی کے اختیار میں کچھ نہیں ‘ اس لیے فرمایا : (قل انما الایت عنداللہ) ” کہہ دیجیے ! معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔ “ لہٰذا اگر وہ چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–55
کفار کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : جیسا کہ پہلے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے ثبوت دیے جا چکے ہیں تو ایک ثبوت اور دیا جا رہا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال آپ نے اہل مکہ کے ساتھ گزارے تھے۔ سب آپ کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ بڑے ایماندار تاجر ہیں انتہائی نیک فطرت ‘ نرم مزاج ‘ بےحد ذہین مگر آپ پڑھے لکھے نہ تھے لوگ جانتے تھے کہ آج تک نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہے نہ کبھی کچھ لکھا ہے۔ تو پھر یکدم وہ اس قدر حکمت سے بھری باتیں، گزشتہ تاریخی واقعات اور مستقبل کے حالات، حقیقت پر مبنی باتیں، آسمانوں زمین کے پھیلائو، ملکی انتظامات ‘ عسکری (فوجی) مہارت کے اصول و ضوابط ‘ جنگی چالیں اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
آیات 45 تا 51
اسرارومعارف
آپ قرآن پڑھا کیجیے اور نماز قائم کیجیے۔ یعنی کہ آپ قرآن کریم کو پڑھ کر سنایا کیجیے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی ایمان لاتا ہے کہ نہیں۔ اور عبادات کو قائم کیجیے لہذا یہ ضروری ہے کہ قرآن کو مسلسل لوگوں پہ بیان کیا جائے یعنی تبلیغ کی جائے اور مبلغ خود عبادات پہ پورے اہتمام سے کاربند رہے کہ عبادات کا خاصہ یہ ہے کہ بندے کو برائی اور منکرات سے بچنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔
قرآن کے بیان اور نماز کا اثر :
یہ کمال قرآنی بیانات میں بھی ہے کہ جس بات پر قرآن سے وعظ کیا جائے کوئی قبول کرے یا نہ خود کرنے والے کو اس پہ عمل کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور نماز جو بارگاہ صمدیت کی حضوری…
Read the full tafseer →10 ۔ یعنی دوسرے انبیا ( علیہ السلام) کی طرح ایسے معجزے جنہیں دیکھ کر آپ ﷺ کے واقعی نبی ہونے سے انکار نہ کیا جاسکتا۔ (قرطبی) فوائد صفحہ ہذا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(29:49) بل۔ یہاں حرف اضراب ہے یعنی ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔
ایت بینت۔ موسوف و صفت۔ واضح روشن آیات۔
اوتوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب اتی یؤتی ایتاء (افعال) مصدر۔ ان کو دیا گیا۔ وہ دئیے گئے۔ ان کو ملا۔
فی صدور۔ سینوں میں (حفظ کیا ہوا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
لغات القرآن آیت نمبر (48 تا 55) ۔
لا تخط (نہیں لکھتا ہے) ۔ یمین (داہنا ہاتھ) ۔ ارتاب (شک کیا) ۔ المبطلون (ناحق چلنے والے) ۔ لم یکف (کافی نہیں ہے) ۔ یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ۔ مسمی (مقرر۔ متعین) ۔ بغتتہ (اچانک) ۔
تشریح : آیت نمبر (48 تا 55) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو پیدا کر کے ان کی رہنمائی کے اسباب بھی مہیا کئے ہیں چناچہ ہر دور میں اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کو وہ کتاب ہدایت بھی دی جس میں دنیا میں زندگی گذار کر آخرت کی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت تو ریت، زبور اور انجیل کتابیں موجود تھیں جس میں انسانی ہاتھوں
نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(ف 1) جب نبی ﷺ کی نبوت دلائل سے ثابت ہوئی اور یہ بتلادیا گیا کہ جس طرح پہلے انبیاء پر کتاب نازل کی گئی تھی اسی طرح نبی ﷺ پر اللہ نے نازل کی، اس پر کفار قریش نے کہا کہ محمد ﷺ کو وہ نشانیاں کیوں نہ دی گئی تھیں، فرمایا، کیا ان کو یہ کتاب معجزہ سے کم ہے جس کا عام اعلان ہے کہ ایسی ایک سورت بنادوسب عاجز ہوگئے اور قرآن پاک اگلے نبیوں کے سب معجزوں سے پورا اور کامل معجزہ ہے جس کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی ومعجزہ کی حاجت نہیں ۔ کیونکہ یہ نشانی معجزہ جب تک جہان میں رہے گا تب تک اس کو زوال نہیں، فرمایا کہ اس قرآن شریف میں ایمان والوں کے لیے قرآن کی نصیحت پر عمل کرنیکا نتیجہ اللہ کی رحمت ہے جنت ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
[23] یعنی نبی ﷺ کی ذات جامع کمالات ہے اور ایک نشانی نہیں بلکہ بہت سی روشن نشانیوں کا مجموعہ ہے۔ ایک جاہل شخص کو آپ کی ذات والا صفات میں کوئی نشانی نظر نہ آتی ہو تو نہ آئے مگر اہل ایمان ان نشانیوں کو دیکھ
کر اپنے دل میں قائل ہوگئے ہیں کہ یہ شان ایک پیغمبر ہی کی ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →ف 1: نزول قران سے پیشتر لوگوں میں معجزہ طلبی کا مرض پھیل چکا تھا اور انسان دماغ اس حت تک نسبت ہوچکا تھا ۔ کہ جب تک کرشمہ و عجائب سے ان کی آنکھوں میں چکا چوند نہ پیدا کی جاتی کسی حقیقت کہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے تھے ۔ گویا ان کے نزدیک صدق وراستی کا معیار تجربہ وعمل نہ تھا ۔ بلکہ یہ بات تھی کہ اس پیش کرنے والا کس درجہ غرائب ونوا اور پر قادر ہے ۔ چناچہحضور ﷺ نے اسلام کی ٹھوس اور سچی تعلیمات کو پیش کیا ۔ تو ان لوگوں نے اسی ذہنیت کے ماتحت کہا ۔ کہ ہم ان باتوں کو اس وقت تک ماننے کے لئے آمادہ نہیں ۔ جب تک کہ آپ معجزات نہ دکھائیں ۔ اور حیرت زانشانیوں کو پیش نہ کریں ۔ ان آیات میں ان کی ذہنیت کا…
Read the full tafseer →50۔ اور یہ کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی جانب سے ہمارے حسب منشاء اور ہماری منہ مانگی اور ہماری فرمائش کے مطابق نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں ۔ آپ فرما دیجئے نشانیاں تو سب صرف اللہ کے قبضے میں ہیں میرے اختیار کی چیز نہیں ہے اور میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں کھول کر اور صاف طور پر نافرمانوں کو ڈرانے والا ہوں ۔ یعنی میں تو ایک رسول ہوں اور اپنی نبوت کی صداقت کے دلائل پیش کرتا ہوں ان دلائل میں سے ایک یہ کتاب بھی ہے جو خود ہزاروں دلائل واضحہ کا مجموعہ ہے کیونکہ اس کی ہر آیت اعجاز ہے اس کے علاوہ اور کیا نشانیاں مانگتے ہو۔ نشانیاں میرے اختیار میں نہیں ہر قسم کی نشانی اللہ تعالیٰ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ف 4۔ یعنی ان کو جواب ترکی بہ ترکی دینے کا مضائقہ نہیں، گو افضل جب بھی طریقہ احسن ہے۔
5۔ کیونکہ مدار ایمان کا منزل من اللہ ہونا ہے۔
Read the full tafseer →ڈھیٹ کون ہے ؟ وہی جو جھگڑ سکتا ہو اور دلیل نہ رکھتا ہو :
50۔ غور کرو جو بات اوپر ان سے کہی گئی اگر ان کے پاس عقل نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ قرآن کریم سے بڑھ کر بھی کوئی اور نشانی طلب کرسکتے ہیں جو ہزار دلیلوں کی ایک دلیل ہے اور پھر دلیل بھی ایسی جو ان کے اپنے دلوں کے اندر موجود ہے اگر ان کو کسی دلیل کے قبول کرنے کی توفیق ہوتی تو اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی تھی پھر جب ان کو یہ دلیل راہ راست کی طرف نہیں لے جاسکتی اور وہ علاوہ ازیں کوئی نشانی طلب کرتے ہیں تو بلاشبہ وہ ایسے ڈھیٹ ہیں کہ جب تک ان کے دل کی بات نہ ہوئی وہ کبھی اس کو دلیل ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور اپنی جہالت کے باعث بات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
Commentary
From the very beginning of this Surah until now the enmity of the infidels toward Muslims, their rejection of the Oneness of God and prophethood of the Holy Prophet ﷺ ، and putting hurdles in the way of truth and believers were described. In the above verses a way out of this entanglement is suggested in order to come out of the turmoil and spread and propagate the truth, and establish justice - the common name for this action is hijrah (migration).It means to leave the hometown and land where one is forced to speak and act against the truth.
Command in connection with hijrah and…
Read the full tafseer →90 That is, miracles by seeing which one may be convinced that Muhammad (upon whom be Allah's peace) is really a Prophet of Allah.
Read the full tafseer →