Al-Ankaboot 29:27

Al-Ankaboot · from ayah 27

29:27

وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا ۚ— وَاِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۟وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَجَعَلۡنَا فِىۡ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ وَاٰتَيۡنٰهُ اَجۡرَهٗ فِى الدُّنۡيَا ‌ۚ وَاِنَّهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيۡنَ

اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We gave to Him Isaac and Jacob and placed in his descendants prophethood and scripture. And We gave him his reward in this world, and indeed, he is in the Hereafter among the righteous.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 3 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:27

اور ہم نے اسے اسحاقؑ اور یعقوبؑ (جیسی اولاد) عنایت فرمائی اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی، اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے انھیں (ابراہیم کو) اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا کیے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اوﻻد میں ہی کر دی اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ﺛواب دیا اور آخرت میں تو وه صالح لوگوں میں سے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (جیسے بیٹے) عطا فرمائے، اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری رکھا، اور ان کا اجر ہم نے انہیں دنیا میں (بھی) دیا اور یقینا آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام بیٹا اور پوتا) عطا فرمائے اور ہم نے ابراہیم ؑ کی اولاد میں نبوت اور کتاب مقرر فرما دی اور ہم نے انہیں دنیا میں (ہی) ان کا صلہ عطا فرما دیا، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) نیکوکاروں میں سے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی اور ہم نے اسے اس کا اجر دنیا میں دیا اور بیشک وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے انھیں اسحاق اور (اسحاق سے) یعقوب عطا کیے اور انہی کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ اور ہم نے دنیا میں بھی انھیں اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقینا صالح لوگوں سے ہوں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو عطا کیے اسحاق اور یعقوب اور اس کی ذریت میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا۔ اور ہم نے اس کا صلہ اس کو دنیا میں بھی دیا اور وہ آخرت میں بھی نیکوکاروں کے زمرے میں سے ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہجرت کے بعد ہم نے ان کو اسحاق جیسا بیٹا اور یعقوب جیسا پوتا بھی عنایت فرمایا اور مزید برآں یہ کہ ہم نے نبوت و کتاب انہی کی اولاد میں رکھ دی ہم نے ان کو ان کا صلہ واجر دنیا میں بھی دیا اور بلاشبہ وہ آخرت میں بھی ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں سے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انہیں اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ عطا کیا۔ اور ہم نے ان کی نسل میں نبوت اور کتاب کو قائم رکھا۔ اور ہم نے ان کو ان کا صلہ دنیا میں (بھی) دیا اور آخرت میں یقیناً وہ (بڑے) نیک کاروں میں ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اسے اسحاق ؑ (جیسا بیٹا) اور یعقوب ؑ (جیسا پوتا) عطا کیا اور اس کی نسل میں ہم نے رکھ دی نبوت اور کتاب اور ہم نے اسے دنیا میں بھی اس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں بھی وہ یقیناً ہمارے نیک بندوں میں سے ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب مقرر کردی اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ دیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and We bestowed upon him (offspring like) Isaac and Jacob, and bestowed prophethood and the Book on his descendants and granted him his reward in this world; he will certainly be among the righteous in the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We granted him IsHaq (Isaac) and Ya'qub (Jacob), and assigned prophet-hood and Book to his progeny, and gave him his reward in the world; and of course, in the Hereafter, he will be one of the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani

And We granted him IsHaq (Isaac) and Yaqub (Jacob), and assigned prophet-hood and Book to his progeny, and gave him his reward in the world; and of course, in the Hereafter, he will be one of the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We bestowed on him, Ishaq and Ya`qub, and We ordained among his offspring prophethood and the Book, and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We bestowed on him Isaac and Jacob, and We established the prophethood and the Scripture among his seed, and We gave him his reward in the world, and lo! in the Hereafter he verily is among the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We gave to Him Isaac and Jacob and placed in his descendants prophethood and scripture. And We gave him his reward in this world, and indeed, he is in the Hereafter among the righteous.

— Saheeh International

We granted Isaac and Jacob to Abraham and We bestowed upon his offspring, prophethood and the Book. We gave him his reward in this world and in the next life, he will be among the pious ones.

— Muhammad Sarwar

And We granted him Ishaq and Yaqoub, and caused the prophethood and the book to remain in his seed, and We gave him his reward in this world, and in the hereafter he will most surely be among the good.

— Muhammad Habib Shakir

And We bestowed on him Is-haq and Y'aqub, and We placed among his posterity prophethood and the Book, and We vouchsafed unto him his hire in the World, and verily in the Hereafter he shall be of the righteous.

— Abdul Majid Daryabadi

And We gave (Abraham) Isaac and Jacob, and ordained among his progeny Prophethood and Revelation, and We granted him his reward in this life; and he was in the Hereafter (of the company) of the Righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

حضرت لوط ؑ اور حضرت سارہ ؓ کہا جاتا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہارون بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو حضرت لوط ایمان لائے تھے اور ایک حضرت سارہ جو آپ کی بیوی تھی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو حضرت ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ حضرت لوط آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کرکے شام چلے گئے تھے پھر اہل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 47 حضرت اسحاق بیٹے تھے اور حضرت یعقوب پوتے۔ یہاں حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ اولاد ابراہیم کی مدیانی شاخ میں صرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے اور اسماعیلی شاخ میں سرکار رسالت مآب محمد ﷺ تک ڈھائی ہزار سال کی مدت میں کوئی نبی نہیں آیا۔ اس کے برعکس نبوت اور کتاب کی نعمت حضرت عیسیٰ ؑ تک مسلسل اس شاخ کو عطا ہوتی رہی جو حضرت اسحاق ؑ سے چلی تھی۔ سورة العنکبوت 48 اس میں وہ تمام انبیاء آگئے جو نسل ابراہیمی کی سب شاخوں میں مبعوث ہوئے ہیں۔ سورة العنکبوت 49 مقصود بیان یہ ہے کہ بابل کے وہ حکمراں اور پنڈت اور پروہت جنہوں نے ابراہیم ؑ کی دعوت کو نیچا دکھانا چاہا تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

کیونکہ اس کے بعد وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ تو یقینا انہی کا حال ہے اور بعض حضرات مفسرین نے اِنِّىْ مُهَاجِرٌ کو حضرت لوط ؑ کا قول قرار دیا ہے، خلاصہ تفسیر کا ترجمہ اسی کے مطابق ہے، مگر سیاق کلام سے پہلی تفسیر راجح معلوم ہوتی ہے اور حضرت لوط ؑ بھی اگرچہ اس ہجرت میں شریک ضرور تھے مگر جیسا حضرت سارہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کے تابع تھیں اسی طرح لوط ؑ کی ہجرت کا ذکر مستقلاً نہ ہونا کچھ بعید نہیں۔ دنیا میں سب سے پہلی ہجرت حضرت ابراہیم ؑ پہلے پیغمبر ہیں جن کو دین کے لئے ترک وطن اور ہجرت اختیار کرنا پڑی، ان کی یہ ہجرت پچھتر سال کی عمر میں ہوئی (یہ سب بیان قرطبی سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب وجعلنا فی ذریتۃ النبوۃ والکتب واتینہ اجرہ فی الدینا ج وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین (27) یہ وہ انعام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ پر ہجرت کے بعد فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ اگرچہ ابراہیم ؑ نے جب ہجرت کی ہے لوط ؑ کے سوا اور کوئی ان کی ہمنوائی کرنے والا نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ وہ ان کو دنیا اور آخرت دونوں میں صالحین و ابرابر کی معیت ورفاقت نصیب کرتا ہے۔ چناچہ ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ جیسے بیٹے اور پوتے عطا فرمائے جن سے دین کے خدم گزاروں کا ایک عظیم گھرانا آباد ہوا اور اس گھرانے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27-1یعنی حضرت اسحاق ؑ سے یعقوب ؑ ہوئے، جن سے بنی اسرئیل کی نسل چلی اور انہی میں سارے انبیاء ہوئے، اور کتابیں آئیں۔ آخر میں حضرت نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم ؑ کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کی نسل سے ہوئے اور آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوا۔ 27-2اس اجر سے مراد رزق دنیا بھی ہے اور ذکر خیر بھی۔ یعنی دنیا میں ہر مذہب کے لوگ (عیسائی، یہودی وغیرہ حتی کہ مشرکین بھی) حضرت ابراہیم ؑ کی عزت و تکریم کرتے ہیں اور مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی کے پیرو، ان کے ہاں وہ محترم کیوں نہ ہونگے ؟ 27-3یعنی آخرت میں بھی وہ بلند درجات کے حامل اور زمرہ صالحین میں ہونگے۔ اس مضمون کو دوسرے مقام پر بھی بیان کیا گیا ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–29

13: یعنی اپنی جنسی خواہش عورتوں کے بجائے مردوں سے پوری کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ووھبنا لہ اسحاق ۔۔۔۔۔ لمن الصلحین (29: 27) ” “۔ یہ اللہ کا ایسا انعام ہے جس میں سے فیوض و برکات کے سوتے پھوٹ رہے ہیں ، جس میں اللہ کی رضا مندی عیاں ہے۔ اس ذات بابرکات کی شخصیت میں یہ فیض عیاں ہے جس کے جلا ڈالنے پر تمام باغی اور سرکش قوتیں جمع ہوگئی تھیں لیکن اللہ نے عظیم معجزانہ انداز میں ان کے ماحول کو ٹھنڈا اور سلامتی سے بھرا ہوا بنا دیا۔ یہ تھی اللہ کی مہربانی ، اس کا کرم اور اہل توحید کے لیے جزائے مناسب۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مختصر قصے کے بعد اب حضرت لوط کا قصہ آتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رب کی طرف مہاجر ہوئے۔ دونوں وادی اردن میں اترے۔ حضرت لوط بحر مردار کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اسحاق بیٹا اور یعقوب پوتا دیا۔ جن کی نسل " بنی اسرائیل " کہلاتی ہے۔ 11 یعنی حضرت ابراہیم کے بعد بجز ان کی اولاد کے کسی کو کتاب آسمانی اور پیغمبری نہ دی جائے گی۔ چناچہ جس قدر انبیاء ان کے بعد تشریف لائے ان ہی کی ذریت سے تھے۔ اسی لیے ان کو " ابو الانبیاء " کہا جاتا ہے۔ 1 یعنی دنیا میں حق تعالیٰ نے مال، اولاد، عزت اور ہمیشہ کا نام نیک دیا، اور ملک شام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کو بخشا۔ (کذا فی الموضح) اور آخرت میں اعلیٰ درجہ کے صالحین کی جماعت میں (جو انبیائے اولوالعزم کی جماعت ہے) شامل رکھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ ” نبوت اور کتاب کی یہ وراثت ایک طویل عرصے تک حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں رہی اور پھر آخری نبوت اور آخری کتاب کی سعادت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کے حصے میں آئی۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد دنیا میں کوئی نبی یا رسول آپ علیہ السلام کی نسل سے باہر نہیں آیا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی نسل دنیا میں کہاں کہاں پھیلی ؟ اس بارے میں ہمیں قطعی معلومات حاصل نہیں ہیں۔ تورات نے تو حضرت اسحاق علیہ السلام کے صرف ایک بیٹے یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل بنی اسرائیل کے بارے میں معلومات کو محفوظ کیا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 حضرت ابراہیم پر جتنے بھی ابتلاء کے دور آئے ان سب میں آپ کامیاب رہے جب ہجرت کی تو اس وقت تک آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ گھر بار اور وطن اور عزیز و اقارب چھوڑنے پر اللہ نے آپ کو اولاد عطا فرما دی کہ دل بہلا رہے۔ مزید یہ انعام فرمایا کہ نبوت آپ ہی خاندان سے مختص فرما دی۔ آپ کے بعد جتنے بھی نبی آئے آپ ہی نسل سے آئے۔ اسی لئے آپ کو ابو الانبیاء بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے صرف آخری نبی محمد ﷺ حضرت اسماعیل کی اولاد سے مبعوث ہوئے باقی سب حضرت اسحاق بلکہ ان کے بیٹے حضرت یعقوب کی اولاد سے تھے۔ جنہیں اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ 43 دنیا میں ایک تو یہ اجر دیا کہ نبوت کو ان کے خاندان سے مختص کردیا اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ (بطور بیٹے اور پوتے کے) ان سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ 30۔ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ آپ کے بعد بھی مسلک توحید و رسالت کی دعوت آپ ہی کی اولاد اور اولاد در اولاد کے ذریعہ سے ہوتی رہی۔ قرآن مجید میں یہ کہیں بصیغہ حصر تو وارد نہیں ہوا ہے لیکن جابجا جہاں بھی اس نعمت کا ذکر آیا ہے سب کے سیاق پر غور کرنے سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ منصب نبوت اور عقیدۂ توحید دنیا میں نسل ابراہیمی ہی کے ساتھ مخصوص رہا ہے جس کی دو بڑی شاخیں اسرائیلی اور اسمعیلی ہیں۔ (آیت) ” الکتب “۔ کتاب سے مراد جنس کتاب ہے۔ قصد بہ جنس الکتاب (کشاف) 31۔ دنیا میں مال، جاہ، عزت، خوش اقبالی نے آپ کا ساتھ دیا اور آخرت میں آپ مراتب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–30

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھولے ہوئے ہیں یعنی قرآن کو اور بعث بعد الموت کو یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تو ان کی قوم کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو آخرش اللہ نے ان کو اس آگ سے بچالیا جس میں ان کو ڈالا تھا اس طریقہ سے کہ اس آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیا بلا شبہ اس میں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دینے میں کئی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں ایک اس آگ کا باوجود اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ووھبنا لہ اسحٰق . اور ہم نے ابراہیم کو (ایک بیٹا) اسحاق عطا کیا۔ یعنی اسماعیل کے بعد جب کہ ابراہیم اپنے بڑھاپے اور اپنی بیوی کی پیری اور بانجھ ہونے کی وجہ سے اولاد سے ناامید ہوگئے ‘ اس وقت اسحاق نام کا بیٹا ہم نے ان کو عنایت کیا۔ اور یعقوب . اور یعقوب بھی۔ یعنی پوتا یعقوب مزید عنایت کیا۔ وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب واٰتینہ اجرہ فی الدنیا وانہ فی الآخرۃ لمن الصلحین اور ہم نے ابراہیم کی نسل میں نبوت اور کتاب (کے سلسلہ) کو قائم کیا اور ہم نے ان کو ان کا صلہ دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں بھی (کامل) نیک بندوں میں شامل ہوں گے۔ اَلْکِتَابَ سے مراد ہیں توریت ‘ انجیل ‘ زبور اور قرآن۔ اَجْرَہٗ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(27) اور پھر ہم نے ان کو حضرت اسحاق ؑ (بیٹا) اور یعقوب ؑ (پوتا) عنایت فرمایا اور ہم نے ان کی نسل کو نبوت و کتاب اور اولاد صالح کے ساتھ معزز فرمایا کہ ان کی نسل میں انبیاء کرام ؑ بھی ہوئے اور کتابیں بھی نازل ہوئیں اور ہم نے ان کا صلہ دنیا میں بھی اس طریقہ پر دیا اور آخرت میں بھی وہ بڑے درجے کے انبیاء کرام ؑ کے ساتھ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ : اس آیت میں ایک لطیف فائدہ ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ابراہیم ؑ پر آنے والے تمام مشکل حالات کو ایسے بہترین حالات کے ساتھ بدل دیا جو پہلے حالات کے بالکل الٹ تھے، یعنی قوم نے انھیں توحید کی دعوت کی وجہ سے آگ میں پھینکا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس سے خیریت و سلامتی کے ساتھ بچا لیا۔ وہ پوری قوم میں تنہا تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں انھیں اتنی اولاد عطا فرمائی جس سے دنیا بھر گئی۔ ان کے رشتے دار خود گمراہ اور مشرک تھے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے اور شرک کی دعوت دینے والے تھے، جن میں ان کا باپ آزر بھی تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان رشتہ داروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–27

حضرت لوط (علیہ السلام) وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی جب آگ کو آپ پر ٹھنڈی اور سلامتی والا پایا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے جبکہ حضرت لوط، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھانجے ہیں حضرت سارہ بھی آپ پر ایمان لائیں جبکہ وہ آپ کی چچا زاد تھیں۔ نخعی اور قتادہ نے کہا : جس نے کہا : اس سے مراد حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں (1) ۔ قتادہ نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کو ثا سے ہجرت کی یہ سواد کوفہ کا ایک دیہات تھا پہلے حر ان کی طرف ہجرت کی پھر شام کی طرف ہجرت کی آپ کے ساتھ آپ کے بھتیجے حضرت لوط بن ہاران بن تارخ تھے اور آپ کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–27

1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔ 2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو 4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا 5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَوَهَبْنَا لَهٗٓ [اور ہم نے عطا کیا ان (علیہ السلام) کو ] اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ [اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ] وَجَعَلْنَا [اور ہم نے بنائی (رکھ دی)] فِيْ ذُرِّيَّتِهِ [ان (علیہ السلام) کی اولاد میں ] النُّبُوَّةَ [نبوت ] وَالْكِتٰبَ [اور کتاب ] وَاٰتَيْنٰهُ [اور ہم نے دیا ان (علیہ السلام) کو ] اَجْرَهٗ [ان (علیہ السلام) کا اجر ] فِي الدُّنْيَا ۚ [دنیا میں ] وَاِنَّهٗ [اور بیشک وہ ] فِي الْاٰخِرَةِ [آخرت میں ] لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ [یقینا صالحین میں سے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 2: حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بیٹے اور پوتے کی بشارت اور موہبت : اس وقت آپ کی عمر بعض مفسرین کے قول کے مطابق 75 سال تھی اور آپ کی اہلیہ محترمہ بوڑھی تھیں، شام میں پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی : (رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) (اے میرے رب مجھے صالحین میں ایک لڑکا عطا فرمائیے) اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور فرشتوں کے ذریعہ آپ کو لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دی، یہ فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے جیسا کہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ یہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پیدائش سے متعلق تھی، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دوسری بیوی یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–27

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔ یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23:۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کی خاطر بڑی مصیبتیں اٹھائیں، ہم نے بھی دین و دنیا کی نعمتیں ان پر پوری کردیں۔ اسحاق ایسا لائق فرزند اور یعقوب ایسا پوتا عطا کیا اور نبوت کو اس کی اولاد کے ساتھ مختص کردیا اور دنیا کی دولت بھی وافر عطا فرمائی اور دنیا میں ان کے نام کو زندہ جاوید بنا دیا تمام اہل ادیان ان کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ فلم یبعث اللہ نبیا بعد ابراہیم الا من صلبہ اھل الملل کلہا تدعیہ و تقول ھو منا۔ ان اھل کل دین یتولونہ (قرطبی ج 13 ص 340) ۔ اور آخرت میں وہ مقربین بارگاہِ خداوندی کے درجات پر فائز ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–30

ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلانے کی کوشش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم آپ کے درس توحید کا کوئی مدلل جواب دینے کی بجائے تشدد پر اتر آنی ہے ، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ وحرقوہ آپ کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا زندہ جلا دو ۔ یہاں پر تو تفصیلات نہیں ہیں ، البتہ سورة الانبیاء اور بعض دیگر سورتوں میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح آپ نے اپنے باپ اور پھر قوم اور خود نمرود کے ساتھ مناظرہ کیا ، دلائل توحید بیان کیے مگر وہ کوئی مدلل جواب دینے سے عاجز آگئے ، اور انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰہُ اَجْرَہٗ فِي الدُّنْيَا۝ 0 ۚ وَاِنَّہٗ فِي الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ۝ 27 وهب الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی: وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ [إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ( و ہ ب ) وھبتہ ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

، ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب یہاں سے حضرت ابراہیم پر جو کچھ انعامِ الٰہی ہوا، اس کو بیان فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو ایسا بلند اقبال بیٹا اسحاق اور پوتا یعقوب ( علیہ السلام) عطا کیا اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب قائم کی گئی توریت زبور انجیل قرآن اسی کی اولاد کو ملی اور دنیا میں بھی اس کو بدلہ دیا مال و اسباب و اولاد و عزت اور آخرت میں بھی وہ کاملین میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَوَھَبْنَالَـہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وِالْـکِتٰبَ وَاٰ تَیْنٰـہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا ج وَ اِنَّـہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (العنکبوت : 27) (اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی ذُرِّیت میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا، اور ہم نے اس کا اجر اس کو دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں بھی وہ نیکوکاروں کے ذمرے میں سے ہوگا۔ ) ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ کا انعام اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے راستے پر نکلنے والوں کو بےیارومددگار نہیں چھوڑتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو آپ ( علیہ السلام) کی ہمرکابی میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارتوں سے نوازا جانا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی بیوی حضرت سارہ اور لوط (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کی تو اس وقت ان کی عمر مبارک تقریباً اسی سال کے قریب ہوچکی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے وقت جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ میرے رب مجھے نیک بیٹا عطا فرما۔ ہجرت کے دوران ایک ظالم حکمران نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی رفیقہ حیات حضرت سارہ کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش اللہ تعالیٰ نے اسے معجزانہ طور پر ناکام کیا۔ اس سے متاثر ہو کر اس نے اپنی بیٹی ہاجرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عقد میں دی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27: وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ (اور ہم نے ان کو اسحاق بیٹا عنایت کیا) ۔ وَیَعْقُوْب (اور یعقوب پوتا) ۔ اور اسماعیل (علیہ السلام) کا تذکرہ معروف ہونے کی وجہ سے نہیں کیا۔ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ (اور ہم نے ذریت ابراہیم (علیہ السلام) میں نبوت کو قائم کردیا) ابراہیم انبیاء (علیہم السلام) کیلئے درخت کی مانند ہیں۔ وَالْکِتٰبَ (اور کتابیں) ۔ مراد جنس کتاب ہے۔ تورات انجیل و زبور اور فرقان۔ وَاٰتَیْنٰہُ اَجْرَہٗ (اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کا اجر ثنائے حسن کی صورت میں دیا) ۔ اور اختتام زمانہ تک ان پر رحمت اور اہل ملل میں مودت ڈال۔ نمبر 2۔ ان کی قبر کے پاس ضیافت کا باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27۔ ووھبنالہ اسحاق و یعقوب وجعلنا فی ذرتیہ النبوۃ، والکتاب، ، کہاجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی ایسا نبی نہیں جو ابراہیم کے بعد انہی کی نسل میں سے نہ ہو۔ واتیناہ اجرہ فی الدنیا، ، وہ ہے اچھی تعریف، ، اس وجہ سے ہرادیان والے اپنے دین کو دین ابراہمی کی طرف موسوم کرتے ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد نیک اولاد ہے۔ بعض نے کہا کہ انہوں نے دنیا میں اپنامکان جنت کے اندر دیکھ لیا تھا، وانہ فی الاخرۃ لمن الصالحین، ، حضرت ابراہیم کا شمار اہل صلاح میں سے ہوگا، ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت آدم اور حضرت نوح کے ساتھ ان کا شمار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–27

آیت 26 ابراہیم ( علیہ السلام) اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ان کی قوم اپنے عناد پر جمی رہی۔ سوائے لوط ( علیہ السلام) کے جو ابراہیم ( علیہ السلام) کی دعوت پر ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے لوط ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرما کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ (وقال) جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کی دعوت کچھ فائدہ نہیں دے رہی تو کہنے لگے (انی مھاجر الی ربی) ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔” یعنی وہ برے خطہء ارض کو چھوڑ کر بابرکت سر زمین کی طرف نکل گئے .... اس سے مراد ملک شام ہے (انہ ھوالعزیز) ” بیشک وہ بڑاہی غالب ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو غوت کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–28

30 اللہ کی راہ میں قربانیوں پر عظیم الشان انعامات کی نوازش : سو حضرت ابراہیم نے جب اللہ کی راہ میں ہجرت کی تھی تو اس وقت حضرت لوط کے سوا کوئی آپ کی ہمنوائی کرنے والا نہ تھا۔ لیکن ہجرت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں کے نتیجے میں آپ کو حضرت اسحاق جیسے عظیم الشان بیٹے اور حضرت یعقوب جیسے عظیم الشان پوتے کی نعمت سے نوازا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب سے نوازا "۔ معلوم ہوا کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے لئے کسی سوسائٹی کو خیر باد کہتا ہے اللہ پاک اس کو سوسائٹی کے لئے اس سے بہتر افراد عطا اور مہیا فرماتا ہے کہ اس کی تو شان ہی نوازنا اور عطا فرمانا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–27

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ : (1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔ (2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔ (3) اسی کی عبادت کرنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–30

آیات 23 تا 30 اسرارومعارف کفار جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔ کفار دلائل میں تو ابراہیم سے عاجز آگئے مگر کہنے لگے کہ انہیں قتل کردیا جائے اور وہ بھی ایسے دردناک طریقے سے کہ زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے غرض وہ ایسا کر گزرے لیکن اللہ نے اس آگ سے محفوظ رکھا۔ اہل ایمان کے لیے تو اس واقعہ میں بہت بڑے دلائل ہیں کہ کفار کی ایذا پر استقامت اختیار کی جانی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ چناچہ ان کے بعد جتنے انبیا دنیا میں آئے سب انہی کی اولاد میں سے آئے اور یہاں ” الکتاب “ کا توراۃ انجیل اور الفرقان سب کو شامل ہے۔ (قرطبی) 4 ۔ دنیا میں یہ بدلہ دیا کہ انہیں نیک اولاد عطا فرمائی۔ سلسلہ ٔ نبوت کو ان ہی کے خاندان میں جاری کیا اور رہتی دنیا تک ان کا ذکر خیر باقی رکھا۔ چناچہ تمام امتیں چاہے وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ یا مسلمان، انہیں اپنا پیشوا مانتی ہیں۔ مسلمان تو ان پر ہر نماز میں درود بھیجتے ہیں اور آخرت میں ان کے نیک بندوں میں سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھرپور اجر اور علی مرتبہ کے مستحق ہیں۔ اس آیت میں دین حق کی خاطر صبر کرنے میں حضرت ابراہیم ( علیہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:27) وھبنالہ : وھنبا ماضی جمع متکلم۔ وھب وھبۃ۔ مصدر۔ وھب یھب (فتح) ہم نے بخشا۔ لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب حضرت ابراہیم کی طرف راجع ہے۔ ذریتہ۔ مضاف مضاف الیہ اس کی اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے مگر عرف عام میں چھوٹی اور بڑی اولاد سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں یہ جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–27

لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 27 : اقتلوا (تم قتل کرو۔ تم مارو) حرقوا (جلاڈالو) ‘ انجی ( اس نے نجات دی) ‘ مودۃ (دوستی۔ محبت) یلعن ( وہ لعنت کرتا ہے) ‘ ماوی ( ٹھکانا) ‘ مھاجر ( ہجرت کرنے والا) وھبنا (ہم نے دیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 27 : ان آیات سے پہلے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جارہا تھا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور کمزوریوں کو ظاہر کرکے ان کو خالص توحید کی دعوت دی تو چاروں طرف ایک شورمچ گیا۔ اور قوم نے کہنا شروع کیا کہ ابراہیم کو یا تو قتل کردینا جائے یا آگ میں جلا کر بھسم کردیا جائے چونکہ ان کے پاس کوئی دلیل تو موجود…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–35

بدفعلی کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی کیا، حضرت اسحاق ، ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعال کا یہ ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو قائم رکھا یہ ایک اللہ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے خاندان میں سے ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی۔ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔ اسماعیل (علیہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–28

ف 1: مقصد یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے دین کی خدمت کرتا ہے ۔ اللہ اس کو ضرور برکات دین ودنیا سے بہرہ ور کرتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

27۔ اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ہم نے نبوت اور کتاب کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کی نسل میں جاری رکھا اور ہم نے دنیا میں بھی ابراہیم کو اس کا صلہ عطا فرمایا اور بلا شبہ وہ آخرت میں بھی نیک اور شائستہ لوگوں میں سے ہوگا ۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں سارہ کے بطن سے اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اسحاق (علیہ السلام) کے ہاں یعقوب پیدا ہوئے ، جیسا کہ سورة انبیاء میں فرمایا اور ہم نے ان کے خاندان میں نبوت کا اور آسمانی کتب کا سلسلہ جاری رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں بھی ہم نے اچھا صلہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم کی ہجرت کے بعد جو اللہ نے آپ پر انعامات کیے ان کا ذکر : 27۔ ابراہیم (علیہ السلام) جب ہجرت کرکے اپنی قوم اور والد وخاندان سے الگ ہوگئے تو اس وقت تک ابھی آپ کی کوئی اولاد موجود نہ تھی حالانکہ شادی آپ کی موجود تھی ہجرت کے بعد آپ نے مصر سے گزرتے ہوئے بادشاہ مصر کی بیٹی کے ساتھ شادی کی اس طرح آپ کی دوسری بیوی مصر کی شہزادی ہاجرہ ؓ تھیں ہاجرہ سے اسمعیل پیدا ہوئے اور اس کے ایک عرصہ بعد اللہ نے سارہ ؓ سے آپ کو اسحاق جیسا فرزند عطا کیا اس جگہ بنو ہاجرہ کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ بنو سارہ کا ذکر کرتے ہوئے اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے یعقوب کا نام لیا کیونکہ اسحاق (علیہ السلام) بھی آپ کے مبشر بیٹے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

because the next sentence, i.e وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ (And We granted him Ishaque and Yaqub) is pointing certainly toward Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . However, some other commentators are of the view that إِنِّي مُهَاجِرٌ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّي (I am going to leave my homeland) was said by Sayyidna Lut (علیہ السلام) . But in the present context, the former explanation appears more appropriate. Although Sayyidna Lut (علیہ السلام) had accompanied Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) during this journey, but being subordinate to him, his separate mention was not called for, like Sayyidah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

47 The Prophet Isaac was the son and the Prophet Jacob the grandson. The other sons of the Prophet Abraham have not been mentioned here, because from his Midianite descendants only the Prophet Shu'aib was appointed a Prophet, and no Prophet was born among his lshmaelite descendants for 2500 years or so till our Holy Prophet Muhammad (may Allah's peace and blessings be upon him). Contrary to this, the descendants of the Prophet Isaac (peace be upon him) continued to be blessed with the Prophethood and the Book till the Prophet Jesus (peace be upon him). 48 This covers all the Prophets who were…

Read the full tafseer →