Al-Ankaboot 29:26

Al-Ankaboot · from ayah 26

29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ— وَقَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْ ؕ— اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟فَاٰمَنَ لَهٗ لُوۡطٌ‌ۘ وَقَالَ اِنِّىۡ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّىۡ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Lot believed him. [Abraham] said, "Indeed, I will emigrate to [the service of] my Lord. Indeed, He is the Exalted in Might, the Wise."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 3 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:26

اُس وقت لوطؑ نے اُس کو مانا اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، وہ زبردست ہے اور حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس حضرت ابراہیم ؑ پر حضرت لوط ؑ ایمان ﻻئے اور کہنے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے واﻻ ہوں۔ وه بڑا ہی غالب اور حکیم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر لوط ان پر ایمان لائے اور ابراہیم نے کہا کہ : میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کر کے جارہا ہوں وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو لوط اس پر ایمان لایا اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر لوط ؑ ان پر (یعنی ابراہیم علیہ السلام پر) ایمان لے آئے اور انہوں نے کہا: میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب ہے حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو لوط اس پر ایمان لے آیا اور اس نے کہا بیشک میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں، یقینا وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(آگ کو ابراہیم پر ٹھنڈا ہوتے دیکھ کر) لوط سیدنا ابراہیم پر ایمان لے آئے اور ابراہیم نے کہا کہ میں تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق ہجرت کرنے والا ہوں۔ وہ یقینا سب پر غالب اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس لوگ نے اس کی تصدیق کی اور کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ بیشک وہی عزیز و حکیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اس سب کے باوجود صرف لوط ہی آپ پر ایمان لائے باقی کسی کو اس کی توفیق نہ ہوئی اور ابراہیم نے کہا میں ہجرت کرتا ہوں اپنے رب کی طرف بیشک وہی ہے سب پر غالب نہایت ہی حکمت والا

— مولانا اسحاق مدنی

پھر لوط ؑ نے ان کی تصدیق کی۔ اور (ابراہیم علیہ السلام) بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ترک وطن کرکے چلا جاؤں گا بیشک وہی بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو لوط ؑ اس (ابراہیم (ؑ) پر ایمان لایا اور ابراہیم ؑ نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں۔ یقیناً وہ زبردست ہے کمال حکمت والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پس ان پر ایک لوط ایمان لائے اور ابراہیم کہنے لگے ”میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ‘ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then did Lot believe him, and Abraham said: “I am emigrating unto my Lord. He is All-Powerful, All-Wise,”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So LuT believed in him, and he (Ibrahim) said, :I am going to leave my homeland towards my Lord. Surely He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

So LuT believed in him, and he (Ibrahim) said, :I am going to leave my homeland towards my Lord. Surely He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, Lut believed in him. He said: "I will emigrate for the sake of my Lord. Verily, He is the All-Mighty, the All-Wise."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Lot believed him, and said: Lo! I am a fugitive unto my Lord. Lo! He, only He, is the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Lot believed him. [Abraham] said, "Indeed, I will emigrate to [the service of] my Lord. Indeed, He is the Exalted in Might, the Wise."

— Saheeh International

Only Lot believed in (Abraham) and said, "I seek refuge in my Lord, for He is Majestic and All-wise".

— Muhammad Sarwar

And Lut believed in Him, and he said: I am fleeing to my Lord, surely He is the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

And Lut believed in him. And he said: verily I am going to migrate to my Lord; verily He is the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

But Lut had faith in Him: He said: "I will leave home for the sake of my Lord: for He is Exalted in Might, and Wise."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

حضرت لوط ؑ اور حضرت سارہ ؓ کہا جاتا ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے۔ لوط بن ہارون بن آزر۔ آپ کی ساری قوم میں سے ایک تو حضرت لوط ایمان لائے تھے اور ایک حضرت سارہ جو آپ کی بیوی تھی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کی بیوی صاحبہ کو اس ظالم بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کے ذریعہ اپنے پاس بلوایا تو حضرت ابراہیم نے کہا تھا کہ دیکھو میں نے اپنا رشتہ تم سے بھائی بہن کا بنایا ہے تم بھی یہی کہنا کیونکہ اس وقت دنیا پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ کوئی میاں بیوی ہمارے سوا ایماندار نہیں۔ حضرت لوط آپ پر ایمان تو لائے مگر اسی وقت ہجرت کرکے شام چلے گئے تھے پھر اہل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 44 ترتیب کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم آگ سے نکل آئے اور انہوں نے اوپر کے فقرے ارشاد فرمائے اس وقت سارے مجمع میں صرف ایک حضرت لوط تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر ان کو ماننے اور ان کی پیروی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر دوسرے بہت سے لوگ بھی اپنے دل میں حضرت ابراہیم کی صداقت کے قائل ہوگئے ہوں۔ لیکن پوری قوم اور سلطنت کی طرف سے دین ابراہیم کے خلاف جس غضب ناک جذبے کا اظہار اس وقت سب کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا اسے دیکھتے ہوئے کوئی دوسرا شخص ایسے خطرناک حق کو ماننے اور اس کا ساتھ دینے کی جرات نہ کرسکا۔ یہ سعادت صرف ایک آدمی کے حصے میں آئی اور وہ حضرت ابراہیم کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل ڎفَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ ، حضرت لوط ؑ ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کے بھانجے تھے، آتش نمرود میں ابراہیم ؑ کا معجزہ دیکھ کر سب سے پہلے انہوں نے تصدیق کی۔ یہ اور آپ کی اہلیہ حضرت سارہ جو آپ کی چچا زاد بہن بھی تھیں اور مسلمان ہوچکی تھیں ان دونوں کو ساتھ لے کر ابراہیم ؑ نے وطن سے ہجرت کا ارادہ کیا، ان کا وطن مقام کو ثا تھا، جو کوفہ کی ایک بستی ہے اور فرمایا اِنِّىْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ ، یعنی میں وطن کو چھوڑ کر اپنے رب کی طرف جاتا ہوں۔ مراد یہ ہے کہ کسی ایسے مقام کی طرف جاؤں گا جہاں رب کی عبادت میں رکاوٹ نہ ہو۔ حضرت نخعی اور قتادہ نے اِنِّىْ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فامن لہ لوط وقال انی مھاجر الی ربی ط انہ ھو العزیز الحکیم (26) امن لہ تضدیق و تائید کے مفہوم میں ہے۔ حضرت لوط ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے اور خود منصب رسالت پر فائز اور اپنی قوم کی دعوت پر مامور تھے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم نے جو روش اختیار کی اس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا۔ یہاں حضرت لوط ؑ کی تصدیق وتائید کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ حضرت ابراہیم ؑ جیسے جلیل القدر نبی پر بھی ایک وقت ایسا گزرا ہے کہ ان کی دعوت میں ان کی ہمنوائی کرنے والا حضرت لوط ؑ کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا لیکن بالآخر وہ وقت بھی آیا کہ ان کی دعوت کی صدائے بازگشت دنیا کے کونے کونے سے اٹھی۔ وقال انی مھاجر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26-1حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے برادر زاد تھے، یہ حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لائے، بعد میں ان کو بھی ' سدوم ' کے علاقے میں نبی بنا کر بھیجا گیا۔ 26-2یہ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا اور بعض کے نزدیک حضرت لوط ؑ نے، اور بعض کہتے ہیں دونوں نے ہجرت کی۔ یعنی جب ابراہیم ؑ اور ان پر ایمان لانے والے لوط ؑ کے لئے اپنے علاقے ' کو ٹی ' میں، جو حران کی طرف جاتے ہوئے کوفے کی ایک بستی تھی، اللہ کی عبادت کرنی مشکل ہوگئی تو وہاں سے ہجرت کر کے شام کے علاقے میں چلے گئے، تیسری، ان کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ سارہ تھیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

11: حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھانجے تھے، اور حضرت ابراہیم ؑ کے وطن یعنی عراق میں ان پر حضرت لوط ؑ کے سوا کوئی ایمان نہیں لایا تھا، چنانچہ انہوں نے بھی حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ ہجرت کی، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی پیغمبر بناکر سدوم اور عمورہ کی بستیوں کی طرف بھیجا تھا۔ 12: مطلب یہ ہے کہ میں اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جارہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فامن لہ لوط ۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (26 – 30) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول قابل غور ہے ، وہ کہتے ہیں۔ انی مھاجر الی ربی (29: 26) ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں “۔ انہوں نے کیوں ہجرت کی۔ انہوں نے نجات کے لیے ہجرت نہیں کی۔ نہ زمین کے حصول کے لیے ، نہ کسی تجارت اور کمائی کے لئے ہجرت کی تھی۔ انہوں نے رب کی طرف ہجرت کی ، اللہ کے قریب ہونے اور اس کی پناہ میں آنے کے لئے ہجرت کی۔ اپنا دل اور اپنا نظریہ لے کر ہجرت کی۔ ان کے جسم اور خون سے پہلے ان کے دل و دماغ نے ہجرت کی۔ انہوں نے اللہ کی طرف ہجرت کی تاکہ خالص اللہ کی عبادت اور بندگی کریں ، اپنا جسم اور اپنی سوچ اس کے لیے خاص کردیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 حضرت لوط حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ ابراہیم کو ان کی قوم کے کسی مرد نے نہ مانا۔ البتہ لوط نے فوراً بلا توقف تصدیق کی۔ دونوں کا وطن " عراق " میں شہر بابل تھا۔ خدا کے توکل پر وطن سے نکل کھڑے ہوئے اللہ نے ملک شام میں پہنچا کر بسایا۔ (تنبیہ) " وقال اِنِّی مُہَاجِرٌ الخ " میں دونوں احتمال ہیں۔ قائل ابراہیم ہوں یا لوط علیہما السلام۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 فَاٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ 7 ” حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وَقَالَ اِنِّیْ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْط اِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ” اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کو چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ آپ علیہ السلام کے پیچھے آپ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اس بارے میں قرآن سے ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ واللہ اعلم !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 حضرت لوط حضرت ابراہیم کے چچازادہ بھائی تھے۔ دونوں ہی عراق کے شہر بابل کے رہنے والے تھے۔ جب حضرت ابراہیم آگ کے امتحان سے صحیح سلامت باہر نکل آئے۔ اس وقت حضرت لوط نے ان پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت لوط پہلے مشرک تھے۔ کیونکہ نبیوں کی نبوت سے پہلی زندگی بھی اللہ کی مہربانی سے ایسی نجاستوں سے پاک و صاف ہوتی ہے۔ انبیاء کے علاوہ اور بھی کئی ایسے آدمی ہوتے ہیں جو شرک سے بیزار قلب سلیم رکھتے ہیں مگر انھیں صحیح رہنمائی نہیں ملتی۔ دور نبوی میں بھی آپ کی نبوت سے پہلے ایسے چھ آدمی موجود تھے۔ 41 مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ہجرت حضرت ابراہیم اور حضرت لوط دونوں نے مل کر کی تھی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ لوط حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور آگے چل کر خود بھی نبوت سے مشرف ہوئے، مفصل حاشیے پچھلی سورتوں میں گزر چکے۔ 28۔ وہ میری حفاظت پر بھی ہر طرح قادر ہے اور میری رہنمائی پر بھی (آیت) ” الی ربی “۔ یعنی اس مقام کی طرف جو میرے پروردگار کا بتایا ہوا ہے۔ اے الی حیث امرنی بالتوجہ الیہ (کبیر) امام رازی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ قرآنی فقرہ (آیت) ” الی ربی “ تفسیری فقرہ الی حیث امرنی ربی سے کہیں زیادہ بلند وبلیغ ہے۔ یہ کہ اس میں توجہ تمامتر پروردگار ہی کی طرف ظاہر ہورہی ہے نہ کہ کسی جہت ومقام کی طرف (آیت) ” الی ربی “۔ بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ اسی طرح طریقت میں اپنے رب کی طرف فنا ومحوہونا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–30

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھولے ہوئے ہیں یعنی قرآن کو اور بعث بعد الموت کو یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تو ان کی قوم کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو آخرش اللہ نے ان کو اس آگ سے بچالیا جس میں ان کو ڈالا تھا اس طریقہ سے کہ اس آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیا بلا شبہ اس میں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دینے میں کئی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں ایک اس آگ کا باوجود اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فامن لہ لوط وقال انی مھاجر الی ربی . پس لوط نے ابراہیم کی تصدیق کی اور ابراہیم نے کہا : میں اپنے رب (کی بتائی ہوئی جگہ) کی طرف (وطن) چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ حضرت لوط تکذیب انبیاء سے (فطری طور پر من جانب اللہ) معصوم تھے۔ آپ حضرت ابراہیم کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے۔ اِلٰی رَبِّیْ یعنی اللہ نے مجھے جہاں چلے جانے کا حکم دیا ہے وہاں چلا جاؤں گا ‘ یا جہاں میرے لئے اپنے رب کی عبادت کی سہولت ہوگی وہاں چلا جاؤں گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ میں اپنی قوم سے منہ پھیر لوں گا ‘ ان سے کوئی (دینی) تعلق نہیں رکھوں گا اور اپنا رخ اپنے رب کی طرف کرلوں گا (سب سے کٹ کر اللہ سے جڑ جاؤں گا باہمہ بےہمہ) صوفیہ کی اصطلاح میں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(26) چناچہ حضرت ابراہیم ؑ کی صرف حضرت لوط ؑ نے تصدیق کی اور حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میں تو اپنے پروردگار کی اطاعت کے لیے علیحدہ چلا جاؤں گا چناچہ وہ حران سے فلسطین کی طرف ہجرت کر گئے بیشک وہ ان کو سزا دینے میں زبردست ہے اور حکمت والا ہے کہ اس نے ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف دین کی حفاظت کی خاطر ہجرت کرنے کے کا حکم دیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ : ابراہیم ؑ جب آگ سے صحیح سلامت باہر آئے اور انھوں نے یہ نصیحت کی تو لوط ؑ فوراً ہی ان پر ایمان لے آئے اور ان کے تابع فرمان ہوگئے، ان کے سوا کوئی اور ان پر ایمان نہیں لایا۔ فوراً کا مفہوم ”فاء“ سے نکل رہا ہے۔ 3 یہاں ایک سوال ہے کہ عام طور پر ایمان لانے اور تصدیق کرنے کے لیے ”آمَنَ بِہِ“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ”آمَنَ لَہُ“ کا لفظ کسی کی بات کا اعتبار اور یقین کرنے کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ یوسف ؑ کے بھائیوں نے کہا تھا : (وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ) [ یوسف : 17 ] ”اور تو ہرگز ہمارا اعتبار کرنے والا نہیں، خواہ ہم سچے ہوں۔“ تو یہاں ”آمَنَ لَہُ“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–27

حضرت لوط (علیہ السلام) وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی جب آگ کو آپ پر ٹھنڈی اور سلامتی والا پایا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے جبکہ حضرت لوط، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھانجے ہیں حضرت سارہ بھی آپ پر ایمان لائیں جبکہ وہ آپ کی چچا زاد تھیں۔ نخعی اور قتادہ نے کہا : جس نے کہا : اس سے مراد حضرت ابراہیم علیہ اسلام ہیں (1) ۔ قتادہ نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کو ثا سے ہجرت کی یہ سواد کوفہ کا ایک دیہات تھا پہلے حر ان کی طرف ہجرت کی پھر شام کی طرف ہجرت کی آپ کے ساتھ آپ کے بھتیجے حضرت لوط بن ہاران بن تارخ تھے اور آپ کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–27

1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔ 2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو 4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا 5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاٰمَنَ [تو بات مان لی ] لَهٗ [ان (علیہ السلام) کی ] لُوْطٌ ۘ [لوط (علیہ السلام) نے ] وَقَالَ [اور (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنِّىْ مُهَاجِرٌ [کہ میں ہجرت کرنے والا ہوں ] اِلٰى رَبِّيْ ۭ [اپنے رب کی طرف ] اِنَّهٗ [یقینا وہ ] هُوَ الْعَزِيْزُ [ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [حکمت والا ہے ] نوٹ۔ 1: فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ۔ یہاں تصدیق و تائید کے مفہوم میں ہے۔ لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ وہ خود منصب رسالت پر فائز تھے اور اپنی قوم کی دعوت پر مامور تھے۔ یہاں ان کی تصدیق و تائید کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے جلیل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–26

حضرت لوط (علیہ السلام) کا دعوت ابراہیمی کو قبول کرنا اور دونوں حضرات کا فلسطین کے لیے ہجرت کرنا : اس کے بعد فرمایا (فَاٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ) لوط (علیہ السلام) ابراہیم کی نبوت پر ایمان لے آئے (جو حضرت ابراہیم کے بھائی ہارون کے بیٹے تھے) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر ہر طرح سے حجت پوری کردی تو فرمایا اب میں اس وطن کو چھوڑتا ہوں اور اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں یعنی میرے رب نے جو ہجرت کی جگہ بتائی ہے وہاں جاتا ہوں بلاشبہ میرا رب عزیز ہے حکیم ہے۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ (وَ قَالَ اِنِّیْ مُھَاجِرٌ) کا فاعل حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں لیکن پہلی بات راجح ہے کہ یہ حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–27

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔ یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

22:۔ لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھائی ہاران بن تارح کے بیٹے تھے وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت پر بلا تامل ایمان لے آئے اور ان کی تمام باتوں کی تصدیق کی۔ وقال انی مہاجر الخ الی ربی ای الی الجہۃ التی امرنی ربی بالہجرۃ الیھا (روح ج 20 ص 152) ۔ یعنی میں اللہ کے حکم کے مطابق ہجرت کر رہا ہوں۔ جہاں جانے کا حکم ہوگا وہاں جا رہا ہوں۔ اس ہجرت میں لوط (علیہ السلام) اور آپ کی بیوی سارہ آپ کے ساتھ تھیں آپ نے کو ثی سے حران اور پھر حران سے ملک شام کی طرف ہجرت کی اور فلسطین کے ایک شہر میں قیام پذیر ہوئے (روح وغیرہ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مسئلہ توحید کی خاطر مشرکین کی ایذاؤں کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–30

ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلانے کی کوشش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم آپ کے درس توحید کا کوئی مدلل جواب دینے کی بجائے تشدد پر اتر آنی ہے ، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ وحرقوہ آپ کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا زندہ جلا دو ۔ یہاں پر تو تفصیلات نہیں ہیں ، البتہ سورة الانبیاء اور بعض دیگر سورتوں میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح آپ نے اپنے باپ اور پھر قوم اور خود نمرود کے ساتھ مناظرہ کیا ، دلائل توحید بیان کیے مگر وہ کوئی مدلل جواب دینے سے عاجز آگئے ، اور انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ۝ 0 ۘ وَقَالَ اِنِّىْ مُہَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 26 لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبدوهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط، فمن طریق الاشتقاق، فإنّه اشتقّ من لفظ لوط الناهي عن ذلک لا من لفظ المتعاطین له . ( ل و ط ) لوط ( حضرت لوط (علیہ السلام) ) یہ اسم علم ہے لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کی محبت دل میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–26

ترکیب : قال جار اللہ الزمخشری مودۃ بالنصب اما باضافۃ او بغیر اضافۃ فعلی الاول التعلیل لتودوا بینکم وعلی الثانی یکون مفعولاً ثانیا علی حذف المضاف اوعلی ان المصدر بمعنی بمفعول ای اتخذتم الاوثان سبب المودۃ بینکم و اتخذ تموھامود وۃ بینکم وقری بالرفع ایضاً باضافۃ فعلی الوجھین یکون خیر الان علی ان ما موصلہ والتقدیران التی اتخذ تموھا اوثاناھی سبب مودۃ بینکم او مودہ بینکم۔ پھر جب مجبوراً ہمارے دربار عدالت میں لائے جاؤ گے تو والذین کفروا بایات اللہ ولقائہٖ وہ جو اللہ کی آیتوں اور اس کے پاس جانے کے منکر ہوگئے ہیں۔ اولئک یئسوا من رحمتی وہ درحقیقت میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں، پس اولئک لہم عذاب الیم ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاٰ مَنَ لَـہٗ لُوْطٌ م وَقَالَ اِنِّیْ مُھَا جِرٌاِلٰی رَبِّیْ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (العنکبوت : 26) (پس لوط، ابراہیم پر ایمان لائے اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، بیشک وہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کا قبولیتِ ایمان اور جرأتِ حق سیاقِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آگ کے الائو سے بخیریت تمام نکل آئے تو آپ ( علیہ السلام) نے اس وقت وہاں موجود لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ باتیں ارشاد فرمائیں۔ ممکن ہے یہ خیال رہا ہو کہ اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر طبیعتوں میں یقینا ایک انقلاب آیا ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پرخلوص اور طویل جدوجہد کے باوجود حضرت لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکومت وقت اور ان کی قوم نے آگ میں پھینکا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بسلامت آگ سے نکال لیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت اور بزرگی دیکھ کر قوم بالاتفاق ان پر ایمان لے آتی لیکن حکومت کے رعب اور ذاتی مفادات کی خاطر کوئی شخص حضرت پر ایمان نہ لایا۔ صرف آپ کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے۔ جن کے بارے میں مفسرین نے وضاحت فرمائی ہے کہ لوط (علیہ السلام) کے ایمان لانے کا یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

26: فَاٰمَنَ لَہٗ (پس لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی) ۔ لُوْطٌ لوط (علیہ السلام) یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بھانجے ہیں۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ابراہیم کی تصدیق کی جبکہ وہ آگ سے صحیح سالم باہر آگئے۔ وَقَالَ (اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا) ۔ اِنِّیْ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیْ (بیشک میں اپنے رب کے حکم پر ہجرت کرنے والا ہوں) ۔ مقام کو ثیٰٰ سے جو سواد کوفہ میں واقع تھا۔ حران کی جانب۔ پھر وہاں سے فلسطین کی سرزمین میں۔ یہ شام کا جنگلی علاقہ ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ نبی (ا) نے ایک ہجرت کی مگر ابراہیم (علیہ السلام) نے دو ہجرتیں فرمائیں۔ ہجرت میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26۔ فامن لہ لوط، حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے۔ یہ حضرت ابراہیم کے بھائی ہارون کے بیٹے تھے ۔ وقال، اور حضرت ابراہیم نے فرمایا، انی مھاجر الی ربی، یعنی اللہ نے مجھے جہاں چلے جانے کا حکم دیاوہاں چلاجاؤں گا، مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم نے کو ثی علاقہ کی طرف حران کی طرف ہجرت کی پھر حران سے شام کو چلے گئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ کی بیوی حضرت سارہ دونوں آپ کے ساتھ تھے حضرت ابراہیم پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے اپنے آبائی گاؤں سے ہجرت کی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے ہجرت کی تو اس وقت آپ کی عمر ، پچھترسال تھی۔ انہ ھوالعزیز الحکیم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–27

آیت 26 ابراہیم ( علیہ السلام) اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ان کی قوم اپنے عناد پر جمی رہی۔ سوائے لوط ( علیہ السلام) کے جو ابراہیم ( علیہ السلام) کی دعوت پر ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے لوط ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرما کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ (وقال) جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کی دعوت کچھ فائدہ نہیں دے رہی تو کہنے لگے (انی مھاجر الی ربی) ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔” یعنی وہ برے خطہء ارض کو چھوڑ کر بابرکت سر زمین کی طرف نکل گئے .... اس سے مراد ملک شام ہے (انہ ھوالعزیز) ” بیشک وہ بڑاہی غالب ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو غوت کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 حضرت ابراہیم کا اعلان ہجرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت ابراہیم نے کہا کہ میں ہجرت کرتا ہوں اپنے رب کی طرف۔ بیشک وہی ہے سب پر غالب نہایت حکمت والا "۔ سو یہ حضرت ابراہیم کا اپنے رب کی طرف ہجرت کا اعلان تھا۔ سو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں یعنی میں وہاں جا رہا ہوں جہاں اپنے رب کے حکم کے مطابق خود بھی زندگی گزار سکوں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے سکوں یعنی جہاں اس دعوت کا خاص اثر اور فائدہ ظاہر ہو سکے۔ چناچہ آپ نے اس کے مطابق عراق سے فلسطین و شام کی طرف ہجرت فرمائی جو اس زمانے میں ایک ہی علاقہ شمار ہوتا تھا۔ سو حضرت ابراہیم نے جب دیکھا کہ یہ لوگ اب ماننے والے نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–27

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ : (1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔ (2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔ (3) اسی کی عبادت کرنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–30

آیات 23 تا 30 اسرارومعارف کفار جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔ کفار دلائل میں تو ابراہیم سے عاجز آگئے مگر کہنے لگے کہ انہیں قتل کردیا جائے اور وہ بھی ایسے دردناک طریقے سے کہ زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے غرض وہ ایسا کر گزرے لیکن اللہ نے اس آگ سے محفوظ رکھا۔ اہل ایمان کے لیے تو اس واقعہ میں بہت بڑے دلائل ہیں کہ کفار کی ایذا پر استقامت اختیار کی جانی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا یہ وعظ سن کر ان کا بھتیجا …الخ 2 ۔ یعنی وہ میری حمایت و حفاظت پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے ” کو تی “ سے جو کہ کوفہ کی بستیوں میں سے ایک بستی تھی احان کو ہجرت کی اور وہاں سے شام چلے گئے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور ان کے بھتیجے حضرت لوط ( علیہ السلام) تھے۔ جب حضرت عثمان ؓ نے اپنی بیوی (حضرت رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ) سمیت حبشہ کی طرف ہجرت کی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” وہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ہجرت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:26) فامن لہ لوط۔ پس لوط ان پر ایمان لائے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر، حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–27

لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 27 : اقتلوا (تم قتل کرو۔ تم مارو) حرقوا (جلاڈالو) ‘ انجی ( اس نے نجات دی) ‘ مودۃ (دوستی۔ محبت) یلعن ( وہ لعنت کرتا ہے) ‘ ماوی ( ٹھکانا) ‘ مھاجر ( ہجرت کرنے والا) وھبنا (ہم نے دیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 27 : ان آیات سے پہلے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جارہا تھا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور کمزوریوں کو ظاہر کرکے ان کو خالص توحید کی دعوت دی تو چاروں طرف ایک شورمچ گیا۔ اور قوم نے کہنا شروع کیا کہ ابراہیم کو یا تو قتل کردینا جائے یا آگ میں جلا کر بھسم کردیا جائے چونکہ ان کے پاس کوئی دلیل تو موجود…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 25–26

(ف 1) پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے وعظ شروع کیا کہ آج دنیا میں جو تم نے اللہ کے سواجوبت بنارکھے ہیں اور ان کی پرستش کرتے ہو اور وہ خدا جس نے تم کو پیدا کیا اس کی عبادت سے بالکل غافل ہو تو بس یہ تمہارے درمیان بتوں کی دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے پھر قیامت کے دن کچھ کام نہ آئے گی بت اپنے پجاریوں سے بےزار ہوں گے اور سردار اپنے ماننے والوں سے ، اور ماننے والے سرداروں پر لعنت کریں گے اور سردار ماننے والوں پر، غرج یہ کہ ایک دوسرے سے بےزار ہوگا اور لعنت کرے گا اور اگر تم اس بت پرستی سے باز نہ آئے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں کہ جس کی مدد سے تم اس عذاب سے نجات پاؤ گے پس اس…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 3: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو حضرت لوط نے قبول کیا ۔ اور ارض بابل سے ہجرت کرکے سدوم میں پہنچ گئے ۔ تاکہ وہاں کے لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچائیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

26۔ بہر حال ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو تقریر فرمائی تمام قوم میں سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی اور ابراہیم نے کہا میں یہاں سے اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں بیشک وہی کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے۔ یعنی قوم میں سے صرف آپ کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) نے آپ کی تصدیق کی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کا ارادہ کیا اور چونکہ حضرت حق تعالیٰ نے ان کو جگہ بتائی ملک شام کی ۔ اس لئے ابراہیم نے فرمایا اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے۔ وقال انی مھاجر الی ربی حضرت لوط (علیہ السلام) کا قول ہو ۔ بہر حال ! حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوط (علیہ السلام) چونکہ ایمان لا چکے تھے اس لئے ہجرت کے وقت وہ بھی آپ کے ساتھ ہوگئے : 26۔ (فامن لہ لوط) سے مفسرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو چونکہ آگ میں ڈالا گیا تھا اور وہ آگ سے زندہ سلامت بچ کر نکل آئے تھے لہذا اس معجزہ کو دیکھ کر لوط ایمان لائے حالانکہ یہ محض ایک فرضی بات ہے جس کا یہاں کوئی ذکر نہیں ہے اس جگہ بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو چونکہ لوط (علیہ السلام) بھی آپ پر ایمان لا چکے تھے یعنی آپ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اس لئے ہجرت کے وقت جہاں دوسرے ایمان لانے والے آپ کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے جیسے آپ کی اہلیہ سارہ ؓ تب ہی لوط (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–26

Commentary فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّي (So Lut believed in him and he (Ibrahim علیہ السلام) said, "I am going to leave my homeland towards my Lord. - 29:2, 6). Sayyidna Lut (علیہ السلام) was the nephew of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . He was the very first one to accept faith after watching the miracle of Ibrahim (علیہ السلام) in the fire of Namrild. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) planned to migrate from his hometown, Kutha - a township of Kufah - along with his wife Sayyidah Sarah, who was his cousin and had accepted Islam, and Sayyidna Lut (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44 The context shows that when the Prophet Abraham came out of the fire and spoke the preceding sentences, only Prophet Lot from the entire crowd came forward to proclaim his belief and adopt his obedience. It is just possible that many other people also on this occasion might have been convinced of the Prophet Abraham's being a true Prophet, but in view of the violent reaction that had been shown openly by the entire community and the government against Abraham's Faith, no one else could muster up courage to affirm faith in such a dangerous truth and follow it. This good fortune fell to the…

Read the full tafseer →