Explained with ayahs 24–25
عقلی اور نقلی دلائل
حضرت ابراہیم کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کرسکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اس شقاوت کا مظاہرہ کیا جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہیں اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کرکے لکڑیوں میں آگ لگادی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو حضرت…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 41
سلسلہ کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ بات آگ سے بسلامت نکل آنے کے بعد حضرت ابراہیم نے لوگوں سے فرمائی ہوگی۔
سورة العنکبوت 42
یعنی تم نے خدا پرستی کے بجائے بت پرستی کی بناید پر اپنی اجتماعی زندگی کی تعمیر کرلی ہے جو دنیوی زندگی کی حد تک تمہارا قومی شیرازہ باندھ سکتی ہے۔ اس لیے کہ یہاں کسی عقیدے پر بھی لوگ جمع ہوسکتے ہیں خواہ حق ہو یا باطل۔ اور ہر اتفاق و اجتماع چاہے وہ کیسے ہی غلط عقیدے پر ہو، باہم دوستیوں، رشتہ داریوں، برادریوں اور دوسرے تمام مذہبی، معاشرتی و تمدنی اور معاشی و سیاسی تعلقات کے قیام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سورة العنکبوت 43
یعنی عقیدہ باطلہ پر تمہاری یہ ہیئت اجتماعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
خلاصہ تفسیر
سو (ابراہیم ؑ کی اس تقریر دلپذیر کے بعد) ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ (آپس میں) کہنے لگے کہ ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو (چنانچہ جلانے کا سامان کیا) سو اللہ نے ان کو اس آگ سے بچا لیا (جس کا قصہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے) بیشک اس واقعہ میں ان لوگوں کے لئے جو کہ ایمان رکھتے ہیں کئی نشانیاں ہیں (یعنی یہ واقعہ کئی چیزوں کی دلیل ہے اللہ کا قادر ہونا، ابراہیم ؑ کا نبی ہونا، کفر و شرک کا باطل ہونا اس لئے یہ ایک ہی دلیل متعدد دلائل کے قائم مقام ہوگئی) اور ابراہیم ؑ نے (وعظ میں یہ بھی) فرمایا کہ تم نے جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) تجویز کر رکھا ہے، بس یہ تمہارے…
Read the full tafseer →وقال انما اتخذ تم من ون اللہ اوثان لا مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا ج ثم یوم القیمۃ یکفر بعضکم ببعض ویلعن بعضکم بعضا ز وما و لکم النار ومالکم من نصرین (25)
انما حصر کے مفہوم میں ہے اور مودۃ بینکم بیان علت کے لئے نہیں بلکہ بیان حال کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو تم نے اللہ کے سوا دوسرے اصنام واوثان بنائے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ محض تمہارے خیال دو ہم کی ایجاد ہیں۔ ان کے ساتھ تمہاری ساری دوستی و نیاز مندی بس اسی دنیا کی زندگی تک ہے۔ قیامت کے دن جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تو تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔ تو کہو گے کہ اے رب، ہم کو فلاں اور فلاں نے گمراہ…
Read the full tafseer →25-1یعنی یہ تمہارے قوی بت ہیں جو تمہاری اجتماعت اور آپس کی دوستی کی بنیاد ہیں۔ اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو تو تمہاری قومیت اور دوستی کا شیرازہ بکھر جائے گا۔
25-2یعنی قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار اور دوستی کی بجائے ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور تابع، متبوع کو ملامت اور متبوع، تابع سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
Read the full tafseer →10: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جو لوگ بتوں کی عبادت کرتے ہیں، انہوں نے اسی بت پرستی کی بنیاد پر دوستیاں قائم کر رکھی ہیں، اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم لوگوں نے بت پرستی سوچ سمجھ کر اختیار نہیں کی، بلکہ اپنے دوستوں کو دیکھا کہ وہ بت پرستی کررہے ہیں تو انہی کے طریقے پر چل پڑے، اور صرف دوستی قائم رکھنے کے لئے اس مذہب کو اپنالیا، سبق یہ دیا گیا ہے کہ حق و باطل کے معاملے میں دوستوں اور رشتہ داروں کی مروت میں کوئی راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ بصیرت کے ساتھ وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو حق ہو۔
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نجات کے بعد بھی یہ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ حضرت ابراہیم اب اس قوم کی ہدایت سے مایوس ہوگئے ہیں جو اس قدر واضح اور بین معجزے کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتی تو قبل اس کے کہ حضرت ان کو الوداع کہیں ان کو آخری حجت کے طور پر ایک حقیقت کے سامنے کھڑا کرتے ہیں :
وقال انما اتخذتم ۔۔۔۔۔۔ من نصرین (25)
” اور اس نے کہا ، تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا “۔
ہم نے بتوں کی بندگی اس لیے اختیار نہیں کی کہ تم…
Read the full tafseer →5 یعنی آگ سے نکل کر پھر نصیحت شروع کردی۔
6 یعنی بت پرستی کو کون عقلمند جائز رکھ سکتا ہے ؟ بت پرست بھی دل میں جانتے ہیں کہ یہ نہایت مہمل حرکت ہے۔ مگر شیرازہ قومی کو جمع رکھنے کے لیے ایک مذہب ٹھہرا لیا ہے کہ اس کے نام پر تمام قوم متحد و متفق رہے اور ایک دوسرے کے دوست بنے رہیں کہ جیسا کہ آج کل ہم یورپ کی عیسائی قوموں کا حال دیکھتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بت پرستی کا شیوع و رواج اس بناء پر نہیں ہوا کہ وہ کوئی معقول چیز ہے بلکہ اندھی تقلید، قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کا دباؤ اس کا بڑا سبب ہے۔ یا یہ غرض ہو کہ بت پرستی کی اصل جڑ آپس کی محبت اور دوستی تھی۔ ایک قوم میں کچھ نیک آدمی جنہیں لوگ محبوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 25 وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًالا مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج ”
یہ بہت اہم بات ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ میں تمہیں متنبہّ کرچکا ہوں کہ تم لوگ جن بتوں کو پوجتے ہو ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے اور ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ میرے سمجھانے پر تم لوگ یہ بات سمجھ بھی چکے ہو ‘ اس سلسلے میں حق تم لوگوں پر پوری طرح منکشف بھی ہوچکا ہے اور تمہارے دل اس بارے میں حق کی گواہی بھی دے چکے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود بھی تم لوگ اگر بتوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو اور گمراہی کا راستہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو ‘ تو اس کی اصل…
Read the full tafseer →38 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ حضرت ابراہیم نے آگ سے صحیح سلامت نکل آنے کے بعد کہا تھا۔ یعنی تم لوگوں نے آپس میں باہمی محبت، بھائی چارہ اور قومی شیرازہ بندی کی بنیاد ان مشرکانہ رسوم کو بنا لیا ہے تاکہ ایسے مذہب کے نام پر ساری قوم متحد اور متفق رہے۔ قومی یگانگت کے لئے کوئی بھی بنیاد بنائی جاسکتی ہے خواہ یہ بنیاد بجائے خود کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو جیسے کہ آج کل وطن پرستی، قوم پرستی، نسل پرستی، ایسی ہی غلط بنیادوں پر لوگ متحد و متفق ہوجاتے ہیں الا یہ بنیادیں فساد کا باعث بن رہی ہیں۔ تاہم ان غلط قسم کی بنیادوں پر بھی لوگوں کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے، اکٹھا رکھا جاسکتا ہے اور ان میں باہمی محبت ہوسکتی…
Read the full tafseer →26۔ مشرک جاہلی قوموں میں عموما ہر ہر قبیلہ کے بت جداگانہ رہتے تھے اور قوم وار اور قبیلہ وار دیوی دیوتاؤں کی پرستش کا راز یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے قوم یا قبیلہ میں نظم یا جتھا قائم رہے گا۔ قیامت کے دن جب منکشف ہوجائے گا کہ یہ سیاسی یا معاشری مصلحتیں کس درجہ بےحقیقت تھیں تو احمق پجاری ایک دوسرے کے خلاف خوب دل کھول کر بخار نکالیں گے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جو اتحاد واتفاق سبب بن جائے فساددین کا، اس کا ترک واجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھولے ہوئے ہیں یعنی قرآن کو اور بعث بعد الموت کو یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تو ان کی قوم کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو آخرش اللہ نے ان کو اس آگ سے بچالیا جس میں ان کو ڈالا تھا اس طریقہ سے کہ اس آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیا بلا شبہ اس میں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دینے میں کئی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں ایک اس آگ کا باوجود اس کے…
Read the full tafseer →وقال انما اتخذتم من دون اللہ او ثنا مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا ثم یوم القیمۃ یکفر
بعضکم ببعض ویلعن بعضکم بعضا . اور (ابراہیم نے اپنی قوم سے) کہا کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) آپس کے دنیوی تعلقات کی وجہ سے بنا رکھا ہے ‘ پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کا مخالف ہوجائے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا۔ یعنی باہم ایک دوسرے کا انکار اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کرے گا یا بتوں کا انکار کریں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔
وما ولکم النار . اور تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ یعنی بت پرستوں کا بھی اور بتوں کا بھی۔
وما لکم من نصرین . اور تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا کہ تم کو دوزخ سے رہائی دلا سکے۔
Read the full tafseer →(25) حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ یہ جو تم نے بتوں کو معبود بنارکھا ہے یہ تو تمہارے آپسی تعلقات کی بنا پر ہے جو باقی نہیں رہیں گے۔
اور پھر قیامت میں تم سب ایک دوسرے سے بیزار ہوجاؤ گے اور تم سب بچاریوں اور معبودوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور عذاب خداوندی کے مقابلہ میں تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا۔۔ : ابراہیم ؑ نے آگ سے نکلنے کے بعد بھی قوم کو نصیحت ترک نہیں کی، بلکہ سمجھایا کہ تمہارے ان بتوں کو شریک بنانے کی بنیاد کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں، محض ایک دوسرے کی دوستی کی وجہ سے تم نے انھیں شریک بنا رکھا ہے۔ یہ صرف اندھی تقلید، قومی مروّت و لحاظ اور باہمی تعلقات کا دباؤ ہے جس کی وجہ سے تم ان کی پرستش پر اڑے ہوئے ہو، مگر تمہاری یہ دوستی اور شرک و کفر پر اجماع و اتحاد صرف دنیا کی زندگی تک ہے۔
ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ۔۔ : یعنی پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے، تمہاری یہ دوستی شدید دشمنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
اے محمد ﷺ : تم انہیں کہو زمین میں گھومو، پھرو۔ دیکھو تو اللہ تعالیٰ نے کیسے مخلوق کو پیدا کیا جبکہ تعداد میں وہ کثیر ہیں، ہیبتییں مختلف ہیں، زبان، رنگ اور طبیعتیں مختلف ہیں تم سابقہ قوموں کے مسکن، گھر، آ اور آثار دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسے انہیں ہلا کہ تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو پہچانو۔
ابو عمرو اور ابن کثیر نے النشائۃ شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور دنوں لغتیں ہیں جس طرح رأفۃ اور رآفۃ۔ جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کو پیدا کیا، اسم نشاۃ اور نشائۃ کے ساتھ ہے یہ ابو عمرو بن علاء سے مروی ہے۔
اپنے عدل کے ساتھ جس کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ اور اپنے فضل کے ساتھ جس پر رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →وَقَالَ [اور (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اتَّخَذْتُمْ [تم لوگوں نے بنائے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے سوا ] اَوْثَانًا ۙ [کچھ بت ] مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ [تمہارے مابین کی دوستی (کا ذریعہ) ہوتے ہے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ [دنیوی زندگی میں ] ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [پھر قیامت کے دن ] يَكْفُرُ [انکار کرے گا ] بَعْضُكُمْ [تم میں کا کوئی ] بِبَعْضٍ [کسی کا ] وَّيَلْعَنُ [اور لعنت کرے گا ] بَعْضُكُمْ [تم میں کا کوئی ] بَعْضًا ۡ [کسی کو ] وَّمَاْوٰىكُمُ [اور تم لوگوں کا ٹھکانہ ] النَّارُ [آگ ہے ] وَمَا لَكُمْ [اور تمہارے لئے نہیں ہے ] مِّنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
حضرت لوط (علیہ السلام) کا دعوت ابراہیمی کو قبول کرنا اور دونوں حضرات کا فلسطین کے لیے ہجرت کرنا :
اس کے بعد فرمایا (فَاٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ) لوط (علیہ السلام) ابراہیم کی نبوت پر ایمان لے آئے (جو حضرت ابراہیم کے بھائی ہارون کے بیٹے تھے) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر ہر طرح سے حجت پوری کردی تو فرمایا اب میں اس وطن کو چھوڑتا ہوں اور اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں یعنی میرے رب نے جو ہجرت کی جگہ بتائی ہے وہاں جاتا ہوں بلاشبہ میرا رب عزیز ہے حکیم ہے۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ (وَ قَالَ اِنِّیْ مُھَاجِرٌ) کا فاعل حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں لیکن پہلی بات راجح ہے کہ یہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور
قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔
یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…
Read the full tafseer →20:۔ مودۃ، مفعول لہ ہے اور مابعد کی طرف مضاف ہے، بین اسم ہے بمعنی وصلۃ (پیوستگی) یعنی تم نے غیر اللہ کو معبود اس لیے بنا رکھا ہے تاکہ اس بنا پر تمہاری دنیا میں باہمی محبت و پیوستگی اور اتحاد باقی رہے اور مخالفت پیدا نہ ہو ای لیتوادوا ویتواصلوا و یجتمعوا علی عبادتہا کما یجتمع ناس علی مذھب فیقع التحاب بینہم (بحر ج 7 ص 148) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے اسلام کے ساتھ محبت و عقیدت کی وجہ سے ان کے ٹھاکر بنا رکھ لیے اور ان کی عبادت کرتے ہو۔ ان الاوثان اول ما تخذت بسبب المودۃ وذلک انہ کان اناس صالحون فماتوا واسف علیہم اھل زمانہم فصوروا احجار ابصورھم حبالھم فکانوا یعظمونہا فی الجملۃ ولم یزل تعظیمہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلانے کی کوشش
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم آپ کے درس توحید کا کوئی مدلل جواب دینے کی بجائے تشدد پر اتر آنی ہے ، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ وحرقوہ آپ کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا زندہ جلا دو ۔ یہاں پر تو تفصیلات نہیں ہیں ، البتہ سورة الانبیاء اور بعض دیگر سورتوں میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح آپ نے اپنے باپ اور پھر قوم اور خود نمرود کے ساتھ مناظرہ کیا ، دلائل توحید بیان کیے مگر وہ کوئی مدلل جواب دینے سے عاجز آگئے ، اور انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ یہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اَوْثَانًا 0 ۙ مَّوَدَّۃَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0 ۚ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا 0 ۡوَّمَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ 25 ۤۙ
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ترکیب : قال جار اللہ الزمخشری مودۃ بالنصب اما باضافۃ او بغیر اضافۃ فعلی الاول التعلیل لتودوا بینکم وعلی الثانی یکون مفعولاً ثانیا علی حذف المضاف اوعلی ان المصدر بمعنی بمفعول ای اتخذتم الاوثان سبب المودۃ بینکم و اتخذ تموھامود وۃ بینکم وقری بالرفع ایضاً باضافۃ فعلی الوجھین یکون خیر الان علی ان ما موصلہ والتقدیران التی اتخذ تموھا اوثاناھی سبب مودۃ بینکم او مودہ بینکم۔
پھر جب مجبوراً ہمارے دربار عدالت میں لائے جاؤ گے تو والذین کفروا بایات اللہ ولقائہٖ وہ جو اللہ کی آیتوں اور اس کے پاس جانے کے منکر ہوگئے ہیں۔ اولئک یئسوا من رحمتی وہ درحقیقت میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں، پس اولئک لہم عذاب الیم ان…
Read the full tafseer →وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا لا مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ یَکْفُرُبَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا ز وَّمَا وٰ کُمُ النَّارُوَمَا لَـکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (العنکبوت : 25)
(اور حضرت ابراہیم نے کہا تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے دن تم میں سے ہر ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانہ آگ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ )
تمہاری دوستی کی بنیاد صرف دنیا تک ہے
اِنَّمَاحصر کے مفہوم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آگ سے بسلامت نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو آخری خطاب۔
قوم اور حکومت نے اپنی طرف سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلا ڈالا تھا۔ لیکن رب جلیل نے اپنے خلیل (علیہ السلام) کو اتنے دن آگ میں پڑے رہنے کے باوجود آنچ نہ آنے دی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بسلامت آگ سے نکل کر قوم کے سامنے آئے تو لوگ اللہ کی قدرت کا معجزہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔
قرآن مجید کے خطاب اور الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد حضرت کا قوم سے یہ پہلا خطاب تھا۔ اس لیے انھوں نے بتوں کی تردید کرنے کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دنیا کی زندگی یعنی اس کے مفاد اور…
Read the full tafseer →25: وَقَالَ (اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا) ۔ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ (بیشک تم نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس کے دنیوی تعلقات کی وجہ) فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا سے بتوں کو معبود بنا رکھا ہے۔ قراءت : حمزہ و حفص نے مودۃ بینکم پڑھا اور مدنی ‘ شامی ٗ حماد ٗ یحییٰ ٗ خلف نے مودۃً بینکم مکی ٗ بصری ٗ علی نے مودۃُ بینکم پڑھا اور شمونی ٗ برجمی نے مودۃٌ بینکم پڑھا ہے۔
نحو : نصب کی دو وجہیں ہیں۔ نمبر 1۔ تعلیل یعنی تاکہ تم آپس میں محبت کرو اور ان کی عبادت پر اجتماع واتفاق کی وجہ سے آپس میں مواصلت پیدا کرو۔ جیسا کہ لوگ ایک مذہب پر متفق…
Read the full tafseer →تفسیر۔
25۔ وقال، ، حضرت ابراہیم نے اپنی قوم سے کہا کہ ، انما اتخذتم من دون اللہ اوثانامودۃ بینکم، ابن کثیر اور کسائی نے ابوعمرو یعقوب نے ، مودۃ ، رفع کے ساتھ بغیر تنوین کے پڑھا ہے۔ بینککم، اضافت کے ساتھ معنی یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے بتوں کو اپنا معبود بنارکھا ہے دنیاوی فائدے کے لیے ۔ فی الحیوۃ الدنیا، ، پھر یہ فائدے دنیا میں ختم ہوجائیں گے آخرت میں کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔
حمزہ اور حفص نے ، مودہ نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور بغیرتنوین کے اضافت کی وجہ سے۔ دوسرے قراء نے منصوب تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنے بتوں کو دنیاوی زندگی کی عیش و عشرت کے لیے معبود بنارکھا ہے ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…
Read the full tafseer →آیت نمبر (25)
یعنی جب ابراہیم علیہ اسلام نے اپنی قوم کو اپنے رب کی طرف بلایا تو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی نہ آپ کی خیر خواہی کی اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی بعثت کی نعمت کی رؤیت کو اپنا راہمنا ہی بنایا۔ ان کا جواب تو بدترین جواب تھا۔” انہوں نے کہا اسے مارڈالو یا جلا دو ۔ “ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو۔ وہ قدرت رکھنے والے اصحاب اقتدار لوگ تھے چناچہ انہوں نے ابراہیم علیہ اسلام کو آگ میں ڈال دیا ” پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا آگ سے ” بیشک اس میں ایمان دار لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ پس وہ اہل ایمان اور انبیاء ورسل کی تعلیمات کی صحت ان کی نیکی اور ان کی خیر خواہی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →28 اہل کفر و باطل کی روشنی وتعلق محض دنیا کے لیے : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل کفر وباطل کی تمام دوستیاں اور تعلقات صرف اسی دنیاوی زندگی تک ہیں اور بس۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگوں نے اپنے ان من گھڑت اور خود ساختہ بتوں کو جن کو تم نے اپنے طور پر اپنا معبود بنا رکھا ہے اپنے درمیان دوستی اور تعلق کا ذریعہ بنایا ہوا ہے لیکن کل قیامت میں تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت برساؤ گے۔ سو گمراہ لیڈروں اور انکے گمراہ پیروؤں اور تمام اہل باطل کی دوستیاں اسی دنیاوی زندگی تک ہیں اور بس۔ سو فرمایا کہ اس بت پرستی کو تم لوگوں نے اپنے اجتماع اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ :
(1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔
(2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔
(3) اسی کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارومعارف
کفار جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔
کفار دلائل میں تو ابراہیم سے عاجز آگئے مگر کہنے لگے کہ انہیں قتل کردیا جائے اور وہ بھی ایسے دردناک طریقے سے کہ زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے غرض وہ ایسا کر گزرے لیکن اللہ نے اس آگ سے محفوظ رکھا۔ اہل ایمان کے لیے تو اس واقعہ میں بہت بڑے دلائل ہیں کہ کفار کی ایذا پر استقامت اختیار کی جانی…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی اس لئے کہ تمہاری اجتماعیت کی عمارت استوار رہے اور گرنے نہ پائے۔ یعنی تم ڈرتے ہو کہ اگر تم نے ان معبودوں کی پرستش چھوڑ دی تو معاشرے کے لوگ ایک دوسرے سے پھٹ جائیں گے اور باہمی دوستی اور محبت کے علاقے کٹ جائیں گے۔ (شوکانی) 9 ۔ یعنی جب قیامت کے روز عذاب دیکھیں گے تو تمہاری دوستی و محبت کے تمام رشتے کٹ جائیں گے اور تم ایک دوسرے کو ملامت کرو گے، چیلے گروئوں پر لعنت بھیجیں گے۔ اور گرو چیلوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے۔ تابع اور متبوع ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ (دیکھئے بقرہ :166)
Read the full tafseer →(29:25) مودۃ۔ محبت۔ دوستی۔ مصدر ہے ۔ اور مصادر بھی اسی مادہ (ودد) سے آئے ہیں۔ ود، ود، ود وداد، ودادۃ، مودۃ، موددۃ، مودودۃ۔ محبت کرنا۔ ودود بہت محبت کرنے والا۔ دوست۔ تواد (تفاعل) باہم دوستی رکھنا۔ انما اتخذتم من دون اللہ اوثانا مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) مودۃ : اتخذتم کا مفعول لہ ہے ۔ اور ترجمہ ہوگا ! تم اللہ کے سوا بتوں کو معبود اپنی آپس کی دنیوی دوستی کے لئے ٹھہرا لیا ہے۔ (یعنی اس ہم اعتقادی سے تمہاری باہمی محبت بڑھے)
(2) یا ان کی آپس کی محبت ان کے بت پرستی کا سبب ٹھہری۔ ترجمہ ہوگا :۔ تم نے آپس کی دنیوی محبت کی خاطر اللہ کے سوا بتوں کو معبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 27 :
اقتلوا (تم قتل کرو۔ تم مارو) حرقوا (جلاڈالو) ‘ انجی ( اس نے نجات دی) ‘ مودۃ (دوستی۔ محبت) یلعن ( وہ لعنت کرتا ہے) ‘ ماوی ( ٹھکانا) ‘ مھاجر ( ہجرت کرنے والا) وھبنا (ہم نے دیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 27 :
ان آیات سے پہلے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جارہا تھا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور کمزوریوں کو ظاہر کرکے ان کو خالص توحید کی دعوت دی تو چاروں طرف ایک شورمچ گیا۔ اور قوم نے کہنا شروع کیا کہ ابراہیم کو یا تو قتل کردینا جائے یا آگ میں جلا کر بھسم کردیا جائے چونکہ ان کے پاس کوئی دلیل تو موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(ف 1) پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے وعظ شروع کیا کہ آج دنیا میں جو تم نے اللہ کے سواجوبت بنارکھے ہیں اور ان کی پرستش کرتے ہو اور وہ خدا جس نے تم کو پیدا کیا اس کی عبادت سے بالکل غافل ہو تو بس یہ تمہارے درمیان بتوں کی دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے پھر قیامت کے دن کچھ کام نہ آئے گی بت اپنے پجاریوں سے بےزار ہوں گے اور سردار اپنے ماننے والوں سے ، اور ماننے والے سرداروں پر لعنت کریں گے اور سردار ماننے والوں پر، غرج یہ کہ ایک دوسرے سے بےزار ہوگا اور لعنت کرے گا اور اگر تم اس بت پرستی سے باز نہ آئے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں کہ جس کی مدد سے تم اس عذاب سے نجات پاؤ گے پس اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
[10] مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے بڑوں کو غلط طریقے پر پایا اور ان کی محبت کی وجہ سے ان کی پیروی کی اور یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی ایک غلط طریقے پر ہوتا ہے اور باوجودیکہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہوتی ہے لیکن قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کے دباؤ کی وجہ سے اسی غلط طریقے پر جما رہتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 2 یعنی پیر اور مرید کے مشرکانہ تعلقات بس یہیں تک ہیں ۔ قیامت کے دن یہ لوگ ایک دوسرے سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کریں گے ۔
حل لغات : اوثانا ۔ وثن کی جمع ہے ۔ یعنی بت ۔
Read the full tafseer →25۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ تم نے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا رکھا ہے تو بس محض دنیوی زندگی کے باہمی مروت و محبت کے تعلقات کی بنا پر بنا رکھا ہے پھر قیامت کے دن تم میں سے ایک دوسرے کی مخالفت کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمہارا ٹھکانہ اس وقت دوزخ کی آگ ہوگا اور تمہاری کوئی مدد کرنیوالا نہ ہوگا ۔ یعنی تم جو بت پرستی میں مبتلا ہو اور تم نے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اصنام کو اپنا معبود بنا رکھا ہے یہ محض آپس کی دیکھا دیکھی اور آپس کے تعلقات اور باہمی رشتہ دراریوں اور برادری کی مروت کی وجہ سے ہے کہ کوئی رشتہ داری اور باہمی تعلقات کی وجہ سے نکو…
Read the full tafseer →ف 1۔ چناچہ مشاہدہ ہے کہ اکثر آدمی اپنے علاقہ اور دوستی اور رشتہ والوں کے طریق پر رہتا ہے، یا تو اس وجہ سے حق میں غور ہی نہیں کرتا، اور یا سمجھ کر بھی ڈرتا ہے کہ یہ سب چھٹ جاویں گے۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت جو انہوں نے قوم سے الگ ہوتے وقت ان کو کی تھی :
25۔ قوم کے لوگوں نے اپنی جگہ خفیہ تدبیریں کیں اور قدرت الہی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اپنے قانون کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کو اس زیادتی سے نجات دے تو قدرت الہی کا ہاتھ ہی کامیاب ہونا تھا اور وہی ہوا ابراہیم (علیہ السلام) کو وہاں سے ہجرت کر جانے کا حکم صادر فرمایا اور آپ ہجرت کر کے جب نکلنے والے تھے تو ایک بار دوبارہ قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ لوگو ! تم نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر اوثان کو اپنا لیا ہے اور جو کچھ تم نے کیا ہے محض اس دنیوی زندگی کے تعلقات کی خاطر کیا ہے کہ تم کو ایک دوسرے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
Commentary
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي (So Lut believed in him and he (Ibrahim علیہ السلام) said, "I am going to leave my homeland towards my Lord. - 29:2, 6). Sayyidna Lut (علیہ السلام) was the nephew of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . He was the very first one to accept faith after watching the miracle of Ibrahim (علیہ السلام) in the fire of Namrild. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) planned to migrate from his hometown, Kutha - a township of Kufah - along with his wife Sayyidah Sarah, who was his cousin and had accepted Islam, and Sayyidna Lut (علیہ…
Read the full tafseer →41 The Prophet Abraham must have said this after his safe deliverance tram the fire.
42 That is, "You have built up your collective life on the foundation of idol-worship instead of. God-worship, which can keep you bound together as a nation only to the extent of mudane life. For here in this world people can be got together around any creed, true or false, and any kind of agreement and concord on any belief, however wrong and ill-conceived, can become a means of the establishment of mutual friendships, kinships, brotherhoods, and all other religious, social, cultural, economic and political…
Read the full tafseer →