Explained with ayahs 24–25
عقلی اور نقلی دلائل
حضرت ابراہیم کا یہ عقلی اور نقلی دلائل کا وعظ بھی ان لوگوں کے دلوں پر اثر نہ کرسکا اور انہوں نے یہاں بھی اپنی اس شقاوت کا مظاہرہ کیا جواب تو دلیلوں کا دے نہیں سکتے تھے لہذا اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے اور اپنی طاقت سے سچ کو روکنے لگے کہنے لگے ایک گڑھا کھودو اس میں آگ بھڑکاؤ اور اس آگ میں اسے ڈال دو کہ جل جائے۔ لیکن اللہ نے ان کے اس مکر کو انہی پر لوٹا دیا مدتوں تک لکڑیاں جمع کرتے رہیں اور ایک گڑھا کھود کر اس کے اردگرد احاطے کی دیواریں کھڑی کرکے لکڑیوں میں آگ لگادی جب اس کے شعلے آسمان تک پہنچنے لگے اور اتنی زور کی آگ روشن ہوئی کہ زمین پر کہیں اتنی آگ نہیں دیکھی گئی تو حضرت…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 37
یہاں سے پھر سلسلہ کلام حضرت ابراہیم کے قصے کی طرف مڑتا ہے۔
سورة العنکبوت 38
یعنی حضرت ابراہیم کے معقول دلائل کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ ان کا جواب اگر تھا تو یہ کہ کاٹ دو اس زبان کو جو حق بات کہتی ہے اور جینے نہ دو اس شخص کو جو ہماری غلطی ہم پر واضح کرتا ہے اور ہمیں اس سے باز آنے کے لیے کہتا ہے۔ " قتل کردو یا جلا ڈالو " کے الفاظ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پورا مجمع اس بات پر متفق تھا کہ حضرت ابراہیم کو ہلاک کردیا جائے، البتہ ہلاک کرنے کے طریقے میں اختلاف تھا۔ کچھ لوگوں کی رائے یہ تھی کہ قتل کیا جائے، اور کچھ کی رائے یہ تھی کہ زندہ جلا دیا جائے تاکہ ہر شخص کو عبرت حاصل ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
خلاصہ تفسیر
سو (ابراہیم ؑ کی اس تقریر دلپذیر کے بعد) ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ (آپس میں) کہنے لگے کہ ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو (چنانچہ جلانے کا سامان کیا) سو اللہ نے ان کو اس آگ سے بچا لیا (جس کا قصہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے) بیشک اس واقعہ میں ان لوگوں کے لئے جو کہ ایمان رکھتے ہیں کئی نشانیاں ہیں (یعنی یہ واقعہ کئی چیزوں کی دلیل ہے اللہ کا قادر ہونا، ابراہیم ؑ کا نبی ہونا، کفر و شرک کا باطل ہونا اس لئے یہ ایک ہی دلیل متعدد دلائل کے قائم مقام ہوگئی) اور ابراہیم ؑ نے (وعظ میں یہ بھی) فرمایا کہ تم نے جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو (معبود) تجویز کر رکھا ہے، بس یہ تمہارے…
Read the full tafseer →فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہاوحرقوہ فانعبہ اللہ من النار ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (24)
بیچ میں تضمین کی جو آیات آگئی تھیں وہ اوپر کی آیت پر ختم ہوئیں۔ اب اصلی سرگزشت کا بقیہ حصہ پھر سامنے آگیا۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس درد مندانہ دعوت کا جواب ان کی قوم نے دیا تو یہ دیا کہ اس شخص کو یا تو قتل کردو یا جلا دو۔ بالآخر اسی دوسرے رائے پر اتفاق ہوا اور قرآن میں دوسری جگہ یہ تصریح ہے کہ اس کے لئے ایک خفیہ اسکیم بنائی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو دشمنوں کے اس شر سے بچا لیا۔ فرمایا کہ اس واقعہ کے اندر ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان کی راہ اختیار کریں۔
اس میں…
Read the full tafseer →24-1ان آیات سے قبل حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ بیان ہو رہا تھا، اب پھر اس کا بقیہ بیان کیا جا رہا ہے، درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ کی توحید اور اس کی قدرت و طاقت کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سب حضرت ابراہیم ؑ کے وعظ کا حصہ ہے۔ جس میں انہوں نے توحید و معاد کے اثبات میں دلائل دیئے ہیں، جن کا کوئی جواب جب ان کی قوم سے نہیں بنا تو انہوں نے اس کا جواب ظلم و تشدد کی اس کاروائی سے دیا، جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اسے قتل کردو یا جلا ڈالو۔ چناچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کر کے حضرت ابراہیم ؑ کو منجنیق کے ذریعے سے اس میں پھینک دیا۔
24-2یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو گلزار کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
9: حضرت ابراہیم ؑ کے واقعے کے لیے دیکھئے سورة انبیاء :51
Read the full tafseer →فما کان جواب ۔۔۔۔۔ لقوم یؤمنون (24)
” اسے قتل کر دو یا جلا ڈالو “ یہ اس سادہ اور قابل فہم دعوت کا جواب ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش فرمائی۔ جو انہوں نے ان کی عقلوں کے سامنے نہایت ہی قابل فہم انداز میں پیش کی ہے جس طرح کوئی پیش کرتا ہے۔
جب کفر اور سرکشی کھل کر سامنے آگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پوزیشن یہ تھی کہ آپ اس ظلم اور سرکشی کا دفعیہ نہ کرسکتے تھے ، وہ ایک فرد تھے اور ان کا کوئی والی اور مددگار نہ تھا۔ ایک طرف عظیم قوت ہے ، دوسری جانب وہ اکیلے کھڑے ہیں۔ اس لیے ایسے حالات میں دست قدرت بھی کھل کر ان کا ساتھ دیتا ہے۔ ایک خارق عادت معجزہ نمودار ہوتا ہے۔ ایک ایسا معجزہ جو…
Read the full tafseer →2 یعنی ابراہیم کی تمام معقول باتیں اور دلائل وبراہین سن کر جب ان کے ہم قوم جواب سے عاجز ہوئے تو قوت کے استعمال پر اتر آئے اور آپس میں مشورہ کیا کہ یا تو قتل کر کے ایک دم ان کا قصہ ہی تمام کردو اور یا آگ میں جلاؤ شاید تکلیف محسوس کر کے اپنی باتوں سے باز آجائے تو نکال لیں گے ورنہ راکھ کا ڈھیر ہو کر رہ جائے گا۔
3 یعنی انہوں نے مشورہ کر کے آگ میں ڈال دیا، مگر حق تعالیٰ نے آگ کو گلزار بنادیا۔ جیسا کہ سورة " انبیاء " میں مفصلاً گزر چکا ہے۔
4 یعنی اس واقعہ سے سمجھا دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے سچے بندوں کو کس طرح بچا لیتا ہے۔ اور مخالفین حق کو کس طرح خائب و خاسر کرتا ہے۔ نیز یہ معلوم ہوا کہ ہر چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 25 وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًالا مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج ”
یہ بہت اہم بات ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ میں تمہیں متنبہّ کرچکا ہوں کہ تم لوگ جن بتوں کو پوجتے ہو ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے اور ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ میرے سمجھانے پر تم لوگ یہ بات سمجھ بھی چکے ہو ‘ اس سلسلے میں حق تم لوگوں پر پوری طرح منکشف بھی ہوچکا ہے اور تمہارے دل اس بارے میں حق کی گواہی بھی دے چکے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود بھی تم لوگ اگر بتوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو اور گمراہی کا راستہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو ‘ تو اس کی اصل…
Read the full tafseer →36 حضرت ابراہیم کے حالات کے درمیان آیت نمبر 19 سے لے کر آیت نمبر 23 تک اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام ہے۔ جس میں ربط مضمون کی نسبت سے توحید اور آخرت پر کچھ دلائل پیش کرنے کے بعد اب پھر حضرت ابراہیم کے حالات کی طرف غور کیا جارہا ہے۔
حضرت ابراہیم کے دلائل توحید کا جب قوم ابراہیم سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو وہ اوچھے ہتھیاروں پر اتر ائے اور یہی باطل پرستوں کی عادت ہوتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم کے ان کے بتوں کو توڑنے پھوڑنے کا واقعہ حذف کردیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم نے یہ کام اس لئے کیا تھا کہ قوم پر عملی طور پر واضح کرسکیں کہ ان کے معبود بالکل ناکارہ چیزیں ہیں جو اپنی حفاظت اور اپنے آپ سے نقصان کو دور نہیں…
Read the full tafseer →24۔ ذکر وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا چل رہا ہے۔ ان واقعات پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔
25۔ (نشانیاں اللہ کے قادر مطلق ہونے کہ پیغمبران برحق کے منصور ہونے کی اور کفر وشرک کے باطل ہونے کی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھولے ہوئے ہیں یعنی قرآن کو اور بعث بعد الموت کو یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تو ان کی قوم کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو آخرش اللہ نے ان کو اس آگ سے بچالیا جس میں ان کو ڈالا تھا اس طریقہ سے کہ اس آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیا بلا شبہ اس میں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دینے میں کئی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں ایک اس آگ کا باوجود اس کے…
Read the full tafseer →فما کان جواب قومی الا ان قالو اقتلوہ او حرقوہ . سو ان کی قوم کے پاس سوائے اس بات کے
اور کوئی جواب نہ تھا کہ اس کو مار ڈالو یا اس کو جلا دو ۔
یعنی یہ بات ان میں سے بعض نے بعض سے کہی یا کسی ایک نے کہی اور چونکہ سب اس بات پر راضی تھے اس لئے سب کی طرف قول کی نسبت کردی گئی۔
فانجہ اللہ من النار . پھر اللہ نے ان کو آگ سے نجات دی۔ اس جملہ کا عطف محذوف کلام پر ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا کہ قوم ابراہیم نے ابراہیم کو جلا ڈالنے کے فیصلہ پر اتفاق کرلیا ‘ پھر ان کو آگ میں پھینک دیا ‘ پھر اللہ نے ان کو آگ میں جلنے نہ دیا ‘ بچا لیا کہ آگ کو سرد کردیا اور باعث سلامتی بنا دیا۔
ان فی ذلک لایت لقوم یؤمنون . اس…
Read the full tafseer →(24) اور حضرت ابراہیم ؑ کی توحید خداوندی کی دعوت کے بعد ان کی قوم کا بھی یہی جواب تھا کہ ان کو یا تو قتل کر ڈالویا ان کو آگ میں جلا دو لہذا اللہ تعالیٰ نے صحیح وسالم ان کو اس آگ سے بچا لیا۔
حضرت ابراہیم ؑ کی قوم کے ساتھ جو ہم نے معاملہ کیا اس میں ان حضرات کے لیے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں بڑی نشانیاں ہیں۔
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ : ابراہیم ؑ کی قوم کے لوگ توحید اور آخرت کے متعلق ان کے دلائل کا جواب نہ دے سکے تو تشدد پر اتر آئے اور باطل پرستوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے، ان کے پاس دلیل کا جواب دلیل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ مار دو ، جلا دو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کا ان کے بتوں کو توڑنے کا واقعہ حذف کردیا ہے۔ وہ واقعہ بھی بتوں کے باطل ہونے کی عملی دلیل تھا، جب وہ علمی اور عملی دلائل کے مقابلے میں لاجواب ہوگئے تو سب نے اتفاق کے ساتھ انھیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم اس میں اختلاف تھا کہ انھیں ختم کرنے کا طریقہ کیا ہو، تو وہ آپس میں مشورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
اے محمد ﷺ : تم انہیں کہو زمین میں گھومو، پھرو۔ دیکھو تو اللہ تعالیٰ نے کیسے مخلوق کو پیدا کیا جبکہ تعداد میں وہ کثیر ہیں، ہیبتییں مختلف ہیں، زبان، رنگ اور طبیعتیں مختلف ہیں تم سابقہ قوموں کے مسکن، گھر، آ اور آثار دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسے انہیں ہلا کہ تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو پہچانو۔
ابو عمرو اور ابن کثیر نے النشائۃ شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور دنوں لغتیں ہیں جس طرح رأفۃ اور رآفۃ۔ جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کو پیدا کیا، اسم نشاۃ اور نشائۃ کے ساتھ ہے یہ ابو عمرو بن علاء سے مروی ہے۔
اپنے عدل کے ساتھ جس کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ اور اپنے فضل کے ساتھ جس پر رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ [تو نہیں تھا ] جَوَابَ قَوْمِهٖٓ [ان (علیہ السلام) کی قوم کا جواب ] اِلَّا اَنْ [سوائے اس کے کہ ] قَالُوا [ان لوگوں نے کہا ] اقْتُلُوْهُ [تم لوگ قتل کرو اس کو ] اَوْ حَرِّقُوْهُ [یا جلا کر بھسم کردو اس کو ] فَاَنْجٰىهُ [تو نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] اللّٰهُ [اللہ نے ] مِنَ النَّارِ ۭ [آگ سے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [یقینا نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ایسی قوم کے لئے جو ] يُّؤْمِنُوْنَ [ایمان لاتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا جواب کہ ان کو قتل کر دو یا آگ میں جلا دو
اوپر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور تبلیغ کا ذکر تھا درمیان میں کچھ تنبیہات آگئیں جو قرآن کریم کے مخاطبین سے متعلق ہیں، یہاں سے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے مخالفین کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کی تلقین کی تو ان کی قوم نے یہی کہا کہ ان کو مار ڈالو یا آگ میں جلا دو ، چناچہ قوم نے انہیں آگ میں ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈی ہوجانے کا حکم دے دیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دے دی، وہ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور
قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔
یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
19:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ناصحانہ تبلیغ کا جواب قوم نے یہ دیا کہ اسے قتل کر ڈالو یا اس سے بھی زیادہ عبرتناک ایذاء دو اور اسے آگ میں ڈال کر جلا دو ۔ فانجہ اللہ الخ مشرکین نے آخر انہیں آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے ان کو آگ سے بچا کر صحیح سلامت باہر نکال لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلانے کی کوشش
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم آپ کے درس توحید کا کوئی مدلل جواب دینے کی بجائے تشدد پر اتر آنی ہے ، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ وحرقوہ آپ کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا زندہ جلا دو ۔ یہاں پر تو تفصیلات نہیں ہیں ، البتہ سورة الانبیاء اور بعض دیگر سورتوں میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح آپ نے اپنے باپ اور پھر قوم اور خود نمرود کے ساتھ مناظرہ کیا ، دلائل توحید بیان کیے مگر وہ کوئی مدلل جواب دینے سے عاجز آگئے ، اور انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ یہ…
Read the full tafseer →فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْہُ اَوْ حَرِّقُوْہُ فَاَنْجٰىہُ اللہُ مِنَ النَّارِ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 24
جوب
والجواب يقال في مقابلة السؤال،
والسؤال علی ضربین :
طلب مقال، وجوابه المقال .
وطلب نوال، وجوابه النّوال .
فعلی الأول : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] ،
وعلی الثاني قوله : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، أي : أعطیتما ما سألتما .
( ج و ب ) الجوب
جواب کا لفظ سوال کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے
اور سوال دو قسم پر ہے
( 1) گفتگو کا طلب کرنا اس کا جواب گفتگو ہی ہوتی ہے (2) طلب عطا یعنی خیرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ترکیب : قال جار اللہ الزمخشری مودۃ بالنصب اما باضافۃ او بغیر اضافۃ فعلی الاول التعلیل لتودوا بینکم وعلی الثانی یکون مفعولاً ثانیا علی حذف المضاف اوعلی ان المصدر بمعنی بمفعول ای اتخذتم الاوثان سبب المودۃ بینکم و اتخذ تموھامود وۃ بینکم وقری بالرفع ایضاً باضافۃ فعلی الوجھین یکون خیر الان علی ان ما موصلہ والتقدیران التی اتخذ تموھا اوثاناھی سبب مودۃ بینکم او مودہ بینکم۔
پھر جب مجبوراً ہمارے دربار عدالت میں لائے جاؤ گے تو والذین کفروا بایات اللہ ولقائہٖ وہ جو اللہ کی آیتوں اور اس کے پاس جانے کے منکر ہوگئے ہیں۔ اولئک یئسوا من رحمتی وہ درحقیقت میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں، پس اولئک لہم عذاب الیم ان…
Read the full tafseer →فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلاَّ ٓ اَنْ قَالُوا اقْـتُـلُوْہُ اَوْحَرِّقُوْہُ فَاَنْجٰہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّوْمِنُوْنَ ۔ (العنکبوت : 24)
(پھر حضرت ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا اسے قتل کردو یا اسے جلا ڈالو۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگ سے بچا لیا۔ یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں۔ )
سرگزشت کا بقیہ حصہ، بگڑی ہوئی قوم کا جواب
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایسی زوردار تقریر کے بعد بجائے اس کے کہ اس قوم میں قبولیتِ دعوت کے کوئی آثار پیدا ہوتے انھوں نے بیک زبان کہا کہ اس سرپھرے نوجوان کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے جو خطاب کیا اس کا تذکرہ آیت سولہ اور سترہ میں ہوچکا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کے دلائل دیے گئے جو لوگ عقیدہ توحید کا انکار کرتے ہیں ان کی سزا بیان کی گئی۔ یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ کفار اپنے عقیدہ کی وجہ سے اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا رد عمل بیان کیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں قوم کا رد عمل تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں یا پھر اسے آگ میں جلا دیا جائے۔
(قَالُوا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْا اٰلِہَتَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ…
Read the full tafseer →24: فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖ (ان کی قوم کا جواب یہ تھا) کہ قوم ابراہیم (علیہ السلام) کا اس وقت یہ جواب تھا جب آپ نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی۔ اِلَّآ اَنْ قَالُوْ اقْتُلُوْہُ اَوْ حَرِّ قُوْہُ (کہ کہنے لگے اس کو قتل کردو یا اس کو جلا دو ) ۔ نمبر 1۔ وہ ایک دوسرے کو کہنے لگے۔ یا نمبر 2۔ ان میں سے ایک نے کہا اور باقی اس پر خوش تھے۔ تو وہ تمام ہی کہنے والوں کے حکم میں ہوگئے۔ سب نے ان کو جلانے پر اتفاق کیا۔ فَاَنْجٰہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ (پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ سے بچا لیا) ۔ جبکہ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بیشک اس میں) ۔ جو کچھ کہ انہوں نے کہا اور…
Read the full tafseer →24۔ فماکان جواب قومہ الاان قالوا اقتلوہ، ،، ، اور ہم نے اس آگ کو آپ پر ٹھنڈی کردیا اور سلامت والی بنادی ، ان فی ذالک لایات القوم یومنون۔
Read the full tafseer →24۔ اوپر ایک جگہ یہ بات گزر چکی ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیا اور پچھلی امتوں کا ذکر جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہر ایک مقام میں تاریخی ثبوت کے طور پر اللہ تعالیٰ کو ایک نئی بات لوگوں کے ذہن میں ان قصوں سے جمانی منظور ہوئی ہے چناچہ یہاں اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو جانچتا ہے تاکہ جانچ کے وقت وہ صبر کریں اور اس صبر کے اجر میں اللہ تعالیٰ ان کو بڑے بڑے رتبے عقبیٰ میں عنایت فرماوے اب حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک جانچ کے طور پر ان کی امت کے اچھے لوگوں کو یا خود انبیا کو طرح طرح کی تکلیفیں جو پہنچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت نمبر (23)
اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس سے بھلائی زائل ہوگئی اور ان کو شر حاصل ہوا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو جھٹلایا ان کے پاس دنیا کے سوا کچھ نہیں اسی لئے انہوں نے شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کے دلوں میں کوئی ایس چیز نہیں جو انہیں ان گناہوں کے انجام سے ڈرائے اس لئے فرمایا :” یہ لوگ میرے رحمت سے ناامید ہوگئے۔ “ یعنی ان کے پاس کوئی ایسا سبب نہ ہوگا جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ ورہوں ورنہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید ہوتی تو اس رحمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →27 حضرت ابراہیم کو اپنی قوم کی طرف سے نہایت ہولناک دھمکی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ قتل کردو اس کو یا جلا ڈالو اسے۔ سو اس طرح ان اہل کفر و شرک کی طرف سے حضرت ابراہیم کو قتل کی انتہائی ہولناک دھمکی دی گئی اور باطل پرستوں کی ہمیشہ یہی روش اور یہی تکنیک رہی ہے کہ وہ حجت و دلیل کے میدان میں عاجز آنے کے بعد اس طرح کی دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ چناچہ آج کے قبر پرستوں، تعزیہ پرستوں اور دوسرے سب باطل پرستوں میں بھی یہ چیز قدر مشترک کے طور پر آپ کو ہر جگہ نظر آئے گی۔ بہرکیف حضرت ابراہیم کی دردمندانہ دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ :
(1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔
(2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔
(3) اسی کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارومعارف
کفار جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔
کفار دلائل میں تو ابراہیم سے عاجز آگئے مگر کہنے لگے کہ انہیں قتل کردیا جائے اور وہ بھی ایسے دردناک طریقے سے کہ زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے غرض وہ ایسا کر گزرے لیکن اللہ نے اس آگ سے محفوظ رکھا۔ اہل ایمان کے لیے تو اس واقعہ میں بہت بڑے دلائل ہیں کہ کفار کی ایذا پر استقامت اختیار کی جانی…
Read the full tafseer →6 ۔ ” ان کو آگ میں ڈال دیا “ کی اگرچہ آیت میں تصریح نہیں ہے لیکن بعد کے جملہ ” اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ سے بچا دیا “ سے خود بخود نکلتی ہے۔ باقی رہا آگ کا ٹھنڈا ہونا تو اس کی تصریح سورة انبیا کی اس آیت میں کردی گئی ہے : قلنا یا نارکونی بردا و سلاما علی ابرایم۔ (آیت :69) ہم نے کہا اے آگ ابراہیم ( علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈک اور راحت بن جا۔ “ ظاہر ہے کہ اگر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا ہی نہ گیا ہو تو آگ کو یہ حکم دینے کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں اور نہ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگ سے بچا یا۔ 7 ۔ کہ کس طرح حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے خاندان اور اپنی قوم کی…
Read the full tafseer →(29:24) فما کان جواب قومہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کلام جو آیۃ 18 کے ساتھ ختم ہوا ۔ یہاں ان کی قوم کی طرف سے جواب بیان ہوتا ہے۔
فانجہ میںفصیحت کا ہے یعنی فالقوہ فی النار فانجہ اللہ منھا۔ یعنی انہوں نے اس کو آگ میں ڈالا۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ سے بچا لیا۔ (نیز ملاحظہ ہو ( آیات 21:68 تا 70) سورة الانبیائ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 27 :
اقتلوا (تم قتل کرو۔ تم مارو) حرقوا (جلاڈالو) ‘ انجی ( اس نے نجات دی) ‘ مودۃ (دوستی۔ محبت) یلعن ( وہ لعنت کرتا ہے) ‘ ماوی ( ٹھکانا) ‘ مھاجر ( ہجرت کرنے والا) وھبنا (ہم نے دیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 27 :
ان آیات سے پہلے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جارہا تھا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوری قوم کے سامنے ان کے بتوں کی بےبسی اور کمزوریوں کو ظاہر کرکے ان کو خالص توحید کی دعوت دی تو چاروں طرف ایک شورمچ گیا۔ اور قوم نے کہنا شروع کیا کہ ابراہیم کو یا تو قتل کردینا جائے یا آگ میں جلا کر بھسم کردیا جائے چونکہ ان کے پاس کوئی دلیل تو موجود…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا مشورہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم کی قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی باتیں سن کر آپس میں کہا حضرت ابراہیم کو مارڈالو یا آگ میں جلادو چناچہ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آگ ہی میں جلانا چاہیے ، تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک میدان میں اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا، پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی ، پھر انہوں نے ابراہیم کو اس آگ میں ڈال دیا ان کا حامی مددگار اللہ ذوالجلال تھا اس لیے حضرت ابراہیم پر وہ آگ ٹھنڈی اور راحت والی ہوگئی ابراہیم وہاں سے صحیح وسالم نکلے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
[10] مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے بڑوں کو غلط طریقے پر پایا اور ان کی محبت کی وجہ سے ان کی پیروی کی اور یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی ایک غلط طریقے پر ہوتا ہے اور باوجودیکہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہوتی ہے لیکن قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کے دباؤ کی وجہ سے اسی غلط طریقے پر جما رہتا ہے۔
Read the full tafseer →نار نمرود میں تحویل و تبدیل
1: یہاں سے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کا بیان فرمایا ہے کہ جب انہوں نے اللہ کے پیغام کو بابل کے کونے کونے میں پہنچادیا ۔ اور بتوں کی بےچارگی اور عجز کو سختی کے ساتھ بیان کیا ۔ اور توجہ کی تائید میں ایسے دلائل قاہرہ ارشاد فرمائے کہ منکرین سے کوئی جواب نہ بن پڑا ۔ تو انہوں نے کہا ۔ کہ اس کو زندگی سے محروم کردو ۔ مارڈالو ۔ اور آگ میں جھونک دو ۔ یہ ہمارے مذہب اور دین کے لئے زبردست خطرہ ہے ۔ چناچہ آگ کا ایک بڑا الاؤ تیار کیا گیا ۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا امتحان ہونے لگا ۔ منکرین اور کفار کی جماعت خوش تھی ۔ کہ ہمارے بتوں کی توہین کرنے والا چشم…
Read the full tafseer →24۔ پس ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے پاس اس بہترین تقریر کے بعد اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے یا تو اس کو قتل کر ڈالو یا اسے جلا ڈالو ۔ حضرت حق تعالیٰ فرماتا ہے سو اللہ تعالیٰ نے اس ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دے دی اور آگ سے بچا لیا بلا شبہ اس واقعہ ابراہیمی میں ان لوگوں کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے اور یقین لاتے ہیں ۔ اس آگ کی تفصیل سورة انبیاء میں گزرچکی ہے۔ آگ روشن کی گئی اللہ کے اولو العزم پیغمبر کو ڈال دیا مگر آگ اثر نہ کرسکی اور وہ زندہ سلامت آگ میں سے نکلے اور نمرود کی حکومت سے ہجرت فرمائی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر سے حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی یہ واقعہ کئی مدلول کی دلیل ہے اللہ کا قادر ہونا، ابراہیم (علیہ السلام) کا نبی ہونا، کفر و شکر کا باطل ہونا، پس دلیل و احد باعتبار تعدد مدلول کے بجائے متعدد دلائل کے ہوگئی۔
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے جواب دیا کہ اس کو پکڑ لو اور جلا دو اللہ نے اس کو بچالیا :
24۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ سنا جس کا ذکر پیچھے سورة الانعام کی آیات 74 تا 82 میں کیا جا چکا ہے جو وعظ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کے سارے مشرک گروہوں کو مخاطب کرکے جن میں سورج کی پرستش کرنے والے ‘ ستاروں کی پرستش کرنے والے ‘ چاند کی پرستش کرنے والے اور دوسرے سارے مشرکوں کو مخاطب کر کے کیا تھا جب کہ علاقے کے اندر ہر طرح کے شرک کرنے موجود تھے بلاشبہ وہ آپس میں بہت اختلاف رکھتے تھے اور ایک دوسرے کو دوسرے کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتے تھے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
Commentary
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي (So Lut believed in him and he (Ibrahim علیہ السلام) said, "I am going to leave my homeland towards my Lord. - 29:2, 6). Sayyidna Lut (علیہ السلام) was the nephew of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . He was the very first one to accept faith after watching the miracle of Ibrahim (علیہ السلام) in the fire of Namrild. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) planned to migrate from his hometown, Kutha - a township of Kufah - along with his wife Sayyidah Sarah, who was his cousin and had accepted Islam, and Sayyidna Lut (علیہ…
Read the full tafseer →37 From here the discourse again turns to the story of the Prophet Abraham.
38 That is, they had no answer to the Prophet Abraham's rational arguments. The only answer they gave was: "Cut off the tongue that talks the truth and Iet not the person live, who points out our error and tells us to give it up. " The words, "Kill him or burn him", indicate that the whole crowd was unanimous that the Prophet Abraham should be put to death. However, they differed about the method. Some said that he should be killed, and others said that he should be burnt alive, so that no one in future should dare…
Read the full tafseer →