Explained with ayahs 19–23
تمام نشانیاں
دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 36
یعنی ان کا کوئی حصہ میری رحمت میں نہیں ہے۔ ان کے لیے کوئی گنجائش اس امر کی نہیں ہے کہ وہ میری رحمت میں سے حصہ پانے کی امید رکھ سکیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا تو خود بخود ان وعدوں سے فائدہ اٹھانے کے حق سے بھی وہ دست بردار ہوگئے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں سے کیے ہیں، پھر جب انہوں نے آخرت کا انکار کیا اور یہ تسلیم ہی نہ کیا کہ انہیں کبھی اپنے خدا کے حضور پیش ہونا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے خدا کی بخشش و مغفرت کے ساتھ کوئی رشتہ امید سرے سے وابستہ ہی ہیں کیا ہے۔ اس کے بعد جب اپنی توقعات کے خلاف وہ عالم آخرت میں آنکھیں کھولیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
خلاصہ تفسیر
کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے (عدم محض سے وجود میں لاتا ہے) پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی آسان بات ہے (بلکہ ابتدائی نظر میں دوبارہ پیدا کرنا اول آفرینش سے زیادہ سہل ہے، گو قدرت ذاتیہ کے اعتبار سے دونوں مساوی ہیں اور یہ لوگ امر اول یعنی اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے کا تو اعتراف کرتے تھے، لقولہ تعالیٰ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ الخ اور امر ثانی یعنی دوبارہ پیدا کرنا اسی کے مماثل ہے اس کا داخل قدرت ہونا اور زیادہ واضح ہے اس لئے اَوَلَمْ يَرَوْا اس سے بھی متعلق ہوسکتا ہے اور زیادہ…
Read the full tafseer →والذین کفروا بایت اللہ ولقائہ اولئک یئسوا من رحمتنی اولئک لھم عذبا الیم (23)
یئسعا یہا حرموا اور بعدوا کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ لوگ ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت و عنایت سے محروم ہوئے۔ اس لفظ میں حرموا کے بالمقابل زیادہ زو رہے۔ بعض اوقات کسی چیز سے محروم اس کے دوبارہ حصول کی امید کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ محرومی زیادہ دل شکنی نہیں ہوتی۔ کفار کو آخرت میں خدا کی رحمت سے جو محرومی ہوگی وہ کامل مایوسی کے ساتھ ہوگی۔ ان کے لئے امید کے دروازے ہمیشہ کے واسطے بند ہوجائیں گے۔
فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا، جو آج ان کو سنائی جا رہی ہیں اور خدا کے حضور پیشی کا، جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے، انکار کیا وہ یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23-1اللہ تعالیٰ کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص اور نیک اور بد سب یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ' میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے ' لیکن آخر میں چونکہ دارالجزاء ہے، انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہوگی، جیسے عمل کئے ہونگے اس کی جزاء اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بےلاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک وبد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الہی کے مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
9: حضرت ابراہیم ؑ کے واقعے کے لیے دیکھئے سورة انبیاء :51
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23)
یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر…
Read the full tafseer →1 یعنی جنہوں نے اللہ کی باتوں کا انکار کردیا اور اس سے ملنے کی امید نہیں رکھی۔ (کیونکہ وہ بعث بعد الموت کے قائل ہی نہ ہوئے) انھیں رحمت الٰہی کی امید کیونکر ہوسکتی ہے۔ لہذا وہ آخرت میں بھی محرم و مایوس ہی رہیں گے۔ یہ گویا (مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاۗءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ ) 29 ۔ العنکبوت :5) کا عکس ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 25 وَقَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًالا مَّوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج ”
یہ بہت اہم بات ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ میں تمہیں متنبہّ کرچکا ہوں کہ تم لوگ جن بتوں کو پوجتے ہو ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے اور ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ میرے سمجھانے پر تم لوگ یہ بات سمجھ بھی چکے ہو ‘ اس سلسلے میں حق تم لوگوں پر پوری طرح منکشف بھی ہوچکا ہے اور تمہارے دل اس بارے میں حق کی گواہی بھی دے چکے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود بھی تم لوگ اگر بتوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو اور گمراہی کا راستہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو ‘ تو اس کی اصل…
Read the full tafseer →35 اللہ کی آیات سے انکاری درحقیقت اللہ کی رحمت سے دوری کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یعنی جو لوگ عقیدہ آخرت، اللہ سے ملاقات اور بعث بعدالموت کے منکر ہیں انھیں رحمت الٰہی کی امید کیونکر ہوسکتی ہے جبکہ وہ اس بات کے قائل ہی نہیں۔ لہذا وہ آخرت میں اللہ کی رحمت سے محروم اور مایوس ہی رہیں گے پہلے یہ بتلایا جاچکا ہے کہ جو شخص اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں تو انھیں یقین رکھنا چاہئے کہ ان کی موت جلد ہی آنے والی ہے (29: 5) یعنی موت کے فوراً بعد اللہ کی رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لے گی۔ یہ دونوں طرح کی آیات ایک دوسری کا عکس ہیں۔
Read the full tafseer →23۔ (قیامت کے دن) یعنی جب انکشاف حقائق کا وقت ہوگا تو انہیں خود مشاہدہ ہوجائے گا کہ ہم تو محل رحمت ہی نہیں ! (آیت) ” یئسوا “۔ صیغہ ماضی ہے لیکن یہاں مضارع کے معنی کھلے ہوئے ہیں، اور جس مستقبل کا تحقق یعنی ہے اس کے لیے ماضی کا صیغہ لے آنے کا دستور عربی فن بلاغت میں عام ہے۔ (آیت) ” رحمتی۔ عذاب الیم “۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ عذاب کو یوں بھی مطلق چھوڑ دینا اور رحتم کا انتساب اپنی جانب صیغہ واحد متکلم کے ساتھ کرنا، یہ خود غلبہ رحمت الہی کے آثار میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھولے ہوئے ہیں یعنی قرآن کو اور بعث بعد الموت کو یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تو ان کی قوم کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو آخرش اللہ نے ان کو اس آگ سے بچالیا جس میں ان کو ڈالا تھا اس طریقہ سے کہ اس آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیا بلا شبہ اس میں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دینے میں کئی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں ایک اس آگ کا باوجود اس کے…
Read the full tafseer →والذین کفروا بایت اللہ . اور جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ یعنی اللہ کی وحدانیت کے دلائل اور ان
آیات کا انکار کیا جو اللہ نے اپنی کتابوں میں نازل فرمائی ہیں۔
ولقآۂ . اور اللہ سے ملنے کا ‘ یعنی قیامت کا۔
اولئک یئسوا من رحمتی . وہ (قیامت کے دن) میری رحمت سے ناامید ہوں گے۔ یا رحمت سے مراد
ہے جنت ‘ یعنی کافر دنیا میں ہی جنت سے ناامید ہیں کیونکہ قیامت کے ہی منکر ہیں۔
واولئک لھم عذاب الیم . اور انہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔ اگر یہ حضرت ابراہیم کے کلام کا حصہ ہے تو لفظ قال اللہ محذوف ہوگا ‘ یعنی اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ جنہوں نے کفر کیا اور اگر حضرت ابراہیم کے کلام کا جز اس کو نہ قرار دیا…
Read the full tafseer →(23) اور جو لوگ یعنی یہود و نصاری اور تمام مشرکین رسول اکرم ﷺ اور بعث بعد الموت کے منکر ہیں تو یہ لوگ میری جنت سے ناامید ہوں گے اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَلِقَاۗىِٕهٖٓ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا میں عام ہے، جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص، نیک اور بد یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا
ہے۔ یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا : (وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ) [ الأعراف : 156 ] ”اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے۔“ لیکن آخرت چونکہ دار الجزاء ہے۔ انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنا ہوگی، جیسے عمل کیے ہوں گے ویسی ہی جزا اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
اے محمد ﷺ : تم انہیں کہو زمین میں گھومو، پھرو۔ دیکھو تو اللہ تعالیٰ نے کیسے مخلوق کو پیدا کیا جبکہ تعداد میں وہ کثیر ہیں، ہیبتییں مختلف ہیں، زبان، رنگ اور طبیعتیں مختلف ہیں تم سابقہ قوموں کے مسکن، گھر، آ اور آثار دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسے انہیں ہلا کہ تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو پہچانو۔
ابو عمرو اور ابن کثیر نے النشائۃ شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور دنوں لغتیں ہیں جس طرح رأفۃ اور رآفۃ۔ جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کو پیدا کیا، اسم نشاۃ اور نشائۃ کے ساتھ ہے یہ ابو عمرو بن علاء سے مروی ہے۔
اپنے عدل کے ساتھ جس کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ اور اپنے فضل کے ساتھ جس پر رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [اور جن لوگوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی آیات کا ] وَلِقَاۗىِٕهٖٓ [اور اس کی ملاقات کا ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ہیں ] يَىِٕسُوْا [جو مایوس ہوئے ] مِنْ رَّحْمَتِيْ [میری رحمت سے ] وَاُولٰۗىِٕكَ [اور وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [جن کے لئے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ایک دردناک عذاب ہے۔
نوٹ۔ 1: زیرمطالعہ آیت۔ 19 ۔ سے آیت 23 تک ایک جملہ معتر ضہ ہے جو حضرت ابراہیم کے قصے کا سلسلہ منقطع کرکے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔ اور اس دنیا کے مظاہر پر غور کرنے کی دعوت دی ہے کہ توحید ، قیامت اور جزاء و سزا کے لئے باہر سے دلیل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے…
Read the full tafseer →(وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ لِقَآءِہٖٓ) (الآیۃ) (اور جو لوگ اللہ کی آیات اور ملاقات کے منکر ہوئے وہ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا) اس وقت سمجھ لیں گے کہ ہم اپنے کفر کی وجہ سے اس لائق نہیں ہیں کہ ہم پر رحم کیا جائے اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور
قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔
یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
19:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ناصحانہ تبلیغ کا جواب قوم نے یہ دیا کہ اسے قتل کر ڈالو یا اس سے بھی زیادہ عبرتناک ایذاء دو اور اسے آگ میں ڈال کر جلا دو ۔ فانجہ اللہ الخ مشرکین نے آخر انہیں آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے ان کو آگ سے بچا کر صحیح سلامت باہر نکال لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) :
جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ وَلِقَاۗىِٕہٖٓ اُولٰۗىِٕكَ يَىِٕسُوْا مِنْ رَّحْمَتِيْ وَاُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 23
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ترکیب : قال جار اللہ الزمخشری مودۃ بالنصب اما باضافۃ او بغیر اضافۃ فعلی الاول التعلیل لتودوا بینکم وعلی الثانی یکون مفعولاً ثانیا علی حذف المضاف اوعلی ان المصدر بمعنی بمفعول ای اتخذتم الاوثان سبب المودۃ بینکم و اتخذ تموھامود وۃ بینکم وقری بالرفع ایضاً باضافۃ فعلی الوجھین یکون خیر الان علی ان ما موصلہ والتقدیران التی اتخذ تموھا اوثاناھی سبب مودۃ بینکم او مودہ بینکم۔
پھر جب مجبوراً ہمارے دربار عدالت میں لائے جاؤ گے تو والذین کفروا بایات اللہ ولقائہٖ وہ جو اللہ کی آیتوں اور اس کے پاس جانے کے منکر ہوگئے ہیں۔ اولئک یئسوا من رحمتی وہ درحقیقت میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں، پس اولئک لہم عذاب الیم ان…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَلِقَـآئِہٖٓ اُوْلٰٓئِکَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَاُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (العنکبوت : 23)
(اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ )
امید اور محرومی میں قول فیصل
یہ عجیب بات ہے کہ دنیا میں ہر امید کے بہت سے اسباب ہیں اور ہر مصیبت سے بچ نکلنے کے بہت سے وسائل ہیں۔ اس لیے آدمی دونوں طرح کے احساسات کے تحت مختلف آستانوں کی دریوزہ گری کرتا اور مختلف سہاروں کی تلاش کرتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی اطاعت اور فرماں برداری کے حوالے سے امید کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ انسان کو صرف زندہ ہی نہیں کرے گا بلکہ اپنی بارگاہ میں حاضر فرماکر صحیح عقیدہ اور نیک عمل کرنے والوں پر رحم فرمائے اور برے لوگوں کو سزا دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی مہربانی اور بخشش کے اصول بتلا دیے ہیں اور اپنی گرفت اور سزا کا بھی قانون واضح کیا ہے۔ بخشش اور عذاب کے اصول بتلانے کے باوجود اسے کامل اختیا رحاصل ہے کہ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے۔ اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمانوں میں کوئی عاجز اور بےبس کرنے والا نہیں ہے۔ تاہم اس کا فرمان ہے کہ مشرک اور کافر کے علاوہ جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور ہر کسی نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا…
Read the full tafseer →23: وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَلِقَآپہٖ (اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا اور اس کی ملاقات کا انکار کیا) ۔ آیات سے مراد وحدانیت کے دلائل اور کتب الٰہیہ اور معجزات اُولٰٓپکَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ (وہ میری رحمت سے ناامید ہونگے) ۔ رحمت سے جنت مراد ہے۔ وَاُولٰٓپکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے) ۔
Read the full tafseer →23۔ والذین کفروا بایات اللہ ولقائہ، اللہ کی آیات سے مراد قرآن پاک اور قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے پر یقین۔ او لئک یئسوا من رحمتی ، رحمت سے مراد جنت ہے۔ واولئک لھم عذاب الیم، ، یہ تمام آیات اہل مکہ کے تذکرہ پر ہیں اور ان کو ڈرانے کے لیے ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے جو حضرت ابراہیم کے کلام کے درمیان ذکر کردیا گیا اور اس کے بعد پھر حضرت ابراہیم کے قصہ کی طرف رجوع کیا، اللہ عزوجل شانہ کا ارشاد ہے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–23
13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت نمبر (23)
اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس سے بھلائی زائل ہوگئی اور ان کو شر حاصل ہوا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو جھٹلایا ان کے پاس دنیا کے سوا کچھ نہیں اسی لئے انہوں نے شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کے دلوں میں کوئی ایس چیز نہیں جو انہیں ان گناہوں کے انجام سے ڈرائے اس لئے فرمایا :” یہ لوگ میرے رحمت سے ناامید ہوگئے۔ “ یعنی ان کے پاس کوئی ایسا سبب نہ ہوگا جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ ورہوں ورنہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید ہوتی تو اس رحمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →26 کفر و باطل کا نتیجہ وانجام نہایت دردناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل ِ کفر و باطل کیلئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب مقرر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی آیتوں اور اس کے حضور حاضری و پیشی کے منکروں کے لیے اس کی رحمت سے مایوسی اور دردناک عذاب ہے۔ سو اہل کفر وباطل کے لیے اللہ کی رحمت سے کامل محرومی اور ان کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اللہ پاک کی رحمت کا اصل کامل اور ابدی ظہور تو جنت اور عالم آخرت ہی میں ہوگا۔ جیسا کہ حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ اس دنیا میں جہاں بھی کہیں رحمت کا کوئی مظہر موجود ہے یہ اللہ پاک کی رحمت کے اس سوویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ :
(1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔
(2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔
(3) اسی کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارومعارف
کفار جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔
کفار دلائل میں تو ابراہیم سے عاجز آگئے مگر کہنے لگے کہ انہیں قتل کردیا جائے اور وہ بھی ایسے دردناک طریقے سے کہ زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے غرض وہ ایسا کر گزرے لیکن اللہ نے اس آگ سے محفوظ رکھا۔ اہل ایمان کے لیے تو اس واقعہ میں بہت بڑے دلائل ہیں کہ کفار کی ایذا پر استقامت اختیار کی جانی…
Read the full tafseer →5 ۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی یا قیامت کے دن میری رحمت (جنت) سے مایوس ہوجائیں گے۔ یہ چند آیات کفار مکہ کی تذکیر وتحذیر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور جملہ معترضہ ہیں۔ ان کے بعد پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہو رہا ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(29:23) یئسوا۔ ماضی جمع مذکر غائب یاس مصدر (باب سمع) وہ ناامید ہوگئے ۔ وہ مایوس ہوگیت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 23 :
یبدیٔ(ابتدا کرتا) یعید (وہ لوٹائے گا) ‘ یسیر ( آسان کرتا ہے۔ سہل بناتا ہے) ‘ ینشیٔ(وہ اٹھاتا ہے) معجزین (عاجزو بےبس کرنے والا) ‘ ولی (حمایت کرنے والا) ‘ نصیر ( مدد گار) یئسوا (وہ مایوس ہوگئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 23 :
اللہ تعالیٰ نے سورة الدھر میں انسان کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ
انسان پر ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ کچھ بھی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ یعنی اس کا کوئی وجود نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو انسانی وجودعطا کیا۔ قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو وجود عطا کیا پھر اس پر موت آجائے گی اور پھر ایک وقت وہ آئے گا جب سارے انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ زمین میں سیر کرو اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر عبرت پکڑو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اب پہاڑوں اور درختوں بوٹیوں اور کھیتوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح جس چیز کا ودبارہ پیدا کرنا اس کو منظور ہوگا وہ پیدا کردے گا اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اور یہ دوبارہ پیدا کرنا جزاوسزا کے لیے ہوگا تاکہ پہلی دفعہ کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے۔ اس سزا کے وقت تم آسمان اور زمین میں کہیں بھاگ نہ سکو گے اس لیے تم اللہ کو اپنا معبود ٹھہراؤ، اس لیے شرک کے مواخذہ میں پکڑ لیے گئے تو تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ وہ تم کو گرفتار نہ کرسکے، غرض کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عاجز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
[10] مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے بڑوں کو غلط طریقے پر پایا اور ان کی محبت کی وجہ سے ان کی پیروی کی اور یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی ایک غلط طریقے پر ہوتا ہے اور باوجودیکہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہوتی ہے لیکن قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کے دباؤ کی وجہ سے اسی غلط طریقے پر جما رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 1: غرض یہ ہے کہ غور وفکر بھی عالم حشر کے امکانات پر روشنی ڈالتا ہے ۔ اور تجربہ وآزمائش بھی ۔ ارشاد ہے کہ تم زمین میں چل کر دنیا پر نظر دوڑاؤ۔ اور دیکھو ۔ کہ کیا کائنات کی ہر چیز یہ نہیں بتارہی ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔ اور نشاۃ آخری کے تسلیم کرلینے میں کیا تاتل ہوسکتا ہے بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات اور شکوک اس وقت پیدا ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کی قدرتوں پر ایمان نہ ہو ۔ اور جب اس کو تسلیم کرلیا جائے ۔ تو پھر تمام اعتراضات اٹھ جاتے ہیں ۔
حل لغات :۔ ینشئی ۔ انشاء سے ہے ، پیدا کرنا یعذب من یشائ۔ جس کو چاہے گا عذاب میں مبتلا کریگا ۔ یعنی اس کے اختیارات میں دنیا کی کوئی قوت حائل نہیں ۔…
Read the full tafseer →23۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے اور اس کے روبرو پیش ہونے کے منکر ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جو قیامت میں میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے درد ناک اور تکلیف دہ عذاب ہے یعنی جب قرآن کریم پر ایمان سے انکار لقاء الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی پیشی سے انکار پھر رحمت خداوندی سے مایوسی نہ ہوگی تو اور کیا ہوگا ایسے ہی بدنصیب رحمت الٰہی سے محروم رہیں گے رحمت سے مایوسی اور محرومی کے بعد عذاب سے ہی واسطہ ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 5۔ پس نہ اپنی تدبیر سے بچ سکے، نہ دوسرے کی حمایت سے۔
Read the full tafseer →جن لوں لوگوں نے آیات قرآنی اور ملاقات الہی کا انکار کیا ان کو عذاب دیا جائے گا :
23۔ گزشتہ آیتوں پر غور وفکر کرکے بتاؤ کہ آیات قرآنی اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے کس نے انکار کیا ؟ ظاہر ہے کہ اس کا ایک اور صرف ایک ہی جواب ہے کہ ان لوگوں نے انکار کیا جو اپنے ظلم سے باز نہ آئے قرآن کریم کی تعلیمات کے خلاف وہ کفر وشرک کے مرتکب ہوئے اور اپنی پوری زندگی میں وہ ظلم وکفر اور شرک سے باز نہ آئے خواہ وہ نام کے مسلمان تھے یا یہود ونصاری یا انہوں نے اپنا کوئی نام رکھا ، اگر ان کا اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ملاقات پر ایمان ہوتا اور آخرت کی فکر ہوتی تو وہ زندگی میں ان گناہوں اور جرائم سے باز کیوں نہ آتے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
Commentary
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي (So Lut believed in him and he (Ibrahim علیہ السلام) said, "I am going to leave my homeland towards my Lord. - 29:2, 6). Sayyidna Lut (علیہ السلام) was the nephew of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . He was the very first one to accept faith after watching the miracle of Ibrahim (علیہ السلام) in the fire of Namrild. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) planned to migrate from his hometown, Kutha - a township of Kufah - along with his wife Sayyidah Sarah, who was his cousin and had accepted Islam, and Sayyidna Lut (علیہ…
Read the full tafseer →36 That is, "They have no share in My mercy, and they should entertain no hope whatever of getting any share of My mercy. When they denied the Revelations of Allah, they themselves gave up their right to benefit by the promises AIIah has made to the believers. Then, when they have denied the Hereafter ahd do not at all believe that one day they will have to stand before their God, it only means that they cherish no hope at all of Allah's pardon and forgiveness. After this when they will open their eyes in the-Hereafter, against their expectations, and will also see the truth of those Signs of…
Read the full tafseer →