Explained with ayahs 19–23
تمام نشانیاں
دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 34
یعنی تم کسی ایسی جگہ بھاگ کر نہیں جاسکتے جہاں اللہ کی گرفت سے بچ نکلو، خواہ تم زمین کی تہوں میں کہیں اتر جاؤ یا آسمان کی بلندیوں میں پہنچ جاؤ، بہرحال تمہیں ہر جگہ سے پکڑ کر لایا جائے گا اور اپنے رب کے سامنے تم حاضر کردیے جاؤ گے۔ یہی بات سورة رحمن میں جنوں اور انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے چیلنج کے انداز میں فرمائی گئی ہے کہ تم خدا کی خدائی سے اگر نکل سکتے ہو تو ذرا نکل کر دکھاؤ، اس سے نکلنے کے لیے زور چاہیے اور وہ زور تمہیں حاصل نہیں ہے، اس لیے تم ہرگز نہیں نکل سکتے۔ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
خلاصہ تفسیر
کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے (عدم محض سے وجود میں لاتا ہے) پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی آسان بات ہے (بلکہ ابتدائی نظر میں دوبارہ پیدا کرنا اول آفرینش سے زیادہ سہل ہے، گو قدرت ذاتیہ کے اعتبار سے دونوں مساوی ہیں اور یہ لوگ امر اول یعنی اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے کا تو اعتراف کرتے تھے، لقولہ تعالیٰ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ الخ اور امر ثانی یعنی دوبارہ پیدا کرنا اسی کے مماثل ہے اس کا داخل قدرت ہونا اور زیادہ واضح ہے اس لئے اَوَلَمْ يَرَوْا اس سے بھی متعلق ہوسکتا ہے اور زیادہ…
Read the full tafseer →وما انتم بمعجزین فی الارض ولا فی السماء زوما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر (22)
اوپر کی باتیں غائب کے اسلوب میں ارشاد ہوئی ہیں۔ اب یہ قریش کو براہ راست خطاب کرکے تنبیہ کی جا رہی ہے تاکہ کلام بالکل مطابق حال ہوجائے۔ فرمایا کہ جب وہ تم کو پکڑنا چاہیے گا تو اس کی پکڑ سے نہ تم زمین میں کہیں اس کے قابو سے باہر نکل سکو گے اور نہ آسمانوں میں۔ نہ یہاں تمہارا کوئی ساتھی اور کارساز بن سکے گا نہ آخرت میں تمہارا کوئی حامی و شفیع ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23-1اللہ تعالیٰ کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص اور نیک اور بد سب یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا ' میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر لیا ہے ' لیکن آخر میں چونکہ دارالجزاء ہے، انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہوگی، جیسے عمل کئے ہونگے اس کی جزاء اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بےلاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک وبد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن و کافر دونوں ہی رحمت الہی کے مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
9: حضرت ابراہیم ؑ کے واقعے کے لیے دیکھئے سورة انبیاء :51
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23)
یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر…
Read the full tafseer →8 یعنی جس کو اللہ تعالیٰ سزا دینا چاہے وہ نہ زمین کے سوراخوں میں گھس کر سزا سے بچ سکتا ہے نہ آسمان میں اڑ کر، کوئی بلندی یا پستی خدا کے مجرم کو پناہ نہیں دے سکتی نہ کوئی طاقت اس کی حمایت اور مدد کو پہنچ سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت 22 وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِز ”
تم زمین یا آسمان میں کہیں بھی کسی بھی طریقے سے اس کے اختیار سے باہر نہیں نکل سکتے۔
وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ”
عربی میں دُوْنَ کا لفظ بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ عبارت کے سیاق وسباق سے پتا چلتا ہے کہ کس جگہ اس کے کون سے معنی مناسب ہیں۔ اس جگہ ”دُوْنِ اللّٰہ“ کا بہتر مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی حمایتی اور مدد گار نہیں ہوگا۔
آیت 18 سے شروع ہونے والا جملہ معترضہ یہاں پر ختم ہوا۔ اب اگلی آیات میں پھر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے جس کا…
Read the full tafseer →34 یعنی نہ تم میں اتنا زور ہے کہ زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ اور نہ اتنی طاقت ہے کہ آسمانوں تک پہنچ جاؤ۔ یہ غالباً اس لئے فرمایا کہ انسان اس زمین کے علاوہ کسی دوسری جگہ زندہ رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کی تمام غذائی اور جسمانی ضروریات اس زمین سے وابستہ ہیں الا یہ کہ چند دنوں کے لئے کوئی عارضی سا بندوبست کرلے اور جب اللہ کی گرفت آجائے تو نہ تم میں اتنا زور ہے کہ اس کی گرفت سے بچ سکو اور نہ کوئی دوسری ہستی اتنی طاقتور ہے کہ وہ اس کے عذاب سے تمہیں پناہ دے سکے یا اس کے عذاب کو روک سکے۔
Read the full tafseer →22۔ یعنی اس کی تعذیب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں، نہ اپنی کسی تدبیر سے بچ سکتے ہو نہ کسی دوسرے کی حمایت ونصرت سے۔ (آیت) ” فی الارض “۔ یعنی تکوینی قوتیں تو ساری کی ساری اسی کی محکوم وتابع تھیں۔ (آیت) ” ولا فی السمآء “۔ نہ آسمان پر کوئی دیوی دیوتا تمہاری مدد کو موجود ہے۔ اسی سے ملتا جلتا ایک مضمون عہد عتیق میں ہے :۔” تیری روح سے میں کدھر جاؤں اور تیری حضوری سے میں کہاں بھاگوں ؟ اگر میں آسمان کے اوپر چڑھ جاؤں تو تو وہاں ہے اگر میں پاتال میں اپنا بستر بچھاؤں تو دیکھ تو وہاں بھی ہے۔ اگر صبح کے پنکھ لے کے میں سمندر کی انتہا میں جارہوں تو وہاں بھی تیرا ہاتھ مجھے لے چلے گا “۔ (زبور، 139: 7۔ 9)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیت نمبر 14 تا 22
ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ…
Read the full tafseer →وما انتم بمعجزین . اور تم (اپنے رب کو) عاجز بنا دینے والے نہیں (کہ اس کی گرفت سے تم آزاد ہو سکو) ۔
فی الارض ولا فی السمآء . زمین میں اور نہ آسمان میں۔ یعنی تم بھاگ کر زمین میں چھپ جاؤ یا زمین کے
غاروں میں گھس جاؤ تب بھی اللہ کے حکم سے نکل نہیں سکتے۔ اسی طرح اگر (بالفرض) آسمان میں اور فلک بوس قلعوں میں پناہ گیر ہوجاؤ تب بھی قضاء خداوندی سے باہر نہیں ہوسکتے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ولا فِی السَّمَآءِ کا مطلب ہو ولا مِنْ فِی السَّمَآء یعنی اللہ کے ان ملائکہ کو بھی عاجز نہیں بنا سکتے جو آسمان میں ہیں ‘ جیسے حضرت حسان کا شعر ہے :
فَمَن یَّھُجُوْ رَسُوْلَ اللہ منکُمْ وَیَمَدْحُہ وَیَنصُرُہٗ سَوَاءٌ
تم…
Read the full tafseer →(22) اے مکہ والو ! نہ تم زمین والوں میں سے کسی کو عذاب الہی سے بچا سکتے ہو اور نہ آسمان والوں میں سے اور عذاب الہی کے مقابلہ مٰن نہ تمہارا کوئی کارساز ہے جو تمہیں فائدہ پہنچائے اور نہ تمہارا کوئی مددگار ہے جو تم سے عذاب الہی کو روک سکے۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ : یہاں یہ سوال ہوسکتا تھا کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے قابو ہی نہ آیا تو وہ اسے اپنے پاس کیسے حاضر کرے گا ؟ لہٰذا فرمایا، تم زمین کے کسی کونے میں چلے جاؤ یا آسمان کے کسی کنارے پر، تم اللہ تعالیٰ کو ہرگز عاجز نہیں کرسکتے کہ وہ تمہیں پکڑ نہ سکے۔ سورة رحمن میں یہی بات فرمائی : (يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ) [ الرحمٰن : 33 ] ”اے جنّ و انس کی جماعت ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
اے محمد ﷺ : تم انہیں کہو زمین میں گھومو، پھرو۔ دیکھو تو اللہ تعالیٰ نے کیسے مخلوق کو پیدا کیا جبکہ تعداد میں وہ کثیر ہیں، ہیبتییں مختلف ہیں، زبان، رنگ اور طبیعتیں مختلف ہیں تم سابقہ قوموں کے مسکن، گھر، آ اور آثار دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسے انہیں ہلا کہ تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو پہچانو۔
ابو عمرو اور ابن کثیر نے النشائۃ شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور دنوں لغتیں ہیں جس طرح رأفۃ اور رآفۃ۔ جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کو پیدا کیا، اسم نشاۃ اور نشائۃ کے ساتھ ہے یہ ابو عمرو بن علاء سے مروی ہے۔
اپنے عدل کے ساتھ جس کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ اور اپنے فضل کے ساتھ جس پر رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتُمْ [اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [عاجز کرنے والے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَلَا فِي السَّمَاۗءِ ۡ [اور نہ ہی آسمان میں ] وَمَا لَكُمْ [اور تمہارے لئے نہیں ہے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے سوا ] مِنْ وَّلِيٍّ [کوئی بھی کارساز ] وَّلَا نَصِيْرٍ [اور نہ کوئی مددگار ] ۔
Read the full tafseer →اسی کو یہاں فرمایا ہے (وَ مَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ) (اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو زمین میں نہ آسمان میں) (وَ مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ ) (اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز اور مددگار نہیں ہے) وہ جس پر چاہے رحم کرے اور جس کی چاہے مدد کرے۔ جب اس کا کسی کو عذاب دینے کا فیصلہ ہوجائے تو کوئی بھی اس کی کسی قسم کی مدد نہیں کرسکتا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور
قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔
یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
19:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ناصحانہ تبلیغ کا جواب قوم نے یہ دیا کہ اسے قتل کر ڈالو یا اس سے بھی زیادہ عبرتناک ایذاء دو اور اسے آگ میں ڈال کر جلا دو ۔ فانجہ اللہ الخ مشرکین نے آخر انہیں آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ نے ان کو آگ سے بچا کر صحیح سلامت باہر نکال لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) :
جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ 0 ۡوَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ 22 ۧ
عجز
والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ،
( ع ج ز ) عجز الانسان
عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
حکایۃ کلام اللہ تعالیٰ لابراھیم او محمد۔ 12 بیضاوی۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآئِ ز وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ۔ (العنکبوت : 22)
(نہ تم زمین میں عاجز کرنے والے ہو اور نہ آسمان میں، اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست اور کوئی مددگار نہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مقابلہ نہیں ہوسکتا
اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی بےپایاں اور بےپناہ ہے کہ تم زمین میں کہیں بھی بھاگ جاؤ اور آسمان پر کہیں بھی چڑھ جاؤ تم اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ تمام اہل زمین کی طاقت مجتمع بھی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کو عاجز نہیں کرسکتی۔ جب اس کی گرفت آتی ہے تو اس کی پکڑ سے کہیں پناہ نہیں ہوتی۔ زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ انسان کو صرف زندہ ہی نہیں کرے گا بلکہ اپنی بارگاہ میں حاضر فرماکر صحیح عقیدہ اور نیک عمل کرنے والوں پر رحم فرمائے اور برے لوگوں کو سزا دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی مہربانی اور بخشش کے اصول بتلا دیے ہیں اور اپنی گرفت اور سزا کا بھی قانون واضح کیا ہے۔ بخشش اور عذاب کے اصول بتلانے کے باوجود اسے کامل اختیا رحاصل ہے کہ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے۔ اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمانوں میں کوئی عاجز اور بےبس کرنے والا نہیں ہے۔ تاہم اس کا فرمان ہے کہ مشرک اور کافر کے علاوہ جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور ہر کسی نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا…
Read the full tafseer →22: وَمآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ (اور تم اپنے رب کو عاجز بنا دینے والے نہیں) ۔ یعنی اگر تم اس کے حکم وقضاء سے بھاگنا چاہو تو اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتے ہو۔ فِی الْاَرْضِ (زمین کی وسعتوں میں) وَلَافِی السَّمَآئِ (اور نہ ہی آسمان میں) جو زمین سے وسیع تر ہے اور اس سے زیادہ پھیلائو والا ہے اگر تم اس میں ہوتے۔ وَمَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ (اور تمہارا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوست نہیں جو تمہارے امور کا ذمہ دار ہو) ۔ وَلَا نَصِیْرٍ (اور نہ مددگار) جو تمہیں میرے عذاب سے بچا سکے۔
Read the full tafseer →22۔ وماانتم بمعجزین فی الارض ولافی السمائ، ،،
سوال : کیا جائے کہ آیت میں فی الارض کی قید تو درست ہے لیکن فی السماء کی قیددرست نہیں کیونکہ خطاب تو صرف آدمیوں کوہ اور آدمیوں کاٹھکانازمین میں ہے نہ کہ آسمان ؟
جواب : فراء نے اسکایہ جواب دیا کہ ، ولافی السمائ، کا معنی ہے ، ولامن فی السمائ، یعنی اللہ کے ان ملائکہ کو بھی عاجز نہیں بناسکتے جو آسمان میں ہیں جیسا کہ حسان بن ثابت کا شعر ہے ،
فمن یھجوا رسول اللہ منکم، ،، ،، ، ویمدحہ وینصرہ سواء ، ،۔
تم میں سے جو لوگ رسول اللہ کی ہجوکریں اور وہ لوگ رسول اللہ کی مدح اور مدد کریں دونوں فریق رسول اللہ کے سامنے برابر ہیں۔
مراد اس سے وہ شخص ہے جو آپ کی مدح کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–23
13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(16-22)
اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا (عبدو اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمہیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ” اور اس سے ڈرو “ کہ وہ تم پر ناراض ہو کر تمہیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امور کو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا بارعث ہیں ” یہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ” تمہارے لیے بہتر ہے۔ “ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔ یہ اسم تفصیل کے ایسے باب میں سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →25 اللہ کے مقابلے میں کوئی مددگار ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہاری یہ جان نہیں کہ تم اللہ کے قابو سے نکل جاؤ نہ کہیں آسمان میں چڑھ کر اور نہ کہیں زمین میں چھپ کر۔ اور تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار "۔ جو تمہیں اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے چھڑا سکے۔ یا کم از کم زبانی کلامی طور پر ہی اظہار ہمدردی کرسکے۔ اس لئے اس ربِّ عزیز و حکیم کی ناراضگی اور اس کی گرفت و پکڑ سے بےفکری اور لاپرواہی برتنا سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یاد رکھو کہ تم لوگ اس بل بوتے کے مالک نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے کہیں نکل بھاگو۔ زمین میں کہیں چھپ کر یا کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ :
(1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔
(2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔
(3) اسی کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22
اسرارو معارف
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
3 ۔ یعنی تم اس کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں بھاگ سکتے۔ جہاں ہو گے یا جہاں جائو گے بہرحال اس کی گرفت میں ہو گے۔ (دیکھئے سورة الرحمن آیت 33) اور جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ولو کنتم فی بروج مشلۃ (قرطبی) 4 ۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تم خود اتنے زور آور ہو کہ کہیں بھاگ کر خدا کی گرفت سے نکل سکو اور نہ تمہارے کوئی حمایتی و مددگار ہیں جو تمہیں خدا کی گرفت سے بچا سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
(29:20) بدا ماضی واحد مذکر غائب بدأ یبدأ (فتح) بدء اس نے شروع کیا اس نے پیدا کیا۔
ینشی مضارع واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر وہ پیدا کرتا ہے۔
النشاۃ الاخرۃ موصوف و صفت، دوسری (بار) پیدائش آخری یا بعد کی پیدائش۔ ثم اللہ ینشی النشاۃ الاخرۃ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک بعد کی پیدائش عمل میں لائے گا۔
تقلبون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ قلب (باب ضرب) سے تم پھیرے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 23 :
یبدیٔ(ابتدا کرتا) یعید (وہ لوٹائے گا) ‘ یسیر ( آسان کرتا ہے۔ سہل بناتا ہے) ‘ ینشیٔ(وہ اٹھاتا ہے) معجزین (عاجزو بےبس کرنے والا) ‘ ولی (حمایت کرنے والا) ‘ نصیر ( مدد گار) یئسوا (وہ مایوس ہوگئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 23 :
اللہ تعالیٰ نے سورة الدھر میں انسان کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ
انسان پر ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ کچھ بھی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ یعنی اس کا کوئی وجود نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو انسانی وجودعطا کیا۔ قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو وجود عطا کیا پھر اس پر موت آجائے گی اور پھر ایک وقت وہ آئے گا جب سارے انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ زمین میں سیر کرو اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر عبرت پکڑو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اب پہاڑوں اور درختوں بوٹیوں اور کھیتوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح جس چیز کا ودبارہ پیدا کرنا اس کو منظور ہوگا وہ پیدا کردے گا اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اور یہ دوبارہ پیدا کرنا جزاوسزا کے لیے ہوگا تاکہ پہلی دفعہ کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے۔ اس سزا کے وقت تم آسمان اور زمین میں کہیں بھاگ نہ سکو گے اس لیے تم اللہ کو اپنا معبود ٹھہراؤ، اس لیے شرک کے مواخذہ میں پکڑ لیے گئے تو تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ وہ تم کو گرفتار نہ کرسکے، غرض کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عاجز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
[10] مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے بڑوں کو غلط طریقے پر پایا اور ان کی محبت کی وجہ سے ان کی پیروی کی اور یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی ایک غلط طریقے پر ہوتا ہے اور باوجودیکہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہوتی ہے لیکن قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کے دباؤ کی وجہ سے اسی غلط طریقے پر جما رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 1: غرض یہ ہے کہ غور وفکر بھی عالم حشر کے امکانات پر روشنی ڈالتا ہے ۔ اور تجربہ وآزمائش بھی ۔ ارشاد ہے کہ تم زمین میں چل کر دنیا پر نظر دوڑاؤ۔ اور دیکھو ۔ کہ کیا کائنات کی ہر چیز یہ نہیں بتارہی ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔ اور نشاۃ آخری کے تسلیم کرلینے میں کیا تاتل ہوسکتا ہے بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات اور شکوک اس وقت پیدا ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کی قدرتوں پر ایمان نہ ہو ۔ اور جب اس کو تسلیم کرلیا جائے ۔ تو پھر تمام اعتراضات اٹھ جاتے ہیں ۔
حل لغات :۔ ینشئی ۔ انشاء سے ہے ، پیدا کرنا یعذب من یشائ۔ جس کو چاہے گا عذاب میں مبتلا کریگا ۔ یعنی اس کے اختیارات میں دنیا کی کوئی قوت حائل نہیں ۔…
Read the full tafseer →22۔ اور نہ تم زمین میں کہیں بھاگ کر عاجز کرسکتے ہو اور نہ تم آسمان میں کہیں بھاگ کرہرا سکتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو سوائے نہ تمہارا کوئی حمایتی ہے اور نہ مدد گار ۔ جب بےبسی کا یہ عالم ہے کہ نہ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں تم اس کو ہرا سکتے ہو نہ تمہارا کوئی سرپرست و حمایتی اور نہ مدد گار تو پھر ایسے مالک و مختار کی نافرمانی کس برتے پر کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 5۔ پس نہ اپنی تدبیر سے بچ سکے، نہ دوسرے کی حمایت سے۔
Read the full tafseer →تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اسکے سوا تمہارا کوئی مدگار نہیں :
22۔ ایک آدمی کفر وشرک میں مبتلا ہے اس کفر وشرک پر اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور اب وہ خود یا کوئی دوسرا چاہئے کہ اس کو اللہ کے عذب سے نجات مل جائے اور پھر وہ موت کے بعد مختلف طرح کے حیلے بہانے نکالے کہ اس کی بخشش ہوجائے گی تو بلاشبہ اس کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے نہ تو وہ خود کسی تدبیر سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کے کام آسکتا ہے کیونکہ آسمان و زمین کی ساری قوتیں اس ذات اقدس کے اپنے قبضہ قدرت میں ہیں کوئی نہیں جو اس کو اس عذاب سے بچا سکے اگر کوئی کہتا ہے تو وہ بلاشبہ جھوٹ کہتا ہے ، اس دنیاوی زندگی میں اگر کوئی بد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
Commentary
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي (So Lut believed in him and he (Ibrahim علیہ السلام) said, "I am going to leave my homeland towards my Lord. - 29:2, 6). Sayyidna Lut (علیہ السلام) was the nephew of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . He was the very first one to accept faith after watching the miracle of Ibrahim (علیہ السلام) in the fire of Namrild. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) planned to migrate from his hometown, Kutha - a township of Kufah - along with his wife Sayyidah Sarah, who was his cousin and had accepted Islam, and Sayyidna Lut (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
34 That is, "You cannot escape Allah's grasp wherever you may flee. Whether you descend into the depths of the earth or climb into the heights of the sky, you will be apprehended in any case and brought before your Lord." The something has been said in Surah Ar-Rahman as a challenge to the jinns and mankind: "O company of jinns and men! If you have the power to escape across the bounds of the earth and heavens, then do escape! You shall not escape, for it requires a great power." (v. 33).
35 That is,"Neither you yourselves have the power that you should escape Allah's grasp, nor is any of…
Read the full tafseer →