Explained with ayahs 19–23
تمام نشانیاں
دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
سورة العنکبوت 33
یعنی جب خدا کی کاریگری سے بار اول کی تخلیق کا تم خود مشاہدہ کر رہے ہو تو تمہیں سمجھنا چاہیے کہ اسی خدا کی کاریگری سے بار دیگر بھی تخلیق ہوگی۔ ایسا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
خلاصہ تفسیر
کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے (عدم محض سے وجود میں لاتا ہے) پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی آسان بات ہے (بلکہ ابتدائی نظر میں دوبارہ پیدا کرنا اول آفرینش سے زیادہ سہل ہے، گو قدرت ذاتیہ کے اعتبار سے دونوں مساوی ہیں اور یہ لوگ امر اول یعنی اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے کا تو اعتراف کرتے تھے، لقولہ تعالیٰ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ الخ اور امر ثانی یعنی دوبارہ پیدا کرنا اسی کے مماثل ہے اس کا داخل قدرت ہونا اور زیادہ واضح ہے اس لئے اَوَلَمْ يَرَوْا اس سے بھی متعلق ہوسکتا ہے اور زیادہ…
Read the full tafseer →یعذب من یشاء ویرحم من یشاء ج والیہ تقلبون (21)
یعنی اس دنیا کے واقعات و حوادث اور اس کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے۔ اس کے اپنے قانون عدل و حکمت کے سوا اور کوئی چیز بھی اس کی مشیت وقدرت پر اثر انداز نہیں ہوتی ہے۔ قرآن میں قوموں کو جو تاریخ بیان ہوئی ہے وہ اس حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ اور یہیں سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آخرت میں بھی عذاب وثواب کا معاملہ تمام تراسی کے اختیار میں ہوگا، کوئی دوسرا اس کے اس اختیار میں مداخلت نہ کرسکے گا۔ وہی اپنے عدل و حکمت کے مطابق جس کو چاہے گا سزا دے گا، جس کو…
Read the full tafseer →21-1یعنی وہی اصل حاکم اور متصرف ہے، اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا تاہم اس کا عذاب یا رحمت، یوں ہی نہیں ہوگی بلکہ اصولوں کے مطابق ہوگی جو اس نے اس کے لئے طے کر رکھے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
9: حضرت ابراہیم ؑ کے واقعے کے لیے دیکھئے سورة انبیاء :51
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23)
یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر…
Read the full tafseer →7 یعنی دوبارہ پیدا کر کے جسے اپنی حکمت کے موافق چاہے گا سزا دے گا اور جس پر چاہے گا اپنے فضل و کرم سے مہربانی فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت 22 وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِز ”
تم زمین یا آسمان میں کہیں بھی کسی بھی طریقے سے اس کے اختیار سے باہر نہیں نکل سکتے۔
وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ”
عربی میں دُوْنَ کا لفظ بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ عبارت کے سیاق وسباق سے پتا چلتا ہے کہ کس جگہ اس کے کون سے معنی مناسب ہیں۔ اس جگہ ”دُوْنِ اللّٰہ“ کا بہتر مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی حمایتی اور مدد گار نہیں ہوگا۔
آیت 18 سے شروع ہونے والا جملہ معترضہ یہاں پر ختم ہوا۔ اب اگلی آیات میں پھر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے جس کا…
Read the full tafseer →33 روز آخرت اور انسان کے دوبارہ پیدا ہونے پر دلائل دینے کے بعد فرمایا کہ تم بہرحال اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے۔ ایسی کوئی صورت ممکن نہیں کہ تم اس حاضری سے بچ سکو۔ پھر وہ تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں سزا دے گا۔ اور کسی کے حق میں اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہو کہ اس پر رحم کیا جائے تو وہ اسے اپنی رحمت کی بنا پر معاف بھی کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →21۔ اس ذرا سے فقرہ میں دو اہم حقیقتوں کا اثبات آگیا۔ ایک یہ کہ سب کا حشر حق تعالیٰ ہی کی حضور میں ہوگا نہ کہ کسی اور کے۔ مسیحیوں اور دوسرے اہل باطل کی تردید۔ (آیت) ” یعذب من یشآء ویرحم من یشآء “۔ یہ مشیت عذاب ہمیشہ اسی کے متعلق ہوگی جو مستحق عذاب ہوگا اور مشیت رحم اسی کے متعلق ہوگی جو رحمت کا اہل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیت نمبر 14 تا 22
ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ…
Read the full tafseer →یعذب من یشاء ویرحم من یشاء . وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر رحم کرنا چاہے رحم کرے۔ یعنی
آخرت میں دوزخ کا عذاب دے کر اور دنیا میں بےمدد چھوڑ کر ‘ یا دنیا کا حریص بنا کر ‘ یا بداخلاق بنا کر ‘ یا اللہ کی طرف سے روگرداں بنا کر ‘ یا بدعات کا مرتکب بنا کر۔ یہ سب صورتیں عذاب کی ہیں۔ اسی کے مقابل اللہ جس پر رحم کرنا چاہے ‘ رحم کرے آخرت میں جنت میں داخل فرما کر اور دنیا میں مدد دے کر اور قناعت عطا فرما کر اور خوش اخلاق بنا کر اور اللہ کی طرف متوجہ بنا کر اور اتباع سنت کی توفیق دے کر۔
والیہ تقلبون . اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →(21) اللہ تعالیٰ جس کو چاہے کفر پر موت آنے کی وجہ سے عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا ایمان پر انتقال کرنے کی بنا پر رحمت فرما دے گا اور پھر مرنے کے بعد تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَّشَاۗءُ۔۔ : قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے دلائل کے بعد فرمایا کہ پھر وہ جسے چاہے گا اپنے عدل کے ساتھ عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا اپنے فضل کے ساتھ رحم فرمائے گا، البتہ ہر حال میں تمہیں واپس اس کے پاس جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
اے محمد ﷺ : تم انہیں کہو زمین میں گھومو، پھرو۔ دیکھو تو اللہ تعالیٰ نے کیسے مخلوق کو پیدا کیا جبکہ تعداد میں وہ کثیر ہیں، ہیبتییں مختلف ہیں، زبان، رنگ اور طبیعتیں مختلف ہیں تم سابقہ قوموں کے مسکن، گھر، آ اور آثار دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسے انہیں ہلا کہ تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو پہچانو۔
ابو عمرو اور ابن کثیر نے النشائۃ شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور دنوں لغتیں ہیں جس طرح رأفۃ اور رآفۃ۔ جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کو پیدا کیا، اسم نشاۃ اور نشائۃ کے ساتھ ہے یہ ابو عمرو بن علاء سے مروی ہے۔
اپنے عدل کے ساتھ جس کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ اور اپنے فضل کے ساتھ جس پر رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →يُعَذِّبُ [وہ عذاب دیتا ہے ] مَنْ [اس کو جیسے ] يَّشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] وَيَرْحَمُ [اور وہ رحم کرتا ہے ] مَنْ [اس پر جس پر ] يَّشَاۗءُ ۚ [وہ چاہتا ہے ] وَاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُقْلَبُوْنَ : [تم لوگ پلٹائے جاؤ گے ]
Read the full tafseer →(یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ) (وہ جس کو چاہے عذاب دے) (وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ ) (اور جس پر چاہے رحم فرمائے) (وَ اِلَیْہِ تُقْلَبُوْنَ ) (اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) دنیا میں اللہ کی مشیت اور ارادہ کے مطابق سب کچھ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسی کے فیصلوں کے مطابق سب کچھ ہوگا، آسمان اور زمین میں کوئی عاجز کرنے والا نہیں، اگر کوئی یہ چاہے کہ کہیں چھپ جائے یا بھاگ جائے اور اللہ کے قضا اور قدر والے فیصلے سے بچ جائے یا اس کے عذاب سے چھوٹ جائے ایسا نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور
قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔
یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
18:۔ وہ قانون عدل کے تحت جسے چاہے سزا دے اور اپنی مہربانی سے جس پر چاہے رحمت فرمائے۔ تم سب میدان حشر میں اللہ کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔ وما انتم بمعجزین تم زمین و آسمان میں کہیں بھاگ کر اللہ کے عذاب سے اپنے کو نہیں بچا سکتے اور نہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے جو تمہیں اس کے عذاب سے نجات دلا سکے۔ والذین کفروا الخ، تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ اللہ کی توحید، اس کے رسولوں اور حشر و نشر کا انکار کرتے ہیں وہ میری رحمت سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) :
جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…
Read the full tafseer →يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۚ وَاِلَيْہِ تُقْلَبُوْنَ 21
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔
لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
حکایۃ کلام اللہ تعالیٰ لابراھیم او محمد۔ 12 بیضاوی۔
Read the full tafseer →یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَیَرْحَمْ مَنْ یَّشَآئُ ج وَاِلَیْہِ تُقْلَبُوْنَ ۔ (العنکبوت : 21)
(وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور جس پر چاہے رحم فرماتا ہے، اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے۔ )
ضابطہ ٔ خداوندی
زمین پر بسنے والوں کا عام مشاہدہ اور ان کی تاریخ کے ورق الٹنے سے تمہیں اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ بڑے سے بڑے کافر کو ڈھیل تو دیتا ہے لیکن جب اس کی مشیت اور حکمت کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور وہ ایسے لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اس کی بےپناہ قدرت کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ وہ جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ البتہ اس کا چاہنا حکمت اور عدل کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ انسان کو صرف زندہ ہی نہیں کرے گا بلکہ اپنی بارگاہ میں حاضر فرماکر صحیح عقیدہ اور نیک عمل کرنے والوں پر رحم فرمائے اور برے لوگوں کو سزا دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی مہربانی اور بخشش کے اصول بتلا دیے ہیں اور اپنی گرفت اور سزا کا بھی قانون واضح کیا ہے۔ بخشش اور عذاب کے اصول بتلانے کے باوجود اسے کامل اختیا رحاصل ہے کہ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے۔ اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمانوں میں کوئی عاجز اور بےبس کرنے والا نہیں ہے۔ تاہم اس کا فرمان ہے کہ مشرک اور کافر کے علاوہ جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور ہر کسی نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا…
Read the full tafseer →21: یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (وہ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے) ۔ رسوائی و ذلت کے ساتھ وَیَرْحَمُ مَنْ یَّشَآئُ (اور جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے) ۔ ہدایت عنایت فرما کر۔ نمبر 2۔ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے حرص میں مبتلا کر کے اور رحم کرتا ہے قناعت عنایت فرما کر۔ نمبر 3۔ عذاب دیتا ہے بد اخلاقی کے ذریعہ اور رحم کرتا ہے حسن اخلاق میسر فرما کر۔ نمبر 4۔ عذاب دیتا ہے یعنی اللہ سے وہ اعراض اختیار کرتا ہے۔ اور رحم کرتا ہے اس کی طرف توجہ فرما کر۔ نمبر 5۔ بدعات کی پیروی کے ساتھ عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور متابعت ِسنت سے رحم فرماتا ہے۔
وَاِلَیْہِ تُقْلَبُوْنَ (اور تم اسی طرف پلٹے جائو گے) ۔ لوٹائے جائو گے…
Read the full tafseer →21۔ یعذب من یشاء ویرحم من یشاء والیہ تقلبون، ، اور اس کی طف لوٹ کرجانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–23
13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(16-22)
اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا (عبدو اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمہیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ” اور اس سے ڈرو “ کہ وہ تم پر ناراض ہو کر تمہیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امور کو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا بارعث ہیں ” یہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ” تمہارے لیے بہتر ہے۔ “ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔ یہ اسم تفصیل کے ایسے باب میں سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →24 عذاب کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کی مشیئت پر ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جسکو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے "۔ کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون عذاب کے لائق ہے اور کون اس کی رحمت کا مستحق کہ اس سے کسی کی بھی کوئی حالت اور کیفیت مخفی اور پوشیدہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کے قانون عدل و حکمت کے سوا کوئی بھی چیز اس کی مشیت اور قدرت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ قوموں کی تاریخ اس حقیقت کا ایک واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہے۔ سو عبرتوں بھری اس دنیا اور چہار سو پھیلی اس کائنات کے ان طرح طرح کے حوادث و واقعات اور اس کی تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ :
(1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔
(2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔
(3) اسی کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22
اسرارو معارف
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
3 ۔ یعنی تم اس کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں بھاگ سکتے۔ جہاں ہو گے یا جہاں جائو گے بہرحال اس کی گرفت میں ہو گے۔ (دیکھئے سورة الرحمن آیت 33) اور جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ولو کنتم فی بروج مشلۃ (قرطبی) 4 ۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تم خود اتنے زور آور ہو کہ کہیں بھاگ کر خدا کی گرفت سے نکل سکو اور نہ تمہارے کوئی حمایتی و مددگار ہیں جو تمہیں خدا کی گرفت سے بچا سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
(29:20) بدا ماضی واحد مذکر غائب بدأ یبدأ (فتح) بدء اس نے شروع کیا اس نے پیدا کیا۔
ینشی مضارع واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر وہ پیدا کرتا ہے۔
النشاۃ الاخرۃ موصوف و صفت، دوسری (بار) پیدائش آخری یا بعد کی پیدائش۔ ثم اللہ ینشی النشاۃ الاخرۃ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک بعد کی پیدائش عمل میں لائے گا۔
تقلبون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ قلب (باب ضرب) سے تم پھیرے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 23 :
یبدیٔ(ابتدا کرتا) یعید (وہ لوٹائے گا) ‘ یسیر ( آسان کرتا ہے۔ سہل بناتا ہے) ‘ ینشیٔ(وہ اٹھاتا ہے) معجزین (عاجزو بےبس کرنے والا) ‘ ولی (حمایت کرنے والا) ‘ نصیر ( مدد گار) یئسوا (وہ مایوس ہوگئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 23 :
اللہ تعالیٰ نے سورة الدھر میں انسان کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ
انسان پر ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ کچھ بھی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ یعنی اس کا کوئی وجود نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو انسانی وجودعطا کیا۔ قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو وجود عطا کیا پھر اس پر موت آجائے گی اور پھر ایک وقت وہ آئے گا جب سارے انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ زمین میں سیر کرو اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر عبرت پکڑو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اب پہاڑوں اور درختوں بوٹیوں اور کھیتوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح جس چیز کا ودبارہ پیدا کرنا اس کو منظور ہوگا وہ پیدا کردے گا اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اور یہ دوبارہ پیدا کرنا جزاوسزا کے لیے ہوگا تاکہ پہلی دفعہ کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے۔ اس سزا کے وقت تم آسمان اور زمین میں کہیں بھاگ نہ سکو گے اس لیے تم اللہ کو اپنا معبود ٹھہراؤ، اس لیے شرک کے مواخذہ میں پکڑ لیے گئے تو تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ وہ تم کو گرفتار نہ کرسکے، غرض کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عاجز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
[10] مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے بڑوں کو غلط طریقے پر پایا اور ان کی محبت کی وجہ سے ان کی پیروی کی اور یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی ایک غلط طریقے پر ہوتا ہے اور باوجودیکہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہوتی ہے لیکن قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کے دباؤ کی وجہ سے اسی غلط طریقے پر جما رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 1: غرض یہ ہے کہ غور وفکر بھی عالم حشر کے امکانات پر روشنی ڈالتا ہے ۔ اور تجربہ وآزمائش بھی ۔ ارشاد ہے کہ تم زمین میں چل کر دنیا پر نظر دوڑاؤ۔ اور دیکھو ۔ کہ کیا کائنات کی ہر چیز یہ نہیں بتارہی ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔ اور نشاۃ آخری کے تسلیم کرلینے میں کیا تاتل ہوسکتا ہے بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات اور شکوک اس وقت پیدا ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کی قدرتوں پر ایمان نہ ہو ۔ اور جب اس کو تسلیم کرلیا جائے ۔ تو پھر تمام اعتراضات اٹھ جاتے ہیں ۔
حل لغات :۔ ینشئی ۔ انشاء سے ہے ، پیدا کرنا یعذب من یشائ۔ جس کو چاہے گا عذاب میں مبتلا کریگا ۔ یعنی اس کے اختیارات میں دنیا کی کوئی قوت حائل نہیں ۔…
Read the full tafseer →21۔ وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور تم سب اسی کی طرف پلٹ کر جائو گے۔ جب اس کو اپنی مخلوق پر پوری قدرت اور پورا اختیار حاصل ہے اور سب کو خوشی یا نا خوشی سے اسی کی طرف واپس ہونا ہے تو کسی پر رحم فرمانا کسی کو تعذیب دینا یہ بھی اسی کی قدرت میں ہے اور اس سے بچ نکلنے کی کوئی تدبیر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 4۔ پہلے بدء خلق کے علم عقلی سے اعادہ پر استدلال کیا ہے، جیسا اس پر الم یرو دال ہے، اور پھر بدء خلق کے علم حسی سے اعادہ پرا ستدلال ہے جیسا انظروا اس پر دال ہے، جس میں اول سے ترقی ہے کہ مابہ الاستدلال صرف امر عقلی نہیں بلکہ امر حسی بھی۔
Read the full tafseer →سزا کا مستحق وہی ہے جو سزا کے قابل بھی ہوتا ہے اور رحم اس پر کیا جاتا ہے جو رحم کے قابل ہو :
21۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ الل ٹپ نہیں ہوتا بلکہ سب کچھ ایک لگے بندھے قانون کے مطابق ہوتا ہے کوئی سزا پاتا ہے تو بلاشبہ وہی پاتا ہے جو سزا کے قابل ہوتا ہے اور رحم کیا جاتا ہے تو اس پر رحم کے قابل ہو اور امتحان اور آزمائش ایک اپنا مقام ہے تاہم کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ چاہے تو بدکاروں کو جنت بھیج دے اور نیکوں کاروں کو دوزخ میں پھینک دے کیونکہ وہ مختار کل ہے ، بلاشبہ وہ مختار کل ہے لیکن اس کے اختیار کا مطلب آپ نے غلط سمجھا ہے مختار کل کا مطلب دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
Commentary
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي (So Lut believed in him and he (Ibrahim علیہ السلام) said, "I am going to leave my homeland towards my Lord. - 29:2, 6). Sayyidna Lut (علیہ السلام) was the nephew of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . He was the very first one to accept faith after watching the miracle of Ibrahim (علیہ السلام) in the fire of Namrild. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) planned to migrate from his hometown, Kutha - a township of Kufah - along with his wife Sayyidah Sarah, who was his cousin and had accepted Islam, and Sayyidna Lut (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
34 That is, "You cannot escape Allah's grasp wherever you may flee. Whether you descend into the depths of the earth or climb into the heights of the sky, you will be apprehended in any case and brought before your Lord." The something has been said in Surah Ar-Rahman as a challenge to the jinns and mankind: "O company of jinns and men! If you have the power to escape across the bounds of the earth and heavens, then do escape! You shall not escape, for it requires a great power." (v. 33).
35 That is,"Neither you yourselves have the power that you should escape Allah's grasp, nor is any of…
Read the full tafseer →