Explained with ayahs 19–23
تمام نشانیاں
دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ تھے پھر اللہ نے پیدا کردیا تاہم مر کر جینے کے قائل نہیں حالانکہ اس پر کسی دلیل کی ضروت نہیں کہ جو ابتداءاً پیدا کرسکتا ہے اس پر دوبارہ پیدا کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پھر انہیں ہدایت کرتے ہیں کہ زمین اور نشانیوں پر غور کرو۔ آسمانوں کو ستاروں کو زمینوں کو پہاڑوں کو درختوں کو جنگلوں کو نہروں کو دریاؤں کو سمندروں کو پھلوں کو کھیتوں کو دیکھو تو سہی کہ یہ سب کچھ نہ تھا پھر اللہ نے سب کچھ کردیا کیا یہ تمام نشانیاں اللہ کی قدرت کو تم پر ظاہر نہیں کرتیں ؟ تم نہیں دیکھتے کہ اتنا بڑا صانع وقدیر اللہ کیا کچھ نہیں کرسکتا ؟ وہ تو صرف ہوجا کے کہنے سے تمام کو رچا دیتا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
سورة العنکبوت 33
یعنی جب خدا کی کاریگری سے بار اول کی تخلیق کا تم خود مشاہدہ کر رہے ہو تو تمہیں سمجھنا چاہیے کہ اسی خدا کی کاریگری سے بار دیگر بھی تخلیق ہوگی۔ ایسا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
خلاصہ تفسیر
کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے (عدم محض سے وجود میں لاتا ہے) پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، یہ اللہ کے نزدیک بہت ہی آسان بات ہے (بلکہ ابتدائی نظر میں دوبارہ پیدا کرنا اول آفرینش سے زیادہ سہل ہے، گو قدرت ذاتیہ کے اعتبار سے دونوں مساوی ہیں اور یہ لوگ امر اول یعنی اللہ تعالیٰ کے خالق کائنات ہونے کا تو اعتراف کرتے تھے، لقولہ تعالیٰ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ الخ اور امر ثانی یعنی دوبارہ پیدا کرنا اسی کے مماثل ہے اس کا داخل قدرت ہونا اور زیادہ واضح ہے اس لئے اَوَلَمْ يَرَوْا اس سے بھی متعلق ہوسکتا ہے اور زیادہ…
Read the full tafseer →قل سیروا فی الارض فانظروا کیف بدا الخلق ثم اللہ ینشی النشاۃ الاخرۃ ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ (30)
یہ اس دنیا کے مظاہر پر صحیح نقطہ نگاہ سے غور کرنے کی دعوت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظام کو اس طرح چلا رہا ہے کہ یہ تمام حقائق کی تعلیم کے لئے خود اپنے وجود کے اندر ایک مکمل تربیت گاہ ہے۔ تو حید، قیامت اور جزا وسزا کے لئے باہر سے دلیل ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس دنیا کے شب و روز کے مشاہدات میں ان میں سے ہر چیز کی شہادت موجود ہے۔ فرمایا کہ اس زمین میں چلو پھرو اور غور کی نگاہ سے دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح خلق کا آغاز فرماتا ہے اور پھر اس کو فنا کرکے اس کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرتا ہے۔ ایک قوم…
Read the full tafseer →20-1یعنی آفاق میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیاں دیکھو زمین پر غور کرو، کس طرح اسے بچھایا، اس میں پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر بنائے، اسی انواع و اقسام کی روزیاں اور پھل پیدا کئے۔ کیا یہ سب چیزیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ انھیں بنایا گیا ہے اور ان کا کوئی بنانے والا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
9: حضرت ابراہیم ؑ کے واقعے کے لیے دیکھئے سورة انبیاء :51
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
اولم یروا کیف ۔۔۔۔۔۔۔ واولئک لھم عذاب الیم (19 – 23)
یہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اللہ کے سامنے جو ابدہی کا انکار کرتا ہے ۔ اس خطاب پر اس پوری کائنات کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ اس استدلال کا دائرہ زمین و آسمانوں تک وسیع ہے۔ یہ قرآن کریم کا معروف طرز استدلال ہے کہ وہ اس پوری کائنات کو دلائل و نشانات الہیہ کی نمائش گاہ بنا دیتا ہے اور انسانی قلب و نظر کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب میں دلائل و آیات الہیہ تلاش کریں۔ اللہ کے وجود ، اس کی وحدانیت اور اس کے وعدے اور وعید کی سچائی تلاش کریں۔ اس کائنات کے یہ مشاہد اور مظاہر تو بر وقت ہماری نظروں کے لیے کھلے ہیں اور حاضر…
Read the full tafseer →6 یعنی اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور چل پھر کر دیکھو کہ کیسی کیسی مخلوق خدا نے پیدا کی ہے۔ اسی پر دوسری زندگی کو قیاس کرلو۔ اس کی قدرت اب کچھ محدود نہیں ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 20 قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِئُ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ ط ”
مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنے کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے دنیا میں بھی چل رہا ہے۔ جیسے ایک فصل ختم ہوتی ہے تو دوسری پیدا ہوجاتی ہے اور وہ آخرت میں بھی انسانوں کو پھر سے زندہ کرے گا۔ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →32 اب اگر انسان کائنات کی دوسری اشیاء اور جمادات میں غور کرے تو اور بھی زیادہ ورطہ حیرت میں گم ہوجاتا ہے۔ ہر مادی چیز ان گنت چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر بنی ہے۔ سب سے چھوٹا ذرہ جو انسان کے علم میں آیا ہے وہ ایٹم (Atom) ہے۔ جو انیسویں صدی تک جزو لا یتجزی سمجھا جاتا رہا۔ یعنی اتنا حقیر ذرہ جس کی مزید تقسیم ناممکن تھی۔ اور اسے صرف کسی طاقتور خوردبین کی مدد سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر موجودہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس حقیر سے ذرے میں بھی ایک بڑا ہی مضبوط نظام قائم ہے۔ اس میں الیکٹران (electron) بھی ہے اور پروٹون Pruton) (بھی۔ اور دونوں بڑے منضبط طریقے سے اس حقیر سے ذرہ کے اندر اس طرح محو گردش ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
20۔ (خلق اول پر بھی اور عادہ خلق پر بھی) (آیت) ” اولم یروا۔ دعوت استدلال غور وفکر سے ہے۔ انسان اگر صرف اپنی ذات ہی میں، اپنے نیست سے ہست ہوجانے ہی پر غور کرے تو یہ حق تعالیٰ کی قوت ایجاد وابداع پر اعتقاد پیدا کردینے کے لیے کافی ہے۔ (آیت) ” سیروا فی الارض “۔ دعوت استدلال مشاہدات مادی سے ہے۔ انسان اگر دوسری مخلوقات کے عجائبات پر نظر کرتا رہتے تو اللہ تعالیٰ کی ہر قدرت کا کلمہ پڑھ اٹھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” سیروا فی الارض “۔ ان اہل طریق کا مستدل ہے جنہوں نے راہ سیاحی اختیار کی ہے۔ یہ گھوم پھر کر احوال خلق سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور اس میں ان کی اور بھی مصلحتیں ہوتی ہیں۔ مثلا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیت نمبر 14 تا 22
ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ…
Read the full tafseer →قل سیروا فی الارض فانظروا کیف بدا الخلق . آپ کہہ دیجئے کہ ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ اللہ
نے کس طرح ابتدائی تخلیق کی ہے۔ یعنی مخلوق کی اجناس اور احوال کو دیکھو۔ یہ کلام یا تو اس قول کی نقل ہے جو اللہ نے حضرت ابراہیم سے فرمایا تھا ‘ اس صورت میں فعل محذوف ماننا پڑے گا یعنی ہم نے ابراہیم سے کہا کہ لوگوں سے کہہ دو ‘ یا خطاب رسول اللہ کو ہے۔
ثم اللہ ینشیء النشاۃ الاخرۃ . پھر اللہ پچھلی بار بھی پیدا کرے گا۔
قیاس کا تقاضا ہے کہ عبارت اس طرح ہوتی کَیْفَ بَدَہَ اللہ الْخَلْقَ ثُمَّ یُنْشِئُ النَّشْأَۃَ الْاٰخِرَۃَ (یعنی بدء کے ساتھ اس کا فاعل ذکر کیا جاتا پھر یُنْشِئُ کی ضمیر مستتر اس کی طرف راجع کردی…
Read the full tafseer →(20) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمائیے کہ تم زمین پر چلو پھرو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پہلی بار نطفہ سے کس طرح پر پیدا کیا پھر اس کے بعد ان کو ہلاک کردیا پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بھی مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ پیدا کرنے اور پھر قیامت کے دن زندہ کرنے اور ایسے ہی موت وحیات سب پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : یعنی اپنی ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کی پیدائش میں بھی غور کرو اور چل پھر کر دیکھو۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں پر غور کرو، آسمانوں کو، ستاروں کو، زمینوں کو، پہاڑوں کو، درختوں کو، جنگلوں کو، نہروں کو، دریاؤں کو، سمندروں کو، پھلوں کو، کھیتوں کو دیکھو تو سہی، یہ سب کچھ نہیں تھا، پھر اللہ نے سب کچھ پیدا کردیا۔ یہ تمام نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو ظاہر کرتی ہیں، اسی پر دوسری زندگی کو قیاس کرلو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، پہلی دفعہ پیدا کرنے پر بھی اور دوبارہ پیدا کرنے پر بھی۔ پچھلی آیت میں اپنے نفس اور اپنی ذات پر غور کرنے کا حکم دیا تھا، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
اے محمد ﷺ : تم انہیں کہو زمین میں گھومو، پھرو۔ دیکھو تو اللہ تعالیٰ نے کیسے مخلوق کو پیدا کیا جبکہ تعداد میں وہ کثیر ہیں، ہیبتییں مختلف ہیں، زبان، رنگ اور طبیعتیں مختلف ہیں تم سابقہ قوموں کے مسکن، گھر، آ اور آثار دیکھو اللہ تعالیٰ نے کیسے انہیں ہلا کہ تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کو پہچانو۔
ابو عمرو اور ابن کثیر نے النشائۃ شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا اور دنوں لغتیں ہیں جس طرح رأفۃ اور رآفۃ۔ جوہری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کو پیدا کیا، اسم نشاۃ اور نشائۃ کے ساتھ ہے یہ ابو عمرو بن علاء سے مروی ہے۔
اپنے عدل کے ساتھ جس کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ اور اپنے فضل کے ساتھ جس پر رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] سِيْرُوْا [تم لوگ گھومو پھرو ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] فَانْظُرُوْا [تو دیکھو ] كَيْفَ بَدَاَ [کیسے اس نے ابتداء کی ] الْخَــلْقَ [تخلیق کی ] ثُمَّ اللّٰهُ [پھر اللہ ] يُنْشِئُ [اٹھائے گا ] النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ ۭ [آخری اٹھان ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [قادر ہے ] ۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا تم زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اللہ نے ابتداً مخلوق کی تخلیق فرمائی اس کے بعد جب دوبارہ پیدا کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو پھر پیدا فرما دے گا۔
(اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور
قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔
یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
18:۔ وہ قانون عدل کے تحت جسے چاہے سزا دے اور اپنی مہربانی سے جس پر چاہے رحمت فرمائے۔ تم سب میدان حشر میں اللہ کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔ وما انتم بمعجزین تم زمین و آسمان میں کہیں بھاگ کر اللہ کے عذاب سے اپنے کو نہیں بچا سکتے اور نہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی و مددگار ہے جو تمہیں اس کے عذاب سے نجات دلا سکے۔ والذین کفروا الخ، تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ اللہ کی توحید، اس کے رسولوں اور حشر و نشر کا انکار کرتے ہیں وہ میری رحمت سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) :
جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…
Read the full tafseer →قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ بَدَاَ الْخَــلْقَ ثُمَّ اللہُ يُنْشِئُ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 20ۚ
سير
السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير
( س ی ر ) السیر
( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
حکایۃ کلام اللہ تعالیٰ لابراھیم او محمد۔ 12 بیضاوی۔
Read the full tafseer →قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَالْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِیُٔ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (العنکبوت : 20)
(اے پیغمبر ! کہہ دیجیے کہ تم زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی ہے پھر اللہ باردگر زندگی بخشے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
قیامت کا انکار کرنے والوں کو مشاہدے اور غور کی دعوت
اب قیامت کا انکار کرنے والوں کو وسیع مطالعے اور مشاہدے کی دعوت دی جارہی ہے کہ تم اپنے تجارتی اسفار میں مختلف ممالک سے گزرتے ہو، وہاں کے حالات کا گہری نظر سے جائزہ لو تمہیں قسم قسم کی مخلوق نظر آئے گی جو اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام اور نبی آخر الزّماں نے لوگوں تک کھلے الفاظ میں توحید اور حق بات پہنچائی اب لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان لائیں اور حق بات قبول کریں۔
عقیدہ توحید سمجھنے کے لیے پہلی بات یہ ہے کہ انسان ” اللہ “ کی قدرتوں پر غور کرے اور پھر سچے دل کے ساتھ ایمان لائے کہ ساری مخلوق پیدا کرنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے جب انسان یہ حقیقت سمجھ جائے اور اس پر خلوص نیت کے ساتھ ایمان لے آئے تو وہ ایک ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے شرک سے بچ جائے گا۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ لوگو ! کیا تم نے غور نہیں کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پہلی بار کس طرح پیدا کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →20: قُلْ (کہہ دیجئے) اے محمد ﷺ اور اگر یہ کلام ابراہیم (علیہ السلام) کا بقیہ ہو تو تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ اوحینا الیہ ان قل : سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَالخْلْقَ (تم زمین میں چلو پھرو پس دیکھو کس طرح اس نے مخلوق کی ابتداء کی) ۔ ان کی کثرت تعداد اور کثرت احوال کے باوجود تاکہ تم فطرت الٰہی کو مشاہداتی رنگ میں دیکھ سکو۔ بدأ اور ابدأ دونوں کا ایک معنی ہے۔ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِیُٔ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ (پھر اللہ تعالیٰ دوسری نشأت میں اٹھائے گا) ۔ اس سے مراد بعث ہے۔
قراءت : ابوعمرو اور مکی نے جہاں بھی آئے نشأۃ کو مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نشأتین دو ہیں۔…
Read the full tafseer →20۔ قل سیروافی الارض فانطروا کیف بدالخلق، ، ان کے گھروں اور ان کے مکانات کو دیکھو اور دیکھو کہ اللہ نے انکوکیسا پیدا کیا، ثم اللہ ینشئی النشاۃ الاخرہ، ، پھر وہ ذات ان کو آخرت میں دوبارہ زندہ کرے گی موت کے بعد ، جیسا کہ اللہ کو پہلی مرتبہ پیداکرنامتعذر نہیں تھا، تو اسی طرح دوبارہ پیدا کرنا بھی متعذر نہیں ہوگا۔ یہ قرات ابن کثیر، ابوعمر کی ہے۔ النشاۃ ، شین کے فتحہ اور مد کے ساتھ اور دوسرے قراء نے شین کے سکون کے ساتھ۔ اس کی مثال ، الرافۃ والرافی، ہے ان اللہ علی کل شئی قدیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–23
13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(16-22)
اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا (عبدو اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمہیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ” اور اس سے ڈرو “ کہ وہ تم پر ناراض ہو کر تمہیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امور کو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا بارعث ہیں ” یہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ” تمہارے لیے بہتر ہے۔ “ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔ یہ اسم تفصیل کے ایسے باب میں سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →23 اللہ ہر چیز پر قادر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ یعنی ایسا کرنا اگر تمہیں اپنی عاجزی اور درماندگی کے اعتبار سے مشکل لگتا ہے تو بجا ہے کہ یہ تمہارے بس میں واقعی نہیں۔ مگر اللہ پاک کے لئے تو یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسے چاہے کرسکتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہر چیز پر، ہر وقت اور ہر طرح سے پوری قدرت رکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو توحید، قیامت، بعث بعد الموت اور جزاء و سزا جیسے غیبی حقائق کو ماننے اور ان پر یقین کرنے اور دلیل لانے کیلئے تم لوگوں کو کہیں باہر اور دور جانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ تمہارے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ :
(1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔
(2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔
(3) اسی کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22
اسرارو معارف
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1 ۔ بلکہ دوبارہ پیدا کرنا ” نشات اولی “ سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے فرمایا : وھو الذی یبداء الخلق ثم یعیدہ و ھو اھون علیہ۔ اور وہی ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور یہ اعادہ (دوبارہ پیدا کرنا) اس کے لئے آسان تر ہے۔ (روم :27) 2 ۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی پیدائش کیا کم عجیب ہے جو باوجود اتنی کثرت کے اپنے رنگ و طبائع اور بولیوں کے اعتبار سے باہم مختلف ہے اور پھر آدمی کس طرح مختلف اطوار کے بعد پیدا ہوتا ہے تو جو پروردگار ایسے عجیب کام کرتا ہے۔ اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ انسان کو دوبارہ پیدا کرسکے۔ (وحیدی بتصرف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
(29:20) بدا ماضی واحد مذکر غائب بدأ یبدأ (فتح) بدء اس نے شروع کیا اس نے پیدا کیا۔
ینشی مضارع واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر وہ پیدا کرتا ہے۔
النشاۃ الاخرۃ موصوف و صفت، دوسری (بار) پیدائش آخری یا بعد کی پیدائش۔ ثم اللہ ینشی النشاۃ الاخرۃ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک بعد کی پیدائش عمل میں لائے گا۔
تقلبون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ قلب (باب ضرب) سے تم پھیرے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 23 :
یبدیٔ(ابتدا کرتا) یعید (وہ لوٹائے گا) ‘ یسیر ( آسان کرتا ہے۔ سہل بناتا ہے) ‘ ینشیٔ(وہ اٹھاتا ہے) معجزین (عاجزو بےبس کرنے والا) ‘ ولی (حمایت کرنے والا) ‘ نصیر ( مدد گار) یئسوا (وہ مایوس ہوگئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 23 :
اللہ تعالیٰ نے سورة الدھر میں انسان کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ
انسان پر ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ کچھ بھی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ یعنی اس کا کوئی وجود نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو انسانی وجودعطا کیا۔ قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو وجود عطا کیا پھر اس پر موت آجائے گی اور پھر ایک وقت وہ آئے گا جب سارے انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ زمین میں سیر کرو اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر عبرت پکڑو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اب پہاڑوں اور درختوں بوٹیوں اور کھیتوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح جس چیز کا ودبارہ پیدا کرنا اس کو منظور ہوگا وہ پیدا کردے گا اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اور یہ دوبارہ پیدا کرنا جزاوسزا کے لیے ہوگا تاکہ پہلی دفعہ کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے۔ اس سزا کے وقت تم آسمان اور زمین میں کہیں بھاگ نہ سکو گے اس لیے تم اللہ کو اپنا معبود ٹھہراؤ، اس لیے شرک کے مواخذہ میں پکڑ لیے گئے تو تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ وہ تم کو گرفتار نہ کرسکے، غرض کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عاجز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
[10] مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنے بڑوں کو غلط طریقے پر پایا اور ان کی محبت کی وجہ سے ان کی پیروی کی اور یوں بھی ہوتا ہے کہ آدمی ایک غلط طریقے پر ہوتا ہے اور باوجودیکہ اس کو اپنی غلطی معلوم ہوتی ہے لیکن قومی مروت ولحاظ اور تعلقات باہمی کے دباؤ کی وجہ سے اسی غلط طریقے پر جما رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 1: غرض یہ ہے کہ غور وفکر بھی عالم حشر کے امکانات پر روشنی ڈالتا ہے ۔ اور تجربہ وآزمائش بھی ۔ ارشاد ہے کہ تم زمین میں چل کر دنیا پر نظر دوڑاؤ۔ اور دیکھو ۔ کہ کیا کائنات کی ہر چیز یہ نہیں بتارہی ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔ اور نشاۃ آخری کے تسلیم کرلینے میں کیا تاتل ہوسکتا ہے بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات اور شکوک اس وقت پیدا ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کی قدرتوں پر ایمان نہ ہو ۔ اور جب اس کو تسلیم کرلیا جائے ۔ تو پھر تمام اعتراضات اٹھ جاتے ہیں ۔
حل لغات :۔ ینشئی ۔ انشاء سے ہے ، پیدا کرنا یعذب من یشائ۔ جس کو چاہے گا عذاب میں مبتلا کریگا ۔ یعنی اس کے اختیارات میں دنیا کی کوئی قوت حائل نہیں ۔…
Read the full tafseer →20۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے فرمایئے کہ تم لوگ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو کس طرح پہلی بار پیدا کیا ہے پھر وہی اللہ تعالیٰ مخلوق کو پچھلی بار بھی پیدا کرے گا اور آخری اٹھان بھی اٹھائے گا یقینا اللہ تعالیٰ ہر شی پر پوری طرح قادر ہے۔ چونکہ کفار مکہ بھی ابتدائی خلق کے قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ اسی لئے اوپر کی آیت میں علم عقلی سے استدلال فرمایا اور دوسری آیت میں علم حسی سے اعادۂ خلق سے استدلال فرمایا کہ جائو ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ پیدائش کا طریقہ کیا ہے پہلی مرتبہ کیونکر مخلوق کی پیدائش ہوئی پھر اسی سے دوبارہ پیدا ہونے کو سمجھ لو ، وہ ہر شی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 4۔ پہلے بدء خلق کے علم عقلی سے اعادہ پر استدلال کیا ہے، جیسا اس پر الم یرو دال ہے، اور پھر بدء خلق کے علم حسی سے اعادہ پرا ستدلال ہے جیسا انظروا اس پر دال ہے، جس میں اول سے ترقی ہے کہ مابہ الاستدلال صرف امر عقلی نہیں بلکہ امر حسی بھی۔
Read the full tafseer →اس زمین میں چل پھر کر دیکھو شاید ان نشانات کو دیکھ کر تمہاری عقل سیدھی ہوجائے :
20۔ آنکھیں کھول کر قدرت الہی کے نشانات کو اگر دیکھا جائے کر اور عقل وفکر کو وا کر کے دیکھنا نصیب ہوجائے تو سمجھ لو کہ تم مراد کو پہنچ گئے ۔ لیکن خیال رہے کہ اکثر دیکھنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ دیکھتے رہتے ہیں لیکن عقل وفکر پر بدستور پردہ پڑا رہتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ باوجود اس کے کہ دنیوی اعتبار سے بہت بڑے لوگ ہوتے ہیں لیکن ان کے دیکھنے اور ایک بیل کے دیکھنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی نظر صرف اور صرف اس چیز تک محدود رہتی ہے جس کو وہ دیکھنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
Commentary
فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي (So Lut believed in him and he (Ibrahim علیہ السلام) said, "I am going to leave my homeland towards my Lord. - 29:2, 6). Sayyidna Lut (علیہ السلام) was the nephew of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . He was the very first one to accept faith after watching the miracle of Ibrahim (علیہ السلام) in the fire of Namrild. When Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) planned to migrate from his hometown, Kutha - a township of Kufah - along with his wife Sayyidah Sarah, who was his cousin and had accepted Islam, and Sayyidna Lut (علیہ…
Read the full tafseer →33 That is, "When you yourselves are witnessing things being created in the tirst instance by God's competence and skill, you should understand it well that re-creation shall also take place by the same competence and skill. Such a thing is not beyond His power nor can it be."
Read the full tafseer →