Al-Ankaboot 29:28

Al-Ankaboot · from ayah 28

29:28

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ ؗ— مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۟وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اِنَّكُمۡ لَـتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ مَا سَبَـقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ‏

اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention] Lot, when he said to his people, "Indeed, you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 3 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:28

اور ہم نے لوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور حضرت لوط ؑ کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو اس بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے لو ط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور لوط کو نجات دی جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا تم بیشک بے حیائی کا کام کرتے ہو، کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور لوط ؑ کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: بیشک تم بڑی بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو، اقوامِ عالم میں سے کسی ایک (قوم) نے (بھی) اس (بے حیائی) میں تم سے پہل نہیں کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لوط کو (بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا بیشک تم یقینا اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور لوط (کا واقعہ یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : تم ایسی بدکاری کے مرتکب ہو رہے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور لوط کو بھی ہم نے رسول بنایا۔ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایک کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو۔ تم سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے بھی اس کا ارتکاب نہیں کیا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور لوط کو بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا اور یاد کرو کہ جب انہوں نے کہا اپنی قوم سے کہ تم لوگ تو ایسی بےحیائی کا ارتکاف کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور لوط کو (بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بیشک تم تو ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں کسی نے نہیں کیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (ہم نے بھیجا) لوط ؑ کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایسی بےحیائی کا ارتکاب کر رہے ہو جو تم سے پہلے تمام جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور لوط کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ”تم عجیب بےحیائی کا کام کرتے ہو ‘ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We sent Lot and he said to his people: “You commit the abomination that none in the world ever committed before you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (We sent) LuT when he said to his people, :Indeed you commit the shameful act that no one in the worlds has ever preceded you in it.

— Muhammad Taqi Usmani

And (We sent) LuT when he said to his people, :Indeed you commit the shameful act that no one in the worlds has ever preceded you in it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) Lut, when he said to his people: "You commit immoral sins which none has preceded you in (committing) it in all creatures."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Lot! (Remember) when he said unto his folk: Lo! ye commit lewdness such as no creature did before you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention] Lot, when he said to his people, "Indeed, you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds.

— Saheeh International

Lot told his people, "You are certainly committing the kind of indecency which no one in the world has committed before".

— Muhammad Sarwar

And (We sent) Lut when he said to his people: Most surely you are guilty of an indecency which none of the nations has ever done before you;

— Muhammad Habib Shakir

And Lut: Recall what time he said unto his people: verily ye commit an indecency wherein none hath preceded you in the Worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

And (remember) Lut: behold, he said to his people: "Ye do commit lewdness, such as no people in Creation (ever) committed before you.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 28–30

سب سے خراب عادت لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 50 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف رکوع 10، ہود 7۔ الحجر 4۔ 5۔ الانبیاء 5۔ الشعراء 9۔ النمل 4۔ الصافات 4۔ القمر 2۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–35

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط ؑ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولوطا از قال لقومہ انکم لتاتون الفاشۃ ز ما سبقکم بھا من احد من العلمین (28) حضرت لوط ؑ ، اوپر گزر چکا ہے، حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے، ان کی دعوت کا علاقہ اگرچہ الگ تھا لیکن ایک زمانہ ایک ہی تھا۔ ان کی قوم میں یوں تو وہ ساری ہی برائیاں تھیں جو دوسری مشرک قوموں میں رہی ہیں لیکن مرد برستی کی بےحیائی اس قو میں فیشن کی حیثیت حاصل کرگئی تھی اس وجہ سے اس کی اصلاح پر ان کو خاص طور پر توجہ مرکوز کرنی پڑی۔ لفظ فاحشۃ سے انہوں نے اسی بےحیائی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ فاحشۃ کھلی ہوئی بدکاری و بےحیائی کو کہتے ہیں جس کے بدکاری و بےحیائی ہونے میں کسی اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ لتاتون الفاحشۃ کے الفاظ سے حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28-1اس بدکاری سے مراد وہی لواطت ہے جس کا ارتکاب قوم لوط ؑ نے سب سے پہلے کیا جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–29

13: یعنی اپنی جنسی خواہش عورتوں کے بجائے مردوں سے پوری کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–30

ولوطا اذقال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (28: 29 – 30) ” ۔ “۔ “۔ حضرت لوط کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس برائی میں کانوں تک ڈوب گئے تھے۔ یہ لوگ ایک ایسی برائی میں مبتلا ہوگئے تھے جس کا ارتکاب ان سے قبل کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ یہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ یہ ایک انوکھا اور گندہ فعل تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی فطرت ہی بدل گئی تھی۔ جب بھی کوئی قوم اعتدالا کو چھوڑتی ہے اس کی فطرت بدل جاتی ہے کیونکہ پاکیزہ جنسی تعلق ایک عورت ہی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہایت ہی گھناؤنا جرم قرار دیا گیا۔ عورت کے ساتھ جنسی تعلق بھی بعض اوقات حدود وقیود سے نکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی یہ فعل شنیع تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔ یہ ہی اس کی دلیل ہے کہ فطرت انسانی اس سے نفور ہے۔ ایسے خلاف فطرت و شریعت کام کی بنیاد تم نے ڈالی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَز مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ” حضرت لوط علیہ السلام کو عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ ان شہروں کے لوگ آپ علیہ السلام کی قوم میں سے نہیں تھے ‘ چناچہ آیت زیر نظر میں انہیں مجازاً آپ علیہ السلام کی قوم قَوْمِہٖ کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہی رہا ہے کہ کسی بھی قوم کی طرف رسول ہمیشہ اس قوم کے اندر سے مبعوث کیا جاتا رہا ہے۔ اس قاعدے اور قانون میں حضرت لوط علیہ السلام کے حوالے سے یہ واحد استثناء ہے اور یہ استثناء بھی دراصل اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کا حصہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–29

44 (وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ 29؀) 29 ۔ العنکبوت :29) کے دو مطلب ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ ان لوگوں کی صرف یہی بدعادت نہیں تھی کہ وہ لونڈے بازی کرتے تھے بلکہ مسافروں کی راہ تکتے رہتے، پھر انھیں اپنے ساتھ بستی میں لے آتے اس سے لواطت بھی کرتے پھر اس کا مال اسباب نقدی وغیرہ چھین کر اسے اپنی بستی سے باہر نکال دیتے تھے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرکے بقائے نقل انسانی کے فطری طریق کو قطع کرتے تھے۔ 45 یعنی یہ لوگ اجتماعی قسم کی لواطت کرتے تھے۔ مثلاً جب کوئی مسافر یا کوئی خوبصورت لڑکا ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو اسے اپنے ڈیرے پر لے جاتے پھر باری باری ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

32۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم سے متعلق حواشی سورة الاعراف پ 8 میں گزر چکے۔ (آیت) ” ماسبقکم بھا “۔ سے معلوم ہوا کہ ایک زمانہ دنیا پر ایسا بھی گزرا ہے جب انسان بدکاری کی اس خاص صورت سے واقف بھی نہ تھا اور یہیں سے بعض فقہاء نے استدلال کیا ہے اس حرکت کے خلاف وضع فطرت ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں کہ امر خلقی و طبعی محتاج کسب وتعلیم نہیں ہوتا۔ اور جب انسان اس فعل سے ہزار ہا سال تک واقف نہ ہوا تو یہ خواہش اس کی فطرت وطبیعت میں داخل نہیں ہوسکتی، اس گندی حرکت کے تاریخی پہلو پر بھی حاشیہ سورة الاعراف ہی کے ذیل میں آچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–30

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھولے ہوئے ہیں یعنی قرآن کو اور بعث بعد الموت کو یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تو ان کی قوم کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو آخرش اللہ نے ان کو اس آگ سے بچالیا جس میں ان کو ڈالا تھا اس طریقہ سے کہ اس آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیا بلا شبہ اس میں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دینے میں کئی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں ایک اس آگ کا باوجود اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولوطا اذ قال لقومہ انکم لتاتون الفاحشۃ ماسبقکم بھا من احد من العٰلمین . اور ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہاں والوں میں نہیں کیا۔ اَلْفَاحِشَۃَ حد سے بڑھی ہوئی حرکت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) اور ہم نے لوط ؑ کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا ناپاک کام یعنی لواطت کرتے ہو کہ تم سے پہلے ایسا کام کسی نے دنیا میں جہان والوں میں نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ۔۔ : ابراہیم ؑ کے ساتھ ہی لوط ؑ کا ذکر فرمایا، کیونکہ وہ ان پر ایمان لائے اور دونوں نے اکٹھے ہجرت کی۔ لوط ؑ کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورة اعراف (رکوع 10) ، حجر (رکوع 4، 5) ، انبیاء (رکوع 5) ، شعراء (رکوع 9) ، نمل (رکوع 4) ، صافات (رکوع 4) اور قمر (رکوع 2) اور آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (80) اور نمل (54، 55)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–35

کسائی نے کہا : معنی ہے ہم نے حضرت لوط علیہ لسلام کو نجات دی یا ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا۔ کہا : یہ توجیہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو لوط کو یاد کرو کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے کہا : ان میں قرأت اور اس کی وضاحت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ سورة الاعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ڈاکو تھے، یہ ابن زید نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کو اٹھا لیتے تھے، ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–35

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت وتقطعون السبیل کے بارے میں فرمایا کہ السبیل سے مراد وہ راستہ ہے جس پر مسافر گزرے مسافر ابن سبیل ہوتا ہے اس پر وہ ڈاکہ ڈالتے اور اس کے ساتھ برا کام کرتے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم یعنی تم وہ اپنی مجلسوں میں۔ 3۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والفاشی فی سندہ والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلُوْطًا [اور (یقینا ہم بھیج چکے) لوط (علیہ السلام) کو ] اِذْ قَالَ [جن انہوں نے کہا ] لِقَوْمِهٖٓ [اپنی قوم سے ] اِنَّكُمْ [بیشک تم لوگ ] لَتَاْتُوْنَ [یقینا کرتے ہو ] الْفَاحِشَةَ ۡ [وہ بےحیائی ] مَا سَبَقَكُمْ [تم سے پہلے نہیں کیا ] بِهَا [جس کو ] مِنْ اَحَدٍ [کسی ایک نے بھی ] مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ [تمام جہاں والوں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت لوط (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور برے اعمال سے روکنا، پھر قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کیے جانے کا ذکر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے وطن سے ہجرت کی تو ان کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی تشریف لے آئے، حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرما دیا اور انہوں نے سدوم نامی بستی میں قیام کیا وہاں اور بھی چند بستیاں تھیں جو نہر اردن سے قریب تھیں، حضرت لوط (علیہ السلام) ان بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے اور وہاں کے رہنے والوں کو توحید کی دعوت دی اور برے کاموں سے روکا، یہ لوگ ایک ایسے برے کام میں مبتلا تھے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا اور وہ یہ کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–35

قصہء سوم لوط (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون۔ یہ تیسرا قصہ لوط (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور اپنے چچا کے ساتھ بابل سے ہجرت کر کے آئے تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر مبعوث فرمایا تاکہ دونوں علاقے کے لوگ ہدایت پا ویں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ہجرت کر کے شام چلے آئے اور لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں شہر سدوم اور اس کے اطراف و جوانب کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے یہاں کے لوگ اول درجہ کے بدمعاش اور اوباش اور رہزن اور قزاق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

24:۔ یہ تیسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے قوم لوط خلاف فطرت فعل کی عادت میں مبتلا تھی۔ دنیا میں اس فاحشہ کی ابتداء اس قوم سے ہوئی۔ ما سبقکم بہا الخ۔ یعنی تم سے پہلے کسی نے بھی یہ برا کام نہیں کیا۔ ائنکم لتاتون الخ، تم اس قدر بیباک ہوچکے ہو کہ مسافروں کا راستہ روک لیتے ہو اور انہیں بھی اپنی ہوس کا شکار بناتے ہو۔ یا مراد ڈاکہ ہے۔ تقطعون السبیل بالقتل واخذ المال کما ھو عمل قطاع الطریق وقیل اعتراضہم السابلۃ بالفاحشۃ (مدارک ج 3 ص 196) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–30

ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلانے کی کوشش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم آپ کے درس توحید کا کوئی مدلل جواب دینے کی بجائے تشدد پر اتر آنی ہے ، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ وحرقوہ آپ کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا زندہ جلا دو ۔ یہاں پر تو تفصیلات نہیں ہیں ، البتہ سورة الانبیاء اور بعض دیگر سورتوں میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح آپ نے اپنے باپ اور پھر قوم اور خود نمرود کے ساتھ مناظرہ کیا ، دلائل توحید بیان کیے مگر وہ کوئی مدلل جواب دینے سے عاجز آگئے ، اور انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ۝ 0 ۡمَا سَبَقَكُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ۝ 28 لوط لُوطٌ: اسم علم، واشتقاقه من لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، وفي الحدیث : «الولد أَلْوَطُ- أي : ألصق۔ بالکبد» وهذا أمر لا يَلْتَاطُ بصفري . أي : لا يلصق بقلبي، ولُطْتُ الحوض بالطّين لَوْطاً : ملطته به، وقولهم : لَوَّطَ فلان : إذا تعاطی فعل قوم لوط، فمن طریق الاشتقاق، فإنّه اشتقّ من لفظ لوط الناهي عن ذلک لا من لفظ المتعاطین له . ( ل و ط ) لوط ( حضرت لوط (علیہ السلام) ) یہ اسم علم ہے لَاطَ الشیء بقلبي يَلُوطُ لَوْطاً ولَيْطاً ، سے مشتق ہے جس کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–35

ترکیب : ولوطا معطوف علی نوح و ابراہیم۔ المنکر مفعول تاتون، منجوک و اھلک الکاف فی الموضع خبر عند سیبویہ۔ من الغابرین الباقین فی العذاب اومن الماضین ذکر ہم اومن مضی زمانہ و یفنی، سیء بہم حزن بسببہم وضاق بہم ذرعًا صدرا۔ اوضاق بشانہم و تدبیرا مرھم ذرعہ ای طاقۃ ان جات ان صلتہ لتاکید الفعلین۔ تفسیر : یہ تیسرا قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے جو ان کے ساتھ بابل سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ شام میں پہنچ کر یہ قرار پایا کہ دونوں صاحب جدا جدا رہیں، کیونکہ دونوں کے چار پائے اور مویشی بکثرت تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو کنعان میں رہے اور لوط ( علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلُوْطًا اِذْقَالَ لِقَوْمِہٖٓ اِنَّـکُمْ لَتَا تُوْنَ الْفَاحِشَۃَ ز مَاسَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍمِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 28) (اور ہم نے لوط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایک کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو جس کا ارتکاب تم سے پہلے کسی قوم نے بھی نہیں کیا۔ ) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ وہ آپ کے ساتھ ہی ہجرت کرکے اپنے وطن سے نکلے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی معیت میں وہ کہاں کہاں گئے اور کیسی کیسی صعوبتیں اٹھائیں۔ لیکن پھر ایک وقت مقرر پر اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 28–29

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کی قوم کا مختصر ذکر۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: وَلُوْطًا یہ اذ کر فعل محذوف کا مفعول ہے۔ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ (جب کہ انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا۔ تم بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو) ۔ الفاحشۃ یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور وہ لواطت کا فعل تھا۔ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (نہیں سبقت کی اس کی طرف جہان میں سے کسی نے تم سے پہلے) یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اس فعل کے فاحشہ ہونے کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے۔ گویا کہنے والا اس طرح کہہ رہا ہے۔ کہ وہ بےحیائی کا ارتکاب کیوں کرتے تھے ؟ تو جواب دیا گیا۔ کہ ان سے قبل یہ حرکت کسی نے بھی نہ کی تھی۔ لوگوں نے کہا کہ قوم لوط سے قبل کوئی نر کسی نر سے جفتی نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔ ولوطا اذقال لقومہ انکم، ابوعمرو حمزہ اور کسائی اور ابوبکر نے ، ا ء نکم ، استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے بغیراستفہام کے پڑھا ہے انہوں نے دوسرے استفہام پر قیاس کیا ۔ لتاتون الفاحشۃ، فاحشہ سے مراد مردوں کے پاس آنا برائی کے لیے۔ ماسبقکم بھامن احد من العالمین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 25–37

25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–35

آیت 28 گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب) گرچہ عام ہے مگر حضرت لوط ( علیہ السلام) کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے حلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے لوط ( علیہ السلام) ابراہیم (…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–28

30 اللہ کی راہ میں قربانیوں پر عظیم الشان انعامات کی نوازش : سو حضرت ابراہیم نے جب اللہ کی راہ میں ہجرت کی تھی تو اس وقت حضرت لوط کے سوا کوئی آپ کی ہمنوائی کرنے والا نہ تھا۔ لیکن ہجرت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں کے نتیجے میں آپ کو حضرت اسحاق جیسے عظیم الشان بیٹے اور حضرت یعقوب جیسے عظیم الشان پوتے کی نعمت سے نوازا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب سے نوازا "۔ معلوم ہوا کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے لئے کسی سوسائٹی کو خیر باد کہتا ہے اللہ پاک اس کو سوسائٹی کے لئے اس سے بہتر افراد عطا اور مہیا فرماتا ہے کہ اس کی تو شان ہی نوازنا اور عطا فرمانا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–35

سیدنا لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : اس بستی کا اشارہ قوم لوط کی اس بستی کی طرف ہے جو اب بحیرہ مردار کا حصہ بن چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت فلسطین کے شہر جرون میں رہتے تھے اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Leand Seq) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک شدید زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا اور یہ کھلی نشانی شاہراہ عام پر موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ قوم لوط کی یہ تباہ شدہ بستی ‘ جو ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب کا نشانہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–30

آیات 23 تا 30 اسرارومعارف کفار جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔ کفار دلائل میں تو ابراہیم سے عاجز آگئے مگر کہنے لگے کہ انہیں قتل کردیا جائے اور وہ بھی ایسے دردناک طریقے سے کہ زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے غرض وہ ایسا کر گزرے لیکن اللہ نے اس آگ سے محفوظ رکھا۔ اہل ایمان کے لیے تو اس واقعہ میں بہت بڑے دلائل ہیں کہ کفار کی ایذا پر استقامت اختیار کی جانی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

5 ۔ یعنی فحش اور بدکاری کے کام چھپ کر ہیں بلکہ اپنی مجلسوں میں کھلم کھلا، ایک دوسرے کے سامنے، کرتے ہو۔ اسی کو سورة نمل میں یوں فرمایا : اتاتون الفاحشۃ وانتم تبصرون۔ کیا تم اسی طرح بدکاری کا ارتکاب کرتے ہو کہ آنکھوں سے (اسے ہوتا) دیکھ رہے ہوتے ہو “ ؟ (آیت 54) 6 ۔ سورة اعراف میں ہے : فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اخرجوھم من قربتکم۔ پھر ان کی قوم والوں نے کوئی جواب (ان باتوں کا) نہ دیا۔ یہی کہنے لگے کہ انہیں اپنی بستی سے نکال دو ۔ (کذافی سورة نمل) اور یہاں ان کا جواب یہ نقل کیا گیا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو عذاب لے آئو۔ ہوسکتا ہے کہ پہلے تو حضرت لوط ( علیہ السلام) کے سمجھانے پر انہوں نے بستی سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:28) ولوطا واؤ عطف کی ہے لوطا کا عطف یا تو ابراہیم آیت 16 یا نوحا آیت 14 پر ہے ای وارسلنا لوطا۔ تاتون۔ مضارع جمع مذکر حاضر اتیان مصدر اتی یاتی (باب ضرب) اتیمادہ۔ تم کرتے ہو، تم آتے ہو، یا تم کروگے یا آؤ گے الفاحشۃ۔ اسم ۔ حد سے بڑھی ہوئی بدی۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ ہر وہ چیز جس کی اللہ نے ممانعت کردی ہو ماسبقکم بھا : ما نافیہ ہے۔ سبق اس نے سبقت کی۔ اس نے پہلی کی۔ وہ آگے بڑھا۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ بھا اس کے ساتھ ۔ یعنی اس فحش فعل کی طرف (کسی قوم نے) تم سے پہل نہیں کی۔ یعنی تم سے پہلے کسی قوم نے اس فعل بد کا ارتکاب نہیں کیا۔ ب حرف جار ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الفاحشۃ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 28–35

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 35 : لتاتون ( البتہ تم لاتے ہو) ماسبق (پہلے نہیں کیا) تقطعون ( تم کاٹتے ہو) ‘ نادی (محفلیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 35 : اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جب کبھی کسی شہر ‘ علاقے یا ملک کے کچھ لوگ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی حرکتوں پر ان کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن جب پوری قوم کفر و شرک ‘ بےحیائی ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی ‘ زنا اور بدکاریوں میں اس طرح لگ جاتی ہے کہ شرم وحیا کے بجائے کھلم کھلا نجی اور عام محفلوں میں گناہ کرنے کو فیشن بنا لیاجاتا ہے اور خیر و شر کا ہر تصور مٹ کر رہ جاتا ہے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–35

بدفعلی کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی کیا، حضرت اسحاق ، ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعال کا یہ ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو قائم رکھا یہ ایک اللہ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے خاندان میں سے ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی۔ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔ اسماعیل (علیہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–28

ف 1: مقصد یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے دین کی خدمت کرتا ہے ۔ اللہ اس کو ضرور برکات دین ودنیا سے بہرہ ور کرتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

28۔ اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ اس نے قوم سے کہا کہ بلا شبہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو کہ تم سے پہلے اقوام عالم اور دنیا جہان کے لوگوں میں سے کسی نے ایسی بےحیائی کا ارتکاب نہیں کیا ۔ یعنی ایسی بےحیائی تو اقوام عالم میں سے کسی قوم میں نہیں سنی ۔ جس فعل شنیع کے تم مرتکب ہوتے ہو ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم میں بہت سی برائیاں اور بہت سے عیوب تھے بالخصوص لواطت کا فعل ان کی قوم میں بہت تھا، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوط (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور انہوں نے قوم کو ڈرایا : 28۔ لوط (علیہ السلام) کا تعلق نسبی اس قوم سے نہیں تھا جس قوم کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا تاہم زبان آپ کی مختلف نہیں تھی ، جیسا کہ پیچھے وضاحت گزر چکی لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی اپنے علاقہ سے ہجرت کر آئے تھے مصر تک دونوں چچا بھتیجا اکٹھے رہے اور مصر سے نکلتے وقت دونوں مشورہ سے الگ الگ ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یعنی لوط (علیہ السلام) کو سدومیوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا اور اس طرح لوط (علیہ السلام) اہل سدوم ہی کو مخاطب کرکے بات کرتے ہیں کیونکہ اس قوم کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ (And [ We sent ] Sayyidna Lut (علیہ السلام) when he said to his people, "Indeed you commit the shameful act - 29:28). Here Sayyidna Lut (علیہ السلام) has described three vicious sins of his people. One, unnatural offence of man with man; two, highway robbery against travelers; and three, commitment of sin openly before others in their group meetings. There is no specification of the third sin in the Holy Qur'an. Thus, it is deduced that every sin, which is a sin in its own right, if committed openly with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

50 For comparison, see Al-A`raf: 80-84, Hud: 69-83; Al-Hijr: 57-79; Al-Anbiyaa: 71-75; Ash-Shu`araa: 16Q-175; An-Naml: 54 59;.As-Saffat: 133-138; AIQamar: 33-40.

Read the full tafseer →