Explained with ayahs 16–18
ریاکاری سے بچو
امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 28
یعنی تم یہ بت نہیں گھڑ رہے ہو بلکہ ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ ان بتوں کا وجود خود ایک جھوٹ ہے۔ اور پھر تمہارے یہ عقائد کہ یہ دیویاں اور دیوتا ہیں، یا خدا کے اوتار یا اس کی اولاد ہیں، یا خدا کے مقرب اور اس کے ہاں شفیع ہیں، یا یہ کہ ان میں سے کوئی شفا دینے والا اور کوئی اولاد بخشنے والا اور کوئی روزگار دلوانے والا ہے، یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو تم لوگوں نے اپنے وہم و گمان سے تصنیف کرلی ہیں۔ حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ یہ محض بت ہیں بےجان، بےاختیار اور بےاثر۔
سورة العنکبوت 29
ان چند فقروں میں حضرت ابراہیم نے بت پرستی کے خلاف تمام معقول دلائل سمیٹ کر رکھ دیے ہیں۔ کسی کو معبود بنانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا سو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے (اور قوم کو سمجھاتے رہے) پھر (جب اس پر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو) ان کو طوفان نے آ دبایا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے (کہ اتنی مدت دراز کی فرمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے) پھر (اس طوفان آنے کے بعد) ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو (جو ان کے ساتھ سوار تھے اس طوفان سے) بچا لیا اور ہم نے اس واقعہ کو تمام جہان والوں کے لئے (جن کو تواتر کے ساتھ خبر پہنچی) موجب عبرت بنایا (کہ غور کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ مخالفت حق کا کیا انجام ہے) اور ہم نے ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے…
Read the full tafseer →انما تعبدون من دون اللہ اوثان وتخلقون افکا ط ان الذین تعبدون من دون اللہ لا یملکون لکم رزقا فابتغوا عند اللہ التذق واعبدوہ واشکروا لہ ط الیہ ترجعون (17)
یعنی اپنے جن معبودوں کو تم شریک خدا سمجھ کر پوج رہے ہو ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ محض بت اور تہان اور راستھان ہیں۔ وتخلقون افکا یعنی تمہارا یہ دعویٰ کہ خدا نے ان کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے محض ایک بہتان ہے جو تم خدا پر لگا رہے ہو۔ نہ خدا نے کہیں یہ فرمایا کہ اس نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے اور نہ تمہارے پاس اس کے حق میں کوئی دلیل ہے۔
ان الذین تعبدون من دون اللہ لا یملکون لکم رزقا فابتغوا عند اللہ الرزق۔ یعنی اگر تمہارا یہ گمان ہے کہ رزق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
17-1اوثان وثن کی جمع ہے۔ جس طرح اصنام، صنم کی جمع ہے۔ دونوں کے معنی بت کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں صنم، سونے، چاندی، پیتل اور پتھر کی مورت کو اور وثن مورت کو بھی اور چونے کے پتھر وغیرہ کے بنے ہوئے آستانوں کو بھی کہتے ہیں۔ تحلقون افکا کے معنی ہیں تکذبون کذبا، جیسا کہ متن کے ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرے معنی ہیں تعملونہا وتنحتونہا للافک، جھوٹے مقصد کے لیے انھیں بناتے اور گھڑتے ہو۔ مفہوم کے اعتبار سے دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کی عبادت کرتے ہو، وہ تو پتھر کے بنے ہوئے ہیں جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع۔ اپنے دل سے ہی تم نے انھیں گھڑ لیا ہے کوئی دلیل تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
9: حضرت ابراہیم ؑ کے واقعے کے لیے دیکھئے سورة انبیاء :51
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
و ابراہیم اذ قال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔ علی الرسول الا البلغ المبین (16 – 18)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو نہایت واضح اور سادہ دعوت دی جس میں کوئی پیچیدگی اور اجمال نہ تھا۔ اس دعوت کو انہوں نے نہایت مرتب انداز میں پیش کیا۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دعوت کی اس ترتیب اور انداز پر غور کریں۔ پہلے تو انہوں نے اپنی دعوت کی حقیقت ان کے سامنے رکھی۔
اعبدوا اللہ واتقوہ (29: 16) ” اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو “۔ اور اس کے بعد انہوں نے ان کے دلوں میں اس دعوت کے لیے دلچسپی پیدا کی کہ اس میں تمہارے لیے بہت خیر ہے ، بشرطیکہ وہ اچھائی اور برائی کو سمجھیں۔ خیر اور مقامات خیر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
1 یعنی جھوٹے عقیدے تراشتے ہو اور جھوٹے خیالات و اوہام کی پیروی کرتے ہو، چناچہ اپنے ہاتھوں سے یہ بت بنا کر کھڑے کرلیے ہیں۔ جنہیں جھوٹ موٹ خدا کہنے لگے۔
2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے۔ سو جان رکھو کہ اللہ کے سوا روزی کوئی نہیں دیتا وہ ہی دیتا ہے۔ اپنی خوشی کے موافق۔ " لہٰذا اس کے شکر گزار بنو اور اسی کی بندگی کرو۔ وہیں تم کو لوٹ کر جانا ہے، آخر اس وقت کیا منہ دکھاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 17 اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا ط ”
یہ جو تم نے بت اور ان کے استھان بنائے ہوئے ہیں یہ محض تمہارا افترا ہے۔ اس سب کچھ کی کہیں کوئی سند نہیں ہے ‘ نہ عقلی طور پر اور نہ ہی اللہ کی نازل کردہ کسی کتاب میں !
اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ ”
اللہ ہی سے رزق مانگو ‘ اسی سے مشکل کشائی کی درخواست کرو اور اسی کو حاجت روائی کے لیے پکارو۔
وَاعْبُدُوْہُ وَاشْکُرُوْا لَہٗط اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ”
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ ذکر ابھی مزید جاری رہے گا مگر یہاں درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
26 قرآن میں بتوں کے لئے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں (1) صنم (ج الاصنام) کے معنی وہ بت ہیں جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں خواہ یہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں یا لکڑی کے یا پتھر کے اور صناعہ الاصنام بمعنی بت تراشی کا فن جیسے حضرت ابراہیم کا باپ آذر بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ (2) نصب ایسے بتوں یا مجسموں کو کہتے ہیں جنہیں کسی جگہ پوجا پاٹ کے لئے نصب کردیا گیا ہو۔ جیسے مشرکین مکہ کے بت لات و منات، عزی اور ھبل وغیرہ تھے (3) اوثان (وثن کی جمع) ومن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے۔ یعنی آستانے وغیرہ خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔ بعض دفعہ بعض مخصوص مقامات پر پتھروں، درختوں، ستاروں یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔ نہ وہ ہوائیں چلانے پر قادر، نہ وہ برساتی بخارات اٹھانے پر قادر، نہ وہ فضا میں بادل کے پھیلانے پر قادر، نہ وہ پانی کو بوندوں کی شکل میں اتارنے پر قادر نہ وہ زمین کے آفتاب سے تپانے پر قادر، نہ وہ زمین میں قوت نمو پیدا کرنے پر قادر، زراعت، فلاحت، تجارت، صنعت وحرفت غرض معاش کی کسی ایک صفت کے بھی اسباب مؤثر ان کے بس میں ذرا سے بھی نہیں۔ (آیت) ” رزقا “۔ کی تنوین وتنکری رزق کی تقلیل وتحقیر کے لیے ہے یعنی کوئی ادنی سا بھی رزق ان معبودان باطل کے بس میں نہیں۔ (آیت) ’ ابراہیم “ اور قوم ابراہیم پر حاشیے بار بار گزر چکے۔
17۔ (کہ وہی ہر قسم کے نفع کا مالک ہے، تمہارے ہر نفع کا منبع بھی وہی ہے) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیت نمبر 14 تا 22
ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ…
Read the full tafseer →انما تعبدون من دون اللہ او ثانا وتخلقون افکا . کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر تم محض بتوں کو پوجتے
ہو (جو نہ ضرر پہنچا سکتے ہیں نہ نفع) اور تم جھوٹ گھڑتے ہو (کہ بتوں کو تم معبود کہتے ہو) اور ان کو اپنا سفارشی قرار دیتے ہو۔ اس صورت میں اِفْکًا مفعول مطلق ہوگا۔ ممکن ہے کہ یہ مفعول لہ ہو اور فعل سابق کی علت ہو یعنی محض جھوٹ کی وجہ سے تم ان کو تراشتے ہو۔
ان الذین تعبدون من دون اللہ لا یملکون لکم رزقا . یہ حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا
کرتے ہو (بت ہوں یا کوئی اور کچھ) وہ تم کو رزق دینے کے مالک نہیں ہیں۔ یعنی ان کی عبادت بےسود ہے ‘ ان کے قبضہ میں تمہارا رزق نہیں ہے۔ یہ غیر اللہ کی پرستش…
Read the full tafseer →(17) تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور ان کے متعلق جھوٹی باتیں بناتے ہو اور اللہ کے علاوہ جن کو پوجتے ہو ان کو خود اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو جن بتوں کی عبادت کرو اور توحید کے ذریعے سے اسی کا شکر کرو مرنے کے بعد تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے وہ تمہارے اعمال کا تمہیں بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا : قرآن مجید میں بتوں کے لیے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں : 1 ”صَنَمٌ“ اس کی جمع ”أَصْنَامٌ“ ہے، معنی ہے وہ بت جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں، خواہ وہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں، یا لکڑی کے یا پتھر کے اور ”صِنَاعَۃُ الْأَصْنَامِ“ کا معنی ہے بت تراشی کا فن، جیسے ابراہیم ؑ کا باپ بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ 2 ”نَصَبٌ“ اس کی جمع ”أَنْصَابٌ“ ہے، معنی ہے ایسے بت یا مجسّمے جنھیں پوجا پاٹ کے لیے نصب کردیا گیا ہو، جیسے مشرکین مکہ کے بت لات، منات، عزیٰ اور ہبل وغیرہ تھے۔ 3 ”أَوْثَانٌ“ یہ ”وَثَنٌ“ کی جمع ہے، وثن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
و ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔ کسائی نے کہا : ابراہیم کا لفظ انجینا کی وجہ سے منصوب ہے یعنی اس کا عطف ہاء ضمیر پر ہے ؎ کسائی نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ اس کا عطف نوح پر ہے معنی ہے ہم نے ابراہیم کو بھیجا۔ ایک تیسرا قول ہے کہ یہ اذکر فعل کی وجہ سے منصوب ہے۔ کی ذات کو عبادت میں خاص کرو۔ اس کے عقاب اور اس کے عذاب سے ڈرو۔ بتوں کی عبادت سے یہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
اوثان کا معنی بت ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : صنم اسے کہتے ہیں جو سونے، چاندی اور تانبے کا بنایا جاتا ہے اور روشن جو گچ یا پھتر سے بنایا جاتا ہے۔ جوہری نے کہا : وثن سے مراد بت ہے اس کی جمع وثن اور اوثان آتی ہے جس طرح اسد اور اوساد۔ حضرت حسن بصری نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →اِنَّمَا [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] تَعْبُدُوْنَ [تم لوگ بندگی کرتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] اَوْثَانًا [بتوں کی ] وَّتَخْلُقُوْنَ [اور تم تخلیق کرتے ہو ] اِفْكًا ۭ [جھوٹ کو ] اِنَّ الَّذِيْنَ [بیشک وہ لوگ جن کی ] تَعْبُدُوْنَ [تم لوگ بندگی کرتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] لَا يَمْلِكُوْنَ [اختیار نہیں رکھتے ] لَكُمْ [تمہارے لئے ] رِزْقًا [کسی رزق کا ] فَابْتَغُوْا [پس تم لوگ تلاش کرو ] عِنْدَ اللّٰهِ [اللہ کے پاس ] الرِّزْقَ [رزق کو ] وَاعْبُدُوْهُ [اور بندگی کرو اس کی ] وَاشْكُرُوْا لَهٗ ۭ [اور شکر ادا کرو اس کا ] اِلَيْهِ [اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اثبات قیامت پر دلیل آفاقی اور منکرین قیامت کے لیے زجر
ابھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو باقی ہے جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان تھی، درمیان میں قریش مکہ کو خطاب فرمایا جو قرآن کے مخاطبین اولین تھے، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہونے کے منکر ہیں کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کے سامنے انسان اور حیوان اور دوسری چیزوں کی ابتدائی پیدائش ہوتی رہتی ہے، چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور فنا ہوجاتی ہیں اللہ تعالیٰ دوبارہ ان کو پیدا فرما دیتا ہے، ابتداً پیدا فرمانا اور دوبارہ پیدا فرمانا اس کے لیے آسان ہے، دیکھو زمین ہری بھری ہوتی ہے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں، پھر فنا ہوجاتی ہیں، زمین مردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور
قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔
یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…
Read the full tafseer →15:۔ یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر کا حصہ ہے۔ فرمایا اللہ کے سوا تم جن معبودوں کو پوجتے اور پکارتے ہو وہ تو تمہاری سب سے بنیادی ضرورت ہی پوری کرنے کی قدرت نہیں رکھتے یعنی تمہاری روزی ان کے اختیار میں نہیں باقی حاجات میں وہ کیا کام آئیں گے۔ سب کا رازق اللہ تعالیٰ ہے اس لیے روزی بھی اسی سے مانگو اور ہر قسم کی عبادت بھی اسی ہی کے لیے بجا لاؤ اور تمام حاجات و بلیات میں غائبانہ پکارو بھی اسی کو۔ اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ سب سے بڑا شکر یہ ہے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) :
جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…
Read the full tafseer →اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْكًا 0 ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَا يَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللہِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوْہُ وَاشْكُرُوْا لَہٗ 0 ۭ اِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 17
دون
يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ،
( د و ن ) الدون
جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : و ابراہیم معطوف علی المفعول فی انجیناہ وعلیٰ تقدیر واذکروا علیٰ ارسلنا النشاۃ الآخرۃ بالمدو القصر لغتان اوثانا مفعول لتعبدون جمع و ثن ای صنم و تخلقون معطوف علی تعبدون ای تقولون۔ افکا ای کذبا تمیزمن ضمیر تخلقون او مفعول مطلق الذی اسم ان تعبدون من دون اللہ صلۃ لہ والعائد محذوف لا یملکون خبر کیف ھو والجملہ مفعول اولم یروا کیف بمعنی الکیفیۃ ابداء الخلق، یبدء بضم اولہ و قرءت بفتحہ من بدا و ابدء بمعنی واحد ای یخلقھم ابتداء فی الارض متعلق بمعجزین والمفعول ربکم۔
تفسیر : و ابراھیم یہ دوسرا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت نوح کے ( علیہ السلام) بیٹے سام کی نسل سے ہیں ان کے اور…
Read the full tafseer →اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا ط اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لاَ یَمْلِکُوْنَ لَـکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَاللّٰہِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوْہُ وَاشْکُرُوْا لَـہٗ ط اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (العنکبوت :) 17)
(بلاشبہ تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی بندگی کررہے ہو اور جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ بیشک تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی پرستش کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے تو اللہ ہی سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو اور اسی کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ )
دعوت کی تفصیل دلائل کے ساتھ
مشرکین کی ذہنی پستی کو واضح کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں دوسرے حقائق کے ساتھ یہ بھی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا تو نہ وہ خود ایک دوسرے کو بچا سکے۔ اور نہ ہی ان کے مشکل کشا انہیں بچا سکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خطاب سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ مشرک جن بتوں اور معبودوں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے ہیں اپنے چاہنے والوں کو نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم سے بیک وقت یہ استفسار کیا تھا کہ اے والد گرامی اور میری قوم کے لوگو ! بتلاؤ جن پتھر اور مٹی کی بنی ہوئی مورتیوں کے سامنے تم…
Read the full tafseer →17: اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا (بیشک تم اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں کی عبادت کرتے ہو) ۔ وَّتَخْلُقُوْنَ (تم جھوٹ بولتے ہو یا جھوٹ گھڑتے ہو) ۔
قراءت : ابوحنیفہ اور سلمی رحمہما اللہ نے تُخَلِّقُوْنَ پڑھا ہے۔ یہ خلّق سے لیا گیا۔ جس کے معنی : التکثیر فی الخلق یعنی جس کی خلق میں کثرت ہو۔
اِفْکًا (جھوٹ) ۔ قراءت : یہ اَفِکًا پڑھا گیا ہے۔ یہ مصدر ہے جیسے کذب ولعب۔ الافک یہ کذب و لعب کی طرح مخفف ہے۔ اختلاف الافک۔ بتوں کو معبود قرار دینا۔ اور اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا۔
اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا (بیشک وہ جن کی تم اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →17۔ انماتعبدون من دون اللہ اوثانا، اس سے مراد بت ہیں۔ وتخلقون افکا، ، اور تم لوگ جھوٹ گھڑتے ہو۔ مقاتل کا بیان ہے کہ وہ بتوں کو اپنے ہاتھوں سے تراشتے تھے پھر ان کو اپنے الہ کہلاتے تھے۔ ان الذین تعبدون من دون اللہ لایملکون لکم رزقا، ، وہ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ تمہیں رزق دیں فابتغوا، ، پس تم طلب کرو، عنداللہ الرزق واعبدوہ واشکرولہ الیہ ترجعون، ،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–23
13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(16-22)
اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا (عبدو اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمہیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ” اور اس سے ڈرو “ کہ وہ تم پر ناراض ہو کر تمہیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امور کو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا بارعث ہیں ” یہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ” تمہارے لیے بہتر ہے۔ “ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔ یہ اسم تفصیل کے ایسے باب میں سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17 معبودان باطلہ کی بےحقیقتی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم نے ان سے کہا کہ " جن کی پوجا تم لوگ کر رہے ہو اللہ کے سوا وہ محض بت ہیں "۔ جن کو تم لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے گھڑ لیا ہے اور بس۔ بھلا تم ذرا سوچو تو سہی کہ بےحس اور بےجان پتھروں سے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے یہ بت اور خود ساختہ و بےحقیقت یہ مورتیاں تم کو آخر کیا دیں گی ؟ اور کیا دے سکتی ہیں ؟ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اور اتنی واضح حقیقت اور اس قدر موٹی بات بھی سمجھنے سے تم قاصر ہو ؟ مگر جب کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال یہی ہوجاتا ہے اور اس کو اس قدر واضح حقائق بھی سمجھ نہیں آسکتے۔ جیسا کہ آج بہت سے کلمہ گو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ :
(1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔
(2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔
(3) اسی کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22
اسرارو معارف
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ…
Read the full tafseer →8 ۔ جو ان بتوں کو خدا کا شریک قرار دیتے ہو۔ بلکہ تمہارا ان بتوں کو گھڑنا خود ایک جھوٹ گھڑنا ہے۔ 9 ۔ نہ کہ کسی اور کی طرف، لہٰذا تمہارا انجام اور تمہاری عاقبت سنوارنا بھی صرف اسی کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →(29:17) اوثانا۔ وثن کی جمع منصوب بوجہ مفعول ہر وہ چیز جس کی خدا کے سوائے پرستش کی جائے وثن ہے مورتی ہو یا پتھر، قبر ہو یا جھنڈا
افکا۔ منصوب بوجہ مفعول۔ جھوٹ۔ بہتان۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکہ کہا جاتا ہے۔ جیسے ارشاد باری ہے والمؤتفکت بالخاطئۃ (29:9) اور الٹی ہوئی بستیوں نے (یعنی ان کے باسیوں نے) گناہ کے بڑے بڑے) کام کئے تھے۔
جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے اس لئے ان کو بھی افک کہا گیا۔ افک یافک افک یافک (ضرب سمع) افک مصدر کسی شے کا اپنے اصلی رخ سے پھرنا۔
تخلقون افکا۔ تم جھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 :
لبث (وہ ٹھہرارہا) الف سنۃ ( ایک ہزار سال) خمسین (پچاس) ‘ عام (سال) السفینۃ ( جہاز۔ کشتی) اوثان (بت) ‘ افک (جھوٹ۔ باطل) ‘ ابتغوا (تلاش کرو) امم ( امتیں۔ قومیں) ‘ البلغ (پہنچادینا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 :
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اہل ایمان کو ہر طرح کے حالات سے آزمایا جس میں انہوں نے صبر و تحمل ‘ عزم و ہمت اور استقلال کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ اللہ نے ان کو نہ صرف دنیا میں امن و سکون اور سلامتی عطا فرمائی بلکہ آخرت میں ھبی ان کو نجات کا وعدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(ف 1) اوپرمشرکین کی سرکشی کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح کے حال سے آگاہ فرمایا کہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے اسی (80) آدمی ایمان لائے جب اس قدرت مدت دراز تک نوح کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہین دیا تو اے محبوب ﷺ اپنی امت کے حال پر کچھ غم نہ کریں۔ چالیس سال کی عمر میں نوح رسول بناکربھیجے گئے اور قوم کے لوگوں میں ساڑھے نوسو برس رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے وقت انتقال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل حاشیہ 22 صفحہ 904۔
Read the full tafseer →ابراہیم کے مواعظ توحید
1: ان آیتوں میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ مذکور ہے ۔ کہ کیونکر انہوں نے قوم کے بت پر ستانہ خیالات کی تردید فرمائی ارشاد ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوج رہے ہو ۔ جن میں کوئی حقیقت نہیں ۔ اور جن کی تم پرستش کرتے ہو ۔ یقینا وہ رزق کے مالک نہیں ۔ اگر رزق حاصل کرنا ہے ۔ تو اللہ کے پاس آؤ۔ اور اس کا شکر ادا کرو ۔ یعنی کشائش رزق کی تمام راہیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اور اسی کے قبضہ اختیار میں ہے ۔ کہ جس کو چاہے فراوانی کے ساتھ دے اور جس کو چاہے تان شبیہ تک محتاج کردے ۔ اس کے بعد فرمایا ۔ اگر تم اس پیغام کونہ مانو ۔ تو میں تم کو مجبور نہیں کرتا ۔ تم سے پہلے بھی قوموں…
Read the full tafseer →17۔ تم لوگ تو بس اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے ہو اور تم جھوٹی جھوٹی باتیں گھڑا کرتے ہو اور جھوٹی باتیں بناتے رہتے ہو بلا شبہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑکر تم جن کی پرستش کر رہے ہو وہ تم کو روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے سو تم لوگ اپنی روزی اور اپنا رزق اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کیا کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر بجا لائو تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور تم سب اس کی طرف لوٹائے جائوگے۔ یعنی بت پرستی کرتے ہو اس توقع پر کہ یہ معبودان باطلہ تم کو کچھ فائدہ پہنچائیں گے حالانکہ ان کے اختیار میں کوئی نفع پہنچانا نہیں ہے حتیٰ کہ روزی جو روزمرہ کی ضرورت اور زندگی قائم رکھنے کی چیز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 2۔ یعنی اس سے مانگو کہ مالک رزق وہی ہے۔
3۔ ایک تو سبب و وجوب عبادت کا یہ ہے کہ وہ مالک نفع کا ہے، اور دوسرا سبب یہ کہ وہ مالک ضرر کا بھی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ سراسر جھوٹ اور افک ہے :
17۔ سیدنا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے والدہ اور قوم کو دو ٹوک الفاظ میں بیان کردیا کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا تم جن جن کی پرستش بھی کرتے ہو خواہ وہ انبیاء ورسول ہوں یا اللہ کے دوسرے نیک بندے خواہ وہ زندہ ہوں یا تم نے انکے بت یا قبر یا کوئی تشبیہہ بنا کر رکھی ہو یا تشبیہہ بنا کر رکھی ہو یا تصویر آویزاں کردی ہو جو صورت بھی تم نے اختیار کی ہے وہ تمہارا محض جھوٹ ہے جس کو تم لوگوں نے گھڑ لیا ہے یا تمہارے آباء و اجداد نے ان سب میں سے جو بلاشبہ اللہ کے مقبول بندے ہیں ایک بھی ایسا نہیں جو تمہارا معبود کہلا سکے اور نہ ہی ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
Commentary
The infidels of Makkah believed that it is Allah who has created the whole universe, but they deemed it impossible that the people will be resurrected after they once die. The present verses have described the fallacy of their view. It is stated that repeating the process of creation is much easier than its origination. It is strange that these infidels do believe that Allah has originated the creation, but they deny His power to do it again, while the latter is easier than the former. Then verse 20 has induced them to look around them to appreciate the splendors of the creation,…
Read the full tafseer →28 That is, "You are not forging idols but a lie. These idols are in themselves a lie. Then your beliefs that they are gods and goddesses, or they are incarnation of God, or His offspring, or His favourites, or intercessors with Him, ur that someone of them is bestower of health, or giver of children or jobs, are aII lies, which you have invented from your own whims and conjecture. The fact is that they are in no way more than idols-lifeless, powerless and impotent.
29 In these few sentences the Prophet Abraham has put together aII rational arguments against idol-worship. There must…
Read the full tafseer →