Al-Ankaboot 29:16

Al-Ankaboot · from ayah 16

29:16

وَاِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوْهُ ؕ— ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟وَاِبۡرٰهِيۡمَ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوۡهُ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

اور ابراہیمؑ کو (یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [We sent] Abraham, when he said to his people, "Worship Allah and fear Him. That is best for you, if you should know.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:16

اور ابراہیمؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کی بندگی کرو اور اُس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ابراہیمؑ کو (یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ابراہیم ؑ نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اوراس سے ڈرتے رہو، اگر تم میں دانائی ہے تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ کی عبادت کرو، اور اس سے ڈرو یہی بات تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم سمجھ سے کام لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ابراہیم کو جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کو پوجو اور اس سے ڈرو، اس میں تمہارا بھلا ہے اگر تم جانتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ابراہیم ؑ کو (یاد کریں) جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم (حقیقت کو) جانتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ابراہیم کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ابراہیم (کا واقعہ یاد کرو) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو۔ اگر تم جانو تو یہی بات تمہارے لئے بہتر ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ابراہیم کو بھی رسول بنا کر بھیجا جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر جانو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ابراہیم کو بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا سو یاد کرو جب کہ انہوں نے کہا اپنی قوم سے کہ تم لوگ بندگی کرو ایک اللہ کی اور اسی سے ڈرو یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم جانو۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور ابراہیم کو (بھی ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی پرستش کرو اور اس سے ڈرو یہ بہتر ہوگا تمہارے حق میں اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ابراہیم ؑ کو (بھی رسول بنا کر بھیجا) جب اس نے کہا اپنی قوم سے کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ابراہیم کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم جانتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We sent Abraham and he said to his people: “Serve Allah and fear Him. This is better for you if you only knew.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (We sent) Ibrahim when he said to his people, :Worship Allah and fear Him. That is better for you if you know.

— Muhammad Taqi Usmani

And (We sent) Ibrahim when he said to his people, :Worship Allah and fear Him. That is better for you if you know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) Ibrahim when he said to his people: "Worship Allah, and have Taqwa of Him, that is better for you if you know."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Abraham! (Remember) when he said unto his folk: Serve Allah, and keep your duty unto Him; that is better for you if ye did but know.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [We sent] Abraham, when he said to his people, "Worship Allah and fear Him. That is best for you, if you should know.

— Saheeh International

Abraham told his people, "Worship God and have fear of Him. It is better for you if only you knew it.

— Muhammad Sarwar

And (We sent) Ibrahim, when he said to his people: Serve Allah and be careful of (your duty to) Him; this is best for you, if you did but know:

— Muhammad Habib Shakir

And We sent Ibrahim. Recall what time he said unto his people: worship Allah, and fear Him; that is best for you if ye but knew.

— Abdul Majid Daryabadi

And (We also saved) Abraham: behold, he said to his people, "Serve Allah and fear Him: that will be best for you- If ye understand!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–18

ریاکاری سے بچو امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 26 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو، البقرہ رکوع 15۔ 16۔ 35۔ آل عمران 7۔ الانعام 9۔ ہود 7۔ ابراہیم 6۔ الحجر 4۔ مریم 3۔ الانبیاء 5۔ الشعراء 5۔ الصافات 3۔ الزخرف 3۔ الذاریات 2۔ سورة العنکبوت 27 یعنی اس کے ساتھ شرک اور اس کی نافرمانی کرنے سے ڈرو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–18

خلاصہ تفسیر اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا سو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے (اور قوم کو سمجھاتے رہے) پھر (جب اس پر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو) ان کو طوفان نے آ دبایا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے (کہ اتنی مدت دراز کی فرمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے) پھر (اس طوفان آنے کے بعد) ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو (جو ان کے ساتھ سوار تھے اس طوفان سے) بچا لیا اور ہم نے اس واقعہ کو تمام جہان والوں کے لئے (جن کو تواتر کے ساتھ خبر پہنچی) موجب عبرت بنایا (کہ غور کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ مخالفت حق کا کیا انجام ہے) اور ہم نے ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وابراھیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ ط ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (16) یعنی جس طرح ہم نے نوح ؑ کو رسول بنا کر بھیجا تھا اسی طرح ابراہیم ؑ کو بھی اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ اس نے بھی اپنی قوم کو دعوت دی کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس کے غضب سے ڈرو۔ اس کے غضب سے ڈرو، یعنی اس کی بندگی میں دوسروں کو شریک کرکے اس کے غضب کو دعوت نہ دو۔ ’ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعملون تنبیہ کا کلمہ ہے۔ یعنی یہ بہترین نصیحت اور بہترین موعظت ہے جو میں بالکل وقت پر تمہیں پہنچا رہا ہوں بشرطیکہ تم اس کو سمجھو اور اس کی قدر کروع۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–17

17-1اوثان وثن کی جمع ہے۔ جس طرح اصنام، صنم کی جمع ہے۔ دونوں کے معنی بت کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں صنم، سونے، چاندی، پیتل اور پتھر کی مورت کو اور وثن مورت کو بھی اور چونے کے پتھر وغیرہ کے بنے ہوئے آستانوں کو بھی کہتے ہیں۔ تحلقون افکا کے معنی ہیں تکذبون کذبا، جیسا کہ متن کے ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرے معنی ہیں تعملونہا وتنحتونہا للافک، جھوٹے مقصد کے لیے انھیں بناتے اور گھڑتے ہو۔ مفہوم کے اعتبار سے دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کی عبادت کرتے ہو، وہ تو پتھر کے بنے ہوئے ہیں جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع۔ اپنے دل سے ہی تم نے انھیں گھڑ لیا ہے کوئی دلیل تو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–24

9: حضرت ابراہیم ؑ کے واقعے کے لیے دیکھئے سورة انبیاء :51

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–18

و ابراہیم اذ قال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔ علی الرسول الا البلغ المبین (16 – 18) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو نہایت واضح اور سادہ دعوت دی جس میں کوئی پیچیدگی اور اجمال نہ تھا۔ اس دعوت کو انہوں نے نہایت مرتب انداز میں پیش کیا۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دعوت کی اس ترتیب اور انداز پر غور کریں۔ پہلے تو انہوں نے اپنی دعوت کی حقیقت ان کے سامنے رکھی۔ اعبدوا اللہ واتقوہ (29: 16) ” اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو “۔ اور اس کے بعد انہوں نے ان کے دلوں میں اس دعوت کے لیے دلچسپی پیدا کی کہ اس میں تمہارے لیے بہت خیر ہے ، بشرطیکہ وہ اچھائی اور برائی کو سمجھیں۔ خیر اور مقامات خیر کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

1 یعنی جھوٹے عقیدے تراشتے ہو اور جھوٹے خیالات و اوہام کی پیروی کرتے ہو، چناچہ اپنے ہاتھوں سے یہ بت بنا کر کھڑے کرلیے ہیں۔ جنہیں جھوٹ موٹ خدا کہنے لگے۔ 2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے۔ سو جان رکھو کہ اللہ کے سوا روزی کوئی نہیں دیتا وہ ہی دیتا ہے۔ اپنی خوشی کے موافق۔ " لہٰذا اس کے شکر گزار بنو اور اسی کی بندگی کرو۔ وہیں تم کو لوٹ کر جانا ہے، آخر اس وقت کیا منہ دکھاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 17 اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا ط ” یہ جو تم نے بت اور ان کے استھان بنائے ہوئے ہیں یہ محض تمہارا افترا ہے۔ اس سب کچھ کی کہیں کوئی سند نہیں ہے ‘ نہ عقلی طور پر اور نہ ہی اللہ کی نازل کردہ کسی کتاب میں ! اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ ” اللہ ہی سے رزق مانگو ‘ اسی سے مشکل کشائی کی درخواست کرو اور اسی کو حاجت روائی کے لیے پکارو۔ وَاعْبُدُوْہُ وَاشْکُرُوْا لَہٗط اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ” حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ ذکر ابھی مزید جاری رہے گا مگر یہاں درمیان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

26 قرآن میں بتوں کے لئے تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں (1) صنم (ج الاصنام) کے معنی وہ بت ہیں جو قابل انتقال اور قابل فروخت ہوں خواہ یہ پیتل یا لوہے یا چاندی کے ہوں یا لکڑی کے یا پتھر کے اور صناعہ الاصنام بمعنی بت تراشی کا فن جیسے حضرت ابراہیم کا باپ آذر بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ (2) نصب ایسے بتوں یا مجسموں کو کہتے ہیں جنہیں کسی جگہ پوجا پاٹ کے لئے نصب کردیا گیا ہو۔ جیسے مشرکین مکہ کے بت لات و منات، عزی اور ھبل وغیرہ تھے (3) اوثان (وثن کی جمع) ومن کا تعلق زیادہ تر مقامات سے ہوتا ہے۔ یعنی آستانے وغیرہ خواہ وہاں بت نصب ہوں یا نہ ہوں۔ بعض دفعہ بعض مخصوص مقامات پر پتھروں، درختوں، ستاروں یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–17

16۔ نہ وہ ہوائیں چلانے پر قادر، نہ وہ برساتی بخارات اٹھانے پر قادر، نہ وہ فضا میں بادل کے پھیلانے پر قادر، نہ وہ پانی کو بوندوں کی شکل میں اتارنے پر قادر نہ وہ زمین کے آفتاب سے تپانے پر قادر، نہ وہ زمین میں قوت نمو پیدا کرنے پر قادر، زراعت، فلاحت، تجارت، صنعت وحرفت غرض معاش کی کسی ایک صفت کے بھی اسباب مؤثر ان کے بس میں ذرا سے بھی نہیں۔ (آیت) ” رزقا “۔ کی تنوین وتنکری رزق کی تقلیل وتحقیر کے لیے ہے یعنی کوئی ادنی سا بھی رزق ان معبودان باطل کے بس میں نہیں۔ (آیت) ’ ابراہیم “ اور قوم ابراہیم پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ 17۔ (کہ وہی ہر قسم کے نفع کا مالک ہے، تمہارے ہر نفع کا منبع بھی وہی ہے) (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–22

آیت نمبر 14 تا 22 ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وابرٰھیم اذ قال لقوم اعبدوا اللہ واتقوا ذلکم خیرلکم . اور ہم نے ابراہیم کو پیغمبر بنایا۔ یاد کرو (اس واقعہ کو کہ) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ یعنی جب ابراہیم کمال عقلی کے درجہ پر پہنچ گئے اور غور و فکر کی طاقت کامل ہوگئی اور حق کی معرفت ان کو حاصل ہوگئی اور دوسروں کو بھی انہوں نے حق کو قبول کرنے اور اس پر چلنے کا حکم دیا تو ہم نے ان کو پیغمبر بنا دیا تو انہوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس سے ڈرو (یا اس کے عذاب سے خوف کرو) ۔ ان کنتم تعلمون . اگر تم اہل علم میں سے ہو تو ایسا کرو۔ یعنی اگر تم خیر و شر کو جانتے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) اور ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا جب کہ انھون نے اپنی قوم سے فرمایا توحید خداوندی کا اقرار کرلو اور اسی سے ڈر اور کفر وشرک اور بتوں کی پوجا سے توبہ کر کے اسی کی اطاعت کرو یہ توبہ اور توحید جس طریقہ پر تم قائم ہو اس سے بہتر ہے اگر تم اس کو سمجھتے ہو اور تصدیق کرتے ہو نہ تم سمجھتے ہو اور نہ ہی تصدیق کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ :”ابراھیم“ کا عطف ”نوحا“ پر ہے اور یہ ”ارسلنا“ کا مفعول ہے، یعنی ”اور ہم نے ابراہیم کو بھیجا۔“ بعض مفسرین نے اسے ”اُذْکُرْ“ کا مفعول بنایا ہے کہ ابراہیم کو یاد کر۔ اگرچہ یہ بھی ہوسکتا ہے، مگر آگے آیت (36) میں ”وَاِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا“ سے ظاہر ہے کہ راجح یہی ہے کہ یہ ”ارسلنا“ کا مفعول ہے۔ ابراہیم ؑ کے واقعہ کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (رکوع 15، 16 اور 35) ، آل عمران (رکوع 7) ، انعام (رکوع 9) ، ہود (رکوع 7) ، ابراہیم (رکوع 6) ، حجر (رکوع 4) ، مریم (رکوع 3) ، انبیاء (رکوع 5) ، شعراء (5) ، صافات (رکوع 3) ، زخرف (رکوع 3) اور ذاریات…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–19

و ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔ کسائی نے کہا : ابراہیم کا لفظ انجینا کی وجہ سے منصوب ہے یعنی اس کا عطف ہاء ضمیر پر ہے ؎ کسائی نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ اس کا عطف نوح پر ہے معنی ہے ہم نے ابراہیم کو بھیجا۔ ایک تیسرا قول ہے کہ یہ اذکر فعل کی وجہ سے منصوب ہے۔ کی ذات کو عبادت میں خاص کرو۔ اس کے عقاب اور اس کے عذاب سے ڈرو۔ بتوں کی عبادت سے یہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ اوثان کا معنی بت ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : صنم اسے کہتے ہیں جو سونے، چاندی اور تانبے کا بنایا جاتا ہے اور روشن جو گچ یا پھتر سے بنایا جاتا ہے۔ جوہری نے کہا : وثن سے مراد بت ہے اس کی جمع وثن اور اوثان آتی ہے جس طرح اسد اور اوساد۔ حضرت حسن بصری نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–27

1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔ 2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو 4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا 5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِبْرٰهِيْمَ [اور (یقینا ہم بھیج چکے) ابراہیم (علیہ السلام) کو ] اِذْ قَالَ [جب انہوں نے کہا ] لِقَوْمِهِ [اپنی قوم سے ] اعْبُدُوا [تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [اللہ کی ] وَاتَّــقُوْهُ ۭ [اور تقوی اختیار کرو اس کا ] ذٰلِكُمْ خَيْرٌ [یہ بہتر ہے ] لَّكُمْ [تمہارے لئے ] اِنْ كُنْتُمْ [اگر تم لوگ ] تَعْلَمُوْنَ [جانتے ہو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور اللہ تعالیٰ سے رزق طلب کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمانا ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بعثت اور رسالت کا اور قوم کو توحید کی دعوت دینے اور شرک سے بیزار ہونے کا اجمالاً تذکرہ فرمایا ہے، ان کا واقعہ جگہ جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے، سورة آل عمران میں ان کا نمرود سے مناظرہ کرنا اور سورة انعام میں اپنی قوم کو اور اپنے باپ کو بت پرستی اور ستارہ پرستی سے روکنا اور انہیں یہ بتانا کہ یہ سب گمراہی کا کام ہے اور سورة انبیاء میں اور سورة شعراء میں اپنی قوم کو سمجھانے اور بت پرستی کا ضرر اور نقصان اور خسران سمجھانے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–27

قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔ یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

14:۔ یہ دوسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے دعوت توحید پیش کی لیکن اس کی وجہ سے وقت کے بادشاہ نمرود، اپنی قوم اور خود اپنے باپ کے مسلسل مصائب و مشکلات کا نشانہ بنے۔ من دون اللہ اوثانا، اوثانا، تعبدون کا مفعول اور ذو الحال موخر ہے اور من دون اللہ حال مقدم ہے۔ اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو اور حاجات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو اور شرک کرنے میں اللہ سے ڈرو۔ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ٹھاکر ہی تو ہیں وہ کب الوہیت کے سزاوار ہیں تم انہیں کارساز سمجھ کر ایک صریح غلط اور جھوٹا نظریہ پیش کرتے ہو۔ ای تکذبون کذبا حیث تسمونہا الہۃ و تدعون…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–23

عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) : جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِبْرٰہِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اللہَ وَاتَّــقُوْہُ۝ 0 ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝ 16 عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–19

ترکیب : و ابراہیم معطوف علی المفعول فی انجیناہ وعلیٰ تقدیر واذکروا علیٰ ارسلنا النشاۃ الآخرۃ بالمدو القصر لغتان اوثانا مفعول لتعبدون جمع و ثن ای صنم و تخلقون معطوف علی تعبدون ای تقولون۔ افکا ای کذبا تمیزمن ضمیر تخلقون او مفعول مطلق الذی اسم ان تعبدون من دون اللہ صلۃ لہ والعائد محذوف لا یملکون خبر کیف ھو والجملہ مفعول اولم یروا کیف بمعنی الکیفیۃ ابداء الخلق، یبدء بضم اولہ و قرءت بفتحہ من بدا و ابدء بمعنی واحد ای یخلقھم ابتداء فی الارض متعلق بمعجزین والمفعول ربکم۔ تفسیر : و ابراھیم یہ دوسرا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت نوح کے ( علیہ السلام) بیٹے سام کی نسل سے ہیں ان کے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِبْرٰھِیْمَ اِذْقَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاتَّقُوْہُ ط ذٰلِکُمْ خَیْرٌلَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 16) (اور ہم نے ابراہیم کو رسول بنا کر بھیجا جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت لفظ اِبْرٰھِیْمَسے پہلے ارسلنا محذوف ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی ہدایت کے لیے اپنا رسول بنا کر بھیجا تھا اسی طرح ہم نے ابراہیم کو بھی ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے اپنی قوم کو اسی بنیادی حقیقت کی دعوت دی جس کی دعوت حضرت نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں دوسرے حقائق کے ساتھ یہ بھی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا تو نہ وہ خود ایک دوسرے کو بچا سکے۔ اور نہ ہی ان کے مشکل کشا انہیں بچا سکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خطاب سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ مشرک جن بتوں اور معبودوں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے ہیں اپنے چاہنے والوں کو نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم سے بیک وقت یہ استفسار کیا تھا کہ اے والد گرامی اور میری قوم کے لوگو ! بتلاؤ جن پتھر اور مٹی کی بنی ہوئی مورتیوں کے سامنے تم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16: وَاِبْرَاہِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اللّٰہَ (اور ابراہیم (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا۔ یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) ۔ نحو : ابراہیم اذکر محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور اذ قال یہ اس کا بدل الاشتمال ہے۔ کیونکہ اوقات ان تمام چیزوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو ان میں ہوتی ہیں۔ نمبر 2۔ اس کا عطف نوحًا پر ہے ای وارسلنا ابراہیم اور اذ یہ ارسلنا کا ظرف ہے۔ یعنی ارسلناہ حین بلغ من السنّ یا بلغ من العلم مبلغًا صلح فیہ لان یعظ قومہٗ ویأمرہم بالعبادہ والتقوی۔ اور ہم نے اس وقت ان کو بھیجا جب ان کی عمر نبوت کی عمر تک پہنچ چکی۔ یا علم میں ایک مقام تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16۔ وابراھیم ، پھر ہم نے حضرت ابراہیم کوپیغمبربناکربھیجا، اذقال لقومہ اعبدواللہ واتقوہ، اس کی اطاعت کروا اس سے ڈرو۔ ذالکم خیرلکم ان کنتم تعلمون، ،،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–23

13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–22

(16-22) اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا (عبدو اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمہیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ” اور اس سے ڈرو “ کہ وہ تم پر ناراض ہو کر تمہیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امور کو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا بارعث ہیں ” یہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ” تمہارے لیے بہتر ہے۔ “ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔ یہ اسم تفصیل کے ایسے باب میں سے ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

15 قصہ ابراہیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم کو بھی ہم نے رسول بنا کر بھیجا۔ یاد کرو جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ صرف اللہ ہی کی بندگی کرو اور اسی سے ڈرو۔ سو پیغمبر کی زندگی میں اصل چیز ان کی دعوت ہوتی ہے نہ کہ مولود و میلاد کے جشن منانا۔ اس لیے ذکر ان کی دعوت کا فرمایا گیا ہے میلاد اور پیدائش کے قصے کا نہیں۔ سو ارشاد ہوا کہ حضرت ابراہیم کے اس مشن اور دعوت کو یاد اور بیان کرو جس کو دے کر انہیں مبعوث فرمایا گیا تھا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ میلاد خوانی اور جشن و جلوس میلاد کا نہیں۔ جس طرح کہ آج کل کے عام کلمہ گو مسلمان نے سمجھ رکھا ہے۔ بلکہ اصل مقصد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–27

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ : (1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔ (2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔ (3) اسی کی عبادت کرنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–22

آیات 14 تا 22 اسرارو معارف یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ یعنی اس کے ساتھ شرک اور اس کی نافرمانی کرنے سے ڈرو۔ 7 ۔ اور شرک میں کسی طرح کی کوئی بہتری نہیں ہے یا ” اگر تمہیں کچھ بھی علم ہے “ جس سے تم خیر و شر میں تمیز کرسکو۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 : لبث (وہ ٹھہرارہا) الف سنۃ ( ایک ہزار سال) خمسین (پچاس) ‘ عام (سال) السفینۃ ( جہاز۔ کشتی) اوثان (بت) ‘ افک (جھوٹ۔ باطل) ‘ ابتغوا (تلاش کرو) امم ( امتیں۔ قومیں) ‘ البلغ (پہنچادینا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 : اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اہل ایمان کو ہر طرح کے حالات سے آزمایا جس میں انہوں نے صبر و تحمل ‘ عزم و ہمت اور استقلال کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ اللہ نے ان کو نہ صرف دنیا میں امن و سکون اور سلامتی عطا فرمائی بلکہ آخرت میں ھبی ان کو نجات کا وعدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–18

(ف 1) اوپرمشرکین کی سرکشی کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح کے حال سے آگاہ فرمایا کہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے اسی (80) آدمی ایمان لائے جب اس قدرت مدت دراز تک نوح کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہین دیا تو اے محبوب ﷺ اپنی امت کے حال پر کچھ غم نہ کریں۔ چالیس سال کی عمر میں نوح رسول بناکربھیجے گئے اور قوم کے لوگوں میں ساڑھے نوسو برس رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے وقت انتقال کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: حضرت نوح کے بعد جب ارض بابل میں شرک پھیل گیا ۔ اور ساری قوم خدا کی نافرمان ہوگئی تو حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے ۔ انہوں نے بڑی حکمت وہ دانائی اور جرات وجسارت سے لوگوں کو ایک اللہ کی چوکھٹ پر جھکنے کی دعوت دی ۔ اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

16۔ اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجا جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو یہ اللہ تعالیٰ کی پرستش اور اس سے ڈرتے رہنا اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو تمہارے لئے اس طریقہ کار سے بہتر ہے جو تم نے طریقہ اختیار کررکھا ہے۔ یعنی تم نے جو طریقہ اختیار کر رکھا ہے وہ شرک اور بت پرستی کا ہے اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی پوجا اور اس سے ڈرنا بدرجہا بہتر ہے اگر تم جانتے ہو اور سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا ذکر اور قوم کو توحید کی دعوت کا بیان : 16۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جو ابو الانبیاء کے لقب سے معروف ہیں آپ نے سب سے پہلے اپنے والد کو اور پھر قوم کو مخاطب کیا کیونکہ آپ کا والد خود بت گر تھا اور اپنے قومی بزرگوں کے بت بنا کر فروخت کرنا اس کا کام تھا اور یہ بات قبل ازیں ہم بارہا عرض کرچکے ہیں کہ زمانہ کے رواج کے مطابق گزشتہ اقوام میں زیادہ اپنے قومی بزرگوں کے بت بنا کر سامنے رکھے جاتے تھے اور لوگ ان مجسموں کو سامنے رکھ کر اپنے قومی بزرگوں کی پرستش کرتے تھے ، قوم مسلم کے مشرکوں نے گزشتہ قوموں کے رواج کے خلاف اپنی قوم کا ایک نیا رواج نکالا کہ بجائے بتوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–19

Commentary The infidels of Makkah believed that it is Allah who has created the whole universe, but they deemed it impossible that the people will be resurrected after they once die. The present verses have described the fallacy of their view. It is stated that repeating the process of creation is much easier than its origination. It is strange that these infidels do believe that Allah has originated the creation, but they deny His power to do it again, while the latter is easier than the former. Then verse 20 has induced them to look around them to appreciate the splendors of the creation,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26 For comparison, see AI-Baqarah: 122-141. 258-260; AI-i-'Imran: 6471; AI-An'am: 71-82; Hud:.69-83; Ibrahim: 35-41; AI-Hijr: 45-60; Maryam: 4150; AI-Anbiyaa: 51-75; Ash-Shu'araa: 69-104; As -Saftat: 75-I 13; Az-Zukhruf: 26-35; Adh-Dhariyat: 24-46. 27 That is, "Fear disobeying Him and associating others with Him."

Read the full tafseer →