Explained with ayahs 14–15
نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی
اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح ؑ اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کی دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کردیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہوچکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 24
یعنی ان لوگوں کو جو حضرت نوح پر ایمان لائے تھے اور جنہیں کشتی میں سوار ہونے کی اللہ تعالیٰ نے اجازت دی تھی۔ سورة ہود میں اس کی تصریح ہے حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَار التَّنُّوْرُ ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ۭ وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ۔ (ہود۔ آیت 40) " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا کہ (اے نوح) اس کشتی میں سوار کرلے ہر قسم کے (کے جانوروں) میں سے ایک ایک جوڑا، اور اپنے گھر والوں کو سوائے ان کے جنہیں ساتھ نہ لینے کا پہلے حکم دے دیا گیا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا سو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے (اور قوم کو سمجھاتے رہے) پھر (جب اس پر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو) ان کو طوفان نے آ دبایا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے (کہ اتنی مدت دراز کی فرمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے) پھر (اس طوفان آنے کے بعد) ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو (جو ان کے ساتھ سوار تھے اس طوفان سے) بچا لیا اور ہم نے اس واقعہ کو تمام جہان والوں کے لئے (جن کو تواتر کے ساتھ خبر پہنچی) موجب عبرت بنایا (کہ غور کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ مخالفت حق کا کیا انجام ہے) اور ہم نے ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے…
Read the full tafseer →فانجینہ واصحب السفینۃ وجعلنھا ایۃ للعلمین (15)
یعنی اتنی طویل کشمکش اور آزمائشوں کے بعد وہ مرحلہ آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو دنیا والوں کے لئے ایک عظیم نشانی بنایا جس کے آئینہ میں اہل حق اور اہل ِ باطل دونوں اپنے اپنے انجام دیکھ سکتے ہیں۔
وجعلنھا میں ضمیر کا مرجع کوئی معین لفظ نہیں ہے بلکہ وہ پورا واقع ہے جو اوپر بیان ہوا۔ عربی میں ضمیروں کے استعمال کا یہ طریقہ معروف ہے، اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
حضرت نوح ؑ کے اس واقعہ میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے جو اوپر بیان ہوئی کہ دین کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی طرف سے کوئی دوسرا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
17-1اوثان وثن کی جمع ہے۔ جس طرح اصنام، صنم کی جمع ہے۔ دونوں کے معنی بت کے ہیں۔ بعض کہتے ہیں صنم، سونے، چاندی، پیتل اور پتھر کی مورت کو اور وثن مورت کو بھی اور چونے کے پتھر وغیرہ کے بنے ہوئے آستانوں کو بھی کہتے ہیں۔ تحلقون افکا کے معنی ہیں تکذبون کذبا، جیسا کہ متن کے ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرے معنی ہیں تعملونہا وتنحتونہا للافک، جھوٹے مقصد کے لیے انھیں بناتے اور گھڑتے ہو۔ مفہوم کے اعتبار سے دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ یعنی اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں کی عبادت کرتے ہو، وہ تو پتھر کے بنے ہوئے ہیں جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع۔ اپنے دل سے ہی تم نے انھیں گھڑ لیا ہے کوئی دلیل تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
8: حضرت نوح ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 25 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
درس نمبر 181 ایک نظر میں
سابقہ راؤنڈ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو لوگ کلمہ ایمان کا اقرار کرتے ہیں ، اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ضرور آزمایا جائے گا اور مشکلات سے دوچار کیا جائے گا تاکہ سچوں اور جھوٹوں کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ آزمائشوں میں اذیت کی آزمائش ، رشتہ داروں کی آزمائش اور سازشوں اور لالچوں کی آزمائش شامل ہے۔
اس سبق میں ان آزمائشوں کا ذکر ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر ہر اسلامی دعوت کے قائدین کو پیش آتی رہی چاہے وہ نبی ہیں یا ان کے متبعین اور ساتھی ہیں۔ دعوت و عزیمت کی اس تاریخ میں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کے حالات کو ذرا تفصیل سے لیا گیا ہے اور دوسرے انبیاء کے…
Read the full tafseer →9 یعنی جو آدمی یا جانور جہاز پر سوار تھے ان کو نوح (علیہ السلام) کی معیت میں ہم نے محفوظ رکھا۔ سورة " ہود " میں یہ قصہ مفصل گزر چکا۔
10 کہتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا جہاز مدت دراز تک " جودی " پر لگا رہا تاکہ دیکھنے والوں کے لیے عبرت ہو اور اب جو جہاز اور کشتیاں موجود ہیں یہ بھی ایک نشانی ہے جسے دیکھ کر سفینہ نوح کی یاد تازہ ہوتی اور قدرت الٰہی کا نمونہ نظر آتا ہے۔ یا شاید یہ مراد ہو کہ کشتی کے اس قصہ کو ہم نے ہمیشہ کے لیے عبرت بنادیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جس وقت یہ سورت اتری ہے حضرت کے بہت سے اصحاب کافروں کی ایذاؤں سے تنگ آکر جہاز پر سوار ہو کر ملک حبشہ کی طرف گئے تھے جب حضرت ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 17 اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا ط ”
یہ جو تم نے بت اور ان کے استھان بنائے ہوئے ہیں یہ محض تمہارا افترا ہے۔ اس سب کچھ کی کہیں کوئی سند نہیں ہے ‘ نہ عقلی طور پر اور نہ ہی اللہ کی نازل کردہ کسی کتاب میں !
اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰہِ الرِّزْقَ ”
اللہ ہی سے رزق مانگو ‘ اسی سے مشکل کشائی کی درخواست کرو اور اسی کو حاجت روائی کے لیے پکارو۔
وَاعْبُدُوْہُ وَاشْکُرُوْا لَہٗط اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ”
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ ذکر ابھی مزید جاری رہے گا مگر یہاں درمیان…
Read the full tafseer →25 لفظ وَجَعَلْنٰھَا میں ھا کی ضمیر کشی کی طرف بھی رجع ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کشتی اس طوفان کے بعد طویل مدت جودی پہاڑ پر ہی ٹکی رہی۔ لوگ اسے دیکھتے رہے اور اس سے طوفان نوح اور مجرم قوم کے انجام کی یاد تازہ ہوتی رہی۔ اور ھا کی ضمیر اس پورے قصہ قوام نوح کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس قوم کی سرکشی پھر ان کی سرکشی کے اس دردناک انجام کو ہم نے بعد میں آنے والے سب لوگوں کے کے لیے ایک مثالی بنادیا کہ لوگ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
15۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور طوفان نوح وغیرہ پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) اور سورة ہود (پ 12) میں گزر چکے۔ (آیت) ” فلبث ..... عاما “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر سے متعلق توریت میں ہے :۔ اور طوفان کے بعد نوح ساڑھے تین سو برس جیتا رہا اور نوح (علیہ السلام) کی ساری عمر ساڑھے نو سو برس کی تھی۔ تب وہ مرگیا “ (پیدائش۔ 9: 29) حضرت آدم (علیہ السلام) سے اس وقت تک حسب تصریح توریت کل دس پشتیں گزری تھیں اور اوسط عمر بھی اس وقت کا آج کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھا۔ اس لیے آپ کی اتنی عمر چنداں مستبعد بھی نہیں۔ خود آپ کے والد کی عمر 773 سال کی ہوئی تھی اور آپ کے دادا کی عمر تو آپ سے بھی کچھ زائد 999 سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیت نمبر 14 تا 22
ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ…
Read the full tafseer →فانجینہ واصحٰب السفینۃ . پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو (طوفان سے) بچا لیا۔ کشتی والوں سے مراد ہے حضرت نوح کی اولاد اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لے آئے تھے اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ ان کی کل تعداد اسی (80) تھی ‘ بعض نے 78 بتائی ہے ‘ ایک قول میں دس آئی ہے۔ کشتی والوں میں آدمی تعداد مردوں کی تھی ‘ آدمی عورتوں کی۔ حضرت نوح کے قصہ کی پوری تفصیل سورة ھود اور سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
وجعلنھا اٰیۃ للعلمین . اور (اس کشتی کو یا واقعہ کو) ہم نے تمام لوگوں کے لئے (باعث عبرت اور قدرت خداوندی پر دلیل) بنا دیا۔ تاکہ وہ نصیحت پذیر ہوں اور اللہ کی ہمہ گیر قدرت پر اس سے استدلال کریں۔
Read the full tafseer →(15) اور ہم نے حضرت نوح ؑ اور جو کشتی میں انکے ساتھ اہل ایمان تھے ان سب کو بچا لیا اور ہم نے اس کشتی کے واقعہ کو تمام جہان والوں کے لیے موجب عبرت بنایا۔
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰهُ وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ : یہ واقعہ سورة ہود (37 تا 48) میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
وَجَعَلْنٰهَآ اٰيَةً لِّــلْعٰلَمِيْنَ : اس جملے کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اس واقعہ کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا کہ جو بھی اسے سنے اس سے عبرت حاصل کرے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اس کشتی کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنادیا کہ پانی میں غرق ہونے سے بچاؤ کا یہ طریقہ ہے۔ چناچہ اس کے بعد تمام زمانوں میں انسان نے اس کی مانند کشتیاں بنا کر غرق ہونے سے بچنے کا اور سمندر میں سفر کا بندوبست کیا۔ یہ مضمون ان آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے : (وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا تاکہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جائے، یعنی آپ ﷺ سے قبل بھی انبیاء کو کفار کی وجہ سے آزمایا گیا تو انہوں نے صبر کیا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ وہ پہلے رسول تھے جن کو زمین کی طرف معبوث کیا گیا۔ سورة ھود میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے کہ زمین کفر سے بھر چکی تھی۔ کسی نبی نے اپنی قوم سے ایسی تکالیف نہ اٹھائیں جیسی تکالیف حضرت نوح (علیہ السلام) نے اٹھائیں، جس طرح حضرت حسن بصری (رح) سے سورة ھود میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
قتادہ نے حضرت انس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ” سب سے پہلے جو نبی بھیجا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ “ (1) قتادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰهُ [پھر ہم نے نجات دی ان (علیہ السلام) کو ] وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَةِ [اور کشتی والوں کو ] وَجَعَلْنٰهَآ [اور ہم نے بنایا اس (کشتی) کو ] اٰيَةً [ایک نشانی ] لِّــلْعٰلَمِيْنَ [تمام جہان والوں کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اور اللہ تعالیٰ سے رزق طلب کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمانا
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بعثت اور رسالت کا اور قوم کو توحید کی دعوت دینے اور شرک سے بیزار ہونے کا اجمالاً تذکرہ فرمایا ہے، ان کا واقعہ جگہ جگہ قرآن مجید میں مذکور ہے، سورة آل عمران میں ان کا نمرود سے مناظرہ کرنا اور سورة انعام میں اپنی قوم کو اور اپنے باپ کو بت پرستی اور ستارہ پرستی سے روکنا اور انہیں یہ بتانا کہ یہ سب گمراہی کا کام ہے اور سورة انبیاء میں اور سورة شعراء میں اپنی قوم کو سمجھانے اور بت پرستی کا ضرر اور نقصان اور خسران سمجھانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قصہء اول نوح (علیہ السلام) باقوم
قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ وجعلنھا ایۃ للعلمین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ابتلا اور آزمائش کا ذکر تھا اب اسی سلسلہ میں انبیا سابقین کے ابتلا کے واقعات ذکر کرتے ہیں۔ سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کے ابتلا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو تقریبا ایک ہزار سال تک ممتد رہا اتنا طویل ابتلا اور اتنا طویل صبر سوائے نوح (علیہ السلام) کے کسی نبی کو پیش نہیں آیا۔ اور باوجود اس قدر طویل و عریض اور شدید ومدیدابتلا کے دعوت وتبلیغ میں سست نہیں پڑے جب کافروں کی سرکشی حد سے گزر گئی تو بحکم خداوندی مع اپنے اصحاب کے ایک کشتی پر سوار ہوگئے۔ بعد میں طوفان آیا سب ہلاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
14:۔ یہ دوسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے دعوت توحید پیش کی لیکن اس کی وجہ سے وقت کے بادشاہ نمرود، اپنی قوم اور خود اپنے باپ کے مسلسل مصائب و مشکلات کا نشانہ بنے۔ من دون اللہ اوثانا، اوثانا، تعبدون کا مفعول اور ذو الحال موخر ہے اور من دون اللہ حال مقدم ہے۔ اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو اور حاجات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو اور شرک کرنے میں اللہ سے ڈرو۔ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ٹھاکر ہی تو ہیں وہ کب الوہیت کے سزاوار ہیں تم انہیں کارساز سمجھ کر ایک صریح غلط اور جھوٹا نظریہ پیش کرتے ہو۔ ای تکذبون کذبا حیث تسمونہا الہۃ و تدعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) :
جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…
Read the full tafseer →فَاَنْجَيْنٰہُ وَاَصْحٰبَ السَّفِيْنَۃِ وَجَعَلْنٰہَآ اٰيَۃً لِّــلْعٰلَمِيْنَ 15
نجو
أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53]
( ن ج و )
اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔
وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔
صحب
الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
1 ؎ توریت سفر الخلیفۃ کے پانچویں اور چھٹے باب میں یوں لکھا ہے کہ آدم کی عمر ایک سو تیس برس کی ہوئی تو اس کے ہاں سیت (شیث) پیدا ہوا۔
٭ آدم کی کل عمر نو سو تیس برس کی ہوئی اور سبت کے ایک سو پانچ برس کی عمر میں انوس پیدا ہوا اور اس کی کل عمر نو سو بارہ برس کی ہوئی اور انوس کی جب نوے برس کی عمر ہوئی تو اس سے قینان پیدا ہوا اور انوس کی کل عمر نو سو پانچ برس کی ہوئی اور قینان کی ستر برس کی عمر میں محلل ایل پیدا ہوا اور قینان کی کل عمر نو سو دس برس کی اور محلل ایل کی پینسٹھ برس کی عمر میں اس سے یارد پیدا ہوا اور محلل ایل کی کل عمر آٹھ سو پچانوے برس کی ہوئی اور یارد کی ایک سو باسٹھ برس کی عمر میں اس…
Read the full tafseer →فَاَنْجَیْنٰـہُ وَاَصْحٰبَ السَّفِیْنَۃِ وَجَعَلْنٰـھَآ اٰیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 15)
(پس ہم نے اس کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور اسے دنیا والوں کے لیے ایک نشان عبرت بنادیا۔ 1)
حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی کامیابی
سورة ہود میں وضاحت گزر چکی ہے کہ کس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کو سفینہ بنانے کا حکم دیا گیا اور کس طرح سیلاب کا آغاز ہوا، سفینہ میں کن کن جانوروں اور انسانوں کو سوار کرنے کا حکم دیا گیا اور پھر کس طرح کشتی پانی پر تیرتی ہوئی ایک پہاڑ پر جا ٹھہری اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو نجات دی۔
آخر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی اللہ کی پکڑ سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے لیے مبعوث کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) انھیں ساڑھے نو سو سال سمجھاتے رہے، قوم نے سمجھنے کی بجائے نوح (علیہ السلام) کو بار بار یہ کہا کہ ہم تیرے کہنے پر ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ (نوح : 24) یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے۔ یہ قوم نوح کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے اپنے فوت شدہ بزرگوں کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تو باز نہ آیا تو ہم پتھر مار…
Read the full tafseer →15: فَاَنْجَیْنٰہُ وَاَصْحٰبَ السَّفِیْنَۃِ (پس ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو نجات دی) ۔ ہٗ کی ضمیر نوح (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ اصحاب کی تعداد اٹھتر نفوس پر مشتمل تھی۔ آدھے مرد اور نصف عورتیں تھیں۔ ان میں نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام ٗحام ٗ یافث۔ اور ان کی عورتیں۔ وَجَعَلْنٰہَا (اور ہم نے کشتی کو بنادیا) یا واقعہ کو یا حادثہ غرق کو ٰایَۃً (عبرت و نصیحت) لِّلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کے لئے) وہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →15۔ فانجیناہ واصحاب السفینہ، غرق ہونے سے اصحاب سفینہ کو بچالیا۔ وجعلناھا، اور ہم نے بنایا اس کشتی کو ، ایہ، عبرت کے لیے نشانی ، للعالمین، تمام جہانوں کے لیے وہ کشتی دراز مدت تک جودی پہاڑ پر ٹھہری رہی اور بعض نے کہا کہ کشتی کو غرق ہونے والوں کے لیے عبرت کانشان بنائے رکھا۔
ابن عباس کا قول ہے کہ چالیس سال کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ملی ، پھر ساڑے نوسوسال قوم کو ہدایت کرتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے جب لوگوں کی نسلیں بڑھ گئیں اور پھیل گئیں اور آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال ہوگئی تو آپ کو وفات ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–23
13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(14-15)
اللہ تعالیٰ گزشتہ امتوں کے عذاب کی بابت اپنے حکم اور اپنی حکمت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قیوم میں مبعوث فرمایا، جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے، ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے، بتوں اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے روکتے تھے۔ (فلبث فیھم الف سنۃ الا حمسین عاما) ” پس وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان کے درمیان رہے “ وہ نبی کی حیثیت سے ان کو دعوت دینے سے اکتائے نہ ان کی خیر خواہی سے باز آئے وہ رات دن اور کھلے چھپے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے، مگر وہ رشد و ہدایت کی راہ پر نہ آئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →13 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار عذاب آنے پر ہم نے بچا لیا نوح کو بھی اور کشتی والوں کو بھی "۔ " ہم نے بچا لیا " سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ نجات دھندہ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ حضرات انبیاء و رسل بھی ہماری ہی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے محتاج ہیں۔ اور جب حضرت نوح جیسے اولوالعزم رسول اور ان کے جلیل القدر ساتھیوں کو نجات دینا اور ان کو اس طوفان سے بچا نکالنا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ اور جب ان عظیم الشان اور جلیل القدر ہستیوں کے نجات دھندہ اور مشکل کشا و حاجت روا اور دستگیر بھی ہم ہی ہیں تو پھر اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو ان صفات کا حامل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا قصہ تفصیلاً گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف ‘ ھود ‘ المومنون ‘ الشعراء اور ان کے علاوہ کئی سورتوں میں موقع کے مطابق ذکر آچکا ہے۔ اب یہاں ان کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں اور نبی اکرم ﷺ کو ان کے صبر اور ثابت قدمی کی مثال دی جاسکے کیونکہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال مخالفین کی بےحد مخالفتیں اور ظلم برداشت کیے اتنا طویل عرصہ ان کو سمجھاتے رہنا اور دکھ اٹھاتے رہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس لیے رسول معظم ﷺ اور ان کی امت کو بھی تبلیغ کے سلسلہ میں اگر تکالیف کا سامنا کرنا پڑے تو صبر و ثبات سے کام کیے جائیں۔ ساتھ ہی کفار کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22
اسرارو معارف
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ…
Read the full tafseer →5 ۔ وہ صدیوں تک جودی پہاڑ کی چوٹی پر موجود رہی اور بعد کی نسلوں کو خبر دیتی رہی کہ اس سرزمین میں کبھی ایسا طوفان آیا تھا۔ جس کی بدولت یہ اتنی بڑی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وجعلناھا “ میں ” ھا “ کی ضمیر اس واقعہ یا عذاب کے لئے قرار دی جائے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(29:14) وھم ظلمون۔ جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ ظالم تھے۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور وعظ کا کوئی اثر قبول نہ کیا اور اپنے کفر اور معاصی کی حالت پر وہ اڑے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 :
لبث (وہ ٹھہرارہا) الف سنۃ ( ایک ہزار سال) خمسین (پچاس) ‘ عام (سال) السفینۃ ( جہاز۔ کشتی) اوثان (بت) ‘ افک (جھوٹ۔ باطل) ‘ ابتغوا (تلاش کرو) امم ( امتیں۔ قومیں) ‘ البلغ (پہنچادینا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 :
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اہل ایمان کو ہر طرح کے حالات سے آزمایا جس میں انہوں نے صبر و تحمل ‘ عزم و ہمت اور استقلال کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ اللہ نے ان کو نہ صرف دنیا میں امن و سکون اور سلامتی عطا فرمائی بلکہ آخرت میں ھبی ان کو نجات کا وعدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(ف 1) اوپرمشرکین کی سرکشی کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح کے حال سے آگاہ فرمایا کہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے اسی (80) آدمی ایمان لائے جب اس قدرت مدت دراز تک نوح کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہین دیا تو اے محبوب ﷺ اپنی امت کے حال پر کچھ غم نہ کریں۔ چالیس سال کی عمر میں نوح رسول بناکربھیجے گئے اور قوم کے لوگوں میں ساڑھے نوسو برس رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے وقت انتقال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل حاشیہ 22 صفحہ 904۔
Read the full tafseer →ف 1: اخیار امم سے اس سات پر استشہاد ہے کہ نہ ماننے والے کیونکر تباہ ہوتے ہیں ۔ اور آخر کار حق کس طرح کامیاب وکامران رہتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ حضرت نوح نے پچاس کم ہزار برس تک تبلیغ کی اور قوم کو گمراہی کی ظلمتوں سے نکالنے اور ہدایت کی روشنی میں لانے کی انتہائی جدوجہد فرمائی ۔ مگر انہوں نے بہرحال انکار کیا ۔ اور ان کے پیغام سے روگردانی کی ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ بادوباران کے طوفان نے ان کو آلیا ۔ اور بجز حضرت نوح اور اہل سفینہ کے سب لوگ ڈوب گئے ۔
Read the full tafseer →15۔ پھر ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور جہاز والوں کو بچا لیا اور ہمنی اس واقعہ طوفان کو اقوام عالم کیلئے ایک عبرت امور نشانی بنایا ۔ یعنی جب تک طوفان نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ باقی رہے لوگوں کو عبرت حاصل ہوتی رہے۔ اصحاب سفنہ وہی لوگ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ اس جہاز میں سوار تھے وہ سب بچ گئے اور آئندہ نسل انہی سے چلی یہ جہاز پانی اترنے کے بعد جو دی پر ٹھہر گیا اور وہیں مدتوں رکھا رہا، جیسا کہ سورة ہود میں تفصیل گزر چکی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے ہیں طوفان سے پہلے اتنا رہے اور پیچھے بھی ایک مدت رہے ساری عمر چودہ برس ۔ 12
حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر میں چند قول ہیں صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 5۔ روح المعانی میں بروایت ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وا بن المنذر و ابن ابی حاتم و ابن مردویہ و حاکم و بتصحیح حاکم حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو چالیس برس میں نبوت ملی، اور ساڑھے نو سو برس وعظ فرمایا، پھر طوفان کے بعد ساتح برس زندہ رہے۔ سو اس حساب سے ان کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ واللہ اعلم
6۔ کہ اتنی مدت دراز کی فہمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) کو اور آپ پر ایمان لانے والوں کو کشتی کے ذریعہ بچالیا گیا :
15۔ نوح (علیہ السلام) اس دنیا میں سب سے پہلے رسول ہیں اور ایک رسول سے دوسرے رسول تک کا زمانہ خواہ وہ کتنا لمبا کیوں نہ ہو اس رسول کا زمانہ کہلاتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کوئی آسمانی کتاب یا صحیفہ عطا فرمایا پھر اس نبی کی اس کتاب یا صحیفہ کی تعلیم خواہ کتنے ہی نبیوں نے جاری رکھی ہو دوسرے صاحب کتاب رسول کے آنے تک اس پہلے ہی کی دعوت کا زمانہ سمجھا جاتا ہے اس لئے نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا زمانہ بھی ایک لمبی مدت کا زمانہ ہے ۔ قرآن کریم نے اس کا تعین کرتے وقت ساڑھے نو سو سال کا عرصہ رسالت قرار دیا ہے اس عرصہ میں آپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
Commentary
The infidels of Makkah believed that it is Allah who has created the whole universe, but they deemed it impossible that the people will be resurrected after they once die. The present verses have described the fallacy of their view. It is stated that repeating the process of creation is much easier than its origination. It is strange that these infidels do believe that Allah has originated the creation, but they deny His power to do it again, while the latter is easier than the former. Then verse 20 has induced them to look around them to appreciate the splendors of the creation,…
Read the full tafseer →24 That is, the people who had believed in Noah, and who had been permitted by Allah to board the Ark. This has been elucidated in Surah Hud: 40, thus: "Until when Our Command game to pass and at-Tannur began to boil up, We said, `(O Noah), take into Ark a pair from every species, and embark your own people-save those who have already been specifically marked--and also those who have believed; and those who had believed with Noah were only a few."
25 It can also mean this: "We made this dreadful punishment or this great event a Sign of warning for the later generations." But from the way this…
Read the full tafseer →