Al-Ankaboot 29:14

Al-Ankaboot · from ayah 14

29:14

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا ؕ— فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ ۟وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَ لۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوۡفَانُ وَهُمۡ ظٰلِمُوۡنَ

اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر اُن کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا۔ اور وہ ظالم تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years, and the flood seized them while they were wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 2 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:14

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آ گھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر اُن کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا۔ اور وہ ظالم تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وه ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے، پھر تو انہیں طوفان نے دھر پکڑا اور وه تھے بھی ﻇالم

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا تھا، چنانچہ پچاس کم ایک ہزار سال تک وہ ان کے درمیان رہے، پھر ان کو طوفان نے آپکڑا، اور وہ ظالم لوگ تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا تو انہیں طوفان نے ا ٓ لیا اور وہ ظالم تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ایک ہزار سال رہے، پھر ان لوگوں کو طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلا شبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں بچ اس کم ہزار برس رہا، پھر انھیں طوفان نے پکڑ لیا، اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان کے درمیان رہے۔ پھر ان لوگوں کو طوفان نے آگھیرا کہ وہ ظالم تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو وہ اس کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا۔ تو ان کو طوفان نے آپکڑا اور وہ اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھانے والے بنے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے بھیجا نوح کو ان کی وم کی طرف رسول بنا کر سو وہ ان کے اندر دعوت و تبلیغ کے کام کے لئے پچاس کم ایک ہزار برس تک رہے مگر ان لوگوں نے پھر بھی نہ مانا آخرکار آپکڑا ان کو اس ہولناک عذاب نے جو ان کے لئے قرر ہوچکا تھا اور وہ ظالم تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا تو وہ ان کے درمیان پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے پھر ان کو طوفان نے آدبایا اور وہ (بڑے) ظالم لوگ تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے بھیجا تھا نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف تو وہ رہا ان کے مابین پچاس برس کم ایک ہزار برس تو ان کو آپکڑا طوفان نے اور وہ ظالم تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں ساڑھے نو سو سال رہے پھر ان کو طوفان کے عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We did indeed send Noah to his people and he lived among them a thousand years save fifty. Eventually the Flood overtook them while they were engaged in wrongdoing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We sent NuH to his people. So he stayed with them one thousand, less fifty, years. Then the Deluge seized them, and they were transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani

We sent NuH to his people. So he stayed with them one thousand, less fifty, years. Then the Deluge seized them, and they were transgressors.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We sent Nuh to his people, and he stayed among them a thousand years less fifty years; so the Deluge overtook them while they were wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily we sent Noah (as Our messenger) unto his folk, and he continued with them for a thousand years save fifty years; and the flood engulfed them, for they were wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years, and the flood seized them while they were wrongdoers.

— Saheeh International

We sent Noah to his people and he lived with them for nine hundred and fifty years, then the flood engulfed them for their injustice.

— Muhammad Sarwar

And certainly We sent Nuh to his people, so he remained among them a thousand years save fifty years. And the deluge overtook them, while they were unjust.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We sent Nuh unto his people. Then he tarried among them for a thousand years, save tifty years; and then deluge overtook them, while they were wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

We (once) sent Noah to his people, and he tarried among them a thousand years less fifty: but the Deluge overwhelmed them while they (persisted in) sin.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–15

نبی اکرم ﷺ کی حوصلہ افزائی اس میں آنحضرت ﷺ کی تسلی ہے۔ آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ نوح ؑ اتنی لمبی مدت تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ دن رات پوشیدہ اور ظاہر ہر طرح آپ نے انہیں اللہ کی دین کی طرف دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے گئے۔ بہت ہی کم لوگ آپ پر ایمان لائے آخرکار اللہ کا غضب ان پر بصورت طوفان آیا اور انہیں تہس نہس کردیا تو اے پیغمبر آخرالزمان آپ اپنی قوم کی اس تکذیب کو نیا خیال نہ کریں۔ آپ اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جن لوگوں کا جہنم میں جانا طے ہوچکا ہے انہیں تو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ تمام نشانیاں گو دیکھ لیں لیکن انہیں ایمان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة العنکبوت 21 تقابل کے لیے ملاحظۃ ہو آل عمران آیات 33۔ 34۔ النساء، 163۔ الانعام 84۔ الاعراف 59 تا 64۔ یونس 71۔ 73۔ ہود 25۔ 48۔ الانبیاء 76۔ 77۔ المومنون 23۔ 30۔ الفرقان 37۔ الشعرا 105 تا 123۔ الصافات 75۔ 82۔ القمر 9۔ 15۔ الحاقہ 11۔ 12۔ نوح مکمل۔ یہ قصے یہاں جس مناسبت سے بیان کیے جارہے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے سورة کی ابتدائی آیات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے وہاں ایک طرف اہل ایمان سے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان سب اہل ایمان کو آزمائش میں ڈالا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ دوسری طرف ظالم کافروں سے فرمایا گیا ہے کہ تم اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم ہم سے بازی لے جاؤ گے اور ہماری گرفت سے بچ نکلو گے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–18

خلاصہ تفسیر اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا سو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے (اور قوم کو سمجھاتے رہے) پھر (جب اس پر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو) ان کو طوفان نے آ دبایا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے (کہ اتنی مدت دراز کی فرمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے) پھر (اس طوفان آنے کے بعد) ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو (جو ان کے ساتھ سوار تھے اس طوفان سے) بچا لیا اور ہم نے اس واقعہ کو تمام جہان والوں کے لئے (جن کو تواتر کے ساتھ خبر پہنچی) موجب عبرت بنایا (کہ غور کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ مخالفت حق کا کیا انجام ہے) اور ہم نے ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ قلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاماء فاخذھم الطوفان وھم ظلمون۔ (14) حضرت نوح ؑ کی ساڑھے نو سو سال عمر کا ذکر صرف اسی سورة میں آیا ہے۔ عمر کی یہ تصریح اس سورة کے عمود کے تقاضے سے ہوئی ہے۔ اوپریہ بات گزر چکی ہے کہ جو لوگ حق کی راہ اختیار کریں ان کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ جلدی سے، بغیر کوئی زحمت و مشقت جھیلے، منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے بلکہ انہیں ایک طویل مدت تک آزمائشوں کا مقابل کرنا پڑتا ہے۔ اسی حقیقت کو مبرہن کرنے کے لئے یہاں حضرت نوح ؑ کی عمر کا حوال دیا کہ انہیں اپنی قوم کے ساتھ ایک طویل مدت تک کشمکش کرنی پڑی تب کہیں جا کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14-1قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کی دعوت و تبلیغ کی عمر ان کی پوری عمر کتنی تھی ؟ اس کی صراحت نہیں کی گئی۔ بعض کہتے ہیں چالیس سال نبوت سے قبل اور ساٹھ سال طوفان کے بعد، اس میں شامل کر لئے جائیں۔ اور بھی کئی اقوال ہیں۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–15

8: حضرت نوح ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 25 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–15

درس نمبر 181 ایک نظر میں سابقہ راؤنڈ میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو لوگ کلمہ ایمان کا اقرار کرتے ہیں ، اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ضرور آزمایا جائے گا اور مشکلات سے دوچار کیا جائے گا تاکہ سچوں اور جھوٹوں کے درمیان امتیاز ہوجائے۔ آزمائشوں میں اذیت کی آزمائش ، رشتہ داروں کی آزمائش اور سازشوں اور لالچوں کی آزمائش شامل ہے۔ اس سبق میں ان آزمائشوں کا ذکر ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر ہر اسلامی دعوت کے قائدین کو پیش آتی رہی چاہے وہ نبی ہیں یا ان کے متبعین اور ساتھی ہیں۔ دعوت و عزیمت کی اس تاریخ میں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہما السلام) کے حالات کو ذرا تفصیل سے لیا گیا ہے اور دوسرے انبیاء کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت نوح چالس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے۔ ساڑھے نو سو برس دعوت و تبلیغ اور سعی و اصلاح میں مصروف رہے۔ پھر طوفان آیا، طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے اس طرح کل عمر ایک ہزار پچاس سال ہوئی۔ 8 یعنی جب گناہوں اور شرارتوں سے باز نہ آئے تو طوفان نے سب کو گھیر لیا۔ بجز چند نفوس کے سب ہلاک ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

یہاں سے سورت کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ حصہ تین رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس میں بنیادی طور پر انباء الرسل کا مضمون ہے ‘ لیکن وقفے وقفے سے بین السطور میں مکہ کے ماحول میں جاری کش مکش کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ اس کے بعد آخری تین رکوعوں پر مشتمل اس سورت کے آخری حصے میں مشرکین اور اہل ایمان سے خطاب ہے۔ یہ دو نوں موضوعات سورت کے آخری حصے میں یوں متوازی چلتے نظر آتے ہیں جیسے ایک رسی کی دو ڈوریاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ ان میں سے کبھی ایک ڈوری نمایاں ہوتی نظر آتی ہے تو کبھی دوسری۔ سورت کے اس حصے میں اہل ایمان سے خطاب کے دوران انہیں دس اہم ہدایات بھی دی گئی ہیں جو غلبۂ دین کی جدوجہد کرنے اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

24 پچھلی آیات میں ان کفار کا ذکر ہو رہا تھا جو دور نبوی میں رسول اللہ کے مخاطب اور مخالف تھے۔ آگے بعض دوسرے انبیاء اور ان کے مخالفین کا ذکر آرہا ہے اور ایسے واقعات کا آغاز حضرت نوح سے کیا جارہا ہے۔ حضرت نوح کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ نو سو پچاس برس آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی پھر طوفان نوح کے بعد آپ ساٹھ برس زندہ رہے۔ اس لحاظ سے آپ کی کل عمر ایک ہزار پچاس برس بنتی ہے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ آپ نے اپنی قوم کو سمجھانے اور ان سے بحث وجدال میں گزارا۔ وہ لوگ گویا ان کفار مکہ سے بھی زیادہ بدبخت تھے۔ انہوں نے حضرت نوح کو اس قدر پریشان کیا اور ناک میں دم کردیا تھا کہ نوح نے ان سے تنگ آکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

15۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور طوفان نوح وغیرہ پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) اور سورة ہود (پ 12) میں گزر چکے۔ (آیت) ” فلبث ..... عاما “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر سے متعلق توریت میں ہے :۔ اور طوفان کے بعد نوح ساڑھے تین سو برس جیتا رہا اور نوح (علیہ السلام) کی ساری عمر ساڑھے نو سو برس کی تھی۔ تب وہ مرگیا “ (پیدائش۔ 9: 29) حضرت آدم (علیہ السلام) سے اس وقت تک حسب تصریح توریت کل دس پشتیں گزری تھیں اور اوسط عمر بھی اس وقت کا آج کے مقابلہ میں کہیں زیادہ تھا۔ اس لیے آپ کی اتنی عمر چنداں مستبعد بھی نہیں۔ خود آپ کے والد کی عمر 773 سال کی ہوئی تھی اور آپ کے دادا کی عمر تو آپ سے بھی کچھ زائد 999 سال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–22

آیت نمبر 14 تا 22 ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ فلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاما فاخذھم الطوفان وھم ظلمون . اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (ہدایت کرنے کے لئے) بھیجا سو وہ ان کے اندر پچاس سال کم ایک ہزار برس (ہدایت میں مشغول) رہے۔ آخر ان کو طوفان نے آپکڑا ‘ اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔ فَلَبِثَ (کاف تعقیبیہ) دلالت کر رہا ہے کہ حضرت نوح پیغمبر بنائے جانے کے بعد اپنی قوم میں نو سو پچاس برس رہے۔ طوفان (بہت گھومنے والا ‘ بہت چکر والا۔ مبالغہ کا صیغہ ہے ‘ مترجم) جو چیز حد سے زیادہ گردش کرے خواہ ہوا ہو یا پانی یا اور کچھ ‘ اس کو طوفان کہتے ہیں۔ عظیم سیلاب ‘ طوفان ہے۔ زیادہ تند تیز آندھی ‘ طوفان ہے۔ اس جگہ طوفان آبی مراد ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(14) ہم نے حضرت نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکر بھیجا سو وہ اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک توحید کی طرف بلاتے رہے مگر اس کے باوجود بھی وہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو طوفان کے ذریعے سے ہلاک کردیا وہ بڑے کافر تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ : سورت کے آغاز میں جو فرمایا تھا کہ ہم نے پہلے لوگوں کی بھی آزمائش کی، اس کی کچھ تفصیل کے لیے ان پیغمبروں کا ذکر فرمایا جنھوں نے لمبے عرصے تک آزمائش پر صبر کیا اور قوم کی طرف سے بیشمار اذیتوں کے باوجود ان کی خیر خواہی میں اور انھیں دعوت دینے میں کمی نہیں کی۔ مقصد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والوں کو تسلی دینا ہے۔ ان واقعات کا آغاز نوح ؑ سے فرمایا، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف بھیجے گئے۔ نوح ؑ کا ذکر قرآن مجید میں تینتالیس (43) جگہ آیا، ان واقعات میں انبیاء اور اہل ایمان کی آزمائش کا ذکر بھی ہے اور اس بات کا بھی کہ کافر اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا تاکہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جائے، یعنی آپ ﷺ سے قبل بھی انبیاء کو کفار کی وجہ سے آزمایا گیا تو انہوں نے صبر کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ وہ پہلے رسول تھے جن کو زمین کی طرف معبوث کیا گیا۔ سورة ھود میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے کہ زمین کفر سے بھر چکی تھی۔ کسی نبی نے اپنی قوم سے ایسی تکالیف نہ اٹھائیں جیسی تکالیف حضرت نوح (علیہ السلام) نے اٹھائیں، جس طرح حضرت حسن بصری (رح) سے سورة ھود میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ قتادہ نے حضرت انس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ” سب سے پہلے جو نبی بھیجا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ “ (1) قتادہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی جبکہ ان کی عمر چالیس سال تھی اور وہ ان میں نو سو پچاس رہے لوگوں کو اللہ کی طرف طلاتے تھے اور طوفان کے بعد بھی ساٹھ سال زندہ رہے یہاں تک کہ لوگ عام ہوگئے۔ 2۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کی عمر ان کی قوم کی طرف بھیجنے سے پہلے اور بھیجنے کے بعد کی کل عمر ایک ہزارسات سو سال تھی۔ نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی 3۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [اور یقینا ہم بھیج چکے ] نُوْحًا [نوح (علیہ السلام) کو ] اِلٰى قَوْمِهٖ [ان کی قوم کی طرف ] فَلَبِثَ [تو وہ رہے ] فِيْهِمْ [ان میں ] اَلْفَ سَنَةٍ [ایک ہزار سال ] اِلَّا [سوائے ] خَمْسِيْنَ عَامًا ۭ [پچاس سالوں کے ] فَاَخَذَهُمُ [پھر پکڑا ان کو ] الطُّوْفَانُ [طوفان نے ] وَ [اس حال میں کہ ] هُمْ [وہ لوگ ] ظٰلِمُوْنَ [ظلم کرنے والے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: یہاں سے انبیاء اور ان کی قوموں کے قصے جس مناسبت سے بیان کئے جا رہے ہیں ان کو سمجھنے کے لئے سورة کی ابتدائی آیات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے۔ وہاں ایک طرف اہل ایمان سے فرمایا کیا کہ ہم نے ان سب اہل ایمان کو آزمائش میں ڈالا ہے جو تم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–14

حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ اور ان کی قوم کی بغاوت و ہلاکت کا تذکرہ ان دونوں آیتوں میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی رسالت اور بعثت اور مدت اقامت اور قوم کی عداوت و بغاوت اور ہلاکت کا واقعہ اجمالی طور پر بیان فرمایا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے، ان لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور تبلیغ کی اور بت پرستی چھوڑنے کی تبلیغ فرمائی مگر ان لوگوں نے بہت بڑی سرکشی کی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو الٹے الٹے جواب دیتے رہے اور کفر و شرک پر جمے رہے، حد یہ ہے کہ انہوں نے یوں کہہ دیا کہ تم جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو وہ لے آؤ، اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–15

قصہء اول نوح (علیہ السلام) باقوم قال اللہ تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔۔۔ الی۔۔۔ وجعلنھا ایۃ للعلمین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ابتلا اور آزمائش کا ذکر تھا اب اسی سلسلہ میں انبیا سابقین کے ابتلا کے واقعات ذکر کرتے ہیں۔ سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کے ابتلا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو تقریبا ایک ہزار سال تک ممتد رہا اتنا طویل ابتلا اور اتنا طویل صبر سوائے نوح (علیہ السلام) کے کسی نبی کو پیش نہیں آیا۔ اور باوجود اس قدر طویل و عریض اور شدید ومدیدابتلا کے دعوت وتبلیغ میں سست نہیں پڑے جب کافروں کی سرکشی حد سے گزر گئی تو بحکم خداوندی مع اپنے اصحاب کے ایک کشتی پر سوار ہوگئے۔ بعد میں طوفان آیا سب ہلاک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:۔ یہ پہلا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے یعنی دیکھو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی توحید کا پیغام دیا اور وہ توحید کی خاطر ساڑھے نو سو سال تکلیفیں اٹھاتے اور مشرکین کی ایذائیں برداشت کرتے رہے۔ اے ایمان والو ! تم پر بھی مصائب آئیں گے ان سے گھبرانا نہیں بلکہ ان پر صبر کرنا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قوم میں ساڑھے نو سو برس رہنے کا ذکر صرف اس جگہ آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ انہوں نے عرصہ دراز تک توحید کی خاطر مشرکین کے ہاتھوں مصائب برداشت کیے۔ واخذھم الطوفان الخ یہ ضمنا دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ مشرکین ہمارے پیغمبر کو ساڑھے نو سو سال ستاتے اور شرک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–23

عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) : جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِيْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا۝ 0 ۭ فَاَخَذَہُمُ الطُّوْفَانُ وَہُمْ ظٰلِمُوْنَ۝ 14 رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–15

1 ؎ توریت سفر الخلیفۃ کے پانچویں اور چھٹے باب میں یوں لکھا ہے کہ آدم کی عمر ایک سو تیس برس کی ہوئی تو اس کے ہاں سیت (شیث) پیدا ہوا۔ ٭ آدم کی کل عمر نو سو تیس برس کی ہوئی اور سبت کے ایک سو پانچ برس کی عمر میں انوس پیدا ہوا اور اس کی کل عمر نو سو بارہ برس کی ہوئی اور انوس کی جب نوے برس کی عمر ہوئی تو اس سے قینان پیدا ہوا اور انوس کی کل عمر نو سو پانچ برس کی ہوئی اور قینان کی ستر برس کی عمر میں محلل ایل پیدا ہوا اور قینان کی کل عمر نو سو دس برس کی اور محلل ایل کی پینسٹھ برس کی عمر میں اس سے یارد پیدا ہوا اور محلل ایل کی کل عمر آٹھ سو پچانوے برس کی ہوئی اور یارد کی ایک سو باسٹھ برس کی عمر میں اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْھِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلاَّ خَمْسِیْنَ عَامًا ط فَاَخَذَھُمُ الطُّوْفَانُ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ (العنکبوت : 14) (اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کے بھیجا اور وہ ان کے اندر پچاس برس کم ایک ہزار سال رہے، پس انھیں طوفان نے آپکڑا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔ ) سابقہ رکوع کا خلاصہ گزشتہ رکوع میں تین باتیں واضح فرمائی گئیں۔ ایک یہ کہ حق و باطل کی کشمکش میں راہ حق کا مسافر بننا ایک بہت بڑی ذمہ داری کو قبول کرنا ہے۔ چناچہ جو لوگ بھی اس راہ پر چلتے ہیں انھیں بہت سے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان آزمائشوں سے گزرے بغیر وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–15

فہم القرآن ربط کلام : آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی اللہ کی پکڑ سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے لیے مبعوث کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) انھیں ساڑھے نو سو سال سمجھاتے رہے، قوم نے سمجھنے کی بجائے نوح (علیہ السلام) کو بار بار یہ کہا کہ ہم تیرے کہنے پر ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ (نوح : 24) یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے۔ یہ قوم نوح کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے اپنے فوت شدہ بزرگوں کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تو باز نہ آیا تو ہم پتھر مار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَلَبِثَ فِیْہِمْ (اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا) ۔ پس وہ ان میں اَلْفَ سَنَۃٍ اِلاَّ خَمْسِیْنَ عَامًا (ساڑھے نو سو سال ٹھہرے) ۔ ہدایت دینے میں مشغول رہے۔ نوح (علیہ السلام) : کی عمر مبارک ایک ہزار پچاس سال تھی۔ چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ اور اپنی قوم کو دعوت دینے میں نو سو پچاس سال صرف فرمائے۔ طوفان کے بعد ساٹھ سال زندہ رہے۔ وہب (رح) کا قول : یہ ہے کہ ان کی عمر چودہ سو سال تھی ان کو ملک الموت نے کہا۔ اے انبیاء (علیہم السلام) میں سب سے زیادہ عمر والے ! تم نے دنیا کو کیساپایا۔ آپ نے فرمایا۔ جیسے ایک مکان ہو جس کے دو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14۔ ولقدارسلنا نوحا الی قومہ فلبث فیھم الف سنہ، الاخمسین عاما فاخذھم الطوفان، ، طوفان نے ان کو غرق کرڈالا، وھم ظالمون، ابن عباس نے اس کا ترجمہ مشرکوں سے کیا ہے وہ مشرک تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–23

13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–15

(14-15) اللہ تعالیٰ گزشتہ امتوں کے عذاب کی بابت اپنے حکم اور اپنی حکمت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت نوح ( علیہ السلام) کو ان کی قیوم میں مبعوث فرمایا، جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے، ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے، بتوں اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے روکتے تھے۔ (فلبث فیھم الف سنۃ الا حمسین عاما) ” پس وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان کے درمیان رہے “ وہ نبی کی حیثیت سے ان کو دعوت دینے سے اکتائے نہ ان کی خیر خواہی سے باز آئے وہ رات دن اور کھلے چھپے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے، مگر وہ رشد و ہدایت کی راہ پر نہ آئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–44

سورة العنکبوت مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–14

11 محروم الایمان لوگوں کیلئے محرومی پر محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو اپنے گناہوں کے بوجھ بھی اٹھانا ہوں گے اور کچھ اور بوجھ بھی اپنے بوجھوں کے ساتھ "۔ یعنی ان ماتحتوں کو تو یہ لوگ ان کے بوجھوں سے سبکدوش نہیں کرا سکیں گے البتہ یہ بات ضرور ہوگی کہ ایسے گمراہ لوگوں کو ضلال کے ساتھ اضلال یعنی اپنی گمراہی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو گمراہی میں ڈالنے کے بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھانے ہوں گے۔ اور یہ محرومی پر محرومی کا شکار ہوں گے اور خسارے پر خسارہ اٹھائیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان سے ان کی ان تمام افتراپردازیوں کے بارے میں پوچھ ہوگی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے اور جن کے لیے یہ دوسروں کو بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–15

سیدنا نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا نوح (علیہ السلام) کا قصہ تفصیلاً گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف ‘ ھود ‘ المومنون ‘ الشعراء اور ان کے علاوہ کئی سورتوں میں موقع کے مطابق ذکر آچکا ہے۔ اب یہاں ان کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں اور نبی اکرم ﷺ کو ان کے صبر اور ثابت قدمی کی مثال دی جاسکے کیونکہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال مخالفین کی بےحد مخالفتیں اور ظلم برداشت کیے اتنا طویل عرصہ ان کو سمجھاتے رہنا اور دکھ اٹھاتے رہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس لیے رسول معظم ﷺ اور ان کی امت کو بھی تبلیغ کے سلسلہ میں اگر تکالیف کا سامنا کرنا پڑے تو صبر و ثبات سے کام کیے جائیں۔ ساتھ ہی کفار کو بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 14–22

آیات 14 تا 22 اسرارو معارف یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ سورة کے آغاز میں جو یہ فرمایا گیا تھا کہ ہم نے پہلے لوگوں کی بھی آزمائش کی ہے اسی کی تصدیق اور تفصیل کے لئے یہاں سے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور دوسرے انبیا ( علیہ السلام) کے واقعات نقل کئے جا رہے ہیں اور اس سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) 4 ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے اپنی قوم کو سمجھانے کی مدت ساڑھے نو سو سال تھی۔ ظاہر ہے کہ منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے بھی انہوں نے عمر ایک حصہ گزارا ہوگا اور طوفان کے بعد بھی زندہ رہے ہوں گے۔ اس لئے مفسرین میں سے بعض ان کی کل عمر 1400 اور بعض 1700 سال بتاتے ہیں۔ بہرحال ان کی عمر کم سے کم ایک ہزار سال تو ہونی ہی چاہیے۔ (شوکانی)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 14–15

(29:14) وھم ظلمون۔ جملہ حالیہ ہے۔ درآں حالیکہ وہ ظالم تھے۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور وعظ کا کوئی اثر قبول نہ کیا اور اپنے کفر اور معاصی کی حالت پر وہ اڑے رہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 14–18

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 : لبث (وہ ٹھہرارہا) الف سنۃ ( ایک ہزار سال) خمسین (پچاس) ‘ عام (سال) السفینۃ ( جہاز۔ کشتی) اوثان (بت) ‘ افک (جھوٹ۔ باطل) ‘ ابتغوا (تلاش کرو) امم ( امتیں۔ قومیں) ‘ البلغ (پہنچادینا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 : اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اہل ایمان کو ہر طرح کے حالات سے آزمایا جس میں انہوں نے صبر و تحمل ‘ عزم و ہمت اور استقلال کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ اللہ نے ان کو نہ صرف دنیا میں امن و سکون اور سلامتی عطا فرمائی بلکہ آخرت میں ھبی ان کو نجات کا وعدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–18

(ف 1) اوپرمشرکین کی سرکشی کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح کے حال سے آگاہ فرمایا کہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے اسی (80) آدمی ایمان لائے جب اس قدرت مدت دراز تک نوح کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہین دیا تو اے محبوب ﷺ اپنی امت کے حال پر کچھ غم نہ کریں۔ چالیس سال کی عمر میں نوح رسول بناکربھیجے گئے اور قوم کے لوگوں میں ساڑھے نوسو برس رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے وقت انتقال کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[8] یہاں سے آیت 40 تک پیغمبروں کے قصے بیان کئے گئے ہیں جن سے مقصود ان باتوں کو ذہن نشین کرانا ہے جو سورت کی ابتدائی آیتوں میں بیان کی گئی ہیں جہاں ایک طرف ایمان والوں سے یہ فرمایا گیا کہ ہم نے تم سے پہلے بھی اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالا تھا اور دوسری طرف کفار سے فرمایا گیا ہے کہ تم اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ تم ہم سے بازی لے جاؤ گے اور ہماری پکڑ سے بچ نکلو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات : الا خمسین عاما ۔ ہزار سال کہہ کر پچاس کم کرنے کے طریق کے بیان اور طرز استثناء کے اختیار کرنے میں تین فائدے مدنظر ہیں ۔ (1) اس سے تقریب وتخمین کی نفی ہوتی ہے (2) عدداکبر اس بات پر دال ہے کہ حضرت نوح نے بہت زیادہ صبر اور استقلال کا اظہار کیا ۔ اور چونکہ اسی مقام میں حضور کو کفار کی ایذا دہی پر تسلی دینا مقصود ہے ۔ اس لئے یہی انداز بیان مناسب اور زیادہ مفید تھا ۔ کہ پہلے مدداکبر ہو اور اس کے بعد استثناء (3) یہ نہایت موثر اور دلکش و ادبی طرز بیان ہے ۔ تسعمائۃ وخمسین سنۃ میں وہ موسیقی موجود نہیں جو الف سنۃ الا حسین میں ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

14۔ اب منکرین کی ایذا رسانی کے سلسلہ میں چند انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذکر کیا جاتا ہے کہ پہلے منکرین کے مظالم اور ان کی مسلمان امتوں کو جن فتنوں سے دو چار ہونا پڑا ان کے واقعات سامنے آجائیں اور مسلمانوں کو تسلی ہو، چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا پھر وہ ان لوگوں میں پچاس برس کم ایک ہزار سال رہا پھر جب وہ لوگ ایمان نہ لائے تو ان کو طوفان نے آپکڑا اور وہ بڑے ہی نافرمان تھے۔ یعنی اس سے بڑھ کر ظلم اور شرارت کیا ہوگی کہ ساڑھے نو سو برس میں بھی مان کر نہ دیا اور ایمان کی نعمت سے محروم رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

ف 5۔ روح المعانی میں بروایت ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وا بن المنذر و ابن ابی حاتم و ابن مردویہ و حاکم و بتصحیح حاکم حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو چالیس برس میں نبوت ملی، اور ساڑھے نو سو برس وعظ فرمایا، پھر طوفان کے بعد ساتح برس زندہ رہے۔ سو اس حساب سے ان کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ واللہ اعلم 6۔ کہ اتنی مدت دراز کی فہمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک لمبی مدت تک توحید کا درس دیا : 14۔ زیر نظر آیت کے مضمون کو سمجھنے کے لئے ذرا پیچھے چلیں اور اس سورت کی تیسری اور چوتھی آیت کو نگاہ میں رکھیں جہاں ایک طرف اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ ہم نے ان سب اہل ایمان وایقان کو آزمائش میں ڈالا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور دوسری طرف وقت کے ظالموں ‘ مشرکوں اور مخالفین اسلام کو کہا گیا ہے کہ تم اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تم ہم سے بازی جیت جاؤ گے اور ہماری گرفت سے بچ جاؤ گے ایسا کبھی ممکن نہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ تم سے پہلے بھی بڑے بڑے ظالم ‘ مشرک اور مخالف اس دھرتی میں پیدا ہوچکے حالانکہ آج ان کا نام ونشان بھی نہیں پایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

Commentary It was described in the previous verses that infidels keep on their opposition and afflictions on Muslims as a routine. In the above verses the Holy Prophet ﷺ was consoled by relating some incidents of earlier people that this practice of harassment of believers by the infidels is going on for long. But they never lost hope due to such harassments. Therefore, you too should not care about the troubles afflicted by the infidels, and should keep on performing firmly your prophetic obligations. Among the earlier prophets, the story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was related first. It…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 For comparison, see AI-i-`Imran: 33-34, An-Nisa': 163, AI-An`am: 84, AI-A'raf: 59-64, Yuuns: 71-73, Hud: 25-48, AI-Anbiyaa: 76-77, AlMu'minun: 23-30, AI-Furqan: 37, Ash-Shu araa: 105-123, As-Saffat: 75-82, AIQamar: .9-15, AI-Haaqqah: 11-12, Nuh (the whole of it). One should keep the initial verses of the Surah in view in order to understand the relevancy of these stories in this context. There, on the one hand, it has been said to the believers, "We have put to the test all those believers who have passed before you", and, on the other, the wicked disbelievers have been warned to the…

Read the full tafseer →