Explained with ayahs 16–18
ریاکاری سے بچو
امام الموحدین ابو المرسلین خلیل اللہ علیہ الصلوات اللہ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو توحید اللہ کی دعوت دی ریاکاری سے بچنے اور دل میں پرہیزگاری قائم کرنے کا حکم دیا اس کی نعمتوں پر شکرگزاری کرنے کو فرمایا۔ اور اس کا نفع بھی بتایا کہ دنیا اور آخرت کی برائیاں اس سے دور ہوجائیں گی اور دونوں جہان کی نعمتیں اس سے مل جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں بتایا کہ جن بتوں کی تم پرستش کررہے ہو۔ یہ تو بےضرر اور بےنفع ہے تم نے خود ہی ان کے نام اور ان کے اجسام تراش لئے ہیں۔ وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں بلکہ تم سے بھی کمزور ہیں۔ یہ تمہاری روزیوں کے بھی مختار نہیں۔ اللہ ہی سے روزیاں طلب کرو۔…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 30
یعنی اگر تم میری دعوت توحید کو اور اس خبر کو کہ تمہیں اپنے رب کی طرف پلٹنا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، جھٹلاتے ہو تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ میں اس سے پہلے بھی بہت سے نبی (مثلا نوح، ہود، صالح (علیہم السلام) وغیرہ) یہی تعلیم لے کر آچکے ہیں اور ان کی قوموں نے بھی ان کو اسی طرح جھٹلایا ہے۔ اب تم خود دیکھ لو کہ انہوں نے جھٹلا کر ان نبیوں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام خراب کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا سو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار برس رہے (اور قوم کو سمجھاتے رہے) پھر (جب اس پر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو) ان کو طوفان نے آ دبایا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے (کہ اتنی مدت دراز کی فرمائش سے بھی متاثر نہ ہوئے) پھر (اس طوفان آنے کے بعد) ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو (جو ان کے ساتھ سوار تھے اس طوفان سے) بچا لیا اور ہم نے اس واقعہ کو تمام جہان والوں کے لئے (جن کو تواتر کے ساتھ خبر پہنچی) موجب عبرت بنایا (کہ غور کر کے سمجھ سکتے ہیں کہ مخالفت حق کا کیا انجام ہے) اور ہم نے ابراہیم ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے…
Read the full tafseer →وان تکذبوا فقد کذب امم من قبلکم وما علی الرسول الا البلغ المبین (18) یہ نہایت سخت الفاظ میں تنبیہ ہے کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی اور میری تکذیب پر اڑے رہے تو یادر رکھو کہ تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں نے اپنے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو جوا نجام ان کا ہوا اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے تیار رہو۔
وما علی الرسول الا البلغ المبین یعنی رسول کے اوپر ذمہ داری صرف واضح طور پر اللہ کی بات پہنچا دینے کی ہوتی ہے۔ وہ فرض میں نے ادا کردیا۔ اب ذمہ داری تمہاری ہے۔ اب جو پرسش ہوگی وہ تم سے ہوگی۔ اب مجھ سے یہ پرسش نہیں ہوگی ،
Read the full tafseer →18-1یہ حضرت ابراہیم ؑ کا قول بھی ہوسکتا ہے، جو انہوں نے اپنی قوم سے کہا۔ یا اللہ تعالیٰ کا قول ہے جس میں اہل مکہ سے خطاب ہے اور اس میں نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں، تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، پیغمبروں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے پہلی امتیں بھی رسولوں کو جھٹلاتی اور اس کا نتیجہ بھی ہلاکت و تباہی کی صورت میں بھگتتی رہی ہیں۔
18-2اس لیے آپ بھی تبلیغ کا کام کرتے رہیے۔ اس سے کوئی راہ یاب ہوتا ہے یا نہیں ؟ اس کے ذمے دار آپ نہیں ہیں، نہ آپ سے اسکی بابت پوچھا ہی جائے گا، کیونکہ ہدایت دینا نہ دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، جو اپنی سنت کے مطابق جس میں ہدایت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
9: حضرت ابراہیم ؑ کے واقعے کے لیے دیکھئے سورة انبیاء :51
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
و ابراہیم اذ قال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔ علی الرسول الا البلغ المبین (16 – 18)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو نہایت واضح اور سادہ دعوت دی جس میں کوئی پیچیدگی اور اجمال نہ تھا۔ اس دعوت کو انہوں نے نہایت مرتب انداز میں پیش کیا۔ جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ دعوت کی اس ترتیب اور انداز پر غور کریں۔ پہلے تو انہوں نے اپنی دعوت کی حقیقت ان کے سامنے رکھی۔
اعبدوا اللہ واتقوہ (29: 16) ” اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو “۔ اور اس کے بعد انہوں نے ان کے دلوں میں اس دعوت کے لیے دلچسپی پیدا کی کہ اس میں تمہارے لیے بہت خیر ہے ، بشرطیکہ وہ اچھائی اور برائی کو سمجھیں۔ خیر اور مقامات خیر کو…
Read the full tafseer →3 یعنی جھٹلانے سے میرا کچھ نہیں بگڑتا، میں صاف صاف تبلیغ و نصیحت کر کے اپنا فرض ادا کرچکا، بھلا برا سمجھا چکا، نہ مانو گے نقصان اٹھاؤ گے جیسے " عاد " و " ثمود " وغیرہ تم سے پہلے اٹھا چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 20 قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنْشِئُ النَّشْاَۃَ الْاٰخِرَۃَ ط ”
مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنے کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے دنیا میں بھی چل رہا ہے۔ جیسے ایک فصل ختم ہوتی ہے تو دوسری پیدا ہوجاتی ہے اور وہ آخرت میں بھی انسانوں کو پھر سے زندہ کرے گا۔ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →30 یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود نے اپنے اپنے پیغمبروں کی دعوت کو جھٹلایا تھا پھر دیکھ لو ان کا کیا حشر ہوا تھا۔ وہی تمہارا بھی ہونے والا ہے۔ اگر تم نے نبی کی دعوت کو جھٹلایا ہے تو اس کا تمہیں ہی نقصان پہنچے گا اور نبی کے ذمہ جو کام تھا وہ اپنی ذمہ داری پوری کرچکا ہے۔
Read the full tafseer →19۔ (جس کے بعد اس کے اوپر امت کے کسی قول وفعل کی ذمہ داری نہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیت نمبر 14 تا 22
ترجمہ : اور ہم نے نوح ( (علیہ السلام) ) کو ان کی طرف کیا اور اس وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے زیادہ تھی چناچہ (نوح) اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال رہے اور ان کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے تو انہوں نے (نوح (علیہ السلام) ) کی تکذیب کی تو ان کو طوفان نے آدبایا یعنی پانی نے جس نے ان کو کھیر لیا اور ان کے اوپر پھر گیا، سو وہ غرق ہوگئے، اور وہ بڑے ظالم مشرک لوگ تھے چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور کشتی والوں یعنی ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی، اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا یعنی ان کے بعد والے لوگوں کے لئے اگر وہ…
Read the full tafseer →وان تکذبو فقد کذب امم من قبلکم . پھر اگر تم میری تکذیب کرتے ہو تو تم سے پہلے بہت امتیں (اپنے
اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں۔
لیکن ان کی تکذیب سے پیغمبروں کو کوئی ضرر نہیں پہنچا ‘ تکذیب کرنے والوں نے خود اپنا نقصان کیا کیونکہ تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب آیا۔ اسی طرح تمہاری تکذیب بھی مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ‘ خود تم مصیبت میں مبتلا ہو گے۔
وما علی الرسول الا البلغ المبین . اور رسول پر تو سوائے اس کے کہ کھول کر (ا اللہ کا پیام) پہنچا دے ‘ اور
کوئی ذمہ اری نہیں ہے۔ یعنی رسول کے ذمہ تو ایسی تبلیغ ہے جو شک کو دور کر دے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کی تکذیب سے پیغمبر کو کچھ نقصان نہیں ہوتا۔ مخلوق کو…
Read the full tafseer →(18) اور اے جماعت قریش اگر تم رسول اکرم ﷺ کی رسالت کو جھٹلاتے ہو سو تم سے پہلے بہت سی امتیں اپنے رسولوں کو جھٹلا چکی ہیں ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور رسول کی ذمہ داری تو ایسی زبان میں جس کو تم سمجھو احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ : واؤ عطف سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے والا جملہ، جس پر اس جملے کا عطف ہے، وہ محذوف ہے، یعنی ”فَإِنْ تُصَدِّقُوْنِيْ فَقَدْ فُزْتُمْ بِسَعَادَۃِ الدَّارَیْنِ“ ”سو اگر تم میری تصدیق کرو تو تم دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔“ ”وَاِنْ تُكَذِّبُوْا۔۔“ اور اگر تم مجھے جھٹلا دو تو نصیحت کے لیے تمہارا یہ بات جاننا ہی کافی ہے کہ تم سے پہلے بہت سی امتوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا، مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود وغیرہ، تو ان کا انجام کیا ہوا۔ انھوں نے پیغمبروں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام ہی خراب کیا ؟
وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
و ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔۔ کسائی نے کہا : ابراہیم کا لفظ انجینا کی وجہ سے منصوب ہے یعنی اس کا عطف ہاء ضمیر پر ہے ؎ کسائی نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ اس کا عطف نوح پر ہے معنی ہے ہم نے ابراہیم کو بھیجا۔ ایک تیسرا قول ہے کہ یہ اذکر فعل کی وجہ سے منصوب ہے۔ کی ذات کو عبادت میں خاص کرو۔ اس کے عقاب اور اس کے عذاب سے ڈرو۔ بتوں کی عبادت سے یہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
اوثان کا معنی بت ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : صنم اسے کہتے ہیں جو سونے، چاندی اور تانبے کا بنایا جاتا ہے اور روشن جو گچ یا پھتر سے بنایا جاتا ہے۔ جوہری نے کہا : وثن سے مراد بت ہے اس کی جمع وثن اور اوثان آتی ہے جس طرح اسد اور اوساد۔ حضرت حسن بصری نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–27
1۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انما تعبدون من دون اللہ اوثانا یعنی بتوں کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر آیت وتخلقون افکا یعنی تم بت بنا لیتے ہو۔
2۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ تراشتے ہو۔
3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتخلقون افکا سے مراد ہے کہ تم جھوٹ گھڑتے ہو
4۔ فریابی اور ابن جریر نے مجاہد (رح) نے اسی طرح روایت کیا
5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کیف یبدء اللہ الخلق ثم یعیدہ یعنی وہ ان کو دوبارہ اٹھائے گا…
Read the full tafseer →وَاِنْ تُكَذِّبُوْا [اور اگر تم لوگ جھٹلاتے ہو ] فَقَدْ كَذَّبَ [تو جھٹلا چکی ہیں ] اُمَمٌ [کچھ امتیں ] مِّنْ قَبْلِكُمْ ۭ [تم لوگوں سے پہلے ] وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ [اور نہیں ہے رسول پر ] اِلَّا [مگر ] الْبَلٰــغُ الْمُبِيْنُ [واضح طور پر پہنچا دینا ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اثبات قیامت پر دلیل آفاقی اور منکرین قیامت کے لیے زجر
ابھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو باقی ہے جو ان کے اور ان کی قوم کے درمیان تھی، درمیان میں قریش مکہ کو خطاب فرمایا جو قرآن کے مخاطبین اولین تھے، ارشاد فرمایا کہ جو لوگ قیامت کے دن زندہ ہونے کے منکر ہیں کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کے سامنے انسان اور حیوان اور دوسری چیزوں کی ابتدائی پیدائش ہوتی رہتی ہے، چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور فنا ہوجاتی ہیں اللہ تعالیٰ دوبارہ ان کو پیدا فرما دیتا ہے، ابتداً پیدا فرمانا اور دوبارہ پیدا فرمانا اس کے لیے آسان ہے، دیکھو زمین ہری بھری ہوتی ہے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں، پھر فنا ہوجاتی ہیں، زمین مردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم اور
قال اللہ تعالیٰ و ابراہیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین۔
یہ دوسرا واقعہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے کہ دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور جلا وطن کیا اور اس کے علاوہ ابراہیم (علیہ السلام) کو طرح طرح کے ابتلا اور امتحان پیش آئے۔ جن میں سے ذبح ولد کا واقعہ ابتلا عظیم تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں ان میں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ واسطے ہیں۔ سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے لوگ بت پرستی میں بھی مبتلا تھے اور صابی…
Read the full tafseer →16:۔ یہاں سے لے کر لھم عذاب الیم تک یا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا کلام چل رہا ہے یا یہ جملہ معترضہ ہے اور اس میںحضور ﷺ اور آپ کی امت کا حال مذکور ہے۔ وھذہ الایات محتملۃ ان تکون من جملۃ قول ابراہیم (علیہ السلام) لقومہ وان تکون معترضہ وقعت فی شان رسول اللہ ﷺ و شان قریش (مدارک ج 3 ص 194) ۔ یعنی اگر تم میری تکذیب کر رہے ہو تو یہ کوئی نئی بات نہیں تم سے پہلی امتوں نے بھی اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔ پیغمبروں کا کام منوانا نہیں بلکہ پیغام الٰہی پہنچانا ہی ان کے ذمہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–23
عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) :
جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس…
Read the full tafseer →وَاِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ 0 ۭ وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ 18
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ترکیب : و ابراہیم معطوف علی المفعول فی انجیناہ وعلیٰ تقدیر واذکروا علیٰ ارسلنا النشاۃ الآخرۃ بالمدو القصر لغتان اوثانا مفعول لتعبدون جمع و ثن ای صنم و تخلقون معطوف علی تعبدون ای تقولون۔ افکا ای کذبا تمیزمن ضمیر تخلقون او مفعول مطلق الذی اسم ان تعبدون من دون اللہ صلۃ لہ والعائد محذوف لا یملکون خبر کیف ھو والجملہ مفعول اولم یروا کیف بمعنی الکیفیۃ ابداء الخلق، یبدء بضم اولہ و قرءت بفتحہ من بدا و ابدء بمعنی واحد ای یخلقھم ابتداء فی الارض متعلق بمعجزین والمفعول ربکم۔
تفسیر : و ابراھیم یہ دوسرا واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت نوح کے ( علیہ السلام) بیٹے سام کی نسل سے ہیں ان کے اور…
Read the full tafseer →وَاِنْ تُـکَذِّبُوْا فَقَدْ کَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ط وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔
(العنکبوت : 18)
(اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلی بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ )
طویل کشمکش کے بعد قوم کو تنبیہ
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور اس آیت کے نزول میں ایک طویل فاصلہ ہے۔ کیونکہ پیغمبر اپنی قوم کی تبلیغ و دعوت کے نتائج سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وہ دکھ اٹھاتا ہے لیکن قوم کے ساتھ ہمدردی اور خیرخواہی کا حق ادا کرنے سے نہیں رکتا۔ آپ نے یہ بات یقینا اس وقت کہی ہوگی جب کئی سالوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں دوسرے حقائق کے ساتھ یہ بھی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا تو نہ وہ خود ایک دوسرے کو بچا سکے۔ اور نہ ہی ان کے مشکل کشا انہیں بچا سکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خطاب سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ مشرک جن بتوں اور معبودوں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے ہیں اپنے چاہنے والوں کو نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم سے بیک وقت یہ استفسار کیا تھا کہ اے والد گرامی اور میری قوم کے لوگو ! بتلاؤ جن پتھر اور مٹی کی بنی ہوئی مورتیوں کے سامنے تم…
Read the full tafseer →18: وَاِنْ تُکَذِّبُوْا فَقَدْ کَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ (اور اگر تم میری تکذیب کرو تو تم سے پہلے بہت سی امتیں تکذیب کرچکیں) ۔ وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ (اور رسول پر تو کھول کر بیان کرنا ہے) ۔ اگر تم میری تکذیب کرو گے تکذیب کے ساتھ تم مجھے کچھ نقصان نہ پہنچائو گے اس لئے کہ مجھ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوموں نے جھٹلایا اور ان کا کوئی نقصان نہ کرسکے۔ بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا جبکہ تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب اترا۔ باقی رسول کا فریضہ تو پورا ہوچکا اس لئے کہ انہوں نے کھول کر پیغام پہنچا دیا جس سے شک جاتا رہا اور وہ ان کی آیات و معجزات سمیت آنا تھا۔ مطلب…
Read the full tafseer →18۔ وان تکذبوا فقد کذب امم من قبلکم ، جیسے قوم عاد ، قوم ثمود وغیرہ نے انبیاء کو جھٹلایا اور پھر ان قوموں کو ہلاک کردیا گیا، وماعلی الرسول الالبلاغ المبین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–23
13 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(16-22)
اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم ( علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا (عبدو اللہ) یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمہیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ” اور اس سے ڈرو “ کہ وہ تم پر ناراض ہو کر تمہیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امور کو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا بارعث ہیں ” یہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ” تمہارے لیے بہتر ہے۔ “ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔ یہ اسم تفصیل کے ایسے باب میں سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17 معبودان باطلہ کی بےحقیقتی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم نے ان سے کہا کہ " جن کی پوجا تم لوگ کر رہے ہو اللہ کے سوا وہ محض بت ہیں "۔ جن کو تم لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے گھڑ لیا ہے اور بس۔ بھلا تم ذرا سوچو تو سہی کہ بےحس اور بےجان پتھروں سے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے یہ بت اور خود ساختہ و بےحقیقت یہ مورتیاں تم کو آخر کیا دیں گی ؟ اور کیا دے سکتی ہیں ؟ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اور اتنی واضح حقیقت اور اس قدر موٹی بات بھی سمجھنے سے تم قاصر ہو ؟ مگر جب کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال یہی ہوجاتا ہے اور اس کو اس قدر واضح حقائق بھی سمجھ نہیں آسکتے۔ جیسا کہ آج بہت سے کلمہ گو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–27
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی تعلیمات
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر رسول گزرے ہیں اور عربوں کو باوجود کفار ہونے کے ان سے بڑی عقیدت تھی اپنے آپ کو ان کی اولاد کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ تو اسی لیے ان کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنے جد امجد کا رتبہ دیتے ہو تو پھر ان کی تعلیمات بھی تو یہی تھیں جو سیدنا محمد ﷺ کی تعلیمات ہیں یعنی انہوں نے بھی توحید کی ہی تعلیم دی اور شرک سے منع کیا۔ ان کی تعلیمات میں سب سے پہلے کہا گیا کہ :
(1) شرک سے بچو کیونکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔
(2) رزق دینے والا صرف اللہ وحدہ ‘ لا شریک لہ ہے۔
(3) اسی کی عبادت کرنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
آیات 14 تا 22
اسرارو معارف
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت پر کفار مسلمانوں کا راستہ روکنے کے حربے استعمال کرنے لگے یا انہیں ایذا دینے کے درپے ہیں یا آج کے زمانے میں ایسا ہورہا ہے بلکہ یہ سب کچھ زمانہ قدیم سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے لیکن کفار کی سب تدبیروں کے باوجود فتح ہمیشہ دین دار لوگوں کو نصیب ہوئی جیسے نوح (علیہ السلام) کا واقعہ کہ ہم نے انہیں ان کی قوم میں مبعوث فرمایا کہ ان کی قوم ان کے حسب نسب اور عالی کردار سے خوب واقف تھی۔ انہوں نے نو سو پچاس برس مسلسل تبلیغ کی اور نیکی کی دعوت دی اور اتنا طویل عرصی کفار کے ایذا اور ان کے طعنے برداشت کیے مگر انہوں نے مان کر جواب نہ دیا تو اللہ…
Read the full tafseer →10 ۔ جیسے حضرت نوح ( علیہ السلام) ، ہود اور صالح (علیہم السلام) کی قومیں۔ مگر دیکھ لو کہ ان قوموں نے پیغمبروں کو جھٹلا کر پیغمبروں کا کچھ بگاڑا یا اپنا انجام خود خراب کیا۔ یہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا کلام ہے یا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو اور مخاطب کفار قریش ہوں۔ (شوکانی) 11 ۔ کسی کے ماننے یا نہ ماننے کی اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(29:18) تکذبوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ بوجہ ان شرطیہ ساقط ہوگیا۔ تکذیب (باب تفضیل) (اگر) تم لوگ (مجھے) جھٹلاتے ہو۔
اس کے بعد جملہ محذوف ہے۔ فلا تضروننی بتکذیبکم (اپنی تکذیب سے تم مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچاتے ہو۔ کیونکہ تم سے قبل بھی امتوں نے اپنے رسل کی تکذیب کی۔ (اور وہ ان رسولوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے) ۔
امم : امۃ کی جمع۔ امتیں۔ فرقے۔ جماعتیں۔
البلغ المبین۔ موصوف وصفت۔ واضح پیغام رسانی۔ پیغام الٰہی کو صاف صاف اور کھول کر واضح طور پر پہنچا دینا۔
فائدہ : اعبدوا اللہ (آیت 16) سے لے کر البلح المبین آیت 18 تک کا کلام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 :
لبث (وہ ٹھہرارہا) الف سنۃ ( ایک ہزار سال) خمسین (پچاس) ‘ عام (سال) السفینۃ ( جہاز۔ کشتی) اوثان (بت) ‘ افک (جھوٹ۔ باطل) ‘ ابتغوا (تلاش کرو) امم ( امتیں۔ قومیں) ‘ البلغ (پہنچادینا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 :
اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ نے اہل ایمان کو ہر طرح کے حالات سے آزمایا جس میں انہوں نے صبر و تحمل ‘ عزم و ہمت اور استقلال کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ اللہ نے ان کو نہ صرف دنیا میں امن و سکون اور سلامتی عطا فرمائی بلکہ آخرت میں ھبی ان کو نجات کا وعدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
(ف 1) اوپرمشرکین کی سرکشی کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح کے حال سے آگاہ فرمایا کہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے اسی (80) آدمی ایمان لائے جب اس قدرت مدت دراز تک نوح کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہین دیا تو اے محبوب ﷺ اپنی امت کے حال پر کچھ غم نہ کریں۔ چالیس سال کی عمر میں نوح رسول بناکربھیجے گئے اور قوم کے لوگوں میں ساڑھے نوسو برس رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے وقت انتقال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
[9] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة نمل حاشیہ 22 صفحہ 904۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ امم ۔ امۃ کی جمع ہے ۔ بمعنے قومیں ۔
Read the full tafseer →18۔ اور اگر تم لوگ میری تکذیب کرو گے تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں اور بہت سی قومیں اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کرچکی ہیں اور رسول پر تو سوائے صاف طور پر پیغام الٰہی کو پہنچا دینے کے اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یعنی اگر تم میری تکذیب کرو گے تو میرا کوئی نقصان نہیں آخر تم سے پہلے بھی لوگ اپنے اپنے رسول کی تکذیب کرچکے ہیں ۔ رسول کی ذمہ داری تو پیغام الٰہی کو صاف اور واضح طور پر پہنچادینا ہے اس کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری رسول پر نہیں ماننے یا نہ ماننے کے تم خود ذمہ دار ہو ۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رزق جو فرمایا اکثر خلق روزی کے پیچھے ایمان دیتی ہے سو جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے روزی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 2۔ یعنی اس سے مانگو کہ مالک رزق وہی ہے۔
3۔ ایک تو سبب و وجوب عبادت کا یہ ہے کہ وہ مالک نفع کا ہے، اور دوسرا سبب یہ کہ وہ مالک ضرر کا بھی ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر ان لوگوں نے آپ ﷺ کو جھٹلا یا ہے تو آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے :
18۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ﷺ اگر یہ مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو جھٹلا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے ان کی امتوں نے ان کو جھٹلایا پھر آپ ﷺ نے ان میں سے کتنے نبیوں اور رسولوں کا ذکر سنا کہ آخر کار جھٹلانے والوں کو نیست ونابود کردیا گیا اندریں صورت آپ ﷺ کے ذمہ بھی فقط اپنے مخاطبین تک ہمارا پیغام پہنچانا ضروری ہے انکومنوانا اور قبل کرانا ضروری نہیں اس لئے آپ ﷺ بھی ہمارا پیغام ان تک پہنچا دیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
Commentary
The infidels of Makkah believed that it is Allah who has created the whole universe, but they deemed it impossible that the people will be resurrected after they once die. The present verses have described the fallacy of their view. It is stated that repeating the process of creation is much easier than its origination. It is strange that these infidels do believe that Allah has originated the creation, but they deny His power to do it again, while the latter is easier than the former. Then verse 20 has induced them to look around them to appreciate the splendors of the creation,…
Read the full tafseer →30 That is, "If you reject my invitation to Tauhid and deny my message that you have to return to your Lord and render an account of your deeds, it will not be a new thing. In the history of mankind many Prophets-like Noah, Hud, Salih (on whom be Allah's peace) before also have brought the same teachings, and their peoples denied them likewise. Now you may judge for yourselves as to whether they harmed the Prophets or only themselves" .
Read the full tafseer →