Al-Qasas 28:9

Al-Qasas · from ayah 9

28:9

وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَكَ ؕ— لَا تَقْتُلُوْهُ ۖۗ— عَسٰۤی اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۟وَقَالَتِ امۡرَاَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَيۡنٍ لِّىۡ وَلَكَ‌ ؕ لَا تَقۡتُلُوۡهُ ‌ۖ عَسٰٓى اَنۡ يَّـنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَـتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اُسے بیٹا بنالیں اور وہ انجام سے بےخبر تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the wife of Pharaoh said, "[He will be] a comfort of the eye for me and for you. Do not kill him; perhaps he may benefit us, or we may adopt him as a son." And they perceived not.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:9

فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا "یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں" اور وہ (انجام سے) بے خبر تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اُسے بیٹا بنالیں اور وہ انجام سے بےخبر تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائده پہنچائے یا ہم اسے اپنا ہی بیٹا بنا لیں اور یہ لوگ شعور ہی نہ رکھتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا کہ : یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اور (یہ فیصلہ کرتے وقت) انہیں انجام کا پتہ نہیں تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرعون کی بی بی نے کہا یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ بے خبر تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فرعون کی بیوی نے (موسٰی علیہ السلام کو دیکھ کر) کہا کہ (یہ بچہ) میری اور تیری آنکھ کے لئے ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں اور وہ (اس تجویز کے انجام سے) بے خبر تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میرے لیے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، امید ہے کہ وہ ہمیں فائدہ پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ سمجھتے نہ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور فرعون کی بیوی فرعون سے کہنے لگی : یہ بچہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجیب کہ یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ (اس کے انجام سے) بیخبر تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور فرعون کی بیوی نے کہا، یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسکو قتل نہ کرو۔ کیا عجب کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں اور ان کو انجام کی کچھ خبر نہ تھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور فرعون کی بیوی نے اس سے کہا کہ یہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لئے بھی اور تیرے لئے بھی اسے کہیں قتل نہیں کردینا کیا عجب کہ یہ بڑا ہو کر ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنالیں اور وہ لوگ نہیں جانتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور فرعون کی بیوی بولیں کہ یہ (بچہ) میری اور تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہے اسے قتل مت کرنا عجب کیا کہ یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور انہیں کچھ خبر نہ تھی (انجام کی)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا میرے لیے بھی اور تمہارے لیے بھی تم اسے قتل مت کرو کیا عجب کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں اور وہ (انجام سے) بالکل بیخبر تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ ”یہ میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا ‘ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اے بیٹا بنا لیں“ اور وہ انجام سے بیخبر تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The wife of Pharaoh said: "Here is a delight of the eye to me and to you. Do not kill him. Maybe he will prove useful for us, or we may adopt him as a son." They were unaware of the end of it all.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the wife of Pharaoh said, (to Pharaoh about Musa), :He may be a delight of eye for me and you. Do not kill him. It is hoped that he will be of benefit to us, or we will adopt him as a son. And they were not aware (of what was going to happen).

— Muhammad Taqi Usmani

And the wife of Pharaoh said, (to Pharaoh about Musa), :He may be a delight of eye for me and you. Do not kill him. It is hoped that he will be of benefit to us, or we will adopt him as a son. And they were not aware (of what was going to happen).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the wife of Fir`awn said: "A comfort of the eye for me and for you. Kill him not, perhaps he may be of benefit to us, or we may adopt him as a son." And they perceived not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the wife of Pharaoh said: (He will be) a consolation for me and for thee. Kill him not. Peradventure he may be of use to us, or we may choose him for a son. And they perceived not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the wife of Pharaoh said, "[He will be] a comfort of the eye for me and for you. Do not kill him; perhaps he may benefit us, or we may adopt him as a son." And they perceived not.

— Saheeh International

The Pharaoh's wife said, "He, (Moses), is the delight of our eyes. Do not kill him. Perhaps he will benefit us or we may adopt him." They were unaware of the future.

— Muhammad Sarwar

And Firon's wife said: A refreshment of the eye to me and to you; do not slay him; maybe he will be useful to us, or we may take him for a son; and they did not perceive.

— Muhammad Habib Shakir

And the wife of Fir'awn said: a comfort unto me and thee slay him not; belike he shall be of benefit to us or we might like him for a son; and they perceived not.

— Abdul Majid Daryabadi

The wife of Pharaoh said: "(Here is) joy of the eye, for me and for thee: slay him not. It may be that he will be use to us, or we may adopt him as a son." And they perceived not (what they were doing)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزارہا بچے قتل ہوچکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہوگئے توجتنے ذلیل کام اور بےہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔ حضرت ہارون اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن حضرت موسیٰ اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة القصص 12 اس بیان سے جو صورت معاملہ صاف سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ تابوت یا ٹوکرا دریا میں بہتا ہوا جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے، تو فرعون کے خدام نے اسے پکڑ لیا اور لے جاکر بادشاہ اور ملکہ کے سامنے پیش کردیا۔ ممکن ہے کہ بادشاہ اور ملکہ خود اس وقت دریا کے کنارے سیر میں مشغول ہوں اور ان کی نگاہ اس ٹوکرے پر پڑی ہو اور انہی کے حکم سے وہ نکالا گیا ہو۔ اس میں ایک بچہ پڑا ہوا دیکھ کر بآسانی یہ قیاس کیا جاسکتا تھا کہ یہ ضرور کسی اسرائیلی کا بچہ ہے، کیونکہ وہ ان محلوں کی طرف سے آرہا تھا جن میں بنی اسرائٰل رہتے تھے، اور انہی کے بیٹے اس زمانے میں قتل کیے جارہے تھے، اور انہی کے متعلق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–13

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى، وحی کا لفظ اس جگہ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، وحی نبوت مراد نہیں اس کی تحقیق سورة طہ میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون کی بیوی نہایت نیک دل تھیں ملکہ نے جب بچے کو دیکھا تو اس موہنی صورت پر قربان ہوگئیں۔ فرعون سے کہا، یہ تو میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ امید ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں۔ ملکہ کے متعلق دوسرے مقام میں ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ نہایت نیک دل اور فرعون کے رویہ سے سخت بیزار تھیں۔ عسی ان ینفعنا اونتخذہ ولدا یہ بعینیہ وہی بات ہے، جو عزیز مصر نے، حضرت یوسف سے متعلق، اپنی بیوی کو خطا کر کے کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ملکہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی اور اگر تورات کے بیان کو باور کرلیا جائے کہ جس نے حضرت موسیٰ کے صندوق کو سب سیپہلے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9-1یہ اس وقت کہا جب تابوت میں ایک حسین و جمیل بچہ انہوں نے دیکھا۔ بعض کے نزدیک یہ اس وقت کا قول ہے جب موسیٰ ؑ نے فرعون کی داڑھی کے بال نوچ لئے تھے تو فرعوں نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمع کا صیغہ یا تو اکیلے فرعون کے لئے بطور تعظیم کے کہا یا ممکن ہے وہاں اس کے کچھ درباری موجود رہے ہوں۔ 9-2کیونکہ فرعون اولاد سے محروم تھا۔ -9-3کہ یہ بچہ جسے وہ اپنا بچہ بنا رہے ہیں، یہ تو وہی بچہ ہے جس کو مارنے کے لئے سینکڑوں بچوں کو موت کی نید سلا دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

3: خطا کار ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کافر اور گناہگار لوگ تھے، اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بچے کو اٹھا کر اپنے حق میں غلطی کی، کیونکہ وہی بچہ آخر ان کے زوال کا سبب بنا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقالت امرات فرعون ۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (9) ” فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا ، ” یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اسے قتل نہ کرو ، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں۔ اور وہ (انجام سے) بیخبر تھے “۔ یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو فرعون کے حصن حصین میں داخل کردیا ، پھر فرعون کی بیوی کے دل میں ان کی محبت ڈال دی اور یوں محبت کے مہین اور شفاف پردے میں حضرت موسیٰ کو محفوظ فرما دیا۔ حضرت موسیٰ کی حفاظت نہ اسلحہ سے کی گئی اور نہ مال و متال کے ذریعے کی گئی۔ اللہ نے فرعون کی بیوی کے دل میں اس کی محبت ڈال دی۔ اس طرح فرعون کی سختی ، اس کی سنگدلی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی کیسا پیارا بچہ ہے، ہمارے کوئی لڑکا نہیں، لاؤ اسی سے دل بہلائیں اور آنکھیں ٹھنڈی کیا کریں۔ بعض روایات میں ہے کہ فرعون نے کہا " لَکِ لاَ لِی " (تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگی میری نہیں) تقدیر ازلی یہ الفاظ اس ملعون کی زبان سے کہلا رہی تھی۔ آخر وہ ہی ہوا۔ 5 یعنی کم ازکم بڑا ہو کر ہمارے کام آئے گا یا مناسب سمجھا تو متبنیٰ بنالیں گے۔ 6 یعنی یہ تو خبر نہ تھی کہ بڑا ہو کر کیا کرے گا۔ سمجھے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی نے خوف سے ڈالا ہے ایک لڑکا نہ مارا تو کیا ہوا۔ کیا ضرور ہے کہ یہ ہی وہ بچہ ہو جس سے ہمیں خوف ہے۔ پھر جب ہم پرورش کریں گے وہ خود ہی ہم سے شرمائے گا۔ کس طرح ممکن ہے کہ ہم سے ہی دشمنی کرنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

لَا تَقْتُلُوْہُق عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ” یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں عزیز مصر کی بیوی نے کہے تھے یوسف : 21۔ وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ” انہیں اس وقت کوئی اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے تھے اور ان کے اس فیصلے کا کیا نتیجہ نکلنے والا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 اب ظاہری قیاس سے تو یہی معلوم ہو رہا تھا کہ یہ بچہ کسی بنی اسرائیل کے فرد کا ہی ہوسکتا ہے جس نے بچہ کے قتل کے خطرہ کی وجہ سے اس کے قتل ہونے سے بہتر یہی سمجھا کہ اسے دریا کے سپرد کردیا جائے۔ اس لحاظ سے فرعون کو یہ بچہ فوراً مار ڈالنا چاہئے تھا۔ مگر بچے کی صورت ایسی پیاری اور پرکشش تھی کہ فرعون کی بیوی آسیہ جس کے متعلق قرآن نے ایک دوسرے مقام پر تصریح کردی ہے کہ وہ فرعون کے ایسے ظالمانہ کاموں سے سخت بیزار تھی، نے جب یہ بچہ دیکھا تو فوراً اس کا دل محبت سے بھر آیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے ہاں اولاد نہ تھی۔ چناچہ وہ فوراً کہنے لگی کہ یہ بچہ تو بہت پیارا ہے کہ جسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (کہ اسی بچہ کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت غارت ہوگی) اے لایشعرون ان ھلاکھم بسببہ وعلی یدہ وھذا قول مجاھد وقتادۃ والضحاک ومقاتل (کبیر) (آیت) ” امرات فرعون “۔ سے مراد حضرت آسیہ ہیں۔ توریت محرف میں انہیں فرعون کی لڑکی بتایا گیا ہے۔ قرآن نے اس پرانی تاریخی غلطی کی اصلاح کرکے بتایا کہ وہ خاتون بیٹی نہیں بیوی تھیں۔ البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اصلا بیٹی ہی ہو جس کے ساتھ بعد کو فرعون نے شادی کرلی ہو۔ اس پر حیرت نہ کی جائے۔ متعدد جاہلی شاہی خاندانوں میں عام رواج محرمات ہی سے شادی کرنے کا رہا ہے۔ اور مصر کے شاہی (فرعونی) خاندان میں بادشاہ کا اپنی ہمشیر سے نکاح کرنے کا دستور تو عام تھا۔ بیٹی سے شادی کرکے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالت امرات فرعون . اور فرعون کی بی بی نے (فرعون سے) کہا۔ وہب بن منب نے بیان کیا کہ جب فرعون کے سامنے صندوقچہ رکھا گیا اور لوگوں نے اس کو کھولا اور اس کے اندر سے موسیٰ برآمد ہوئے تو فرعون نے ان کو دیکھ کر کہا : یہ تو عبرانی ہے ‘ دشمنوں میں سے ہے۔ موسیٰ کو دیکھ کر اس کو غصہ آیا اور کہنے لگا : یہ لڑکا کیسے بچ گیا ؟ فرعون نے ایک اسرائیلی عورت سے نکاح کرلیا تھا جس کو آسیہ بنت مزاحم کہا جاتا تھا۔ یہ عورت بہت نیک تھی اور انبیاء کی نسل سے تھی۔ مسکینوں کے لئے تو ماں تھی ‘ ان پر بڑا ترس کھاتی تھی ‘ بہت خیرات دیتی تھی۔ جب آسیہ فرعون کے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو اس نے فرعون سے کہا : یہ لڑکا تو ایک سال سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(9) فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بن مزاحم جو حضرت موسیٰ ؑ کی پھوپھی تھیں انہوں نے فرعون سے کہا کہ ی بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل مت کرو بعید نہیں کہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور بنی اسرائیل کو پتا بھی نہ چلے کہ یہ ہمارا لڑکا ہے یا یہ کہ ان لوگوں کو انجام کی خبر ہی نہیں تھی کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کے ہاتھوں ان کی ہلاکت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّةُ عَيْنٍ لِّيْ وَلَكَ۔۔ : فرعون اور اس کی بیوی نے صندوق کھلوایا تو اس میں سے نہایت خوب صورت اور پیارا بچہ نکلا، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی کشش رکھ دی تھی کہ جو دیکھے اس سے محبت کرنے لگے، جیسا کہ فرمایا : (وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ) [ طٰہٰ : 39 ]”اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی۔“ مگر جس طریقے سے یہ بچہ آیا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ بنی اسرائیل کے کسی آدمی کا بچہ ہے، جس نے ذبح ہونے سے بچانے کے لیے اسے دریا کے حوالے کردیا ہے، اس لیے فرعون اور اس کے خونخوار ساتھیوں نے اصرار کیا کہ اسے ہر حال میں ذبح کیا جائے، مگر فرعون کی بیوی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–9

واوحینآ الی ام موسیٰ ان ارضعیہ وحی کی اعمنی اور اس کے مصداق کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا کہنا ہے : یہ قول اس کی نیند میں کیا۔ قتادہ نے کہا : وہ الہام تھا۔ ایک جماعت نے کہا : وہ فرشتہ تھا جو مثالی شکل میں اس کے پاس آیا تھا۔ مقتال نے کہ؁، حضرت جبریل امین یہ پیغام لائے تھے۔ اس تعبیر کی بناء پر وہ وحی اعلام تھی الہام نہیں تھا۔ تمام علماء کا اسپر اتفاق ہے وہ نبی نہ تھیں۔ اس کی طرف فرشتے کے بھیجنے کی صورت وہی تھی جس طرح فرشتے نے اقرع، ابرص اور اور اعمی سے گفتگو کی تھی جس کا ذکر حدیث مشہور میں ہے امام بخاری اور امام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کی بیوی نے کہا قرۃ عین لی ولک، لاتقتلو، یہ میری آنکھوں کی ٹھنڈ اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈ ہے۔ اس کو قتل نہ کرو، فرعون نے کہا یہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری آنکھوں کی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر فرعون کہہ دیتا کہ وہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور تیری آنکھوں کی بھی تو یہ دونوں کے لیے ایسا ہی ہوتا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقالت امرأ ۃ فرعون قرۃ تین لی ولک اس سے مراد موسیٰ ہیں آیت عسی ان ینفعنا و نتخذہ ولدا یعنی میں نے اس موسیٰ پر اپنی رحمت ڈال دی جب اس نے اس کو دیکھا آیت وہم لا یشعرون کہ ان کی ہلات اس کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَتِ [ اور کہا ] امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ [ فرعون کی دعوت نے ] قُرَّةُ عَيْنٍ [ آنکھ کی ٹھنڈک ہے ] لِّيْ [ میرے لئے ] وَلَكَ ۭ [ اور تیرے لئے ] لَا تَقْتُلُوْهُ ڰ [ تم لوگ قتل مت کرو اس کو ] عَسٰٓى اَنْ [ ہوسکتا ہے ] يَّنْفَعَنَآ [ یہ نفع دے ہم کو ] اَوْ [ یا ] نَتَّخِذَهٗ [ ہم بنالیں اس کو ] وَلَدًا [ بیٹا ] وَّهُمْ [ اور وہ لوگ ] لَا يَشْعُرُوْنَ [ شعور نہیں رکھتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–13

(فَرَدَدْنٰہُ الآی اُمِّہٖ ) (الآیۃ) سو ہم نے موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور بچہ کی جدائی سے غمگین نہ ہوں اور تاکہ اس بات کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح اپنے بندوں کے ساتھ رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور کس کس طرح ظالموں کو ان کی تدبیروں میں نا کام بناتا ہے۔ فائدہ : یہاں بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنی اولاد کی پرورش کرنا تو فرض ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بچہ کی پرورش کرنے اور دودھ پلانے پر اجرت کیسے قبول فرمائی ؟ لیکن قرآن مجید میں اجرت لینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–21

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ فرعون کے دل میں خود بخود یا کسی کو توجہ دلانے سے یہ خیال پیدا ہوا ممکن ہے یہ وہی مولود ہو جس کے ہاتھ اس کی سلطنت کا زوال مقدر ہو اس لیے اسے قتل کردینا چاہیے۔ لیکن فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم نے سفارش کی اور کہا یہ تو میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس لیے آپ اسے قتل نہ کرائیں ممکن ہے اس کے ذریعہ سے ہمیں کوئی فائدہ پہنچ جائے یا اسے ہم اپنا بیٹابنا لیں گے کیونکہ ہمارے بیٹا بھی تو نہیں ہے۔ فرعون نے آسیہ کی بات مان لی اور بچے کے قتل سے دستکش ہوگیا۔ وھم لا یشعرون، یہ سب کچھ ہوا مگر ان میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ یہ وہی مولود ہے جس کے ہاتھ پر ان کا زوال و ہلاک ہوگا۔ ای لایشعرون انہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–10

ربط آیات اس سورة مبارکہ کی ابتدائی آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کے ذکر کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کیا گیا ۔ امام احمد (رح) نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت معدی کرب ؓ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے عرض کیا کہ مجھے سورة طسم سنائو تو انہوں نے فرمایا کہ تم یہ سورة اس شخص سے سنو جس نے اے براہ راست حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سن کر یاد کیا ہو ۔ اس سلسلے میں انہوں نے حضرت خباب بن ارت ؓ کا پتہ بتایا ۔ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے یہ ساری سورة سنا دی ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کل ستتر 77 سورتیں حضور حضور ﷺ کے دہن مبارک سے سن کر سیکھی تھیں مگر اس سورة سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّيْ وَلَكَ ۭ لَا تَقْتُلُوْہُ۝ 0 ۤ ۖ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَّہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۝ 9 قرر ( آنکھ ٹهنڈي کرنا) صببت فيها ماء قَارّاً ، أي : باردا، واسم ذلک الماء الْقَرَارَةُ والْقَرِرَةُ. واقْتَرَّ فلان اقْتِرَاراً نحو : تبرّد، وقَرَّتْ عينه تَقَرُّ : سُرّت، قال : كَيْ تَقَرَّ عَيْنُها [ طه/ 40] ، وقیل لمن يسرّ به : قُرَّةُ عين، قال : قُرَّتُ عَيْنٍ لِي وَلَكَ [ القصص/ 9] ، وقوله : هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] ، قيل : أصله من القُرِّ ، أي : البرد، فَقَرَّتْ عينه، قيل :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–13

ترکیب : ان ارضعیہ اگر ان مصدر یہ ہے تو یہ اوحینا کا مفعول اور اگر بمعنی ای تفسیر کے لیے تو یہ اوحینا کی تفسیر ہوگی، لیکون والعلام للصیروۃ لا للغرض فارغًا ای خالیا من الصبر و الخوف او مما سواہ یہ اصبح کی خبر فواد ام موسیٰ اسم، ان کا دت ان مخففہ ہے، ثقیلہ سے واسمہا محذوف ای انہا وقیل بمعنی ماجواب لولا محذوف دلَّ علیہ ان کا دت لتکون لام متعلقہ ربطنا عن جنب من مکان بعید اختلاساً ہو فی موضع الحال من الفاعل فی بصرت والمراضع جمع مرضعۃ و یمکن ان یکون جمع مرضع بمعنی مصدر۔ تفسیر : واوحینا یہاں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی یعنی اس کے دل میں القاء کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ط اِنَّ فِرْعَوْنَ وَھَامٰـنَ وَجُنُوْدَھُمَا کَانُوْا خٰطِئِیْنَ ۔ وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ ط لاَ تَقْتُلُوْہُ صلے ق عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَـآ اَوْنَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (القصص : 8، 9) (تو فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیاتا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے، بیشک فرعون و ہامان اور ان کے لشکر بڑے غلط کار تھے۔ اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں اور وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–11

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنا اور صندوق کا فرعون کے ہاتھ لگنا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اے اُمِّ موسیٰ ! تیرے ساتھ تیرے رب کا وعدہ ہے کہ نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو تیرے پاس لوٹائے گا بلکہ اسے رسول منتخب کرے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں ڈال کر دریا کی لہروں کے حوالے کیا اور اپنی بیٹی یعنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9: وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ (فرعون کی بیوی نے کہا یہ میرے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے) ۔ روایت میں ہے۔ کہ جب انہوں نے صندوق اٹھا لیا۔ تو اس کو کھولنے کی کوشش کی مگر نہ کھلا۔ پھر توڑنا چاہا اس سے بھی عاجز رہے۔ آسیہ قریب ہوئیں تو انہوں نے صندوق کے درمیان میں نور دیکھا۔ پس اس نے کھولنے کی کوشش کی تو صندوق کھل گیا۔ اچانک بچے کو دیکھا جس کی جبین نور سے ٹمٹما رہی تھی۔ ان سب کو دیکھتے ہی اس سے محبت ہوگئی۔ فرعون کی ایک بیٹی برص زدہ تھی۔ اس نے اس بچے کے چہرے پر نگاہ ڈالی تو اس کا برص جاتا رہا۔ فرعون کی قوم کے بعض گمراہ لوگوں نے کہا یہی وہ بچہ ہے جس سے آپ کو خطرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9۔ وقالت امراۃ فرعون قرۃ عین لی ولک، وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ جب فرعون کے سامنے صندوقچہ رکھا گیا اور لوگوں نے اس کو کھولا اور اس کے اندر موسیٰ (علیہ السلام) برآمد ہوئے فرعون نے ان کو دیکھ کر کہا یہ توعبرانی ہے دشمنوں میں سے ہے، موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر اس کو غصہ آیا اور کہنے لگایہ لڑکا کیسے بچ گیا، فرعون نے ایک اسرائیلی عورت سے شادی کرلی تھی جس کو آسیہ بنت مزاحم کہاجاتا تھا اس نے فرعون سے کہا یہ لڑکا ایک سال سے زائد کا ہے اور آپ کا حکم اس سال کے لڑکوں کو قتل کرنے کا ہے اس لیے اس کو چھوڑ دیجئے یہ میری اور تمہاری آنکھوں کے لیے ٹھنڈک بنے گا۔ ” لاتقلتلوہ، ، روایت میں آتا ہے کہ آسیہ نے کہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–9

8 تا 9۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا مکان دریائے نیل کے کنارہ پر تھا ان کی ماں نے ایک صندوق بنایا اور اس میں بچھونا بچھایا اب فرعونیوں کے خوف سے دودھ پلانے کے بعد بچہ کو اس صندوق میں ڈال کر صندوق کو دریا میں چھوڑ دیاوہ بہ گیا یہاں تک کہ فرعون کے محل کے نیچے سے وہ صندوق گزرا لونڈیوں نے اس کو اٹھا کر حضرت آسیہ ؓ کے پاس پہنچا یا ان کو خبر نہ تھی کہ اس میں کیا ہے کھولا تو ایک لڑکا تھا اس کی محبت خدا نے حضرت آسیہ ؓ کے دل میں ڈالی یہ اس واسطے کہ خدا نے آسیہ ؓ کو نیک بخت اور فرعون کو بدبخت بنانے کا ارادہ کیا تھا جب فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

12 فرعون کی بیوی کی رحمدلی کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ تو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہیں کرو۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا اس کو ہم اپنا بیٹا ہی بنالیں "۔ بعض روایات میں ہے کہ اس پر فرعون نے اپنی بیوی سے کہا ۔ " لَکِ لا لِیْ " ۔ یعنی یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تیرے لئے ہوگا میرے لئے نہیں۔ سو تقدیر نے یہ الفاظ اس کے منہ سے کہلوا دیئے۔ اور ایسے ہی ہوا کہ موسیٰ اس کے اقتدار کے دائمی خاتمے اور اس کی دائمی اور ابدی ہلاکت و تباہی کا ذریعہ اور باعث بن گئے۔ اور فرعون آپ (علیہ السلام) کے وجود باجود سے رحمت و ٹھنڈک پانے کی بجائے ہمیشہ کے لئے فی النار…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

سورة القصص آیات 1 تا 13 اسرار و معارف طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ لفظ شیعہ : یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی انہیں خبر نہ تھی کہ بڑا ہو کر کیا کریگا۔ انہوں نے خیال کیا کہ بنی اسرائیل میں سے کسی نے ڈر کے مارے اسے دریا میں ڈال دیا ہوگا ایک لڑکا نہ مارا تو کیا ہوا۔ “

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:9) قرت عین لی ولک : ای ھو قرۃ عین کائنۃ لی ولک ھو مبتدا محذوف قرت عین مضاف مضاف الیہ مل کر خبر کائنۃ لی ولک متعلق خبر۔ یہ بچہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لئے اور تیرے لئے۔ لا تقتلوہ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ یہ خطاب فرعون سے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لئے لایا گیا ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بسوئے موسیٰ (علیہ السلام) ۔ وہم لا یشعرون ۔ : ولدا پر فرعون کی بیوی کا خطاب ختم ہوا۔ وہم لا یشعرون جملہ حالیہ ہے عبارت ماقبل پر۔ ای فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا وقالت امراتہ کیت وکیت ۔۔ وہم لا یشعرون بانھم علی خطاء عظیم فیما صنعوا۔ فرعون کے لوگوں نے اس کو دریا سے نکال لیا۔ اپنا دشمن بننے کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–13

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 13 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ارضعیہ ( دودھ پلا) ‘ الیم (دریا۔ سمندر) انا رادوہ (بےشک ہم اس کو لوٹا دیں گے) ‘ التقط ( اس نے اٹھالیا) ‘ خطئین ( خطا کرنے والے) ‘ امرأ ۃ (عورت) قرۃ عین (آنکھوں کی ٹھنڈک) اصبح (ہوگیا) فئواد ( دل) فرغ (بےقرار۔ بےچین) ‘ کا دت (قریب ہے) ‘ ربطنا ( ہم نے باندھ دیا) قصی (پیچھے جا) ‘ جنب (دور۔ اجنبیت) ‘ حرمنا ( ہم نے روک دیا) ‘ المراضع (دودھ پلانے والیاں) ھل ادل (کیا میں بتاؤں ) یکفلون (وہ ذمہ داری لیتے ہیں) ‘ کی تقر ( تاکہ ٹھنڈی رہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 13 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ نے ان کو فرعون کی ان جاسوس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–9

(ف 1) پس فرعون کے آدمیوں نے اس کو اپنا دشمن اور آزار کا باعث بنانے کے لیے حضرت موسیٰ کو مع صندوق کے دریا سے نکال لیا، جب منظورالٰہی ہوتا ہیی تو اپنے ہاتھوں سے آدمی ہلاکت کا سامان کرتا ہے ان کو کیا معلوم تھا کہ اپنی موت اپنے ہاتھوں لیتے ہیں بیشک فرعون اور ہامان اور ان کا لشکر اس بارے میں بہت خطاوار تھے فرعون کی بی بی حضرت آسیہ نے فرعون سے یہ کہا کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو نہ ماروشائد کہ بڑا ہو کر ہم کو کچھ فائدہ دے کیونکہ اس کی پیشانی سے خوش نصیبی معلوم ہوتی ہے یاس کو اپنا بیٹابنالیں کیونکہ یہ بیٹا بنانے کے لائق ہے اور انہیں انجام کی خبر نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: حضرت موسیٰ کی ماں جب فرعون کے ڈر سے اپنے بچہ کو دریا میں ڈال دیا ۔ تو وہ کسی طریق سے قصر شاہی میں پہنچ گیا ۔ فرعون چاہتا تھا کہ اس بچہ کو بھی فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ مگر بوی نے روکا اور کہا ۔ اس کو اپنا متبنی بنائیں گے ۔ بڑا پیارا بچہ ہے ۔ ممکن ہے یہ ہمارے لئے نفع وخیرکا باعث ہوں اس لئے اس کو نہ مارو ۔ خدا کی تدبیر دیکھئے ۔ کہ کیونکر فرعون کو لاولاد رکھا ۔ پھر کس طریق سے اس کی بیوی کے دل میں شفقت و محبت کے جذبات پیدا کردیئے ۔ اور کس حکمت سے موسیٰ کو شاہانہ ٹھاٹھہ دیکھنے کے مواقع بہم پہنچائے غرض یہ تھی کہ جو شخص فرعون جیسے شاندار بادشاہ کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس کی حربیت اسی کے محل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

9۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر فرعون کی بیوی بولی یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کروعجب نہیں کہ یہ ہم کو برا ہو کر کچھ فائدہ اور نفع پہنچائے یا ہم اس کو اپنابیٹا ہی بنالیں اور ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ حقیقت حال اور انجام سے بالکل ہی بیخبر تھے۔ یعنی فرعون کی عورت کو بچہ دیکھتے ہی اس پر پیار آگیا شاید اس کے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہ ہوگی اس لئے اس نے کہا کہ بیٹے کی ذات ہے کوئی نفع ہی پہنچے گا یا اس کو مبتنی کرلیں گے اور بیٹا بنالیں گے اور ان کو کچھ خبر نہ تھی کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر کیا ہوگا اور یہی لڑکا سلطنت کی تباہی کا باعث ہوگا ۔ فرعون نے یہ بات مان لی ہوگی اور موسیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی اس کو دیکھ کر جی خوش ہوا کرے گا۔ 3۔ کہ یہ وہی بچہ ہے جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت غارت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ انہوں نے بچہ کو مارنے کی کوشش کی لیکن ہم نے اس کو ناکام کردیا : 9۔ زیر نظر آیت میں لفظ (لاتقتلوہ) اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے یقینا موسیٰ کے قتل کرنے کے متعلق کہا تھا یا آپس میں مشورہ کیا تھا کیونکہ اتنی بات تو وہ سمجھتے تھے کہ یہ بچہ ہو نہ ہو کسی اسرائیلی ہی کا ہو سکتا ہے لیکن سیدہ آسیہ ؓ نے اپنا مشورہ فرعون کو دیا کہ نہیں اس کو قتل نہ کریں بلکہ اس سے دل بہلائیں اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں کہ اولاد تو موجود نہیں اور کتنا خوبصورت بچہ ہے جب ہم خود اس کی پرورش کریں گے تو ظاہر ہے کہ ایسا کوئی خدشہ نہیں رہے گا جس خدشہ کے پیش نظر بنی اسرائیل کے بچوں کو مروایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–14

Commentary وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ (And when he reached his maturity and became perfect - 28:14). The literal meaning of 'ashudd (أَشُدَّ ) is to attain the peak of strength or intensity. For instance a person gradually develops from the position of juvenile weakness to the strength of adulthood. A time comes when he has attained full strength and vigour that he could achieve. That point in life is called أَشُدَّ 'ashudd. In different parts of the world and for different people this point in life varies according to climate, character of the land, race etc. Some people attain it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 What one understands from this is briefly so: "When the ark or the basket was carried by the river to the place where Pharaoh's palaces were situated, the servants of Pharaoh picked it up and took it before the king and the queen. It is just possible that the king and the queen were at that time strolling along the river bank and might have noticed the basket and ordered it to be picked up. When they saw a child in it, they could easily guess that it belonged to an Israelite family. For it came from the quarters inhabited by the Israelites, whose sons were being put to death in those days.…

Read the full tafseer →