28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 28:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

(1۔ 2) طسم۔ طاء سے طول وقدرت اور سین سے خوبصورتی و بلندی میم سے بادشاہت وسلطنت مراد ہے یا یہ کہ ایک قسم ہے جو تاکید کے لیے بیان کی گئی ہے یہ سورت ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہے۔
Ayah 28:3

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

(اے محمد) ہم تمہیں موسیٰ اور فرعون کے کچھ حالات مومن لوگوں کے سنانے کے لئے صحیح صحیح سناتے ہیں

(3) ہم آپ کو حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا کچھ واقعہ بذریعہ قرآن کریم سناتے ہیں ان لوگوں کے فائدہ کیلیے جو آپ کی اور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

کہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا ان میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور انکی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا بیشک وہ مفسدوں میں تھا

(4) غرض کہ فرعون سرزمین مصر میں بہت بڑھ چڑھ گیا تھا اور اس نے ان کے باشندوں کی مختلف جماعتیں بنا رکھی تھیں۔ ان جماعتوں میں سے بنی اسرائیل زور کم کردیا تھا، اس طرح کہ انکے بیٹوں کو ذبح کراتا تھا اور ان کی عورتوں سے خدمت لیتا تھا، واقعی وہ بڑا فساد پھیلانے والا، کفر وشرک اور قتل و غارت گری میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔
Ayah 28:5

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دئیے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (ملک کا) وارث کریں

(5) اور ہمیں یہ منظور تھا کہ جن لوگوں کا سرزمین مصر میں زور گھٹایا جارہا تھا ہم ان کو نجات دیں اور ان کو دین کا پیشوا بنادیں اور سرزمین مصر کا ان کو وارث بنائیں۔
Ayah 28:6

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ملک میں انکو قدرت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر کو وہ چیز دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے

(6) اور حکومت دین اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ بات دکھائیں جس سے وہ بنی اسرائیل کی طرف سے ڈرا کرتے تھے یعنی بادشاہت کے ختم ہوجانے سے۔
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلاؤ جب تم کو اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ تو خوف کرنا اور نہ رنج کرنا ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) اسے پیغمبر بنادیں گے

(7) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ یوحانزبنت لادی بن یعقوب ؑ کو الہام کیا کہ تم اس بچے کو دودھ پلاتی رہو۔ پھر جب ان کی تفتیش کا خدشہ ہو تو بےخوف وخطر صندوق میں رکھ میں کر دریا میں ڈال دیں اور نہ تو انکے ڈوبنے کا اندیشہ کرنا اور نہ جدائی پر غم کرنا ہم ضرور پھر اس کو تمہارے ہی پاس پہنچا دیں گے اور فرعون اور اس کی قوم کی طرف ان کو رسول بنا کر بھیجیں گے۔
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ ان کا دشمن اور (انکے لئے موجب) غم ہو بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر چوک گئے

(8) غرض کہ ایسا ہی ہوا فرعون کی باندیوں نے پانی اور پتوں میں سے اس صندوق کو نکال لیا اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ ؑ کے پاس لے گئیں تاکہ رسالت مل جانے کے بعد وہ فرعونیوں کے دشمن اور فرعون کی سلطنت ختم ہوجانے کے بعد اس کے لیے باعث غم بنیں۔
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا شاید کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ (انجام سے) بیخبر تھے

(9) فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بن مزاحم جو حضرت موسیٰ ؑ کی پھوپھی تھیں انہوں نے فرعون سے کہا کہ ی بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل مت کرو بعید نہیں کہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور بنی اسرائیل کو پتا بھی نہ چلے کہ یہ ہمارا لڑکا ہے یا یہ کہ ان لوگوں کو انجام کی خبر ہی نہیں تھی کہ یہ وہی لڑکا ہے جس کے ہاتھوں ان کی ہلاکت ہوگی۔
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کردیتے تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں

(10) ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کا دل حضرت موسیٰ ؑ کے غم میں بےقرار ہوگیا قریب تھا ک کہ وہ اس بےقراری میں موسیٰ ؑ کا حال سب پر ظاہر کردیں اگر ہم ان کے دل کو اس غرض سے مضبوط نہ کرتے کہ یہ وعدہ خداوندی پر یقین کیے بیٹھی رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو رسول بنائے گا۔
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس کی بہن نے کہا کہ اسکے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو کچھ خبر نہ تھی

(11) آخر کار انہوں نے سنبھال کر یہ تدبیر سوچی کہ حضرت موسیٰ ؑ کی بہن مریم سے کہا ذرا حضرت موسیٰ ؑ کا سراغ تو لگاؤ چناچہ اس نے دور سے حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھا اور ان لوگوں کو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کی بہن ہیں۔
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر (دائیوں کے) دودھ حرام کر دئیے تھے تو موسیٰ کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے لئے اس (بچے) کو پالیں اور اسکی خیر خواہی (سے پرورش) کریں

(12) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ پر ان کی والدہ کے آنے سے پہلے دودھ پلانے والیوں کہ وہ کسی کا دودھ نہ لیتے تھے یہ موقع دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ کی بہن نے فرعونیوں سے کہا کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتا بتاؤں جو اس بچے کی اچھی طرح پرورش کریں اور عادت کے موافق دل سے اس کی خیر خواہی کریں۔
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

تو ہم نے (اس طریق سے) ان کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا کہ انکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے

(13) چناچہ ان لوگوں نے ایسے گھرانے کا پتا پوچھا انہوں نے اپنی ماں کا پتا بتا دیا غرض کہ اس طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو ان کی والدہ کے پاس پہنچا دیا تاکہ حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور حضرت موسیٰ ؑ کے غم میں نہ رہیں اور جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوتا ہے کہ اپنے وعدہ کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ کو پھر ان کے پاس پہنچا دیا مگر خاص طور پر یہ مصری اس چیز کو نہیں سمجھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ جوانی کو پہنچے اور بھرپور (جوان) ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عنایت کیا اور ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

(14) جب حضرت موسیٰ ؑ اٹھارہ سال سے گزر کر چالیس سال کو پہنچے ہم نے ان کو حکمت اور نبوت عطا فرمائی اور اسی طرح ہم انبیاء کرام کو فہم ونبوت دیا کرتے ہیں یا یہ کہ صالحین کو علم و حکمت دیا کرتے ہیں۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بیخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے ہیں ایک تو موسیٰ کی قوم کا ہے اور دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تو جو شخص انکی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسیٰ کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰ سے مدد طلب کی تو انہوں نے اسکو مکا مارا اور اس کا کام تمام کردیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے

(15) اور موسیٰ ؑ شہر میں ایسے وقت پہنچے کہ وہاں کے اکثر باشندے بیخبر تھے قیلولہ کا وقت تھا یا مغرب کے بعد کا تو انہوں نے وہاں ایک اسرائیلی اور ایک قبطی کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا ایک تو حضرت موسیٰ ؑ کی برادری یعنی بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا مخالفین میں سے یعنی قبطی تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ کی برادری میں سے جو تھا اس نے حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھ کر اس مخالف کے مقابلہ میں مدد چاہی حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو گھونسا مارا تو وہ ہلاک ہوگیا کہنے لگے کہ یہ شیطانی حرکت ہوگئی بیشک شیطان بھی انسان کا کھلا دشمن ہے۔
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے انکو بخش دیا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

(16) اور اپنی غلطی پر نادم ہو کر عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے قصور ہوگیا کہ غلطی سے یہ قبطی مرگیا سو آپ میرے اس قصور کو معاف کردیجیے اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا وہ بڑا غفور رحیم ہے۔
Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں گا

(17) اور آئندہ کے لیے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار آپ نے جو مجھ پر معرفت توحید اور مغفرت کے انعامات فرمائے ہیں تو آپ کبھی بھی ان مشرکین یعنی فرعون اور اس کی قوم کی مدد کا مجھے موقع نہ دیجیے کہ میں مجرموں کی مدد کروں۔
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو تو صریح گمراہ ہے

(18) پھر حضرت موسیٰ ؑ کو اس قتل کے خوف اور وحشت کی حالت میں صبح ہوگئی انہیں ڈر تھا کہ کب پکڑا جاؤں دیکھتے کیا ہیں کہ وہی اسرائیلی جس نے گزشتہ روز ان سے قبطی کے مقابلہ میں مدد چاہی تھی آج پھر دوسرے قبطی کے خلاف مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس سے فرمایا تو بڑا بد راہ سے روزانہ لڑتا پھرتا ہے اور روکنا چاہا۔
Ayah 28:19

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑلیں تو وہ (یعنی موسیٰ کی قوم کا آدمی) بول اٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا (اسی طرح) چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو ! تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے کہ نیکو کاروں میں ہو

(19) سو جب حضرت موسیٰ ؑ نے قبطی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اسرائیلی کو شبہ ہوا کہ شاید آج مجھ سے مواخذہ کریں گے گھبرا کر کہنے لگا اے موسیٰ ؑ کیا آج مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل ایک قبطی کو قتل کرچکے ہو معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین مصر میں تم اپنا زور بٹھانا چاہتے ہو امر بالعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے صلح کرانا نہیں چاہتے۔
Ayah 28:20

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا کہ موسیٰ (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ میں تمہارا خیر خواہ ہوں

(20) آخر حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کی تجویز قرار پائی وہاں حضرت موسیٰ ؑ کے خیرخواہ تھے جو حزقیل نامی شہر کے اس کنارے سے دوڑتے ہوئے آئے اور عرض کیا اے موسیٰ ؑ مقتول کے وارثوں نے آپ کے قتل کرنے پر اتفاق کرلیا ہے سو آپ اس شہر سے فورا چلے جائیے میں آپ کی خیر خواہی کر رہا ہوں۔
Ayah 28:21

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

موسیٰ وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے اور) دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے

(21) یہ سن کر حضرت موسیٰ ؑ خوف اور وحشت کی حالت میں اس شہر سے نکل پڑے کہ معلوم نہیں فرعونی کب مجھ کو پکڑ لیں اور کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھ کو ان مصریوں سے بچائیے۔
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ بتائے

(22) اور موسیٰ ؑ مدین کی طرف چل پڑے تو خیال ہوا کہ راستہ تو معلوم نہیں تو خود ہی کہنے لگے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے مدین کی طرف سیدھا پہنچا دے گا۔
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

جب مدین کے پانی (کے مقام) پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگ جمع ہو رہے (اور اپنے چارپایوں کو) پانی پلا رہے ہیں اور دیکھا کہ انکے ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں موسیٰ نے (ان سے کہا) تمہارا کام کیا ہے ؟ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے چارپایوں کو) نہ لے جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں

(23) چناچہ جب مدین کے کنوئیں پر پہنچے تو اس پر تقریبا چالیس آدمیوں کا مجمع تھا جو اس کنویں سے پانی کھینچ کر اپنی بکریوں کو پلا رہے تھے۔ اور ان لوگوں سے ایک طرف الگ ہو کر دو عورتیں دیکھیں جو اپنی کمزوری کی وجہ سے پانی سے اپنی بکریاں روکے ہوئے کھڑی تھیں اور لوگوں کے فارغ ہوجانے کی منتظر تھیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا تمہارا کیا مطلب ہے اپنی بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلاتیں وہ بولیں ہم اس وقت تک اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلاتیں جب تک کہ یہ چرواہے پلا کر فارغ نہ ہوجائیں پھر اس کے بعد پلاتی ہیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں ہمارے علاوہ ان کا اور کوئی مددگار نہیں۔
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

تو موسیٰ نے ان کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے اور کہنے لگے کہ پروردگار میں محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے

(24) یہ سن کر حضرت موسیٰ ؑ نے ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا انہوں نے جا کر اپنے والد سے حضرت موسیٰ ؑ کا واقعہ بیان کیا پھر حضرت موسیٰ ؑ وہاں سے ہٹ کر ایک سایہ دار درخت کے نیچے یا یہ کہ دیوار کے سایہ میں بیٹھ گئے اور عرض کرنے لگے کہ اے میرین رب اس وقت جو کھانے کی چیز بھی آپ مجھے بھیج دیں میں اس کا محتاج ہوں۔
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی موسیٰ کے پاس آئی (اور) کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اجرت دیں جب وہ انکے پاس گئے اور ان سے (اپنا) ماجرا بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو

(25) اتنے میں ان دونوں لڑکیوں میں سے چھوٹی لڑکی صفورا نامی آئی جو کہ بالکل کنواری لڑکی کی طرح شرماتی ہوئی چلتی تھی اور آکر کہنے لگی کی میرے والد تمہیں بلاتے ہیں تاکہ تمہیں اس کا صلہ دیں جو تم نے ہماری خاطر ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے، چناچہ جب حضرت موسیٰ ؑ ان کے باپ برؤن یعنی شعیب ؑ کے بھتیجے کے پاس آئے اور شعیب ؑ پہلے انتقال فرما چکے تھے اور برؤن سے فرعون کے پاس سے آنے کا واقعہ بیان یا تو برؤن نے موسیٰ ؑ سے فرمایا اب فکر مت کرو تم مصر والوں کی زد سے نکل آئے۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ایک لڑکی بولی ابا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانتدار (ہو)

(26) اس چھوٹی لڑکی نے کہا کہ اباجان ان کو ملازم رکھ لیجیے کیوں کہ اچھا نوکر وہ ہے جو مضبوط اور امانت دار بھی ہو۔
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

انہوں نے (موسی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک تم سے بیاہ دوں اس (عہد) پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کردو تو وہ تمہاری طرف سے (احسان ہے) اور میں تم پر تکلیف ڈالنی نہیں چاہتا تم مجھے انشاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے

(27) فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ سے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں لڑکیوں میں میں سے ایک کی تمہارے ساتھ شادی کر دوں، اس شرط پر کہ تم آٹھ سال تک میری بکریاں چراؤ پھر اگر تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری طرف سے احسان ہے اور میں اس دس سال کے پورا کرنے میں تمہیں مجبور کرنا نہیں چاہتا تم مجھے انشاء اللہ خوش معاملہ پاؤ گے۔
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

(موسی نے) کہا مجھ میں آپ میں یہ (عہد پختہ ہوا) میں جونسی مدت (چاہوں) پوری کر دوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے

(28) حضرت موسیٰ ؑ کہنے لگے بس یہ بات ہمارے درمیان طے ہوگئے آٹھ یا دس ان دونوں مدتوں میں سے جس کو بھی میں پورا کروں گا آپ کا مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا اور ہماری اس شرط اور اس کے پورا کرنے پر اللہ تعالیٰ گواہ کافی ہے۔
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے آگ دکھائی دی تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ (تم یہاں) ٹھہرو مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے (راستہ کا) کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم تاپو

(29) غرض کہ جب حضرت موسیٰ ؑ اس دس سالہ مدت کو پورا کرچکے اور اپنی بیوی کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو ایک رات جب کہ سردی بھی سخت تھی اور راستہ بھی بھول گئے تھے راستہ کے بائیں جانب ایک روشنی آگ کی صورت میں دکھائی دی۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا تم یہاں ٹھہرے رہو میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس وہاں سے رستہ کی کچھ خبر لاؤں یا تمہارے سینکنے کو کوئی آگ کا دہکتا ہوا انگارا لے آؤں۔
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

جب اسکے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسیٰ میں تو خدائے رب العالمین ہوں

(30) چناچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ ؑ کو دائیں طرف سے جو ان کی بھی دائیں طرف تھی اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسیٰ ؑ میں رب العالمین ہوں۔
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دو جب دیکھا کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چل دئیے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ہم نے کہا کہ) موسیٰ آگے آؤ اور ڈرو مت تم امن پانے والوں میں ہو

(31) اور تم اپنے ہاتھ میں سے اپنا عصا ڈال دو ، چناچہ انہوں نے ڈال دیا اور سانپ بن کر چلنے لگا جب انہوں نے اس کو لہراتا ہوا دیکھا جیسا کہ پتلا سانپ تیز ہوتا ہے تو پشت پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ارشاد خداوندی ہوا اے موسیٰ ؑ آگے آؤ اور اس سے ڈرو نہیں تم اس کے شر سے امن میں ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو پکڑ لیا تو وہ اپنی اصلی حالت کے مطابق پھر لکڑی ہوگیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اب تم اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو وہ بلا کسی برص وغیرہ کی بیماری کے سورج کی طرح روشن ہو کر نکلے گا۔
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سکیڑ لو یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس (جاؤ) کہ وہ نافرمان لوگ ہیں

(32) اور خوف دور کرنے کے لیے اپنا وہ ہاتھ پھر گریبان اور بغل سے بدستور ملا لینا تاکہ ہاتھ پھر اصلی حالت پر آجائے سو یہ تمہاری نبوت کی دو نشانیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کی قوم کے پاس جانے کے لیے کیوں کہ وہ بڑے نافرمان مشرک لوگ ہیں۔
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار ان کا ایک شخص میرے ہاتھ سے قتل ہوچکا ہے سو مجھے خوف ہے کہ وہ (کہیں) مجھ کو مار نہ ڈالیں

(33) حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا میں نے ان کا ایک آدمی مار دیا تھا مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے بدلے میں وہ مجھے قتل نہ کردیں۔
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور ہارون (جو) میرا بھائی (ہے) اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے

(34) اور دوسری بات یہ ہے کہ میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ خوش گفتار ہیں اور ان کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے، حضرت موسیٰ ؑ کی زبان میں گرہ تھی تو ان کو بھی میرا مددگار بنا کر میری رسالت دے دیجیے کہ میری تقریر کی تائید اور تصدیق کریں گے کیوں کہ مجھ کو تکذیب کا اندیشہ ہے۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو کو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے (اور) تم اور جنہوں نے تمہاری پیروی کی غالب رہو گے

(35) ارشاد خداوندی ہوا اچھا ہم ابھی تمہارے بھائی ہارون کو تمہارا قوت بازو بنادیتے ہیں اور ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تمہارے قتل کی جرأت نہ ہو سکے گی یہ معجزات لے کر جاؤ تم دونوں اور جو تم پر ایمان لائے گا فرعون اور اس کی قوم پر غالب رہو گے۔
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

اور جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ (باتیں) ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنیں نہیں

(36) غرض کہ جب موسیٰ ؑ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی نشانیاں یعنی یدبیضاء اور عصا لے کر آئے تو ان لوگوں نے کہا موسیٰ ؑ یہ جو تم لے کر آئے ہو یہ تو تمہارے خود کا گھڑا ہوا ایک جادو ہے اور تم جو کہتے ہو ہم نے کبھی بھی ایسی بات نہیں سنی کہ ہمارے آباؤ و اجداد کے وقت میں بھی ہوئی ہو۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے حق لے کر آیا ہے اور جس کے لئے عاقبت کا گھر (یعنی بہشت) ہے بیشک ظالم نجات نہیں پائیں گے

(37) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے رسالت و توحید لے کر آیا ہے اور جس کو آخرت میں جنت ملنے والی ہو، اور مشرکین کو عذاب خداوندی سے کبھی نجات نہیں ملے گی ،
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ اے اہل دربار میں تمہارا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں جانتا تو ہامان میرے لئے گارے کو آگ لگوا (کر اینٹیں پکوا) دو پھر میرے لئے ایک (اونچا) محل بنوا دو تاکہ میں موسیٰ کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں

(38) فرعون نے کہا اے مصر والو ! مجھے تو تمہارا اپنے سوا کوئی اللہ معلوم نہیں ہوتا سو تم موسیٰ ؑ کی پیروی مت کرنا اور اے ہامان تم ہمارے لیے مٹی کی اینٹیں بنوا کر ان کو آگ میں پکواؤ اور ان اینٹوں سے میرے لیے ایک بلند عمارت بناؤ تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ ؑ کے اللہ کو دیکھوں اور میں تو موسیٰ ؑ کو اس دعوے میں کہ کوئی اور اللہ بھی اوپر ہے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق مغرور ہو رہے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

(39) اور فرعون اور اس کے قبطی لشکر نے ناحق سرزمین مصر میں سراٹھارکھا تھا اور ایمان سے انکار کر رہے تھے اور یوں سمجھ رکھا تھا کہ آخرت میں ان کو ہمارے سامنے پیش ہونا ہی نہیں۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے لشکروں کو پکڑ لیا اور دریا میں ڈال دیا سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا

(40) سو ہم نے اس تکبر کی سزا میں فرعون اور اس کے قبطی لشکر کو دریا میں پھینک دیا سو آپ دیکھیے کہ فرعون اور اس کی مشرک قوم کا کیا انجام ہوا۔