28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 28:1–13

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

طٰسٓم ٓ

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ روشن کتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا کچھ قصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر (نازل فرما کر) سناتے ہیں ان لوگوں کے (فائدے کے) لئے جو ایمان رکھتے ہیں

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

بیشک فرعون ملک (مصر) میں بہت بڑھ چڑھ کر گیا تھا اور وہاں کے رہنے والوں کو گروہ گروہ کررکھا تھا ان میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کیا کرتا تھا اور ان کی عورتوں (بیٹیوں) کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بیشک وہ بڑا فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم کو یہ منظور ہوا کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیئے گئے ہیں ہم ان پر احسان فرمائیں اور ہم ان کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث بنادیں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ان کو زمین میں حکومت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو ان سے وہ (چیز) دکھا دیں جس سے وہ ڈرا کرتے تھے

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام فرمایا کہ انہیں دودھ پلائیں تو جب ان کے بارے اندیشہ ہو (کہ جاسوسوں کو خبر ہوگئی) تو ان کو دریا میں ڈال دیں اور نہ کوئی اندیشہ کریں اور نہ غم یقینا ہم ان کو آپ کے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) انہیں پیغمبر بنادیں گے

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

تو فرعون کے لوگوں نے ان کو اٹھا لیا تاکہ وہ ان کے لئے دشمن اور موجب غم ہوں بیشک فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر (اس سارہ میں) بہت غلطی پر تھے

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا (یہ بچہ) میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اس کو قتل نہ کرو ہوسکتا ہے کہ (بڑا ہو کر) ہم کو کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنالیں اور وہ (انجام سے) واقف نہ تھے

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےقرار ہوگیا۔ قریب تھا کہ وہ اس (واقعہ) کو ظاہر کردیتیں اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کیے رکھتے غرض یہ تھی کہ وہ (ہمارے وعدے پر) یقین رکھیں

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور انہوں (والدہ) نے ان (موسیٰ علیہ السلام) کی بہن سے کہا کہ ذرا اس کا سرغ تو لگا تو وہ انہیں دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو خبر تک نہ تھی

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی ان پر دودھ پلانے والیوں کی بندش کررکھی تھی تو وہ کہنے لگی کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتا بتادوں جو تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش کریں اور وہ دل سے اس (بچہ) کی خیرخواہی کریں

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

سو ہم نے ان کو ان کی والدہ کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور تاکہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے و لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

سورة القصص آیات 1 تا 13 اسرار و معارف طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ لفظ شیعہ : یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ فرعون نے لوگوں کے گروہ بنا رکھے تھے اور ایک گروہ یعنی قبطی تو بڑے معززین رہے تھے جبکہ دوسرے سبطی یا بنی اسرائیل کو بہت ذلیل و خوار کر رکھا تھا حتی کہ نہ صرف یہ کہ ان سے بیگار لی جاتی بلکہ ان کے بیٹوں تک کو ذبح کردیا جاتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھا جاتا کہ فرعون کو نجومیوں نے اطلاع دی تھی کہ اس قوم میں ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری حکومت ختم کردے گا تو اس نے بچے قتل کرنے کا حکم دے دیا وہ بہت بڑا فسادی تھا۔ جب اللہ چاہتا ہے تو کمزور طاقتور پہ غالب آتے ہیں : پھر اللہ نے چاہا کہ کمزوروں پر احسان کرے اور ان متکبروں سے اقتدار چھین کر کمزوروں کو سردار اور حاکم بنا دے اور انہیں ان کی حکومت ، شان و شوکت اور مال و دولت کا وارث بنا دے اور انہیں اقتدار عطا کر کے فرعون اس کے وزیر ہامان اور فرعون کے لاؤ لشکر کو وہی بات کر کے دکھا دیں جس سے بچنے کے کیے یہ بچوں کو قتل کر رہے ہیں اور بہت خوفزدہ ہیں ہر حال میں اسے روکنا چاہتے ہیں۔ کلام باری : چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر ان کی والدہ کو حکم دیا یہاں لفظ وحی لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ ان سے بات کی اور ثابت ہے کہ ولی اللہ کو کلام باری کا شرف نصیب ہوسکتا ہے اور وہ خود اس کے لیے دلیل بھی ہے ہاں نبی سے جو کلام ہوتا ہے وہ ساری امت کے لیے دلیل ہوتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے فرمایا کہ انہیں دودھ پلاؤ اور پاس رکھو جب تک کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا پھر اگر فرعون کے سپاہیوں سے خطرہ ہو تو اسے صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈال دینا اور یہ ڈر نہ رکھنا کہ کہیں دریا میں ہی ہلاک نہ ہوجائے یا بچھڑ تو بحرحال جائے گا ایسا کچھ نہ ہوگا بلکہ ہم اسے واپس تمہاری گود میں دیں گے اور یہ زندہ بھی رہے گا اور اسے اپنا رسول بنائیں گے۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ دریا میں بہتا ہوا وہ صندوق فرعون کے اہل خانہ نے پکڑ لیا کہ دریا سے نہر کاٹ ک محلات سے گزاری گئی تھی پانی بہا کر ادھر لے گیا فرعون کی اہلیہ کی نظر پڑی تو اٹھوا لیا وہ یہ نہ جان سکی کہ یہ تو فرعونی سلطنت کی تباہی کا سبب اور سب سے بڑا دشمن بنے گا بیشک فرعون ہامان اور ان کے لاؤ لشکر غلطی پر تھے بھلا قدرت باری سے مقابلہ کیسا فرعون نے دیکھا تو قتل کا ارادہ کرلیا کہ یقینا کسی اسرائیلی عورت نے قتل کے خوف سے پھینکا ہوگا مگر اس کی اہلیہ جو کہ بےاولاد تھی کہنے لگی کہ اللہ نے ہمیں یہ چاند سا بچہ عطا کیا ہے میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا اور بڑا ہو کر ہماری خدمت کریگا ہم اسی کو بیٹا بنا لیں گے۔ لیکن وہ اس بات کو نہ جان سکے کہ یہ بڑا ہو کر کیا بننے والا ہے۔ ربط اللہ : ادھرصبح جب موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ بہت بےقرار اٹھی اور اس قدر دل گھبرا رہا تھا کہ اگر ہمارا رابطہ اسکے قلب سے نہ ہوتا تو وہ چیخ چیخ کر بتاتی کہ لوگو میں نے لخت جگر کو سپرد دریا کردیا اور اپنی گوداجاڑ لی۔ یہاں یہ ثابت ہے کہ اہل اللہ کو ذات باری سے قلبی ربط نصیب ہوتا ہے جس کی برک سے وہ بڑی بڑی مشکلات سے گزر جاتے ہیں۔ ایسے ہی ام موسیٰ کے قلب کو رط نصیب ہوا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی اور واپس ملنے پر یقین سے قائم رہیں۔ اس نے بیٹی سے کہ دیا تھا کہ کنار دریا چلتی جاؤ اور صندوق پر نظر رکھو جبکہ فرعونی اس بات سے بیخبر تھے۔ اب فرعون کی اہلیہ نے بچے کو دودھ پلانے کے لیے خواتین کو طلب کیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی کا بھی دودھ پینے سے روک دیا۔ یہ قدرتی تدبیر تھی کہ اب انہیں بہت فکر ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے بتایا کہ ایک خاتون سے میں واقف ہوں وہ بہت نیک دل اور مہربان خاتون ہے اگر چاہو تو اس کا پتہ دوں وہ بچے کی خبر گیری بھی بہت اچھی طرح سے کرے گی چناچہ انہیں بلایا گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے دودھ پینا شروع کردیا یوں انہیں بیٹا بھی مل گیا کہ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور گود آباد رکھیں اور فرعونیوں سے پرورش کی اجرت الگ اور آئندہ بھی فکرمند نہ ہوں اور خوب یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے جس پر بہت سے لوگوں کو یقین نصیب نہیں ہوتا۔
Ayahs 28:14–21

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور (قوت جسمانیہ اور عقلیہ سے) درست ہوگئے (تو) ہم نے ان کو حکمت اور علم (نبوت) عطا فرمائے اور ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی حوصلہ دیا کرتے ہیں

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ ایسے وقت میں شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے رہنے والے بیخبر ہو رہے تھے تو انہوں نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے پایا۔ ایک ان کے گروہ کا تھا اور دوسرا ان کے مخالفین میں سے تھا تو جو ان کے گروہ میں سے تھا اس نے ان کے مخالف گروہ والے کے خلاف ان سے مدد چاہی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا گھونسا مارا سو اس کا کام تمام کردیا۔ فرمانے لگے یہ تو شیطانی حرکت ہوگئی۔ بیشک وہ (ظاہر باہر انسان کو) گمراہ کرنے والا ، کھلا دشمن ہے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! بیشک مجھ سے قصور ہوگیا ہے تو آپ مجھے معاف فرمادیجئے سو اس (اللہ) نے انہیں معاف فرمادیا۔ بیشک وہ بڑے بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! جیسا کہ آپ نے مجھ پر (بہت بڑا) انعام فرمایا ہے سو میں کبھی مجرموں کے لئے مددگار نہ بنوں گا

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے وحشت کے عالم میں داخل ہوئے تو اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا بیشک تو صریح گمراہ ہے

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پس جب انہوں نے ارادہ فرمایا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑیں تو وہ (جوان کے گروہ کا آدمی تھا) کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جس طرح آپ نے کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا آپ چاہتے ہیں کہ مجھے بھی قتل کردیں (معلوم ہوتا ہے) کہ آپ دنیا میں اپنا زور بٹھانا چاہتے ہیں اور آپ نہیں چاہتے کہ آپ اصلاح کرنے والوں میں سے ہوں

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے (جہاں مشورہ ہورہا تھا) دوڑتا ہوا آیا (اور) کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک اہل دربار آپ کے بارے مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں تو آپ (یہاں سے) نکل جائیے یقینا میں آپ کی خیر خواہی کررہا ہوں

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پس وہ وہاں سے (کسی طرف) نکل گئے خوف اور وحشت کے عالم میں (اور) دعا کی اے میرے پروردگار ! مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائیے

آیات 14 تا 21 اسرارو معارف جب موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو وہ بہت سمجھدار اور باعلم تھے ہم نے انہیں علم و احکمت کہ فطرت سلیمہ قبل از بعثت نبی کو نصیب ہوتی ہے عطا فرمائی۔ اور نیکی کے کرنے والے مخلص لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔ نیکی سے دنیا کے امور کو سمجھنے کی استعداد بھی زیادہ ہوجاتی ہے : یہ ثابت ہوا کہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرنے سے دنیا کے معاملات کو بہتر سمجھنے کی صلاحیت عطا ہوتی ہے ہمارے ہاں جو نیک لوگوں کے زیادہ بھولے ہونے کی بات ہے تو غالبا یہاں نیکی صرف عبادت کو سمجھ لیا گیا ہے جبکہ نیکی سے مراد عبادت اور پوری عملی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہے۔ اللہ کرے ہمارے عبادت گزار لوگ بھی عملی زندگی میں شریک ہوجائیں کہ نیکی غالب آسکے۔ ایک روز آپ ایسے وقت شہر میں آئے جب اکثر لوگوں کے آرام کا وقت تھا تو آپ نے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے ایک تو ان کے گروہ یعنی بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمن یعنی قبطیوں کے گروہ سے۔ لفظ شیعہ : موسی (علیہ السلام) ابھی مبعوث نہ ہوئے اور اسرائیلی ابھی اسلام سے واقف نہ تھے محض ان کا گروہ تھے کہ وہ ان کی حمایت کرتے تھے لہذا یہاں بھی لفظ شیعہ استعمال ہوا۔ قبول اسلام کے بعد انہیں کہیں بھی شیعہ نہیں کہا گیا۔ چنانچہ اسرائیلی جو مار کھا رہا تھا وہ مدد کے لیے چلایا موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کو روکنا چاہا وہ ان سے الجھ گیا انہوں نے اسے مکہ دے مارا اور ایسا سخت پڑا کہ اس کا کام ہی تمام ہوگیا۔ آپ نے فورا فرمایا کہ یہ کام شیطان کا ہے کہ اس نے یہ فساد کھڑا کرکے میرے لیے مشکلات پیدا کردیں۔ اور اے میرے پروردگار مجھ سے بھی بہت بڑی غلطی ہوگئی تو مجھے معاف فرمادے لہذا اللہ نے معاف فرما دیا کہ وہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ موسی (علیہ السلام) کی توبہ : یہاں علماء نے موسیٰ (علیہ السلام) کی توبہ قبطی کے قتل سے بیان فرمائی ہے اور لکھا ہے کہ اگر چہ آپ نے قتل کے ارادہ سے نہ مارا تھا کہ جرم قرار پاتا محض اتفاقا اس کی موت کا سبب بن گیا پھر بھی انبیاء کی شان ہے کہ مباحات میں بھی توبہ کرتے ہیں مگر ایک پہلو اس بات میں یہ بھی ہے کہ شیطان نے اس اسرائیلی اور قبطی کو لڑا کر موسیٰ (علیہ السلام) کو الجھا دیا تو آپ نے غصہ میں مکہ مارا تو قبطی مرگیا یوں آپ کے لیے بلاوجہ قبل بعثت ہی ایک مصیبت کھڑی ہوگئی تو آپ نے فرمایا یہ سب شیطان کا کیا دھرا تھا اللہ کریم مجھے معاف کردے تو آئندہ میں کسی مجرم یعنی منہادی کی مدد نہ کروں گا کہ یہ اسرائیلی بھی تو کوئی جھگڑالو قسم کا آدمی تھا اور اس پر شیطان کا قابو چل گیا لیکن اللہ کارساز ہے۔ شیطان نے دشمنی کی انہیں شہر چھوڑنا پڑا مر شعیب (علیہ السلام) کی جمعیت میسر آگئی اور شبانی سے کلیمی پہ جا پہنچے۔ آپ دوسرے روز پھر شہر سے گزرے تو خوف بھی تھا کہ کل کا واقعہ کسی کے علم میں نہ آگیا ہو اور کوئی فساد کھڑا نہ ہوجائے کہ اچانکوہ آدی جس کی پہلے مدد فرمائی تھی پھر ایک قبطی سے الجھا ہوا ملا۔ آج پھر وہ مار کھا رہا تھا اور مدد کے لیے چلا رہا تھا آپ نے فرمایا کہ تو بھی اچھا آدمی نہیں ہے اور خود بےراہ آدمی ہے اور فسادی ہے اور اسے چھڑانے کے لیے آگے بڑھے ۔ جھوٹا آدمی الزام تراشی کرتا ہے : اس نے سمجھا کہیں مجھے بھی مکہ نہ جڑ دیں تو کہنے لگا کہ موسیٰ کیا آج آپ مجھے مار دینا چاہتے ہیں جیسے کل ایک آدمی کو قتل کرچکے ہیں آپ بھی محض دنیا پہ اپنی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں نیکی یا اصلاح کرنے کا آپکا ارادہ نہیں۔ جھوٹا تھا اس لیے ان پر الزامات لگائے مگر قبطی کے قتل والی بات اہل دربار تک جا پہنچی فرعون پہلے ہی ان کی طرف سے مطمعن نہ تھا قتل کا حکم صادر کردیا تو دربار میں کوئی آدمی ان کو چاہنے والا بھی تھا وہ دوڑا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دی اور کہ کہ امراء دربار آپ کے قتل کی سازش کر رہے ہیں اور میں آپ کی بھلائی چاہتا ہوں لہذا میں یہ عرض کروں گا کہ آپ فورا شہر بھی چھوڑ دیں اور حکومت مصر کی حدود سے چلے جائیں۔ آپ بڑے خوفناک انداز میں بہت احتیاط کے ساتھ نکل ھڑے ہوئے یہ دعا بھی کرتے جاتے تھے کہ اے اللہ مجھے ظالموں سے بچا لے اور میری حفاظت فرما۔
Ayahs 28:22–28

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو فرمانے لگے امید ہے میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ بتائے گا

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب مدین کے پانی (کنویں) پر پہنچے تو وہاں دیکھا کہ بہت سے لوگ (اپنے ریوڑوں کو) پانی پلا رہے ہیں۔ اور ان کے ایک طرف دو عورتیں (بچیاں) (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں۔ انہوں نے فرمایا تمہیں کیا کام ہے ؟ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے ریوڑوں کو پانی پلا کر) لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلاسکتیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

تو انہوں نے ان کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے تو دعا فرمائی اے میرے پروردگار ! آپ مجھ پر جو اپنی نعمت نازل فرمائیں میں اس کا (سخت) محتاج ہوں

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پس ان کے پاس (تھوڑی دیر میں) ان میں سے ایک بچی لجاتی شرماتی چلی آتی تھی کہنے لگی میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس کا صلہ دیں جو آت نے ہماری خاطر (بکریوں کو) پانی پلایا تھا۔ پھر جب ان کے پاس پہنچے اور ان سے تمام حال کہہ سنایا تو انہوں نے فرمایا کہ کچھ خوف نہ کریں آپ ظالم لوگوں سے بچ آئے ہیں

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان دونوں (بچیوں) میں سے ایک نے کہا اباجان ! ان کو ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے کہ توانا (اور) امانت دار ہو

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

وہ (بزرگ) فرمانے لگے کہ بیشک میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں (لڑکیوں) میں سے ایک کا آپ کے ساتھ نکاح کردوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال میری ملازمت کریں گے پھر اگر دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے (احسان) ہوگا اور میں آپ پر مشقت نہیں ڈالنا چاہتا۔ (اور) آپ مجھے ان شاء اللہ نیکوکاروں میں پائیں گے

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا یہ بات میرے اور آپ کے درمیان (پکی) ہوچکی ان دونوں مدتوں میں سے جس (مدت) کو بھی پورا کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ اور ہم جو بات (طے) کر رہے ہیں اللہ اس پر گواہ ہیں

آیات 22 تا 28 اسرارومعارف اور جب آپ مصر سے چلے تو آپ کا رخ مدین کی طرف تھا اور دعا کی کہ مجھے رب کریم سے امید ہے کہ درست سمت کی رہنمائی فرمائیں گے اور میں کسی بہتر ٹھکانے پر پہنچ سکوں گا آخر چلتے چلتے آپ مدین کے کنویں پر پہنچ گئے آپ کسی سے واقف نہ تھے دیکھا بہت سے لوگ جمع ہیں اور اپنے مواشی اور ریوڑوں کو پانی پلا رہے ہیں مگر دو نوجوان لڑکیاں الگ سے اپنی بکریاں روکے کھڑی ہیں آپ کو تعجب ہوا تو پوچھ لیا کہ آپ اس طرح ریوڑ کو روک کر کیوں کھڑی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم مردوں میں مل کر تو کام نہیں کرسکتیں لہذا انتظار کرتی ہیں جب یہ لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا کر چلے جاتے ہیں تو ہم اپنے ریوڑ کو پلاتی ہیں اور اتنا بھی نہ کرتے مگر مجبوری ہے گھر پہ ایک والد ہیں جو ضعیف ہیں اور کوئی کام کرنے والا نہیں۔ خواتین کے کام کرنے کا طریقہ : جہاں ضرورت ہو خواتین کام کرسکتی ہیں مگر مردوں کے ساتھ آزادانہ میل جول کی اجازت نہیں ہاں خواتین الگ رہ کر کام کریں یہی حنیفیہ کا مسلک ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ڈول کھینچ کر ان کی بکریوں کو بھی پانی پلا دیا اور وہ گھر چلی گئیں آپ کسی سایہ کے نیچے جاکر بیٹھے اور دعا کی اے میرے پروردگار تو جو نعمت اور خیر عطا کرے تیری مرضی کہ میں اس وقت بہت ضرورت مند اور محتاج ہوں۔ اللہ کے الوالعزم رسول کی دعا سفر تھکاوٹ بھوک پیاس اور غریب الوطنی میں قبول ہوئی کہ ادھر وہ بچیاں ھر پہنچیں تو والد گرمی نے جلد آنے کا سبب پوچھا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سنایا تو فرمایا کہ انہیں بلا کرلے آؤ یہ شعیب (علیہ السلام) تھے آپ بوڑھے بھی تھے اور بینائی بھی نہ تھی ۔ چناچہ ان میں سے ایک بچی اس انداز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچی کہ اس کے چلنے سے بھی حیا ٹپک رہی تھی یعنی ان کی دعا کا جواب آیا ۔ عورت میں حیا ہو تو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے : واقعی عورت میں حیا ہو تو اللہ کریم کی بہت بڑی نعمت ہے کہ ایک خاتون کے ملنے سے انہیں گھر کنبہ اور ہمدرد سب کچھ میسر آگیا۔ چناچہ انہیں نے آکر فرمایا میرے والد آپ کو یاد فرماتے ہیں کہ آپ نے ہمارا کام کردیا وہ چاہتے ہیں کہ آپ کو اس کا کچھ معاوضہ دیں۔ آپ ساتھ چلے تو مفسرین فرماتے ہیں کہ خود آگے چلے اور انہیں اپنے پیچھے آنے اور راستہ بتانے کا فرمایا کہ اجنبی خاتون پر نظر نہ پڑے۔ جب شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور سب واقع بیان فرمایا تو انہوں نے فرمایا کہ اب یہاں کوئی خطرہ نہیں آپ اس ملک کی حدود سے باہر آگئے کوئی ڈرنے کی بات نہیں اب آپ اس ظالم قوم کے ہاتھ سے بچ نکلے۔ تب ان کی بیٹی نے درخواست کی کہ ابا انہیں ملازم رکھ لیجیے کہ ضرورت تو ہے اور یہ بڑے قوی بھی ہیں کہ پانی کھینچ نکالا اور امانت دار بھی ہیں کہ ہمارے ساتھ بہت دیانت و امانت کا معاملہ فرمایا ۔ کسی منصب کے لیے اس کا اہل ہونا اور دیانتدار ہونا شرط ہے : یہاں سے ثابت ہے کہ کسی ملازمت یا منصب کے لیے دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے اول اس کام کی اہلیت رکھتا ہو دوسرے امین اور دیانتدار ہو کہ خلوص سے کام کرے تو انہوں نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ایک بیٹی آپ کے نکاح میں دے دوں مگر شرط یہ ہے کہ آٹھ برس ہمارا کام کریں گے۔ مہر اور خدمت : یہاں سول پیدا ہوتا ہے کہ کہ کیا بیوی کی خدمت اس کا مہر ہوسکتی ہے تو فقہا کے نزدیک اس کی ذاتی خدمت نہیں مگر ہاں اس کا کام ہو جیسے تجارتی منصوبہ یا کوئی اور کام فارم مواشی وغیرہ تو وہ کام کرنا اور اس کی اجرت مہر میں منتقل کردینا جائز ہے یا پھر جیسے یہاں سب کی خدمت تھی تو والد کا کام اس شرط پر کہ تنخواہ بیٹی کو مہر میں دے جائز ہے پھر یہ بیٹی کا حق ہے کہ وہ چاہے تو والد کو معاف کردے لہذا آپ نے فرمایا کہ آٹھ سال یہاں رہ کر ہماری خدمت کرو اور اگر دس سال کرو تو یہ تمہارا احسان ہوگا بہرحال دونوں میں سے جو مدت بھی آپ پوری کردیں درست ہے کہ میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتا نہ میعاد بڑھا کر اور نہ کوئی ایسا کام کرنے کا حکم دوں گا جو آپ نہ کرسکیں۔ اور ساتھ رہ کر آپ مجھے اللہ کا نیک بندہ پائیں گے کہ کسی کی بھلائی کا احساس و ثبوت اس کے کردار سے ملتا ہے۔ انہوں نے قبول کرلیا کہ دونوں میں سے جو عرصہ بھی پورا کردوں درست ہوگا ہمارے اس معاہدے پر اللہ کریم کو گواہ کرتے ہیں۔ بیٹی کا نکاح : یہاں اس بات کا اظہار ہے کہ بیٹی کا نکاح اس کا ولی کرے تو مناسب ہے مگر اس کی اجازت سے لیکن ار کوئی خاتون مرضی سے شرعی طریقے سے نکاح کرلے تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔