28. Surah Al-Qasas
القصصThe Stories · 88 ayahsاسرار التنزیل
طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader
طٰسٓم ٓ
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader
یہ روشن کتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں
نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader
ہم آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا کچھ قصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر (نازل فرما کر) سناتے ہیں ان لوگوں کے (فائدے کے) لئے جو ایمان رکھتے ہیں
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader
بیشک فرعون ملک (مصر) میں بہت بڑھ چڑھ کر گیا تھا اور وہاں کے رہنے والوں کو گروہ گروہ کررکھا تھا ان میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کیا کرتا تھا اور ان کی عورتوں (بیٹیوں) کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بیشک وہ بڑا فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader
اور ہم کو یہ منظور ہوا کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیئے گئے ہیں ہم ان پر احسان فرمائیں اور ہم ان کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث بنادیں
وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader
اور ان کو زمین میں حکومت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو ان سے وہ (چیز) دکھا دیں جس سے وہ ڈرا کرتے تھے
وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام فرمایا کہ انہیں دودھ پلائیں تو جب ان کے بارے اندیشہ ہو (کہ جاسوسوں کو خبر ہوگئی) تو ان کو دریا میں ڈال دیں اور نہ کوئی اندیشہ کریں اور نہ غم یقینا ہم ان کو آپ کے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) انہیں پیغمبر بنادیں گے
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader
تو فرعون کے لوگوں نے ان کو اٹھا لیا تاکہ وہ ان کے لئے دشمن اور موجب غم ہوں بیشک فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر (اس سارہ میں) بہت غلطی پر تھے
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader
اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا (یہ بچہ) میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اس کو قتل نہ کرو ہوسکتا ہے کہ (بڑا ہو کر) ہم کو کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنالیں اور وہ (انجام سے) واقف نہ تھے
وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader
اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بےقرار ہوگیا۔ قریب تھا کہ وہ اس (واقعہ) کو ظاہر کردیتیں اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کیے رکھتے غرض یہ تھی کہ وہ (ہمارے وعدے پر) یقین رکھیں
وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader
اور انہوں (والدہ) نے ان (موسیٰ علیہ السلام) کی بہن سے کہا کہ ذرا اس کا سرغ تو لگا تو وہ انہیں دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو خبر تک نہ تھی
وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader
اور ہم نے پہلے ہی ان پر دودھ پلانے والیوں کی بندش کررکھی تھی تو وہ کہنے لگی کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتا بتادوں جو تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش کریں اور وہ دل سے اس (بچہ) کی خیرخواہی کریں
فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader
سو ہم نے ان کو ان کی والدہ کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور تاکہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے و لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے
وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے اور (قوت جسمانیہ اور عقلیہ سے) درست ہوگئے (تو) ہم نے ان کو حکمت اور علم (نبوت) عطا فرمائے اور ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی حوصلہ دیا کرتے ہیں
وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader
اور وہ ایسے وقت میں شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے رہنے والے بیخبر ہو رہے تھے تو انہوں نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے پایا۔ ایک ان کے گروہ کا تھا اور دوسرا ان کے مخالفین میں سے تھا تو جو ان کے گروہ میں سے تھا اس نے ان کے مخالف گروہ والے کے خلاف ان سے مدد چاہی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا گھونسا مارا سو اس کا کام تمام کردیا۔ فرمانے لگے یہ تو شیطانی حرکت ہوگئی۔ بیشک وہ (ظاہر باہر انسان کو) گمراہ کرنے والا ، کھلا دشمن ہے
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader
انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! بیشک مجھ سے قصور ہوگیا ہے تو آپ مجھے معاف فرمادیجئے سو اس (اللہ) نے انہیں معاف فرمادیا۔ بیشک وہ بڑے بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader
انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! جیسا کہ آپ نے مجھ پر (بہت بڑا) انعام فرمایا ہے سو میں کبھی مجرموں کے لئے مددگار نہ بنوں گا
فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader
الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے وحشت کے عالم میں داخل ہوئے تو اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی پھر ان کو پکار رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا بیشک تو صریح گمراہ ہے
فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader
پس جب انہوں نے ارادہ فرمایا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑیں تو وہ (جوان کے گروہ کا آدمی تھا) کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جس طرح آپ نے کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا آپ چاہتے ہیں کہ مجھے بھی قتل کردیں (معلوم ہوتا ہے) کہ آپ دنیا میں اپنا زور بٹھانا چاہتے ہیں اور آپ نہیں چاہتے کہ آپ اصلاح کرنے والوں میں سے ہوں
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader
اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے (جہاں مشورہ ہورہا تھا) دوڑتا ہوا آیا (اور) کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک اہل دربار آپ کے بارے مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں تو آپ (یہاں سے) نکل جائیے یقینا میں آپ کی خیر خواہی کررہا ہوں
فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader
پس وہ وہاں سے (کسی طرف) نکل گئے خوف اور وحشت کے عالم میں (اور) دعا کی اے میرے پروردگار ! مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائیے
وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader
اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو فرمانے لگے امید ہے میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ بتائے گا
وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader
اور جب مدین کے پانی (کنویں) پر پہنچے تو وہاں دیکھا کہ بہت سے لوگ (اپنے ریوڑوں کو) پانی پلا رہے ہیں۔ اور ان کے ایک طرف دو عورتیں (بچیاں) (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں۔ انہوں نے فرمایا تمہیں کیا کام ہے ؟ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے ریوڑوں کو پانی پلا کر) لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلاسکتیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں
فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader
تو انہوں نے ان کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے تو دعا فرمائی اے میرے پروردگار ! آپ مجھ پر جو اپنی نعمت نازل فرمائیں میں اس کا (سخت) محتاج ہوں
فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader
پس ان کے پاس (تھوڑی دیر میں) ان میں سے ایک بچی لجاتی شرماتی چلی آتی تھی کہنے لگی میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس کا صلہ دیں جو آت نے ہماری خاطر (بکریوں کو) پانی پلایا تھا۔ پھر جب ان کے پاس پہنچے اور ان سے تمام حال کہہ سنایا تو انہوں نے فرمایا کہ کچھ خوف نہ کریں آپ ظالم لوگوں سے بچ آئے ہیں
قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader
ان دونوں (بچیوں) میں سے ایک نے کہا اباجان ! ان کو ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے کہ توانا (اور) امانت دار ہو
قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader
وہ (بزرگ) فرمانے لگے کہ بیشک میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں (لڑکیوں) میں سے ایک کا آپ کے ساتھ نکاح کردوں اس شرط پر کہ آپ آٹھ سال میری ملازمت کریں گے پھر اگر دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے (احسان) ہوگا اور میں آپ پر مشقت نہیں ڈالنا چاہتا۔ (اور) آپ مجھے ان شاء اللہ نیکوکاروں میں پائیں گے
قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader
انہوں نے فرمایا یہ بات میرے اور آپ کے درمیان (پکی) ہوچکی ان دونوں مدتوں میں سے جس (مدت) کو بھی پورا کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ اور ہم جو بات (طے) کر رہے ہیں اللہ اس پر گواہ ہیں