28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 28:29–42

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

غرض جب موسیٰ (علیہ السلام) اس مدت کو پورا کرچکے اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے (بااجازت شعیب علیہ السلام) تو (کوہ) طور کی طرف سے آگ دکھائی دی۔ اپنے گھر والوں سے فرمانے لگے تم (یہاں) ٹھہرو مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے تمہارے پاس (راستے کا) کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم تاپو

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب اس کے پاس پہنچے تو ان کو میدان کی داہنی جانب سے اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک میں اللہ ، پروردگار عالمین ہوں

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنا عصا ڈال دیں۔ جب انہوں نے اس کو حرکت کرتے دیکھا گویا کہ وہ (بہت بڑا) سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور پیچھے مٹر کر بھی نہ دیکھا (ہم نے فرمایا) اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آگے بڑھیں اور ڈریں نہیں بیشک آپ (ہر طرح سے) امن میں ہیں

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر ڈالیں وہ بغیر کسی عیب کے سفید ہو کر نکلے گا اور خوف (دور کرنے) کے لئے اپنے بازو کو پھر اپنے ساتھ (حسب سابق) لگا لیں پس یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے دو دلیلیں ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے اہل دربار کے پاس (جائیں) بیشک وہ نافرمان لوگ ہیں

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار ! بیشک میں نے ان میں سے ایک آدمی کا خون کردیا تھا پس مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے (تبلیغ سے پہلے ہی) قتل نہ کردیں

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) جن کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے تو ان کو میرا معاون بنا کر میرے ساتھ بھیجئے کہ میری تصدیق کریں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

ارشاد ہوا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے پھر وہ آپ تک نہ پہنچ سکیں گے (پس) ہمارے معجزے لے کر جائیں۔ آپ دونوں اور جو آپ کے پیروہوں گے غالب رہیں گے

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس ہماری واضح دلیلیں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے یہ کیا ہے صرف ایک جادو ہے جو انہوں نے جوڑ کھڑا کیا ہے اور ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں (کے زمانے) میں ایسی بات کبھی نہیں سنی

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو صحیح دین اس (اللہ) کے پاس سے لے کر آیا ہے اور جس کے لئے آخرت کا گھر (بہشت) ہے بیشک ظالم کبھی کامیابی نہ پائیں گے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور (یہ سب دیکھ کر) کر فرعون کہنے لگا اے اہل دربار ! میں تو تمہارے لئے اپنے علاوہ کوئی معبود نہیں جانتا سو اے ہامان ! تم ہمارے لئے مٹی (کی اینٹیں بنوا کر ان) کو آگ لگوادو (پکاؤ) پھر میرے لئے ایک بلند عمارت بنوادو تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میں تو اس کو جھوٹوں میں سے گمان کرتا ہوں

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق مغرور ہو رہے تھے اور ان کا گمان تھا کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑا پھر ان کو دریا میں ڈال دیا سو دیکھ لیں ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بدحال لوگوں میں سے ہوں گے

آیات 29 تا 46 اسرارومعارف چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر تاپ سکیں گے۔ جس جگہ کوئی مبارک کام ہو یا اللہ کا بارک بندہ مقیم ہو وہ جگہ بھی مبارک ہوتی ہے : جب آگ لینے کے لیے پہنچے تو وادی کہ اس کنارے سے جہاں پورا تختہ ہی روشن ہورہا تھا اور برکات سے بھرا ہوا تھا کہ جہاں کوئی مبارک کام ہو یا مبارک ہستی مقیم ہو وہ جگہ بھی برکات کی حامل ہوتی ہے۔ چناچہ اسی تختہ میں سے ایک درخت سے جو سارے کا سارا روشن ہورہا تھا آواز آرہی تھی کہ اے موسیٰ میں اللہ ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہوں۔ وادی میں ذات باری جلوہ افروز تھی کیا ؟ : یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وہ روشنی جلوہ ذات باری تھا بلکہ وہ نور تو تجلی صفاتی کا کا تھا کہ کلام باری خود صفت باری ہے ارشاد یہ ہورہا تھا کہ یہ کلام جو آپ سن رہے ہیں اور جس کے انوارات سے وادی بقعہ نور بنی ہوئی ہے کرنے والا میں اللہ ہوں۔ اور حکم ہوا کہ اپنے عصا کو ڈال دیجیے آپ نے پھینکا تو وہ اژدہا بن کر پھنکارنے لگا تو موسیٰ (علیہ السلام) خوفزدہ ہو کر پیچھے کو بھاگے کہ بہت بڑا اژدھا تھا آپ نے جان بچانا چاہی اور پیچھے دیکھا تک نہیں کہ دوبارہ آواز آئی کہ موسیٰ ڈریں نہیں واپس آئیں اور آگے بڑھیں۔ آپ تو اللہ کی طرف سے امن دیے گئے ہیں یہ آپ کا معجزہ ہے آپ کی مدد اور نبوت کا ثبوت ہے اسے ہاتھ میں لیجیے عصا بن جائے گا۔ اب اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالیے جب نکالیں گے تو بہت روشن ہوگا اور گھبرنے کی کوئی بات نہیں جب دوبارہ گریبان میں ڈالیں گے تو درست ہوجائے گا۔ دوسرے معجزات کے ساتھ یہ دو عظیم معجزات آپ کی نبوت کی دلیل ہیں آپ فرعون اور اس کے امراء سے بات کیجیے انہیں راہ راست کی طرف بلائیے کہ وہ بہت سخت نافرمان ہیں۔ آپ نے عرض کیا بارالہا مجھ سے تو ان کا ایک قبطی مارا گیا تھا خطرہ یہ ہے کہ بات سننے سے پہلے ہی وہ میرے قتل کا حکم صادر کردے پھر اگر بات ہو اور سوال جواب کرنے پڑیں تو میری زبان میں لکنت ہے جن کہ میرے بھائی ہارون بڑے فصیح ہیں اور خوب کلام کرسکتے ہیں انہیں آپ میرے سات کردیجیے کہ وہ میری قوت بھی ہوں گے اور میری تصدیق بھی کریں گے فرعونیوں سے تو مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے تو کوئی ایسا بھی ہو جو ان کے روبرو تصدیق بھی کرے۔ ارشاد ہوا تمہارے بھائی کو تمہاری قوت بازو بنا دیں گے یعنی انہیں بھی نبوت سے سرفراز کر کے ساتھ کردیا اور تمہیں وہ رعب عطا کریں گے کہ فرعونی ہاتھ ڈالنے کی جرات ہی نہ کرسکیں گے نیز آپ معجزات لے کر جائیں یہ بات طے ہے کہ آپ اور آپ کے اطاعت شعار ہی فاتح اور غالب ہوں گے موسیٰ (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ نوید فتح لے کر فرعون کی طرف روانہ ہوئے۔ اور جب فرعون کے دربار میں پہنچے دعوت دی اور معجزات کا اظہار فرمایا تو اہل دربار کہنے لگے یہ سب جادو کا کھیل نظر آتا ہے اور ساری بات ایک تراشیدہ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آج تک ہمارے باپ دادا نے کسی نبی یا دین کا نام تک نہیں سنا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حق اور باطل کا فیصلہ تو پروردگار ہی کے پاس ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ اس کی بارگاہ سے ہدایت کا پیغام کون لایا ہے اور انجام کار کس کو فتح اور آخرت کی کامرانی نصیب ہوگی لیکن یہ ظاہر ہے کہ ظلم کبھی کامیاب نہ ہوگا اور نہ ہی اللہ ظالموں کا بھلا کرے گا اور تم لوگ ظالم ہو لہذا تمہارا انجام واضح ہے۔ فرعون کہنے لگا کہ اے ہامان میں نہیں سمجھتا کہ میرے علاوہ کوئی دوسری ایسی ہستی ہے جس کی پوجا اور اطاعت کی جائے اگر کوئی آسمانوں پہ ہے تو پھر مٹی کو آگ میں پکا کر اس سے ایک بہت بڑی اور بلند وبالا عمارت بناؤ کہ اس سے جھانک کر آسمانوں تک میں دیکھا جاسکے کہ کہیں موسیٰ کا معبود بھی ہے حالانکہ میں یہ جانتا ہوں کہ وہ غلط کہ رہا ہے۔ فرعون کے حکم سے ہامان نے اینٹ ایجاد کی : یعنی اول اینٹ جو تیار کی گئی وہ ہامان نے ایجاد کی۔ اور ایک بلند وبالا عمارت کھڑی کی گئی اور فرعون کو حسرت ہی رہی فرعون کو اپنے لشکروں پہ اور طاقت پہ بڑا گھمنڈ تھا اس نے تکبر کی راہ اختیار کی اور اس کے لشکر بھی زمین پر ناحق اکڑتے پھرتے تھا جیسے انہوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ انہیں پلٹ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہونا۔ چنانچہ اللہ کی گرفت میں پکڑے گئے فرعون بھی اور اس کے لاؤ لشکر بھی اور پانی میں غرق کر کے تباہ کردیے گئے اے مخاطب طلم کرنے والوں کا انجام دیکھ لے کہ برائی کرتے کرتے وہ جہنم کی طرف بلانے والے داعی اور امام بن گئے۔ لفظ امام : لفظ امام کوئی شرعی منصب نہیں یہ پہلے بھی گزر چکا یہ محض قیادت اور لیڈر شپ کے معنوں میں کتاب میں استعمال ہوا نیک لوگوں کا رہنما بھی امام کہ لایا اور کفار و بدکار کا راہنما یا لیڈر بھی لہذا شیعہ کا منصب امامت محض ایک گھڑی ہوئی بات ہے ہ شرعی منصب ہی نہیں اور فرعونی ایسے امام بنے جو دوزخ کی طرف دعوت دیتے تھے اور روز حشر جن کی مدد کو بھی کوئی نہیں ہوگا یعنی شفاعت سے بھی محروم ہوں گے اور ان کے اعمال بد کے نتیجے میں اس دنیا میں بھی ان پر لعنت مسلط کردی گئی کہ وہ نہ رہیں تو بھی انہیں پھٹکار پڑتی رہے اور روز حشر ان کا بہت برا حال ہوگا۔ ہر برائی بجائے خود آگ ہے : یہاں ثابت ہے کہ ہر برا عمل بجائے خود ایک آگ ہے اور آخرت میں جس طرح نیکی گل و گلزار بن جائے گی ویسے ہی برائی انگاروں کی صورت اختیار کرلے گی۔
Ayahs 28:43–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اگلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد کتاب (تورات) عطا فرمائی جو لوگوں کے لئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ (اس سے) نصیحت حاصل کریں

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور آپ (طور کی) مغرب کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے اور نہ آپ (اس واقعہ کے) دیکھنے والوں میں سے تھے

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

و لیکن ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد) کئی امتوں کو پیدا فرمایا پھر ان پر طویل مدت گزر گئی اور نہ ہی آپ مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ آپ اس وقت جب ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کو) آواز دی طور کے کنارے تھے لیکن (آپ کا بھیجا جانا) آپ کے پروردگار کی رحمت سے ہے تاکہ ایسے لوگوں کو (انجام بد سے) ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانیوالا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور ایسا نہ ہو کہ جو اعمال ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت پڑے (دنیا یا آخرت میں) تو کہنے لگیں کہ اے ہمارے پروردگار ! آپ نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم آپ کے احکام (آیات) کی پیروی کرتے اور ایمان لانیوالوں میں ہوتے

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پس جب ہمارے پاس سے ان کے پاس حق پہنچا تو کہنے لگے جیسے (معجزات) موسیٰ (علیہ السلام) کو ملے تھے ان کو کیوں نہیں ملے۔ کیا جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کو ملا (یعنی کتاب) کیا پہلے یہ اس کے منکر نہیں ہوئے کہتے تھے کہ دونوں ایک دوسرے جیسے جادو ہیں اور کہتے تھے یقینا ہم سب کا انکار کرتے ہیں

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

آپ فرمائیے (اچھا) تو تم کوئی کتاب اللہ کے پاس لے آؤ جو ہدایت کرنے میں ان دونوں (تورات اور قرآن) سے بہتر ہو میں اس کی پیروی کرلوں گا اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ آپ کا فرمانا نہ مانیں تو آپ سمجھ لیجئے کہ یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشات پہ چلتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اپنی نفسانی خواہشات پہ چلتا ہو بغیر اس کے کہ اللہ کی طرف سے (اس کے پاس) کوئی دلیل ہو۔ بیشک اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرمایا کرتے

آیات 43 تا 50 اسرار ومعارف اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے علوم سے مٹ گئیں اور نہ ہی آپ اہل مدین کے زمانے میں وہاں تھے کہ آپ یہ واقعات پوری صحت کے ساتھ بیان فرماتے۔ یہ تو ہمارا کرم ہے کہ سلسلہ نبوت کو جاری رکھا اور ہدایت کے لیے انبیاء بھیجتے رہے اور اب آپ مبعوث ہوئے اور یہ حقائق بذریعہ وحی آپ تک پہنچے۔ آپ تو طور پر موجود نہ تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہمکلامی نصیب ہوا آپ پر تو یہ سارے حقائق اللہ کی رحمت سے بذریعہ وحی نازل ہوئے تاکہ ان لوگوں کے پاس آپ مبعوث ہوں جن کے پاس عرصہ دراز سے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا اور یہ زمانہ اور اہل زمانہ حقائق سے دور اور ہدایت سے محروم ہوچکے ہیں تو آپ کے ارشادات سے نصیحت حاصل کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اپنے کرتوتوں کے باعث تباہ ہونے لگیں تو کہنے لگیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے ہمارے پاس بھی تو رسول بھیجا ہوتا تاکہ ہم آپ کی آیات پر عمل پیرا ہوتے اور ایمان والے بندوں میں شامل ہوسکتے۔ مگر اب جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق پہنچا تو ایک نیا نقطہ نکال لائے کہ قرآن ویسے یکبارگی کیوں نہ عطا ہوا جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ہی بار تورات عطا ہوئی تھی تو کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا ہوئی تھی تو لوگوں نے مان لی تھی اور کفر نہ کیا تھا بلکہ اب قرآن کو بھی سن کر کفار کہتے ہیں وہ بھی اور یہ بھی جادو بھری باتیں ہیں اور ہم ان سب باتوں کے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ آپ ان سے کہیے کہ غرض تو حق کا اتباع کرنے سے ہے اگر بالفرض قرآن حق نہیں ہے تو حق کیا ہے تم پیش کردو کوئی ایسی کتاب لاؤ جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہو اور ان دونوں سے بہتر رہنمائی کرتی ہو تو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو ایسا کر دکھاؤ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر یہ اللی کی کتاب ہدایت اپنی حقانیت کے ثبوت کے ساتھ موجود ہے تم مان لو۔ اس پر بھی آپ کی بات نہ مانیں تو جا لیجیے کہ یہ لوگ نہ ہدایت پر چلتے ہیں اور نہ ہدایت کے طالب ہیں بلکہ محض اپنی خواہشات نفس کے غلام ہیں اور جو کوئی بھی اللہ کی ہدایت کے بغیر محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا اور یہ پکی بات ہے کہ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نصیب نہیں فرماتے۔
Ayahs 28:51–60

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے اس (قرآن) بات کو ان کے پاس یکے بعد دیگرے بھیجا تاکہ یہ نصیحت حاصل کریں

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس (قرآن) سے پہلے (آسمانی) کتابیں دی ہیں وہ اس (قرآن) پر ایمان لے آتے ہیں

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب (قرآن) ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے (جو) ہمارے پروردگار کی طرف سے (نازل ہوا ہے) یقینا ہم تو اس (کے آنے) سے پہلے بھی مانتے تھے

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ان لوگوں کو ان کے صبر کی وجہ سے دگنا ثواب ملے گا اور وہ نیکی سے برائی کا دفاع کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب (کسی سے اپنی نسبت) کوئی بےہودہ بات سنتے ہیں تو اس کو ٹال جاتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں تم کو سلام ہو ، ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

بیشک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں فرماسکتے و لیکن اللہ جس کو چاہیں ہدایت فرمادیتے ہیں اور وہ ہدایت پانے والوں سے خوب واقف ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر (اس) ہدایت (دین) کی پیروی کرنے لگیں تو (فوراً ) اپنے ملک سے اچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے ان کو امن والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس (ہماری قدرت) سے کھانے کو ملتے ہیں و لیکن ان کے اکثر لوگ (اس کو) نہیں جانتے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم بہت سی ایسی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جو اپنے سامان عیش پر نازاں تھیں سو یہ ان کے گھر (تمہارے سامنے ہیں) جو ان کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم۔ اور (ان کے بعد) ہم ہی ان کے وارث ہوئے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کے مرکزی شہر میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج دے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے۔ اور ہم ان بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے یہاں تک کہ ان کے باشندے ظلم نہ کرنے لگیں

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیز تم کو دی گئی ہے سو وہ محض دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے۔ اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ تو کیا تم لوگ سمجھتے نہیں ؟

آیات 51 تا 60 اسرارو معارف اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور ہم تو اس کے نازل ہونے اور آپ کی بعثت سے پہلے ہی اپنی کتابوں میں پیش گوئیاں پڑھ کر یہ خقیقت تسلیم کیے بیٹھے تھے اب جب آپ کی بعثت کی سعادت سے مشرف ہونے کا موقع نصیب ہوگا تو بھلا کیسے نہ مانیں گے ۔ دوہرا اجر : اور یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کو دوہرا اجر عطا فرمایا جائے گا کہ انہوں نے ایمان پر استقامت دکھائی اور اپنی کتابوں سے پیشگوئی پڑھ کر بھی ایمان لائے اور پھر جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو تو بھی ایمان پر قائم رہے یہ وعدہ اور لوگوں سے بھی ہے جیسے ازواج مطہرات سے کہ بحثیت نبی آپ ﷺ کی اطاعت کی اور بحثیت خاوند بھی آپ ﷺ کی خدمت کی۔ اسی طرح بعض دوسرے لوگوں کے حق میں بھی اس انعام کا وعدہ ہے گویا جو عمل بھی وہ کریں گے وہ دوبارہ لکھا جائے گا ورنہ ہر عمل پر اجر کئی گنا عطا ہونا تو ویسے بھی اللہ کی رحمت سے ہوگا مگر ایسے حضرات کا ہر عمل دو بار شمار ہو کر کئی گناہ اضافہ پائے گا ۔ استقامت علی الایمان سے توفیق عمل نصیب ہوتی ہے : اور اس استقامت علی الایمان کے سبب انہیں ایسی توفیق نصیب ہے کہ برائی کے جواب میں بھی بھلائی کرتے ہیں اور برے اعمال کی جہ نیک اعمال کو رواج دیتے ہیں اور بجائے دولت کی محبت میں گرفتار ہونے کے مال و دولت کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اگر ایمان پہ استقامت نصیب ہو تو یہ توفیق عمل نصیب ہوتی ہے ورنہ بندہ برائی میں پھنس جاتا ہے اور دولت کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اور انہیں یہ توفیق نصیب ہے کہ کہ جب ان کفار کی خرافات اور اعتراضات سنتے ہیں تو پرواہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں میاں تم جو چاہو کرو اس کا بدلہ تمہیں کو ملے گا اور اپنے اعمال کا بدلہ ہم پائیں گے۔ ہم آپ سے معذرت چاہتے اور ایسی جاہلانہ گفتگو میں پڑنا نہیں چاہتے یعنی کافروں کے اعتراضات سے متاثر ہونا اور فضول بحث میں پڑنا بجائے خود بری بات ہے جس سے اللہ انہیں بچاتا ہے۔ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ آپ کا کام ہدایت پہنچانا تو ہے مگر ہدایت پر چلانا آپ کا کام نہیں کہ آپ تو چاہتے ہیں سب کفار اسلام قبول کرلیں مگر ایسا نہیں ہوسکتا یہ تو اللہ کی پسند ہے کہ وہ کسے ہدایت بخشتا ہے اور اس نے بتا دیا ہے کہ جس کے دل میں آپ کے ارشادات سن کر ہدایت کی طلب پیدا ہوگی اسے ضرور ہدایت بخشے گا ورنہ نہیں تو وہ ہدایت کے طلب گاروں سے بہت اچھی طرح واقف ہے۔ ابوطالب کے بارہ میں : مفسرین کرام کے مطابق یہ آیت ابو طالب کے بارہ میں نازل ہوئی کہ آپ ﷺ کی بہت خواہش تھی انہیں ایمان نصیب ہو مگر خود وہ آمادہ نہ ہوئے۔ صاھب روح المعانی نے اس موضوع پر بحث سے منع فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کو طبعی طور پر دکھ پہنچنے کا احتمال ہے۔ دنیا کے نقصان کا خوف بھی ایمان لانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے : ان کفار کے دلوں میں تو دنیا کی محبت ایسے سمائی ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کی بات مان لیں اگرچہ بات تو آپ کی حق ہے مگر ہمیں کفار سخت نقصان پہنچائیں گے اور گھروں تک سے نکال دیں گے یہی حال آج کے مسلمان کہ نماز روزہ تو کرتا ہے مگر عملی زندگی میں مغرب کی کافرانہ اداؤں کا اثر ہے کہ کہیں امریکہ ناراض نہ ہوجائے اور یہ اعتراض اہل مکہ کو تو زیب ہی نہیں دیتا کہ ان کے لیے اللہ نے حرم کو جائے امن بنا دیا ہے جہاں کوئی کسی پر زیادتی نہیں کرتا اور روئے زمین سے ہر قسم کے میوہ جات یہاں کھنچے چلے آتے ہیں حتی کہ سارا سال سارے موسموں کے اور ساری دنیا کہ پھل دستیاب ہوتے ہیں اور کبھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہ ہمارا بہت بڑا احسان ہے مگر لوگ اس کا شعور ہی نہیں رکھتے۔ پھر دولت دنیا کا بھروسہ کیا ہے کتنے لوگ تھے جو بڑے ٹھاٹھ سے رہا کرتے تھے لیکن جب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کا انکار کیا تو اب یہ ان کے گھر ویران پڑے ہیں کہ اس کے بعد وہ زیادہ دیر تک نہ رہ سکے۔ اس لیے کہ یہ دنیا اور اس کی دولت کے مالک اور وارث ہم ہیں جب تک چاہیں دیں اور جب چاہیں واپس لے لیں۔ اور آپ کا پروردگار ایسا کریم ہے کہ جب تک کسی جگی کے باسی ظلم میں ایک خاص حد تک نہ چلے جائیں درگزر فرماتا ہے اور مہلت دیتا ہے لیکن اگر باز نہ آئیں تو ہلاک کردیے جاتے ہیں لہذا جس مال و دولت اور گھر گھاٹ کو یہ بچانا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ایمان لونے سے مالی نقصان نہ ہو وہ محض چند روزہ دنیا کی زندگی کے لیے ان کے پاس ہے مگر ایمان لے آتے تو اس کا اجر جو اللہ کے پاس ہے اس سے بہت بہتر بھی ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے بھی کیا ان میں اتنی عقل بھی نہیں۔