28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 28:61–75

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کررکھا ہے پس وہ اس (وعدہ کی چیز) کو پانے والا ہے ، اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے محض دنیا کی زندگی کا (چند روزہ) فائدہ دے رکھا ہے ؟ پھر وہ ان لوگوں میں ہوگا جو قیامت کے دن (بطور مجرم ہمارے سامنے) پیش کئے جائیں گے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس روز (اللہ) ان کو پکار کر فرمائیں گے میرے دو شریک کہاں ہیں جن کو تم (ہمارا شریک) سمجھ رہے تھے

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

تو جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ہم نے ان کو ویسا ہی گمراہ کیا تھا جیسا ہم خود گمراہ تھے ہم آپ کی طرف متوجہ ہو کر ان سے بیزار ہوتے ہیں (اور) یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور ارشاد ہوگا اپنے شریکوں کو بلاؤ چناچہ وہ ان کو پکاریں گے تو وہ ان کے جواب بھی نہ دیں گے اور (اس وقت) یہ لوگ عذاب (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیں گے اے کاش ! (دنیا میں) یہ لوگ راہ راست پر ہوتے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن ان (کافروں) سے پکار کر پوچھیں گے تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا تھا ؟

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

تو وہ اس روز تمام مضامین سے اندھے ہوجائیں گے پھر وہ آپس میں بھی پوچھ نہ سکیں گے

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

پس جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے تو امید ہے کہ وہ (آخرت میں) فلاح پانے والوں میں ہوں گے

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار جس چیز کو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ فرمالیتا ہے۔ ان (لوگوں) کو اس کا اختیار نہیں۔ یہ جو شرک کرتے ہیں اللہ اس سے پاک اور بلند تر ہے

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار سب چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لئے سب خوبیاں دنیا اور آخرت میں اور اسی کی حکومت ہے اور تم سب اسی کے پاس لوٹ جاؤ گے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

ان سے کہیے کہ دیکھو اگر اللہ تم پر ہمیشہ قیامت تک رات ہی رہنے دیتے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لادے۔ تو کیا تم (دلائل کو) سنتے نہیں ؟

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ بتاؤ بھلا اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ تم پر دن ہی رہنے دیں تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لئے رات کو لے آئے جس میں تم آرام کرسکو پھر کیا تم (شاید قدرت کو) دیکھتے نہیں

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم اس (رات) میں آرام کرو اور (دن میں) اس (اللہ) کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن (اللہ) ان کو پکار کر فرمائیں گے کہ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے ؟

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ نکال کر لائیں گے پھر فرمائیں گے اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ حق بات اللہ کی ہے اور جو کچھ وہ گھڑا کرتے تھے وہ ان سے جاتا رہے گا

آیات 61 تا 75 اسرارو معارف اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی جبر نہیں کیا حتی کہ شیطان بھی لوگوں سے کہے گا مجھے تم پر کوئی اختیار نہ تھا تم نے اللہ کی بات قبول نہ کی اور میرے جھوٹ کو مان لیا جیسا کہ یہ دوسری جگہ مرکوز ہے۔ چناچہ وہ سب کہیں گے کہ اے اللہ ہم ان سے برات کا اظہار کرتے ہیں یعنی ہمیں ان کا شریک جرم نہ بنایا جائے کہ یہ ہماری پرستش نہ کرتے تھے بلکہ اپنی خواہش نفس کے غلام تھے۔ پھر انہیں حکم ہوگا کہ پکارو اپنے معبودان باطلہ کو اور پکاریں گے مگر انہیں کوئی جواب تک نہ ملے گا اور جہنم کا (علیہ السلام) ذاب سامنے دیکھ رہے ہوں گے کیا ہی اچھا ہوتا کہ انہوں نے ہدایت قبول کرلی ہوتی۔ پھر اعلان کیا جائے گا کہ اب سوچو کہ تم نے اللہ کے فرستادہ نبیوں اور رسولوں کو کی اجواب دیا تھا لیکن عذاب ان کی یادداشتیں تک کھو دے گا آپس میں بھی ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ نہ سکیں گے ہاں مگر جو اب توبہ کرلے ۔ توبہ کیا ہے : اور توبہ یہ ہے کہ عقائد درست کرے اور عقائد کے مطابق نیک اعمال بجا لائے سو ایسے لوگوں کے کامیاب ہونے کی امید کی جاتی ہے۔ تیرا پروردگار جس چیز کو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور اپنی مخلوق سے جسے چاہے پسند کرلے یہ پسند و ناپسند ان کے اختیار میں نہیں بلکہ ان کے مشرکانہ عقائد سے اللہ کریم بہت بلند ہے اور اس نے فیصلہ کردیا کہ جس کے دل میں جتنی انابت اور جس قدر خلوص ہوگا اللہ اسے اتنا پسند فرمائے گا۔ فضیلت کا معیار : علما کے نذدیک معیار فضیلت دو چیزیں ہیں ایک اختیاری اور ایک غیر اختیاری۔ غیر اختیاری یہ ہے کہ زمانوں پہ ایک خاص زمانے کو یا زمین پر ایک خاص جگہ کو جیسے بیت اللہ شریف یا دنوں پر جمعہ کے روز کو رمضان کو مہینوں پر یا لیلۃ القدر کو راتوں پر اور دوسری اختیاری جیسے انبیاء کے علاوہ انسانوں کو ان کے خلوص اور کردار پر یا جس جگہ نیک کام کے لیے جائیں ان کے باعث اس جگہ کو دوسرے مقامات پر ایسے ہی عالم کو پھر تابعی اور پھر صحابہ کو اور ان میں بااتفاق علماء حق سب میں خلفائے راشدین کو اور ان سب پر ابوبکر صدیق ؓ کو پھر حضرت عمر ؓ حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کو۔ یہخیال کرو کہ اگر تم لوگوں پہ ہمیشہ کے لیے رات ہی طاری کردی جاتی تو کتنی نعمتوں سے تمہاری حیات محروم ہوجاتی۔ بھلا کسی میں ہمت ہے کہ رب جلیل کے علاوہ تمہیں روشنی مہیا کرتا اور دن پیدا کردیتا پھر تمہیں کیا ایسی باتیں سنائی ہی نہیں دیتیں اور اگر اللہ ہمیشہ کے لیے دن کردیتے سورج کبھی غروب ہی نہ ہوتا قیامت تک دن ہی دن چلا جاتا تو کوئی ایسا معبود اللہ کے بغیر تھا جو تمہیں رات کے آرام مہیا کرتا اور رات کا سکون واپس لا دیتا۔ کیا یہ حقائق تمہاری نظر میں نہیں آتے ۔ یہ تو اس کا کرم ہے کہ کاروبار حیات کے لیے دن بخشا اور سکون و آرام کے لیے رات عطا فرما دی اور اتنے انعامات اس لیے بخشے کہ تم اس کا شکر ادا کرو۔ وہ دن آنے والا ہے جب اعلان ہوگا کہ لوگو ! کہاں ہیں تمہارے معبودان باطلہ جن کو تم اللہ کے برابر سمجھ بیٹھے تھے۔ اور ہر امت سے ان پر گواہ بھی لائیں گے یعنی ہر امت کا نبی جو تم تک حق کے پہنچنے کی گواہی دے گا اور ارشاد ہوگا کہ اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو تب انہیں معلوم ہوگا اللہ کی بات ہی حق ہے اور جو کچھ انہوں نے زندگی بھر خرافات جمع کی تھیں ان کا کوئی پتہ ہی نہ مل سکے گا۔
Ayahs 28:76–82

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

بیشک قارون ، موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا پھر وہ ان پر سرکشی کرنے لگا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اتراؤ مت ، بیشک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتے

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو (مال) اللہ نے تم کو عطا فرمایا ہے اس میں آخرت کے گھر (کی بھلائی) کی جستجو کرو اور اپنا حصہ دنیا سے (آخرت میں لے جانا) مت بھولو اور جس طرح اللہ نے تم پر احسان فرمایا ہے تم بھی (بندوں کے ساتھ) احسان کرو اور دنیا میں فساد کے خواہاں مت ہو۔ بیشک اللہ فسادیوں کو پسند نہیں فرماتے

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

کہنے لگا بیشک مجھ کو سب کچھ میری ذاتی ہنر مندی سے ملا ہے کیا اس نے یہ نہ جانا کہ اللہ نے یقینا اس سے پہلے ، امتوں میں ایسے ایسوں کو ہلاک کردیا جو قوت (مال) میں (بھی) اس سے بڑھے ہوئے تھے اور حجم (بھی) ان کا زیادہ تھا۔ اور مجرموں سے ان کے جرم کے بارے سوال نہ کرنا پڑے گا

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر وہ اپنی آرائش (اور شان) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے چاہنے والے تھے کہنے لگے کیا خوب ہوتا کہ ہم کو بھی وہ (مال و دولت) ملا ہوتا جیسا قارون کو ملا ہے واقعی وہ بہت بڑے نصیب والا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو (دین کا) علم عطا ہوا تھا وہ کہنے لگے تم پر افسوس ! اللہ کا ثواب (اس دنیاوی کرو فر سے) بہت بہتر ہے جو ایسے لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کیے اور وہ صرف صبر کرنے والوں کو ہی ملتا ہے

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پس ہم نے اس (قارون) کو اور اس کے گھر (محل سرائے) کو زمین میں دھنسا دیا تو اللہ کے سوا کوئی جماعت نہ تھی جو اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کل اس کے مرتبہ کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے بس جی اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں رزق زیادہ دے دیتے ہیں اور (جس کو چاہیں) تنگی دے دیتے ہیں۔ اگر ہم پر اللہ کی مہربانی نہ ہوتی تو ہم کو بھی دھنسا دیتے۔ بس جی معلوم ہوا کہ کافروں کو کامیابی نہیں ہوتی

آیات 76 تا 82 اسرارو معارف دولت دنیا کا انجام تو قارون کے واقعہ میں ظاہر ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا وہی خوش نصیب قوم جسے موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل فرعون سے نجات ملی اور سمندر نے جس کی خاطر راستے چھوڑ دیئے جس قوم پر اللہ کے بہت احسانات تھے ان میں سے وہ بھی تھا۔ مفسرین کرام کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا مگر بگڑ گیا اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور انہیں حقیر جانتا تھا حالانکہ اللہ نے اسے اس قدر مال و دولت بخشا کہ کہ بہت بڑی اور طاقتور جماعت بھی اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے سے قاصر تھی۔ اس قدر وسیع و عریض خزانے بھرے تھے اس پر قوم نے اس سے کہا کہ اس قدر اکڑ نہ کیا کر کہ اللہ کریم اکڑنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ اللہ نے تمہیں دولت عطا کی ہے تو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر کے آخرت کا سامان کرلے اور دنیا سے اپنا حصہ بھول نہ جا یعنی اب فرصت نصیب ہے تو خالی ہاتھ نہ چلا جا۔ بلکہ نیکی کا راستہ اپنا اور اللہ کی مخلوق سے بھلائی کر جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے اور یوں تکبر کر کے فساد پھیلانے کا سبب نہ بن کہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے تو کہنے لگا بھلا اس میں اللہ نے کون سا احسان کیا یہ تو اپنی دانشمندی کے سبب میں نے دولت جمع کی ہے۔ کمالات ذاتی پر فخر : یہی کلمات ایران کے بادشاہ نے ایک بار کہے تھے جب اس کے سامنے کسی نے کہا اللہ نے آپ کی حکومت کو بہت خوش حالی بخشی ہے تو کہنے لگا یہ میری منصوبہ بندی ہے اس میں اللہ کہاں سے آگیا پھر جب اللہ کی گرفت آئی تو سب کچھ کھو کر سر چھپانے کی جگہ نہ ملتی تھی ہلاک ہوگیا تو قبر کے لیے ترستا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ قارون بھی یہ بات بھول گیا کہ اس سے پہلے بڑے بڑے مالدار اور طاقتور اپنے گناہوں کے سبب برباد ہوگئے اور اللہ کو ان کے گناہ پوچھنے نہ پڑے کہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ تھا۔ ایک روز بڑی ٹھاٹھ سے نکلا اور قوم نے دیکھا تو دنیا کے متوالوں نے کہا کاش ہم بھی قارون کی طرح دولت مند ہوتے دیکھو یہ کس قدر دولت مند انسان ہے جبکہ انہی میں جو اہل علم تھے کہنے لگے ارے نادانو دولت دنیا کوئی شے نہیں ہاں اللہ اگر نیکی کی توفیق عطا کرے تو اس پر جو انعامات اللہ کے پاس ہیں وہ بہت اعلی دولت ہے مگر اسے وہی لوگ پاسکیں گے جنہوں نے نیکی پر استقامت اختیار کی۔ بالآخر قارون کو اللہ نے اس کے محلات اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور ساری دنیا میں کوئی اس کی مدد نہ کرسکا نہ وہ اس دولت کر بل بوتے پر اپنے لیے کوئی مدد حاصل کرسکا اور سامان عبرت بن گیا حتی کہ کل تک جو اس جیسا بننے کی آرزو کرتے تھے کہنے لگے کہ یہ سب اللہ کا کام ہے کہ جسے چاہے زیادہ رزق بخش دے اور اپنے بندوں میں جس پہ چاہے رزق کی تنگی کردے اگر ہم پر اسکا احسان نہ ہوتا تو ہم بھی قارون کے ساتھ زمین میں دھنس چکے ہوتے اور حق بات تو یہ ہے کہ کافر کبھی بھلائی نہیں پاسکتے۔
Ayahs 28:83–88

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا اور (اچھا) انجام تو پرہیزگار لوگوں کے لئے ہے

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو (آخرت میں) نیکی لے کر ائٓے گا تو اس کو اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کو جو برے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

بیشک جس (اللہ) نے آپ قرآن (پر عمل اور اس کی تبلیغ کو) فرض فرمایا ہے وہ آپ کو (آپ کے) اصلی وطن (مکہ مکرمہ) پھر ضرور پہنچائے گا آپ ان سے فرمادیجئے میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو (اللہ کی طرف سے) سچا دین لے کر آیا اور (اس کو بھی) واضح گمراہی میں (مبتلا) ہے

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور آپ کو (اپنے نبی ہونے سے قبل) یہ توقع نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی جائے گی مگر صرف آپ کے پروردگار کی مہربانی سے (اس کا نزول ہوا) سو آپ کافروں کی ذرا تائید نہ کیجئے

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور وہ آپ کو اللہ کی آیتوں (کی تبلیغ) سے روک نہ دیں بعد اس کے کہ وہ آپ پر نازل ہوچکی ہیں اور آپ اپنے رب (کے دین) کی طرف بلاتے رہیں اور ان مشرکوں میں شامل نہ ہوجائیے

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور (جس طرح آپ شرک سے معصوم ہیں اسی طرح آئندہ بھی) اللہ کے ساتھ کسی کو معبود کو مت پکارئیے (کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں سوائے اس کی ذات کے۔ اسی کی حکومت ہے اور اسی کے پاس تم سب کو جانا ہے

آیات 83 تا 88 اسرارومعارف اور آخرت کا گھر تو ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو دنیا میں اپنی بڑائی اور تکبر میں گرفتار نہیں ہوتے اور اللہ کی زمین پر فساد نہیں کرتے ۔ تکبر اور فساد : یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا میں پورے خلوص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں جو بھی نیک عمل کے ساتھ میدان حشر میں حاضر ہوگا وہ اپنے اعمال کی نسبت بہت زیادہ صلہ پائے گا اور جو اپنے ساتھ گناہ اور برائیاں لائے گا وہ یقینا انہی برائیوں کا بدلہ پائے گا کہ وہی کچھ وہ کرے لایا ہوگا۔ فتح مکہ کی پیشگوئی : اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ جس عظیم ذات نے آپ پر قرآن کی تبلیغ اور اس پر عمل فرض کیا ہے اور جس کی وجہ سے آپ کو ہجرت کرنا پڑی وہ آپ کو اپنے شہر عزیز میں یعنی مکہ مکرمہ میں واپس لائے گا یہ ہجرت کے موقع پر نازل ہونے والی آیت فتح مکہ کی نوید بھی سنا رہی ہے اور یہ بھی ثابت ہورہا ہے کہ قرآن کریم پر عمل اور اس کے غلبہ کے لیے کوشش کی جائے تو بفضل اللہ فتح نصیب ہوتی ہے اور ایسی جماعت کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوتی۔ اور ان سے کہ دیجئے کہ بھلائی اور برائی کا معیار یہ لوگ نہیں بلکہ اللہ کی پسند ہے لہذا وہ خوب جانتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ بھلا آپ کو کیا خبر تھی کہ آپ کو یہ عظ مت رسالت نصیب ہوگی اور اللہ کی آخری کتاب آپ پر نازل ہوگی یہ تو سب اللہ کی رحمت ہے اور اس کا بےپناہ احسان ہے لہذا آپ کفار کی پرواہ نہ کیجیے ایسا نہ ہو کہ یہ آپ کو رواداری کے نام پر آپ کو اللہ کے احکام کی تبلیغ سے روکنے کی کوشش کریں بلکہ علی الاعلان اللہ کی طرف دعوت دیجیے اور کبھی ان مشرکین کا ساتھ مت دیجیے۔ اے مخاطب اللہ کے برابر کسی سے امید وابستہ نہ کر اور نہ کسی کو پکار اس لیے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی اس کا مستحق نہیں۔ اور سوائے ذات باری کے ہر شے مخلوق اور فانی ہے صرف اللہ کا حکم سب پر جاری ہے اور سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔ الحمدللہ کہ سورة قصص تمام ہوئی