27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 27:1–14

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طٰسٓ ۔ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

ایمان والوں کے لئے ہدایت (کا سبب) اور خوشخبری سنانے والی

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ لوگ جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر (پورا) یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال (بد) ان کی نظر میں پسندیدہ بنا رکھے ہیں پس وہ (ان میں) بھٹک رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں وہ بہت بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور یقینا آپ کو قرآن (اللہ) حکمت والے (اور) علم والے کی طرف سے عطا فرمایا جاتا ہے

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ بیشک میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے (راستے کا) پتا لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارہ تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب وہ اس کے پاس آئے تو ان کو (اللہ کی طرف سے) آواز دی گئی ، جو آگ کے اندر ہیں (فرشتے) ان پر بھی برکت ہو اور جو اس (آگ) کے پاس (موسیٰ ) ہیں ان پر بھی اور پاک ہے اللہ جو جہانوں کا پروردگار ہے

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں ہی اللہ ہوں (جو بےکیف کلام فرمارہا ہوں) غالب (اور) دانا

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈال دیں پس جب انہوں نے اس کو حرکت کرتے دیکھا جیسے اژدھا ہو تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور مڑر کر بھی نہ دیکھا۔ (تو ارشاد ہوا) اے موسیٰ (علیہ السلام) ڈرئیے نہیں ہمارے حضور پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالیں وہ بےعیب روشن سفید نکلے گا (یہ دو معجزے) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اس کی قوم کے پاس (جائیں) کہ یقینا وہ بدکردار لوگ ہیں

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری روشن دلیلیں پہنچیں تو کہنے لگے یہ صاف جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور انہوں نے (جان بوجھ کر) ان (معجزات) کا انکار کیا ظلم اور تکبر سے اور ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لیجئے فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

سورة نمل رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف : طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان کے اعمال بدہی خوبصورت دکھائے جاتے ہیں اور یوں وہ انہیں کاموں میں مزید آگے بھٹکتے چلے جاتے ہیں ایسے لوگ ایک دردناک عذاب میں مبتلا رہتے ہیں اور آخرت میں بھی بہت بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں لیکن ان کے نہ ماننے سے قرآن کی صداقت پہ تو حرف نہیں آسکتا۔ کہ یہ تو آپ کے پاس اللہ کی طرف سے جو بہت بڑا علم رکھنے والا اور حکمت والا ہے نازل ہو رہا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں کہ پہلے انبیاء بھی بڑی صداقتوں اور معجزات کے ساتھ مبعوث ہوئے مگر بدنصیب لوگوں نے ان کی بات ماننے سے بھی انکار کردیا ۔ جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کہ جب مصر کو واپس روانہ ہوئے گھر والے بھی ساتھ تھے کہ جنگل میں راستہ بھول گئے اور سردی بھی تھی ایک طرف وادی میں آگ نظر آئی تو گھر والوں سے فرمایا کہ آپ بیٹھیں میں آگ دیکھ رہا ہوں امید ہے وہاں کسی سے راستہ بھی پوچھ لوں گا اور آپ کے لیے لکڑی سلگا کرلے آؤں گا تاکہ سرد رات میں تاپ سکو۔ مگر جب قریب پہنچے تو آواز آئی کہ برکت ہو ان پر بھی جو آگ کے اندر ہیں اور اس پر بھی جو پاس کھڑے ہیں۔ انوارات الہیہ کا مشاہدہ اور کلام باری : گویا وہ دنیا کی آگ نہ تھی انوارات تھے جن میں فرشتے بھی تھے اور ان پر سلامتی بھیجی گئی مگر کلام اللہ کا ذاتی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) نے بےکیف اور بےجہت سنا یعنی نہ اس کی کوئی کیفیت متعین ہوسکتی تھی اور نہ خاص جگہ بلکہ آواز ہر طرف سے آ رہی تھی جیسے صرف کان ہی نہیں سن پا رہے تھے بلکہ سارا بدن پاؤں سے سر تک کان کا کام کر رہا تھا۔ تجلی ذاتی تھی یا نہیں : یہ سوال کہ یہ انوارات تجلی ذاتی تھے یا نہیں اس پر مفسرین کرام نے بہت کچھ لکھا ہے مگر فقیر کو جو علم نصیب ہے اس کے مطابق یہ تجلی صفاتی تھی کہ اس میں ملائکہ بھی تھے نیز یہ تعلیم کے لیے تھی اور علم صفت ہے رہا یہ مسئلہ کہ نظر آنے والی آگ میں خود اللہ موجود تھے تو اس کی تردید فرما دی گئی کہ اللہ حلول سے پاک ہے وہ ان باتوں سے بلند ہے کہ اس کی ذات کسی وجود میں حلول کرے بلکہ وہ سارے وجودوں کا خالق اور باقی رکھنے والا ہے نگہبان ہے لہذا خطاب فرماتے ہوئے مزید ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ میں اللہ ہوں جو غالب اور حکمتوں والا ہے اور آپ کو یہاں بلانا میری حکمت کا تقاضا ہے اب آپ میری قدرت کا تماشہ دیکھیں ذرا اس ہاتھ کی لاٹھی کو ڈال دیں جب انہوں نے عصا ڈال دیا تو ایک بہت بڑا اژدھا بن کر لہرانے لگا موسیٰ (علیہ السلام) ڈر گئے اور یوں بھاگے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا تو ارشاد ہوا آپ ڈریں نہیں آپ کو تو رسالت عطا ہوئی ہے اور میرے رسول میری بارگاہ میں ڈرا نہیں کرتے۔ انبیاء میں بھی فطری خصوصیات ہوتی ہیں : اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ انبیاء کرام میں بھی انسانی فطری خصوصیات ہوتی ہیں اگر کہیں ان کا اظہار نہ ہو تو وہ بطور معجزہ ہوتا ہے۔ اور فرمایا آپ بھلا کیوں ڈریں میری بارگاہ میں تو اس گناہگار کو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں جس نے گناہ سے توبہ کرکے نیکی کا راستہ اختیار کرلیا ہو کہ میں بخشنے والا اور مہربان ہوں اب دوسرا معجزہ یہ ہے اپنا ہاتھ گریبان کے اندر کیجیے اور باہر نکالیں گے تو چاند کی طرح روشن ہوگا اور ان سمیت ایسے نو معجزات آپ کو دئیے جاتے ہیں اب آپ فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائیں کہ وہ گناہ آلود زندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور معجزات ظاہر فرما کر اللہ کی طرف دعوت دی تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ سب جادو ہے۔ کفر جحودی : یہ ان کا کفر جحودی تھا کہ ان کے دل بھی مان چکے تھے کہ یہ سب جادو نہیں اللہ کے عطا کردہ معجزات ہیں مگر ضد کے باعث انکار کر رہے تھے اور یہ بہت بڑا ظلم اور اظہار تکبر تھا جس کے وہ مرتکب ہوئے چناچہ دیکھ لیجیے کہ ایسے فسادیوں کا کیسا برا انجام ہوا اور غرق ہو کر تباہ ہوگئے اور آگ میں داخل کیے گئے۔
Ayahs 27:15–31

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو علم عطا فرمایا اور انہوں نے کہا اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور فرمایا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی تعلیم کی گئی ہے اور ہم کو ہر چیز عطا فرمائی گئی ہے بیشک یہ ہی بہت بڑا فضل ہے

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے پس وہ قسم وار کھڑے کئے جاتے تھے

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ، کہیں تم کو سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے لشکری کچل نہ دیں اور ان کو اس کی خبر بھی نہ ہو

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تو وہ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور عرض کرنے لگے اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق عنایت فرمائیے کہ جو احسان آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے ہیں ان کا شکر ادا کروں اور یہ کہ نیک کام کروں جس سے آپ خوش ہوں اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرمائیے

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

جب انہوں نے پرندوں کا جائزہ لیا تو فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ ہد ہڈ نظر نہیں آتا یا کہیں غائب ہوگیا ہے ؟

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں ضرور اسے سخت سزادوں گا یا اسے ذبح کرڈالوں گا یا (اپنی بےقصوری کی) میرے سامنے صاف دلیل پیش کرے

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

سو تھوڑی ہی دیر میں وہ آگیا اور کہنے لگا ، میں ایسی خبر لایا ہوں جس کے بارے آپ کو علم نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے وہ ان پر بادشاہی کررہی ہے اور اس کو ہر چیز میسر ہے اور اس کا ایک بہت بڑا تخت ہے

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

اور میں نے پایا (دیکھا) کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کرکے دکھائے ہیں پھر ان کو راستے سے روک رکھا ہے۔ سو وہ (سیدھے) راستے پر نہیں ہیں

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کہ اس اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں (جیسے بارش اور نباتات) کو باہر لاتے ہیں اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال سے باخبر ہیں

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا اچھا دیکھیں گے تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں سے ہے

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا پھر ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے واپس آ تو دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

اس عورت (ملکہ) نے کہا اے سردارو ! بیشک میرے پاس ایک بہت با وقعت خط ڈالا گیا ہے

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

بیشک وہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور (مضمون) یہ ہے کہ شروع اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(بعد اس کے یہ) کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور میرے پاس مطیع ہو کر چلے آؤ

آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف : ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم الشان سلطنت کے لیے ضروری ہے اور یہ اللہ کریم کا خاص احسان ہے۔ وراثت انبیاء : سلیمان (علیہ السلام) حضرت داود (علیہ السلام) کے علوم نبوت کے وارث ہوئے یہاں وراثت مال مراد لینا درست نہیں کہ مفسرین کرام کے مطابق داود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تے جو مال کے وارث تھے مگر نبوت صرف سلیمان (علیہ السلام) کو عطا ہوئی لہذا حکومت و سلطنت پر بھی وہی فائز ہوئے کہ حکومت وراثت میں نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر ملنا چاہیے تھی۔ اس سب کو آپ ﷺ کے ارشادات اور واضح کردیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہم انبیاء کی جماعت نہ کسی سے وراثت پاتے ہیں نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔ یعنی دولت دنیا اور روپے پیسے میں وراثت انبیاء میں ہوتی ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کو تو علوم عطا ہوئے ان میں اضافہ کردیا گیا اور انہیں جنات اور چرند و پرند نیز وحوش پر بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم الشان سلطنت کے لیے ضروری ہے اور یہ اللہ کریم کا خاص احسان ہے۔ وراثت انبیاء : سلیمان (علیہ السلام) ضرت داود (علیہ السلام) کے علوم نبوت کے وارث ہوے یہاں وراثت مال مراد لینا درست نہیں کہ مفسرین کرام کے مطابق داود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے جو مال کے وارث تھے مگر نبوت صرف سلیمان (علیہ السلام) کو عطا ہوئی لہذا حکومت و سلطنت پر بھی وہی فائز ہوئے کہ حکومت وراثت میں نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر ملنا چاہیے تھی۔ اس سب کو آپ ﷺ کے ارشادات اور واضح کردیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہم انبیاء کی جماعت نہ کسی سے وراثت پاتے ہیں نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔ یعنی دولت دنیا اور روپے پیسے میں وراثت انبیاء میں نہیں ہوتی بلکہ فرمایا انبیاء کے وارث علما ہوتے ہیں کہ ان کی وراثت دراہم و دنانیر میں نہیں علم میں ہوتی ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کو تو علوم عطا ہوئے ان میں اضافہ کردیا گیا اور انہیں جنات اور چرند و پرند نیز وحوش پر بھی حکومت و سلطنت اور ان سب کی زبانیں سمجھنے کا علم عطا ہوا۔ اور پھر یہ روایت موجود ہے کہ حضور ﷺ سلیمان (علیہ السلام) کے وارث ہوئے جبکہ درمیان میں کم و بیش سترہ سو سال کا فاصلہ ہے۔ اور پھر انہوں نے اپنا لاؤ لشکر جمع فرمایا اپنی سلطنت میں کسی جانب نکلنے کو جس میں انسانوں کے علاوہ جنات اور جانور ، پرندے وغیرہ اپنی اپنی جماعت میں حاضر تھے۔ اور ایک سمت کو نکلے حتی کہ ایک وادی پر گذر ہوا جہاں چیونٹیاں کثرت سے تھیں تو ایک چیونٹی نے لشکر کو آتا جان کر باقی چیونٹیوں سے کہا کہ اپنے گھروں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان (علیہ السلام) تمہیں روندتا ہوا گذر جائے اور انہیں تمہارے حال کی خبر بھی نہ ہو کہ کوئی پاؤں کے نیچے مسلا گیا ہے۔ جانوروں میں بھی شعور ہے : اس سے ثابت ہے کہ جانوروں میں بھی شعور ہے اگرچہ ایسا کامل نہیں کہ وہ شریعت کے مکلف ٹھہرائے جاتے مگر شعور ضرور ہے اور فطری علوم جو انہیں بخشے گئے ہیں جیسے گھر بنانا غذا تلاش کرنا بچے پالنا اور اپنے خاندان کو سنبھالنا یہ سب فرائض وہ بخوبی انجام دیتے ہیں شہد کے چھتے میں اور شیروں کے کنبے میں ہاتھیوں کے ریوڑ اور کو وں کی ڈار میں ہر جگہ یہ بات نظر آتی ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے یہ بات سن بھی لی اور سمجھ بھی لی۔ ظاہر ہے ان کا سن لینا بھی معجزہ تھا کہ پاس تو نہ کھڑے تھے اور سمجھ لینا بھی اور اس پر بہت خوش بھی ہوئے کہ اللہ نے مجھے یہ علم عطا فرمایا اور میریرعیت میں چیونٹی کو بھی احساس ذمہ داری بخشا ہے کہ ان کی سردار ان کو بچانے کی فکر کر رہی ہے۔ تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ بارے الہا اپنی ان نعمتوں کو دوام عطا فرما اور مجھے توفیق عطا کر کہ شکر ادا کرسکوں کہ مجھ پر بھی اور میرے والد پر بھی یہ کتنے عظیم احسان فرمائے گئے اور نیک اعمال کی توفیق کے ساتھ انہیں قبول بھی فرما۔ اور مجھے ہمیشہ اپنے نیک اور صالح بندوں میں ہی شامل رکھ۔ نیک عمل اور قبولیت : انبیاء (علیہم السلام) کی دعا ایک طریق تعلیم بھی ہوتا ہے یہاں یہ تعلیم فرما دیا کہ عمل کا صالح ہونا الگ بات ہے اور قبول ہونا الگ مثلاً جو عمل بھی ظاہراً شریعت کے مطابق ہے صالح ہے مگر قبول تو باطنی ارادے اور خلوص سے اور اللہ کریم کی مرضی سے ہوگا لہذا نیکی کے ساتھ بھی عجز کی ضرورت ہے۔ ایک جگہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے بارے میں خبر لی تو پتہ چلا ہدہد غیر حاضر ہے۔ فرمایا یہ ہدہد کہاں غائب ہوگیا بلا اجازت غیر حاضری پر تو اسے بہت سخت سزا دی جائے گی یا ہوسکتا ہے سزائے موت دے دی جائے اور اسے ذبح کردیا جائے۔ یا پھر کوئی معقول وجہ بیان کرے گا۔ خدام کو رعایا کی خبر گیری اور انتظامی امور : حضرت ابن عباس کے مطابق ہدہد میں یہ خصوصیت ہے کہ زیر زمین پانی کی گذرگاہوں کو بھانپ لیتا ہے اور لشکر جہاں پہنچا تھا وہاں بظاہر پانی نہ تھا اب اس کی ضرورت پڑی کہ جگہ کی نشاندہی کرے اور جنات پل بھر میں کھود نکالیں تو وہ غائب جبکہ لشکر میں سے بعض کا پیاس سے مرنے کا اندیشہ تھا تو اس کی غیر حاضری پر بھی سزائے موت تک کا امکان بیان ہوا لہذا امور سلطنت میں خدام اور رعایا کی خبرگیری نیز ذمہ دار لوگوں پر انتظامی امور می دیانتداری کا اور پابندی سے کرنے کا اہتمام ضروری ہے یہاں عجیب بات نقل فرماتے کہ ہدہد زیر زمین تو دیکھ لیتا ہے مگر زمین پر ڈالے گئے جال میں بہت جلد پھنس جاتا ہے وہ نہیں دیکھ پاتا سبحان اللہ سب قدرت اللہ ہی کے لیے ہے اور مخلوق بہرحال محتاج۔ سو ہدہد بہت جلد حاضر ہوگیا اور عرض کرنے لگا کہ حضور غلام ایک بہت ایک بہت اہم خبر لایا ہے کہ دوران پرواز ایک شاداب ملک دیکھ کر ادھر چلا گیا اور وہاں جا کر ایسی عجیب حالت دیکھی جس کی آپ کو ابھی اطلاع نہیں کہ علم غیب تو خاصہ باری تعالیٰ ہے اور انبیاء کو اطلاع دی جاتی ہے لہذا جس بات کی خبر اللہ کی طرف سے نہ پہنچے اس کا پتہ نہیں ہوسکتا یہاں اللہ نے ہدہد کو ذریعہ بنا دیا۔ اور وہ خبر یہ تھی کہ میں سباء سے جو یمن کا بہت بڑا شہر تھا یہ اطلاع لایا ہوں اور پورے وثوق سے عرض کر رہا ہوں کہ وہاں اس قوم پر ایک خاتون کی حکومت ہے جس کے پاس حکومت وسلطتنت کے تمام لوازم موجود ہیں اور وہ ایک بہت بڑے اور عظیم الشان تخت پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔ عورت کی حکومت : اسلام میں عورت کی حکومت کے بارے میں کوئی ابہام نہیں اور اس بات پر اجماع ہے کہ عورت حکومت کی اہل نہیں بلکہ نماز تک میں امامت نہیں کرسکتی چہ جائیکہ امامت کبری پہ فائز ہو۔ بلقیس کی حکومت سے دلیل لینا درست نہیں کہ وہ آتش پرستوں کی حکمران تھیں اور سلیمان (علیہ السلام) کا ان سے شادی کرکے انہیں حکومت پر فائز رکھنا کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں دوسرے یہ کہ اگر ایسا ہو تو حکومت شادی کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کی ہوئی وہ تو ان کے تابع ہوگئی اور حق یہ ہے کہ ہمیں آقائے نامدار ﷺ کی اطاعت کرنا ہے پہلی امتوں کی نہیں اور آپ ﷺ نے اس کی اجازت نہیں دی نہ کسی عورت کو امام یا حاکم مقرر فرمایا۔ بلقیس کے حالات : مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ ان کے دادا اس علاقہ کے بہت بڑے سلطان تھے پھر بلقیس کے باپ نے ایک جنی عورت سے شادی کی تھی جس کی یہ بیٹی تھی لہذا اس کے ساتھ بھی جنات ہوتے تھے۔ جنات کے ساتھ شادی کا امکان اور جواز اس پر اختلاف ہے کہ آیا یہ جائز ہے یا نہیں یہ حالات۔ آکام المرجان فی احکام جان۔ نامی کتاب میں موجود ہیں کہ یہ کیسے ممکن اور کس دور میں ایسا ہوا۔ جہاں تک جنات کے توالد و تناسل کا تعلق ہے تو وہ انسانوں کی طرح سے ہے اور جن مردوں کے انسانی خواتین پر جنسی حملے یا جنی خواتین کے انسان مردوں سے جنسی تعلقات فقیر کے ذاتی علم میں بھی ہیں کہ ایسا ہوتا ہے اور بکثرت ہوتا ہے ہاں نکاح کے جواز میں تردد ہے علماء کا یہ ارشاد بہت وزن رکھتا ہے کہ اگر اسے جائز کہا جائے تو ہر ناجائز حمل رکھنے والی عورت کہہ سکتی ہے کہ میں نے جن سے شادی کی ہے پھر اس کی تحقیق کیا ہوسکے گی بہرحال ایک طبقہ جواز کا قال بھی ہے۔ نیز ہدہد نے یہ اطلاع بھی دی کہ وہ عظیم الشان ملکہ اور اس کی قوم سورج کی پوجا کرتی ہے یعنی آتش پرست ہیں جو سورج آگ اور ہر روشنی کی پرستش کرنے لگتے ہیں اور شیطان نے انہیں اس راستے پر ایسا ڈال دیا ہے کہ وہ اسی کو بہت خوبصورت راستہ یعنی راہ ہدایت سمجھے ہوے ہیں اور یوں انہیں اللہ کی راہ سے روک دیا ہے اور وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔ حالانکہ حق یہ ہے کہ وہ اللہ کو سجدہ کریں جو آسمان و زمین سے پوشیدہ چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور بندوں کے ظاہر و باطن سے بھی خوب واقف ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں صرف اللہ پروردگار ہے عرش عظیم کا بھی۔ یعنی ہدہد نے بھی بھی خواہش ظاہر کی کہ انہیں ہدایت کی طرف بلایا جائے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا ابھی تصدیق ہوجاتی ہے کہ تم سچ کہہ رہے ہو یا جان بچانے کے حیلے کر رہے ہو۔ میرا یہ خط لے جاؤ اور ملکہ اور اس کی قوم کو دو ملکہ کو دے کر الگ ہوجانا یعنی آداب شاہی کا لحاظ رکھنا پھر دیکھتے ہیں کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ کفار کو دعوت بذریعہ تحریر : بذریعہ تحریر بھی دعوت نہ صرف درست بلکہ مسنون ہے آپ ﷺ نے کفار کے بادشاہوں کو خطوط روانہ فرمائے مگر اس میں مہذب انداز اختیار کرنا ضروری ہے جیسا کہ یہاں ہدہد کو تعلیم دیا جا رہا ہے اور آپ ﷺ کے قاصدوں کے عمل سے واضح ہے چناچہ ہدہد نے خط لے جا کر ملکہ کے ذاتی کمرہ میں ہاں وہ اکیلی تھی دیا اس نے پڑھا اور اپنے ساتھ دربار میں لائی اور امرء دربار سے کہا کہ مجھے ایک خط ملا ہے جو کسی نے میرے کمرے میں ڈال دیا ہے مگر وہ خط بہت خوبصورت جامع اور لائق ستائش ہے یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون ہے کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے اور میرے مقابلے میں کبھی قوت کا اظہار نہ کرنا بلکہ اطاعت اختیار کرکے پاس حاضر ہوجاؤ۔ خط کے آداب : اول تو خط پہ مہر تھی جو خط کی عظمت کی دلیل ہوتی ہے اور دنیا کے سب حکمران استعمال کرتے ہیں حتی کہ نبی اکرم ﷺ بھی خطوط پہ مہر ثبت فرماتے تھے۔ لکھنے والے کا نام پہلے ہونا کہ مکتوب الیہ جان لے خط کس کا ہے آج کل پیڈ جو چھپتے ہیں وہ یہ دونوں کام کردیتے ہیں تیسرے یہ کہ خط اللہ کے نام سے شروع کیا جائے اور چوتھے یہ کہ جامع مضمون کم الفاظ ہوں فضول جملے لکھ کر خط طویل نہ کیا جائے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ خواہ کافر کو لکھا جائے شروع اللہ کے نام اور اس کی عظمت کے بیان سے ہو۔