28. Surah Al-Qasas
القصصThe Stories · 88 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمبر 28 کل رکوع 9 آیات 88 الفاظ وکلمات 1454 حروف 6011 سورۃ القصص مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے ابتدائی پانچ رکوعوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ پانچویں رکوع میں قرآن کریم کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ بیشک تو ریت اور انجیل کو اللہ نے نازل فرمایا لیکن لوگوں نے ان میں ایسی باتوں کو شامل کردیا تھا جن کا تعلق اللہ کی اتاری ہوئی بنیادی تعلیمات سے نہیں تھا اب قیامت تک ساری انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ قرآن کریم کی سچی تعلیمات پر چل کر راہ ہدایت حاصل کریں۔ قارون جو حضرت موسیٰ کی قوم سے تھا اور بےپناہ دولت کا مالک تھا۔ جس کے خزانوں کی چابیاں اٹھا کر ایک مضبوط جماعت بھی تھک جاتی تھی جب اس نے غرور وتکبر کیا تو اللہ نے اس کو اور اس کی دولت کو زمین میں دھنسا دیا وہ دولت اس کو اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکی۔ اللہ کو کسی کا غرور وتکبر پسند نہیں ہے۔ سورۃ القصص جس کے ابتدائی پانچ رکوعوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو بڑی تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر اپنا کلام نازل کیا مگر انسانی ہاتھوں نے اللہ کی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب اللہ نے قرآن کریم کو نازل کیا ہے وہی قیامت تک انسانوں کی ہدایت کے لئے کافی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے۔ بنی اسرائیل کی ہدایت کا سامان قرآن کریم میں ہے۔ اگر انہوں نے اس راستے کو چھوڑ دیا تو پھر قیامت تک ان کو راہ ہدایت نصیب نہ ہوگی۔ مصر میں دو قومیں آباد تھیں ایک قبطی حکمران ٹولہ جس کے حکمران کو فرعون کہا جاتا تھا۔ وہ پورے ملک میں پانچ فیصد بھی نہ تھے مگر ظالم حکمراں ہونے کی وجہ سے اپنی فوج کی قوت سے ان بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا تھا جو پورے ملک میں واضح اکثریت رکھتے تھے۔ چونکہ بنی اسرائیل بےعمل ہوچکے تھے اور پوری قوم اس قدر منتشر تھی کہ وہ کسی کو اپنا رہنما تسلیم نہ کرتی تھی۔ ان کے اس انتشار سے فائدہ اٹھا کر قبطیوں کا یہ مختصر سا ٹولہ ہر طرح کے ظلم وستم کرنے میں آزاد تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں آئے جن کی تعدادایک سو سے بھی کم تھی لیکن دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی وجہ سے ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی تھی۔ قبطی اچھی طرح جانتے تھے کہ بنی اسرائیل ایک بہت بڑی قوت ہیں ان میں اگر اس کا شعور بیدار ہوگیا تو پھر قبطی اپنی تمام تر طاقت وقوت کے باوجود حکمرانی نہ کرسکیں گے۔ ان کے خوف کی انتہا یہ تھی کہ جب کسی نے یہ بتادیا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو فرعون کے اقتدار کا خاتمہ کردے گا۔ فرعون نے حکم جاری کیا کہ اب بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہوگا اس کو قتل کردیا جائے گا چناچہ بنی اسرائیل میں جوب بھی لڑکا پیدا ہوتا اس کو ماں کی گود سے چھین کر قتل کردیا جاتا تھا۔ بنی اسرائیل کی کمزوریوں کی انتہا یہ تھی کہ جن ماؤں کی گود سے ان کے لخت جگر کو چھینا جاتا وہ اس پر احتجاج تک نہ کرسکتی تھیں۔ اسی دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہکو بھی یہ خطرہ تھا کہ ان کی گود بھی ویران ہوجائے گی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے قلب میں یہ الہام فرمایا کہ وہ اس بچے کو کسی صندوق یا ٹوکری میں رکھ کر دریا میں بہا دیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ایسا ہی کیا۔ ادھر اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اس طرح اظہار فرمایا کہ وہ صندوق فرعون کے گھر والوں نے ہی پانی سے نکالا۔ سب کی رائے یہی تھی کہ اسے بچے کو قتل کردیا جائے مگر فرعون کی بیو حضرت آسیہ نے کہا کہ ہم اس بچے کو پرورش کریں گے اور اپنا بیٹا بنائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو اس کام پر مامور کیا تھا کہ وہ دیکھتی چلی جائیں کہ یہ صندوق کہاں پہنچتا ہے۔ جب وہ فرعون کے گھر میں پہنچ گیا تو انہیں اطمینان ہوا۔ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک چھوٹے سے دودھ پیتے بچے تھے انہوں نے رونا شروع کیا اور بھوک سے تڑپنا شروع کیا اور کسی کا دودھ نہ پیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا کہ میں ایک ایسے خاندان سے واقف ہوں جو بچے کی پرورش اچھی طرح کرسکتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بلایا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا دودھ پینا شروع کردیا۔ اس طرح اللہ نے ایک ماں کو اپنے بیٹے سے ملادیا فرعون کے گھر میں اسی بچے کی شاہانہ پرورش کرادی جس کے خوف سے وہ بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کر ارہا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوگئے تو وہ قبطیوں کے ظلم کو برداشت نہ کرسکے۔ ایک دن کوئی قبطی اور بنی اسرائیلی شخص کسی بات پر جھگڑ رہے تھے ۔ قبطی بنی اسرائیلی کو گھسیٹ رہا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیلی کو اس ظلم سے بچانا چاہا تو وہ قبطی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے الجھ گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک گھونسا مارا تو وہ قبطی وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو افسوس ہوا کہ ان کے ہاتھوں ایک شخص کا قتل ہوگیا۔ انہوں نے اللہ سے اس خطا پر معافی مانگی جس کو اللہ نے قبول کرلیا اگلے دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہی بنی اسرائیلی شخص کسی دوسرے آدمی سے جھگڑرہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو بڑاہی جھگڑا لو آدمی ہے اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے یہ کہ کر شور مچا دیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) جس طرح تم نے گذشۃ کل ایک قبطی کو مار دیا تھا مجھے بھی قتل کر دو گے۔ یہ بات فرعون کے کان تک پہنچ گئی اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرنے کا حک جاری کردیا۔ کسی مخلص آدمی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتادیا کہ فرعون کے دربار سے آپ کو گرفتار کرنے اور قتل کرنے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے اس ظلم سے بچنے کے لئے مصر سے نکل کر مدین کی طرف ہجرت کر گئے۔ مدین پہنچ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ایک کنویں پر لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں لیکن دو لڑکیاں اپنے جانوروں کو روکے ہوئے الگ تھلگ کھڑی ہوئی ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پے پوچھا کہ تم الگ تھلگ کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا یہ تو ہمارے ہر روز کا معمول ہے جب سارے چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلالیتے ہیں تب ہمارا نمبر آتا ہے اور ہم اپنے جانوروں کو پانی پلاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کڑیل جوان تھے وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ان لڑکیوں کے جانوروں کو پانی پلادیا۔ جب وہ دونوں لڑکیاں اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو کر فریاد کی الٰہی ! مجھے اس غربت میں آپ جو کچھ بھی عطا کریں گے اس کے لئے میں حاجت مند ہوں۔ ابھی وہ دعا اور فریاد کررہے تھے کہ وہی دونوں لڑکیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں۔ ان میں سے ایک جو شرم وحیا کا پیکر تھی کہنے لگی ہمارے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلانے کی زحمت کی ہے اس کا کچھ بدلہ دے سکیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) روانہ ہوگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جن کے پاس آئے تھے وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام واقعات سن کر فرمایا کہ اب تم مت گھبرائو۔ اللہ نے تمہیں ایک ظالم قوم سے نجات عطا کردی ہے۔ ان لڑکیوں میں سے ایک نے کہا ابا جان ! اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کو اپنے پاس ملازم رکھ لیں کیونکہ یہ انتہائی مضبوط اور دیانت دار آدمی ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اگر آٹھ سال تک میری خدمت کرو تو میں اپنی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی سے تمہارا نکاح کرسکتا ہوں۔ اور زور زبردستی تو ہے نہیں اگر تم خوشی سے دس سل پورے کرلو تو یہ تمہارا احسان ہوگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس شرط کو قبول کرلیا اور اس طرح دس سال تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت کی۔ چناچہ ان کی ایک لڑکی سے ان کی شادی کردی گئی۔ دس سا ل کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بیوی کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوگئے۔ شاید وہ اس اندھیری رات میں سردی کے موسم میں راستہ بھٹک گئے تھے۔ انہوں نے دور سے ایک روشنی کو دیکھا۔ کہنے لگے کہ میں ابھی اس آگ میں سے کوئی انگارہ لے کر آتا ہوں اور اگر کسی نے راستہ بتادیا تو اسی پر چل پڑیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت کوہ طور کے دامن میں تھے۔ جب وہ ایک درخت کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک درخت میں آگ سی لگی ہوئی ہے۔ اچانک آواز آئی اے موسیٰ یہ میں ہوں تیرا رب اللہ۔ یہی وہ موقع ہے جہاں اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور عصا اور ید بیضا کے معجزات عطا کر کے فرمایا کہ تم فرعون کے پاس جائو اور اس کی سرکشی کے گھمنڈ کو توڑ کر رکھ دو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الہٰی ! میرے لیے ہارون کو جو زبان کے بڑے فصیح وبلیغ ہیں ان کو میرا مدد گار بنادیجئے۔ چناچہ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا معاون و مدد گار بنادیا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لے کر یہ دونوں بھائی فرعون کے پاس پہنچے۔ اس کو سمجھایا اور معجزات دکھائے ۔ اس نے ان معجزات کو جادو قرار دے کر ملک بھر کے جادو گروں کو جمع کرلیا۔ لیکن جب ان جادوگروں نے دیکھا کہ ان کے بےحقیقت جادو کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزے کے طو پر اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدھا بن گیا اور اس نے ان جادوگروں کے جادو اور طلسم کو توڑ کر رکھ دیا اور وہ سب جادو گر دائرہ اسلام میں دخل ہوگئے۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کامیابی اور فتح نصیب کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) راتوں رات تمام بنی اسرائیل کو مصر سے فلسطین کی طرف لے چل پڑے۔ ادھر فرعون نے ان کا پیچھا کیا۔ اللہ نے پانی میں راستے بنادیئے۔ بنی اسرائیل پار اتر گئے مگر فرعون اور اس کے لشکر یوں کو پانی کی لہروں میں ڈبودیا گیا۔ اس طرح اللہ نے بنی اسرائیل کو کامیاب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کی ہدایت کے لئے ایک عظیم کتاب توریت عطا فرمائی تاکہ یہ قوم دین کے اصولوں کی روشنی میں زندگی کا سفر طے کرسکے۔ مگر انہوں نے اسی توریت میں اپنی طرف سے طرح طرح کی باتیں گھڑ کر اس کتاب کو مشکوک بنادیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک توریت و انجیل اللہ نے نازل فرمائیں لیکن انسانی ہاتھوں نے اور بنی اسرائیل کی بےعملی نے ان کی کتاب میں کافی بڑی مقدار میں ایسی باتیں شامل کردیں جو اللہ نے نازل نہیں کی تھیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اب قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے قرآن حکیم جیسی عظیم کتاب نازل کی ہے جس کی حفاظت کا اس نے خود ذمہ لیا ہے۔ فرمایا کہ اب یہی قرآن ساری انسانیت کے لیے کافی ہے۔ اگر بنی اسرائیل اور دنیا کی سب قوموں نے قرآن کریم کی تعلیمات کو اپنا لیا تو ان کو ہدایت اور دین و دنیا کی تمام عظمتیں حاصل ہوجائیں گی۔ لیکن اگر اس قرآن کریم سے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت سے منہ موڑا گیا تو پھر قیامت تک ان کو کوئی اور ہدایت دینے والا نہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو سچائی اور پاکیزگی کے ساتھ ساری دنیا کے لیے رہبر و رہنما بنایا ہے۔ آخر میں فرمایا گیا کہ لوگو ! یہ سارا نظام کائنات اللہ کے حکم سے چل رہا ہے۔ وہی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی کو پیدا کرنے والا ہے۔ اگر وہ دن کی روشنی اور رات کی تاریکی کو ختم کرکے ایک ہی چال پر رہے دے تو انسانی حیات مٹ کر رہ جائے گی۔ یہ رات اور دن کا پورا نظام اس کی قدرت کاملہ سے چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے ایک شخص قارون کا ذکر کیا ہے جو بےپناہ دولت کا مالک تھا مگر اس کا غرور وتکبر اس کو لے ڈوبا۔ وہ مال و دولت اس کے کام نہ آئے بلکہ اللہ نے قارون اور اس کی دولت کو زمین میں دھنسا دیا۔ فرمایا کہ جو لوگ غرور وتکبر سے کام نہیں لیتے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہی عزت و سربلندی سے نوازتا ہے لیکن جو لوگ غرور تکبر اور بڑائی اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔
طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader
طٰسۗمّۗ
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader
یہ واضح کتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں۔
نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader
ہم آپ ﷺ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے بعض صحیح واقعات ان لوگوں کے لیے پڑھ کر سنا رہے ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader
بلاشبہ فرعون نے سرزمین (مصر) میں بڑی سرکشی اختیار کر رکھی تھی۔ اور اس نے وہاں کے باشندوں کو فرقوں میں بانت رکھا تھا۔ اور ان میں سے ایک گروہ کو اس نے اس طرح کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ بیشک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader
اور ہم ان (بنی اسرائیل) پر یہ احسان کرنا چاہتے تھے کہ ملک میں جن لوگوں کو کمزور کردیا گیا تھا ان کو لوگوں کا پیشوا (رہنما) بنائیں اور ہم ان ہی کو (ملک کا) وارث بنائیں
وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader
اور ان کو ملک میں جمادیں اور (ہم چاہتے تھے) فرعون اور ہامان کو ان ہی لوگوں کے ہاتھوں وہ کچھ دکھادیں جن چیزوں کا ان کو خطرہ تھا۔
وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کیا (ان کے دل میں ڈالا) کہ وہ (موسیٰ کو) دودھ پلاتی رہیں۔ پھر جب اس طرف سے (فرعون کی طر سے ) کوئی خطرہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیں۔ نہ تو کوئی اندیشہ کرنا اور نہ غم کھانا۔ یقیناً ہم اس کو تمہاری طرف لوٹادیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنادیں گے۔
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader
پھر فرعون کے گھر والوں نے اسکو (موسیٰ کو) اٹھا لیا تاکہ وہ ان کیلئے دشمنی اور غم کا سبب بن جائے۔ بلاشبہ فرعون ‘ ہامان اور ان دونوں کے لشکر نے بڑی غلطی کھائی۔
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader
اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل مت کرنا۔ ممکن ہے یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں یہ (سب کچھ کرتے ہوئے وہ) بیخبر تھے۔
وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader
اور صبح کو موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہکا دل بےقرار ہوگیا۔ اگر ہم نے اس کے دل کو مضبوط نہ کردیا ہوتا تو وہ اس کا حال ظاہر کردیتی۔ (یہ اس لئے کیا) تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے رہے۔
وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader
موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جائو۔ چناچہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح دیکھتی رہی کہ ( ِرعون والوں کو) پتہ ہی نہ چل سکا۔
وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader
اور ہم نے پہلے ہی سے دودھ پلانے والیوں کے دودھ کی اس پر بندش لگا رکھی تھی۔ اس پر (موسیٰ کی بہن نے ) کہا کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ بتائوں جو تمہارے اس بچے کی پرورش کرے۔ اور وہ اس (بچے) کے خیر خواہ بھی ہوں۔
فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader
اور اس طرح ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کو) اس کی والدہ کی طرف لوٹادیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور وہ غم گین نہ ہو۔ اور تاکہ وہ جان لے کر اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے۔
وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جوانی اور کمال شباب کو پہنچ گئے تو ہم نے انہیں علم و حکمت سے نوازا۔ اور ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader
اور وہ (ایک دن) شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جب وہاں کے باشندے بیخبر ( سوئے ہوئے) تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے دیکھا۔ ایک تو موسیٰ کی جماعت کا تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔ تو جو شخص ان کا اپنا تھا اس نے اپنے دشمن پر موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد مانگی۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مکامارا۔ تو اس کا کام تمام ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ تو ایک شیطانی کام ہوگیا ۔ بیشک شیطان تو کھلا دشمن اور بہکاے والا ہے۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader
عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا۔ پس مجھے بخش دیجئے تو اللہ نے ان کو معاف کردیا۔ بیشک وہی تو بہت معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader
عرض کیا الہٰی ! جیسا کہ آپ نے مجھ پر فضل وکرم کیا ہے تو میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا۔
فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader
پھر وہ صبح ہی صبح حالات کو دیکھتے ہوئے شہر پہنچے تو انہوں نے اچانک دیکھا وہی (اسرائیلی) شخص جس نے گذشۃ کل موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد مانگی تھی پھر وہ فریاد کررہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا بلاشبہ تو کھلا گمراہ ہے۔
فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader
پھر جب (موسیٰ (علیہ السلام) نے) چاہا کہ اس پر ہاتھ ڈالیں جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ مجھے قتل کردے جس طرح تو نے گذشتہ کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا۔ تو یہ چاہتا ہے کہ اس سرزمین پر زبر دستی کرتا پھرے۔ اور تو میل ملاپ کرانے والوں میں سے نہیں ہے۔
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader
اور ایک آدمی شہر کے پر لے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) (فرعون کے ) درباری آپ کے بارے میں مشورہ کررہے ہیں تاکہ وہ آپ کو قتل کردیں۔ پس آپ یہاں سے نکل جائیے۔ بیشک میں آپ کا بھلا چاہنے والوں میں سے ہوں۔
فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader
پھر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرتے ہوئے اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے اور عرض کیا الہٰی ! مجھے ظالم قوم سے بچا لیجئے۔
وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader
اور جب (موسیٰ نے ) مدین کی طرف رخ کیا تو کہا کہ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ دکھائے گا
وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader
اور جب وہ مدین کے (کنویں) پانی پر آئے تو انہوں نے بہت سے لوگوں کو (اپنے جانوروں کو) پانی پلاتے پایا۔ اور (موسیٰ (علیہ السلام) نے ) دیکھا دو عورتیں ان سب سے الگ (اپنی بکریوں کو) رو کے کھڑی ہیں (موسیٰ (علیہ السلام) نے ) پوچھا کہ تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ ان دونوں نے کہا ہم اس وقت تک (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلاتیں جب تک (چرواہے) واپس نہ چلے جائیں۔ اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں
فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader
پھر ( موسیٰ (علیہ السلام) نے بکریوں کو) پانی پلادیا۔ اور ہٹ کر ایک سائے کی طرف آگئے عرض کیا الٰہی ! جو نعمت بھی مجھے عطا فرمائیں میں اس کا محتاج ہوں۔
فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader
پھر ان دونوں میں سے ایک شرم وحیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی۔ کہا میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ کو اس کا صلہ دیں جو آپ نے (ہماری بکریوں کو) پانی پلاکر کیا ہے۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے (شعیب کے) پاس آئے اور اپنا حال بیان کیا تو انہوں نے کہا مت ڈرو۔ تم ظالم قوم سے بچ کر آگئے ہو۔
قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader
ان دونوں میں سے ایک نہ کہا اے میرے ابان جان ! انہیں (اپنے پاس) ملازم رکھ لیجئے بیشک بہترین ملازم وہ ہے جو طاقت ور اور امانت دارہو۔
قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader
(شعیب نے ) کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں۔ اس شرط کے ساتھ کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو۔ پھر اگر تم دس سال پورے کرلو تو وہ تمہاری طرف سے نیکی ہوگی۔ لیکن میں تمہیں کسی مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ اگر اللہ نے چاہا تو مجھے تم بہترین معاملہ کرنے والا پائو گے۔
قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader
(موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان (ایک معاہدہ) ہے۔ ان دو مدتوں میں سے میں جو مدت پوری کرلوں بہر حال مجھ پر کوئی جبر نہیں ہونا چاہیے۔ اور جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔
فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader
پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے (معاہدہ کی) مدت پوری کرلی اور وہ اپنی بیوی کو لے کر (مصر کی طرف) چلے تو انہیں کوہ طور کی طرف سے ایک آگ نظر آئی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا تم یہیں ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ ممکن ہے میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لائوں یا کوئی آگ کا انگارہ لے آئوں تاکہ تم (اپنا بدن) تاپ سکو۔
فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader
پھر جب (موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچے تو اس میدان کے مبارک مقام کے داہنی جانب سے ایک درخت سے آواز آئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یہ میں اللہ ‘ میں رب العالمین ہوں۔
وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader
اور تم اپنا عصا (لاٹھی۔ زمین پر) پھینکو۔ پھر جب انہوں نے اس کو لہراتے بل کھاتے دیکھا جو ایک سانپ کی طرح تھا تو پیٹھ پھیر کر بھا گے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اللہ نے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آگے آئو ‘ مت ڈرو تم امن میں ہو۔
اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader
تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو (تم دیکھو گے کہ ) وہ بغیر کسی عیب کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا۔ اور خوف دور کرنے کے لئے اپنا ہاتھ اپنے بازو اپنے پہلو سے ملا لینا۔ تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں (کی ہدایت کے لئے) یہ دو روشن نشانیاں ہیں۔ کیونکہ وہ نہایت نافرمان قوم ہیں۔
قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader
عرض کیا میرے پروردگار بیشک میں نے ان میں سے ایک شخص کو ما ڈالا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (اس کے بدے میں) مجھے قتل نہ کردیں۔
وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader
اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) زبان کے اعتبار سے زیادہ فصیح ہیں۔ آپ ان کو میرے ساتھ مدد گار بنا کر بھیج دیجئے تاکہ وہ (ہارون (علیہ السلام) ) میری تصدیق کریں۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader
اللہ نے فرمایا کہ ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہارے بازو کو مضبوط کردیں گے۔ اور ہم تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے۔ ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم دونوں تک نہ پہنچ سکیں گے ۔ تم دونوں اور وہ لوگ جو تمہاری پیروی کریں گے وہ غالب رہیں گے۔