28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر 28 کل رکوع 9 آیات 88 الفاظ وکلمات 1454 حروف 6011 سورۃ القصص مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے ابتدائی پانچ رکوعوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ نہایت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ پانچویں رکوع میں قرآن کریم کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ بیشک تو ریت اور انجیل کو اللہ نے نازل فرمایا لیکن لوگوں نے ان میں ایسی باتوں کو شامل کردیا تھا جن کا تعلق اللہ کی اتاری ہوئی بنیادی تعلیمات سے نہیں تھا اب قیامت تک ساری انسانیت کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ قرآن کریم کی سچی تعلیمات پر چل کر راہ ہدایت حاصل کریں۔ قارون جو حضرت موسیٰ کی قوم سے تھا اور بےپناہ دولت کا مالک تھا۔ جس کے خزانوں کی چابیاں اٹھا کر ایک مضبوط جماعت بھی تھک جاتی تھی جب اس نے غرور وتکبر کیا تو اللہ نے اس کو اور اس کی دولت کو زمین میں دھنسا دیا وہ دولت اس کو اللہ کے عذاب سے نہ بچاسکی۔ اللہ کو کسی کا غرور وتکبر پسند نہیں ہے۔ سورۃ القصص جس کے ابتدائی پانچ رکوعوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو بڑی تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر اپنا کلام نازل کیا مگر انسانی ہاتھوں نے اللہ کی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب اللہ نے قرآن کریم کو نازل کیا ہے وہی قیامت تک انسانوں کی ہدایت کے لئے کافی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے۔ بنی اسرائیل کی ہدایت کا سامان قرآن کریم میں ہے۔ اگر انہوں نے اس راستے کو چھوڑ دیا تو پھر قیامت تک ان کو راہ ہدایت نصیب نہ ہوگی۔ مصر میں دو قومیں آباد تھیں ایک قبطی حکمران ٹولہ جس کے حکمران کو فرعون کہا جاتا تھا۔ وہ پورے ملک میں پانچ فیصد بھی نہ تھے مگر ظالم حکمراں ہونے کی وجہ سے اپنی فوج کی قوت سے ان بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا تھا جو پورے ملک میں واضح اکثریت رکھتے تھے۔ چونکہ بنی اسرائیل بےعمل ہوچکے تھے اور پوری قوم اس قدر منتشر تھی کہ وہ کسی کو اپنا رہنما تسلیم نہ کرتی تھی۔ ان کے اس انتشار سے فائدہ اٹھا کر قبطیوں کا یہ مختصر سا ٹولہ ہر طرح کے ظلم وستم کرنے میں آزاد تھا۔ بنی اسرائیل مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں آئے جن کی تعدادایک سو سے بھی کم تھی لیکن دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی وجہ سے ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی تھی۔ قبطی اچھی طرح جانتے تھے کہ بنی اسرائیل ایک بہت بڑی قوت ہیں ان میں اگر اس کا شعور بیدار ہوگیا تو پھر قبطی اپنی تمام تر طاقت وقوت کے باوجود حکمرانی نہ کرسکیں گے۔ ان کے خوف کی انتہا یہ تھی کہ جب کسی نے یہ بتادیا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو فرعون کے اقتدار کا خاتمہ کردے گا۔ فرعون نے حکم جاری کیا کہ اب بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہوگا اس کو قتل کردیا جائے گا چناچہ بنی اسرائیل میں جوب بھی لڑکا پیدا ہوتا اس کو ماں کی گود سے چھین کر قتل کردیا جاتا تھا۔ بنی اسرائیل کی کمزوریوں کی انتہا یہ تھی کہ جن ماؤں کی گود سے ان کے لخت جگر کو چھینا جاتا وہ اس پر احتجاج تک نہ کرسکتی تھیں۔ اسی دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہکو بھی یہ خطرہ تھا کہ ان کی گود بھی ویران ہوجائے گی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے قلب میں یہ الہام فرمایا کہ وہ اس بچے کو کسی صندوق یا ٹوکری میں رکھ کر دریا میں بہا دیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ایسا ہی کیا۔ ادھر اللہ نے اپنی قدرت کاملہ کا اس طرح اظہار فرمایا کہ وہ صندوق فرعون کے گھر والوں نے ہی پانی سے نکالا۔ سب کی رائے یہی تھی کہ اسے بچے کو قتل کردیا جائے مگر فرعون کی بیو حضرت آسیہ نے کہا کہ ہم اس بچے کو پرورش کریں گے اور اپنا بیٹا بنائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو اس کام پر مامور کیا تھا کہ وہ دیکھتی چلی جائیں کہ یہ صندوق کہاں پہنچتا ہے۔ جب وہ فرعون کے گھر میں پہنچ گیا تو انہیں اطمینان ہوا۔ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک چھوٹے سے دودھ پیتے بچے تھے انہوں نے رونا شروع کیا اور بھوک سے تڑپنا شروع کیا اور کسی کا دودھ نہ پیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا کہ میں ایک ایسے خاندان سے واقف ہوں جو بچے کی پرورش اچھی طرح کرسکتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بلایا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا دودھ پینا شروع کردیا۔ اس طرح اللہ نے ایک ماں کو اپنے بیٹے سے ملادیا فرعون کے گھر میں اسی بچے کی شاہانہ پرورش کرادی جس کے خوف سے وہ بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کر ارہا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوگئے تو وہ قبطیوں کے ظلم کو برداشت نہ کرسکے۔ ایک دن کوئی قبطی اور بنی اسرائیلی شخص کسی بات پر جھگڑ رہے تھے ۔ قبطی بنی اسرائیلی کو گھسیٹ رہا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیلی کو اس ظلم سے بچانا چاہا تو وہ قبطی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے الجھ گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک گھونسا مارا تو وہ قبطی وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو افسوس ہوا کہ ان کے ہاتھوں ایک شخص کا قتل ہوگیا۔ انہوں نے اللہ سے اس خطا پر معافی مانگی جس کو اللہ نے قبول کرلیا اگلے دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہی بنی اسرائیلی شخص کسی دوسرے آدمی سے جھگڑرہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو بڑاہی جھگڑا لو آدمی ہے اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے یہ کہ کر شور مچا دیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) جس طرح تم نے گذشۃ کل ایک قبطی کو مار دیا تھا مجھے بھی قتل کر دو گے۔ یہ بات فرعون کے کان تک پہنچ گئی اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرنے کا حک جاری کردیا۔ کسی مخلص آدمی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتادیا کہ فرعون کے دربار سے آپ کو گرفتار کرنے اور قتل کرنے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے اس ظلم سے بچنے کے لئے مصر سے نکل کر مدین کی طرف ہجرت کر گئے۔ مدین پہنچ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ایک کنویں پر لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں لیکن دو لڑکیاں اپنے جانوروں کو روکے ہوئے الگ تھلگ کھڑی ہوئی ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پے پوچھا کہ تم الگ تھلگ کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا یہ تو ہمارے ہر روز کا معمول ہے جب سارے چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلالیتے ہیں تب ہمارا نمبر آتا ہے اور ہم اپنے جانوروں کو پانی پلاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کڑیل جوان تھے وہ آگے بڑھے اور انہوں نے ان لڑکیوں کے جانوروں کو پانی پلادیا۔ جب وہ دونوں لڑکیاں اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو کر فریاد کی الٰہی ! مجھے اس غربت میں آپ جو کچھ بھی عطا کریں گے اس کے لئے میں حاجت مند ہوں۔ ابھی وہ دعا اور فریاد کررہے تھے کہ وہی دونوں لڑکیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں۔ ان میں سے ایک جو شرم وحیا کا پیکر تھی کہنے لگی ہمارے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلانے کی زحمت کی ہے اس کا کچھ بدلہ دے سکیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) روانہ ہوگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جن کے پاس آئے تھے وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام واقعات سن کر فرمایا کہ اب تم مت گھبرائو۔ اللہ نے تمہیں ایک ظالم قوم سے نجات عطا کردی ہے۔ ان لڑکیوں میں سے ایک نے کہا ابا جان ! اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کو اپنے پاس ملازم رکھ لیں کیونکہ یہ انتہائی مضبوط اور دیانت دار آدمی ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اگر آٹھ سال تک میری خدمت کرو تو میں اپنی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی سے تمہارا نکاح کرسکتا ہوں۔ اور زور زبردستی تو ہے نہیں اگر تم خوشی سے دس سل پورے کرلو تو یہ تمہارا احسان ہوگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس شرط کو قبول کرلیا اور اس طرح دس سال تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت کی۔ چناچہ ان کی ایک لڑکی سے ان کی شادی کردی گئی۔ دس سا ل کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بیوی کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوگئے۔ شاید وہ اس اندھیری رات میں سردی کے موسم میں راستہ بھٹک گئے تھے۔ انہوں نے دور سے ایک روشنی کو دیکھا۔ کہنے لگے کہ میں ابھی اس آگ میں سے کوئی انگارہ لے کر آتا ہوں اور اگر کسی نے راستہ بتادیا تو اسی پر چل پڑیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت کوہ طور کے دامن میں تھے۔ جب وہ ایک درخت کے پاس پہنچے دیکھا کہ ایک درخت میں آگ سی لگی ہوئی ہے۔ اچانک آواز آئی اے موسیٰ یہ میں ہوں تیرا رب اللہ۔ یہی وہ موقع ہے جہاں اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور عصا اور ید بیضا کے معجزات عطا کر کے فرمایا کہ تم فرعون کے پاس جائو اور اس کی سرکشی کے گھمنڈ کو توڑ کر رکھ دو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الہٰی ! میرے لیے ہارون کو جو زبان کے بڑے فصیح وبلیغ ہیں ان کو میرا مدد گار بنادیجئے۔ چناچہ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا معاون و مدد گار بنادیا۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لے کر یہ دونوں بھائی فرعون کے پاس پہنچے۔ اس کو سمجھایا اور معجزات دکھائے ۔ اس نے ان معجزات کو جادو قرار دے کر ملک بھر کے جادو گروں کو جمع کرلیا۔ لیکن جب ان جادوگروں نے دیکھا کہ ان کے بےحقیقت جادو کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزے کے طو پر اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدھا بن گیا اور اس نے ان جادوگروں کے جادو اور طلسم کو توڑ کر رکھ دیا اور وہ سب جادو گر دائرہ اسلام میں دخل ہوگئے۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کامیابی اور فتح نصیب کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) راتوں رات تمام بنی اسرائیل کو مصر سے فلسطین کی طرف لے چل پڑے۔ ادھر فرعون نے ان کا پیچھا کیا۔ اللہ نے پانی میں راستے بنادیئے۔ بنی اسرائیل پار اتر گئے مگر فرعون اور اس کے لشکر یوں کو پانی کی لہروں میں ڈبودیا گیا۔ اس طرح اللہ نے بنی اسرائیل کو کامیاب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کی ہدایت کے لئے ایک عظیم کتاب توریت عطا فرمائی تاکہ یہ قوم دین کے اصولوں کی روشنی میں زندگی کا سفر طے کرسکے۔ مگر انہوں نے اسی توریت میں اپنی طرف سے طرح طرح کی باتیں گھڑ کر اس کتاب کو مشکوک بنادیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیشک توریت و انجیل اللہ نے نازل فرمائیں لیکن انسانی ہاتھوں نے اور بنی اسرائیل کی بےعملی نے ان کی کتاب میں کافی بڑی مقدار میں ایسی باتیں شامل کردیں جو اللہ نے نازل نہیں کی تھیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اب قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے قرآن حکیم جیسی عظیم کتاب نازل کی ہے جس کی حفاظت کا اس نے خود ذمہ لیا ہے۔ فرمایا کہ اب یہی قرآن ساری انسانیت کے لیے کافی ہے۔ اگر بنی اسرائیل اور دنیا کی سب قوموں نے قرآن کریم کی تعلیمات کو اپنا لیا تو ان کو ہدایت اور دین و دنیا کی تمام عظمتیں حاصل ہوجائیں گی۔ لیکن اگر اس قرآن کریم سے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت سے منہ موڑا گیا تو پھر قیامت تک ان کو کوئی اور ہدایت دینے والا نہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو سچائی اور پاکیزگی کے ساتھ ساری دنیا کے لیے رہبر و رہنما بنایا ہے۔ آخر میں فرمایا گیا کہ لوگو ! یہ سارا نظام کائنات اللہ کے حکم سے چل رہا ہے۔ وہی دن کی روشنی اور رات کی تاریکی کو پیدا کرنے والا ہے۔ اگر وہ دن کی روشنی اور رات کی تاریکی کو ختم کرکے ایک ہی چال پر رہے دے تو انسانی حیات مٹ کر رہ جائے گی۔ یہ رات اور دن کا پورا نظام اس کی قدرت کاملہ سے چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے ایک شخص قارون کا ذکر کیا ہے جو بےپناہ دولت کا مالک تھا مگر اس کا غرور وتکبر اس کو لے ڈوبا۔ وہ مال و دولت اس کے کام نہ آئے بلکہ اللہ نے قارون اور اس کی دولت کو زمین میں دھنسا دیا۔ فرمایا کہ جو لوگ غرور وتکبر سے کام نہیں لیتے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہی عزت و سربلندی سے نوازتا ہے لیکن جو لوگ غرور تکبر اور بڑائی اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔

Ayah 28:1

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

طٰسۗمّۗ

Ayahs 28:2–6

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ واضح کتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں۔

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ ﷺ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے بعض صحیح واقعات ان لوگوں کے لیے پڑھ کر سنا رہے ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

بلاشبہ فرعون نے سرزمین (مصر) میں بڑی سرکشی اختیار کر رکھی تھی۔ اور اس نے وہاں کے باشندوں کو فرقوں میں بانت رکھا تھا۔ اور ان میں سے ایک گروہ کو اس نے اس طرح کمزور کردیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ بیشک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم ان (بنی اسرائیل) پر یہ احسان کرنا چاہتے تھے کہ ملک میں جن لوگوں کو کمزور کردیا گیا تھا ان کو لوگوں کا پیشوا (رہنما) بنائیں اور ہم ان ہی کو (ملک کا) وارث بنائیں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ان کو ملک میں جمادیں اور (ہم چاہتے تھے) فرعون اور ہامان کو ان ہی لوگوں کے ہاتھوں وہ کچھ دکھادیں جن چیزوں کا ان کو خطرہ تھا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : نتلوا (ہم پڑھتے ہیں) نبا (خبر۔ حال) ‘ علا (اس نے سرکشی کی) شیع (فرقے۔ گروہ) ‘ یستضعف (وہ کمزور کرتا ہے) ‘ یذبح (وہ ذبح کرتا ہے) یستحی (وہ زندہ رکھتا ہے) ‘ نمن (ہم احسان کرتے ہیں) ‘ ائمۃ (امام) پیشوا۔ رہنما ‘ نری (ہم دکھائیں گے) ‘ یحذرون (وہ ڈرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : سورۃ القصص کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو بتادیئے ہوں اور آپ نے امت کو بتانا ضروری نہ سمجھا ہو۔ لہٰذا ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اگر امت کو بتانا ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ اس سلسلہ میں ضرور ارشاد فرماتے یا صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ سے ضرور پوچھتے۔ سورۃ القصص میں کل 83 آیات ہیں جن میں سے 43 آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا گیا ہے جس میں عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ فرمایا (1) اس کتاب قرآن مجید کی واضح اور کھلی ہوئی آیات ہیں جن کو سمجھنے اور عمل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ وہ اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے نہایت واضح روشن اور آسان آیات ہیں۔ اگر ذرا بھی ان پر توجہ اور دھیان دیا جائے تو اس سے عمل اور نجات کی راہیں آسان ہو سکتی ہیں۔ (2) اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو با لکل صحیح اور درست انداز میں پیش کیا ہے اور بنی اسرائیل نے اس دعوے کے باوجود کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ہیرو ہیں ان کی شخصیت کے بعض پہلوؤں کو داغ دار کر رکھا تھا۔ اور ان کے واقعات زندگی کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کر رکھا تھا کہ اس سے عظمت کے تاثرات کے بجائے پہلو نمایاں ہو کر سامنے آرہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان برے پہلوؤں کو دور رک کے صحیح واقعات کو بیان کیا ہے۔ (3) فرعون نے سرزمین مصر میں بنی اسرائیل کی واضح اکثریت ہونے کے باوجود ان کو انتہائی ذلیل کرکے رکھا ہوا تھا اور ان پر ہر طرح کے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے۔ جب فرعون اور اس قوم کی سرکشی ‘ تکبر و غرور اور ظلم و ستم اپنی انتہاؤں پر پہنچ گیا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو چند معجزات دے کر بھیجا تاکہ ان کی اصلاح کی جاسکے ۔ (4) ” لڑائو اور حکومت کرو “ اس سیاسی اصول کی ابتداء شاید فرعون نے کی تھی۔ صورت حال یہتھی کہ اس وقت مصر میں بنی اسرائیل پچانوے فیصد تھے اور قبطی حکم ران اور اس کے ماننے والوں کی تعداد بہت تھوڑی سی تھی مگر انہوں نے طاقت وقوت ‘ ظلم و جبر کی ایسی پالیسی اختیار کی ہوئی تھی کہ جس سے پوری قوم بنی اسرائیل پست سے پس اور ذلیل کام کرکے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے پر مجبور کردی گئی تھی۔ نتیجہ یہ تھا کہ اس کے بعد اس قوم میں ظالم حکمرانوں کے ظلم کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور طاقت ختم ہی ہوکر رہ گئی تھی۔ فرعون نے اس شخصی حکومت کی بقا کے لئے ہر طرف قدم قدم پر اپنے جاسوس پھیلارکھے تھے۔ اور پوری قوم بنی اسرائیل کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر کے ایک کو دوسرے سے بھڑکا رکھا تھا۔ حکومتی جبر کے ان اقدامات سے بنی اسرائیل تباہی اور ذلت کے آخری کنارے تک پہنچ چکے تھے۔ (5) قوم بنی اسرائیل مختلف فرقوں میں تقسیم ہونے اور اریاستی جبر اور ظلم و ستم کے سامنے اس قدر بےبس ‘ مجبور اور کمزور ہوچکی تھی کہ ماؤں کی گود سے ان کے معصوم بچوں کو چھین کر ان کے سامنے ذبح کیا جاتا اور بچوں کے ٹکڑے کردیئے جاتے مگر اس پر کسی کو اعتراض کرنے یا اس سلسلہ میں احتجاج تک کرنے کی اجازت نہ تھی۔ لڑکیوں کو اس لئے زندہ رکھتے تھے کہ ان سے فرعون کی سلطنت کو کوئی خطرہ نہیں تھا اور ان کو یقین تھا کہ آئندہ وہ ان کی باندیاں اور غلام بن کر ان کے کام آئیں گی۔ (6) فرعون زبردست فسادی آدمی تھا جس نے اپنے اقتدار اور سلطنت کو بچانے کے لئے ہر طرف تباہی و بربادی کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اس کے شر سے کوئی محفوظ نہ تھا۔ (7) فرعون کی ان سازشوں اور کوششوں کے برخلاف اللہ نے یہ فیصلہ فرمادیا تھا کہ اس کمزور اور بےبس قوم کو ایسی طاقت و قوت عطاکر دی جائے جس سے فرعون اپنے کیفر کردار تک پہنچ جائے اور بنی اسرائیل کو وہ عظمت ‘ حکومت اور سلطنت دے دی جائے جس کا وہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پرجوش خطبات سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی کی لہر پیدا ہوگئی اور وہ فرعون کے ظلم و ستم کو مٹانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ دس سات تک مدین میں جلاوطنی کی زندگی گذارنے کے بعد جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر واپس تشریف لائے تو اللہ نے ان کو نبوت و رسالت سے نواز کر ایسے معجزات عطا کئے جن کے سامنے فرعون اور اس کی طاقتیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ اور اس طرح فرعون اور ہامان کو جو خطرہ تھا جس کی وجہ سے وہ قوم بنی اسرائیل کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اللہ نے اپنی مشیت اور ارادے سے فرعون کی تدبیریں خود اس پر الٹ دیں۔ اللہ نے فرعون اور اس کے ماننے والے لشکریوں کو پانی میں غرق کر کے بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنادیا۔ جب تک قوم بنی اسرائیل فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے وہ فرعون کے غلاموں جیسی زندگی گذارتے رہے لیکن جب وہ اللہ کے دین پر چلتے ہوئے متحد و متفق ہوء تو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے فرعون کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ختم کردیا اور اہل ایمان کو عظمت کی بلندیاں عطا فرمادیں۔ ان آیات میں درحقیقت کفار مکہ کو یہ سمجھایاجارہا ہے کہ کفر کتنا بھی طاقت ور ہو جب لوگ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں تو قدرت کا غیبی ہاتھ ان کی مدد کر کے اس بلند مقام تک پہنچادیتا ہے جہاں ان کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ بتایا جارہا ہے کہ کفار مکہ یہ نہ سمجھیں کہ اہل ایمان کمزور ہیں اور ان پر ظلم و ستم کیا جارہا ہے اس کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ بلکہ وہ وقت بہت قریب ہے جب اللہ تعالیٰ ان کمزور اور بےبس مسلمانوں کو اتنی طاقت و قوت عطا فرمادے گا کہ کفر کے ایوانوں میں زلزلے آجائیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے خلوص کو قبول کرکے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو اتنی زبردست قوت و طاقت بنادیا کہ ساری دنیا کی سلطنتیں ان کے سامنے بےبس ہو کر رہ گئیں۔ اہل ایمان کامیاب و بامراد ہوئے اور کافر اس دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہوئے اور انہوں نے اپنی آخرت بھی برباد کر ڈالی۔
Ayahs 28:7–13

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کیا (ان کے دل میں ڈالا) کہ وہ (موسیٰ کو) دودھ پلاتی رہیں۔ پھر جب اس طرف سے (فرعون کی طر سے ) کوئی خطرہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیں۔ نہ تو کوئی اندیشہ کرنا اور نہ غم کھانا۔ یقیناً ہم اس کو تمہاری طرف لوٹادیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنادیں گے۔

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

پھر فرعون کے گھر والوں نے اسکو (موسیٰ کو) اٹھا لیا تاکہ وہ ان کیلئے دشمنی اور غم کا سبب بن جائے۔ بلاشبہ فرعون ‘ ہامان اور ان دونوں کے لشکر نے بڑی غلطی کھائی۔

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل مت کرنا۔ ممکن ہے یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں یہ (سب کچھ کرتے ہوئے وہ) بیخبر تھے۔

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور صبح کو موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہکا دل بےقرار ہوگیا۔ اگر ہم نے اس کے دل کو مضبوط نہ کردیا ہوتا تو وہ اس کا حال ظاہر کردیتی۔ (یہ اس لئے کیا) تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے رہے۔

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جائو۔ چناچہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح دیکھتی رہی کہ ( ِرعون والوں کو) پتہ ہی نہ چل سکا۔

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے دودھ پلانے والیوں کے دودھ کی اس پر بندش لگا رکھی تھی۔ اس پر (موسیٰ کی بہن نے ) کہا کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ بتائوں جو تمہارے اس بچے کی پرورش کرے۔ اور وہ اس (بچے) کے خیر خواہ بھی ہوں۔

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کو) اس کی والدہ کی طرف لوٹادیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اور وہ غم گین نہ ہو۔ اور تاکہ وہ جان لے کر اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس حقیقت کو ) نہیں جانتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 13 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ارضعیہ ( دودھ پلا) ‘ الیم (دریا۔ سمندر) انا رادوہ (بےشک ہم اس کو لوٹا دیں گے) ‘ التقط ( اس نے اٹھالیا) ‘ خطئین ( خطا کرنے والے) ‘ امرأ ۃ (عورت) قرۃ عین (آنکھوں کی ٹھنڈک) اصبح (ہوگیا) فئواد ( دل) فرغ (بےقرار۔ بےچین) ‘ کا دت (قریب ہے) ‘ ربطنا ( ہم نے باندھ دیا) قصی (پیچھے جا) ‘ جنب (دور۔ اجنبیت) ‘ حرمنا ( ہم نے روک دیا) ‘ المراضع (دودھ پلانے والیاں) ھل ادل (کیا میں بتاؤں ) یکفلون (وہ ذمہ داری لیتے ہیں) ‘ کی تقر ( تاکہ ٹھنڈی رہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 13 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ نے ان کو فرعون کی ان جاسوس عورتوں سے چھپائے رکھا جو دن رات ہر گھر میں جھانک جھانک کر یہ دیکھتی رہتی تھیں کہ کوئی نیا بچہ پیدا تو نہیں ہوا۔ اگر ان کو معلوم ہوجاتا تو وہ پیدا ہوتے ہی بچے کو بیرحمی سے ذبح کر کے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا حمل بھی زیادہ ظاہر نہیں ہوا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے تو ان کی والدہ ان کو اچھی طرح چھپائے رہیں کہ کہیں کسی کو معلوم نہ ہوجائے کہ اس گھر میں کسی بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ہر وقت ایک انجانے خوف سے لرزتی رہتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اس بات کو جماد یا کہ جب بھی خوف زیادہ ہوجائے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی محفوظ ٹوکرے یا صندوق میں رکھ کر پانی میں بہادیا جائے۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائیں گے اور ہر دودھ پلانے والی کے دودھ کو اس سے روک دیں گے اور اس بچے کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیں گے۔ یہ بات ان کی والدہ کو خواب میں بتادی گئی یا اللہ نے ان کے دل میں جمادیا۔ بہر حال جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو یقین ہوگیا کہ اب ان کو لوگوں کی نظروں سے محفوظ رکھنا ممکن نہ ہوگا تو انہوں نے دل پر پتھررکھ کر ایک محفوظ ٹو کرے میں ڈال کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریائے نیل کے پانی میں بہادیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بڑی بہن مریم اس ٹوکرے پر اس طرح نظر رکھے رہیں کہ کسی دیکھنے والے کو شبہ تک نہ ہونے پائے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بڑی بہن مریم اس ٹو کرے پر اس طرح نظر رکھے رہیں کہ کسی دیکھنے والے کو شبہ تک نہ ہونے پائے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے لوگوں نے نکال لیا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کسی طرح فرعون کے محل میں داخل ہوگئیں۔ انہوں نے سنا کوئی کہہ رہا ہے کہ اس بچے کو قتل کردیا جائے یا ماردیا جائے مگر فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے کہا کہ اتنا پیارا بچہ ہے اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ اس کو محل میں پرورش کیا جائے اور بیٹوں کی طرح رکھا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے دیکھا کہ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بچے نے رونا شروع کیا۔ جو بھی دودھ پلانے والی دودھ پلانے کی کوشش کرتی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس طرف سے منہ پھیر لیتے ۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کہا کہ میں ایسے خاندان سے واقف ہوں کہ اگر ان کے حوالے کردیا جائے تو وہ خیر خواہی سے اس کی پرورش کرسکتے ہیں۔ فرعون کی بیوی نے کہا کہ اسخاندان کی عورت کو بلایا جائے ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں لیا تو انہوں نے دودھ پیناشروع کردیا اور اس طرح اللہ نے بیٹے کو ماں سے ملادیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی گود میں پرورش پانا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ماں جس کا بچہ بظاہر اس سے جدا ہوگیا تھا ان کی ممتا کی کیفیت کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے بچے کو موجوں کے حوالے تو کردیا تھا مگر وہ اس قدر بےقرار ہوگئی تھیں کہ شاید وہ کا اظہار کردیتیں مگر اللہ نے ان کے دل کو جمائے رکھا اور اطرح یہ راز راز ہی رہا اور کسی پر ظاہر نہ ہوسکا۔ فرعون کے محل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش ہونے کا واقعہ درحقیقت فرعون اور ہامان کی بری طرح شکست تھی کیونکہ وہ اپنی تدبیریں کررہے تھے لیکن اللہ کی تدبیر کے سامنے ان کی ایک نہ چل کسی کیونکہ اللہ کی تدابیر اور مشیت کے سامنے کسی کی تدبیر کام نہیں آسکتی۔
Ayahs 28:14–17

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جوانی اور کمال شباب کو پہنچ گئے تو ہم نے انہیں علم و حکمت سے نوازا۔ اور ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ (ایک دن) شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جب وہاں کے باشندے بیخبر ( سوئے ہوئے) تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے دیکھا۔ ایک تو موسیٰ کی جماعت کا تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔ تو جو شخص ان کا اپنا تھا اس نے اپنے دشمن پر موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد مانگی۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مکامارا۔ تو اس کا کام تمام ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہ تو ایک شیطانی کام ہوگیا ۔ بیشک شیطان تو کھلا دشمن اور بہکاے والا ہے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا۔ پس مجھے بخش دیجئے تو اللہ نے ان کو معاف کردیا۔ بیشک وہی تو بہت معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

عرض کیا الہٰی ! جیسا کہ آپ نے مجھ پر فضل وکرم کیا ہے تو میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 17 بلغ (پہنچ گیا) ‘ اشد (قوت۔ جوانی) ‘ استوی (پورا ہوگیا۔ برابر ہوا) ‘ رجلین (رجل) دو مرد ‘ استغاث (اس نے فریاد کی) ‘ وکز ( مکامارا۔ گھونسا مارا) ‘ قضیٰ (پورا ہوگیا) ‘ ظھیر (مدد گار۔ مدد کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 14 تا 17 : اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پچیس تیس سال کے کڑیل جوان یعنی جسمانی ‘ عقلی اور قلبی اعتبار سے متوازن شخصیت بنکر ابھرے تو شاہی محل میں پرورش پانے کیوجہ سے چہرے پر رعب اور گفتگو میں ایک خاص وقار جھلکتا نظر آتا تھا۔ وہ اکثر بنی اسرائیل کی بستیوں میں تشریف لے جاتے اور اپنی آنکھوں سے حکمران طبقے قبطیوں کے ظلم و ستم کو دیکھتے تھے۔ ایک دن جب سڑکیں ویران اور سنسان پڑی ہوئی تھیں تو آ پنے دیکھا کہ ایک قبطی جو فرعون کے باور چیوں میں سے تھا اور ایک اسرائیلی آپس میں ایک دوسرے سے مار پیٹ کررہے ہیں۔ جب اسرائیلی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آتے دیکھا تو اس نے قبطی کے ظلم و زیادتی سے بچنے کے لئے ان سے فریاد کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قبطی کو سمجھانے اور بیچ بچائو کرنے کی کوشش کی مگر اس قبطی پر اپنی برتری کا جنوں سوار تھا۔ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں بھی گستاخانہ انداز اختیار کیا مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت تحمل اور برداشت سے کام لیا اور ایک دوسرے کو چھڑانے میں قبطی کے ایک گھونسا مارا تو وہ اس گھونسے کی تاب نہ لا کر مر گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت افسوس ہوا کیونکہ ان کا مقصد قبطی کو تنبیہ کرنا تھا قتل کرنا نہیں تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی وقت اللہ کی بار گاہ میں شرمندگی اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا الہٰی ! یہ جو کچھ بھی ہواوہ شیطان کی حرکتوں کا اثر ہے وہ شیطان جو انسان کا کھلا دشمن ہے۔ الہی مجھ سے زیادتی ہوگئی ہے مجھے معاف کر دیجئے۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف کرنے والا مہربان ہے اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس غلطی کو معاف کردیا کیونکہ انہوں نے یہ قتل ارادہ اور قصد کے ساتھ نہیں کیا تھا بلکہ اپ تو دونوں میں صلح کرانے کی جدوجہد فرما رہے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی عرض کردیا الہی ! میرے اوپر تو آپ کے بہت احسانات ہیں اب میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ معاملے کی تحقیق ہونے تک کسی کی حمایت نہیں کروں گا۔ اس واقعہ کی بقیہ تفصیلات تو اس سے بعد کی آیات میں آرہی ہیں۔ ان آیات کے سلسلہ میں چند باتیں عرض ہیں۔ (1) یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ منصب نبوت پر فائز نہیں ہوئے تھے۔ (2) اگر کہیں آپس میں جھگڑا ہوجائے تو ان میں صلح صفائی کرانے کی کوشش کرنا نہایت ثواب کا کام ہے۔ (3) اگر کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کو فوراً ہی اللہ سے معافی مانگ لینا چاہیے۔ اللہ اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہے کہ وہ اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور عام طور پر وہ معاف فرمادیتا ہے۔ (4) جب تک معاملے کی پوری طرح تحقیق نہ ہوجائے اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ محض گمان پر فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ گمان محض ایک گمان ہی ہوا اور اصلیت کچھ بھی نہ ہو۔
Ayahs 28:18–21

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر وہ صبح ہی صبح حالات کو دیکھتے ہوئے شہر پہنچے تو انہوں نے اچانک دیکھا وہی (اسرائیلی) شخص جس نے گذشۃ کل موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد مانگی تھی پھر وہ فریاد کررہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا بلاشبہ تو کھلا گمراہ ہے۔

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب (موسیٰ (علیہ السلام) نے) چاہا کہ اس پر ہاتھ ڈالیں جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ مجھے قتل کردے جس طرح تو نے گذشتہ کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا۔ تو یہ چاہتا ہے کہ اس سرزمین پر زبر دستی کرتا پھرے۔ اور تو میل ملاپ کرانے والوں میں سے نہیں ہے۔

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک آدمی شہر کے پر لے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) (فرعون کے ) درباری آپ کے بارے میں مشورہ کررہے ہیں تاکہ وہ آپ کو قتل کردیں۔ پس آپ یہاں سے نکل جائیے۔ بیشک میں آپ کا بھلا چاہنے والوں میں سے ہوں۔

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرتے ہوئے اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے اور عرض کیا الہٰی ! مجھے ظالم قوم سے بچا لیجئے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 18 تا 21 : یترقب (انتظار کرتا ہے۔ دیکھتا بھالتا ہے) استنصر (اس نے مدد مانگی) ‘ الامس (گذشۃ کل) ‘ یستصرخ (فریاد کرتا ہے۔ چلاتا ہے) ‘ غوی (گم راہ) یبطش (وہ پکڑتا ہے) جبار (زبردستی کرنے والا) ‘ اقصا ( دور) ‘ یا تمرون (وہ مشورہ کرتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 18 تا 21 : ظالم و جابر قوموں کا انداز ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگر ہزاروں آدمی بھی ان کے ظلم وستم کا شکار ہوکر مرجائیں ‘ قتل ‘ ہوجائیں اور تباہ و برباد ہوجائیں تو ان کے نزدیک کوئی خاص بات نہیں ہوتی لیکن اگر ان ظالموں کا ایک آدمی بھی مارا جائے تو اس کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جیسے ساری انسانیت کا خون ہوگیا ہے۔ چناچہ فرعون جو اپنے اقتدار کی حفاظت کیلئے ظلم و زیادتی کا بازار گرم کئے ہوئے تھا اور ماؤں کی گودیں اجاڑنے اور قتل و غارت گری کرنے میں سب سے آگے تھا جب اس کی قوم کا ایک قبطی مارا گیا تو ایسامعلوم ہورہا تھا جیسے پوری حکومت میں بھونچا ل آگیا ہے۔ ہر طرف اسی کا چرچا تھا کہ ایک قبطی مارا گیا ہے۔ مگر قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک اسرائیلی اور قبطی کے درمیان صلح صفائی کرنے کے لئے آگے بڑھے تھے اور ان کے ایک ہی گھونسے سے قبطی مارا گیا تھا تو اگلے دن صبح کو ایک انجانے خوف سے پریشان شہر کی طرف نکلے۔ آپ نے دیکھا کہ وہی اسرائیلی شخص جس نے گذشتہ کل اپنی مدد کے لئے پکارا تھا وہ کسی دوسرے آدمی سے الجھ رہا ہے۔ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو پھر فریاد کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سمجھ گء کہ یہ جھگڑالو آدمی ہے جو ہر ایک سے لڑتا پھرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی مدد کرنے کی بجائے اس اسرائیلی کو زبردست ڈانٹ پلائی کہ تو بڑا ہی برا آدمی ہے جو لوگوں سے جھگڑتا پھرتا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اسرائیلی کو اس شخص سے علیحدہ کرنے کے لئے جو ہاتھ بڑھایا تو وہ اسرائیلی کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تم مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح گذشتہ کل تم نے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا ایسا لگتا ہے کہ تم اس سرزمین پر اپنا زور چلانا چاہتے ہو اور باہمی صلح اور ملاپ کرانا نہیں چاہتے۔ جب اسرائیلی کے منہ سے یہ نکلا تو پورے شہر میں اس کا چرچا ہوگیا کہ گذشتہ کل جس قبطی کا خون ہوا تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ بات فرعون تک پہنچ گئی۔ اس نے سارے درباریوں کو جمع کر کے مشورہ کیا ۔ طے پایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بلا کر ان سے اس خون کا بدلہ لیا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک خیر خواہ جو اس پوری کاروائی کو سن رہا تھا وہ شہر کے دوسرے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! فرعون کے دربار میں تمہارے قتل کے منصوبے بن رہے ہیں تم فوراً یہاں سے کہیں دور نکل جائو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو پہلے ہی سے ان حالات کا اندازہ کرچکے تھے۔ وہ اسی خوف کی حالت میں ایک طرف روانہ ہوگئے۔ چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کا رخ کس طرف ہے اس لئے اللہ کی بار گاہ میں عرض کیا الہیٰ مجھے ان ظالموں سے بچا لیجئے ( اور سیدھا راستہ عطا فرمادیجئے) ۔ اس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے مدین پہنچ گئے۔ اس واقعہ کی بقیہ تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے۔
Ayahs 28:22–25

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب (موسیٰ نے ) مدین کی طرف رخ کیا تو کہا کہ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ دکھائے گا

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب وہ مدین کے (کنویں) پانی پر آئے تو انہوں نے بہت سے لوگوں کو (اپنے جانوروں کو) پانی پلاتے پایا۔ اور (موسیٰ (علیہ السلام) نے ) دیکھا دو عورتیں ان سب سے الگ (اپنی بکریوں کو) رو کے کھڑی ہیں (موسیٰ (علیہ السلام) نے ) پوچھا کہ تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ ان دونوں نے کہا ہم اس وقت تک (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلاتیں جب تک (چرواہے) واپس نہ چلے جائیں۔ اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پھر ( موسیٰ (علیہ السلام) نے بکریوں کو) پانی پلادیا۔ اور ہٹ کر ایک سائے کی طرف آگئے عرض کیا الٰہی ! جو نعمت بھی مجھے عطا فرمائیں میں اس کا محتاج ہوں۔

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پھر ان دونوں میں سے ایک شرم وحیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی۔ کہا میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ کو اس کا صلہ دیں جو آپ نے (ہماری بکریوں کو) پانی پلاکر کیا ہے۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے (شعیب کے) پاس آئے اور اپنا حال بیان کیا تو انہوں نے کہا مت ڈرو۔ تم ظالم قوم سے بچ کر آگئے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 25 : توجہ ( متوجہ ہوا۔ اس نے رخ کیا) ‘ تلقاء (طرف۔ سمت) ‘ یسقون ( وہ پانی پلاتے ہیں) ‘ تذودان ( روکے ہوئے) ‘ ماخطبکما ( تم دونوں کا کیا معاملہ ہے) ‘ لانسقی (ہم نہیں پلاتیں) یصدر (واپس لے جاتا ہے۔ لے جاتے ہیں) ‘ الرعائ (راع) چرواہے) ‘ الظل (سایہ) ‘ تمشی (وہ چلتی ہے) تشریح : آیت نمبر 22 تا 25 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کی ظالمانہ کاروائیوں سے بچنے کے لئے ایک انجانی سی منزل کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ہر مشکل کے وقت تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صالحین کا ایک ہی طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے اللہ سے دعاکرکے مدد مانگتے ہیں چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ رب العالمین میں عرض کیا الٰہی ! مجھے پوری توقع ہے کہ آپ مجھے کسی سیدھے راستے کی طرف ڈال دیں گے۔ اللہ نے ان کا رخ مدین کی طرف پھیر دیا۔ مدین جو کہ فرعون کی سلطنت سے باہرکا علاقہ تھا۔ آپ جب مدین کے کنویں پر پہنچے جہاں بہت سے لوگوں کی بھیڑ جمع تھی اور وہ اپنے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ دو لڑکیاں الگ تھلگ اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ حضرت موسیٰ نے ان کی بےچارگی کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ تمہار کیا معاملہ ہے ؟ یعنی تم سب سے الگ تھلگ کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم اس وقت تک اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکتیں جب تک یہ سارے چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلاکرنکل نہ جائیں۔ کہنے لگیں کہ ہمارے والد بہت بوڑھے اور کمزور ہیں اس لئے ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوان اور طاقت ور تھے انہوں نے آگے بڑھ کر ان لڑکویں کے جانوروں کو پانی پلادیا اور یقیناً ان کے گھر کے لئے پانی بھی دے دیا ہوگا۔ سفر کی شدید تکان اور بھوک پیاس کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بغیر کسی معاوضے کے یہ خدمت سرانجام دی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت مندوں اور کمزوروں کی مدد کرنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ایک سنت ہے۔ جب یہ دونوں لڑکیاں خلاف معمول بہت جلد گھر آگئیں تو ان کے والد حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حیرت سے پوچھا کہ آج اتنی جلدی تم کیسے آگئیں ؟ انہوں نے پورا واقعہ بتایا کہ ایک اجنبی مسافر نے ان کی کس طرح مدد کی۔ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر رب العالمین سے عرض کرنے لگے کہ الٰہی ! آپ کی عنایتوں کا میں محتاج ہوں میرا پروردگار جو بھی نازل فرمائے گا اس کا میں حاجت مندہوں۔ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) نے یہ پورا واقعہ سنا تو انہوں نے ان دونوں میں سے ایک لڑکی کو بھیجا کہ وہ اس مسافر کو ان کے پاس لے کر آئیں۔ چناچہ وہ شرم وحیا کا پیکر بنی ہوئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچی اور کہا کہ ہمارے والد یہ چاہتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا ہے شاید آپ کو اس کا صلہ دینا چاہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور پورا واقعہ کہہ سنایا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے پورا واقعہ سننے کے بعد فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ اب کسی طرح کا خوف نہ کریں آپ محفوظ جگہ ہیں اور آپ کو اللہ رب العالمین نے اس ظالم قوم سے نجات عطا فرمادی ہے۔ اس واقعہ کا بقیہ حصہ اگلی آیات میں آرہا ہے۔
Ayahs 28:26–28

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان دونوں میں سے ایک نہ کہا اے میرے ابان جان ! انہیں (اپنے پاس) ملازم رکھ لیجئے بیشک بہترین ملازم وہ ہے جو طاقت ور اور امانت دارہو۔

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

(شعیب نے ) کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں۔ اس شرط کے ساتھ کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو۔ پھر اگر تم دس سال پورے کرلو تو وہ تمہاری طرف سے نیکی ہوگی۔ لیکن میں تمہیں کسی مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ اگر اللہ نے چاہا تو مجھے تم بہترین معاملہ کرنے والا پائو گے۔

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

(موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان (ایک معاہدہ) ہے۔ ان دو مدتوں میں سے میں جو مدت پوری کرلوں بہر حال مجھ پر کوئی جبر نہیں ہونا چاہیے۔ اور جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 26 تا 28 : احدی (ایک) یابت (اے میرے ابا جان) ‘ استاجر (اجرت پر رکھ لے) ‘ انکح ( میں نکاح کرتا ہوں) ھتین (یہ دونوں) ثمنی (آٹھ) حجج ( سال۔ برس) اشق (میں مشکل میں ڈالتا ہوں) ایما (جو بھی) الاجلین (اجل) مدتیں ‘ لاعدوان (کوئی جبر یا زبردستی نہ ہو) ‘ وکیل ( گواہ۔ کام بنانے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 28 : جب حضرت موسیٰ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو ان کی مہمان نوازی کی گئی۔ کچھ دنوں کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دونوں بیٹیوں میں سے ایک نے کہا کہ اے ابا جان ! اگر ان کو بکریوں کی دیکھ بھال اور گھر کی حفاظت کے لئے رکھ لیاجائے تو بہتر ہوگا کیونکہ چند دنوں کے تجربہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ ان میں وہ صلاحیت موجود ہے جو کسی محنت پر مقررکئے جانے والے شخص میں ہونی چاہیے یعنی طاقت و قوت اور دیانت وامانت۔ یہی دو باتیں ایسی ہیں جن پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ایک ایسے ہی آدمی کی ضرورت تھی اور حضرت موسیٰ بھی اپنے ٹھکانے کی تلاش میں تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ اگر تم آٹھ سال تک میرے ساتھ رہنے کا وعدہ کرتے ہو تو میں ان دونوں لڑکیوں میں سے کسی ایک کا نکاح تم سے کروں گا۔ لیکن اگر تمآٹھ سال کے بجائے دس سال تک قیام کرو تو یہ متہاری طرف سے ایک نیکی ہوگی۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں لیکن ان دونوں مدتوں میں سے کسی ایک کو پورا کرنا میرے اختیار میں ہوگا میں آٹھ سال تک آپ کی خدمت کروں یا دس سال تک۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی تیارہو گئے اور اس طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بڑی بیٹی جس کا نام توریت میں صفورا آتا ہے ان سے نکاح کردیا۔ اس طرح شعیب (علیہ السلام) کو داماد مل گیا اور ان کے گھر کے کام کاج اور خاص طور پر بکریوں کو چرانے کی خدمات پر بھی معمورہو گئے۔ چند باتوں کی وضاحت پیش ہے جو ان آیتوں کو پوری طرح سمجھنے میں مدد گار ہوں گی۔ (1) علماء نے اس پر بحث کی ہے کہ کیا لڑکی کا مہر خدمت کو بھی قرار دیا جاسکتا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ یہ سب باتیں نکاح سے پہلے کی ہیں جیسا کہ ایسے موقعوں پر ابتدائی بات چیت کی جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ شریعت مصطفوی ﷺ میں اس کی اجازت نہیں ہے کہ خدمت کو مہر قراردے جائے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بکریاں ان لڑکیوں کی ملکیت ہوں جس کا پورا فائدہ ان لڑکیوں کو پہنچتا ہو اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی شریعت میں اس کی اجازت بھی موجود ہو۔ (2) حضرت موسیٰ کو جو خدمت سپرد کی گئی تھی وہ بکریوں کو چرانے اور ان کو پانی پلانے پر تھی اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ ہر جانور کے گوشت اور قریب رہنے کے پورے پورے اثرات انسان پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لئے کسی نبی نے کتے نہیں پالے بلکہ بکریوں کو پالا اور چرایا ہے کیونکہ بکرے اور بکری میں ایک عاجزی اور انکساری موجود ہوتی ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی نے بکریوں کو چرایا ہے چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ” اللہ نے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط (اس زمانہ کا سکہ) کی مزدوری پرچرائی ہیں “ (بخاری شریف) (3) حضرت موسیٰ نے ابتدا میں تو یہ کہہ دیا تھا کہ آٹھ سال یا دس سال دونوں مدتوں میں سے کسی ایک مدت کو پورا کرنے میں مجھے اختیار حاصل ہوگا ۔ لیکن معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے پورے دس سال تک حضرت شیعب (علیہ السلام) اور ان کے گھرانے کی خدمات سرانجام دی تھیں۔ (4) دس سال تک حضرت موسیٰ کا حضرت شعیب ؐ کی خدمت کرنا ممکن ہے قدرت کے نظام کا یہ حصہ ہو کہ اللہ نے حضرت شعیب ؐ کو ان کی تعلیم و تربیت پر مقرر فرمایا ہو۔ کیونکہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچے ہیں تو قرآن کریم کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ان کی عمر مباک تیس سال کی تھی اور جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس مصر تشریف لے جارہے ہیں تو ان کی عمر مبارک چالیس کی ہوگئی تھی ۔ اسی عمر میں آپ کو وادی مقدس میں اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنایا اور آپ کو معجزات دیئے گئے۔ نبی کریم ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگیوں میں یہ بھی ا کی مشابہت ہے کہ کس طرح نبی کریم ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نعمت نبوت و رسالت سے نوازا گیا تھا اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی چالیس سال کی عمر میں نبی اور رسول بنایا گیا تھا اور اس طرح نبوت و رسالت سے پہلے ان کے ذہن و فکر کی تربیت حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ذمے فرمائی گئی ہو۔ (5) ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب بھی فریقین میں کوئی معاہدہ ہو تو وہ بالکل صاف ستھرا اور واضح طریقہ پر ہونا چاہیے تاکہ آگے چل کر مسائل پیدانہ ہوں اسی لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی صاف صاف بات فرمائی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب بھی واضح تھا کہ میں آٹھ سال خدمت کروں یا دس سال مجھے کسی مدت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ البتہ میں پوری دیانت و امانت سے اپنا کام کروں گا۔
Ayahs 28:29–35

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے (معاہدہ کی) مدت پوری کرلی اور وہ اپنی بیوی کو لے کر (مصر کی طرف) چلے تو انہیں کوہ طور کی طرف سے ایک آگ نظر آئی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا تم یہیں ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ ممکن ہے میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لائوں یا کوئی آگ کا انگارہ لے آئوں تاکہ تم (اپنا بدن) تاپ سکو۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب (موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچے تو اس میدان کے مبارک مقام کے داہنی جانب سے ایک درخت سے آواز آئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یہ میں اللہ ‘ میں رب العالمین ہوں۔

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور تم اپنا عصا (لاٹھی۔ زمین پر) پھینکو۔ پھر جب انہوں نے اس کو لہراتے بل کھاتے دیکھا جو ایک سانپ کی طرح تھا تو پیٹھ پھیر کر بھا گے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اللہ نے فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آگے آئو ‘ مت ڈرو تم امن میں ہو۔

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو (تم دیکھو گے کہ ) وہ بغیر کسی عیب کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا۔ اور خوف دور کرنے کے لئے اپنا ہاتھ اپنے بازو اپنے پہلو سے ملا لینا۔ تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں (کی ہدایت کے لئے) یہ دو روشن نشانیاں ہیں۔ کیونکہ وہ نہایت نافرمان قوم ہیں۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

عرض کیا میرے پروردگار بیشک میں نے ان میں سے ایک شخص کو ما ڈالا تھا۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (اس کے بدے میں) مجھے قتل نہ کردیں۔

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) زبان کے اعتبار سے زیادہ فصیح ہیں۔ آپ ان کو میرے ساتھ مدد گار بنا کر بھیج دیجئے تاکہ وہ (ہارون (علیہ السلام) ) میری تصدیق کریں۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہارے بازو کو مضبوط کردیں گے۔ اور ہم تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے۔ ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم دونوں تک نہ پہنچ سکیں گے ۔ تم دونوں اور وہ لوگ جو تمہاری پیروی کریں گے وہ غالب رہیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 : سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ یا دس سال تک خدمت کرنے کا جب معاہدہ وپرا ہوگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوگئے تا کہ اپنی والدہ ‘ بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) اور رشتہ داروں سے ملاقات کرسکیں۔ چونکہ اس فرعونکا انتقال ہوچکا تھا جس کے زمانہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں غلطی سے ایک قبطی مارا گیا تھا اور اب دوسرا فرعون حکومت کررہا تھا جو پہلے کے فرعون کے مقابلے میں ذرا کچھ نرم دل تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے آپ کے ساتھ کچھ بکریاں بھی کردیں تھیں تاکہ ان سے فائدہ اٹھا یا جاسکے۔ سردی کا زمانہ تھا اور چلتے چلتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھی بھول گئے تھے۔ سردی کی اس اندھیری رات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دور سے ایک روشنی اور چمک نظر آئی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو تاکہ میں کچھ آگ لا سکوں اور تم سردی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے اپنے جسم کو تاپ سکو اور کسی سے راستہ بھی پوچھ لوں گا تاکہ اس صحرا میں ہم کہیں بھٹک نہ جائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف روانہ ہوئے جو کوہ طور کے داہنی جانب روشن ہورہی تھی۔ جب آپ اس آگ کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک درخت میں آگ لگی ہوئی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس توقع پر آگے بڑھے کہ اگر اس درخت کی کوئی شاخ جل کر گرجائے تو میں اس کو اٹھا کرلے جاؤں ۔ جب قریب پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ وہ آگ ان سے دور ہورہی ہے جب وہ ذرا پلٹے تو ایسا محسوس ہوا جیسے آگ ان کی طرف آرہی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک انجانا سا خوف محسوس ہوا۔ ابھی آپ اس کشمکش میں تھے کہ اس درخت میں سے آواز آئی اے موسیٰ (علیہ السلام) تم مت گھبرائو یہ میں ہوں اللہ۔ رب العالمین۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چاروں طرف دیکھنے لگے کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ آواز تو ہر طرف سے آرہی ہے۔ اسی نور تجلی سے آواز آئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے۔ عرض کیا یہ ایک لاٹھی ہے۔ فرمایا کہ تم اس عصا (لاٹھی) کو زمین پر پھینکو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی عصا کو پھینکا تو وہ عصا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ڈر کے مارے اس طرح پیٹھ پھیر کر بھاگے کہ پیچھے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ آوازآئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم ڈورمت آگے آئو۔ تم بالکل امن و عافیت سے ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے جیسے ہی اس سانپ یا اژدھے کے منہ میں ہاتھ ڈالا تو وہ پھر سے عصا بن گیا۔ اس کے بعداللہ نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ کو اپنے بغل میں ڈال کر نکالو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی بغل میں ہاتھ ڈال کر اس کو باہر نکالا تو وہ سورج کی طرح چمکنے لگا۔ فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! عصا اور ید بیضا (چمکتا ہاتھ) یہ دونوں معجزات ہیں ان کو لے کر فرعون کے پاس جائو جس نے تکبر ‘ غرور اور سرکشی اختیار کررکھی ہے اور اس کی قوم بھی سخت نافرمان بن چکی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الٰہی میں تو آپ کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں مگر مجھے اس بات کا غم ستائے جارہا ہے کہ میرے ہاتھوں سے ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ ہو سکتا ہے اس فریضہ تبلیغ کو ادا کرنے سے پہلے ہی فرعون اس واقعہ کو وجہ بنا کر مجھے نقصان پہنچائے اور میں فریضہ ادانہ کرسکوں۔ اگر میرے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جو گفتگو میں بھی بہت فصیح ہیں ان کو میرا مدد گار بنادیا جائے تو وہ میری اس بات کی تصدیق بھی کردیں گے کہ جو کچھ ہوا اس میں میرے ارادے کو دخل نہ تھا اور وہ اس فرض کی ادائیگی میں میری بھرپور مدد کرسکیں گے۔ جواب آیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم آپ کے بھائی کے ذریعہ آپ کے بازوؤں کو مضبوط کردیں گے اور تم جہاں بھی جائو گے تم دونوں کو غلبہ عطا کردیا جائے گا۔ تم دونوں ہماری نشانیا لے کرجائو۔ اللہ آپ کیا ور ان تمام لوگوں کی حفاظت فرمائے گا جو آپ کی پیروی کریں گے اور وہی غالب بھی رہیں گے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے گھر مصر پہنچ گئے۔ والدہ سے بھی ملاقات ہوگئی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی آپ کے پاس پہنچ گئے۔ اسکے بعد کے واقعات کی تفصیلات اگلی آیات میں آئے گی۔ اس واقعہ کی تفصیل اور اس کے بعض پہلوؤں پر سورة طٰہ اور سورة شعراء میں وضاحت آچکی ہے۔