28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 28:1
طسم
Ayah 28:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

تلک ایت الکتب المبین . اَبَانَ (باب افعال جس سے مُبِیْن بنا ہے) لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ اول صورت میں کتاب کے مبین ہونے کے یہ معنی ہوں گے کہ اعجاز کی وجہ سے اس کتاب کا اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہونا ظاہر ہے۔ دوسری صورت میں صورت میں مبین کا یہ معنی ہوگا کہ یہ کتاب احکام کو ‘ وعدہ وعید کو اور قصص وغیرہ کو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔
Ayah 28:3

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) ہم تمہیں موسٰی اور فرعون کے کچھ حالات مومن لوگوں کو سنانے کے لئے صحیح صحیح سناتے ہیں

نتلوا علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق لقوم یومنون . ہم نے آپ کو موسیٰ اور فرعون کا کچھ حصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر (یعنی نازل کر کے) سناتے ہیں ان لوگوں کے (فائدے) کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔ تَتْلُوْا ہم پڑھتے ہیں یعنی جبرئیل کی زبانی ‘ مراد ہے نازل کرنا۔ مِنْ نَبَاِکچھ خبر ‘ کچھ قصہ (مِنْ تبعیضہ ہے) ۔ بالحق یعنی سچائی کا حامل۔ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں کیونکہ انہی کو اس سے فائدہ ہوگا (جو ایمان نہ رکھتا ہو اس کو اس کے سننے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ایمان دار کے ایمان میں پختگی اس کو سننے سے پیدا ہوتی ہے ‘ ایمان ہی نہ ہو تو استحکام ایمان کیسے ہوگا۔ مترجم) ۔
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

کہ فرعون نے ملک میں سر اُٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اُن میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کر دیا تھا کہ اُن کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور اُن کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔ بیشک وہ مفسدوں میں تھا

ان فرعون علا فی الارض وجعل اھلھا شیعا . فرعون سرزمین (مصر) میں بہت بڑھ چڑھ گیا تھا اور اس نے وہاں کے باشندوں کو مختلف قسمیں بنا رکھا تھا۔ عَلا یعنی مغرور ‘ متکبر اور جابر بن گیا تھا (مطلب یہ کہ بڑا اور عالی مرتبہ واقع میں تو اتنا نہ تھا ‘ اونچا ہونے کا مدعی تھا ‘ مغرور ہوگیا تھا۔ مترجم) ۔ اَ لْاَرْض سے مراد ہے مصر کی سرزمین (یعنی اَ لْاَرْض میں الف لام عہد خارجی کے لئے ہے جس سے مصر کی سرزمین کی طرف اشارہ ہے۔ مترجم) ۔ شِیَعًا فرقے فرقے۔ کہ سب فرعون کے تابع تھے ‘ فرعون جو کام لینا چاہتا تھا وہ کرتے تھے۔ یا ایک دوسرے کا پیرو اور تابع تھا۔ یا یہ مطلب کہ اس نے رعایا کے الگ الگ فرقے بنا رکھے تھے۔ ایک گروہ یعنی قبطیوں کو اونچا بنا رکھا تھا اور دوسرے گروہ یعنی بنی اسرائیل کو نیچا۔ یا یہ مراد ہے کہ کام اور خدمت کے لئے اس نے لوگوں کے گروہ بنا دئیے تھے۔ ہر گروہ سے وہ کام لیتا تھا جو اس کے متعلق کردیا تھا۔ یا یہ مطلب کہ فرعون نے مصر کے باشندوں میں پھوٹ پیدا کردی تھی تاکہ متفق نہ ہو سکیں۔ قاموس شیعتہ الرجل۔ کسی کے پیرو ‘ تابع اور مددگار اور جدا فرقہ۔ یستضعف طائفۃ منھم یذبح ابناء ھم ویستحی نساء ھم انہ کان من المفسدین . کہ ان میں سے ایک جماعت (یعنی بنی اسرائیل) کو کمزور کر رکھا تھا (اس حد تک کہ) ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں (یعنی لڑکیوں) کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ واقعی وہ بڑا مفسد تھا۔ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَ ھُمْ یعنی بنی اسرائیل کے (نومولود) بیٹوں کو قتل کرا دیتا تھا کیونکہ کسی کاہن نے اس سے کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے گروم میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں سے تیری حکومت کا زوال ہوجائے گا۔ کذا اخرج عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر عن قتادہ۔ وَیَسْتَحْیٖ نِسَآءَ ھُمْ عورتوں سے مراد ہیں (نومولود) لڑکیاں۔ لڑکوں کو قتل کردینے اور لڑکیوں کے زندہ چھوڑ دینے کو ضعیف بنانا اس لئے قرار دیا کہ بنی اسرائیل اس مصیبت کو دفع کرنے سے عاجز تھے ‘ دفاع کی طاقت نہ کھتے تھے (ورنہ لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دینے کو ضعیف بنانا نہیں کہا جاسکتا) ۔ کَانَ مِنَ الْمُوْسِدِیْنَ وہ یقیناً خود ہی تباہ کار اور برباد کن تھا کہ نسل انبیاء کو فنا کرنے کی جرأت کی اور بےقصور بچوں کو قتل کرنے لگا ‘ خواہ کاہنوں نے سچ کہا ہو یا جھوٹ۔ بہرحال اگر وہ واقعی مفسد نہ ہوا تو ایسا نہ کرتا۔ قتل اطفال سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔
Ayah 28:5

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث کریں

ونرید ان لمن علی الذین اتضعفوا فی الارض ونجعلھم ائمۃ ونجعلھم الوارثین۔ ور ہم کو منظور تھا کہ سرزمین مصر میں جن لوگوں کا زور گھٹایا جا رہا تھا ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنا دیں اور وارث کردیں
Ayah 28:6

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ملک میں ان کو قدرت دیں اور فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر کو وہ چیزیں دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے

ونمکن لھم فی الارض . ا اور ان کو زمین میں حکومت عطا کریں۔ وَنَرِیْدُ اَنْ نَّْمْنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتَعِفُوْا یعنی ہم چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم اور دباؤ سے رہا کردیں۔ اَءِمَّۃً مجاہد کے نزدیک دینی پیشوا اور داعیان خیر مراد ہیں۔ قتادہ کے نزدیک والیان ملک اور بادشاہ مراد ہیں کیونکہ اللہ نے بنی اسرائیل کے متعلق ایک اور آیت میں فرمایا ہے : وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا۔ اَلْوَارِثِیْنَ یعنی فرعون اور اس کی قوم کے ملک و مال کے مالک۔ وَنْمَکِّنَ لَھُمْ فِیْ الْاَرْضِ یعنی سرزمین مصر و شام میں ان کو حکومت عطا کریں۔ تَمْکِیْن کا لغوی معنی ہے کسی چیز کی جگہ بنا دینا کہ اس میں وہ چیز ٹھہر جائے (لغت کے لحاظ سے تَمْکِّیْنَ لَہُمْ کا ترجمہ ہوا : ہم ان کو جماؤ عطا کردیں گے۔ مجازاً تَمْکِیْنکا معنی ہے حاکم بنا دینا ‘ مسلط اور غالب کردینا۔ ونری فرعون وھامن وجنودھما منھم ما کانو یحذرون . اور فرعون و ہامان اور ان کے تابعین کو وہ بات دکھا دی جس کا بنی اسرائیل کی طرف سے ان کو اندیشہ تھا (جس سے وہ بچاؤ کررہے تھے) ۔ خُذرٌکا معنی ہے ضرر سے بچنا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو (نجومیوں سے) اطلاع ملی تھی کہ بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی کے ہاتھوں سے ان کی تباہی ہوگی اس لئے ان کو بنی اسرائیل کی طرف سے اندیشہ لگا رہتا تھا لیکن اللہ ان کے سامنے وہی بات لے آیا جس سے وہ بچاؤ کرنا چاہتے تھے۔
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسٰی کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلاؤ جب تم کو اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ تو خوف کرنا اور نہ رنج کرنا۔ ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) اُسے پیغمبر بنا دیں گے

واوحینا الی ام موسیٰ ان ارضعیۃ . اور (موسیٰ کے پیدا ہونے کے بعد) ہم نے موسیٰ کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ موسیٰ کو اپنا دودھ پلا۔ بغوی نے بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی والدہ کا نام یوخابذ بنت لاوی تھا اور لاوی حضرت یعقوب کا بیٹا تھا۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ وحی نبوت والی وحی نہیں تھی ‘ نہ کوئی عورت نبی ہوئی۔ قتادہ نے اس جگہ اوحَیْنَا کا ترجمہ کیا : ہم نے اس کے دل میں ڈال دیا۔ صوفیہ کی اصطلاح میں اسی کو الہام کہتے ہیں ‘ الہام ہی کی ایک قسم وہ سچا خواب بھی ہے جس سے دل کو یقین اور اطمینان ہوجائے۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ الہام بھی علم کا ایک ذریعہ ہے اگرچہ اس سے علم ظنی (غیریقینی) حاصل ہوتا ہے لیکن الہام قلبی اور القاء انہی دلوں کا قابل اعتبار ہوتا ہے جو پاک صاف اور حامل اطمینان ہوں۔ وسوسے اور الہام کا فرق ہی یہ ہے کہ وسوسہ (دل کا کھٹکا) موجب اطمینان نہیں ہوتا اور الہام سے اطمینان قلبی حاصل ہوجاتا ہے اور (صاحب الہام کو اپنی جگہ) قلبی یقین ہوجاتا ہے۔ اظنْ اَرْضِعِیْہِ یعنی موسیٰ کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی اور کہہ دیا کہ جب تک پوشیدہ رکھنا ممکن ہو ‘ موسیٰ کو دودھ پلاتی رہ۔ حضرت موسیٰ نے والدہ کا دودھ کتنی مدت پیا ‘ علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں۔ کسی نے آٹھ ماہ کیا ہے ‘ کسی نے چار ماہ ‘ کسی نے تین ماہ۔ موسیٰ کی والدہ موسیٰ کو گود میں لئے دودھ پلاتی رہتی تھیں اور وہ نہ روتے تھے ‘ نہ حرکت کرتے تھے۔ کذا ذکر البغوی۔ فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولا تخافی ولا تحزنی انا رآدوہ الیک وجاعلوہ من المرسلین . پھر جب تجھے اس کی نسبت) (جاسوسوں کے مطلع ہونے کا) اندیشہ (خطرہ) ہوجائے تو اس کو سمندر (یعنی نیل) میں ڈال دینا اور (اس کے ڈوب جانے کا) اندیشہ نہ کرنا ‘ نہ (جدائی کا) کوئی غم کرنا۔ یقیناً ہم اس کو تیرے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (وقت آنے پر) اس کو پیغمبر بنا دیں گے۔ اَلْیَمْ سمندر ‘ مراددریائے نیل۔ اِنَّا رَآدُّوْوُ اِلَیْکِ یعنی ہم عنقریب اس کو تیرے پاس واپس اس طرح پہنچا دیں گے کہ پھر تجھے اس کی نسبت کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ علماء اور ضحاک راوی ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مصر میں جب بنی اسرائیل کی تعداد بہت ہوگئی اور لوگوں پر انہوں نے درازدستی شروع کردی ‘ اللہ کی نافرمانیاں کرنے لگے۔ نہ بھلائی کا کسی کو حکم دیتے تھے ‘ نہ گناہ سے منع کرتے تھے۔ آخر اللہ نے ان پر قبطیوں کو مسلط کردیا۔ قبطیوں نے ان کا زور توڑ دیا اور بہت زیادہ کمزور بنا دیا۔ بالآخر اللہ نے اپنے نبی موسیٰ کے ذریعہ سے قبطیوں کے تسلط سے ان کو رہا کرا دیا۔ حضرت ابن عباس کا یہ بھی بیان ہے کہ جب موسیٰ کی ولادت کا زمانہ قریب آگیا تو موسیٰ کی والدہ نے ایک دایہ کو بلوایا ۔ یہ دایہ انہی دائیوں میں سے تھی جو فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کی حاملہ عورتوں کے لئے مقرر تھیں لیکن موسیٰ کی والدہ کی دوست تھی ۔ دردِزہ ہوا تو اسی دائی کو بلوایا ‘ وہ آگئی تو اس سے کہا : میری جو حالت ہے تجھے معلوم ہے۔ آج تیری دوستی سے مجھے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ دائی اپنے کام میں لگ گئی۔ جب موسیٰ پیدا ہوگئے اور دائی کے ہاتھوں میں آگئے تو موسیٰ کی دونوں آنکھوں کے بیچ سے ایک نور نکلتا دیکھ کر دائی حیرت زدہ ہوگئی۔ اس کا ہر جوڑ لرز اٹھا ‘ پورے بدن میں سنسنی پیدا ہوگئی اور موسیٰ کی محبت اس کے دل میں جم گئی۔ موسیٰ کی ماں سے کہنے لگی : تو نے جب بلوایا تھا اور میں تیرے پاس آئی تھی اس وقت میرے پیچھے تیرے بیٹے کو قتل کرنے والے تھے (یعنی میرا ارادہ تھا کہ تیرے بچہ کو قاتلوں کے حوالے کر دوں گی) لیکن اب میرے دل میں تیرے بیٹے کی محبت ایسی محسوس ہوتی ہے کہ ایسی محبت میں نے کسی کی نہ پائی ‘ اس لئے میں کہتی ہوں کہ اپنے بیٹے کی حفاظت رکھنا۔ پھر دائی کو موسیٰ کی ماں کے گھر سے نکلتے کسی جاسوس نے دیکھ لیا ‘ فوراً سب دروازہ پر آگئے اور اندر گھسنا چاہا۔ حضرت موسیٰ کی بہن دوڑی آئی اور کہنے لگی : اماں ! دروازہ پر سپاہی آگئے۔ فوراً موسیٰ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بہن نے تنور میں ڈال دیا۔ تنور میں آگ روشن تھی لیکن اس کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔ اس کو پتہ بھی نہ چلا کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ سرکاری آدمی اندر گھس آئے۔ تنور بھڑک رہا تھا اور موسیٰ کی والدہ کے چہرے پر کوئی تغیر نہ تھا ‘ نہ چہرے کے رنگ میں کوئی فرق آیا تھا ‘ نہ دودھ اترا تھا۔ کہنے لگے : دائی یہاں کیوں آئی تھی۔ حضرت موسیٰ کی والدہ نے کہا : وہ میری دوست ہے ‘ ملاقات کے لئے آئی تھی۔ غرض وہ لوگ واپس چلے گئے۔ اب موسیٰ کی والدہ کی عقل بھی ٹھکانے پر آئی اور موسیٰ کی بہن سے پوچھا : بچہ کہاں ہے ؟ موسیٰ کی بہن نے کہا : مجھے معلوم نہیں۔ اتنے میں تنور کے اندر سے بچہ کے رونے کی آواز آئی۔ ماں نے جا کر دیکھا تو تنور کی آگ موسیٰ کے لئے ٹھنڈی پڑچکی تھی اور خنکی بھی اتنی جو باعث سلامتی تھی ‘ ماں نے موسیٰ کو اٹھا لیا۔ پھر مدت کے بعد والدۂ موسیٰ نے دیکھا کہ فرعون کو لڑکوں کی تلاش بےحد ہے اور اس کو اپنے بچہ کا خطرہ ہوا تو اللہ نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ایک صندوق لے کر موسیٰ کو اس میں رکھ کر دریا میں ڈال دے۔ اس خیال کے پیدا ہوتے ہی وہ ایک بڑھئی کے پاس آگئی جو فرعون کی قوم میں سے تھا اور اس سے ایک صندوقچہ خریدا۔ بڑھئی نے پوچھا : تجھے کس کام کے لئے ضرورت ہے ؟ موسیٰ کی والدہ نے جھوٹ بولنا پسند نہیں کیا ‘ سچ بتادیا کہ میرا ایک بچہ ہے ‘ میں صندوقچہ کے اندر اس کو چھپاؤں گی۔ بڑھئی نے پوچھا : کیوں ؟ والدۂ موسیٰ نے کہا : فرعون کے خوف سے۔ غرض صندوقچہ خرید کر اٹھا لائی۔ وہ بڑھئی کے پاس سے چلی ہی تھی کہ بڑھئی قاتلوں کو اس واقعہ کی اطلاع دینے پہنچ گیا اور کچھ بولنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ اللہ نے زبان روک دی اور بولنے کی طاقت سلب ہوگئی ‘ کچھ نہ بول سکا اور ہاتھ سے اشارے کرنے لگا لیکن سپاہی کچھ نہ سمجھ سکے۔ جب اشاروں کو سمجھنے سے عاجز آگئے تو ان کے سردار نے حکم دیا کہ اس کو مار کر نکال دو ۔ بڑھئی پٹ پٹا کر اپنی جگہ پہنچا تو اللہ نے پھر زبان میں گویائی کی طاقت لوٹا دی۔ وہ پھر مخبری کرنے کے ارادہ سے سپاہیوں کے پاس پہنچا ‘ اس مرتبہ زبان بھی بند ہوگئی اور نظر بھی جاتی رہی۔ نہ بول سکا ‘ نہ آنکھوں سے کچھ دیکھ سکا۔ آخر مار کر لوگوں نے نکال دیا۔ بڑھئی حیران پریشان لڑکتا پڑکتا ایک وادی میں جا پہنچا اور اس نے پختہ نیت کرلی کہ اگر اللہ نے میری نگاہ اور قوت گویائی واپس کردی تو وہ موسیٰ کی نشاندہی نہیں کرے گا بلکہ موسیٰ جہاں ہوں گے ان کے ساتھ رہے گا اور ان کی حفاظت کرے گا۔ اللہ نے اس کو سچا جانا اور بینائی اور گویائی واپس دے دی ‘ فوراً سجدہ میں گرگیا اور دعا کی : اے میرے رب ! مجھے اس نیک بندہ کا پتہ بتادے۔ اللہ نے اس کو موسیٰ تک پہنچنے کا راستہ بتادیا۔ وہ وادی سے نکل آیا اور موسیٰ پر ایمان لے آیا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ بات اللہ کی طرف سے ہے۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ موسیٰ کی والدہ جب حاملہ ہوگئی تو اس نے اپنی حالت پوشیدہ رکھی ‘ کوئی بھی اس کے حمل سے واقف نہ ہوا۔ چونکہ بنی اسرائیل پر اللہ کو احسان کرنا مقصود تھا اس لئے حمل پر پردہ ڈال دیا۔ موسیٰ کی پیدائش کا سال وہی تھا کہ فرعون نے تفتیش کے لئے دائیوں کو بنی اسرائیل کی عورتوں پر مامور کردیا تھا اور ایسی تفتیش کرائی تھی کہ اس سے پہلے کبھی ایسی جستجو نہیں ہوئی۔ موسیٰ کی ماں حاملہ تو ہوگئی تھی مگر پیٹ میں کوئی ابھار ہی نہیں ہوا تھا ‘ نہ رنگ بدلا تھا ‘ نہ دودھ اترا تھا۔ دائیاں اس سے کوئی تعرض ہی نہیں کرتی تھیں۔ جب شب ولادت آگئی اور موسیٰ پیدا ہوگئے تو اس وقت نہ کوئی چوکیدار تھا ‘ نہ کوئی دائی۔ سوائے موسیٰ کی بہن کے موسیٰ کے پیدا ہونے کی کسی کو اطلاع ہی نہ ہوئی ‘ بہن کا نام مریم تھا۔ اللہ نے موسیٰ کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس کو دودھ پلاتی رہ۔ جب تجھے (فرعون کے آدمیوں کے مطلع ہوجانے کا) خطرہ ہوجائے تو اس کو دریا میں ڈال دینا۔ موسیٰ کی والدہ بچہ کو تین ماہ تک گود میں چھپائے دودھ پلاتی رہیں۔ موسیٰ روتے بھی نہ تھے اور نہ حرکت کرتے تھے۔ بالآخر والدۂ موسیٰ کو جب (قوی اندیشہ ہوگیا تو اس نے ایک سربند صندوق بنوایا۔ بعض کا خیال ہے کہ ایک صندوقچہ لیا جس کے اندر تارکول کا پالش کردیا اور درازیں بند کردیں اور بچھوناکر دیا اور موسیٰ کو اندر رکھ کر صندوقچہ بند کر کے دریا میں رات کو ڈال دیا۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ فرعون کی صرف ایک لڑکی تھی ‘ اور کوئی اولاد نہ تھی۔ لڑکی سے فرعون کو بڑی محبت تھی۔ ہر روز فرعون سے وہ اپنے تین کام پورے کراتی تھی۔ اس لڑکی کو سخت برص تھا ‘ فرعون نے اس کے علاج کے لئے مصر کے تمام اطباء اور ساحروں کو جمع کیا (طبیب کوئی کامیاب علاج نہ کرسکے) ساحروں نے کہا کہ اس کو صحت دریا کی طرف سے ہوگی۔ کوئی چیز انسان کی شکل میں دریا میں پائی جائے گی ‘ اس کے منہ کا لعاب لے لیا جائے اور برص کے داغوں پر لگا دیا جائے تو یہ اچھی ہوجائے گی۔ ایسا فلاں دن فلاں ساعت میں سورج نکلنے کے وقت ہوگا۔ چناچہ دوسرا دن دوشنبہ کا تھا۔ فرعون نے نیل کے کنارے اپنی بیٹھنے کی جگہ تیار کرائی اور جا کر بیٹھا ‘ ساتھ میں اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم بھی تھی۔ فرعون کی لڑکی بھی اپنی خادماؤں کے ساتھ آکر نیل کے کنارے بیٹھ گئی اور لڑکیوں کے منہ پر پانی کے چھپاکے مار مار کر کھیلنے لگی۔ اچانک نیل میں بہتا ہوا سامنے سے ایک صندوق نظر آیا ‘ لہریں طمانچے مار مار کر اس کو لا رہی تھیں۔ فرعون نے کہا : نیل میں یہ چیز درخت سے آویختہ ہے ‘ اس کو لاؤ۔ ہر طرف سے کشتیوں نے جا کر اس کو گھیر لیا اور لا کر فرعون کے سامنے رکھ دیا۔ لوگوں نے ہرچند کھولنے کی تدبیریں کیں لیکن کھول نہ سکے ‘ پھر توڑنا چاہا تو توڑ بھی نہ سکے۔ آخر آسیہ قریب آئی اس کو صندوق کے اندر ایک نور دکھائی دیا جو کسی اور کو نہیں دکھائی دیا۔ کوشش کر کے اس نے صندوق کو کھول دیا۔ اندر ایک چھوٹا سا بچہ بچھونے پر لیٹا تھا ‘ اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ایک نور چمک رہا تھا اور اللہ نے اس کا رزق دونوں انگوٹھوں میں پیدا کردیا تھا جن کے اندر سے وہ دودھ چوس رہا تھا۔ اللہ نے بچہ کی محبت آسیہ کے دل میں ڈل دی۔ فرعون بھی اس سے محبت کرنے لگا اور دل سے مہربان ہوگیا۔ صندوقچہ سے بچہ کو نکالا گیا۔ فرعون کی لڑکی بھی آگئی اور اس نے بچہ کے منہ کا لعاب لے کر اپنے داغوں پر ملا ‘ فوراً اچھی ہوگئی۔ لڑکی نے بچہ کو چوم لیا اور سینے سے چمٹا لیا۔ جادوگروں نے کہا : اے بادشاہ ! ہمارا خیال ہے کہ یہ وہی بچہ ہے جس سے تجھے خطرہ تھا۔ یہ بنی اسرائیل کا بچہ ہے ‘ تیرے خوف سے اس کو دریا میں پھینک دیا گیا ہے۔ فرعون نے بچہ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو آسیہ نے قُرَّۃُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ لاَ تَقْتُلُوْہُ عَسیٰٓ اَنْ یَّنْفَعَنَا اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا یہ میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرو امید ہے کہ یہ ہماے کام آئے گا یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے۔ آسیہ کے اولاد نہ ہوتی تھی (بانجھ تھی یا کوئی اور وجہ تھی) فرعون سے آسیہ نے کہا : موسیٰ کو مجھے دے دو ۔ فرعون نے آسیہ کو موسیٰ ہبہ کردیا اور کہنے لگا : مجھے اپنے لئے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ آسیہ سے کہا گیا کہ اس کا کچھ نام رکھو۔ آسیہ نے کہا : میں نے اس کا نام موسیٰ رکھا دیا ہے کیونکہ ہم نے اس کو پانی اور درختوں کے درمیان پایا تھا۔ مُو پانی اور سَا درخت۔
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اُٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ اُن کا دشمن اور (ان کے لئے موجب) غم ہو۔ بیشک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے

فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا . تو فرعون کے لوگوں نے موسیٰ کو (یعنی موسیٰ کو مع صندوق کے) اٹھا لیا تاکہ وہ ان لوگوں کے لئے دشمن اور غم (کا باعث) ہوجائے۔ عَدُوًّا یعنی ایسا دشمن ہوگا جو ان کے مردوں کو قتل کرے گا اور ایسا سبب غم ہوگا جو ان کی عورتوں کو باندیاں بنا دے گا۔ ان فرعون وھامن وجنودھما کانوا خطین . بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین (اس بارے میں) بہت چوکے۔ (یہ ترجمہ مولانا اشرف علی صاحب نے کیا ہے۔ سادہ ترجمہ اس طرح ہے کہ) فرعون اور ہامان اور اس کے گروہ والے خطاکار تھے۔ اس ترجمہ کا ایک مطلب تو وہی ہے جو مولانا تھانوی کے ترجمہ سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہر بات میں خطاکار تھے۔ موسیٰ کی وجہ سے ہزاروں کو قتل کیا گیا (یہ بھی ان کی غلطی تھی) پھر موسیٰ ہی کو اپنے گھر میں پرورش کیا کہ بڑے ہو کر موسیٰ ان کے ساتھ وہ معاملہ کریں جس کا ان کو اندیشہ تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ چونکہ گناہ گار تھے اس لئے اللہ نے ان کو سزا دی اور ان کے دشمن کو انہی سے پرورش کرایا۔
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اُسے بیٹا بنالیں اور وہ انجام سے بےخبر تھے

وقالت امرات فرعون . اور فرعون کی بی بی نے (فرعون سے) کہا۔ وہب بن منب نے بیان کیا کہ جب فرعون کے سامنے صندوقچہ رکھا گیا اور لوگوں نے اس کو کھولا اور اس کے اندر سے موسیٰ برآمد ہوئے تو فرعون نے ان کو دیکھ کر کہا : یہ تو عبرانی ہے ‘ دشمنوں میں سے ہے۔ موسیٰ کو دیکھ کر اس کو غصہ آیا اور کہنے لگا : یہ لڑکا کیسے بچ گیا ؟ فرعون نے ایک اسرائیلی عورت سے نکاح کرلیا تھا جس کو آسیہ بنت مزاحم کہا جاتا تھا۔ یہ عورت بہت نیک تھی اور انبیاء کی نسل سے تھی۔ مسکینوں کے لئے تو ماں تھی ‘ ان پر بڑا ترس کھاتی تھی ‘ بہت خیرات دیتی تھی۔ جب آسیہ فرعون کے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو اس نے فرعون سے کہا : یہ لڑکا تو ایک سال سے زائد کا ہے اور آپ کا حکم اس سال کے لڑکوں کو قتل کرنے کا ہے اس لئے اس کو چھوڑ دیجئے۔ قرت عین لی ولک . میری اور آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا۔ لا تقتلوہ . اس کو قتل نہ کیجئے۔ جمع مخاطب کا صیغہ تعظیم کے طور پر بولا۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ آسیہ نے کہا : یہ کسی اور ملک کا ہے ‘ بنی اسرائیل کا نہیں ہے۔ عسی ان ینفعنا . امید ہے کہ یہ ہمارے کام آئے گا۔ یہ قتل نہ کرنے کی درخواست کی علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر برکت کے نشانات ہیں ‘ ہم کو اس سے فائدہ پہنچنے کی علامتیں موجود ہیں۔ آسیہ نے یہ بات اس لئے کہی کہ ان کو موسیٰ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور چمکتا نظر آگیا تھا۔ انگوٹھوں سے دودھ چوستے بھی انہوں نے دیکھ لیا تھا اور فرعون کی لڑکی بھی ان کے منہ کا لعاب لگانے سے اچھی ہوگئی تھی۔ او نتخذہ ولدًا . یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے کیونکہ یہ بیٹا ہونے کے قابل ہے۔ وھم لا یشعرون . اور ان کو احساس نہ تھا کہ فرعون اور اس کے آدمیوں کی تباہی اور موت اس کے ہاتھوں سے ہو گی۔ فرعون یہ بات سن کر کچھ جھجک گیا ‘ اللہ نے موسیٰ کی محبت اس کے دل میں ڈال دی۔ ابن جریر نے بروایت محمد بن قیس مرفوع حدیث بیان کی ہے کہ فرعون نے کہا تھا کہ یہ تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہوگا ‘ میری آنکھ کی ٹھنڈک نہیں ہے۔ اگر وہ یوں کہہ دیتا کہ جیسے یہ تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہوگا ‘ ویسے ہی میری آنکھ کی بھی خنکی ہوگا تو جس طرح اللہ نے آسیہ کو ہدایت یافتہ کردیا تھا اسی طرح فرعون کو بھی ہدایت یافتہ بنا دیتا۔ محمد بن وہب نے کہا : حضرت ابن عباس نے فرمایا : اگر اللہ کا دشمن آسیہ کی طرح موسیٰ کی بابت عَسٰی اَنْ یَّنْفَعَنَا کہہ دیتا تو اللہ اس کو بھی فائدہ پہنچا دیتا لیکن اللہ نے اس کے لئے بدبختی لکھ دی تھی ‘ وہی بدنصیبی غالب آئی اور اس نے انکار کر یا۔
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسٰی کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا اگر ہم اُن کے دل مضبوط نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ اس (قصّے) کو ظاہر کر دیں۔ غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں

واصبح فواد ام موسیٰ فرغًا . اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا۔ یعنی شدت خوف اور ہجوم غم سے موسیٰ کی ماں کا دل عقل سے خالی ہوگیا (اس کے اوسان خطا ہوگئے) کیونکہ اس نے سن پایا تھا کہ موسیٰ فرعون کے ہاتھوں میں پڑگئے۔ ایک اور آیت میں وَاَفْءِدَتُھُمْ ھَوَآءٌ یعنی ان کے دل عقل سے خالی ہیں ‘ ان میں فہم نہیں ہے۔ اکثر اہل تفسیر نے خالی ہونے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ موسیٰ کی یاد کے علاوہ اس کا دل ہر بات سے خالی ہوگیا۔ حسن نے یہ مطلب بیان کیا کہ اس کا دل خالی ہوگیا ‘ وہ اس الہام کو بھول گئی جو اللہ نے اس کے دل میں پیدا کردیا تھا کہ اس کو دریا میں ڈال دینا اور کچھ خوف و غم نہ کرنا ‘ ہم ضرور اس کو لوٹا کر تیرے پاس پہنچا دیں گے اور اس کو پیغمبر بنائیں گے۔ مگر شیطان نے اس سے آکر کہا : کیا تجھے یہ بات تو پسند نہیں کہ فرعون تیرے بچہ کو قتل کر دے اور تجھے اس کا اجر وثواب ملے اور تو خود بچہ کو قتل کرنے کے درپے ہو رہی ہے اور اس کو دریا میں ڈال کر غرق کر رہی ہے (اس کا گناہ تو تجھ پر ہوگا اور اگر فرعون اس معصوم کو قتل کر دے گا تو تجھے اجر ملے گا) غرض جب اس کو اطلاع مکی کہ فرعون نے نیل میں موسیٰ کو پا لیا تو اس مصیبت نے اس کو اللہ کا وعدہ فراموش کرا دیا۔ میں کہتا ہوں : شاید اس کو اس سے یہ خیال پیدا ہوگیا کہ ممکن ہے کہ اس کے دل میں جو القاء ہوا تھا ‘ وہ غلط ہو کیونکہ اولیاء کا الہام ظنی ہوتا ہے ‘ قطعی نہیں ہوتا۔ الہام میں غلطی ہوسکتی ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اس کا دل غم سے خالی ہوگیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اللہ کا وعدہ ضرور سچا ہے (بچہ کبھی ضائع نہ ہوگا) ۔ قتیبی نے کہا : ابوعبیدہ کی یہ تاویل غلط ہے کیونکہ اللہ نے آگے فرمایا ہے۔ ان کا دت لتبدی بہ . قریب تھا کہ وہ اس کو ظاہر کردیتی۔ یعنی قریب تھا کہ وہ ظاہ ر کردیتی کہ یہ موسیٰ میرا بیٹا ہے۔ اس کو شدت حزن نے اس حد تک پہنچا دیا تھا (کہ وہ ضبط کرنے کی طاقت تقریباً کھو چکی تھی) عکرمہ نے حضرت ابن عباس کا جو قول نقل کیا ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : قریب تھا کہ وہ کہہ دیتی : ہائے بیٹا ! مقاتل نے کہا : جب اس نے صندوق کو دیکھا کہ دریا کی لہریں اس کو اوپر اٹھا کر پھر نیچے پٹک رہی ہیں اور وہ لہروں میں پھنسا ہوا ہے تو اس کو ڈوب جانے کا خطرہ اتنا ہوا کہ قریب تھا کہ وہ چیخ پڑے (اور بات کھل جائے) ۔ کلبی نے کہا : جوان ہونے کے بعد جب حضرت موسیٰ کو فرعون کا بیٹا کہا جانے لگا اور آپ کی والدہ نے بھی یہ بات سنی تو اس کو یہ بات اتنی شاق گزری کہ قریب تھا کہ وہ ظاہر کردیتی کہ موسیٰ میرا بیٹا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ والدۂ موسیٰ کا دل غم و فکر سے خالی ہوگیا (اس کو کوئی غم نہ رہا) جب کہ اس نے سن لیا کہ موسیٰ کو فرعون نے بیٹا بنا لیا ہے۔ یہ بات سن کر اس کو اتنی خوشی ہوئی کہ خوشی سے مغلوب ہو کر ہو کر وہ قریب تھا کہ ظاہر کردیتی ہے کہ موسیٰ میرا بیٹا ہے (میرے بیٹے کو فرعون نے بیٹا بنایا ہے) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی کا بیان نقل کیا ہے کہ جب موسیٰ کی بہن نے کہا کہ میں تم کو ایک ایسی عورت بتاتی ہوں کہ موسیٰ اس کا دودھ پی لے گا اور پھر ماں کو لے کر آگئی اور موسیٰ نے ماں کے پستان کو منہ میں لے لیا تو قریب تھا کہ ماں بول اٹھی کہ یہ تو میرا ہی بیٹا ہے لیکن اللہ نے اس کو اظہار سے بچا لیا۔ ابو عبیدہ نے آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ موسیٰ کی ماں کا دل خوف و حزن سے خالی ہوگیا کیونکہ اللہ نے فرما دیا تھا : لاَ تَخَافِیْ وَلاَ تَحْزَنِیْ یعنی اس کو اللہ کے اس وعدہ پر اتنا اعتماد تھا کہ قریب تھا وہ بتادے کہ موسیٰ میرے بیٹا ہے یا یہ ظاہر کر دے کہ مجھے وحی سیا اللہ کا یہ وعدہ معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ اس کو میرے پاس لوٹا کر ضرور لائے گا اور اس کو پیغمبر بنائے گا۔ لولا ان ربطنا علی قلبھا لتکون من المؤمنین . اگر ہم اس کے دل کو اس غرض سے مضبوط نہ کردیتے کہ وہ (ہمارے وعدہ پر) یقین رکھے۔ اظنْ مصدریۃ ہے یعنی اگر ہماری طرف سے یقین پر قائم رہنے کی غرض سے اس کے دل کی بندش غم پر یا انتہائی خوشی پر (بر تفسیر اول و دوئم) یا اسرار خداوندی کو پوشیدہ رکھنے پر (بر تفسیر ابوعبیدہ) نہ ہوگئی ہوتی تو قریب تھا کہ وہ بات ظاہر کردیتی۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کے دل کو مضبوط کردیا کہ اسی نے غم پر یا شدت مسرت پر صبر رکھا تاکہ وہ ہمارے وعدہ پر اعتماد قائم رکھے۔ اس مطلب پر لِتَکُوْنَکا تعلق رَبَطْنَا سے ہوگا۔ لیکن لِتَکُوْنَ کا تعلق اَصْبَحَ فُؤَادُاْمِّ مُوْسیٰ فَارِغًا سے بھی ہوگا۔ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ موسیٰ کی ماں کا دل خوف و حزن سے خالی ہوگیا تاکہ وہ ان مؤمنوں کے زمرہ میں شامل ہوجائے جو اللہ کے وعدہ پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری اس تشریح سے قتیبی کا وہ اعتراض ساقط ہوگیا جو انہوں نے ابو عبیدہ کی تاویل پر کیا تھا۔ یوسف بن حسین نے کہا : موسیٰ کی ماں کو دو حکم دئیے گئے تھے اور دو چیزوں کی ممانعت کی گئی اور دو بشارتیں دی گئی تھیں لیکن اس کو کسی سے کوئی فائدہ اس وقت تک نہیں پہنچا جب تک اللہ نے اس کی حفاظت نہیں کی اور اس کے دل کو مضبوط نہ کیا اور بےچینی کو سکون سے نہ بدلا تاکہ وہ ان مؤمنوں میں سے ہوجائے جو اللہ کے وعدہ پر پختہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ فرعون کے بیٹا بنانے پر بھروسہ نہ رکھے۔
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ اُسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو کچھ خبر نہ تھی

وقالت لاختہ قصیہ فبصرت بہ عن جنب وھم لا یشعرون . اور موسیٰ کی ماں نے موسیٰ کی بہن (مریم بنت عمران) سے کہا : اس کے پیچھے پیچھے چلی جا (اور اس کی خبر کی تلاش رکھ۔ مریم پیچھے پیچھے چل دی) بہن نے اس کو دور سے دیکھا اور ان لوگوں کو پتہ بھی نہ تھا (کہ موسیٰ کی بہن موسیٰ کی ٹوہ لے رہی ہے) اس قصہ میں یہ بھی آیا ہے کہ مریم الگ الگ جا رہی تھی اور نظر چرا کر دیکھتی جاتی تھی تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ وہ موسیٰ کو دیکھ رہی ہے۔
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر (دائیوں) کے دودھ حرام کر دیئے تھے۔ تو موسٰی کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے لئے اس (بچے) کو پالیں اور اس کی خیر خواہی (سے پرورش) کریں

وحرمنا علیہ المراضع من قبل . اور ہم نے پہلے ہی سے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں (کے دودھ) کی بندش کر دی تھی۔ بندش سے مراد ہے تکوینی (فطری) بندش ‘ تشریعی بندش مراد نہیں ہے (کیونکہ بچہ احکام تشریعی کا مکلف نہیں ہوتا خصوصاً نوزائیدہ بچہ ‘ مترجم) ۔ مَرَاضِعَ یا مُرْضِع کی جمع ہے یعنی ہر دودھ پلانے والے کے دودھ کی بندش کردی تھی اس لئے موسیٰ نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ یا مَرْضِع کی جمع ہے اور مَرْضِع یا مصدر میمی ہے یعنی دودھ پینے کی بندش کردی تھی یا مَرْضِع ظرف امکان ہے یعنی ہر عورت کی پستان کو روک دیا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : فرعون کی بیوی چاہتی تھی کہ کسی طرح کسی دودھ پلانے والی کا دودھ موسیٰ پی لیں۔ چناچہ ایک کے بعد ایک دودھ پلانے والیاں آئیں مگر موسیٰ نے کسی کے پستان کو منہ نہیں لگایا۔ موسیٰ کی بہن یہ کیفیت دیکھتی رہی۔ آٹھ راتیں یونہی گزر گئیں کہ موسیٰ نے کسی مرضعہ کا دودھ نہیں پیا اور چلاتے رہے۔ فقالب ھل ادلکم علی اہل بیت یکفلونہ لکم وھم لہ نصحون . سو (موسیٰ کی بہن نے) کہا : کیا میں تم کو ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش کریں اور (دل سے) اس کی خیرخواہی کرتے رہیں۔ یعنی دودھ پلانے اور پرورش کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔ نَصحٌ کھوٹ کی ضد ہے یعنی کسی کام کو بگاڑ اور خرابی کی آمیزش سے پاک صاف رکھنے کو نصح کہتے ہیں۔ ابن جریح اور سدی نے ہُمْ لَہٗ نَاصِحُوْنَ کا مطلب یہ بیان کیا کہ وہ لوگ بادشاہ کے خیرخواہ ہیں۔ موسیٰ کی بہن نے وَھُمْ لَہٗ نَاصِحُوْنَ کہا تو لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا معلوم ہوتا ہے کہ تو اس کے گھر والوں کو جانتی ہے ‘ بتا وہ کون ہیں ؟ موسیٰ کی بہن نے کہا : مجھے تو اس کے گھر والے معلوم نہیں ‘ میں نے یہ کہا تھا کہ وہ لوگ بادشاہ کے خیرخواہ ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بھی سدی کا یہ قول نقل کیا ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ موسیٰ کی بہن سے جب بازپرس ہوئی تو اس نے کہا کہ میں یہ بات بادشاہ کی خوشی کے لئے کہہ رہی تھی اور اس بات کو ظاہر کرنے تھا کہ ہمارا تعلق بادشاہ سے ہے۔ بعض اہل روایت نے لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی بہن نے ھَلْ اَدْلُّکُمْ کہا تو لوگوں نے کہا : ایسا کون ہے ؟ اس نے کہا : میری ماں ہے۔ لوگوں نے پوچھا : کیا تیری ماں کا کوئی لڑکا ہے ؟ ہمشیرۂ موسیٰ نے کہا : ہاں ہارون ہے (حضرت ہارون اس سال پیدا ہوئے تھے جس سال لڑکوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا) لوگوں نے کہا : تو نے ٹھیک کہا ‘ اس کو ہمارے پاس لے آ۔ لڑکی نے اپنی ماں سے جا کر پوری بات کہہ دی اور اس کو اپنے ساتھ لے آئی۔ موسیٰ نے جو اپنی ماں کی خوشبو سونگھی تو پستان کو منہ لگا دیا اور پینے لگے اور اتنا پیا کہ دونوں کوکھیں بھر گئیں۔ سدی نے کہا : روز کی اجرت موسیٰ کی والدہ کو ایک دینار ملتی تھی اور وہ اس لئے لے لیتی تھیں کہ وہ حربی کافر کا مال تھا۔
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

تو ہم نے (اس طریق سے) اُن کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے

فردونہ الی امہ . پس ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔ اس سے پہلے کا کلام محذوف ہے (رفتار عبارت سے سمجھ میں آجاتا ہے اس لئے ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی) پور اکلام اس طرح تھا کہ لوگوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے کہا : بتا وہ کون عورت ہے ؟ موسیٰ کی بہن نے اپنی ماں کا پتہ بتایا۔ لوتوں نے کہا : اپنی ماں کو بلا لا۔ وہ جا کر ماں کو لے آئی۔ لوگوں نے موسیٰ کی ماں کی گود میں بچہ کو رکھ دیا۔ ماں نے دودھ پیا تو بچہ نے پی لیا۔ لوگوں نے بچہ کو موسیٰ کی ماں کے سپرد کردیا اس طرح ہم موسیٰ کو ماں کے پاس واپس لے آئے۔ کی تقرعینھا . تاکہ (موسیٰ کی واپسی سے) ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔ ولا تحزن . اور وہ (موسیٰ کے فراق سے) رنجیدہ نہ ہو۔ ولتعلم ان وعد اللہ حق . اور تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ اللہ (نے جو وعدہ موسیٰ کی واپسی کا کیا تھا ‘ اس) کا وعدہ سچا ہے۔ ولکن اکثرھم یعلمون . لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یعنی نہیں جانتے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اسی لئے ممنوعات خداوندی کا بغیر خوف عذاب کے ارتکاب کرتے ہیں اور اوامرِ الٰہیہ کو ثواب کی امید نہ رکھنے کی وجہ سے ترک کرتے ہیں۔ اگر وعد و وعید کا ان کو یقین ہوتا تو نہ منہیات کا ارتکاب کرتے ‘ نہ مامورات کو ترک کرتے۔ حضرت موسیٰ کی ماں انتہائی جزع میں مبتلا ہوگئی تھی ‘ اس کا دل صبر سے خالی ہوگیا تھا ‘ یہ اس کی طرف سے قصور تھا۔ آیت میں اسی بنا پر ایک قسم کی اس پر تعریض ہے۔ لاَ یَعْلَمُوْنَ کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ فرعون کے آدمی نہ اللہ کے وعدہ کو جانتے تھے ‘ نہ اس بات سے کہ وہ موسیٰ کی بہن اور وہ والدہ ہے۔ غرض حضرت موسیٰ اپنی والدہ کے پاس دودھ چھڑانے کے وقت تک رہے۔ جب دودھ چھوٹ گیا تو آپ کی والدہ آپ کو لے کر فرعون کے پاس آئی پھر فرعون کے پاس ہی آپ پرورش پاتے رہے (یہاں تک کہ جوان ہوگئے) جیسا کہ اللہ نے آئندہ آیت میں بیان کیا ہے۔
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسٰی جوانی کو پہنچے اور بھرپور (جوان) ہو گئے تو ہم نے اُن کو حکمت اور علم عنایت کیا۔ اور ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

ولما بلغ اشدہ واستوی اتینہ حکما وعلما . اور جب موسیٰ اپنی بھرپور طاقت (یعنی کامل جوانی) کو پہنچ گئے اور (قوت عقلیہ کے لحاظ سے) درست ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت و علم عطا کیا۔ اَشُدَّ ‘ شِدَّتَکی جمع ہے جیسے انعم ‘ نِعمَت کی۔ شدت کا معنی ہے قوت ‘ اَشُدَّکو پہنچنے کا یہ مطلب ہے کہ ایسی طاقت (جوانی) کو پہنچ گئے جو نمو کی آخری حد تھی۔ کلبی نے کہا : اَشُد کی عمر 18 سے 30 سال تک ہے۔ مجاہد وغیرہ کے نزدیک 33 سال کی عمر اَشُد کی عمر ہے۔ اِسْتَوٰی یعنی ان کی عقل ٹھیک ہوگئی۔ مراد یہ ہے کہ چالیس سال کی عمر ہوگئی۔ کذا روی سعید بن جبیر عن ابن عباس۔ بعض کے نزدیک اِسْتَوٰی کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جوانی کی انتہا کو پہنچ گئے۔ حُکْمًا یعنی نبوت ‘ عِلْمًا یعنی اللہ اور اس کے احکام کی معرفت۔ بعض کے نزدیک اس سے نبی بنانا مراد نہیں ہے کیونکہ نبوت تو مصر سے ہجرت کرنے کے بعد مدین سے واپسی میں ملی تھی بلکہ اس سے مراد ہے دانش اور احکام شرعی کا علم۔ میں کہتا ہوں : واؤ مطلق عطف کے لئے آتا ہے ‘ ترتیب کے لئے ضرورت نہیں۔ نبوت اگرچہ ہجرت کے بعد ملی تھی لیکن اس جگہ پہلے ذکر کرنا اس وعدہ کی تکمیل کو ظاہر کر رہا ہے جو آپ کی والدہ سے اللہ نے فرمایا تھا اور ارشاد فرمایا ہے : اِنَّا رَآوُّدْہُ اِلَیْکِ وَجَاعِلُوْہُ مِنَ الْمُرْسِلِیْنَ ۔ وکذلک نجزی المحسنین . اور ہم نیکوکاروں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یعنی موسیٰ اور ان کی والدہ کو ان کی نیکوکاری کی ہم نے جزا دی۔ ایسی ہی جزا ہم نیکوکاروں کو دیا کرتے ہیں۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے

ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ من اھلھا . اور موسیٰ شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب کہ شہر والے بیخبر (پڑے سو رہے) تھے۔ سدی نے کہا : شہر سے مراد ہے مدین کا شہر جو حدود مصر میں تھا۔ مقاتل نے کہا : خانین کا قصبہ مراد ہے جو مصر سے دو فرسخ پر تھا۔ بعض نے کہا : شہر مدینۃ الشمس مراد ہے۔ محلی نے کہا : شہر منف مراد ہے ‘ ایک مدت کے بعد حضرت موسیٰ منفگئے تھے۔ حِیْنَ غَفْلَۃٍ سے مراد ہے دوپہر کا وقت جب کہ لوگ قیلولہ میں تھے۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا : مغرب و عشاء کا درمیانی وقت مراد ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو فرعون کا بیٹا کہا جاتا تھا ‘ آپ کی سواری فرعون کی سواری کی طرح ہوتی تھی اور لباس بھی فرعون کا ہی جیسا شاہانہ ہوتا تھا۔ ایک روز فرعون سوار ہو کر نکلا ‘ موسیٰ اس وقت موجود نہیں تھے ‘ جب واپس آئے تو فرعون جا چکا تھا۔ آپ اس کے پیچھے سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔ منف میں پہنچے تو دوپہر کا وقت ہوگیا ‘ اس وقت راستوں میں کوئی نہ تھا (سب اپنے اپنے گھروں میں جا چکے تھے) محمد بن اسحاق نے کہا : بنی اسرائیل میں کچھ لوگ موسیٰ کے پیرو تھے ‘ آپ کی نصیحتیں سنتے اور ان پر چلتے بھی تھے۔ جب آپ کی حق پرستی ظاہر ہوگئی تو آپ نے فرعون اور اس کی قوم کے مذہب کی مخالفت کی ‘ اس کا ذکر فرعون سے بھی کیا گیا۔ لوگوں نے حضرت موسیٰ کو ڈرایا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ جس بستی میں جاتے تو چھپتے چھپاتے اور ڈرتے ڈرتے جاتے۔ ایک روز جو (کسی) شہر میں گئے تو (حسب معمول) ایسی حالت میں گئے کہ لوگ بیخبر تھے (معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی رعایا اختلاف مذہبی کی وجہ سے آپ کی دشمن ہوگئی تھی) عید کا دن تھا ‘ لوگ کھیل کود اور تفریح میں مشغول تھے۔ فوجد فیھا رجلین یقتتلن ھذا من شیعتہ وھذا من عدوہ . سو انہوں نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے پایا ‘ ایک ان کی برادری کا تھا اور دوسرا مخالفین میں سے۔ یَقْتَتِلٰن یعنی آپس میں جھگڑا کر رہے تھے ‘ مِنْ شِیْعَتِہٖ یعنی بنی اسرائیل میں سے تھا ‘ مِنْ عَدُوِّہٖ یعنی قبطیوں میں سے تھا۔ فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ فوکزہ موسیٰ فقضٰی علیہ . سو جو شخص برادری میں سے تھا ‘ اس نے موسیٰ سے اس شخص کے خلاف جو مخالفین میں سے تھا ‘ مدد طلب کی تو موسیٰ نے اس کے ایک گھونسہ مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔ استغاثہ مدد طلب کرنا۔ اسرائیلی نے قبطی کے مقابلہ میں موسیٰ سے مدد مانگی ‘ موسیٰ کو سخت غصہ آیا ‘ قبطی اسرائیلی کو پکڑے ہوئے تھا اور اتنی بات جانتا تھا کہ موسیٰ بنی اسرائیل کی نظر میں محترم ہیں اور موسیٰ بھی ان کی پاسداری کرتے ہیں اور عام لوگ اتنا ہی جانتے تھے کہ موسیٰ کو ایک اسرائیلی عورت نے دودھ پلایا ہے اس لئے موسیٰ بنی اسرائیل کا پاس لحاظ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرعون کے آدمی سے کہا : اس کو چھوڑ دے (وہ شاہی سپاہی تھا) اس نے کہا : ہم تو اس کو اس لئے پکڑ رہے ہیں کہ یہ لکڑیاں اٹھا کر آپ کے والد کے باورچی خانہ میں پہنچا دے (یعنی بیگار میں پکڑ رہے ہیں) موسیٰ اس سے جھگڑنے لگے۔ فرعونی بولا : اب تو میں نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ لکڑیاں تیرے اوپر لاد کر پہنچاؤں گا۔ حضرت موسیٰ قدآور بھی تھے اور بہت زیادہ طاقتور بھی ‘ آپ ن یاس کے ایک گھونسہ رسید کردیا ‘ وہ فوراً مرگیا۔ وَکَزَہٗ حضرت ابن مسعو کی قرأت میں لَکَزَہٗ آیا ہے ‘ دونوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی گھونسہ مارا۔ بعض نے کہا : وَکْزٌ سینہ پر گھونسہ مارنے کو اور لَکْزٌ پشت پر گھونسہ مارنے کو کہتے ہیں۔ فراء نے کہا : دونوں کا اصل معنی ہے دھکا دینا۔ ابوعبیدہ کا قول ہے : وَکْزٌ کا معنی ہے انگلیوں کے سروں سے دھکا دینا۔ بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ موسیٰ نے تراسی کا عقد بنا کر قبطی کے سینہ پر ضرب رسید کی۔ فَقَضٰی عَلَیْہِ یعنی اس کو قتل کردیا پھر ریت میں ہی دفن کردیا۔ محلی نے یہی لکھا ہے : قَضٰی عَلَیْہِ اس کے کام سے فارغ ہوگئے ‘ اس کا کام تمام کردیا۔ قَضَیْتُہٗ اور قَضَیْتُ عَلَیْہِ دونوں کا ایک ہی معنی ہے میں نے اس کو تمام کردیا ‘ پورا کردیا۔ موسیٰ نے اس کو قصداً قتل نہیں کیا تھا اس لئے پشیمان ہوئے اور قال ھذا من عمل الشیطن انہ عدو مضل مبین . کہا : یہ شیطانی حرکت ہوگئی۔ بیشک شیطان (آدمی کا) کھلا ہوا دشمن ہے غلطی میں ڈال دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس فعل کو شیطانی حرکت اس لئے قرار دیا کہ اس وقت آپ کو کافروں کے قتل کرنے کا حکم نہیں تھا اور ان لوگوں کے اندر آپ محفوظ بھی تھے ‘ ان میں سے کسی کو اچانک قتل کردینا آپ کے لئے جائز نہ تھا۔ لیکن یہ قتل خطاً تھا ‘ قصداً نہ تھا اس لئے اس کو عصمت انبیاء کے خلاف نہیں قرار دیا جاسکتا۔ موسیٰ نے اس فعل کو شیطانی حرکت شمار کیا اور ظلم سمجھا اور پھر استغفار کی ‘ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ مقرب بندوں میں سے تھے ‘ حقیر فروگزاشت کو بھی عظیم گناہ جانتے تھے۔ اہل قرب کی یہی حالت ہوتی ہے (اگر ان سے ادنیٰ غلطی ہوجائے تو وہ اس کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور پھر استغفار کرتے ہیں) ۔
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اُن کو بخش دیا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

قال رب انی ظلمت نفسی فاغفر لی فغفر لہ انہ ھو الغفور الرحیم . موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا (کہ تیرے حکم کے بغیر ایک شخص میرے ہاتھ سے مارا گیا) سو میرے اس قصور کو تو معاف فرما دے ‘ اللہ نے موسیٰ کو معاف کردیا۔ بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔ یعنی اللہ نے اپنا حق معاف کردیا اور قبطی چونکہ معصوم الدم نہ تھا کہ جس کو قتل کرنا موجب قصاص و دیت ہوتا اس لئے وارثوں سے معاف کرانے کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ نہ قیامت کے دن مقتول کے عفو کرنے کی ضرورت ہوگی۔
Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں

قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظھیرًا للمجرمین . اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھ پر (بڑے بڑے) انعام فرمائے ہیں تو میں بھی آئندہ مجرموں کا مددگار کبھی نہ ہوں گا۔ حضرت مفسر نے فرمایا : بمَِا اَنْعَمْتَ میں ب قسمیہ ہے اور جواب قسم اس کے بعد والا کلام ہے اور فَلَنْ اَکلُوْنَ کا عطف محذوف کلام پر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا کہ موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں قسم کھاتا ہوں ان انعامات کی جو تو نے مجھ کو عطا فرمائے ہیں ‘ میں نے توبہ کی۔ یاب کا تعلق فعل محذوف سے ہے اس صورت میں مطلب اس طرح ہوا : اے میرے رب ! مجھے لغزشوں سے محفوظ رکھ بحق ان انعامات کے جو میرے حال پر تو نے مبذول فرمائے ہیں۔ لِلْمُجْرِمِیْنَ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اَلْمُجْرِمِیْنَ یعنی اَلْکَافِرِیْنَ اگر یہ روایت صحیح مان لی جائے تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ وہ اسرائیلی کافر تھا۔ مقاتل کا یہی قول ہے۔ قتادہ نے کہا : آیت کا معنی یہ ہے کہ آئندہ میں کسی جرم کا مددگار نہ ہوں گا۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اس کے بعد میں کسی کی مدد ایسی نہیں کروں گا کہ میری مدد مجھے جرم تک پہنچا دے (یعنی مجرم بنا دے) ۔
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے

فاصبح فی المدینۃ خآئفا یترقب . پھر موسیٰ کو اسی شہر میں صبح ہوئی خوف اور وحشت کی حالت میں۔ اَلْمَدِیْنَۃِ یعنی اس شہر میں جس میں قبطی کو قتل کیا تھا۔ یَتَرَقَّبُ مقتول کے وارثوں کی طرف سے انتقام کا اندیشہ کر رہے تھے یا اپنے رب کی طرف سے مدد کے منتظر تھے۔ فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ قال لہ موسیٰ انک لغوی مبین . تو دیکھتے کیا ہیں کہ جس شخص نے موسیٰ سے کل مدد مانگی تھی ‘ وہی موسیٰ کو چیخ کر پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا : حقیقت میں تو ہی کھلا ہوا کج رفتا رہے۔ یَسْتَصْرِخُہٗ ان سے فریاد کر رہا ہے (مدد مانگ رہا ہے) یہ صُرَاخٌ سے مشتق ہے ( صُرَاخ کا معنی ہے چیخنا ‘ فریاد کرنا) حضرت ابن عباس نے فرمایا : لوگ فرعون کے پاس آئے اور کہا : بنی اسرائیل نے ہمارا ایک آدمی مار ڈالا ‘ ہمارا حق (قصاص) دلوائیے۔ فرعون نے کہا : قاتل کو تلاش کرو اور گواہوں کو پیش کرو ‘ بغیر شہادت کے تو فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ لوگ تلاش میں گھومنے لگے لیکن کوئی یقینی شہادت نہ مل سکی۔ اتفاقاً دوسرے روز موسیٰ جا رہے تھے کہ کل والے اسرائیلی کو کسی فرعونی سے لڑتے دیکھا۔ اسرائیلی نے فریاد کی اور فرعونی کے خلاف موسیٰ سے مدد مانگی۔ موسیٰ کل کے ہی قصور پر نادم تھے کہ ان کے ہاتھ سے ایک قبطی مارا گیا تھا ‘ اسرائیلی سے کہا : تو ہی کج راہ ہے ‘ تیری کج راہی کھلی ہوئی ہے۔ کل ایک شخص کے مارے جانے کا تو ہی سبب بنا اور آج ایک اور آدمی سے لڑ رہا ہے اور مجھ سے مدد مانگ رہا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعونی سے کہا تھا : اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌکیونکہ وہ ظلم کر رہا تھا پھر اسرائیلی پر آپ کو رحم آیا کیونکہ فرعونی اس پر ظلم کر رہا تھا اور فرعونی کو پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
Ayah 28:19

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو

فلما ان اراد ان یبطش بالذی ھو عدو لھما قال یموسٰی اتری ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس ان ترید الا ان تکون جبارًا فی الارض وما ترید ان تکون من المصلحین . سو جب موسیٰ نے اس شخص کی طرف ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا جو دونوں کا مخالف تھا تو اسرائیلی بول اٹھا : کیا (دنیا میں) اپنا زور بٹھانا چاہتے ہو اور صلح کرانا نہیں چاہتے ؟ یہ ترجمہ حضرت مولانا تھانوی (رح) کے ترجمہ کے موافق ہے۔ ھُوَ عَدُوٌّ لَّھُمَا یعنی قبطی جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی کا دشمن بایں معنی تھا کہ ان کے مذہب سے اس کا مذہب جدا تا یا یوں کہا جائے کہ تمام قبطی بنی اسرائیل کے دشمن تھے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کا ہاتھ بڑھتا دیکھ کر خیال کیا کہ موسیٰ مجھے پکڑنا چاہتے ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ کو وہ غصہ میں دیکھ ہی چکا تھا اور آپ کا یہ قول اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ بھی سن چکا تھا۔ یہ خیال کر کے قَالَ یٰمُوْسٰی یعنی اسرائیلی نے کہا یا قبطی نے کہا کیونکہ حضرت موسیٰ کے قول اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ سے اس کو شبہ ہوگیا تھا کہ موسیٰ نے اس اسرائیلی کی حمایت میں کل قبطی کو قتل کیا ہے۔ اول قول زیادہ واضح ہے۔ جَبَّارًا یعنی شدت غضب کی وجہ سے بڑا قاتل ‘ فِیْ الْاَرْضِ یعنی مصر کی سرزمین میں جہاں بغیر خوف انجام کے لوگوں پر تم ظلم کرتے ہو ‘ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ اور تمام لوگوں میں صلح کرانی نہیں چاہتے کہ خوش اسلوبی کے ساتھ آپس کے جھگڑے کو دور کرا سکو۔ قبطی نے جب اسرائیلی کا یہ قول سنا کہ اس نے موسیٰ کو مخاطب کر کے کہا : اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنٍِْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بالْاَمْسِ تو سمجھ گیا کہ کل جو قبطی مارا گیا تھا اس کے قاتل موسیٰ ہیں اور فوراً فرعون کو جا کر اطلاع دے دی۔ فرعون نے موسیٰ کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ حضرت موسیٰ نے لوگوں کے اقوال سن لئے تھے کہ عام لوگ کہہ رہے تھے کہ موسیٰ قاتل ہے اور یہ اطلاع فرعون کے پاس بھی پہنچ گئی تھی اور لوگ حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کے درپے ہوگئے تھے۔ (بہرحال فرعون کو خبر پہنچ گئی اور فرعون کے درباری آپ کے قتل کا مشورہ کرنے لگے) ۔
Ayah 28:20

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں

وجآ رجل من اقصا المدینۃ یسعٰی . اور شہر کے آخری حصہ کا رہنے والا دوڑتا ہوا (حضرت موسیٰ کے پاس) آیا۔ اکثر اہل تفسیر نے اس کا نام حزئیل بتایا ہے مُؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ (قبطیوں میں سے ایک مرد مؤمن) اسی کو کہا گیا ہے۔ بعض نے اس کا نام شمعون اور بعض نے سمعا بیان کیا ہے۔ قال یموسیٰ ان المہال یاتمرون بک لیقتلوک فاخرج انی لک من النصحین . اور اس نے کہا : موسیٰ (فرعون کے) درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں آپ فوراً یہاں سے (باہر) نکل جائیے۔ میں قطعی آپ کے خیرخواہوں میں سے ہوں (اس لئے دوڑا ہوا اطلاع دینے آیا ہوں) ۔
Ayah 28:21

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

موسٰی وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔

فخرج منھا خآبفًا یترقب . (یہ بات سنتے ہی) موسیٰ نکل کھڑے ہوئے ڈرتے ڈرتے ٹوہ لگاتے (کہ پیچھے سے کوئی تلاش کرنے والا نہ آ رہا ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ سے مدد کی امید کرتے ہوئے اور دشمنوں سے ڈرتے ہوئے نکل چلے) ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اللہ کے سوا مخلوق سے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ لاَ یَخْشَوْنَ اَحَدًا الاَّ اللّٰہِ قرآن کی نص قطعی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انی جان کا خوف فطری چیز ہے اور فطری خوف منافی نبوت نہیں۔ انبیاء جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اوامرو نواہی کے اظہار و اشاعت میں ذاتی ضرر پہنچنے سے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ‘ ان کو کسی کی سوائے اللہ کے پرواہ نہیں ہوتی۔ انبیاء کے علاوہ دوسرے لوگ آدمیوں سے ایسا ہی ڈرتے ہیں جیسا اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اللہ کے خوف سے بھی زیادہ ان کو بندوں کا ڈر ہوتا ہے۔ انسانوں کے ہاتھوں پہنچنے والی تکلیف کو وہ اللہ کے عذاب کے برابر جانتے ہیں۔
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے اُمید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ بتائے

قال رب نجنی من القوم الظلمین . کہا : اے میرے رب ! مجھے ان کافر لوگوں سے بچا۔ یعنی مجھ تک ان کی رسائی نہ ہو ‘ میں ان گرفت سے باہر ہوجاؤں۔ فرعون کو جب موسیٰ کے فرار ہونے کی اطلاع ملی تو اس نے گرفتاری کے لئے سپاہیوں کا ایک دستہ بھیج دیا اور حکم دیا کہ سوار ہو کر مختلف راستوں کو جاؤ کیونکہ موسیٰ کو اصل شاہراہ تو معلوم نہیں ہے۔
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب مدین کے پانی (کے مقام) پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہو رہے (اور اپنے چارپایوں کو) پانی پلا رہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں۔ موسٰی نے (اُن سے) کہا تمہارا کیا کام ہے۔ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے چارپایوں کو) لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں

ولما توجہ تلقآ مدین قال عسٰی ربی ان یھدینی سو آ السبیل . اور جب موسیٰ مدین کی طرف ہو لئے ‘ کہنے لگے : امید ہے کہ میرا رب مجھے (کسی مقام کے) سیدھے راستہ پر چلا دے گا۔ زجاج نے کہا : یعنی اس راستہ پر چل پڑے جو مدین پر پہنچتا تھا۔ مدین ایک بستی کا نام تھا جو حضرت ابراہیم کے صاحبزادے مدین کے نام پر آباد کی گئی تھی۔ موسیٰ پیدل نکلے تھے ‘ نہ سواری تھی ‘ نہ کھانے پینے کا سامان ساتھ تھا۔ مدین مصر سے آٹھ منزل کے فاصلہ پر تھا اور فرعون کی حکومت سے خارج تھا۔ قَال یعنی موسیٰ نے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے کہا۔ موسیٰ کو اپنے رب پر پورا یقین تھا۔ اَنْ یَّھْدِ یَنِیْ سَوآء السَّبِیْلِ یعنی امید ہے کہ اللہ مجھے سیدھے راستہ پر ڈال دے گا جس میں کوئی زحمت نہ ہوگی۔ موسیٰ کو مصر سے نکلتے وقت مدین کو جانے والا راستہ معلوم نہ تھا۔ جب موسیٰ نے یہ الفاظ کہے کہ ایک فرشتہ (بصورت انسانی) ہاتھ میں چھوٹا برچھا لئے نمودار ہوا اور موسیٰ کو لے چلا۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ موسیٰ جب مصر سے نکلے تو کھانے کے لئے آپ کو صرف درختوں کے پتے اور سبزیاں ہی ملیں۔ انہی کو کھاتے کھاتے آپ کو اجابت بھی سبز ہونے لگی اور مدین پہنچے ہیں تو ناخن گر چکے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ کی طرف سے موسیٰ کی یہ پہلی آزمائش تھی۔