Ayahs 28:1–21 قرآن حکیم کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی اس کتاب عظیم کی " جس کی عظمت کا کوئی کنارہ نہیں۔ اور جو منبع ومصدر ہے ہر خوبی و کمال کا اور سر چشمہ ہے حق و ہدایت کا۔ جس نے کھول کر بیان کردیا حق و حقیقت کو اور صدق و صفا کو۔ اور جس نے پوری طرح تفریق وتمیز کردی حق و باطل کے درمیان۔ حرام و حلال اور جائز و ناجائز کے درمیان۔ یہاں پر سورة نمل کی پہلی آیت کے حواشی پر بھی ایک نظر ڈالی جائے۔ سو یہ اس شان کی ایک ہی کتاب ہے اور یہ ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہے جس جیسی دوسری کوئی نعمت نہ ہوئی ہے نہ آئندہ کبھی ممکن ہے۔ لہذا اس نعمت عظمیٰ کی دل و جان سے قدر کرنی چاہیئے کہ اس سے اعراض و روگردانی بڑی بےانصافی اور سخت ناشکری ہوگی جو دارین کے ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 28:32 قصہ موسیٰ و فرعون کا ذکر عبرت گیری کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں آپ کو کچھ حصہ موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کا "۔ یعنی " مِنْ " یہاں پر تبعیضیہ ہے۔ یعنی اس قصے کا وہی حصہ بیان کیا جاتا ہے جس کا اظہار وبیان اس کتاب کے موضوع و مقصد کے اعتبار سے ضروری ہے۔ اور جو تعلیم حق اور اصلاح خلق کے لئے مفید ہے۔ کیونکہ قرآن حکیم کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ اس میں محض داستان سرائی کے طور پر اور تاریخی ترتیب کے ساتھ پورا قصہ بیان کردیا جائے بلکہ یہ کتاب عزیز کتاب حق و ہدایت ہے۔ جس کا اصل موضوع و مقصود راہ حق کی راہنمائی کرنا اور بندگان خدا کو فوز و فلاح کے راستے پر ڈالنا ہے۔ { بالحق } کی تصریح سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت موسیٰ کی یہ سرگزشت بالکل صحیح صحیح بیان ہوگی اور اس طور پر کہ عبرت و عظمت کا پہلو واضح ہو۔ تورات میں موسیٰ اور فرعون کی جو سرگزشت بیان ہوئی ہے اس میں یہ دونوں ہی چیزیں مفقود ہیں۔ نہ ہی وہ سرگزشت صحیح بیان ہوئی ہے اور نہ ہی اس سے عبرت و عظمت کا وہ مقصد سامنے آتا ہے جو کہ اس قصے کی اصل روح ہے۔ اس لیے { بالحق } کی تصریح سے واضح فرمایا دیا گیا کہ یہ سرگزشت بالکل مطابق واقعہ اور صحیح ہوگی۔
3 ایمان صلاح و فلاح کی اصل بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم آپ کو موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت سناتے ہیں حق کے عین مطابق ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں "۔ سو اس کا بیان تو سب کے لئے عام ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھا سکیں گے جو اس پر ایمان رکھتے ہوں یا ایمان لانا چاہتے ہوں۔ ورنہ ہٹ دھرموں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ سو یہ اسی حقیقت کا اعادہ و تکرار ہے جو اس سے قبل مختلف مقامات پر گزر چکی ہے اور مختلف انداز سے اس کی توضیح و تاکید فرمائی گئی ہے کہ اس کتاب حکیم سے استفادہ کی شرط اولین اس پر سچا پکا ایمان ہے نہ کہ محض زبانی جمع خرچ ۔ فزِدْنَا اللّٰھُمَّ اِیْمَانًا بِہٖ ویقیناً وَحُبًّا فِیْہِ وَّخِدْمَۃً وَاشْتغالاً ۔ سو اس سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان و یقین کی دولت صلاح و فلاح کی اصل بنیاد ہے اور دوسری طرف یہ بات کہ عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن اور ارادئہ و نیت سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 28:44 فرعون بڑا سرکش ہوگیا تھا : کہ اس نے خدائی کا دعوی کرلیا تھا اور۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کا نعرہ لگا دیا تھا جو کہ طغیان و سرکشی کی حد و انتہا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ بندے کا اصل مرتبہ و مقام اور اس کی حدود اربعہ یہ ہے کہ وہ بندہ بن کر رہے اور اس کائنات کے خالق ومالک کے اوامرو ارشادات کی پابندی اور پاسداری کرے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ اس سے غافل ہو کر اپنی من مانی کرنے لگے اور بندگی کی حدود کو پھلانگ کر اپنی خدائی کا دعویدار بن جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور لوگوں کو خدا کی اطاعت و بندگی کی طرف بلانے کی بجائے ان سے اپنی بندگی اور غلامی کرانے لگے تو اس سے بڑھ کر علو اور سرکشی اور کیا ہوسکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ اور اس کے بعد کی دو آیتوں کے ذریعے اس غایت اور مقصد کو واضح فرما دیا گیا ہے جس کی یہ سرگزشت سنائی جا رہی ہے۔ اور یہ قرآن حکیم کا ایک خاص اسلوب ہے جس کو مختلف مقامات پر اختیار فرمایا گیا ہے کہ کوئی سرگزشت سنانے سے پہلے اس مدعا و مقصد کو مختصر الفاظ میں قاری اور سامع کے سامنے رکھ دیا جائے جو اس کے سنانے سے اصل مقصود ہوتا ہے تاکہ سرگزشت کے پھیلاؤ میں اصل حقیقت قاری اور سامع کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔
5 " لڑاؤ اور حکومت کرو " کی فرعونی سیاست کا نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعون نے اپنے ملک میں لوگوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر رکھا تھا "۔ تاکہ اس طرح وہ " فَرِّقْ تَسُدُّ " (Devide and Rule) یعنی " لڑاؤ اور حکومت کرو " کے مشہور سیاسی ہتھکنڈے سے کام لے کر اپنی مقصدبر آری کرتا رہے۔ اور اس مقصد کیلئے اس نے ایک طبقے کو دبا کر غلام بنا رکھا تھا اور دوسرے طبقے کو ہر طرح کے انعامات سے نوازا جا رہا تھا۔ اور یہی فرعونی طریقہ آج تک دنیا کی مختلف استعماری قوتوں اور سیاسی طالع آزماؤں نے جگہ جگہ اور طرح طرح سے اپنا رکھا ہے۔ اور اس سے وہ اپنی مقصد برآری اور اغراض خبیثہ کی تحقیق و تکمیل کے لئے کام لیتے اور اللہ کی زمین میں طرح طرح سے فساد پھیلاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ اس دور کی سب سے بڑی شیطانی سپر پاور امریکہ نے پوری دنیا میں کمزور ملکوں اور خاص کر مسلمانوں کو طرح طرح کے مصائب و آلام میں مبتلا کر رکھا ہے اور وہ ان پر طرح طرح کے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور دوسری طرف وہ اسرائیل جیسے اپنے بغل بچوں کو طرح طرح قوت و مدد اور انعام و اکرام سے نواز رہا ہے ۔ وجعل اللہ کیدہم فی نحورہم -
6 فرعون کے بنی اسرائیل پر ہولناک مظالم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ انکے بچوں کو چن چن کر ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھ چھوڑتا "۔ تاکہ ان سے وہ طرح طرح کی خدمتیں لے سکے اور فائدے اٹھا سکے۔ نیز اس لئے کہ اس صنف نازک اور مخلوق ضعیف سے ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ سو یہ ظلم و ستم اور جبر وعدوان کی ایک واضح مثال تھی جو فرعون اور قبطیوں کی طرف سے بنی اسرائیل پر ڈھایا جارہا تھا اور جس میں نبیوں کی نسل سے تعلق رکھنے والی یہ قوم ایک زمانے تک پستی رہی تھی۔ بہرکیف فرعون جو خود خدا بن بیٹھا تھا اس نے بنی اسرائیل کو غلاموں کی حیثیت دے رکھی تھی اور اپنی قبطی قوم کو اس نے یہ اختیار دے رکھا تھا کہ وہ بنی اسرائیل سے غلاموں کی طرح کام لیں۔
Ayah 28:57 بنی اسرائیل کو پیشوا بنانے کا خدائی فیصلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور ہم چاہتے تھے کہ انکو پیشوا بنادیں "۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی پوری کوشش تو یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو کسی بھی صورت ابھرنے نہ دیں لیکن ہمارا فیصلہ یہ تھا کہ ہم ان کو پیشوا بنادیں۔ یعنی دین و دنیا میں تاکہ یہ حق و ہدایت کے مطابق لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کریں۔ اور لوگ ان کی اقتداء و پیروی کریں۔ امامت و پیشوائی اپنے عموم کے ساتھ اگرچہ دینی اور دنیاوی دونوں قسم کی پیشوائی کو عام اور شامل ہے لیکن یہاں پر چونکہ وراثت کا ذکر آگے آرہا ہے جس کا تعلق یہاں دنیاوی وراثت و پیشوائی ہی سے ہے اس لیے یہاں پر امامت و پیشوائی سے مراد وہی پیشوائی ہے جو حضرت موسیٰ کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی تھی۔ سو فرعون تو ان لوگوں کو دبا کر رکھنا چاہتا تھا مگر ہم ان کو منصب امامت پر فائز کرنا چاہتے تھے۔ یعنی ان پر احسان کر کے ان کو امامت و پیشوائی کے منصب پر فائز کریں اور ظالموں کو مٹا کر ان مظلوموں کو ان کی وراثت و خلافت عطا کریں۔ سو { نجعلہم ائمۃ } کے ارشاد سے اشارہ ان کی اس دینی امامت و پیشوائی کی طرف ہے جو ان کو حضرت موسیٰ کی بعثت کے بعد حاصل ہوئی۔ اور { ونجعلہم الوارثین } سے وہ حکومت اور خلافت مراد ہے جو ان کو ارض فلسطین میں ملی اور جس کی حدود حضرت سلیمان کے عہد میں بہت وسیع ہوگئی تھیں۔ یہاں تک کہ مصر کی حکومت بھی ان کی ایک باج گزار ریاست بن گئی تھی۔ سو قدرت کی عنایتوں نے ان کو غلامی سے نکال کر تخت حکمرانی پر بٹھا دیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 28:68 فرعونی تدبیر اور اس کے مقابلے میں خدائی تقدیر : یعنی فرعون اور فرعون والے تو ان کو دبا کر رکھنا چاہتے تھے اور بالفعل انہوں نے ان کو غلامی کی زنجیروں میں بری طرح جکڑ بھی رکھا تھا اور وہ ان کے مٹانے کے درپے تھے مگر ہم اس کے علی الرغم ان مظلوموں کو اپنی عنایات سے نواز کر ان کو حکومت و اقتدار سے سرفراز کرنا چاہتے تھے۔ آخر ہوا وہی جو اللہ چاہتا تھا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ وہ جو چاہے کرے۔ کوئی اس کو روکنے والا نہیں ۔ { وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ } ۔ (یوسف : 21) ۔ سو بندے کی تدبیر خدائی ارادئہ و تقدیر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں اگرچہ وہ تدبیر فرعون جیسے کسی ایسے ڈکٹیٹر کی تدبیر کیوں نہ ہو جو اپنے دور کی سب سے بڑی متمدن حکومت کے جملہ وسائل پر بھی قابض و متمکن کیوں نہ ہو۔ ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادئہ و قوت اور اپنی قدرت وحکمت سے بالآخر فرعون اور اس کے سب حواریوں کو غرقاب کر کے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود اور فی النار والسقر کردیا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارثو جانشیں اور بعد کے لوگوں کا امام و پیشوا بنادیا۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ وحدہ لا شریک ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔
Ayah 28:79 امِّ موسیٰ کی وحی والہام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ کی والدہ کو الہام کے ذریعے بتادیا کہ تم اس بچے کو دودھ پلاتی رہو۔ پھر جب اس کے بارے میں خطرہ محسوس ہونے لگے تو تم اس کو دریا میں ڈال دینا " اور یہ الہام یا خواب میں فرمایا گیا تھا یا فرشتے کے ذریعے یا یونہی دل میں ڈال دیا گیا تھا۔ { اوحینا } کا مفہوم ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے۔ بہرحال یہ وحی نبوت و رسالت کی وحی نہیں تھی کہ والدئہ موسیٰ نبیہ بہرحال نہیں تھیں۔ اور علمائے امت کا اس پر اجماع ہے کہ کوئی خاتون نہ کبھی نبی ہوئی نہ ہوسکتی ہے بلکہ اس شرف سے ہمیشہ مردوں ہی کو نوازا گیا ہے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کو وحی والہام کے ذریعے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ اپنے اس بچے کو دودھ پلاتی رہیں۔ اور جب انکے بارے میں فرعونیوں سے خوف محسوس کریں تو انکو دریا میں ڈال دیں اور انکے بارے میں کوئی فکر و اندیشہ نہ کریں۔ ہم ان کی حفاظت کریں گے۔ اور ہم اس کو واپس تمہارے پاس لے آئیں گے۔ اور ہم اس کو رسولوں میں سے کردیں گے۔ اس لیے تم اس کے بارے میں مطمئن رہنا اور کسی طرح کا فکر و اندیشہ اپنے دل میں نہ رکھنا۔ اور بعد میں وعدئہ خداوندی کی مطابق ایسے ہی ہوا۔
Ayah 28:810 موسیٰ کی پرورش کا محیر العقول انتظام : سو حضرت موسیٰ کی پرورش فرعون کے ذریعے قدرت کی کرشمہ سازی کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ تھا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس بچے کو اٹھا لیا فرعون والوں نے تاکہ انجام کار وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے دائمی غم کا باعث بنے "۔ سو فرعون کے ہاتھوں اس کے دشمن کی پرورش کا انتظام قدرت کی کرشمہ سازی کا ایک عظیم الشان مظہر اور نمونہ تھا۔ { لیکون } کا یہ لام لام عاقبت ہے۔ یعنی انہوں نے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس غرض کیلئے نہیں اٹھایا تھا لیکن ان کے اس فعل کا انجام بہرحال یہی ہونا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بالآخر ان کے دشمن ہوں گے اور ان کیلئے باعث غم اور سبب ہلاکت و تباہی بنیں گے۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ " فلاں شخص نے چوری اس لئے کی تاکہ اس کے ہاتھ کاٹے جائیں "۔ یعنی اس کی چوری کا انجام و نتیجہ یہی ہونا تھا یا جیسے کہا جاتا ہے ۔ " لدوا للموت وابنوا للخراب " ۔ یعنی " جنو موت کے لیے اور بناؤ خرابی و بربادی کے لیے "۔ بہرکیف اس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شاہی محل میں پہنچ گئے اور آپ کی تربیت و پرورش کا انتظام شاہی وسائل و ذرائع سے ہونے لگا۔ اور اس طرح قدرت کا یہ کرشمہ سامنے آیا کہ جس موسیٰ کے قتل کیلئے فرعون نے کتنے ہی معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا اسی موسیٰ کی پرورش خود کرنے لگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کی والدہ نے اپنے بچے کو جس صندوق میں رکھ کر دریا کی موجوں کے حوالے کردیا تھا اور وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل تک جا پہنچا تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا۔ دیکھا کہ اس میں ایک موہنا سا بچہ پڑا ہوا ہے۔ تو بادشاہ اور ملکہ کے حکم سے اس کو شاہی محل میں لایا گیا۔ سو انہوں نے تو اس بچے کو اس لیے اٹھایا تھا کہ وہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بنے گا جیسا کہ آگے وانے والے ملکہ کے قول سے واضح ہوجاتا ہے لیکن تقدیر الہی کا یہ بھید ان کے علم میں نہیں تھا کہ آئندہ چل کر یہی بچہ فرعونی اقتدار کے ہمیشہ کے خاتمے کا ذریعہ بنے گا۔ اور اسی کے ہاتھوں وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت ہمیشہ کے لیے فی النار والسقرہو جائے گا ۔ والعیاذ باللہ والحمد للہ الذی بیدہ ازمۃ الامور -
11 فرعونیوں کی مت ماری کا ذکر وبیان : سو اس سے فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کی مت ماری اور خطا کاری کا نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ فرعون و ہامان اور انکے لشکر بڑے ہی خطاکار تھے "۔ جنہوں نے اپنی حماقت اور مت ماری سے یہ سمجھ رکھا تھا کہ سب کچھ ان ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے جس کی بنا پر پہلے تو انہوں نے بندگی سے بڑھ کر خدائی کے دعوے کر لئے۔ پھر ملکی قانون میں عدل و انصاف اور برابری کی بجائے تقسیم و تفریق کا ظلم کیا۔ پھر نبیوں کی اولاد ۔ بنی اسرائیل ۔ کو غلامی کی زنجیروں میں بری طرح جکڑ دیا۔ پھر " لڑاؤ اور حکومت کرو " کے شیطانی اصول پر ان کی قوت کو مزید پارا پارا کیا۔ پھر تدبیر کے ذریعے تقدیر کو ٹالنے کا بیڑہ اٹھایا۔ اور اس طرح کتنے ہی بےگناہوں کے خون سے انہوں نے اپنے ہاتھوں کو رنگا۔ اور اس سب کے باوجود جس بچے نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجانا تھی اور انکے اقتدار کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردینا تھا اسے خود اٹھا کر اپنے ہاتھوں پرورش کرنے لگے۔ سو اس طرح یہ لوگ خطا در خطا کے مرتکب ہوتے چلے گئے۔ اور یہی حال اور انجام ہوتا ہے ان لوگوں کا جو حق کو قبول کرکے اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنے کی بجائے الٹا حق سے منہ موڑ کر اس کا راستہ روکنے کیلئے اور اپنے خالق ومالک کے مقابلے میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کی مت مار کر رکھ دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسوں کو جتنی بھی مہلت اور ڈھیل حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے مل جائے ان کا انجام بہرکیف دائمی ہلاکت اور ابدی تباہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 28:912 فرعون کی بیوی کی رحمدلی کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ تو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہیں کرو۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا اس کو ہم اپنا بیٹا ہی بنالیں "۔ بعض روایات میں ہے کہ اس پر فرعون نے اپنی بیوی سے کہا ۔ " لَکِ لا لِیْ " ۔ یعنی یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تیرے لئے ہوگا میرے لئے نہیں۔ سو تقدیر نے یہ الفاظ اس کے منہ سے کہلوا دیئے۔ اور ایسے ہی ہوا کہ موسیٰ اس کے اقتدار کے دائمی خاتمے اور اس کی دائمی اور ابدی ہلاکت و تباہی کا ذریعہ اور باعث بن گئے۔ اور فرعون آپ (علیہ السلام) کے وجود باجود سے رحمت و ٹھنڈک پانے کی بجائے ہمیشہ کے لئے فی النار والسقر ہوگیا اور آتش دوزخ کا ایندھن بن گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ اس کی وہ نیک طینت اور ایماندار بیوی جنت کے باسیوں میں شامل ہو کر ابدی رحمت وسعادت اور دائمی فوزوفلاح سے ہمکنار و سرفراز ہوگئی۔ بہرکیف فرعون کی بیوی نے اس سے کہا کہ ایسی موہنی صورت والا بچہ قتل کے لائق نہیں پالنے کے قابل ہے۔ یہ تو میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ہے۔ امید ہے کہ یہ ہمیں نفع پہنچائے گا یا ہم اس کو بیٹا ہی بنالیں۔ پس تم اس کو قتل کرنے کی سنگدلی کا ارتکاب کرنے کی بجائے اس کی حفاظت و پرورش کا سامان کرو۔ روایات کے مطابق وہ بڑی نیک بخت اور رحمدل خاتون تھیں اور فرعون کے رویئے سے وہ سخت بیزار تھیں۔ اور اسی بنا پر وہ فرعون کے گھر میں رہنے اور اس کی بیوی ہونے کے باوجود جنت کی باسی بن گئیں۔ اور ایسی عمدہ اور پاکیزہ زندگی سے سرفراز ہوگئیں کہ ان کی زندگی اہل ایمان کیلئے ایک نمونہ اور مثال بن گئی۔ جیسا کہ سورة تحریم کی آیت نمبر 11 میں اس کی تصریح فرمائی گئی۔ سو یہ فرعون کی اس ایماندار اور نیک بیوی کی رحمدلی کا ایک مظہر و نمونہ تھا۔
Ayah 28:1013 اُمِّ موسیٰ کی بےقراری اپنی انتہا کو پہنچ گئی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ادھر موسیٰ کی والدہ کا دل اڑا جا رہا تھا اور اس قدر کہ قریب تھا کہ وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتیں اگر ہم نے انکے دل کو مضبوط نہ کردیا ہوتا "۔ معلوم ہوا کہ معاملہ سب اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے نہ کہ کسی ولی و بزرگ کے ہاتھ میں کہ حضرت موسیٰ کی والدہ جن کے لئے وحی والہام کی تصریح قرآن مجید میں موجود ہے، ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے دل کو بھی اگر ہم نے مضبوط نہ کردیا ہوتا تو وہ بھی قریب تھا کہ اس راز کو فاش کر بیٹھتیں۔ سو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت نے انکو سنبھالا دے دیا جس کے نتیجے میں انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی اور راز فاش نہیں کیا۔ ورنہ انسان بہرحال انسان ہے اور ایک ماں کیلئے یہ کام کوئی آسان کام نہ تھا کہ وہ اپنے جگر گوشے کو خود اپنے ہاتھوں دریا کی موجوں کے حوالے کر دے اور پھر مطمئن ہو کر بیٹھ جائے۔ سو یہ امتحان کوئی معمولی امتحان نہیں تھا بلکہ ایک نہایت کڑی آزمائش تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ کا دستور اور اس کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں اور بندیوں میں سے جن کو امتحان میں ڈالتا ہے ان کو سنبھالا بھی دیتا ہے۔ اور ان کو اپنی رحمت و عنایت سے بھی نوازتا ہے۔ جس سے ان کے اندر حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ ایسی کڑی آزمائشوں اور سخت امتحانوں میں بھی پورے اترتے ہیں۔ پس بندے کیلئے کامیابی اور سلامتی کی راہ یہ ہے کہ وہ دل کا بھروسہ اپنے اسی خالق ومالک پر رکھے اور اس سے اپنا تعلق و معاملہ صحیح رکھے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 28:11–1214 اللہ تعالیٰ کی کارسازی کا ایک اور مظہر اور نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں ۔ کی چھاتیوں ۔ کو پہلے ہی حرام کر رکھا تھا "۔ اس لیے آپ نے کسی دودھ پلانے والی کی چھاتی کو منہ نہیں لگایا۔ سو یہ ہے قدرت کی خفیہ کارستانیوں کا ایک نمونہ و مظہر۔ موسیٰ کسی دایہ کا دودھ نہیں پیتے۔ پورا شاہی خاندان اس بنا پر پریشان ہے کہ بچے کی پرورش کا کیا انتظام کیا جائے اور کس طرح کیا جائے کہ اتنے میں حضرت موسیٰ کی ہمشیرہ نے آگے بڑھ کر ان سے کہا کہ اگر تم چاہو تو اس مشکل کا حل میں تم کو بتادوں۔ چناچہ ان کی رضا مندی کے بعد حضرت موسیٰ کی بہن جن کا نام روایات میں کلثوم بتایا گیا ہے اپنی والدہ کے پاس گئیں اور ان کو سارا ماجرا سنا دیا جس سے انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ پھر شاہی انتظامات کے مطابق ان کو شاہی محل میں بلایا گیا اور شاہی دعوت پر جب آپ وہاں پہنچیں اور موسیٰ کو جونہی چھاتی سے لگایا تو انہوں نے فوراً دودھ پینا شروع کردیا جس سے وہ سب لوگ خوش ہوگئے کہ مشکل حل ہوگئی اور پریشانی دور ہوگئی۔ پھر آپ (علیہ السلام) کی والدہ نے کہا میں تو یہاں نہیں رہ سکتی بلکہ اپنے گھر ہی پر اس کی پرورش کروں گی۔ لہذا تم لوگوں کو اگر اپنے اس بچے کی پرورش مجھ سے کرانی ہے تو اس کو میرے گھر پہنچا دو ۔ اس پر وہ لوگ راضی ہوگئے اور حضرت موسیٰ کی والدہ کے لئے حکومت کی طرف سے دیگر کئی مراعات کے علاوہ ایک اشرفی یومیہ کے حساب سے وظیفہ بھی مقرر کردیا گیا ۔ سبحان اللہ ۔ قدرت کے لطف و عنایت کے کرشمے ملاحظہ ہوں کہ جس موسیٰ کو قتل کرنے کے لئے فرعون نے کتنے ہی معصوم اور بےگناہ بچوں کو قتل کرا دیا اب اسی موسیٰ کی پرورش وہ خود اپنے شاہی انتظامات سے کرا رہا ہے اور شاہی اخراجات پر کرا رہا ہے ۔ فصَدَقَ اللّٰہُ الْقَائِلُ ۔ { وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ } ۔ (یوسف : 21) ۔ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص اپنی محنت و مزدوری اور اپنے عمل میں اخلاص و نیک نیتی سے کام لیتا ہے اس کی مثال موسیٰ کی والدہ جیسی ہے کہ اپنے بچے کو دودھ بھی پلائیں اور سرکار سے وظیفہ بھی لیں۔ پس امن و سلامتی کی راہ یہی ہے کہ انسان اللہ والا بن جائے اور اپنا سب کچھ اسی کے حوالے کر دے ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التَّوْفِیْقَ لِذَالِک وَالسَّدَادَ وَالثَّبَاتَ عَلَیْہِ وَکُنْ لَنَا وَاجْعَلْنَا لَکَ ۔ یہاں پر اگر تھوڑا سا مزید غور کریں تو اللہ پاک کی قدرت و عنایت کے اور بھی کئی عظیم الشان مظہر نظر آئیں گے۔ مثلاً یہ کہ اس موقعہ پر ان لوگوں میں سے کسی کو بھی یہ خیال نہ آیا کہ یہ لڑکی کون ہے جس نے موسیٰ کے ددھ پلانے سے متعلق ہماری اس طرح راہنمائی کی ؟ اور یہ عورت کون ہے جسکا دودھ موسیٰ نے اس طرح فوراً پینا شروع کردیا ؟ کہیں یہ موسیٰ ہی کی کوئی تعلقدار اور رشتہ دار نہ ہوں ؟ کہیں یہ کوئی طے شدہ پروگرام اور کوئی سازش تو نہیں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ مگر ان لوگوں کی جو کہ خدائی کے دعویدار بنے ہوئے تھے مت ایسی مار دی گئی اور ان کی عقلوں پر قدرت کی طرف سے ایسے پردے پڑگئے کہ ان میں سے کسی کو بھی ایسی کسی بات کا خیال تک نہ آیا۔ سو یہ بھی قدرت کے غیبی ہاتھوں کی کارستانی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اس کو جب منظور ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اگلوں کے دل و دماغ ماؤف کردیتا ہے اور ان کی آنکھوں اور کانوں کو بند کردیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہم فکن لنا ولا تکن علینا -
Ayah 28:1315 جہالت و بےعلمی خرابیوں اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اکثر لوگ جانتے نہیں "۔ یعنی وہ جانتے نہیں حق اور حقیقت کو۔ اور وہ جانتے نہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت کی شانوں کو کہ وہ تو بس ظاہر اور مادی پہلوؤں ہی کو دیکھتے پرکھتے ہیں۔ اور وہ اپنے محدود پیمانوں ہی سے دیکھنے اور سوچنے کے عادی ہوتے ہیں اور بس۔ اکثر لوگ اپنی بلادت و سفاہت اور مظاہر پرستی کی بنا پر حق اور حقیقت کو جانتے نہیں۔ اس لیے وہ اپنے خالق ومالک کی ایسی عنایات سے محروم رہتے ہیں۔ وہ خدائی وعدوں کو اور اس طرح کی غیبی باتوں کو محض ہوائی باتیں اور خیالی اور فرضی چیزیں سمجھنے لگتے ہیں اور ان پر اعتماد کرنے کی بجائے الٹا وہ اس میں اپنا خسارہ اور نقصان سمجھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ کوئی وعدہ پورا ہوتا دیکھیں گے تو تب مانیں گے۔ حالانکہ دنیا کے اس دارالامتحان میں جہاں اصل حقائق پر پردے پڑے ہوئے ہیں اصل آزمائش یہی ہے کہ انسان اپنے رب کے وعدے پر ایمان اور اعتماد ہی پر اپنے ہر معاملے کی بنیاد رکھے اور اپنے رب کے انہی وعدوں پر جیئے اور انہی پر مرے جن کی حقیقت ابھی سامنے نہیں آئی ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ لوگوں کی اکثریت حق اور حقیقت کے علم اور اس کی روشنی سے محروم و بےبہرہ ہے۔ اس لیے وہ اندھیروں کے اندر مستغرق اور غلطاں و پیچان ہے۔ اور دوسری حقیقت اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ جہالت اور بےعلمی خرابیوں اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور علم سے مراد حق اور حقیقت کا وہی علم ہے جو نور وحی سے مستفاد ہوتا ہے کہ صراط مستقیم اسی سے واضح ہوتا ہے۔ ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 28:1416{ اشد } اور { استوی } کا معنیٰ و مطلب ؟ : سو { اشد } جمع ہے " شدۃ " کی بمعنیٰ " قوۃ " جیسا کہ " انعم " جمع ہے " نعمۃ " کی۔ (المراغی، التحریر لابن عاشور (رح) وغیرہ) ۔ یعنی جب موسیٰ اپنی جوانی کی بھرپور قوتوں کو پہنچ گئے اور عقل و فکر کے اعتبار سے کامل و برابر ہوگئے۔ سو " اشد " سے مراد جوانی کی عمر اور اس کے ساتھ " استوی " سے مراد ہے عقلی، فکری اور مزاجی اعتبار سے اعتدال اور توازن کی عمر کو پہنچ جانا۔ کیونکہ صرف جوانی بجائے خود کوئی بڑی چیز نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ عقلی، فکری اور مزاجی اعتدال کا جمال شامل نہ ہو۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ اپنی عمر کے اس حصے کو پہنچے تو آپ کو حکم اور علم سے نوازا گیا ۔ والحمد للہ جل وعلا العزیز الوہاب۔
17 حکم اور علم سے مراد ؟ : سو حکم سے یہاں پر مراد نبوت نہیں بلکہ حکمت و دانائی ہے۔ کیونکہ نبوت تو آپ (علیہ السلام) کو اس سے کئی سال بعد اس وقت عطا ہوئی تھی جبکہ آپ مدین سے واپس مصر تشریف لا رہے تھے۔ اور علم کا لفظ اگرچہ عام ہے دینی و دنیوی تمام علوم کو شامل ہے اور خود حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کو بھی اپنے اسلاف و اَکابر کی علمی وراثت سے بھی بہت کچھ ملا ہوگا اور شاہی دربار میں آمد و رفت اور بود و باش کی بنا پر آپ کو شاہی آداب اور اصول حکمرانی سے متعلق سیکھنے جاننے کا بھی بہت کچھ موقعہ ملا۔ لیکن یہاں پر علم سے اصل مراد معرفت خداوندی کا وہ علم ہے جو کہ سب سے اعلیٰ وارفع اور حقیقی علم ہے۔ اور جو اصل اساس و بنیاد ہے ہر قسم کی صلاح و فلاح کی۔ اس حکم و علم کے مختلف مدارج و درجات ہیں۔ اور اس کا سب سے اعلیٰ درجہ و مقام وہ ہے جو حضرات انبیائے کرام کو عطا فرمایا جاتا ہے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کو ان عنایات سے بطور خاص نوازا گیا کہ جو عظیم کان ان کو سونپا گیا تھا اس کا تقاضا یہی تھا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 28:1518 غفلت کے وقت سے مراد ؟ : " غفلت کے وقت " سے مراد دوپہر کا وقت ہے جبکہ وہ لوگ قیلولہ کر رہے تھے۔ اور اس مدینہ سے مراد بعض حضرات نے شہر مصر ہی لیا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شاہی محل سے شہر مصر میں داخل ہوئے جبکہ بعض دوسروں کے نزدیک اس شہر سے مراد منفس کا شہر ہے جو کہ اس زمانے میں ایک بڑا مشہور مرکز تھا۔ اور تورات میں اس کا نام " موف " کر کے آیا ہے جبکہ ہماری قدیم تفسیری روایات میں اس کو " منصف " کے نام سے ذکر کیا گیا ہے جو موجودہ دارالحکومت قاہرہ سے کوئی بارہ کلومیٹر جنوب کی طرف واقع ہے۔ اور اب اسے " مطرانیہ " کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ راقم آثم نے اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک مصری عالم دین شیخ محمد عبد الحمید العدوی جو کہ ہمارے ساتھ مرکز الدعوۃ والار شاد، دبی کے رکن ہیں، سے اس شہر کے بارے میں ان امور سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اس کی حرف بحرف تائید کی۔ البتہ انہوں نے کہا کہ یہ شہر " مطرانیہ " اب قاہرہ کی آبادی سے مل گیا ہے اور قاہرہ کی عمارات وہاں تک پہنچ گئی ہیں۔ بہرکیف مدینہ سے مراد شہر ہے جو کہ اعیان و شرفاء کا مرکز اور حکومت کا مستقر تھا۔ اور بنی اسرائیل کی حیثیت چونکہ غلاموں اور خدمتگاروں کی تھی اس لیے ان کی بستی اصل بستی سے باہر کہیں بسائی گئی تھی۔ سو حضرت موسیٰ غفلت کے کسی وقت میں شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت یہ قصہ پیش آیا جس کا یہاں پر ذکر فرمایا جا رہا ہے۔
19 دو آدمیوں کی لڑائی کے قصے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے وہاں پر دو آدمیوں کو لڑتے پایا۔ جن میں سے ایک سبطی ۔ اسرائیلی ۔ تھا جو کہ حضرت موسیٰ کی قوم تھی اور ایک قبطی ۔ مصری ۔ تھا جو کہ فرعون کی قوم تھی۔ اور یہ دونوں آپس میں کسی بات پر لڑ رہے تھے۔ سبطی یعنی اسرائیلی نے جب حضرت موسیٰ کو دیکھا تو آپ کو مدد کیلئے پکارا۔ حضرت موسیٰ اس پر آگے بڑھے اور چاہا کہ بیچ بچاؤ کرکے ان کا جھگڑا ختم کردیں تو قبطی اپنی رعونت کی بنا پر اکڑ گیا اور آپ سے الجھ پڑا۔ اس پر حضرت موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا رسید کردیا۔ حضرت موسیٰ کی پاکیزہ جوانی اور حمایت مظلوم کے جوش و جذبے کی بنا پر صادر ہونے والا آپ کا یہ مکہ ایسا کارگر ثابت ہوا کہ اس قبطی نے پانی بھی نہ مانگا اور وہ اپنی رعونت اور فرعونی خمار کے ساتھ وہیں کا وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نہ تو قبطی کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی اس خلاف توقع صورتحال کے پیش آنے کا کوئی گمان تھا۔ اس لیے آپ کو اس حادثے سے سخت پشیمانی ہوئی اور آپ (علیہ السلام) فوراً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس سے معافی مانگنے لگے۔ اور یہی شان ہوتی ہے اللہ والوں کی کہ فورا اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
20 حکمت موسوی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے حضرت موسیٰ کی علم و حکمت سے سرفرازی کا ایک نمونہ و ثبوت سامنے آتا ہے کہ اس قبطی کے اس قتل پر آپ نے فرمایا کہ یہ شیطان کی کارستانی سے ہوگیا۔ واقعی وہ بڑا ہی گمراہ کن دشمن ہے۔ یعنی میرا مقصد اس کو جان سے مارنا نہیں تھا صرف تادیب مقصود تھی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ میرے ایک ہی گھونسے سے اس طرح ڈھیر ہوجائے گا۔ اور شاہی خاندان ۔ رائل فیملی ۔ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا غلام قوم کے ایک شخص کے ہاتھوں اس طرح قتل ہوجانا خدا جانے کیا کیا ستم ڈھائے گا۔ سو یہیں سے حضرت موسیٰ کی علم و حکمت سے سرفرازی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ اگر آپ (علیہ السلام) کی جگہ کوئی اور ہوتا اور وہ اس طرح ایک ہی گھونسے سے دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار دیتا تو وہ اس کی اپنی جوانی و قوت اور اپنی شہ زوری کا ایک نمونہ اور ایک کارنامہ قرار دیتا۔ اور خاص کرکے ایک قبطی کو اس طرح قتل کردینے کو تو اپنا تاریخی کارنامہ قرار دیتا۔ لیکن حضرت موسیٰ ہیں کہ اس کے برعکس اپنے کیے پر نادم اور پشیمان ہوتے ہیں اور فوراً اپنے رب سے معافی مانگتے ہیں۔ اور وہ انکو معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کیونکہ وہاں پر نفسانیت کی کوئی بات نہیں ہوتی بلکہ للہیت ہی للہیت ہوتی ہے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayah 28:1621 حضرت موسیٰ کی اپنے رب کے حضور معافی کی دعا و درخواست : سو قبطی کے موسیٰ کے ہاتھوں اس طرح خلاف ارادہ و توقع ہلاکت پر حضرت موسیٰ کو سخت ندامت ہوئی تو آپ نے اپنے رب کے حضور فورا عرض کیا کہ اے میرے رب بیشک میں نے ظلم کرلیا اپنی جان پر۔ پس تو میری بخشش فرما دے۔ ظلم سے مراد ظاہر ہے کہ یہاں پر گناہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے اس شخص کو قصداً قتل نہیں کیا تھا مگر حضرات انبیائے کرام جو کہ معصوم ہوتے ہیں اور وہ نبوت سے پہلے بھی ہر قسم کے گناہ سے پاک ہوتے ہیں ان کی شان اتنی عظیم اور ان کی طبیعتیں اس قدر پاکیزہ ہوتی ہیں کہ وہ اپنے حق میں معمولی بات کو بھی بڑا سمجھتے ہیں۔ جبکہ کافر و منکر اور باغی انسان اپنے بڑے سے بڑے گناہ کو بھی ایک معمولی چیز سمجھ کر ٹال دیتا ہے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اپنے اس نادانستہ فعل کو بھی جرم اور ظلم قرار دے کر فوراً اس کے لئے بخشش اور معافی کی درخواست اپنے رب کے حضور پیش کردی۔ بہرکیف حضرت موسیٰ سے یہ خطا چونکہ بلا کسی قصد و ارادے کے اچانک ہوگئی تھی۔ پھر آپ نے توبہ بھی فورا اور دل سے کی تھی اس لیے حق تعالیٰ نے آنجناب کی اس خطا کو فورا ہی معاف فرما دیا اور مغفرت و بخشش کی اس بشارت و خوشخبری سے آنجناب کو مطلع بھی فرما دیا گیا۔ اور اس طرح حضرت موسیٰ کو کرم بالائے کرم کی عنایت سے نواز دیا گیا۔ بلاشبہ وہ ربِّ مہربان بڑا ہی غفور اور رحیم ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی مغفرت وبخشش سے سرفراز و مالامال رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
22 اللہ تعالیٰ کی مغفرت وبخشش کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ سو وہ صرف درگزر اور معافی ہی پر اکتفاء نہیں فرماتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رحم بھی فرماتا ہے جس کی بیشمار شکلوں میں سے ایک شکل یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس معافی سے الہام وغیرہ کے ذریعے آگاہ بھی فرما دیا۔ جس سے ان کے دل کو اطمینان ہوگیا۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کی اس غلطی کا صدور جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرا چونکہ بلاقصد و ارادہ ہوا تھا اور پھر آپ نے بلاتاخیر اپنے رب سے اس کی معافی بھی فورا مانگ لی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انکو معاف فرما دیا۔ اور اس بخشش و معافی کی غیبی طور پر بشارت بھی ان کو دے دی گئی۔ واقعی اللہ بڑی ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے ۔ فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم ۔ سو مغفرت اور رحمت کی ان دونوں صفتوں کی یکجائی میں یہ درس بھی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گزشتہ لغزشتیں اور خطائیں معاف فرما دے اور آئندہ اس طرح کی تقصیرات اور کوتاہیوں سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ اللہ ہمیں بھی اپنی ان خاص عنایات سے نوازے اور ہمیشہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا ارحم الراحمین -
Ayah 28:1723 حضرت موسیٰ کے عہد و پیمان کا ذکر : سو اس سے حضرت موسیٰ کا اپنے رب کے حضور آئندہ کے لیے عہد و پیمان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آنجناب نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے میرے رب جیسا کہ آپ نے مجھ پر احسان فرمایا میں کبھی ظالموں کے لیے مددگار اور ان کا پشت پناہ نہیں بنوں گا۔ چناچہ تو نے اے میرے مالک ! مجھے پیدائش سے لے کر آج تک طرح طرح کے احسانات سے نوازا۔ جس کی تازہ مثال معافی کا یہ کرم ہے جس سے تو نے اے میرے مالک اب مجھے سرفراز فرمایا ہے۔ بس اس کے شکرئے میں، میں آئندہ کبھی مجرم لوگوں کا پشتیباں اور مددگار نہیں بنوں گا۔ یہ شاید اس لئے فرمایا کہ اس اسرائیلی کا بھی اس میں کچھ قصور رہا ہوگا۔ جیسا کہ اگلے دن کے واقعے سے بھی اس کا اشارہ ملتا ہے۔ نیز یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ میں آئندہ فرعونیوں کے ساتھ نہیں رہوں گا۔ کیونکہ ظالموں کے ساتھ رہنا بھی فی الجملہ ان کی معاونت اور مساعدت ہے۔ (مراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 28:18–2025 فرعونی دربار میں حضرت موسیٰ کے قتل کے مشورے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شہر کے اس کنارے سے ایک شخص حضرت موسیٰ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور آکر ان سے کہا کہ موسیٰ دربار والے آپ کو قتل کردینے کا مشورہ کر رہے ہیں۔ لہذا آپ جس قدر جلد ممکن ہو سکے یہاں سے نکل جائیں۔ میں آپ کا پکا سچا خیر خواہ ہوں۔ روایات کے مطابق یہ آل فرعون کا وہی مومن شخص تھا جس نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا اور جس کا قصہ آگے خود قرآن پاک کی سورة المومن میں آ رہا ہے۔ سو اس شخص نے دوڑتے ہوئے اور بیچ کی گلیوں کے شارٹ راستے سے گزر کر آ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بات بتائی۔ تاکہ آپ (علیہ السلام) اپنی جان کے بچانے کی فکر کرسکیں۔ سو اس نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ آپ کے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں۔ اس لیے میرا آپ کو خیرخواہانہ مشورہ ہے کہ آپ یہاں سے نکل جائیں۔ اور اس خیال سے کہ شاید موسیٰ اس کی بات کا اعتبار نہ کریں اور یہ سمجھیں کہ یہ فرعونی شخص یونہی خواہ مخواہ مجھے ڈرا دھمکا کر یہاں سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے اس نے تاکیدی الفاظ میں موسیٰ سے ان کو یقین دلانے کیلئے کہا کہ میں یقینی طور پر آپ کا خیر خواہ ہوں۔ سو بدگمانی کی اس فضا میں جو اس وقت اسرائیلیوں اور قبطیوں کے درمیان پائی جاتی تھی کسی کی اس طرح کی کسی بات پر یقین کرنا بہت مشکل تھا۔ اس لیے اس شخص نے تاکید در تاکید کے الفاظ کے ساتھ حضرت موسیٰ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ میں آپ کا سچا پکا خیر خواہ ہوں۔ لہذا آپ میری بات پر اعتماد و یقین کرتے ہوئے یہاں سے نکل جائیں۔
Ayah 28:2126 حضرت موسیٰ کی اپنے رب کے حضور نجات کی دعا و درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر حضرت موسیٰ ڈرتے ہوئے وہاں سے نکل پڑے اور اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے بچا لے ظالم لوگوں سے۔ سو یہ ہوتی ہے اللہ والوں کی شان۔ اور یہی ہے توکل کی حقیقت کہ اسباب اپنی طرف سے پورے اختیار کئے جائیں مگر بھروسہ اسباب پر نہیں مسبب الاسباب پر ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان ظالموں کی گرفت سے بچنے کے لئے وہاں سے نکل تو پڑے مگر آپ (علیہ السلام) کا بھروسہ اپنی تدبیر پر نہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد پر ہے۔ اور فوراً عاجزانہ طور پر اس کے حضور دست بدعا ہوجاتے ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرات انبیائے کرام اور موسیٰ جیسے اولوا العزم انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ تک بھی اللہ ہی کے محتاج ہیں۔ اور ان کا حاجت روا و مشکل کشا بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ جل جلالہ و عزسلطانہ ۔ اور جب یہ قدسی صفت حضرات بھی حاجت روا و مشکل کشا نہیں بلکہ یہ بھی اللہ ہی کے محتاج ہیں تو پھر اللہ کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جسکو حاجت روا و مشکل کشا قرار دیا جاس کے ؟ اور جب یہ جلیل القدر ہستیاں بھی حاجت روائی اور خود اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اور وہ بھی اپنی زندگی میں یہ حضرات بھی اللہ ہی کو پکارتے اور اسی پر اعتماد کرتے اور بھروسہ رکھتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے کہ جو مافوق الاسباب طور پر دوسروں کا حاجت روا و مشکل کشا بن سکے۔ اور وہ بھی اپنی موت کے بعد۔ اور ان کے قبر میں اتر جانے کے بعد۔ سو غلط کہتے اور کرتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو فوت شدہ بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 28:22–2533 حضرت موسیٰ کیلئے حضرت شعیب کے یہاں سے بلاوا : سو اتنے میں آپ کو حضرت شعیب کی طرف سے بلاوا آگیا جس کو آپ نے فورا قبول کرلیا۔ اس لئے کہ ایک بزرگ ہستی کی طرف سے دعوت موصول ہوئی تھی جس کا قبول کرنا سنت ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان بزرگوں سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) ہیں۔ مگر بعض اہل علم کے نزدیک یہ بات بہت بعید ہے۔ کیونکہ حضرت شعیب کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے تھا۔ اس لئے انہوں نے کچھ اور نام لئے ہیں۔ بہرکیف قول مشہور حضرات اہل علم کے نزدیک یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس لڑکی کے بلانے پر اس کے والد سے ملنے چلے گئے۔ روایات میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لڑکی سے کہا کہ تم میرے آگے نہیں، پیچھے پیچھے چلو۔ اور پیچھے سے ہو کر مجھے اپنے گھر کا راستہ بتاتی رہو کہ مبادا کہیں ایسا ہوجائے کہ تمہارا کپڑا ہوا وغیرہ سے اڑ جائے اور تم بےپردہ ہوجاؤ اور میری نظر تم پر پڑجائے۔ اور اس طرح آپ کمال ادب و حیا کے ساتھ حضرت شعیب کے گھر پہنچے۔ سو حضرت موسیٰ اور شعیب کے اس قصے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان نیکی تو اللہ پاک کی رضا و خوشنودی ہی کیلئے کرے نہ کہ کسی دنیاوی غرض و نفع کے لئے لیکن اگر اس کو اس کے بعد کوئی صلہ اس کے لالچ اور اشراف نفس کے بغیر ملے تو اس کو اللہ تعالیٰ کی عنایت سمجھ کر اپنا لینا چاہیئے۔ جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت عمر بن الخطاب۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جو مال تمہیں بغیر اشراف نفس اور سوال کے ملے اس کو تم لے لیا کرو۔ اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو مشقت میں مت ڈالو۔ اور یہاں پر ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کو اس صلہ و بدلہ کی جو پیشکش کی گئی تھی اس کے لئے نہ تو آپ نے کوئی سوال کیا تھا اور نہ ہی اس میں کوئی اشراف نفس تھا۔ بہرکیف حضرت موسیٰ ان صاحبزادیوں کے جانوروں کو پانی پلانے کے بعد ابھی واپس آکر سائے میں بیٹھے ہی تھے۔ ان دو میں سے ایک صاحبزادی شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آپ کے پاس پہنچیں اور آپ سے عرض کیا کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس کا اجر و صلہ دے سکیں کہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا۔ تو حضرت موسیٰ اس کو اپنی دعا کی قبولیت اور اس کا اثر و نتیجہ سمجھتے ہوئے انکے ساتھ چل دیئے کہ یہ وہی خیر ہے جس کیلئے میں نے اپنے رب سے دعا و درخواست کی تھی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ چیز طبعی خوشی کا ذریعہ اور باعث ہے کہ میرے رب نے میری دعا کو قبول فرما لیا۔ اس لیے حضرت موسیٰ حضرت شعیب کی دعوت پر ان سے ملاقات کے لیے روانہ ہوگئے ۔ علیہما الصلاۃ والسلام -
Ayahs 28:26–2734 حضرت شعیب کی طرف سے حضرت موسیٰ کو ایک اہم پیشکش : یعنی حضرت شعیب کی طرف سے حضرت موسیٰ کو اپنی بیٹی سے نکاح کی پیشکش۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس لڑکی کے باپ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ میں اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردینا چاہتا ہوں۔ اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت موسیٰ کے پہنچتے ہی یہ سب باتیں ہوگئیں جیسا کہ بادی النظر میں خیال ہوتا ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن پاک چونکہ کتاب ہدایت ہے اس کا مقصد محض تاریخی واقعات کو نقل کرنا نہیں کہ ان کو تفصیل سے اور تاریخی تسلسل کے ساتھ بیان کرے۔ بلکہ اس کا مقصد تو بندوں کو راہ راست دکھانا ہے۔ اس لئے وہ قصوں میں سے انہی حصوں کو منتخب کرتا اور ان کا عطر اور نچوڑ پیش کرتا ہے جو اس مقصد کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ اور بیچ کے وہ حصے وہ چھوڑ دیتا ہے جو خود سمجھ میں آسکتے ہیں۔ اس لئے یہاں پر بھی ایسا ہی سمجھنا چاہیئے کہ بیچ کی ان غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ کر مختصر طور پر اہم امور کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ورنہ اصل صورت اس طرح ہے کہ حضرت موسیٰ نے تشریف آوری کے بعد کچھ دن تو ان کے یہاں بطور مہمان قیام کیا ہوگا۔ اس دوران کسی وقت حضرت شعیب (علیہ السلام) کی ایک صاحبزادی نے یہ بات کہی ہوگی کہ ابا جان ان کو آپ اجرت پر رکھ لیں کہ ایسا قوت والا اور امانت دار شخص ہمیں بہت فائدہ دے گا۔ اس کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) نے خیال کیا ہوگا کہ ایک نوجوان شخص کو یونہی گھر میں رکھنا درست نہیں۔ لہٰذا کیوں نہ ان کو اپنی ایک لڑکی شادی کر کے دے دوں تاکہ ان کا گھر میں رہنا بھی صحیح طریقے سے ہو اور یہ گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے گھر کے کام کاج بھی زیادہ بہتر طریقے سے کرسکیں۔ تب کسی موقعہ پر انہوں نے حضرت موسیٰ کو یہ پیشکش کی ہوگی۔ اور یہ بات چیت ہوئی ہوگی جو یہاں بیان فرمائی جارہی ہے اور آپ (علیہ السلام) نے ان سے اپنی بیٹی کی شادی سے متعلق یہ پیشکش فرمائی ہوگی۔ اور لگتا ہے کہ آنجناب نے حضرت موسیٰ سے یہ پیشکش غیبی اشارے کی بنا پر فرمائی ہوگی۔
35 حضرت شعیب کی طرف سے نکاح کے لیے ایک شرط کا ذکر : سو حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ میں آپ سے اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح کردینا چاہتا ہوں اس شرط پر کہ تم آٹھ برس تک میری خدمت کرو گے۔ یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ شادی کے فوراً بعد تم اپنی بیوی کو لے کر چل پڑو کہ اس طرح تو ہمارا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ لہٰذا اس رشتے کے لئے شرط یہ ہے کہ تمہیں کم از کم اتنی مدت تک یہاں رہنا ہوگا۔ یہ مطلب نہیں کہ یہ کام اس نکاح کے لئے مہر ہے بلکہ یہ اس کے لئے ایک بنیادی شرط ہے جس کے ماننے کے بعد لڑکی کی تعیین اور مہر کا تقرر وغیرہ امور حسب ضابطہ بعد میں طے کئے جائیں گے۔ کیونکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا یہ قول نکاح نہیں تھا بلکہ نکاح کا محض وعدہ تھا۔ ورنہ اگر یہ نکاح ہوتا تو آپ کہتے " أنْکَحْتُہَا " ۔ " میں نے اس کو تمہارے نکاح میں دے دیا "۔ رہ گئی یہ بات کہ کسی خدمت کو نکاح کا مہر مقرر کرنا درست ہے کہ نہیں ؟ تو اس بارے حضرات اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ یہ پہلی شریعتوں میں جائز تھا جبکہ ہماری شریعت میں مہر کا مال ہونا ضروری ہے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { أنْ تَبْتَغُوْا بِأمْوَالِکُمْ } ۔ (النسائ : 34) (الاساس، المدارک، المعارف وغیرہ) ۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی بیٹی کے نکاح کی پیشکش کرنا کوئی معیوب چیز نہیں جس طرح کہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف کرام میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ خود ام المومنین حضرت حفصہ ؓ کے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے عقد میں آنے سے پہلے حضرت عمر ؓ نے حضرت صدیق اکبر ؓ اور پھر حضرت عثمان غنی ؓ سے آپ ؓ کے نکاح کی پیشکش کی تھی جس کا ذکر وبیان حدیث و سیرت کی کتابوں میں تفصیل سے موجود ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب نے نکاح کے سلسلے میں یہ شرط بھی عائد کردی۔
36 خوش معاملگی کا وعدہ و یقین دہانی : سو اس سے حضرت شعیب کی طرف سے حضرت موسیٰ کو خوش معاملگی کے وعدہ اور اس کی یقین دہانی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ اگر تم نے آٹھ کی بجائے دس سال پورے کردیے تو یہ تمہاری طرف سے ایک احسان ہوگا۔ میں تم پر اس معاملے میں کوئی مشقت نہیں ڈالنا چاہتا۔ تم انشاء اللہ مجھے خوش معاملہ لوگوں میں سے پاؤ گے۔ اور صرف یہی نہیں کہ دنیاوی معاملات میں تم مجھے ایسا پاؤ گے بلکہ میرے فیض صحبت سے خود تمہاری ایسی تربیت ہوگی کہ اللہ پاک کے یہاں بھی خاص مرتبہ پاؤ گے۔ چناچہ اس فیض صحبت سے آپ شرف نبوت سے مشرف ہونے کے اہل بن گئے۔ بقول شاعر مشرق ۔ (رح) اگر کوئی شعیب میسر آجائے ۔ شبانی سے کلیمی دو قدم ہے ۔ سو مربی صالح کی صحبت بھی ایک عظیم نعمت ہے مگر افسوس کہ آج کا مسلمان اس بارے بھی بےحس اور لاپرواہ ہوگیا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سو حضرت موسیٰ نے اس پیشکش اور شرط دونوں کو قبول فرما لیا اور فرمایا کہ ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی مدت میں نے پوری کرلی اس کو کافی سمجھا جائے گا۔ مجھے اس کا اختیار ہوگا اور مجھ پر اس بارے کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یعنی جو قول وقرار آپس میں کر رہے ہیں اس پر اللہ ہمارا گواہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ سے بڑھ کر کسی کی گواہی ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لیے ہم اسی کو اپنے اس معاملے کے لیے گواہ بناتے ہیں۔