Ayahs 28:1–2سورة القصص
نام آیت نمبر 25 کے اس فقرے سے ماخوذ ہے وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ ، یعنی وہ سورة جس میں القصص کا لفظ آیا ہے۔ لظت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے ہیں، اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورے کا عنوان ہوسکتا ہے، کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ کا مفصل بیان ہوا ہے۔
زمانہ نزول سورة نمل کے دیباچے میں ابن عباس اور جابر بن زید کا یہ قول ہم نقل کرچکے ہیں کہ سورة شعراء، سورة نمل اور سورة قصس یکے بعد دیگرے نازل ہوئی ہیں، زبان، انداز بیان اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانہ نزول قریب ایک ہی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے قصے کے مختلف اجزاء جو ان میں بیان کیے گئے ہیں و باہم ملک کر ایک پورا قصہ بن جاتے ہیں۔ سورة شعراء میں نبوت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے حضرت معسی عرض کرتے ہیں کہ " قوم فرعون کا ایک جرم میرے ذمہ ہے جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہاں جاؤں گا تو وہ مجھے قتل کردیں گے "۔ پھر جب حضرت موسیٰ فرعون فرعون کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے " کیا ہم نے اپنے ہاں تجھے بچہ سا نہیں پالا تھا، اور تو ہمارے ہاں چند سال رہا پھر کر گیا جو کچھ کہ کر گیا "۔ ان دونوں باتوں کی کوئی تفصیل وہاں نہیں بیان کی گئی۔ اس سورے میں اسے بتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورة نمل میں قصہ یکایک اس بات سے شروع ہوگیا ہے کہ حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال کو لے کر جارہے تھے اور اچانک انہوں نے ایک آگ دیکھی، وہاں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ یہ کیسا سفر تھا، کہاں سے وہ آرہے تھے اور کدھر جارہے تھے، یہ تفصیل اس سورے میں بیان ہوئی ہے، اس طرح یہ تینوں سورتیں ملکر قصہ موسیٰ ؑ کی تکمیل کردیتی ہیں۔
موضوع اور مباحث اس کا موضوع ان شبہات و اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی ﷺ کی رسالت پر وارد کیے جارہے تھے، اور ان عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔
اس غرض کے لیے سب سے پہلے حضرت موسیٰ کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو زمانہ نزول کے حالات سے ملکر خود بخود چند حقیقتیں سامع کے ذہن نشین کردیتا ہے۔
اول یہ کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا ہے اس کے لیے وہ غیر محسوس طریقے سے اسباب و ذرائع فراہم کردیتا ہے، جس بچے کے ہاتھوں آخرکار فرعون کا تختہ الٹنا تھا اسے اللہ نے خود فرعون ہی کے گھر میں اس کے اپنے ہاتھوں پرورش کرادیا اور فرعون یہ نہ جان سکا کہ وہ کسے پرورش کرہا ہے، اس خدا کی مشیت سے کون لڑ سکتا ہے اور کس کی چالیں اس کے مقابلے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ نبوت کسی شخص کو کسی بڑے جشن اور زمین و آسمان سے کسی بھاری اعلان کے ساتھ نہیں دی جاتی، تم کو حیرت ہے کہ محمد ﷺ کو چپکے سے یہ نبوت کہاں سے مل گئی اور بیٹھے بٹھائے یہ نبی کیسے بن گئے۔ مگر جن موسیٰ ؑ کا تم خود حوالہ دیتے ہو کہ لَوْلَآ اُوْتِيَ مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي، (آیت 48) انہیں بھی اسی طرح راہ چلتے نبوت مل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی کہ آج طور سینا کی سنسان وادی میں کیا واقعہ پیش آگیا۔ موسیٰ خود ایک لمحے پہلے تک نہ جانتے تھے کہ انہیں کیا چیز ملنے والی ہے، آگے لینے چلے تھے اور پیمبری مل گئی۔
تیسرے یہ کہ جس بندے سے خدا کوئی کام لینا چاہتا ہے وہ بغیر کسی لاؤ لشکر اور سرو سامان کے اٹھتا ہے۔ کوئی اس کا مددگار نہیں ہوتا، کوئی طاقت بظاہر اس کے پاس نہیں ہوتی، مگر بڑے بڑے لاؤ لشکر اور سروسامان والے آخر کار اس کے مقابلے میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جو نسبت آج تم اپنے اور محمد ﷺ کے درمیان پار ہے ہوا اس سے بہت زیادہ فرق موسیٰ ؑ اور فرعون کی طاقت کے درمیان تھا، مگر دیکھ لو کہ آخر کون جیتا اور کون ہارا۔
چوتھے یہ کہ تم لوگ باربار موسیٰ کا حوالہ دیتے ہو کہ " محمد کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا "۔ یعنی عصا اور ید بیضا اور دوسرے کھلے کھلے معجزے۔ گویا تم ایمان لانے کو تیار بیٹھے ہو، بس انتظار ہے تو یہ کہ تمہیں وہ معجزے دکھائے جائیں جو موسیٰ نے فرعون کو دکھائے تھے، مگر تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے تھے انہوں نے کیا کیا تھا ؟ وہ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائ، انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ یہ جادو ہے، کیونکہ وہ حق کے خلاف ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھے، اسی مرض میں آج تم مبتلا ہو، کیا تم اسی طرح کے معجزے دیکھ کر ایمان لے آؤ گے ؟ پھر تمہیں کچھ یہ بھی خبر ہے کہ جن لوگوں نے وہ معجزے دیکھ کر حق کا انکار کیا تھا ان کا انجام کیا ہوا ؟ آخر کار اللہ نے انہیں تباہ کرکے چھوڑا، اب کیا تم بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ معجزہ مانگ کر اپنی شامت بلانا چاہتے ہو ؟
یہ وہ باتیں ہیں جو کسی تصریح کے بغیر آپ سے آپ ہر اس شخص کے زہن میں اتر جاتی تھیں جو مکہ کے کافرانہ ماحول میں اس قصے کو سنتا تھا، کیونکہ اس وقت محمد ﷺ اور کفار مکہ کے درمیان ویسی ہی ایک کشمکش برپا تھی جیسی اس سے پہلے فرعون اور حضرت موسیٰ کے درمیان برپا ہوچکی تھی اور ان حالات میں یہ قصہ سنانے کے معنی یہ تھے کہ اس کا ہر ہر جز وقت کے حالات پر خودبخود چسپاں ہوتا چلا جائے، خواہ ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جائے جس سے معلوم ہو کہ قصے کا کون سا جز اس وقت کے کس معاملے پر چسپاں ہورہا ہے۔
اس کے بعد پانچویں رکوع سے اصل موضوع پر براہ راست کلام شروع ہوتا ہے۔
پہلے اس بات کو محمد ﷺ کی نبوت کا ایک ثبوت قرار دیا جاتا ہے کہ آپ امی ہونے کے باوجود دو ہزار برس پہلے گزرا ہوا ایک تاریخی واقعہ اس تفصیل کے ساتھ من وعن سنا رہے ہیں، حالانکہ آپ کے شہر اور آپ کی برادری کے لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ کے پاس ان معلومات کے حاصل ہونے کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کی وہ نشان دہی کرسکیں۔
پھر آپ کے نبی بنائے جانے کو ان لوگوں کے حق میں اللہ کی ایک رحمت قرار دیا جاتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے یہ انتظام کیا۔
پھر ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے جو وہ باربار پیش کرتے تھے کہ یہ نبی وہ معجزے کیوں نہ لایا جو اس سے پہلے موسیٰ لائے تھے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ موسیٰ جن کے متعلق تم خود مان رہے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے معجزے لائے تھے، انہی کو تم نے کب مانا ہے کہ اب اس نبی سے معجزے کا مطالبہ کرتے ہو ؟ خواہشات نفس کی بندگی نہ کرو و حق اب بھی تمہیں نظر آسکتا ہے، لیکن اگر اس مرض میں تم مبتلا رہو تو خواہ کوئی معجزہ آجائے تمہاری آنکھیں نہیں کھل سکتیں۔
پھر کفار مکہ کو اس واقعہ پر عبرت اور شرم دلائی گئی ہے جو اسی زمانے میں پیش آیا تھا کہ باہر سے کچھ عیسائی مکہ آئے اور نبی ﷺ سے قرآن سن کر ایمان لے آئے، مگر مکہ کے لوگ اپنے گھر کی اس نعمت سے مستفید تو کیا ہوتے، ان کے ابو جہل نے الٹی ان لوگوں کی کھلم کھلا بےعزتی کی۔
آخر میں کفار مکہ کے اس اصل عذر کو لیا جاتا ہے جو نبی ﷺ کی بات نہ ماننے کے لیے وہ پیش کرتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہم اہل عرب کے دین شرک کو چھوڑ کر اس نئے دین توحید کو قبول کرلیں تو یکایک اس ملک سے ہماری مذہبی، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی اور ہمارا حال یہ ہوگا کہ عرب کے سب سے زیادہ بااثر قبیلے کی حیثیت کھو کر اس سرزمین میں ہمارے لیے کوئی جائے پناہ تک باقی نہ رہے گی۔ یہ چونکہ سرداران قریش کی حق دشمنی کا اصل محرک تھا اور باقی سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے تھے وج وہ عوام کو فریب دینے کے لیے تراشتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر آخر سورة تک مفصل کلام فرمایا ہے اور اس کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈال کر نہایت حکیمانہ طریقے ان تمام بنیادی امراض کا مداوا کیا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور باطل کا فیصلہ دنیوی مفاد کے نقطہ نظر سے کرتے تھے۔
Ayah 28:3سورة القصص 1
تقابل کے لیے ملاحظۃ ہو البقرہ رکوع 6۔ الاعراف رکوع 13 تا 16۔ یونس رکوع 8۔ 9۔ ہود رکوع 9۔ بنی اسرائیل رکوع 12۔ مریم رکوع 4۔ طہ رکوع 4۔ المومنون رکوع 3۔ الشعراء رکوع 2۔ 4۔ النمل رکوع 1۔ العنکبوت رکوع 4۔ المومن رکوع 3۔ 5۔ الزخرف رکوع 5۔ الدخان رکوع 1۔ الذاریات رکوع 2۔ النازعات رکوع 1۔
سورة القصص 2
یعنی جو لوگ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہوں ان کو سنانا تو بےکار ہے، البتہ جنہوں نے ہٹ دھرمی کا قفل اپنے دلوں چڑھا نہ رکھا ہو وہ اس گفتگو کے مخاطب ہیں۔
Ayah 28:4سورة القصص 3
اصل میں لفظ علا فی الارض استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین میں سر اٹھایا، باغیانہ روش اختیار کی، اپنی اصل حیثیت یعنی بندگی کے مقام سے اٹھ کر خود مختاری اور خداوندی کا روپ دھار لیا، ماتحت بن کر رہنے کے بجائے بالادست بن بیٹھا، اور جبار و متکبر بن کر ظلم ڈھانے لگا۔
سورة القصص 4
یعنی اس کی حکومت کا قاعدہ یہ نہ تھا کہ قانون کی نگاہ میں ملک کے سب باشندے یکساں ہوں اور سب کو برابر کے حقوق دیے جائیں، بلکہ اس نے تمدن و سیاست کا یہ طرز اختیار کیا کہ ملک کے باشنوں کو گروہوں میں تقسیم کیا جائے، کسی کو مراعات و امتیازات دے کر حکمراں گروہ ٹھہرایا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر یا دبایا اور پیسا اور لوٹا جائے۔
یہاں کسی کو یہ شبہ لاحق نہ ہو کہ اسلامی حکومت بھی تو مسلم اور ذمی کے درمیان تفریق کرتی ہے اور ان کے حقوق و اختیارات ہر حیثیت سے یکساں نہیں رکھتی۔ یہ شبہ اس لیے غلط ہے کہ اس فرق کی بنیاد فرعونی تفریق کے برعکس نسل، رنگ، زبان، یا طبقاتی امتیاز پر نہیں ہے بلکہ اصول اور مسلک کے اختلاف پر ہے، اسلامی نظام حکومت میں ذمیوں اور مسلمانوں کے درمیان قانونی حقوق میں قطعا کوئی فرق نہیں ہے، تمام تر فرق صرف سیاسی حقوق میں ہے، اور اس فرق کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک اصولی حکومت میں حکمراں جماعت صرف وہی ہوسکتی ہے جو حکومت کے بنیادی اصولوں کی حامی ہو، اس جماعت میں ہر وہ شخص داخل ہوسکتا ہے جو اس کے اصولوں کو مان لے اور ہر وہ شخص اس سے خارج ہوجاتا ہے جو ان اصولوں کا منکر ہوجائے۔ آخر اس تفریق میں اور اس فرعونی طرز تفریق میں کیا وجہ مشابہت ہے جس کی بنا پر محکوم نسل کا کوئی فرد کبھی حکمراں گروہ میں شامل نہیں ہوسکتا، جس میں محکوم نسل کے لوگوں کو سیاسی اور قانونی حقوق تو درکنار بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہوتے، حتی کہ زندہ رہنے کا حق بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے، جس میں محکوموں کے لیے کسی حق کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی، تمام فوائد منافع اور حسنات و درجات صرف حکمران قوم کے لیے مختص ہوتے ہیں اور یہ مخصوص حقوق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتے ہیں جو حکمراں قوم میں پیدا ہوجائے۔
سورة القصص 5
بائیبل میں اس کی جو تشریح ملتی ہے وہ یہ ہے
" تب مصر میں ایک نیا بادشاہ ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا، اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ دیکھو اسرائیلی ہم سے زیادہ اور قوی ہوگئے ہیں سو آؤ ہم ان کے ساتھ حکمت سے پیش آئیں ایسا نہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہوجائیں اور اس وقت جنگ چھڑ جائے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل کر ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جائیں۔ اس لیے انہوں نے ان پر بیگار لینے والے مقرر کیے جو ان سے سخٹ کام لے کر انہیں ستائیں۔ سو انہوں نے فرعون کے لیے ذخیرے کے شہر پتوم اور غمیس بنائے۔ اور مصریوں نے بنی اسرائیل پر تشدد کر کے ان سے کام کرایا اور انہوں نے ان سے سخت محنت سے گارا اور اینٹ بنوا بنوا کر اور کھیت میں ہر قسم کی خدمت لیکر ان کی زندگی تلخ کی، ان کی سب خدمتیں جو وہ ان سے کراتے تھے تشدد کی تھیں۔ تب مصر کے بادشاہ نے عبرانی دائیوں سے باتیں کیں اور کہا کہ جب عبرانی (یعنی اسرائیلی) عورتوں کے تم بچہ جناؤ اور ان کو پتھر کی بیٹھکوں پر بیٹھی دیکھو تو اگر بیٹا ہو تو اسے مار ڈالنا اور اگر بیٹی ہو تو وہ جیتی رہے "۔ (خروج، باب 1۔ آیت 8۔ 16)
اس سے معلوم ہوا کہ کہ حضرت یوسف ؑ کا دور گزر جانے کے بعد مصر میں ایک قوم پرستانہ انقلاب ہوا تھا اور قبطیوں کے ہاتھ میں جب دوبارہ اقتدار آیا تو نئی قوم پرست حکومت نے بنی اسرائیل کا زور توڑنے کی پوری کوشش کی تھی۔ اس سلسلے میں صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا گیا کہ اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کیا جاتا اور انہیں ادنی درجے کی خدمات کے لیے مخصوص کرلیا جاتا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ بنی اسرائیل کی تعداد گھٹائی جائے اور ان کے لڑکوں کو قتل کر کے صرف ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ رفتہ رفتہ ان کی عورتیں قبطیوں کے تصرف میں آتی جائین اور ان سے اسرائیلی کے بجائے قبطی نسل پیدا ہو۔ تلمود اس کی مزید تفصیل یہ دیتی ہے کہ حضرت یوسف کی وفات پر ایک صدی سے کچھ زیادہ مدت گزر جانے کے بعد یہ انقلاب ہوا تھا۔ وہ بتاتی ہے کہ نئی قوم پرست حکومت نے پہلے تو بنی اسرائیل کو ان کی زرخیز زمینوں اور ان کے مکانات اور جائدادوں سے محروم کیا۔ پھر انہیں حکومت کے تمام مناصب سے بےدخل کیا، اس کے بعد بھی جب قبطی حکمرانوں نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل اور ان کے ہم مذہب مصری کافی طاقتور ہیں تو انہوں نے اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کرنا شروع کیا اور ان سے سخت محنت کے کام قلیل معاوضوں پر یا بلا معاوضہ لینے لگے۔ یہ تفسیر ہے قرآن کے اس بیان کی کہ مصر کی آبادی کے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اور سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی کہ آل فرعون بنی اسرائیل کو سخت عذاب دیتے تھے۔ (يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ)
مگر بائیبل اور قرآن دونوں اس ذکر سے خالی ہیں کہ فرعون سے کسی نجومی نے یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا تختہ الٹ جائے گا اور اسی خطرے کو روکنے کے لیے فرعون نے اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ یا فرعون نے کوئی خوفناک خواب دیکھا تھا اور اس کی تعبیر یہ دی گئی تھی کہ ایک لڑکا بنی اسرائیل میں ایسا پیدا ہونے والا ہے۔ یہ افسانہ تلمود اور دوسری اسرائیلی روایات سے ہمارے مفسرین نے نقل کیا ہے (ملاحظہ ہو جیوش انسائیکلوپیڈیا مضمون " موسیٰ " اور (TheTalmud Selections Page124. 23)
Ayah 28:5سورة القصص 6
یعنی انہیں دنیا میں قیادت و رہنمائی کا مقام عطا کریں۔
سورة القصص 7
یعنی ان کو زمین کی وراثت بخشیں اور وہ حکمران و فرمانروا ہوں۔
Ayah 28:6سورة القصص 8
مغربی مستشرقین نے اس بات پر بڑی لے دے کی ہے کہ ہامان تو ایران کے بادشاہ اخسویرس یعنی خشیارشا (Xerxes) کے دربار کا ایک امیر تھا، اور اس بادشاہ کا زمانہ حضرت موسیٰ کے سینکڑوں برس بعد 486 اور 465 قبل مسیح میں گزرا ہے، مگر قرآن نے اسے مصر لے جاکر فرعون کا وزیر بنادیا۔ ان لوگوں کی عقل پر تعصب کا پردہ پڑا ہوا نہ ہو تو یہ خود غور کریں کہ آخر ان کے پاس یہ یقین کرنے کے لیے کیا تاریخی ثبوت موجود ہے کہ اخسویرس کے درباری ہامان سے پہلے دنیا میں کوئی شخص کبھی اس نام کا نہیں گزرا ہے۔ جس فرعون کا ذکر یہاں ہورہا ہے اگر اس کے تمام وزراء اور امراء اور اہل دربار کی کوئی مکمل فہرست بالکل مستند ذریعے سے کسی مستشرق صاحب کو مل گئی ہے جس میں ہامان کا نام مفقود ہے تو وہ اسے چھپائے کیوں بیٹھے ہیں ؟ انہیں اس کا فوٹو فورا شائع کردینا چاہیے۔ کیونکہ قرآن کی تکذیب کے لیے اس سے زیادہ موثر ہتھیار انہیں کوئی اور نہ ملے گا۔
Ayah 28:7سورة القصص 9
بیچ میں یہ ذکر چھوڑ دیا گیا ہے کہ انہی حالات میں ایک اسرائیلی والدین کے ہاں وہ بچہ پیدا ہوگیا جس کو دنیا نے موسیٰ ؑ کے نام سے جانا۔ بائیبل اور تلمود کے بیان کے مطابق یہ خاندان حضرت یعقوب کے بیٹھے لاوی کی اولاد میں سے تھا۔ حضرت موسیٰ کے والد کا نام ان دونوں کتابوں میں عمرام بتایا گیا ہے، قرآن اسی کا تلفظ عمران کرتا ہے، موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے ان کے ہاں دو بچے ہوچکے تھے، سب سے بڑی لڑکی مریم (Miriam) نامی تھیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ان سے چھوٹے حضرت ہارون تھے، غالبا یہ فیصلہ کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بیٹھا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے، حضرت ہارون کی پیدائش کے زمانے میں نہیں ہوا تھا، اس لیے وہ بچ گئے، پھر یہ قانون جاری ہوا اور اس خوفناک زمانے میں تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی۔
سورة القصص 10
یعنی پیدا ہوتے ہی دریا میں ڈال دینے کا حکم نہ تھا، بلکہ ارشاد یہ ہوا کہ جب تک خطرہ نہ ہو بچے کو دودھ پلاتی رہو۔ جب راز فاش ہوتا نظر آئے اور اندیشہ ہو کہ بچے کی آواز سن کر یا اور کسی طرح دشمنوں کو اس کی پیدائش کا علم ہوجائے گا۔ یا خود بنی اسرائیل ہی میں سے کوئی کمینہ آدمی مخبری کر بیٹھے گا تو بےخوف و خطر اسے ایک تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ پیدائش کے بعد تین مہینے تک حضرت موسیٰ کی والدہ ان کو چپھائے رہیں، تلمود اس پر اضافہ کرتی ہے کہ فرعون کی حکومت نے اس زمانے میں جاسوس عورتیں چھوڑ رکھی تھیں جو اسرائیلی گھروں میں اپنے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے لے جاتی تھیں اور وہاں کسی نہ کسی طرح ان بچوں کو رلا دیتی تھیں تاکہا گر کسی اسرائیلی نے اپنے ہاں کوئی بچہ چھپا رکھا ہو تو وہ بھی دوسرے بچے کی آواز سن کر رونے لگے۔ اس نئے طرز جاسوسی سے حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوگئیں اور انہوں نے اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے پیدائش کے تین مہینے بعد اسے دریا میں ڈال دیا۔ اس حد تک ان دونوں کتابوں کا بیان قرآن کے مطابق ہے، اور دریا میں ڈالنے کی کیفیت بھی انہوں نے وہی بتائی ہے جو قرآن میں بتائی گئی ہے، سورة طہ میں ارشاد ہوا ہے اقْذِفِيْهِ فِي التَّابُوْتِ فَاقْذِفِيْهِ فِي الْيَمِّ ، " بچے کو ایک تابوب میں رکھ کر دریا میں ڈال دے "۔ اسی کی تائید بائیبل اور تلمود بھی کرتی ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور اسے چکنی مٹی اور رال سے لیپ کر پانی سے محفوظ کردیا، پھر اس میں حضرت موسیٰ کو لٹا کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ لیکن سب سے بڑی بات جو قرآن میں بیان کی گئی ہے اس کا کوئی ذکر اسرائیلی روایات میں نہیں ہے، یعنی یہ کہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے اشارے پر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کو یہ اطمینان دلا دیا تھا کہ اس طریقے پر عمل کرنے میں نہ صرف یہ کہ تمہارے بچے کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، بلکہ ہم بچے تمہارے پاس ہی پلٹا لائیں گے، اور یہ کہ تمہارا یہ بچہ آگے چل کر ہمارا رسول ہونے والا ہے۔
Ayah 28:8سورة القصص 11
یہ ان کا مقصد نہ تھا بلکہ یہ ان کے اس فعل کا انجام مقدر تھا، وہ اس بچے کو اٹھا رہے تھے جس کے ہاتھوں آخر کار انہیں تباہ ہونا تھا۔
Ayahs 28:9–10سورة القصص 12
اس بیان سے جو صورت معاملہ صاف سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ تابوت یا ٹوکرا دریا میں بہتا ہوا جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے، تو فرعون کے خدام نے اسے پکڑ لیا اور لے جاکر بادشاہ اور ملکہ کے سامنے پیش کردیا۔ ممکن ہے کہ بادشاہ اور ملکہ خود اس وقت دریا کے کنارے سیر میں مشغول ہوں اور ان کی نگاہ اس ٹوکرے پر پڑی ہو اور انہی کے حکم سے وہ نکالا گیا ہو۔ اس میں ایک بچہ پڑا ہوا دیکھ کر بآسانی یہ قیاس کیا جاسکتا تھا کہ یہ ضرور کسی اسرائیلی کا بچہ ہے، کیونکہ وہ ان محلوں کی طرف سے آرہا تھا جن میں بنی اسرائٰل رہتے تھے، اور انہی کے بیٹے اس زمانے میں قتل کیے جارہے تھے، اور انہی کے متعلق یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ کسی نے بچے کو چھپا کر کچھ مدت تک پالا ہے اور پھر جب وہ زیادہ دیر چھپ نہ سکا تو اب اسے اس امید پر دریا میں ڈال دیا ہے کہ شاید اسی طرح اس کی جان بچ جائے اور کوئی اسے نکال کر پال لے۔ اسی بنا پر کچھ ضرورت سے زیادہ وفادار غلاموں نے عرض کیا کہ حضور اسے فورا قتل کرادیں، یہ بھی کوئی بچہ افعی ہی ہے، لیکن فرعون کی بیوی آخر عورت تھی اور بعید نہیں کہ بےاولاد ہو، پھر بچہ بھی بہت پیاری صورت کا تھا، جیسا کہ سورة طہ میں اللہ تعالیٰ خود حضرت موسیٰ کو بتاتا ہے کہ وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ (میں نے اپنی طرف سے تیرے اوپر محبت ڈال دی تھی) یعنی تجھے ایسی موہنی صورت دی تھی کہ دیکھنے والوں کو بےاختیار تجھ پر پیار آجاتا تھا اس لیے اس عورت سے نہ رہا گیا اور اس نے کہا کہ اسے قتل نہ کرو بلکہ لے کر پال لو۔ یہ جب ہمارے ہاں پرورش پائے گا اور ہم اسے اپنا بیٹھا بنالیں گے تو اسے کیا خبر ہوگی کہ میں اسرائیلی ہوں۔ یہ اپنے آپ کو آل فرعون ہی کا ایک فرد سمجھے گا اور اس کی قابلیتیں بنی اسرائیل کے بجائے ہمارے کام آئیں گی۔
بائیبل اور تلمود کا بیان ہے کہ وہ عورت جس نے حضرت موسیٰ کو پالنے اور بیٹا بنانے کے لیے کہا تھا فرعون کی بیٹی تھی۔ لیکن قرآن صاف الفاظ میں اسے " امرأۃ فرعون " (فرعون کی بیوی) کہتا ہے اور ظاہر ہے کہ صدیوں بعد مرتب کی ہوئی زبانی روایات کے مقابلے میں براہ راست اللہ تعالیٰ کا بیان ہی قابل اعتماد ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ خواہ مخواہ اسرائیلی روایات سے مطابقت پیدا کرنے کی خاطر عربی محاورہ و استعمال کے خلاف امرأۃ فرعون کے معنی " فرعون کے خاندان کی عورت " کیے جائیں۔
Ayah 28:11سورة القصص 13
یعنی لڑکی نے اس طریقے سے ٹوکرے پر نگاہ رکھی کہ بہتے ہوئے ٹوکرے کے ساتھ ساتھ وہ اس کو دیکھتی ہوئی چلتی بھی رہی اور دشمن یہ نہ سمجھ سکے کہ اس کا کوئی تعلق اس ٹوکرے کے ساتھ ہے، اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت موسیٰ کی یہ بہن اس وقت 10۔ 12 برس کی تھیں۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بھائی کا پیچھا کیا اور یہ پتہ چلا لیا کہ وہ فرعون کے محل میں پہنچ چکا ہے۔
Ayah 28:12سورة القصص 14
یعنی فرعون کی بیوی جس انا کو بھی دودھ پلانے کے لیے بلاتی تھی بچہ اس کی چھاتی کو منہ نہ لگاتا تھا۔
سورة القصص 15
اس سے معلوم ہوا کہ فرعون کے محل میں بھائی کے پہنچ جانے کے بعد بہن گھر نہیں بیٹھ گئی، بلکہ وہ اپنی اسی ہوشیاری کے ساتھ محل کے آس پاس چکر لگاتی رہی، پھر جب اسے پتہ چلا کہ بچہ کسی کا دودھ نہیں پی رہا ہے اور ملکہ عالیہ پریشان ہیں کہ کوئی ایسی انا ملے جو بچے کو پسند آئے تو وہ ذہین لڑکی سیدھی محل میں پہنچ گئی اور جاکر کہا کہ میں ایک اچھی انا کا پتہ بتاتی ہوں جو اس بچے کو بڑی شفقت کے ساتھ پالے گی۔
اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قدیم زمانے میں ان ممالک کے بڑے اور خاندانی لوگ بچوں کو اپنے ہاں پالنے کے بجائے عموما اناؤں کے سپرد کردیتے تھے اور وہ اپنے ہاں ان کی پرورش کرتی تھیں، نبی ﷺ کی سیرت میں بھی یہ ذکر آتا ہے کہ مکہ میں وقتا فوقتا اطراف و نواح کی عورتیں انا گیری کی خدمت کے لیے آتی تھیں اور سرداروں کے بچے دودھ پلانے کے لیے اچھے اچھے معاوضوں پر حاصل کر کے ساتھ لے جاتی تھیں۔ حضور ﷺ نے خود بھی حلیمہ سعدیہ کے ہاں صحرا میں پرورش پائی ہے۔ یہی طریقہ مصر میں بھی تھا، اسی بنا پر حضرت موسیٰ کی بہن نے یہ نہیں کہا کہ میں ایک اچھی انا لا کردیتی ہوں، بلکہ یہ کہا کہ میں ایسے گھر کا پتہ بتاتی ہوں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمہ لیں گے اور اسے خیر خواہی کے ساتھ پالیں گے۔
Ayah 28:13سورة القصص 16
بائیبل اور تلمود سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نام " موسیٰ " فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا۔ یہ عبرانی زبان کا نہیں بلکہ قبطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں " میں نے اسے پانی سے نکالا " قدیم مصری زبان سے بھی حضرت موسیٰ کے نام کی یہ تخریج صحیح ثابت ہوتی ہے۔ اس زبان میں " مو " پانی کو کہتے تھے اور " اوشے " کا مطلب تھا " بچایا ہوا "۔
سورة القصص 17
اور اللہ کی اس حکیمانہ تدبیر کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت موسیٰ فی الواقع فرعون کے شاہزادے نہ بن سکے بلکہ اپنے ہی ماں باپ اور بہن بھائیوں میں پرورش پاکر انہیں اپنی اصلیت اچھی طرح معلوم ہوگئی۔ اپنی خاندانی روایات سے اپنے آبائی مذہب سے، اور اپنی قوم سے ان کا رشتہ نہ کٹ سکا، وہ آل فرعون کے ایک فرد بننے کے بجائے اپنے دلی جذبات اور خیالات کے اعتبار سے پوری طرح بنی اسرائیل کے ایک فرد بن کر اٹھے۔
نبی ﷺ ایک حدیث میں فرماتے ہیں مثل الذی یعمل و یحتسب فی صنعتہ الخیر کمثل ام موسیٰ ترضع ولدھا و تاخذ اجرھا۔ " جو شخص اپنی روزی کمانے کے لیے کام کرے اور اس کام میں اللہ کی خوشنودی پیش نظر رکھے اس کی مثال حضرت موسیٰ کی والدہ کی سی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بیٹے کو دودھ پلایا اور اس کی اجرت بھی پائی "۔ یعنی ایسا شخص اگرچہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کام کرتا ہے لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پیش نظر رکھ کر ایمانداری سے کام کرتا ہے، جس کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے اس کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے، اور رزق حلال سے اپنے نفس اور اپنے بال بچوں کی پرورش اللہ کی عبادت سمجھتے ہوئے کرتا ہے، اس لیے وہ اپنی روزی کمانے پر بھی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہوتا ہے۔ گویا روزی بھی کمائی اور اللہ سے اجر وثواب بھی پایا۔
Ayah 28:14سورة القصص 18
یعنی جب ان کا جسمانی و ذہنی نشوونما مکمل ہوگیا، یودی روایات میں اس وقت حضرت موسیٰ کی مختلف عمریں بتائی گئی ہیں۔ کسی نے 18 سال لکھی ہے، کسی نے 20 سال، اور کسی نے 40 سال۔ بائیبل کے نئے عہد نامے میں 40 سال عمر بتائی گئی ہے۔ (اعمال 7۔ 23) لیکن قرآن کسی عمر کی تصریح نہیں کرتا۔ جس مقصد کے لیے قصہ بیان کیا جارہا ہے اس کے لیے بس اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ آگے جس واقعہ کا ذکر ہورہا ہے وہ اس زمانے کا ہے جب حضرت موسیٰ پورے شباب کو پہنچ چکے تھے۔
سورة القصص 19
حکم سے مراد حکمت، دانائی، فہم و فراست اور قوت فیصلہ۔ اور علم سے مراد دینی اور دنیوی علوم دونوں ہیں۔ کیونکہ اپنے والدین کے ساتھ ربط ضبط قائم رہنے کی وجہ سے ان کو اپنے باپ دادا (حضرت یوسف، یعقوب، اسحاق اور ابراہیم علیہم السلام) کی تعلیمات سے بھی واقفیت حاصل ہوگئی، اور بادشاہ وقت کے ہاں شاہزادے کی حیثیت سے پرورش پانے کے باعث ان کو وہ تمام دنیوی علوم بھی حاصل ہوئے جو اس زمانے کے اہل مصر میں متداول تھے، اس حکم اور علم کے عطیہ سے مراد نبوت کا عطیہ نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ کو نبوت تو اس کے کئی سال بعد عطا فرمائی گئی، جیسا کہ آگے آرہا ہے اور اس سے پہلے سورة شعراء (آیت 21) میں بھی بیان ہوچکا ہے۔
اس زمانہ شاہزادگی کی تعلیم و تربیت کے متعلق بائیبل کی کتاب الاعمال میں بتایا گیا ہے کہ " موسیٰ نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی اور وہ کام اور کلام میں قوت والا تھا " (7۔ 22) تلمود کا بیان ہے کہ موسیٰ ؑ فرعون کے گھر میں ایک خوبصورت جوان بن کر اٹھے۔ شاہزادوں کا سا لباس پہنتے تھے، شاہزادوں کی طرح رہتے، اور لوگ ان کی نہایت تعظیم و تکریم کرتے تھے، وہ اکثر جشن کے علاقے میں جاتے جہاں اسرائیلیوں کی بستیاں تھیں، اور ان تمام سختیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے جو ان کی قوم کے ساتھ قبطی حکومت کے ملازمین کرتے تھے، انہی کی کوشش سے فرعون نے اسرائیلیوں کے لیے ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی مقرر کی۔ انہوں نے فرعون سے کہا کہ دائما مسلسل کام کرنے کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہوجائیں گے اور حکومت ہی کے کام کا نقصان ہوگا۔ ان کی قوت بحال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ہفتے میں ایک دن آرام کا دیا جائے۔ اسی طرح اپنی دانائی سے انہوں نے اور بہت سے ایسے کام کیے جن کی وجہ سے تمام ملک مصر میں ان کی شہرت ہوگئی تھی۔ (اقتباسات تلمود۔ صفحہ 129)
Ayah 28:15سورة القصص 20
ہوسکتا ہے کہ وہ صبح سویرے کا وقت ہو، یا گرمی میں یا دوپہر کا، یا سردیوں میں رات کا۔ بہرحال مراد یہ ہے کہ جب سڑکیں سنسان تھیں اور شہر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔
" شہر میں داخل ہوا " ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دار السلطنت کے شاہی محلات عام آبادی سے باہر واقع تھے، حضرت موسیٰ ؑ چونکہ چاہی محل میں رہتے تھے اس لیے " شہر میں نکلے " کہنے کے بجائے " شہر میں داخل ہوئے " فرمایا گیا ہے۔
سورة القصص 21
اصل میں لفظ " وکر " استعمال ہوا ہے جس کے معنی تھپڑ مارنے کے بھی ہیں اور گھونسا مارن کے بھی۔ ہم نے اس خیال سے کہ تھپڑ سے موت واقع ہوجانا گھونسے کی بہ نسبت بعید تر ہے اس کا ترجمہ گھونسا مارنا کیا ہے۔
سورة القصص 22
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھونسا کھا کر جب مصری گرا ہوگا اور اس نے دم توڑ دیا ہوگا تو کیسی سخت ندامت اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ الفاظ حضرت موسیٰ کی زبان سے نکلے ہوں گے، ان کو کوئی ارادہ قتل کا نہ تھا، نہ قتل کے لیے گھونسا مارنا جاتا ہے، نہ کوئی شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ ایک گھونسا کھاتے ہی ایک بھلا چنگا آدمی پر ان چھوڑ دے گا۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ یہ شیطان کا کوئی شریرانہ منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے ایک بڑا فساد کھڑا کرنے کے لیے مجھ سے یہ کام کرایا ہے تاکہ ایک اسرائیلی کی حمایت میں ایک قبطی کو مار ڈالنے کا الزام مجھ پر عائد ہو اور صرف میرے ہی خلاف نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کے خلاف مصر میں ایک طوفان عظیم اٹھ کھڑا ہو۔ اس معاملہ میں بائیبل کا بیان قرآن سے مختلف ہے۔ وہ حضرت موسیٰ کو قتل عمد کا مجرم ٹھہراتی ہے۔ اس کی روایت یہ ہے کہ مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر حضرت موسیٰ نے " ادھر ادھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا " (خروج 2۔ 12) یہی بات تلمود میں بھی بیان کی گئی ہے،۔ اب یہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ بنی اسرائیل اپنے اکابر کی سیرتوں کو خود کس طرح داغدار کرتے ہیں اور قرآن کس طرح ان کی پوزیشن صاف کرتا ہے۔ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ ایک حکیم و دانا آدمی، جسے آگے چل کر ایک اولوالعزم پیغمبر ہونا تھا اور جسے انسان کو عدل و انصاف کا ایک عظیم قانون دینا تھا، ایسا اندھا قوم پرست نہیں ہوسکتا کہ اپنی قوم کے ایک فرد سے دوسری قوم کے کسی شخص کو لڑتے دیکھ کر آپے سے باہر ہوجائے اور جان بوجھ کر اسے قتل کر ڈالے۔ ظاہر ہے کہ اسرائیلی کو مصری کے پنجے سے چھڑانے کے لیے اسے قتل کردینا تو روا نہ ہوسکتا تھا۔
Ayah 28:16سورة القصص 23
مغفرت کے معنی درگزر کرنے اور معاف کردینے کے بھی ہیں، اور ستر پوشی کرنے کے بھی، حضرت موسیٰ کی دعا کا مطلب یہ تھا کہ میرے اس گناہ کو (جسے تو جانتا ہے کہ میں نے عمدا نہیں کیا ہے) معاف بھی فرمادے اور اس کا پردہ بھی ڈھانک دے تاکہ دشمنوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔
سورة القصص 24
اس کے بھی دو مطلب ہیں، اور دونوں یہاں مراد ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قصور معاف معاف بھی فرما دیا اور حضرت موسیٰ کا پردہ بھی ڈھانک دیا، یعنی قبطی قوم کے کسی فرد اور قبطی حکومت کے کسی آدمی کا اس وقت ان کے آس پاس کہیں گزر نہ ہوا کہ وہ قتل کے اس واقعہ کو دیکھ لیتا۔ اس طرح حضرت موسیٰ کو خاموشی کے ساتھ موقع واردات سے نکل جانے کا موقع مل گیا۔
Ayah 28:17سورة القصص 25
یعنی یہ احسان کہ میرا فعل چھپا رہ گیا اور دشمن قوم کے کسی فرد نے مجھ کو نہیں دیکھا، اور مجھے بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔
سورة القصص 26
حضرت موسیٰ کا یہ عہد بہت وسیع الفاظ میں ہے۔ اس سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ میں کسی مجرم فرد کا مددگار نہیں بنوں گا، بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ میری امداد و اعانت کبھی ان لوگوں کے ساتھ نہ ہوگی، جو دنیا میں ظلم و ستم کرتے ہیں۔ ابن جریر اور متعدد دوسرے مفسرین نے اس کا یہ مطلب بالکل ٹھیک لیا ہے کہ اسی روز حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کرلینے کا عہد کرلیا، کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے خدا کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر رکھا تھا، انہوں نے محسوس کیا کہ کسی ایمان دار آدمی کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ایک ظالم سلطنت کا کل پرزہ بن کر رہے اور اس کی حشمت و طاقت میں اضافے کا موجب بنے۔
علماء اسلام نے بالعموم حضرت موسیٰ کے اس عہد سے یہ استدلال کیا ہے کہ ایک مومن کو ظالم کی اعانت سے کامل اجتناب کرنا چاہیے، خواہ وہ ظالم فرد ہو یا گروہ یا حکومت و سلطنت، مشہور تابعی حضرت عطاء بن ابی رباح سے ایک صاحب نے عرض کیا کہ میرا بھائی بنی امیہ کی حکومت میں کونے کے گورنر کا کاتب (سکرٹری) ہے۔ معاملات کے فیصلے کرنا اس کا کام نہیں ہے۔ البتہ جو فیصلے کیے جاتے ہیں وہ اس کے قلم سے جاری ہوتے ہیں۔ یہ نوکری وہ نہ کرے تو مفلس ہوجائے۔ حضرت عطاء نے جواب میں یہی آیت پڑھی اور فرمایا تیرے بھائی کو چاہیے کہ اپنا قلم پھینک دے، رزق دینے والا اللہ ہے۔
ایک اور کاتب نے عامر شعبی سے پوچھا " اے ابو عمرو، میں بس احکام لکھ کر جاری کرنے کا ذمہ دار ہوں، فیصلے کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوں، کیا یہ رزق میرے لیے جائز ہے ؟ انہوں نے کہا " ہوسکتا ہے کہ کسی بےگناہ کے قتل کا فیصلہ کیا جائے اور وہ تمہارے قلم سے جاری ہو۔ ہوسکتا ہے کہ کسی کا مال ناحق ضبط کیا جائے، یا کسی کا گھر گرانے کا حکم دیا جائے اور وہ تمہارے قلم سے جاری ہو، پھر امام موصوف نے یہ آیت پڑھی جسے سنتے ہی کاتب نے کہا " آج کے بعد میرا قلم بنی امیہ کے احکام جاری کرنے میں استعمال نہ ہوگا " امام نے کہا " پھر اللہ بھی تمہیں رزق سے محروم نہ فرمائے گا "۔
ضحاک کو تو عبدالرحمن بن مسلم نے صرف اس خدمت پر بھیجنا چاہا تھا کہ وہ بخارا کے لوگوں کی تنخواہیں جاکر بانٹ آئیں، مگر انہوں نے اس سے بھی انکار کردیا، ان کے دوستوں نے کہا آخر اس میں کیا حرج ہے ؟ انہوں نے کہا میں ظالموں کے کسی کام میں بھی مددگار نہیں بننا چاہتا (روح المعانی، ج 2، ص 49)
امام ابوحنیفہ کا یہ واقعہ ان کے تمام مستند سوانح نگاروں، الموفق المکی، ابن البزاز اکروری، ملا علی قاری وغیرہم نے لکھا ہے کہ انہی کی تلقین پر منصور کے کمانڈر انچیف حسن بن قحطبہ نے یہ کہہ کر اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا کہ آج تک میں نے آپ کی سلطنت کی حمایت کے لیے جو کچھ کیا ہے یہ اگر خدا کی راہ میں تھا تو میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے، لیکن اگر یہ ظلم کی راہ میں تھا تو میں اپنے نامہ اعمال میں مزید جرائم کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
Ayah 28:18سورة القصص 27
یعنی تو جھگڑالو آدمی معلوم ہوتا ہے۔ روز تیرا کسی نہ کسی سے جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ کل ایک شخص سے بھڑ گیا تھا، آج ایک دوسرے شخص سے جا بھڑا۔
Ayah 28:19سورة القصص 28
بائیبل کا بیان یہاں قرآن کے بیان سے مختلف ہے۔ بائیبل کہتی ہے کہ دوسرے دن کا جھگڑا دو اسرائیلیوں کے درمیان تھا۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ جھگڑا بھی اسرائیلی اور مصری کے درمیان ہی تھا، قرین قیاس بھی یہی دوسرا بیان معلوم ہوتا ہے، کیونکہ پہلے دن کے قتل کا راز فاش ہونے کی جو صورت آگے بیان ہو رہی ہے وہ اسی طرح رونما ہوسکتی تھی کہ مصری قوم کے ایک شخص کو اس واقعہ کی خبر ہوجاتی۔ ایک اسرائیلی کے علم میں اس کے آجانے سے یہ امکان کم تھا کہ اپنی کے پشیبان شہزادے کے اتنے بڑے قصور کی اطلاع پاتے ہی وہ جاکر فرعونی حکومت میں اس کی مخبری کردیتا۔
سورة القصص 29
یہ پکارنے والا وہی اسرائیلی تھا جس کی مدد کے لیے حضرت موسیٰ آگے بڑھے تھے۔ اس کو ڈانٹنے کے بعد جب آپ مصری کو مارنے کے لیے چلے تو اس اسرائیلی نے سمجھا کہ یہ مجھے مارنے آرہے ہیں، اس لیے اس نے چیخنا شروع کردیا اور اپنی حماقت سے کل کے قتل کا راز فاش کر ڈالا۔
Ayahs 28:20–21سورة القصص 30
یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہوگیا اور اس مصری نے جاکر مخبری کردی تب یہ واقعہ پیش آیا۔
Ayah 28:22سورة القصص 31
بائیبل کا بیان اس امر میں قرآن سے متفق ہے کہ حضرت موسیٰ نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا تھا۔ لیکن تلمود یہ بےسرو پا قصہ بیان کرتی ہے کہ حضرت موسیٰ سے بھاگ کر حبش چلے گئے اور وہاں بادشاہ کے مقرب ہوگئے۔ پھر اس کے مرنے پر لوگوں نے ان کو اپنا بادشاہ بنا لیا اور اس کی بیوہ سے ان کی شادی کردی۔ 40 سال انہوں نے وہاں حکومت کی، مگر اس پوری مدت میں اپنی حبشی بیوی سے کبھی مقاربت نہ کی۔ 40 سال گزر جانے کے بعد اس عورت نے حبش کے باشندوں سے شکایت کی کہ اس شخص نے آج تک نہ تو مجھ سے زن و شو کا تعلق رکھا ہے اور نہ کبھی حبش کے دیوتاؤں کی پرستش کی ہے، اس پر امرائے سلطنت نے انہیں معزول کر کے اور بہت سا مال دے کر ملک سے باحترام رخصت کردیا، تب وہ حبش سے مدین پہنچے اور وہ واقعات پیش آئے جو آگے بیان ہورہے ہیں، اس وقت ان کی 67 سال تھی۔
اس قصے کے بےسروپا ہونے کی ایک کھلی دلیل یہ ہے کہ اسی قصے میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس زمانے میں اسیریا (شمالی عراق) پر حبش کی حکومت تھی، اور اسیر یا والوں کی بغاوتیں کچلنے کے لیے حضرت موسیٰ نے بھی اور ان کے پیش رو بادشاہ نے بھی فوجی چڑھائیاں کی تھیں۔ اب جو شخص بھی تاریخ و جغرافیہ سے کوئی واقفیت رکھتا ہو وہ نقشے پر ایک نگاہ ڈال کر دیکھ سکتا ہے کہ اسیریا پر حبشہ کا تسلط اور حبشی فوج کا حملہ یا تو اس صورت میں ہوسکتا تھا کہ مصر اور فلسطین و شام پر اس کا قبضہ ہوتا، یا پورا ملک عرب اس کے زیر نگیں ہوتا، یا پھر حبش کا بیڑا ایسا زبردست ہوتا کہ وہ بحر ہند اور خلیج فارس کو عبور کر کے عراق فرح کرلیتا۔ تاریخ اس ذکر سے خالی ہے کہ کبھی حبشیوں کو ان ممالک پر تسلط حاصل ہوا ہو یا ان کی بحری طاقت اتنی زبردست رہی ہو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا علم خود اپنی تاریخ کے بارے میں کتنا ناقص تھا اور قرآن ان کی غلطیوں کی تصحیح کر کے صحیح واقعات کیسی منقح صورت میں پیش کرتا ہے۔ لیکن عیسائی اور یہودی مستشرقین کو یہ کہتے ذرا شرم نہیں آتی کہ قرآن نے یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کرلیے ہیں۔
سورة القصص 32
یعنی ایسے راستہ پر جس سے میں بخیریت مدین پہنچ جاؤں۔
واضح رہے کہ اس زمانہ میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا، مصر کی حکومت پورے جزیرہ نمائے سینا پر نہ تھی بلکہ صرف اس کے مغربی اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔ خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی سواحل جن پر بنی مدیان آباد تھے، مصری اثر و اقتدار سے بالکل آزاد تھے۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰ نے مصر سے نکلتے ہی مدین کا رخ کیا تھا کیونکہ قریب ترین آزاد اور آباد علاقہ وہی تھا، لیکن وہاں جانے کے لیے انہیں گزرنا بہرحال مصر کے مقبوضہ علاقوں ہی سے تھا، اور مصر کی پولیس اور فوجی چوکیوں سے بچ کر نکلنا تھا، اسی لیے انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایسے راستے پر ڈال دے جس سے میں صحیح و سلامت مدین پہنچ جاؤں۔
Ayahs 28:23–24سورة القصص 33
یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ پہنچے تھے، عربی روایات کے مطابق خلیج عقبہ کے غربی ساحل پر مقنا سے چند میل بجانب شمال واقع تھا۔ آج کل اسے البدع کہتے ہیں اور وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ آباد ہے، میں نے دسمبر 1959 میں تبوک سے عقبہ جاتے ہوئے اس جگہ کو دیکھا ہے، مقامی باشندوں نے مجھے بتایا کہ ہم باپ دادا سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ مدین اسی جگہ واقع تھا۔ یوسیفوس سے لیکر برٹن تک قدیم و جدید سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے بھی بالعموم مدین کی جائے وقوع یہی بتائی ہے۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شعیب کہا جاتا ہے، اسی جگہ ثمودی طرز کی کچھ عمارات موجود ہیں، اور اس سے تقریبا میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر کچھ قدیم کھنڈر ہیں جن میں دو اندھے کنویں ہم نے دیکھے۔ مقامی باشندوں نے ہمیں بتایا کہ یقین کے ساتھ تو ہم نہیں کہہ سکتے، لیکن ہمارے ہاں روایات یہی ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کنواں وہ تھا جس پر حضرت موسیٰ نے بکریوں کو پانی پلایا ہے، یہی بات ابوالفداء (متوفی 732 ھ) نے تقویم البلدان میں اور یاقوت نے معجم البلدان میں ابو زید انصاری (متوفی 216 ھ) کے حوالہ سے لکھی ہے کہ اس علاقے کے باشندے اسی مقام پر حضرت موسیٰ کے اس کنویں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت صدیوں سے وہاں کے لوگوں میں متوارث چلی آرہی ہے اور اس بنا پر اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں جس مقام کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔ مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔
سورة القصص 34
یعنی ہم عورتیں ہیں، ان چرواہوں سے مزاحمت اور کشمکش کر کے اپنے جانوروں کو پانی پلانا ہمارے بس میں نہیں ہے، والد ہمارے اس قدر سن رسیدہ ہیں کہ وہ خود یہ مشقت اٹھا نہیں سکتے، گھر میں کوئی دوسرا مرد بھی نہیں ہے، اس لیے ہم عورتیں ہی یہ کام کرنے نکلتی ہیں اور جب تک سب چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلاکر چلے نہیں جانتے، ہم کو مجبورا انتظار کرنا پڑتا ہے، اس سارے مضمون کو ان خواتین نے صرف ایک مختصر سے فقرے میں ادا کردیا، جس سے ان کی حیاداری کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک غیر مرد سے زیادہ بات بھی نہ کرنا چاہتی تھی، مگر یہ بھی پسند نہ کرتی تھیں کہ یہ اجنبی ہمارے خاندان کے متعلق کوئی غلط رائے قائم کرلے اور اپنے ذہن میں یہ خیال کرے کہ کیسے لوگ ہیں جن کے مرد گھر بیٹھے رہے اور اپنی عورتوں کو اس کام کے لیے باہر بھیج دیا۔
ان خواتین کے والد کے متعلق ہمارے ہاں کی روایات میں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ وہ حضرت شعیب ؑ تھے۔ لیکن قرآن مجید میں اشارۃ و کنایۃ بھی کوئی بات ایسی نہیں کہی گئی ہے جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ وہ حضرت شعیب ہی تھے، حالانکہ شعیب ؑ کی شخصیت قرآن میں ایک معروف شخصیت ہے، اگر ان خواتین کے والد وہی ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ یہاں اس کی تصریح نہ کردی جاتی۔ بلا شبہ بعض احادیث میں ان کے نام کی تصریح ملتی ہے، لیکن علامہ ابن جریر اور ابن کثیر دونوں اس پر متفق ہیں کہ ان میں سے کسی کی سند بھی صحیح نہیں ہے، اس لیے ابن عباس، حسن بصری، ابو عبیدہ اور سعید بن جبیر جیسے اکابر مفسرین نے بنی اسرائیل کی روایات پر اعتماد کر کے ان بزرگ کے وہی نام بتائے ہیں جو تلمود وغیرہ میں آئے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر نبی ﷺ سے اسم شعیب کی تصریح منقول ہوتی تو یہ حضرات کوئی نام نہ لے سکتے۔
بائیبل میں ایک جگہ ان بزرگ کا نام رعوایل اور دوسری جگہ ینترو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ مدین کے کاہن تھے (خروج باب 2۔ 16۔ 18۔ باب 3۔ 1۔ باب 18۔ 5) تلمودی لٹریچر میں رعوایل، یتھرو اور حوباب تین مختلف نام بتائے گئے ہیں، موجودہ زمانے کے علمائے یہود کا خیال ہے کہ یتھروہزا کسی لنسی کا ہم معنی لقب تھا اور اصل نام رعوایل یا حوباب تا، اسی طرح لفظ کاہن (Kohen Midian) کی تشریح میں بھی علماء یہود کے درمیان اختلاف ہے، یعنی اس کو پروہت (Priest) کا ہم معنی بتاتے ہیں اور یعنی رئیس یا امیر (Prince) کا۔
تلمود میں ان کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ حضرت موسیٰ کی پیدائش سے پہلے فرعون کے ہاں ان کی آمد و رفت تھی اور وہ ان کے علم اور اصابت رائے پر اعتماد رکھتا تھا، مگر جب بنی اسرائیل کا استیصال کرنے کے لیے مصر کی شاہی کونسل میں مشورے ہونے لگے اور ان کے لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کردینے کا فیصلہ کیا گیا تو انہوں نے فرعون کو اس غلط کام سے روکنے کی کوشش کی، اسے اس ظلم کے برے نتائج سے ڈرایا اور رائے دی کہ اگر ان لوگوں کا وجود آپ کے لیے ناقابل برداشت ہے تو انہیں ان کے باپ دادا کے ملک کنعان کی طرف نکال دیجیے، اس پر فرعون ان سے ناراض ہوگیا اور اس نے انہیں ذلت کے ساتھ اپنے دربار سے نکلوا دیا، اس وقت سے وہ اپنے ملک مدین میں اقامت گزریں ہوگئے تھے۔
ان کے مذہب کے متعلق قیاس یہی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی طرح وہ بھی دین ابراہیمی کے پیرو تھے، کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم (علیہما السلام) کی اولاد تھے اسی طرح وہ مدیان بن ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، یہی تعلق غالبا اس کا موجب ہوا ہوگا کہ انہوں نے فروعن کو بنی اسرائیل پر ظلم کرنے سے روکا اور اس کی ناراضی مول لی۔ مفسر نیسابوری نے حضرت حسن بصری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہ کان رجلا مسلمان قبد الدین من شعیب (وہ ایک مسلمان آدمی تھے، حضرت شعیب کا دین انہوں نے قبول کرلیا تھا) تلمود میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ مدیانیوں کی بت پرستی کو علانیہ حماقت قرار دیتے تھے اس وجہ سے اہل مدین کے مخالف ہوگئے تھے۔
Ayah 28:25سورة القصص 35
حضرت عمر ؓ نے اس فقرے کی یہ تشریح کی ہے جاءت تمشی علی استحیاء قائلۃ بثوبھا علی وجھھا لیست بسلفع من النساء دلاجۃ ولاجۃ خراجۃ۔ " وہ شرم و حیا کے ساتھ لچتی ہوئی اپنا منہ گھونٹ سے چھپائے ہوئے آئی۔ ان بےباک عورتوں کی طرح درانہ نہیں چلی آئی جو ہر طرف نکل جاتی اور ہر جگہ جا گھستی ہیں "۔ اس مضمون کی متعدد روایات سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے معتبر سندوں کے ساتھ حضرت عمر سے نقل کی ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے عہد میں حیا داری کا اسلامی تصور جو قرآن اور نبی ﷺ کی تعلیم و تربیت سے ان بزرگوں نے سمجھا تھا، چہرے کو اجنبیوں کے سامنے کھولے پھرنے اور گھر سے باہر بےباکانہ چلت پھرت دکھانے کے قطعا خلاف تھا۔ حضرت عمر صاف الفاظ میں یہاں چہرہ ڈھانکنے کو حیا کی علامت اور اسے اجانب کے سامنے کھولنے کو بےحیائی قرار دے رہے ہیں۔
سورة القصص 36
یہ بات بھی شرم و حیا ہی کی وجہ سے انہوں نے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کے پاس اکیلی جگہ آنے کی کوئی معقول وجہ بتانی ضرور تھی، ورنہ ظاہر ہے کہ ایک شریف آدمی نے اگر عورت ذات کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کر اس کی کوئی مدد کی ہو تو اس کا بدلا دینے کے لیے کہنا کوئی اچھی بات نہ تھی۔ اور پھر اس بدلے کا نام سن لینے کے باوجود حضرت موسیٰ ؑ جیسے عالی ظرف انسان کا چل پڑنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس وقت انتہائی اضطرار کی حالت میں تھے، بےسروسامانی کے عالم میں یکایک مصر سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ مدین تک کم از کم آٹھ دن میں پہنچے ہوں گے۔ بھوک پیاس اور سفر کی تکان سے برا حال ہوگا، اور سب سے بڑھ کر یہ فکر ہوگی کہ اس دیار غیر میں کوئی ٹھکانا میسر آئے اور کوئی ایسا ہمدرد ملے جس کی پناہ میں رہ سکیں، اسی مجبوری کی وجہ سے یہ لفظ سن لینے باوجود کہ اس ذرا سی خدمت کا اجر دینے کے لیے بلایا جارہا ہے، حضرت موسیٰ نے جانے میں تامل نہ کیا۔ انہوں نے خٰال فرمایا ہوگا کہ خدا سے ابھی ابھی جو دعا میں نے مانگی ہے، اسے پورا کرنے کا یہ سامان خدا ہی کی طرف سے ہوا ہے اس لیے اب خواہ مخواہ خودداری کا مظاہرہ کر کے اپنے رب کے فراہم کردہ سامان میزبانی کو ٹھکرانا مناسب نہیں ہے۔
Ayah 28:26سورة القصص 37
ضروری نہیں کہ یہ بات لڑکی نے اپنے باپ سے حضرت موسیٰ کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ اغلب یہ ہے کہ اس کے والد نے اجنبی مسافر کو ایک دو روز اپنے پاس ٹھہرا لیا ہوگا اور اس دوران میں کسی وقت بیٹی نے باپ کو یہ مشورہ دیا ہوگا، اس مشورے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی کبر سنی کے باعث مجبورا ہم لڑکیوں کو کام کے لیے نکلنا پڑتا ہے۔ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے کہ باہر کے کام سنبھالے، آپ اس شخص کو ملازم رکھ لیں، مضبوط آدمی ہے، ہر طرح کی مشقت کرے گا، اور بھروسے کے قابل آدمی ہے، محض اپنی شرافت کی بنا پر اس نے ہم عورتوں کو بےبس کھڑا دیکھ کر ہماری مدد کی، اور کبھی ہماری طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھا۔
Ayah 28:27سورة القصص 38
یہ بھی ضروری نہیں کہ بیٹی کی بات سنتے ہی باپ نے فورا حضرت موسیٰ سے یہ بات کہہ دی ہو، قیاس چاہتا ہے کہ انہوں نے بیٹی کے مشورے پر غور کرنے کے بعد یہ رائے قائم کی ہوگی کہ آدمی شریف سہی مگر جوان بیٹیوں کے گھر میں ایک جوان، تندرست و توانا آدمی کو یونہی ملازم رکھ چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ جب یہ شریف، تعلیم یافتہ، مہذب اور خاندانی آدمی ہے (جیسا کہ حضرت موسیٰ کا قصہ سن کر انہیں معلوم ہوچکا ہوگا) تو کیوں نہ اسے داماد بنا کر ہی گھر میں رکھا جائے۔ اس رائے پر پہنچنے کے بعد انہوں نے کسی مناسب وقت پر حضرت موسیٰ سے یہ بات کہی ہوگی۔
یہاں پھر بنی اسرائیل کی ایک کرم فرمائی ملاحظہ ہو جو انہوں نے اپنے جلیل القدر نبی، اپنے سب سے بڑے محسن اور قومی ہیرو پر کی ہے، تلمود میں کہا گیا ہے کہ " موسیٰ رعویل کے ہاں رہنے لگے اور وہ اپنے میزبان کی بیٹی صفورہ پر نظر عنایت رکھتے تھے، یہاں تک کہ آخر کار انہوں نے اس سے بیاہ کرلیا "۔ ایک اور یہودی روایت جو جیوش انسائیکلوپیڈیا میں نقل کی گئی ہے، یہ ہے کہ " حضرت موسیٰ نے جب یتھرو کو اپنا سارا ماجرا سنایا تو اس نے سمجھ لیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت تباہ ہونے کی پیشن گوئیاں کی گئی تھیں، اس لیے اس نے فورا حضرت موسیٰ کو قید کرلیا تاکہ انہیں فرعون کے حوالہ کر کے انعام حاصل کرے، سات یا دس سال تک وہ اس کی قید میں رہے، ایک تاریک تہ خانہ تھا جس میں وہ بند تھے، مگر یتھرو کی بیٹی زفورا (یا صفورا) جس سے کنویں پر ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی، چپکے چپکے ان سے قید خانہ میں ملتی رہی اور انہیں کھانا پانی بھی پہنچاتی رہی، ان دونوں میں شادی کی خفیہ قرارداد ہوچکی تھی، سات یا دس سال کے بعد زفورا نے اپنے باپ سے کہا کہ اتنی مدت ہوئی آپ نے ایک شخص کو قید میں ڈال دیا تھا اور پھر اس کی خبر تک نہ لی، اب تک اسے مرجانا چاہیے تھا، لیکن اگر وہ اب بھی زندہ ہو تو ضرور کوئی خدا رسیدہ آدمی ہے، یتھرو اس کی یہ بات سن کر جب قید خانے میں گیا تو حضرت موسیٰ کو زندہ دیکھ کر اسے یقین آگیا کہ وہ معجزے سے زندہ ہیں، تب اس نے زفورا سے ان کی شادی کردی "۔
جو مغربی مستشرقین قرآنی قصوں کے مآخذ ڈھونڈتے پھرتے ہیں انہیں کہیں یہ کھلا فرق بھی نظر آتا ہے جو قرآن کے بیان اور اسرائیلی روایات میں پایا جاتا ہے ؟