Ayah 27:1سورة النمل 1
کتاب مبین کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی تعلیمات اور اپنے احکام اور ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرتی ہے، دوسرا یہ کہ وہ حق اور باطل کا فرق نمایاں طریقے سے کھول دیتی ہے، اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا کتاب الہی ہونا ظاہر ہے جو کوئی اسے آنکھیں کھول کر پڑھے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ محمد ﷺ کا اپنا گھڑا ہوا کلام نہیں ہے۔
Ayah 27:2سورة النمل 2
یعنی یہ آیات ہدایت اور بشارت ہیں، " ہدایت کرنے والی " اور " بشارت دینے والی " کہنے کے بجائے انہیں بجائے خود " ہدایت " اور " بشارت " کہا گیا جس سے رہنمائی اور بشارت کے وصف میں ان کے کمال کا اظہار مقصود ہے، جیسے کسی کو آپ سخی کہنے کے بجائے مجسم سخاوت اور حسین کہنے کے بجائے ازسرتاپا حسن کہیں۔
Ayah 27:3سورة النمل 3
یعنی قرآن مجید کی یہ آیات رہنمائی بھی صرف انہی لوگوں کی کرتی ہیں اور انجام نیک کی خوشخبری بھی صرف انہی لوگوں کو دیتی ہیں جن میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں، ایک یہ کہ وہ ایمان لائیں، اور ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ قرآن اور محمد ﷺ کی دعوت کو قبول کرلیں، خدائے واحد کو اپنا ایک ہی الہ اور رب مان لیں، قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کرلیں، محمد ﷺ کو نبی بر حق مان کر اپنا پیشوا بنالیں، اور یہ عقیدہ بھی اختیار کرلیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے جس میں ہم کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزائے اعمال سے دو چار ہونا ہے، دوسری خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو محض مان کر نہ رہ جائیں بلکہ عملا اتباع و اطاعت کے لیے آمادہ ہوں اور اس آمادگی کی اولین علامت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، یہ دونوں شرطیں جو لوگ پوری کردیں گے انہی کو قرآن کی آیات دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتائیں گے، اس راستہ کے ہر مرحلے میں ان کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں گے، اس کے ہر موڑ پر انہیں غلط راہوں کی طرف جانے سے بچائیں گی، اور ان کو یہ اطمینان بخشیں گی کہ راست روی کے نتائج دنیا میں خواہ کچھ بھی ہوں، آخر کار ابدی اور دائمی فلاح اسی کی بدولت انہیں حاصل ہوگی اور وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی سے سرفراز ہوں گے، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک معلم کی تعلیم سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اس پر اعتماد کر کے واقعی اس کی شاگردی قبول کرلے اور پھر اس کی ہدایات کے مطابق کام بھی کرے، ایک ڈاکٹر سے استفادہ ہی مریض کرسکتا ہے جو اسے اپنا معالج بنائے اور دوا اور پرہیز وغیرہ کے معاملہ میں اس کی ہدایات پر عمل کرے، اسی صورت میں معلم اور ڈاکٹر یہ اطمینان دلا سکتے ہیں کہ آدمی کو نتائج مطلوبہ حاصل ہوں گے۔
بعض لوگوں نے اس آیت میں يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ اخلاق کی پاکیزگی اختیار کریں، لیکن قرآن مجید میں اقامت صلوۃ کے ساتھ ایتاء زکوٰۃ کا لفظ جہان بھی آیا ہے اس سے مراد وہ زکوٰۃ ادا کرنا ہے جو نماز کے ساتھ اسلام کا دوسرا رکن ہے۔ علاوہ بریں زکوٰۃ کے لیے ایتاء کا لفظ استعمال ہوا ہے جو زکوٰۃ مال ادا کرنے کے معنی متعین کردیتا ہے، کیونکہ عربی زبان میں پاکیزگی اختیار کرنے کے لیے تزکی کا لفظ بولا جاتا ہے نہ کہ ایتاء زکوٰۃ، دراصل یہاں جو بات ذہن نشین کرنی مقصود ہے وہ یہ کہ قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایمان کے ساتھ عملاً اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے، اور اقامت صلوۃ و ایتاء زکوٰۃ وہ پہلی علامت ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ آدمی نے واقعی اطاعت قبول کرلی ہے، یہ علامت جہاں غائب ہوئی وہاں فورا یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آدمی سرکش ہے، حاکم کو حاکم چاہے اس نے مان لیا ہو، مگر حکم کی پیروی کے لیے وہ تیار نہیں ہے۔
سورة النمل 4
اگرچہ آخرت کا عقیدہ ایمانیات میں شامل ہے، اور اس بنا پر " ایمان لانے والوں " سے مراد ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہیں جو توحید اور رسالت کے ساتھ آخرت پر بھی ایمان لائیں، لیکن ایمانیات کے ضمن میں اس کے آپ سے آپ شامل ہونے کے باوجودیہاں اس عقیدے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے خاص طور پر زور دے کر اسے الگ بیان کیا گیا ہے، اس سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ جو لوگ آخرت کے قائل نہ ہوں ان کے لیے اس قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا بلکہ اس پر قدم رکھنا بھی محال ہے، کیونکہ اس طرز فکر کے لوگ طبعا اپنا معیار خیر و شر صرف انہی نتائج سے متعین کرتے ہیں جو اس دنیا میں ظاہر ہوتے یا ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے لیے کسی ایسی نصیحت و ہدایت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا جو انجام اخروی کو سود و زیاں اور نفع و نقصان کا معیار قرار دے کر خیر و شر کا تعین کرتی ہو، ایسے لوگ اول تو انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم پر کان ہی نہیں دھرتے، لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل بھی ہوجائیں تو آخرت کا یقین نہ ہونے کے باعث ان کے لیے ایمان و اسلام کے راستے پر ایک قدم چلنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس راہ میں پہلی ہی آزمائش جب پیش آئے گی جہاں دنیوی فائدے اور اخروی نقصان کے تقاضے انہیں دو مختلف سمتوں میں کھینچیں گے تو وہ بےتکلف دنیا کے فائدے کی طرف کھچ جائیں گے اور آخرت کے نقصان کی ذرہ برابر پروا نہ کریں گے، خواہ زبان سے وہ ایمان کے کتنے ہی دعوے کرتے رہیں۔
Ayah 27:4سورة النمل 5
یعنی خدا کا قانون فطرت یہ ہے، نفسیات انسان کی فطری منطق یہی ہے کہ جب آدمی زندگی اور اس کی سعی و عمل کے نتائج کو صرف اسی دنیا تک محدود سمجھے گا، جب وہ کسی ایسی عدالت کا قائل نہ ہوگا جہاں انسان کے پورے کارنامہ حیات کی جانچ پڑتال کر کے اس کے حسن و قبح کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہو، اور جب وہ موت کے بعد کسی ایسی زندگی کا قائل نہ ہوگا جس میں حیات دنیا کے اعمال کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق ٹھیک ٹھیک جزا و سزا دی جانے والی ہو تو لازما اس کے اندر ایک مادہ پرستانہ نقطعہ نظر نشو و نما پائے گا۔ اسے حق اور باطل، شرک اور توحید، نیکی اور بدی، اخلاق اور بد اخلاقی کی ساری بحثیں سراسر بےمعنی نظر آئیں گی، جو کچھ اسے اس دنیا میں لذت و عیش اور مادی ترقی و خوشحالی اور قوت و اقتدار سے ہمکنار کرے وہی اس کے نزدیک بھلائی ہوگی قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی فلسفہ حیات اور کوئی طرز زندگی اور نظام اخلاق ہو، اس کو حقیقت اور صداقت سے دراصل کوئی غرض ہی نہ ہوگی، اس کی اصل مظلوب صرف حیات دنیا کی زینتیں اور کامرانیاں ہوں گی جن کے حصول کی فکر اسے ہر وادی میں لیے بھٹکتی پھرے گی، اور اس مقصد کے لیے جو کچھ بھی وہ کرے گا اسے اپنے نزدیک بڑی خوبی کی بات سمجھے گا اور الٹا ان لوگوں کو بیوقوف سمجھے گا جو اس کی طرح دنیا طلبی میں منہمک نہیں ہیں اور اخلاق و بد اخلاقی سے بےنیاز ہو کر ہر کام کر گزرنے میں بےباک نہیں ہیں۔
کسی کے اعمال بد کو اس کے لیے خوشنما بنا دینے کا یہ فعل قرآن مجید میں کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، اور کبھی شیطان کی طرف، جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے مراد جیسا کہ اوپر بیان ہوا، یہ ہوتی ہے کہ جو شخص یہ نقطہ نظر اختیار کرتا ہے اسے فطرۃ زندگی کا یہی ہنجار خویش آئند محسوس ہوتا ہے اور جب یہ فعل شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس طرز فکر اور طرز عمل کو اختیار کرنے والے آدمی کے سامنے شیطان ہر وقت ایک خیالی جنت پیش کرتا رہتا ہے اور اسے خوب اطمینان دلاتا ہے کہ شاباش برخوردار بہت اچھے جارہے ہو۔
Ayah 27:5سورة النمل 6
اس بری سزا کی صورت اور وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ اس دنیا میں بھی مختلف افراد گروہوں اور قوموں کو بیشمار مختلف طریقوں سے ملتی ہے، اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت عین موت کے دروازے پر بھی اس کا ایک حصہ ظالموں کو پہنچتا ہے، موت کے بعد عالم برزخ میں بھی اس سے آدمی دوچار ہوتا ہے، اور پھر روز حشر سے تو اس کا ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا جو پھر کہیں جاکر ختم نہ ہوگا۔
Ayah 27:6سورة النمل 7
یعنی یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں جو اس قرآن کی جارہی ہیں اور نہ یہ کسی انسان کے قیاس و رائے پر مبنی ہیں، بلکہ انہیں ایک حکیم وعلیم ذات القا کررہی ہے جو حکمت و دانائی اور علم و دانش میں کامل ہے، جسے اپنی خلق کے مصالح اور ان کے ماضی و حال اور مستقبل کا پورا علم ہے، اور جس کی حکمت بندوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے بہترین تدابیر اختیار کرتی ہے۔
Ayah 27:7سورة النمل 8
یہ اس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ مدین میں آٹھ دس سال گزارنے کے عبد اپنے اہل و عیال کو ساتھ لیکر کوئی ٹھکانا تلاش کرنے جارہے تھے، مدین کا علاقہ خلیج عقبہ کے کنارے عرب اور جزیرہ نمائے سینا کے سواحل پر واقع تھا (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم الشعرء، حاشیہ 115) وہاں سے چل کر حضرت موسیٰ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی حصے میں اس مقام پر پہنچے جو اب کوہ سینا اور جبل موسیٰ کہلاتا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں طور کے نام سے مشہور تھا، اسی کے دامن میں وہ واقعہ پیش آیا جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔
یہاں جو قصہ بیان کیا جارہا ہے اس کی تفصیلات اس سے پہلے سورة طہ (رکوع 1) میں گزر چکی ہیں اور آگے سورة قصص (رکوع 4) میں آرہی ہیں۔
سورة النمل 9
فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت اور جاڑے کا موسم تھا، اور حضرت موسیٰ ایک اجنبی علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی، اس لیے انہوں نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ میں جاکر معلوم کرتا ہوں یہ کون سی بستی ہے جہاں آگ جل رہی ہے، آگے کدھر راستے جاتے ہیں اور کون کون سی بستیاں قریب ہیں۔ تاہم اگر وہ بھی ہماری ہی طرح کوئی چلتے پھرتے مسافر ہوئے جن سے کوئی معلومات حاصل نہ ہوسکیں تو کم از کم میں کچھ انگارے ہی لے آؤں گا کہ تم لوگ آگ جلا کر چکھ گرمی حاصل کرسکو۔
یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ نے جھاڑی میں آگ لگی ہوئی دیکھی تھی کوہ طور کے دامن میں سطح سمندر سے تقریبا 5 ہزار فیٹ کی بلندی پر واقع ہے، یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے 365 کے لگ بھگ زمانے میں ٹھیک اس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کرادیا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا، اس کے دو سو برس بعد قیصر جسٹینین نے یہاں ایک دیر (Monastery) تعمیر کرایا جس کے اندر قسطنطین کے بنائے ہوئے کنیسہ کو بھی شامل کرلیا، یہ دیر اور کنیسہ دونوں آج تک موجود ہیں اور یونانی کلیسا (Greek Orthodox Church) کے راہبوں کا ان پر قبضہ ہے، میں نے جنوری 1960 ء میں اس مقام کی زیارت کی ہے، مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔
Ayahs 27:8–9سورة النمل 10
سورة قصص میں ہے کہ ندا ایک درخت سے آرہی تھی فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ ، اس سے جو صورت معاملہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ وادی کے کنارے سے ایک خطے میں آگ سی لگی ہوئی تھی مگر نہ کچھ جل رپا تجا نہ کوئی دھواں اٹھ رہا تھا اور اس آگ کے اندر ایک ہرا بھرا درخت کھڑا تھا جس پر سے یکایک یہ ندا آنی شروع ہوئی۔
یہ ایک عجیب معاملہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ پیش آتا رہا ہے، نبی ﷺ جب پہلی مرتبہ نبوت سے سرفراز کیے گئے تو غار حرا کی تنہائی میں یکایک ایک فرشتہ آیا اور اس نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کردیا، حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی یہی صورت پیش آئی کہ ایک شخص سفر کرتا ہوا ایک جگہ ٹھہرا ہے، دور سے آگ دیکھ کر راستہ پوچھنے یا انگارا چننے کی غرض سے آتا ہے اور یکلخت اللہ رب العالمین کی ہر قیاس و گمان سے بالا ذات اس سے مخاطب ہوجاتی ہے۔ ان مواقع پر درحقیقت ایک ایسی غیر معمولی کیفیت خارج میں بھی اور انبیاء (علیہم السلام) کے نفس میں بھی موجود ہوتی ہے جس کی بنا پر انہیں اس امر کا یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ کسی جن یا شیطان یا خود ان کے اپنے ذہن کا کوئی کرشمہ نہیں ہے، انہ ان کے حواش کوئی دھوکا کھا رہے ہیں، بلکہ فی الواقع یہ خداوند عالم یا اس کا فرشتہ ہی ہے جو ان سے ہمکلام ہے، (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو النجم، حاشیہ 10)
سورة النمل 11
اس موقع پر " سبحان اللہ " ارشاد ارشاد فرمانے سے دراصل حضرت موسیٰ کو اس بات پر متنبہ کرنا مقصود تھا کہ یہ معاملہ کمال درجہ تنزیہ کے ساتھ پیش آرہا ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ رب العالمین اس درخت پر بیٹھا ہو، یا اس میں حلول کر آیا ہو، یا اس کا نور مطلق تمہاری بینائی کے حدود میں سما گیا ہو، یا کوئی زبان کسی منہ میں حرکت کر کے یہاں کلام کر رہی ہو، بلکہ ان تمام محدود دیتوں سے پاک اور منزہ ہوتے ہوئے وہ بذات خود تم سے مخاطب ہے۔
Ayah 27:10سورة النمل 12
سورة اعراف اور سورة شعراء میں اس کے لیے ثعبان (اژدھے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہاں اسے " جان " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو چھوٹے سانپ کے لے بولا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جسامت میں وہ اژدہا تھا، مگر اس کی حرکت کی تیزی ایک چھوٹے سانپ جیسی تھی، اسی مفہوم کو سورة طہ میں حیۃ تسعی (دوڑتے ہوئے سانپ) کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔
سورة النمل 13
یعنی میرے حضور اس امر کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ رسول کو کوئی گزند پہنچے رسالت کے منصب عظیم پر مقرر کرنے کے لیے جب میں کسی کو اپنی پیشی میں بلاتا ہوں تو اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں، اس لیے خواہ کیسا ہی کوئی غیر معمولی معاملہ پیش آئے رسول کو بےخوف اور مطمئن رہنا چاہیے کہ اس کے لیے وہ کسی طرح ضرر رساں نہ ہوگا۔
Ayah 27:11سورة النمل 14
یہ استثناء متصل بھی ہوسکتا ہے اور منقطع بھی، متصل ہونے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خوف کی معقول وجہ اگر ہوسکتی ہے تو یہ کہ رسول سے کوئی قصور سرزد ہوا ہو، اور منقطع ہونے کی صورت میں مراد یہ ہوگی کہ میرے حضور تو کسی کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے جب تک کہ آدمی قصور وار نہ ہو۔
سورة النمل 15
یعنی قصور کرنے والا بھی اگر توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرلے اور برے عمل کے بجائے نیک عمل کرنے لگے تو میرے ہاں اس کے لیے عفو و درگزر کا دروازہ کھلا ہے، اس موقع پر یہ بات ارشاد فرمانے سے مقصود ایک تنبیہ بھی تھی اور بشارت بھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نادانستگی میں ایک قبطی کو قتل کر کے مصر سے نکلے تھے، یہ ایک قصور تھا جس کی طرف لطیف اشارہ فرمادیا گیا، پھر جس وقت یہ قصور اچانک بلا ارادہ ان سے سرزد ہوا تھا اس کے بعد فورا ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تھی کہ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ (اے پروردگار میں اپنے نفس پر ظلم کر گزرا مجھے معاف فرمادے) اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت انہیں معاف بھی فرما دیا تھا، فَغَفَرَ لَهٗ (القصص، آیت 16) اب یہاں اسی معافی کی بشارت انہیں دی گئی ہے، گویا مطلب اس تقریر کا یہ ہوا کہ اے موسیٰ میرے حضور تمہارے لیے ڈرنے کی ایک وجہ تو ضرور ہوسکتی تھی، کیونکہ تم سے ایک قصور سرزد ہوگیا تھا، لیکن جب تم اس برائی کو بھلائی سے بدل چکے ہو تو میرے پاس تمہارے لیے اب مغفرت اور رحمت کے سوا کچھ نہیں ہے، کوئی سزا دینے کے لیے اس وقت میں نے تمہیں نہیں بلایا ہے بلکہ بڑے بڑے معجزات دے کر میں تمہیں ایک کار عظیم پر بھیجنے والا ہوں۔
Ayahs 27:12–13سورة النمل 16
سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے کہ موسیٰ کو ہم نے صریح طور پر نظر آنے والی نو نشانیاں (تِسْعَ اٰيٰتٍ بَیِّنٰتٍ) عطا فرمائی تھیں۔ اور سورة اعراف میں ان کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے۔ (1) لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی (2) ہاتھ جو بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا (3) جادوگروں کو برسر عام شکست دینا (4) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے ماطبق سارے ملک میں قحط (5) طوفان (6) ٹڈی دل (7) تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان سب میں جوئیں (8) مینڈکوں کا طوفان (9) اور خون (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 43)
Ayah 27:14سورة النمل 17
قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ جب موسیٰ علیہ اللام کے اعلان کے مطابق کوئی بلائے عام مصڑ پر نازل ہوتی تھی تو فرعون حضرت موسیٰ سے کہتا تھا کہ تم اپنے خدا سے دعا کر کے اس بلا کو ٹلوا دو ، پھر جو کچھ تم کہتے ہو وہ ہم مان لیں گے، مگر جب وہ بلا ٹل جاتی تھی تو فرعون اپنی اسی ہٹ دھرمی پر تل جاتا تھا (الاعراف، آیت 134، الزخرف، آیت 50، 49) بائیبل میں بھی اس کا ذکر موجود ہے (خروج، باب 8 تا 10) اور ویسے بھی یہ بات کسی طرح تصور میں نہ آسکتی تھی کہ ایک پورے ملک پر قحط اور طوفان اور ٹڈی دلوں کا ٹوٹ پڑنا اور مینڈکوں اور سرسریوں کے بیشمار لشکروں کا امڈ آنا کسی جادو کا کر شہ ہوسکتا ہے، یہ ایسے کھلے ہوئے معجزے تھے جن کو دیکھ کر ایک بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی یہ سمجھ سکتا تھا کہ پیغمبر کے کہنے پر ایسی ملک یر بلاؤں کا آنا اور پھر اس کے کہنے پر پر ان کا دور ہوجانا صرف اللہ رب العالمین ہی کے تصرف کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰ نے فرعون سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ تو خوب جان چکا ہے کہ یہ نشانیاں مالک زمین و آسمان کے سوا کسی اور نے نازل نہیں کی ہیں۔ (بنی اسرائیل، آیت 1002) لیکن جس وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کے س رداروں نے جان بوجھ کر ان کا انکار کیا وہ یہ تھی کہ اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کی بات مان لیں حالانکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے ؟ (المومنون، آیت 47)
Ayah 27:15سورة النمل 18
یعنی حقیقت کا علم۔ اس بات کا علم کہ درحقیقت ان کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہے جو کچھ ہے اللہ کا عطیہ ہے اور اس پر تصرف کرنے کے جو اختیارات بھی ان کو بخشے گئے ہیں انہیں اللہ ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے، اور اس اختیار کے صحیح و غلط استعمال پر انہیں مالک حقیقی کے حضور جواب دہی کرنی ہے، یہ علم اس جہالت کی ضد ہے جس میں فرعون مبتلا تھا، اس جہالت نے جو سیرت تعمیر کی تھی اس کا نمونہ وپر مذکور ہوا، اب بتایا جاتا ہے کہ یہ علم کیسی سیرت کا نمونہ تیار کرتا ہے، بادشاہی، دولت، حشمت، طاقت، دونوں طرف یکساں ہے، فرعون کو بھی یہ ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی۔ لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان کتنا عظیم الشان فرق پیدا کردیا۔
سورة النمل 19
یعنی دوسرے مومن بندے بھی ایسے موجود تھے جن کو خلافت عطا کی جاسکتی تھی، لیکن یہ ہماری کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ محض اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس مملکت کی فرمانروائی کے لیے منتخب فرمایا۔
Ayah 27:16سورة النمل 20
وراثت سے مراد یہاں مال و جائداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور خلافت میں حضرت داؤد کی جانشینی ہے، مال و جائداد کی میراث اگر بالفرض منتقل ہوئی بھی ہو تو وہ تنہا حضرت سلیمان ہی کی طرف منتقل نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ حضرت داؤد کی دوسری اولاد بھی موجود تھی، اس لیے اس آیت کو اس حدیث کی تردید میں پیش نہیں کیا جاسکتا جو نبی ﷺ سے مروی ہے کہ لا نورث ما ترکنا صدقۃ، " ہم انبیاء کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی، جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے "۔ (بخاری، کتاب فرض الخمس) اور ان النبی لا یورث انما میراثہ فی فقراء المسلمین والمساکین " نبی کا وارث کوئی نہیں ہوتا، جو کچھ وہ چھوڑتا ہے وہ مسلمانوں کے فقراء اور مساکین میں تقسیم کیا جاتا ہے " (مسند احمد، مرویات ابوبکر صدیق، حدیث نمبر 60 و 78۔
حضرت سلیمان ؑ حضرت داؤد کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے، ان کا اصل عبرانی نام سولومون تھا جو سلیم کا ہم معنی ہے۔ 965 قبل مسیح میں حضرت داؤد کے جانشین ہونے اور 926 ق م تک تقریبا چالیس سال فرمانروا رہے۔ ان کے حالات کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہم القرآن جلد دو ، الحجر، حاشیہ 7، جلد سوم، الانبیاء حواشی 75، 74، ان کے حدود سلطنت کے متعلق ہمارے مفسرین نے بہت مبالغہ سے کام لیا ہے، وہ انہیں دنیا کے بہت بڑے حصے کا حکمراں بتاتے ہیں، حالانکہ ان کی مملکت صرف موجودہ فلسطین و شرق اردن پر مشتمل تھی اور شام کا ایک حصۃ بھی اس میں شامل تھا، (ملاحظہ ہو نقشہ ملک سلیمان، تفہیم القرآن جلدو دوم ص 598)
سورة النمل 21
بائیبل اس ذکر سے خالی ہے کہ حضرت سلیمان کو پرندوں اور جانوروں کی بولیوں کا علم دیا گیا تھا، لیکن بنی اسرائیل کی روایات سے اس کی صراحت موجود ہے (جیوش انسائیکلوپیڈیا، جلد 11، ص 439)
سورة النمل 22
یعنی اللہ کا دیا ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے، اس بات کو لفظی معنوں میں لینا درست نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اللہ کے بخشے ہوئے مال و دولت اور سازو سامان کی کثرت ہے، یہ بات حضرت سلمان نے فخریہ نہیں فرمائی تھی بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی عطا و بخشش کا شکریہ ادا کرنا مقصود تھا۔
Ayah 27:17سورة النمل 23
بائیبل میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ جن حضرت سلیمان کے لشکروں میں شامل تھے اور وہ ان سے خدمت لیتے تھے، لیکن تلمود اور تبیوں کی روایات میں اس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے (جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد 11 صفحہ 440) موجودہ زمانہ کے بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے کہ جن اور طیر سے مراد جنات اور پرندے نہیں ہیں بلکہ انسان ہی ہیں جو حضرت سلیمان کے لشکر میں مختلف کام کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ جن سے مراد پہاڑی قبائل کے وہ لوگ ہیں جنہیں حضرت سلیمان نے مسخر کیا تھا اور وہ ان کے ہاں حیرت انگیز طاقت اور محنت کے کام کرتے تھے، اور طیر سے مراد گھوڑ سواروں کے دستے ہیں جو پیدل دستوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تیزی سے نقل و حرکت کرتے تھے۔ لیکن یہ قرآن مجید میں بےجا تاویل کی بدترین مثالیں ہیں، قرآن یہاں جن، انس اور طیر، تین الگ الگ اقسام کے لشکر بیان کر رہا ہے اور تینوں پر الف ل تعریف جنس کے لیے لایا گیا ہے، اس لیے لا محالہ الجن اور الطیر الانس میں شامل نہیں ہوسکے بلکہ وہ اس سے مختلف دو الگ اجناس ہی ہوسکتی ہیں۔ علاوہ بریں کوئی شخص جو عربی زبان سے ذرہ برابر بھی واقفیت رکھتا ہو یہ تصور نہیں کرسکتا کہ اس زبان میں محض لفظ الجن بول کو انسانوں کا کوئی گروہ یا محض الطیر بول کر سواروں کا رسالہ کبھی مراد لیا جاسکتا ہے اور کوئی عرب ان الفاظ کو سن کر ان کے یہ معنی سمجھ سکتا ہے، محض محاورے میں کسی انسان کو اس کے فوق العادۃ کام کی وجہ سے جن یا کسی عورت کو اس کے حسن کی وجہ سے پری، اور کسی تیز رفتار انسان ہی کے ہوجائیں، ان الفاظ کے یہ معنی تو مجازی ہیں نہ کہ حقیقی، اور کسی کلام میں کسی لفظ کو حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنوں میں صرف اسی وقت استعمال کیا جاتا ہے، اور سننے والے بھی ان کو مجازی معنوں میں صرف اسی وقت لے سکتے ہیں جبکہ آس پاس کوئی واضح قرینہ ایسا موجود ہو جو اس کے مجاز ہونے پر دلالت کرتا ہو۔ یہاں آخر کون سا قرینہ پایا جاتا ہے جس سے یہ گمان کیا جاسکے کہ جن اور طیر کے الفاظ اپنے حقیقی لغوی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں ؟ بلکہ آگے ان دونوں گروہوں کے ایک ایک فرد کا جو حال اور کام بیان کیا گیا ہے وہ تو اس تاویل کے بالکل خلاف معنی پر صریح دلالت کررہا ہے۔ کسی شخص کا دل اگر قرآن کی بات پر یقین نہ کرنا چاہتا ہو تو اسے صاف کہنا چاہیے کہ میں اس بات کو نہیں مانتا۔ لیکن یہ بڑی اخلاقی بزدلی اور علمی خیانت ہے کہ آدمی قرآن کے صاف صاف الفاظ کو توڑ مروڑ کر اپنے من مانے معنی پر ڈھالے اور یہ ظاہر ہے کہ وہ قرآن کے بیان کو مانتا ہے حالانکہ دراصل قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اسے نہیں بلکہ خود اپنے زبردستی گھڑے ہوئے مفہوم کو مانتا ہے۔
Ayah 27:18سورة النمل 24
اس آیت کو بھی آج کل کے بعض مفسرین نے تاویل کے اوپر چڑھایا ہے، وہ کہتے ہیں کہ وادی النمل سے مراد چیونٹیوں کی وادی نہیں ہے بلکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جو شام کے علاقے میں تھی اور نملۃ کے معنی ایک چیونٹی کے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے، اس طرح وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ " جب حضرت سلیمان وادی النمل میں پہنچے تو ایک نمل نے کہا کہ اسے قبیلہ نمل کے لوگو " لیکن یہ بھی ایسی تاویل ہے کہ جس کا ساتھ قرآن کے الفاظ نہیں دیتے، اگر بالفرض وادی النمل کو اس وادی کا نام مان لیا جائے، اور یہ بھی مان لیا جائے کہ وہاں بنی النمل نام کا کوئی قبیلہ رہتا تھا، تب بھی یہ بات عربی زبان کے استعمالات کے بالکل خلاف ہے کہ قبیلہ نمل کے ایک فرد کو نملہ کہا جائے گا، اگرچہ جانوروں کے نام پر عرب کے بہت سے قبائل کے نام ہیں، مثلا کلب، اسد وغیرہ، لیکن کوئی عرب قبیلہ کلب کے کسی فرد کے متعلق قال کلب (ایک کتے نے یہ کہا) یا قبیلہ اسد کے کسی شخص کے متعلق قال اسد (ایک شیر نے کہا) ہرگز نہیں بولے گا، اس لیے بنی النمل کے ایک فرد کے متعلق یہ کہنا کہ قالت نملۃ (ایک چیونٹی یہ بولی) قطعا عربی محاورہ استعمال کے خلاف ہے، پھر قبیلہ نمل کے ایک فرد کا بنی النمل کو پکار کر یہ کہنا کہ اے نملیو، اپنے گھروں میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی ہو، بالکل بےمعنی ہے، انسانوں کے کسی گروہ کو انسانوں کا کوئی لشکر بیخبر ی میں نہیں کچلا کرتا۔ اگر وہ ان پر حملے کی نیت سے آیا ہو تو ان کا اپنے گھروں میں گھس جانا لا حاصل ہے، حملہ آور ان کے گھروں میں گھس کر انہیں اور زیادہ اچھی طرح کچلیں گے، اور اگر وہ محض کوچ کرتا ہوا گزر رہا ہو تو اس کے لیے بس راستہ صاف چھوڑ دینا کافی ہے، کوچ کرنے والوں کی لپیٹ میں آکر انسانوں کو نقصان تو پہنچ سکتا ہے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ چلتے ہوئے انسان بیخبر ی میں انسانوں کو کچل ڈالیں، لہذا اگر بنی النمل کوئی انسانی قبیلہ ہوتا اور اس کا کوئی فرد اپنے قبیلے کے لوگوں کو خبردار کرنا چاہتا ہو تو حملے کے خطرے کی صورت میں وہ کہتا کہ " اے نملیو، بھاگ چلو اور پہاڑوں میں پنا لو تاکہ سلیمان کے لشکر تمہیں تباہ نہ کریں "۔ اور حملے کا خطرہ نہ ہونے کی صورت میں وہ کہتا کہ " اے نملیو، راستہ سے ہٹ جاؤ تاکہ تم میں سے کوئی شخص سلیمان کے لشکروں کی جھپٹ میں نہ آجائے "۔
یہ تو وہ غلطی ہے جو اس تاویل میں عربی زبان اور مضمون عبارت کے اعتبار سے ہے، رہی یہ بات کہ وادی النمل دراصل اس وادی کا نام تھا اور وہاں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ رہتا تھا، یہ محض ایک مفروضہ ہے جس کے لیے کوئی علمی ثبوت موجود نہیں ہے، جن لوگوں نے اسے وادی کا نام قرار دیا ہے انہوں نے خود یہ تصریح کی ہے کہ اسے چیونٹیوں کی کثرت کے باعث یہ نام دیا گیا تھا۔ قتادہ اور مقاتل کہتے ہیں کہ واد بارض الشام کثیر النمل " وہ ایک وادی ہے سرزمین شام میں جہاں چیونٹیاں بہت ہیں "۔ لیکن تاریخ و جغرافیہ کی کسی کتاب میں اور آثار قدیمہ کی کسی تحقیقات میں یہ مذکور نہیں ہے کہ اس وادی میں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ بھی رہتا تھا۔ یہ صرف ایک من گھڑت ہے جو اپنی تاویل کی گاڑی چلانے کے لیے وضع کرلی گئی ہے۔
بنی اسرائیل کی روایات میں بھی یہ قصہ پایا جاتا ہے، مگر اس کا آخری حصہ قرآن کے خلاف ہے اور حضرت سلیمان کی شان کے خلاف بھی ہے، اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان جب ایک وادی سے گزر رہے تھے جس میں چیونٹیاں بہت تھیں تو انہوں نے سنا کہ ایک چیونٹی پکار کر دوسری چیونٹیوں سے کہہ رہی ہے کہ " اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ ورنہ سلیمان کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں گے "۔ اس پر حضرت سلیمان نے اس چیونٹی کے سامنے بڑے تکبر کا اظہار کیا اور جواب میں اس چیونٹی نے ان سے کہا کہ تمہاری حقیقت کیا ہے، ایک حقیر سے تو تم پیدا ہوئے ہو، یہ سن کر حضرت سلیمان شرمندہ ہوگئے (جیوش انسائیکلو پیڈیا، ج 11، ص 440) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کس طرح بنی اسرائیل کی غلط روایات کی تصحیح کرتا ہے اور ان گندگیوں کو صاف کرتا ہے جو انہوں نے خود اپنے پیغمبروں کی سیرتوں پر ڈال دی تھی، ان روایات کے متعلق مغربی مستشرقین بےشرمی کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن نے سب کچھ ان سے سرقہ کرلیا ہے۔
عقلی حیثیت سے یہ بات کچھ بھی بعید نہیں ہے کہ ایک چیونٹی اپنی جنس کے افراد کو کسی آتے ہوئے خطرے سے خبردار کرے اور بلوں میں گھس جانے کے لیے کہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت سلیمن نے اس کی بات کیسے سن لی، تو جس شخص کے حواس کلام وحی جیسی لطیف چیز کا ادراک کرسکتے ہوں، اس کے لیے چیونٹی کے کلام جیسی کثیف (Crude) چیز کا ادراک کرلینا کوئی بڑی مشکل بات نہیں ہے۔
Ayah 27:19سورة النمل 25
اصل الفاظ ہیں رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ۔ وزع کے اصل معنی عربی زبان میں روکنے کے ہیں، اس موقع پر حضرت سلیمان کا یہ کہنا کہ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ (مجھے روک کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں) ہمارے نزدیک دراصل یہ معنی دیتا ہے کہ اے میرے رب جو عظیم الشان قوتیں اور قابلیتیں تو نے مجھے دی ہیں وہ ایسی ہیں کہ اگر میں ذرا سی غفلت میں بھی مبتلا ہوجاؤں تو حد بندگی سے خارج ہو کر اپنی کبریائی کے خبط میں نہ معلوم کہاں سے کہاں نکل جاؤں، اس لیے اسے میرے پروردگار تو مجھے قابو میں رکھ تاکہ میں کافر نعمت بننے کے بجائے شکر نعمت پر قائم رہوں۔
سورة النمل 26
صالح بندوں میں داخل کرنے سے مراد غالبا یہ ہے کہ آخرت میں میرا انجام صالح بندوں کے ساتھ ہو اور میں ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں۔ اس لیے کہ آدمی جب عمل صالح کرے گا تو صالح تو وہ آپ سے آپ ہوگا ہی، البتہ آخعرت میں کسی کا جنت میں داخل ہونا محض اس کے عمل صالح کے بل بوتے پر نہیں ہوسکتا بلکہ یہ اللہ کی رحمت پر موقوف ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ لن یدخل احکم الجنۃ عملہ " تم میں سے کسی کو بھی محض اس کا عمل جنت میں نہیں پہنچاوے گا "۔ عرض کیا گیا کہ ولا انت یا رسول اللہ " کیا حضور کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے "؟ فرمایا ولا انا الا ان یتغمد فی اللہ تعالیٰ برحمتہ " ہاں میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ چلا جاؤں گا جب تک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نہ ڈھانک لے "۔ حضرت سلیمان کی یہ دعا اس موقع پر بالکل بےمحل ہوجاتی ہے اگر النمل سے مراد انسانوں کا کوئی قبیلہ لے لیا جائے اور نملۃ کے معنی قبیلہ نمل کے ایک فرد کے لے لیے جائیں، ایک بادشاہ کے لشکر جرار سے ڈر کر کسی انسانی قبیلہ کے ایک فرد کا اپنے قبیلے کو خطرہ سے خبردار کرنا آخر کون سی ایسی غیر معمولی بات ہے کہ وہ جلیل القدر بادشاہ اس پر خدا سے یہ دعا کرنے لگے۔ البتہ ایک شخص کو اتنی زبردست قوت ادراک حاصل ہونا کہ وہ دور سے ایک چیونٹی کی آواز بھی سن لے اور اس کا مطلب سمجھ جائے ضرور ایسی بات ہے جس سے آدمی کے غرور نفس میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو۔ اسی صورت میں حضرت سلیمان کی یہ دعا بر محل ہوسکتی ہے۔
Ayah 27:20سورة النمل 27
یعنی ان پرندوں کا جن کے متعلق اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ جن اور انس کی طرح ان کے لشکر بھی حضرت سلیمان کے عساکر میں شامل تھے، ممکن ہے کہ حضرت سلیمان ؑ ان سے خبر رسانی، شکار اور اسی طرح کے دوسرے کام لیتے ہوں۔
Ayah 27:21سورة النمل 28
موجودہ زمانے کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہدہد سے مراد وہ پرندہ نہیں ہے جو عربی اور اردو زبان میں اس نام سے معروف ہے بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جو حضرت سلیمان کی فوج میں ایک افسر تھا، اس دعوے کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ تاریخ میں کہیں ہدہد نام کا کوئی شخص ان حضرات کو سلیمان ؑ کی حکومت کے افسروں کی فہرست میں مل گیا ہے، بلکہ یہ عمارت صرف اس استدلال پر کھڑی کی گئی ہے کہ جانوروں کے ناموں پر انسانوں کے نام رکھنے کا رواج تمام زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی پایا جاتا ہے اور عبرانی میں بھی تھا، نیز یہ کہ آگے اس ہدہد کا جو جام بیان کیا گیا ہے اور حضرت سلیمان سے اس کی گفتگو کا جو ذکر ہے وہ ان کے نزدیک صرف ایک انسان ہی کرسکتا ہے، لیکن قرآن مجید کے سیاق کلام کو آدمی دیکھے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن کی تفسیر نہیں بلکہ اس کی تحریف اور اس سے بھی کچھ بڑھ کر اس کی تغلیط ہے۔ آخر قرآن کو انسان کی عقل و خرد سے کیا دشمنی ہے کہ وہ کہنا تو یہ چاہتا ہو کہ حضرت سلیمان کے رسالے یا پلٹن یا محکمہ خبر رسانی کا ایک آدمی تھا جسے انہوں نے تلاش کیا اور اس نے حاضر ہو کر یہ خبر دی اور اسے حضرت موصوف نے اس خدمت پر بھیجا، لیکن اسے وہ مسلسل ایسی چیتان کی زبان میں بیان کرے کہ پڑھنے والا اول سے لیکر آخر تک اسے پرندہ ہی سمجھنے پر مجبور ہو، اس سلسلہ میں ذرا قرآن مجید کے بیان کی ترتیب ملاحظہ فرمایئے۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان نے اللہ کے اس فضل پر اظہار امتنان کیا کہ " ہمیں منطق الطیر کا علم دیا گیا ہے " اس فقرے میں اول تو طیر کا لفظ مطلق ہے جسے ہر عرب اور عربی دان پرندے ہی کے معنی میں لے گا، کیونکہ کوئی قرینہ اس کے استعارہ و مجاز ہونے پر دلالت نہیں کر رہا ہے۔ دوسرے اگر طیر سے مراد پرند نہیں بلکہ انسانوں کا کوئی گروہ ہو تو اس کے لیے منطق (بولی) کے بجائے لغت یا لسان (یعنی زبان) کا لفظ زیادہ صحیح ہوتا، اور پھر کسی شخص کا کسی دوسرے انسانی گروہ کی زبان جاننا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے کہ وہ خاص طور پر اس کا ذکر کرے۔ آج ہمارے درمیان ہزارہا آدمی بہت سی غیر زبانوں کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں، یہ آخر کونسا بڑا کمال ہے جسے اللہ تعالیٰ کا غیر معمولی عطیہ قرار دیا جاسکے۔
اس کے بعد فرمایا گیا کہ " سلیمان کے لیے جن اور انس اور طیر کے لشکر جمع کیے گئے تھے "۔ اس فقرے میں اول تو جن اور انس اور طیر، تین معروف اسمائے جنس استعمال ہوئے ہیں جو تین مختلف اور معلوم اجناس کے لیے عربی زبان میں مستعمل ہیں، پھر انہیں مطلق استعمال کیا گیا ہے اور کوئی قرینہ ان میں سے کسی کے استعارہ و مجاز یا تشبیہ ہونے کا موجود نہیں آیا ہے جو یہ معنی لینے میں صریحا مانع ہے کہ جن اور طیر دراصل انس ہی کی جنس کے دو گروہ تھے، یہ معنی مراد ہوتے تو الجن والطیر من الانس کہا جاتا نہ کہ من الجن والانس والطیر۔
آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان طیر کا جائزہ لے رہے تھے اور ہدہد کو غائب دیکھ کر انہوں نے یہ بات فرمائی۔ اگر یہ طیر انسان تھے اور ہدہد بھی کسی آدمی کا نام ہی تھا تو کم از کم کوئی لفظ تو ایسا کہہ دیا جاتا کہ بےچارہ پڑھنے والا اس کو جانور نہ سمجھ بیٹھتا۔ گروہ کا نام پرندہ اور اس کے ایک فرد کا نام ہدہد پھر بھی ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم آپ سے آپ اسے انسان سمجھ لیں گے۔
پھر حضرت سلیمان فرماتے ہیں کہ ہدہد یا تو اپنے غائب ہونے کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کردوں گا، انسان کو قتل کیا جاتا ہے، پھانسی دی جاتی ہے، سزائے موت دی جاتی ہے، ذبح کون کرتا ہے ؟ کوئی بڑا ہی سنگدل اور بےدرد آدمی جوش انتقام میں اندھا ہوچکا ہو تو شاید کسی آدمی کو ذبح بھی کردے، مگر کیا پیغمبر سے ہم یہ توقع کریں کہ وہ اپنی فوج کے ایک آدمی کو محض غیر حاضر (Deserter) ہونے کے جرم میں ذبح کردینے کا اعلان کرے گا، اور اللہ میاں سے یہ حسن ظن رکھیں کہ وہ ایسی سنگین بات کا ذکر کر کے اس پر مذمت کا ایک لفظ بھی نہ فرمائیں گے ؟
کچھ دور آگے چل کر ابھی آپ دیکھیں گے کہ حضرت سلیمان اسی ہدہد کو ملکہ سبا کے نام خط دے کر بھیجتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اسے ان کی طرف ڈال دے یا پھینک دے، (القہ الیھم) ظاہر ہے کہ یہ ہدایت پرندے کو تو دی جاسکتی ہے لیکن کسی آدمی کو سفیر یا ایلچی کا قاصد بنا کر بھیجنے کی صورت میں یہ انتہائی غیر موزوں ہے، کسی کی عقل ہی خبط ہوگئی ہو تو وہ مان لے گا کہ ایک ملک کا بادشاہ دوسرے ملک کی ملکہ کے نام خط دے کر اپنے سفیر کو اس ہدایت کے ساتھ بھیج سکتا ہے کہ اسے لے جاکر اس کے آگے ڈال دے یا اس کی طرف پھینک دے، کیا تہذیب و شائستگی کے اس ابتدائی مرتبے سے بھی حضرت سلیمان کو گرا ہوا فرض کرلیا جائے جس کا لحاظ ہم جیسے معمولی لوگ بھی اپنے کسی ہمسائے کے پاس اپنے ملازم کو بھیجتے ہوئے ملحوظ رکھتے ہیں ؟ کیا کوئی شریف آدمی اپنے ملازم سے یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا یہ خط لے جاکر فلاں صاحب کے آگے پھینک آ ؟
یہ تمام قرائن صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں ہدہد کا مفہوم وہی ہے جو ازروئے لغت اس لفظ کا مفہوم ہے، یعنی یہ کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک پرندہ تھا، اب اگر کوئی شخص یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ایک ہدہد باتیں کرسکتا ہے جو قرآن اس کی طرف منسوب کررہا ہے تو اسے صاف صاف کہنا چاہیے کہ میں قرآن کی اس بات کو نہیں مانتا، اپنے عدم ایمان کو اس پردے میں چھپانا کہ قرآن کے صاف اور صریح الفاظ میں اپنے من مانے معنی بھرے جائیں، گھٹیا درجے کی منافقت ہے۔
Ayahs 27:22–23سورة النمل 29
سبا جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ قوم تھی جس کا دار الحکومت مارب موجودہ یمن کے دار السلطنت صنعاء سے 55 میل بجانب شمال مشرق واقع تھا۔ اس کا زمانہ عروج معین کی سلطنت کے زوال کے بعد تقریبا 1100 ق م سے شروع ہوا اور ایک ہزار سال تک یہ عرب میں اپنی عظمت کے ڈنکے بجاتی رہی، پھر 115 ق م میں جنوبی عرب کی دوسری مشہور قوم حمیر نے اس کی جگہ لے لی، عرب میں یمن اور حضر موت، اور افریقہ میں حبش کے عالقے پر اس کا قبضہ تھا، مشرقی افریقہ، ہندوستان، مشرق بعید اور خود عرب کی جتنی تجارت مصر و شام اور یونان و روم کے ساتھ ہوتی تھی وہ زیادہ تر انہی سبائیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اسی وجہ سے یہ قوم قدیم زمانہ میں اپنی دولت کے لیے نہایت مشہور تھی، بلکہ یونانی مورخین تو اسے دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کہتے ہیں تجارت کے علاوہ ان کی خوشحالی کا بڑا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے ملک میں جگہ جگہ بند باندھ کر ایک بہترین نظام آب پاشی قائم کر رکھا تھا، جس سے ان کا پورا علاقہ جنت بنا ہوا تھا، ان کے ملک کی اس غیر معمولی سرسبزی و شادابی کا ذکر یونانی مورخین نے بھی کیا ہے اور سورة سبا کے دوسرے رکوع میں قرآن مجید بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ہدہد کا یہ بیان کہ " میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں "۔ یہ معنی نہیں رکھتا کہ حضرت سلیمان سبا سے بالکل ناواقف تھے، ظاہر ہے کہ فلسطین و شام کے جس فرمانروا کی سلطنت بحر احمر کے شمالی کنارے (خلیج عقبہ) تک پہنچی ہوئی تھی وہ اسی بحر احمر کے جنوبی کنارے (یمن) کی ایک ایسی قوم سے ناواقف نہ ہوسکتا تھا جو بین الاقوامی تجارت کے ایک اہم حصے پر قابض تھی، علاوہ ازیں زبور سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان سے بھی پہلے ان کے والد ماجد حضرت داؤد سبا سے واقف تھے، ان کی دعا کے یہ الفاظ زبور میں ہمیں ملتے ہیں
" اے خدا، بادشاہ (یعنی خود حضرت داؤد) کو اپنے احکام اور شاہزادے (یعنی حضرت سلیمان) کو اپنی صداقت عطا فرما۔ ترسیس اور جزیروں کے بادشاہ نذریں گھزاریں گے، سبا اور شیبا (یعنی سبا کی یمنی اور حبشی شاخوں) کے بادشاہ ہدیے لائیں گے "۔ (72۔ 1۔ 2 و 1۔ 11)
اس لیے ہدہد کے قول کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوم سبا کے مرکز میں جو چشم دید حالات میں دیکھ کر آیا ہوں وہ ابھی تک آپ کو نہیں پہنچے ہیں۔
Ayah 27:24سورة النمل 30
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اس زمانے میں آفتاب پرستی کے مذہب کی پیرو تھی، عرب کی قدیم روایات سے بھی اس کا یہی مذہب معلوم ہوتا ہے، چناچہ ابن اسحاق علمائے انساب کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ سبا کی قوم دراصل ایک مورث اعلی کی طرف منسوب ہے جس کا نام عبد شمس (بندہ آفتاب یا سورج کا پرستار) اور لقب سبا تھا۔ بنی اسرائیل کی روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں، ان میں بیان کیا گیا ہے کہ ہدہد جب حضرت سلیمان کا خط لیکر پہنچا تو ملکہ سبا سورج دیوتا کی پرستش کے لیے جارہی تھی۔ ہدہد نے راستے ہی میں وہ خط ملکہ کے سامنے پھینک دیا۔
سورة النمل 31
انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی عبادت ہدہد کے کلام کا جز نہیں ہے بلکہ سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے پر اس کی بات ختم ہوگئی اور اس کے بعد اب یہ ارشاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بطور اضافہ ہے۔ اس قیاس کو جو چیز تقویت دیتی ہے وہ یہ فقرہ ہے وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔ ان الفاظ سے یہ گمان غالب ہوتا ہے کہ متکلم ہدہد اور مخاطب حضرت سلیمان کے اہل دربار نہیں ہیں بلکہ متکلم اللہ تعالیٰ اور مخاطب مشرکین مکہ ہیں جن کو نصیحت کرنے ہی کے لیے یہ قصہ سنایا جارہا ہے، مفسرین میں سے علامہ آلوسی، صاحب روح المعانی بھی اسی قیاس کو ترجیح دیتے ہیں۔
سورة النمل 32
یعنی دنیا کی دولت کمانے اور اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ شاندار بنانے کے جس کام میں وہ منہمک تھے، شیطان نے ان کو بجھا دیا کہ بس یہی عقل و فکر کا ایک مصروف اور قوائے ذہنی و جسمانی کا ایک استعمال ہے، اس سے زیادہ کسی چیز پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی حاجت ہی نہیں ہے کہ تم خواہ مخواہ اس فکر میں پڑو کہ اس ظاہر حیات دنیا کے پیچھے حقیقت واقعیہ کیا ہے اور تمہارے مذہب، اخلاق، تہذیب اور نظام حیات کی بنیادیں اس حقیقت سے مطابقت رکھتی ہیں یا سراسر اس کے خلاف جارہی ہیں، شیطان نے ان کو مطمئن کردیا کہ جب تم دنیا میں دولت اور طاقت اور شان و شوکت کے لحاظ سے بڑھتے ہی چلے جارہے ہو تو پھر تمہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ ہمارے یہ عقائد اور فلسفے اور نظریے ٹھیک ہیں یا نہیں۔ ان کے ٹھیک ہونے کی تو یہی ایک دلیل کافی ہے کہ تم مزے سے دولت کما رہے ہو اور عیش اڑا رہے ہو۔
Ayah 27:25سورة النمل 33
یعنی جو ہر آن ان چیزوں کو ظہور میں لا رہا ہے جو پیدائش سے پہلے نہ معلوم کہاں کہاں پوشیدہ تھیں زمین کے پیٹ سے ہر آن بیشمار نباتات نکال رہا ہے اور طرح طرح کے معدنیات خارج کر رہا ہے، عالم بالا کی فضاؤں سے وہ وہ چیزیں سامنے لارہا ہے جن کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان کا وہم و گمان بھی ان تک نہ پہنچ سکتا تھا۔
سورة النمل 34
یعنی اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اس کے لیے ظاہر اور مخفی سب یکساں ہیں، اس پر سب کچھ عیاں ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو بطور نمونہ بیان کرنے سے مقصود دراصل یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اگر وہ لوگ شیطان کے دھوکے میں نہ آتے تو یہ سیدھا راستہ انہیں صاف نظر آسکتا تھا کہ آفتاب نامی ایک دہکتا ہوا کرہ جو پیچارہ خود اپنے وجود کا ہوش بھی نہیں رکھتا، کسی عبادت کا مستحق نہیں ہے، بکہ صرف وہ ہستی اس کا استحقاق رکھتی ہے جو علیم وخبیر ہے اور جس کی قدرت ہر لحظہ نئے نئے کرشمے ظہور میں لارہی ہے۔
Ayahs 27:26–27سورة النمل 35
اس مقام پر سجدہ واجب ہے، یہ قرآن کے ان مقامات میں سے ہے جہاں سجدہ تلاوت واجب ہونے پر فقہاء کا اتفاق ہے، یہاں سجدہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایک مومن اپنے آپ کو آفتاب پرستوں سے جدا کرے اور اپنے عمل سے اس بات کا اقرار و اظہار کرے کہ وہ آفتاب کو نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مسجود و معبود مانتا ہے۔
Ayahs 27:28–30سورة النمل 36
یہاں پہنچ کر ہدہد کا کردار ختم ہوتا ہے، عقلیت کے مدعی حضرات نے جس بنا پر اسے پرندہ ماننے سے انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ایک پرندے کے اس قوت مشاہدہ، قوت تمیز اور قوت بیان سے بہرہ ور ہونا بعید از امکان معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ملک پر گزرے اور یہ جان لے کہ یہ قوم سبا کا ملک ہے، اس ملک کا نظام حکومت یہ ہے، اس کی فرمانروا فلاں عورت ہے، اس کا مذہب آفتاب پرستی ہے، اس کو خدائے واحد کا پرستار ہونا چاہیے تھا، مگر یہ گمراہی میں مبتلا ہے، اور اپنے یہ سارے مشاہدات وہ آکر اس وضاحت کے ساتھ حضرت سلیمان سے بیان کردے، انہی وجوہ سے کھلے کھلے ملاحدہ قرآن پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ کلیلہ و منہ کی سی باتیں کرتا ہے، اور قرآن کی عقلی تفسیریں کرنے والے اس کے الفاظ کو ان کے صریح معنی سے پھیر کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ حضرت ہدہد تو سرے سے کوئی پرندے تھے ہی نہیں، لیکن ان دونوں قسم کے حضرات کے پاس آخر وہ کیا ساٹنٹفک معلومات ہیں جن کی بنا پر وہ قطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہوں کہ حیوانات اور ان کی مختلف انواع اور پھر ان کے مختلف افراد کی قوتیں اور استعدادیں کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں۔ جن چیزوں کو وہ معلومات سمجھتے ہیں وہ درحقیقت اس نہایت ناکافی مشاہدے سے اخذ کردہ نتائج ہیں جو محض سرسری طور پر حیوانات کی زندگی اور ان کے برتاؤ کا کیا گیا ہے، انسان کو آج تک کسی یقینی ذریعہ سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مختلف قسم کے حیوانات کیا جانتے ہیں، کیا کچھ دیکتے اور سنتے ہیں، کیا محسوس کرتے ہیں، کیا سوچتے اور سمجھتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے، پھر بھی جو تھوڑا بہت مشاہدہ مختلف انواع حیوانی زندگی کا کیا گیا ہے اس سے ان کی نہایت حیرت انگیز استعدادوں کا پتہ چلا ہے،
اب اگر اللہ تعالیٰ جو ان حیوانات کا خالق ہے ہم کو یہ بتاتا ہے کہ اس نے اپنے ایک نبی کو جانوروں کی منطق سمجھنے اور ان سے کلام کرنے کی قابلیت عطا کی تھی، اور اس نبی کے پاس سھائے جانے اور تربیت پانے سے ایک ہدہد اس قابل ہوگیا تھا کہ دوسرے ملکوں سے یہ کچھ مشاہدے کر کے آتا اور پیغمبر کو ان کی خبر دیتا تھا، تو بجائے اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس بیان کی روشنی میں حیوانات کے متعلق اپنے آج تک کے تھوڑے سے علم اور بہت سے قیاسات پر نظر ثانی کریں، یہ کیا عقلمندی ہے کہ ہم اپنے اس ناکافی علم کو معیار قرار دے کر اللہ تعالیٰ کے اس بیان کی تکذیب یا اس کی معنوی تحریف کرنے لگیں۔
Ayah 27:31سورة النمل 37
یعنی خط کی اہمیت کئی وجوہ سے ہے، ایک یہ کہ وہ عجیب غیر معمولی طریقے سے آیا ہے، بجائے اس کے کہ کوئی سفارت اسے لاکر دیتی، ایک پرندے نے اسے لاکر مجھ پر ٹپکا دیا ہے، دوسرے یہ کہ وہ فلسطین و شام کے عظیم فرمانروا سلیمان کی جانب سے ہے، تیسرے یہ کہ اسے اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے، حالانکہ دنیا میں کہیں کسی سلطنت کے مراسلوں میں یہ طریقہ استعمال نہیں کیا جاتا، پھر سب دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف خدائے بزرگ و برتر کے نام پر خط لکھنا بھی ہماری دنیا میں ایک غیر معمولی بات ہے، ان سب باتوں کے ساتھ یہ امر اس کی اہمیت کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے کہ اس میں بالکل صاف صاف ہم کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ ہم سرکشی چھوڑ کر اطاعت اختیار کرلیں اور تابع فرمان بن کر یا مسلمان ہو کر سلیمان کے آگے حاضر ہوجائیں۔
" مسلم " ہو کر حاضر ہونے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مطیع بن کر حاضر ہوجاؤ، دوسرے یہ کہ دین اسلام قبول کر کے حاضر ہوجاؤ، پہلا مفہوم حضرت سلیمان کی شان فرماں روائی سے مطابقت رکھتا ہے اور دوسرا مفہوم ان کی شان پیغمبری سے۔ غالبا یہ جامع لفظ اسی لیے استعمال کیا گیا ہے کہ خط میں یہ دونوں مقاصد شامل تھے۔ اسلام کی طرف سے خود مختار قوموں اور حکومتوں کو ہمیشہ یہی دعوت دی گئی ہے کہ یا تو دین حق قبول کرو اور ہمارے ساتھ نظام اسلامی میں برابر کے حصہ دار بن جاؤ، یا پھر اپنی سیاسی خود مختاری سے دست بردار ہو کر اسلامی نظام کی ماتحتی قبول کرلو اور سیدھے ہاتھ سے جزیہ دو۔
Ayahs 27:32–33سورة النمل 38
اصل الفاظ ہیں حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ جب تک تکہ تم حاضر نہ ہو، یا تم گواہ نہ ہو، یعنی اہم معاملات میں فیصلہ کرتے وقت تم لوگوں کی موجودگی مریے نزدیک ضروری ہے، اور یہ بھی کہ جو فیصلہ میں کروں اس کے صحیح ہونے کی تم شہادت دو ، اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ قوم سبا میں بادشاہی نظام تو تھا مگر وہ استبدادی نظام نہ تھا بلکہ فرماں روائے وقت معاملات کے فیصلے اعیان سلطنت کے مشورے سے کرتا تھا۔
Ayahs 27:34–35سورة النمل 39
اس ایک فقرے میں امپیریلزم اور اس کے اثرات و نتائج پر مکمل تبصرہ کردیا گیا ہے۔ بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی دوسری قوموں پر دست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی، اس کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ دوسری قوم کو خدا نے جو رزق دیا ہے اور جو وسائل و ذرائع عطا کیے ہیں ان سے وہ خود متمتع ہوں اور اس قوم کو اتنا بےبس کردیں کہ وہ کبھی ان کے مقابلے میں سر اٹھا کر اپنا حصہ نہ مانگ سکے، اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی اور طاقت اور عزت کے تمام ذرائع ختم کردیتے ہیں، اس کے جن لوگوں میں بھی اپنی خودی کا دم داعیہ ہوتا ہے انہیں کچل کر رکھ دیتے ہیں، اس کے افراد میں غلامی، خوشامد، ایک دوسرے کی کاٹ، ایک دوسرے کی جاسوسی، فاتح کی نقالی، اپنی تہذیب کی تحقیر، فاتح تہذیب کی تعظیم اور ایسے ہی دوسرے کمینہ اوصاف پیدا کردیتے ہیں، اور انہیں بتدریج اس بات کا خوگر بنا دیتے ہیں کہ وہ اپنی کسی مقدس سے مقدس چیز کو بھی بیچ دینے میں تامل نہ کریں اور اجرت پر ہر ذلیل سے ذلیل خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہوجائیں۔
سورة النمل 40
اس فقرے میں دو برابر کے احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ملکہ سبا ہی کا قول ہو اور اس نے اپنے پچھلے قول پر بطور تاکید اس کا اضافہ کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہو جو ملکہ کے قول کی تائید کے لیے جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہو۔
Ayah 27:36سورة النمل 41
اس جملے سے مقصود اظہار فخر وتکبر نہیں ہے، اصل مدعا یہ ہے کہ مجھے تمہارا مال مطلوب نہیں ہے بلکہ تمہارا ایمان مطلوب ہے، یا پھر کم سے کم جو چیز میں چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ایک صالح نظام کے تابع ہوجاؤ، اگر تم ان دونوں باتوں میں سے کسی کے لیے راضی نہیں ہو تو میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ مال و دولت کی رشوت لے کر تمہیں اس شرک اور اس فاسد نظام زندگی کے معاملہ میں آزاد چھوڑ دوں، مجھے میرے رب نے جو کچھ دے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے کہ میں تمہارے مال کا لالچ کروں۔
Ayah 27:37سورة النمل 42
پہلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جو کلام پر غور کرنے سے خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے، یعنی پوری بات یوں ہے کہ اے سفیر یہ ہدیہ واپس لے جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف، انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننی پڑے گی کہ مسلم ہو کر ہمارے پاس حاضر ہوجائیں ورنہ ہم ان پر لشکر لے کر آئیں گے۔