Ayah 27:64سورة النمل 80
یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کردیا گیا ہے اپنے ا ندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الہ اور وحدت الہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں، پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے، اس وقت تک مسلم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بےجان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہوسکتی، حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقا جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق (law of Chance) کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا، اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں (Labo ratories) میں بےجان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود وہ سب قطعی ناممکن ہوچکی ہیں، زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جاسکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔
اس کے بعد آگے دیکھیے۔ زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں بلکہ بیشمار متنوع صورتوں میں پائی جاتی ہے، اس وقت تک روئے زمین پر حیوانات کی تقریبا 10 لاکھ اور اور نباتات کی تقریبا دو لاکھ انواع کا پتہ چلا ہے۔ یہ لکوکھا انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہیں، اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورت نوعیہ کو اس طرح مسلسل برقرار رکھتی چلی آرہی ہیں کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے (Design) کے سوا زندگی کے اس عظیم تنوع کی کوئی اور معقول توجیہ کردینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی ہو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو۔ متحجرات (Fossils) کا پورا ریکارڈ اس کی نظیر سے خالی ہے اور موجودہ حیوانات میں بھی یہ خنثی مشکل کہیں نہیں ملا ہے۔ آج تک کسی نوع کا جو فرد بھی ملا ہے اپنی پوری صورت نوعیہ کے ساتھ ہی ملا ہے، اور ہر وہ افسانہ جو کسی مفقود کڑی کے ہم پہنچ جانے کا وقتا فوقتا سنا دیا جاتا ہے۔ تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت تک یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع حکیم، ایک خالق الباری المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوع صورتیں عطا کی ہیں۔
یہ تو ہے ابتدائے خلق کا معاملہ۔ اب ذرا عادۃ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل (Mechanism) رکھ دیا ہے جو اس کے بیشمار افراد میں سے بےحد و حساب نسل ٹھیک کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانہ چلا جاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانہ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل (Genetics) کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کا ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے (Cell) کے ایک حصہ میں ہوتا ہے جسے بمشکل انتہائی طاقت ور خوردبین سے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینیر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشوونما کو حتما اسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورت نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانہ سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں انہوں نے گہیوں ہی پیدا کیا ہے، کسی آب و ہوا اور کسی ماحول میں یہ حادثہ کبھی رونما نہیں ہوا کہ دانہ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانہ جو پیدا ہوجاتا، ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادۃ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اسی نوع کے بیشمار افراد وجود میں لاتا چلا جارہا ہے۔ اگر کوئی شخص توالد و تناسل کے اس خورد بینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے، اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بےانتہا لطیف و پر پیچ عملیات (Progresses) کو دیکھے جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخم تناسل اسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے، تو اہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چالہتی ہے، بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک نظام و مدبر اور ایک حی وقیوم کی طلاب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کارخانوں کی نگرانی و رہنمائی سے غافل نہ ہو۔
یہ حقائق ایک دہریے کے انکار خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی، کون احمق یہ گمان کرسکتا ہے کہ خدا کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے، اور کون صاحب عقل آدمی تعصب سے پاک ہو کر یہ کہہ سکتا ہے کہ سارا کارخانہ خلق و اعادۃ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقا شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جارہا ہے۔
سورة النمل 81
رزق دینے کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے جتنا سرسری طور پر ان مختصر سے الفاظ کو پڑھ کر کوئی شخص محسوس کرتا ہے۔ اس زمین پر لاکھوں انواع حیوانات کی اور لاکھوں ہی نباتات کی پائی جاتی ہیں جن میں سے ہر ایک کے اربوں افراد موجود ہیں اور ہر ایک کی غذائی ضروریات الگ ہیں۔ خالق نے ان میں سے ہر نوع کی غذا کا سامان اس کثرت سے اور ہر ایک کی دسترس کے اس قدر قریب فراہم کیا ہے کہ کسی نوع کے افراد بھی یہاں غذا پانے سے محروم نہیں رہ جاتے۔ پھر اس انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف قوتیں مل جل کر کام کرتی ہیں جن کا شمار مشکل ہے، گرمی، روشنی، ہوا، پانی، اور زمین کے مختلف الاقسام مادوں کے درمیان اگر ٹھیک تناسب کے ساتھ تعاون نہ ہو تو غذا کا ایک ذرہ بھی وجود میں نہیں آسکتا۔
کون شخص تصور کرسکتا ہے کہ یہ حکیمانہ انتظام ایک مدبر کی تدبیر اور سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر یونہی اتفاقا ہوسکتا تھا ؟ اور کون اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے یہ خیال کرسکتا ہے کہ اس انتظام میں کسی جن یا فرشتے یا کسی بزرگ کی روح کا کوئی دخل ہے ؟
سورة النمل 82
یعنی یا تو اس بات پر دلیل لاؤ کہ ان کاموں میں واقعی کوئی اور بھی شریک ہے، یا نہیں تو پھر کسی معقول دلیل سے یہی بات سمجھا دو کہ یہ سارے کام تو ہوں صرف ایک اللہ کے مگر بندگی و عبادت کا حق پہنچے اس کے سوا کسی اور کو یا اس کے ساتھ کسی اور کو بھی۔
Ayah 27:65سورة النمل 83
اوپر تخلیق، تدبیر اور رزاقی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے الہ واحد (یعنی اکیلے خدا اور اکیلے مستحق عبادت) ہونے پر استدلال کی گیا تھا۔ اب خدائی کی ایک اور اہم صفت، یعنی علم کے لحاظ سے بتایا جارہا ہے کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ لاشریک ہے، آسمان و زمین میں جو بھی مخلوقات ہیں، خواہ فرشتے ہوں یا جن یا انبیاء اور اولیاء یا دوسرے انسان اور غیر انسان، سب کا علم محدود ہے، سب سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے۔ سب کچھ جاننے والا اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جس سے اس کائنات کی کوئی چیز اور کوئی بات پوشیدہ نہیں، جو ماضی و حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔
غیب کے معنی مخفی، پوشیدہ اور مستور کے ہیں۔ اصطلاحا اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو معلوم نہ ہو، جس تک ذرائع معلومات کی رسائی نہ ہو۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو فردا فردا بعض انسانوں کے علم میں ہیں اور بعض کے علم میں نہیں ہیں، اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کے علم میں نہ کبھی تھیں نہ آج ہیں نہ آئندہ کبھی آئیں گی، ایسا ہی معاملہ جنوں اور فرشتوں اور دوسری مخلوقات کا ہے کہ بعض چیزیں ان میں سے کسی سے مخفی اور کسی کو معلوم نہیں، اور بیشمار چیزیں ایسی ہیں جو ان سب سے مخفی ہیں اور کسی کو بھی معلوم نہیں۔ یہ تمام اقسام کے غیب صرف ایک ذات پر روشن ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس کے لیے کوئی چیز غیب نہیں، سب شہادت ہی شہادت ہے۔
اس حقیقت کو بیان کرنے میں سوال کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو اوپر تخلیق و تدبیر کائنات اور رزاقی کے بیان میں اختیار کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان صفات کے آثار تو بالکل نمایاں ہیں جنہیں ہر شخص دیکھ رہا ہے، اور ان کے بارے میں کفار و مشرکین تک یہ مانتے تھے اور مانتے ہیں کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں، اس لیے وہاں طرز استدلال یہ تھا کہ جب یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں اور کوئی ان میں اس کا شریک نہیں ہے تو پھر خدائی میں تم نے دوسروں کو کیسے شریک بنالیا اور عبادت کے مستحق وہ کس بنا پر ہوگئے ؟ لیکن علم کی صفت اپنے اپنے کوئی محسوس آثار نہیں رکھتی جن کی طرف اشارہ کیا جاسکے۔ یہ معاملہ صرف غور و فکر ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس لیے اس کو سوال کے بجائے دعوے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے، اب یہ ہر صاحب عقل کا کام ہے کہ وہ اپنی جگہ اس امر پر غور کرے کہ فی الحقیقت کیا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا عالم الغیب ہو ؟ یعنی تمام ان احوال اور اشیاء اور حقائق کا جاننے والا ہو جو کائنات میں کبھی تھیں، یا اب ہیں، یا آئندہ ہوں گی، اور اگر کوئی دوسرا عالم الغیب نہیں ہے اور نہیں ہوسکتا تو پھر کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جو لوگ پوری طرح حقائق اور احوال سے واقف ہی نہیں ہیں ان میں سے کوئی بندوں کا فریاد رس اور حاجت روا اور مشکل کشا ہوسکے ؟
الوہیت اور علم غیب کے درمیان ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ قدیم ترین زمانے سے انسان نے جس ہستی میں بھی خدائی کے کسی شائبے کا گمان کیا ہے اس کے متعلق یہ خیال ضرور کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ گویا انسان کا ذہن اس حقیقت سے بالکل بدیہی طور پر آگاہ ہے کہ قسمتوں کا بنانا اور بگاڑنا، دعاؤں کا سننا، حاجتیں پوری کرنا اور ہر طالب امداد کی مدد کو پہنچنا صرف اسی ہستی کا کام ہوسکتا ہے جو سب کچھ جانتی ہو اور جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو، اسی بنا پر تو انسان جس کو بھی خدائی اختیارات کا حامل سمجھتا ہے اسے لازما عالم الغیب بھی سمجھتا ہے، کیونکہ اس کی عقل بلا ریب شہادت دیتی ہے کہ علم اور اختیارات باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اب اگر یہ ھقیقت ہے کہ خالق اور مدبر اور مجیب الدعوات اور رازق خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے جیسا کہ اوپر کی آیات میں ثابت کیا گیا ہے تو آپ سے آپ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالم الغیب بھی خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے، آخر کون اپنے ہوش و حواس میں یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی فرشتے یا جن یا نبی یا ولی کو، یا کسی مخلوق کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ سمندر میں اور ہوا میں اور زمین کی تہوں میں اور سطح زمین کے اوپر کس کس قسم کے کتنے جانور کہاں کہاں ہیں ؟ اور عالم بالا کے بےحدو حساب سیاروں کی ٹھیک تعداد کیا ہے ؟ اور ان میں سے ہر ایک کس کس طرح کی مخلوقات موجود ہیں ؟ اور ان مخلوقات کا ایک ایک فرد کہاں ہے اور کیا اس کی ضروریات ہیں ؟ یہ سب کچھ اللہ کو تو لازما معلوم ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے، اور اسی کو ان کے معاملات کی تدبیر اور ان کے حالات کی نگہبانی کرنی ہے اور وہی ان کے رزق کا انتظام کرنے والا ہے، لیکن دوسرا کوئی اپنے محدود وجود میں یہ وسیع و محیط علم رکھ کیسے سکتا ہے اور اس کا کیا تعلق اس کار خلاقی و رزاقی سے کہ وہ ان چیزوں کو جانے ؟
پھر یہ صفت قابل تجزیہ بھی نہیں ہے کہ کوئی بندہ مثلا صرف زمین کی حد تک اور زمین میں بھی صرف انسانوں کی حد تک عالم الغیب ہو، یہ اسی طرح قابل تجزیہ نہیں ہے جس طرح خدا کی خلاقی و رزاقی اور قیومی و پروردگاری قابل تجزیہ نہیں ہے۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور قیامت تک پیدا ہوں گے، رحم مادر میں استقرار کے وقت سے آخری ساعت حیات تک ان سب کے تمام حالات و کیفیات کو جاننا آخر کس بندے کا کام ہوسکتا ہے ؟ اور وہ کیسے اور کیوں اس کو جانے گا ؟ کیا وہ اس بےحدو حساب خلقت کا خالق ہے ؟ کیا اس نے ان کے باپوں کے نطفے میں ان کے جرثومے کو وجود بخشا تھا ؟ کیا اس نے ان کی ماؤں کے رحم میں ان کی صورت گری کی تھی ؟ کیا اس نے ان کی زندہ ولادت کا انتظام کیا تھا ؟ کیا اس نے ان میں سے ایک ایک شخص کی قسمت بنائی تھی ؟ کیا وہ ان کی موت اور حیات ان کی صحت اور مرض، ان کی خوشحالی اور بدحالی اور ان کے عروج اور زوال کے فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے ؟ اور آخر یہ کام کب سے اس کے ذمے ہوا ؟ اس کی اپنی ولادت سے پہلے اس کے بعد ؟ اور صرف انسانوں کی حد تک یہ ذمہ داریاں محدود کیسے ہوسکتی ہیں ؟ یہ کام تو لازما زمین اور آسمانوں کے عالمگیر انتظام کا ایک جز ہے، جو ہستی ساری کائنات کی تدبیر کررہی ہے وہی تو انسانوں کی پیدائش و موت اور ان کے رزق کی تنگی و کشادگی اور ان کی قسمتوں کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ دار ہوسکتی ہے۔
اسی بنا پر یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے، اور کسی غیب یا بعض غیوب کو اس پر روشن کردے، لیکن علم غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیں اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔ وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ " اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں کوئی نہیں جانتا اس کے سوا " (الانعام، آیت 59) اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۔ " اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے، اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحم میں کیا (پرورش پارہا) ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آئے گی "۔ (لقمان، آیت 34) يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ " وہ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اور اس کے علم میں سے کسی چیز پر بھی وہ احاطہ نہیں کرسکتے الا یہ کہ وہ جس چیز کا چاہے انہیں علم دے "۔ (البقرہ، آیت 255)
قرآن مجید مخلوقات کے لیے علم غیب کی اس عام اور مطلق نفی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ خاص طور پر انبیاء (علیہم السلام) اور خود محمد ﷺ کے بارے میں اس امر کی صاف صاف تصریح کرتا ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں اور ان کو غیب کا صرف اتنا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے جو رسالت کی خدمت انجام دینے کے لیے درکار تھا۔ سورة انعام کی آیت 50، الاعراف آیت 187، التوبہ آیت 101، ہود آیت 31، احزاب آیت 63، الاحقاف آیت 9، التحریم آیت 3، اور الجن آیات 26 تا 28، اس معاملہ میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔
قرآن کی یہ تمام تصریحات زیر بحث آیت کی تائید و تشریح کرتی ہیں جن کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی جمیع ماکان وما یکون کا علم رکھتا ہے، قطعا ایک غٰر اسلامی عقیدہ ہے۔ شیخین، ترمذی، نسائی، امام احمد، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ من زعم انہ رای النبی ﷺ یعلم ما یکون فی غد فقد اعظم علی اللہ الفریۃ واللہ یقول قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ۔ یعنی جس نے یہ دعوی کیا کہ نبی ﷺ جانتے ہیں کل کیا ہونے والا ہے اس نے اللہ پر سخت جھوٹ کا الزام لگایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں ہے "۔ ابن المنذر حضرت عبداللہ بن عباس کے مشہور شاگرد عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا " اے محمد، قیامت کب آئے گی ؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے، بارش کب ہوگی ؟ اور میری بیوی حاملہ ہے، وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی ؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا ہے، کل میں کیا کماؤں گا ؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں، مروں گا کہاں ؟ ان سوالات کے جواب میں سورة لقمان کی وہ آیت حضور نے سنائی جو اوپر نقل کی ہے۔ ان اللہ عندہ علم الساعۃ۔ پھر بخاری و مسلم اور دوسری کتب حدیث کی وہ مشہور رواویت بھی اسی کی تائید کرتی ہے جس میں ذکر ہے کہ صحابہ کے مجمع میں حضرت جبریل نے انسانی شکل میں آکر حضور سے جو سوالات کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ قیامت کب آئے گی ؟ حضور نے جواب دیا ما المسئول عنھا باعلم من السائل۔ (جس سے پوچھا جارہا ہے وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ اس بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا)۔ پھر فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اور یہی مذکورہ بالا آیت حضور نے تلاوت فرمائی۔
سورة النمل 84
یعنی دوسرے جن کے متعلق یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ عالم الغیب ہیں، اور اسی بنا پر جن کو تم لوگوں نے خدائی میں شریک ٹھہرا لیا ہے، ان بیچاروں کو تو خود اپنے مستقبل کی بھی خبر نہیں، وہ نہیں جانتے کہ کب قیامت کی وہ گھڑی آئے گی جب اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔
Ayahs 27:66–68سورة النمل 85
الوہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ کرنے کے بعد اب یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور وفکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل وبرہان سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں، بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔ چونکہ یہ لوگ آخرت سے بیخبر ہیں، یا اس کی طرف سے شک میں ہیں، یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے فکر عقبی سے بےنیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ پیدا کردیا ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں سرے سے کوئی سنجیدگی رکھتے ہی نہیں۔ ان کو اس کی پروا ہی نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے اور ان کا فلسفہ حیات اس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آخر کار مشرک اور دہریے اور موحد اور مشکک سب کو مر کر مٹی ہوجانا ہے اور کسی چیز کا بھی کوئی نتیجہ نکلنا نہیں ہے۔
آخر کا یہ مضمون اس سے پہلے کی آیت کے اس فقرے سے نکلا ہے کہ " وہ نہیں جانتے کہ کھ وہ اٹھائے جائیں گے "۔ اس فقرے میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ جن کو معبود بنایا جاتا ہے۔ اور ان میں فرشتے، جن، انبیاء اور اولیاء سب شامل تھے۔ ان میں سے کوئٰی بھی آخرت کے وقت سے واقف نہیں ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس کے بعد اب عام مشرکین و کفار کے بارے میں تین باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ اول یہ کہ وہ سرے سے یہی نہیں جانتے کہ آخرت کبھی ہوگی بھی یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کی یہ بیخبر ی اس بنا پر نہیں ہے کہ انہیں اس کی اطلاع ہی کھی نہ دی گئی ہو، بلکہ اس بنا پر ہے کہ جو خبر انہیں دی گئی اس پر انہوں نے یقین نہیں کیا بلکہ اس کی صحت میں شک کرنے لگے۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے بھی غور و خوض کر کے ان دلائل کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی جو آخرت کے وقوع کے بارے میں پیش کیے گئے، بلکہ اس کی طرف سے اندھے بن کر رہنے ہی کو انہوں نے ترجیح دی۔
Ayah 27:69سورة النمل 86
اس مختصر سے فقرے میں آخرت کی دو زبردست دلیلیں بھی ہیں اور نصیحت بھی۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم بنے بغیر نہیں رہ سکی ہیں، وہ غیر ذمہ دار بن کر رہیں، انہوں نے ظلم و ستم ڈھائے، وہ فسق و فجور میں غرق ہوگئیں، اور اخلاق کی تباہی نے آخر کار ان کو برباد کرکے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ، جس پر زمین میں ہر طرف تباہ شدہ قوموں کے آثار شہادت دے رہے ہیں، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق انسانی رویے کی صحت اور عدم صحت سے ہے، اس کو مانا جائے تو رویہ درست رہتا ہے، نہ مانا جائے تو رویہ غلط ہوجاتا ہے، یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس کا ماننا حقیقت کے مطابق ہے، اسی لیے اس کے ماننے سے انسانی زندگی ٹھیک ڈگر پر چلتی ہے، اور اس کا نہ ماننا حقیقت کے خلاف ہے، اسی وجہ سے یہ گاڑی پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ تاریخ کے اس طویل تجربے میں مجرم بن جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا اس حقیقت پر صاف دلالت کررہا ہے کہ یہ کائنات بےشعور طاقتوں کی اندھی بہری فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانون مکافات کام کر رہا ہے۔ جس کی حکومت انسانی قوموں کے ساتھ سراسر اخلاقی بنیادوں پر معاملہ کر رہی ہے، جس میں کسی قوم کو بدکرداریوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ ایک دفعہ عروج پا جانے کے بعد وہ ابدالآباد تک داد عیش دیتی رہے اور ظلم و ستم کے ڈنکے بجائے چلی جائے۔ بلکہ ایک خاص حد کو پہنچ کر ایک زبردست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کو بام عروج سے گرا کر قعر مذلت میں پھینک دیتا ہے، اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ کبھی اس امر میں شک نہیں کرسکتا کہ یہی قانون مکافات اس دنیوی زندگی کے بعد ایک دوسرے عالم کا تقاضا کرتا ہے جہاں افراد کا اور قوموں کا اور بحیثیت مجموعہ پوری نوع انسانی کا انصاف چکایا جائے۔ کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہوجانے سے تو انصاف کے سارے تقاضے پورے نہیں ہوگئے، اس سے ان مظلوموں کی تو کوئی دادرسی نہیں ہوئی جن کی لاشوں پر انہوں نے اپنی عظمت کا قصر بنایا تھا، اس سے ان ظالموں کو تو کوئی سزا نہیں ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جاچکے تھے، اس سے ان بدکاروں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہوا جو پشت درپشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے گمراہیوں اور بد اخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے، دنیا میں عذاب بھیج کر تو صرف ان کی آخری نسل کے مزید ظلم کا سلسلہ توڑ دیا گیا۔ ابھی عدالت کا اصل کام تو ہوا ہی نہیں کہ ہر ظالم کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ہر مظلوم کے نقصان کی تلافی کی جائے، اور ان سب لوگوں کو انعام دیا جائے جو بدی کے اس طوفان میں راستی پر قائم اور اصلاح کے لیے کوشاں رہے اور عمر بھر اس راہ میں اذیتیں سہتے رہے۔ یہ سب لازما کسی وقت ہونا چاہئے، کیونکہ دنیا میں قانون مکافات کی مسلسل کار فرمائی کائنات کی فرمانروا حکومت کا یہ مزاج اور طریقہ کار صاف بتارہی ہے کہ وہ انسانی اعمال کو ان کی اخلاقی قدر کے لحاظ سے تولتی اور ان کی جزا و سزا دیتی ہے۔
ان دو دلیلوں کے ساتھ اس آیت میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ پچھلے مجرموں کا انجام دیکھ کر اس سے سبق لو اور انکار آخرت کے اسی احمقانہ عقیدے پر اصرار نہ کیے چلے جاؤ جس نے انہیں مجرم بنا کر چھوڑا تھا۔
Ayah 27:70سورة النمل 87
یعنی تم نے سمجھانے کا حق ادا کردیا۔ اب اگر یہ نہیں مانتے اور اپنی حماقت پر اصرار کر کے عذاب الہی کے مستحق بننا ہی چاہتے ہیں تو تم خواہ مخواہ ان کے حال پر کڑھ کڑھ کر اپنی جان کیوں ہلکان کرو۔ پھر یہ حقیقت و صداقت سے لڑنے اور تمہاری اصلاحی کوششوں کو نیچا دکھانے کے لیے جو گھٹیا درجے کی چالیں چل رہے ہیں ان پر کبیدہ خاطر ہونے کی تمہیں کیا ضرورت ہے۔ تمہاری پشت پر خدا کی طاقت ہے، یہ تمہاری بات نہ مانیں گے تو اپنا ہی کچھ بگاڑیں گے، تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
Ayah 27:71سورة النمل 88
اس سے مراد وہی دھمکی ہے جو اوپر کی آیت میں پوشیدہ ہے، ان کا مطلب یہ تھا کہ اس فقرے میں ہمارے خبر لینے جو درپردہ دھمکی دی جارہی ہے یہ آخر کب عمل میں لائی جائے گی ؟ ہم تو تمہاری بات رد بھی کرچکے ہیں اور تمہیں نیچا دکھانے کے لیے اپنی تدبیروں میں بھی ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے، اب کیوں ہماری خبر نہیں لی جاتی ؟
Ayah 27:72سورة النمل 89
یہ شاہانہ کلام کا اندازہ ہے۔ قادر مطلق کے کلام میں جب " شاید " اور " کیا عجب " اور " کیا بعید ہے " جیسے الفاظ آتے ہیں تو ان میں شک کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا بلکہ ان سے شان بےنیازی کا اظہار ہوتا ہے، اس کی قدرت ایسی غالب ہے کہ اس کا کسی چیز کو چاہنا اور اس چیز کا ہوجانا گویا ایک ہی بات ہے۔ اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور وہ نہ ہوسکے، اس لیے اس کا یہ فرمانا کہ " کیا عجب ایسا ہو " یہ معنی رکھتا ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا اگر تم سیدھے نہ ہوئے، ایک معمولی تھا نہ دار بھی اگر بستی کے کسی شخص سے کہہ دے کہ تمہاری شامت پکار رہی ہے تو اسے رات کو نیند نہیں آتی، کجا کہ قادر مطلق کسی سے کہہ دے کہ تمہارا برا وقت کچھ دور نہیں ہے اور پھر وہ بےخوف رہے۔
Ayah 27:73سورة النمل 90
یعنی یہ تو اللہ رب العالمین کی عنایت ہے کہ وہ لوگوں کو قصور سرزد ہوتے ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے۔ مگر اکثر لوگ اس پر شکر گزار ہو کر اس مہلت کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ مواخذہ میں دیر ہونے کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ یہاں کوئی گرفت کرنے والا نہیں ہے اس لیے جو جی میں آئے کرتے رہو اور کسی سمجھانے والے کی بات مان کر نہ دو۔
Ayah 27:74سورة النمل 91
یعنی وہ ان کی علانیہ حرکات ہی سے واقف نہیں ہے بلکہ جو شدید بغض اور کینہ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے اور جا چالیں یہ اپنے دلوں میں سوچتے ہیں، ان سے بھی وہ خوب واقف ہے، اس لیے جب ان کی شامت آنے کا وقت آن پہنچے گا تو کوئی چیز چھوڑی نہیں جائے گی جس پر ان کی خبر نہ لی جائے۔ یہ انداز بیان اسی طرح کا ہے جیسے ایک حاکم اپنے علاقے کے کسی بدمعاش سے کہے، مجھے تیرے سب کرتوتوں کی خبر ہے، اس کا صرف یہی مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اپنے باخبر ہونے کی اسے اطلاع دے رہا ہے، بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ تو اپنی حرکتوں سے باز آجا، ورنہ یاد رکھ کہ جب پکڑا جائے گا تو تیرے ایک ایک جرم کی پوری سزا دی جائے گی۔
Ayah 27:75سورة النمل 92
یہاں کتاب سے مراد قرآن نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا وہ ریکارڈ ہے جس میں ذرہ ذرہ ثبت ہے۔
Ayah 27:76سورة النمل 93
اس فقرے کا تعلق مضمون سابق سے بھی ہے اور مضمون مابعد سے بھی، مضمون سابق سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اسی عالم الغیب خدا کے علم کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ ایک امی کی زبان سے اس قرآن میں ان واقعات کی حقیقت کھولی جارہی ہے جو بنی اسرائیل کی تاریخ میں گزرے ہیں، حالانکہ خود علمائے بنی اسرائیل کے درمیان ان کی اپنی تاریخ کے ان واقعات میں اختلاف ہے (اس کے نظائر اسی سورة نمل کے ابتدائی رکوعوں میں گزر چکے ہیں، جیسا کہ ہم نے اپنے حواشی میں واضح کیا ہے) اور مضمون مابعد سے اس کا تعلق یہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان اختلافات کا فیصلہ فرمایا ہے اسی طرح وہ اس اختلاف کا بھی فیصلہ کردے گا جو محمد ﷺ اور ان کے مخالفین کے درمیان برپا ہے۔ وہ کھول کر رکھ دے گا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ چناچہ ان آیات کے نزول پر چند ہی سال گزرے تھے کہ فیصلہ ساری دنیا کے سامنے آگیا۔ اسی عرب کی سرزمین میں، اور اسی قبیلہ قریش میں ایک متنفس بھی ایسا نہ رہا جو اس بات کا قائل نہ ہوگیا ہو کہ حق پر محمد ﷺ تھے نہ کہ ابوجہل اور ابو لہب۔ ان لوگوں کی اپنی اولاد تک مان گئی کہ ان کے باپ غلطی پر تھے۔
Ayah 27:77سورة النمل 94
یعنی ان لوگوں کے لے جو اس قرآن کی دعوت قبول کرلیں اور وہ بات مان لیں جسے یہ پیش کر رہا ہے۔ ایسے لوگ ان گمراہیوں سے بچ جائیں گے جن میں ان کی قوم مبتلا ہے۔ ان کو اس قرآن کی بدولت زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور ان پر خدا کی وہ مہربانیاں ہوں گی جن کا تصور بھی کفار قریش آج نہیں کرسکتے۔ اس رحمت کی بارش کو بھی چند ہی سال بعد دنیا نے دیکھ لیا کہ وہی لوگ جو ریگ زار عرب کے ایک گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اور کفر کی حالت میں زیادہ سے زیادہ ایک کامیاب چھاپہ مار بن سکتے، اس قرآن پر ایمان لانے کے بعد یکایک وہ دنیا کے پیشوا، قوموں کے امام، تہذیب انسانی کے استاد اور روئے زمین کے ایک بڑے حصے پر فرمانروا ہوگئے۔
Ayahs 27:78–79سورة النمل 95
یعنی قریش کے کفار اور اہل ایمان کے درمیان۔
سورة النمل 96
یعنی نہ اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے، اور نہ اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی احتمال ہے۔
Ayah 27:80سورة النمل 97
یعنی ایسے لوگوں کو جن کے ضمیر مرچکے ہیں اور جن میں ضد اور ہٹ دھرمی اور رسم پرستی نے حق و باطل کا فرق سمجھنے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں چھوڑی ہے۔
سورة النمل 98
یعنی جو تمہاری بات کے لیے صرف اپنے کان بند کرلینے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس جگہ سے کترا کر نکل جاتے ہیں، جہاں انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں تمہاری بات ان کے کان میں نہ پڑجائے۔
Ayah 27:81سورة النمل 99
یعنی ان کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی انہیں سیدھے راستے پر کھینچ لانا اور گھسیٹ کرلے چلنا تو تمہارا کام نہیں ہے، تم تو صرف زبان اور اپنی مثال ہی سے بتاسکتے ہو کہ یہ سیدھا راستہ ہے اور وہ راستہ غلط ہے جس پر یہ لوگ چل رہے ہیں، مگر جس نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہوں اور جو دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو اس کی رہنمائی کیسے کرسکتے ہو۔
Ayahs 27:82–83سورة النمل 100
یعنی قیامت قریب آجائے گی جس کا وعدہ ان سے کیا جارہا ہے۔
سورة النمل 101
ابن عمر کا قول ہے کہ یہ اس وقت ہوگا جب زمین کوئی نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا باقی نہ رہے گا۔ ابن مردویہ نے ایک حدیث ابو سعید خدری سے نقل کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ یہی بات انہوں نے خود حضور سے سنی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ دیں گے تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ذریعہ سے آخری مرتبہ حجت قائم فرمائے گا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا ایک خاص قسم کی جنس حیوان ہوگی جس کے بہت سے افراد روئے زمین پر پھیل جائیں گے۔ دابۃ من الارض کے الفاظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے، بہر حال جو بات وہ کہے گا وہ یہ ہوگی کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان آیات پر یقین نہیں کرتے تھے جن میں قیامت کے آنے اور آخرت برپا ہونے کی خبریں دی گئی تھیں، تو لو اب اس کا وقت آن پہنچا ہے اور جان لو کہ اللہ کی آیات سچی تھیں، یہ فقرہ کہ " لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے " یا تو اس جانور کے اپنے کلام کی نقل ہے، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کلام کی حکایت، اگر یہ اسی کے الفاظ کی نقل ہے تو " ہماری " کا لفظ وہ اسی طرح استعمال کرے گا جس طرح ایک حکومت کا ہر کارندہ " ہم " کا لفظ اس معنی میں بولتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی طرف سے بات کررہا ہے نہ کہ اپنی شخصی حیثیت میں۔ دوسری صورت میں بات صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے کلام کو چونکہ اپنے الفاظ میں بیان فرما رہا ہے اس لیے اس نے " ہماری آیات " کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔
اس جانور کے نکلنے کا وقت کون سا ہوگا ؟ اس کے متعلق نبی ﷺ کا ارشاد یہ ہے کہ " آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور ایک روز دن دہاڑے یہ جانور نکل آئے گا، ان میں سے جو نشان بھی پہلے ہو وہ بہرحال دوسری کے قریب ہی ظاہر ہوگی " (مسلم) دوسری روایات جو مسلم، ابن ماجہ، ترمزی اور مسند احمد وغیرہ میں آئی ہیں ان میں حضور ﷺ نے بتایا ہے کہ قیامت کے قریب زمانے میں دجال کا خروج، دابۃ الارض کا ظہور، دخان (دھواں) اور آفتاب کا مغرب سے طلوع وہ نشانیاں ہیں جو یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گی۔
اس جانور کی ماہیت، شکل و صورت، نکلنے کی جگہ اور ایسی ہی دوسری تفصیلات کے متعلق طرح طرح کی روایات نقل کی گئی ہیں جو باہم بہت مختلف اور متضاد ہیں۔ ان چیزوں کے زکر سے بجز ذہن کی پراگندگی کے اوپر کچھ حاصل نہیں ہوتا اور ان کے جاننے کا کوئی فائدہ بھی نہیں کیونکہ جس مقصد کے لیے قرآن میں یہ ذکر کیا گیا ہے اس سے ان تفصیلات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
رہا کسی جانور کا انسانوں سے انسانی زبان میں کلام کرنا، تو یہ اللہ کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے، وہ جس چیز کو چاہے نطق کی طاقت بخش سکتا ہے۔ قیامت سے پہلے تو وہ ایک جانور ہی کو نطق بخشے گا، مگر جب وہ قیامت قائم ہوجائے گی تو اللہ کی عدالت میں انسان کی آنکھ اور کان اور اس کے جسم کی کھال تک بول اٹھے گی، جیسا کہ قرآن میں بتصریح بیان ہوا ہے حَتّىٰٓ اِذَا مَا جَاۗءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا ۭ قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ۔ (حم السجدہ، آیات 20۔ 21)
Ayahs 27:84–85سورة النمل 102
یعنی تمہارے جھٹلانے کی وجہ ہرگز نہیں تھی کہ کسی علمی ذریعہ سے تحقیق کر کے تمہیں معلوم ہوگیا تھا کہ یہ آیات جھوٹی ہیں۔ تم نے تحقیق اور غور و فکر کے بغیر بس یوں ہی ہماری آیات کو جھٹلا دیا ؟
سورة النمل 103
یعنی اگر ایسا نہیں ہے تو کیا تم یہ ثابت کرسکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا اور تمہیں واقعی یہ علم حاصل ہوگیا تھا کہ حقیقت نفس الامری وہ نہیں ہے جو ان آیات میں بیان کی گئٰ ہے۔
Ayah 27:86سورة النمل 104
یعنی بیشمار نشانیوں میں سے یہ دو نشانیاں تو ایسی تھیں جن کا وہ سب ہر وقت مشاہدہ کرر ہے تھے، جن کے فوائد سے ہر آن متمتع ہو رہے تھے، جو کسی اندھے بہرے اور گونگے تک سے چھپی ہوئی نہ تھیں، کیوں نہ رات کے آرام اور دن کے مواقع سے فائدہ اٹھائے وقت انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ ایک حکیم کا بنایا ہوا نظام ہے جس نے ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق زمین اور سورج کا تعلق قائم کیا ہے، یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس میں مقصدیت حکمت اور منصوبہ بندی علانیہ نظر آرہی ہے جو اندھے توائے فطرت کی صفت نہیں ہوسکتی، اور یہ بہت سے خداؤں کی کافر فرمائی بھی بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ نظام لا محالہ کسی ایک ہی ایسے خالق ومالک اور مدبر کا قائم کیا ہوا ہوسکتا ہے جو زمین، چاند، سورج اور تمام دوسرے سیاروں پر فرمانروائی کر رہا ہو۔ صرف اسی ایک چیز کو دیکھ کر وہ جان سکتے تھے کہ ہم نے اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے جو حقیقت بتائی ہے یہ رات اور دن کی گردش اس کی تصدیق کر رہی ہے۔
سورة النمل 105
یعنی یہ کوئی نہ سمجھ میں آسکنے والی بات بھی نہیں تھی، آخر انہی کے بھائی بند، انہی کے قبیلے اور برادری کے لوگ، انہی جیسے انسان موجود تھے جو یہی نشانیاں دیکھ کر مان گئے تھے کہ نبی جس پر خدا پرستی اور توحید کی طرف بلا رہا ہے وہ بالکل مطابق حقیقت ہے۔
Ayah 27:87سورة النمل 106
نفخ صور پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورة انعام حاشیہ 47، ابراہیم حاشیہ 57، سورة طہ حاشیہ 78، سورة حج حاشیہ 1، یسین حواشی 46۔ 47، الزمر حاشیہ 79
Ayah 27:88سورة النمل 107
یعنی ایسے خدا سے تم یہ توقع نہ رکھو کہ اپنی دنیا میں تم کو عقل وتمیز اور تصرف کے اختیارات دے کر وہ تمہارے اعمال و افعال سے بیخبر رہے گا، اور یہ نہ دیکھے گا کہ اس کی زمین میں تم ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے رہے ہو۔
Ayah 27:89سورة النمل 108
یعنی وہ اس لحاظ سے بھی بہتر ہوگا کہ جتنی نیکی اس نے کی ہوگی اس سے زیادہ انعام اسے دیا جائے گا، اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور اس کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود زمانے کے لیے تھے، مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہوگا۔
سورة النمل 109
یعنی قیامت اور حشر و نشر کی وہ ہولناکیاں جو منکرین ھق کے حواس باختہ کیے دے رہی ہوں گی، ان کے درمیان یہ لوگ مطمئن ہوں گے، اس لیے کہ یہ سب کچھ ان کی توقعات کے مطابق ہوگا، وہ پہلے سے اللہ اور اس کے رسولوں کی دی ہوئی خبروں کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ قیامت قائم ہونی ہے، ایک دوسری زندگی پیش آنی ہے اور اس میں یہی سب کچھ ہونا ہے۔ اس لیے ان پر وہ بدحواسی اور گھبراہٹ طاری نہ ہوگی جو مرتے دم تک اس چیز کا انکار کرنے والوں اور اس سے غافل رہنے والوں پر طاری ہوگی۔ پھر ان کے اطمینان کی وجہ یہ بھی ہوگی کہ انہوں نے اس دن کی توقع پر اس کے لیے فکر کی تھی اور یہاں کی کامیابی کے لیے کچھ سامان کرکے دنیا سے آئے تھے۔ اس لیے ان پر وہ گھبراہٹ طاری نہ ہوگی جو ان لوگوں پر طاری ہوگی جنہوں نے اپنا سارا سرمایہ حیات دنیا ہی کی کامیابیاں حاصل کرنے پر لگا دیا تھا اور کبھی نہ سوچا تھا کہ کوئی آخرت بھی ہے جس کے لیے کچھ سامان کرنا ہے، منکرین کے برعکس یہ مومنین اب مطمئن ہوں گے کہ جس دن کے لیے ہم نے ناجائز فائدوں اور لذتوں کو چھوڑا تھا، اور صعوبتیں اور مشقتیں برداشت کی تھیں، وہ دن آگیا ہے اور اب یہاں ہماری محنتوں کا اجر ضائع ہونے والا نہیں ہے۔
Ayah 27:90سورة النمل 109 الف
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس امر کی تصریح کی گئ ہے کہ آخرت میں بدی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کسی نے بدی کی ہو اور نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ آدمی کے عمل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔ اس کی مزید مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو، یونس آیات 26۔ 27، القصص آیت 84، العنکبوت آیت 7، سبا آیات 37۔ 38، المومن آیت 40،
Ayahs 27:91–93سورة النمل 110
یہ سورة چونکہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جبکہ اسلام کی دعوت ابھی صرف مکہ معظمہ تک محدود تھی اور مخاطب صرف اس شہر کے لوگ تھے، اس لیے فرمایا " مجھے اس شہر کے رب کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے "۔ اس کے ساتھ اس رب کی خصوصیت یہ بیان کی گئی کہ اس نے ا سے حرم بنایا ہے۔ اس سے کفار مکہ مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جس خدا کا تم پر یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے عرب کی انتہائی بدامنی اور فساد و خونریزی سے لبریز سرزمین میں تمہارے اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا رکھا ہے، اور جس کے فضل سے تمہارا یہ شہر پورے ملک عرب کا مرکز عقیدت بنا ہوا ہے تم اس کی ناشکری کرنا چاہو تو کرتے رہو، مگر مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا شکر گزار بندہ بنوں اور اسی کے آگے سر نیاز جھکاؤں، تم جنہیں معبود بنائے بیٹھے ہو ان میں سے کسی کی یہ طاقت نہ تھی کہ اس شہر کو حرم بنا دیتا اور عرب کے جنگجو اور غارت گر قبیلوں سے اس کا احترام کراسکتا۔ میرے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ اصل محسن کو چھوڑ کر ان کے آگے جھکوں جن کا کوئی ذرہ برابر بھی احسان مجھ پر نہیں ہے۔