Ayah 27:38سورة النمل 43
بیچ میں یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ سفارت ملکہ کا ہدیہ واپس لیکر پہنچی اور جو کچھ اس نے دیکھا اور سنا تھا وہ عرض کردیا، ملکہ نے اس سے حضرت سلیمان کے جو حالات سنے ان کی بنا پر اس نے یہی مناسب سمجھا کہ خود ان کی ملاقات کے لیے بیت المقدس جائے، چناچہ وہ خدم و حشم او شاہی ساز و سامان کے ساتھ سبا سے فلسطین کی طرف روانہ ہوئی اور اس نے دربار سلیمانی میں اطلاع بھیج دی کہ میں آپ کی دعوت خود آپ کی زبان سے سننے اور بالمشافہ گفتگو کرنے کے لیے حاضر ہورہی ہوں، ان تفصیلات کو چھوڑ کر اب اس وقت کا قصہ بیان کیا جارہا ہے جب ملکہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئی تھی اور ایک دو ہی دن میں حاضر ہونے والی تھی۔
سورة النمل 44
یعنی وہی تخت جس کے متعلق ہدہد نے بتایا تھا کہ " اس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے " بعض مفسرین نے غضب کیا ہے کہ ملکہ کے آنے سے پہلے اس کا تخت منگوانے کی وجہ یہ قرار دی ہے کہ حضرت سلیمان اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، انہیں اندیشہ ہوا کہ اگر ملکہ مسلمان ہوگئی تو پھر اس کے مال پر اس کی مرضی کے بغیر قبضہ کرلینا حرام ہوجائے گا، اس لیے انہوں نے اس کے آنے سے پہلے تخت منگا لینے کی جلدی کی، کیونکہ اس وقت ملکہ کا مال مباح تھا، استغفر اللہ، ایک نبی کی نیت کے متعلق یہ تصور بڑا عجیب ہے، آخر یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ حضرت سلیمان تبلیغ کے ساتھ ساتھ ملکہ اور اس کے درباریوں کو ایک معجزہ بھی دکھانا چاہتے تھے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اللہ رب العالمین اپنے انبیاء کو کیسی غیر معمولی قدرتیں عطا فرماتا ہے اور اسے یقین آجائے کہ حضرت سلیمان واقعی اللہ کے نبی ہیں، اس سے بھی کچھ زیادہ غضب بعض جدید مفسرین نے کیا ہے۔ وہ آیت کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ " تم میں سے کون ہے جو ملکہ کے لیے ایک تخت مجھے لادے " حالانکہ قرآن یاتینی بعرش لھا نہیں بلکہ بعرشھا کہہ رہا ہے جس کے معنی " اس کا تخت " ہیں نہ کہ " اس کے لیے ایک تخت " یہ بات صرف اس لیے بنائی گئی ہے کہ قرآن کے اس بیان سے کسی طرح پیچھا چھڑایا جائے کہ حضرت سلیمان اس ملکہ ہی کا تخت یمن سے بیت المقدس اٹھوا منگانا چاہتے تھے اور وہ بھی اسی طرح کہ ملکہ کے پہنچنے سے پہلے پہلے وہ آجائے۔
Ayah 27:39سورة النمل 45
اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے پاس جو جن تھے وہ آیا جو مودہ زمانے کے محض عقل پرست مفسرین کی تاویلوں کے مطابق بنی نوع انسان میں سے تھے یا عرف عام کے مطابق اسی پوشیدہ مخلوق میں سے جو جن کے نام سے معروف ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت سلیمان کے دربار کی نشست زیادہ سے زیادہ تین چار گھنٹے کی ہوگی، اور بیت المقدس سے سبا کے پایہ تخت مارب کا فاصلہ پرندے کی اڑان کے لحاظ سے بھی کم از کم ڈیڑھ ہزار میل کا تھا۔ اتنے فاصلہ سے ایک ملکہ کا عظیم الشان تخت اتنی کم مدت میں اٹھا لانا کسی انسان کا کام نہیں ہوسکتا تھا، خوہ وہ عمالقہ میں سے کتنا ہی موٹا تازہ آدمی کیوں نہ ہو، یہ کام تو آج کل کا جٹ طیارہ بھی انجام دینے پر قادر نہیں ہے۔ مسئلہ اتنا ہی نہیں ہے کہ تخت کہیں جنگل میں رکھا ہو اور اسے اٹھا لایا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تخت ایک ملکہ کے محل میں تھا جس پر یقینا پہرہ دار متعین ہوں گے اور وہ ملکہ کی غیر موجوگی میں ضرور محفوظ جگہ رکھا گیا ہوگا، انسان جاکر اٹھا لانا چاہتا تو اس کے ساتھ ایک چھاپہ مار دستہ ہونا چاہیے تھا کہ لڑ بھڑا کر اسے پہرہ داروں سے چھین لائے۔ یہ سب کچھ آخر دربار برخاست ہونے سے پہلے کیسے ہوسکتا تھا۔ اس چیز کا تصور اگر کیا جاسکتا ہے تو ایک حقیقی جن ہی کے بارے میں کیا جاسکتا ہے۔
سورة النمل 46
یعنی آپ مجھ پر یہ بھروسا کرسکتے ہیں کہ میں اسے خود اڑا نہ لے جاؤں گا، یا اس میں سے کوئی قیمتی چیز نہ چرا لوں گا۔
Ayah 27:40سورة النمل 47
اس شخص کے بارے میں قطعی طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کون تھا اور اس کے اپس وہ کس خاص قسم کا علم تھا اور اس کتاب سے کونسی کتاب مراد ہے جس کا علم اس کے پاس تھا، ان امور کی کوئی وضاحت نہ قرآن میں ہے نہ کسی حدیث صحیح میں، مفسرین میں سے بعض کہتے ہیں کہ وہ فرشتہ تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ کوئی انسان تھا پھر اس انسان کی شخصیت کے تعیین میں بھی ان کے درمیان اختلاف ہے، کوئی آصف بن برخیاہ (Asaf B Barchiah) کا نام لیتا ہے جو یہودی ربیوں کی روایات کے مطابق رئیس الرجال (Princeof Men) تھے، کوئی کہتا ہے کہ وہ حضرت خضر تھے، کوئی کسی اور کا نام لیتا ہے اور امام رازی کو اصرار ہے کہ وہ خود حضرت سلیمان تھے، لیکن ان میں سے کسی کا کو بھی کوئی قابل اعتماد ماخذ نہیں ہے، اور امام رازی کی بات تو قرآن کے سیاق وسباق سے بھی مطابقت نہیں رکھتی، اسی طرح کتاب کے بارے میں بھی مفسرین کے اقوال مختلف ہیں، کوئی کہتا ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے اور کوئی کتاب شریعت مراد لیتا ہے، لیکن یہ سب محض قیاسات ہیں، اور ایسے ہی قیاسات اس علم کے بارے میں بھی بلا دلیل و ثبوت قائم کرلیے گئے ہیں جو کتاب سے اس شخص کو حاصل تھا، ہم صرف اتنی ہی بات جانتے اور مانتے ہیں جتنی قرآن میں فرامائی گئی ہے، یا جو اس کے الفاظ سے مترشح ہوتی ہے، وہ شخص بہرحال جن کی نوع میں سے نہ تھا اور بعید نہیں کہ وہ کوئی انسان ہی ہو، اس کے پاس کوئی غیر معمولی علم تھا اور وہ اللہ کی کسی کتاب (الکتاب) سے ماخوذ تھا، جن اپنے وجود کی طاقت سے اس تخت کو چند گھنٹوں میں اٹھا لانے کا دعوی کر رہا تھا، یہ شخص علم کی طاقت سے اس کو ایک لحظہ میں اٹھا لایا۔
سورة النمل 48
قرآن مجید کا انداز بیان اس معاملہ میں بالکل صاف ہے کہ اس دیوہیکل جن کے دعوے کی طرح اس شخص کا دعوی صرف دعوی ہی نہ رہا بلکہ فی الواقع جس وقت اس نے دعوی کیا اسی وقت ایک ہی لحظہ میں وہ تخت حضرت سلیمان کے سامنے رکھا نظر آیا، ذرا ان الفاظ پر غور کیجیے۔
" اس شخص نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لے آتا ہوں، جونہی کہ سلیمان نے اسے اپنے پاس رکھا دیکھا "۔
جو شخص بھی واقعہ کے عجیب و غریب ہونے کا تصور ذہن سے نکال کر بجائے خود اس عبارت کو پڑھے گا وہ اس سے یہی مفہوم لے گا کہ اس شخص کے یہ کہتے ہی دوسرے لمحہ میں وہ واقعہ پیش آگیا جس کا اس نے دعوی کیا تھا، اس سیدھی سی بات کو خواہ مخواہ تاویل کے خراد پر چڑھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ پھر تخت کو دیکھتے ہی حضرت سلیمان کا یہ کہنا کہ " یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں " اسی صورت میں بر محل ہوسکتا ہے جب کہ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہو، ورنہ اگر واقعہ یہ ہوتا کہ ان کا ایک ہوشیار ملازم ملکہ کے لیے جلدی سے ایک تخت بنا لایا یا بنوا لایا، تو ظاہر ہے کہ یہ ایسی کوئی نادر بات نہ ہوسکتی تھی کہ اس پر حضرت سلیمان بےاختیار ھذا من فضل ربی پکار اٹھتے اور ان کو یہ خطرہ لاحق ہوجاتا کہ اتنے جلدی مہمان عزیز کے لیے تخت تیار ہوجانے سے کہیں میں شاکر نعمت بننے کے بجائے کافر نعمت نہ بن جاؤں، آخر اتنی سی بات پر کسی مومن فرمانروا کو اتنا غرور اور کبر نفس لاحق ہوجانے کا کیا خطرہ ہوسکتا ہے، خصوصا جبکہ وہ ایک معمولی مومن نہ ہو بلکہ اللہ کا نبی ہو۔
اب رہی یہ بات کہ ڈیڑھ ہزار میل سے ایک تخت شاہی پلک جھپکتے کس طرح اٹھ کر آگیا، تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ زمان و مکان اور مادہ و حرکت کے جو تصورات ہم نے اپنے تجربات و مشاہدات کی بنا پر قائم کیے ہیں ان کے جملہ حدود صرف ہم ہی پر منطبق ہوتے ہیں، خدا کے لیے نہ یہ تصورات صحیح ہیں اور نہ وہ ان حدود سے محدود ہے، اس کی قدرت ایک معمولی تخت تو درکنار، سورج اور اس سے بھی زیادہ بڑے سیاروں کو آن کی آن میں لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرا سکتی ہے، جس خدا کے صرف ایک حکم سے یہ عطیم کائنات وجود میں آگئی ہے اس کا ایک ادنی اشارہ ہی ملکہ سبا کے تخت کو روشنی کی رفتار سے چلا دینے کے لیے کافی تھا، آخر اسی قرآن میں یہ ذکر بھی تو موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک رات اپنے بندے محمد ﷺ کو مکہ سے بیت المقدس لے بھی گیا اور واپس بھی لے آیا۔
سورة النمل 49
یعنی وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں ہے، اس کی خدائی میں کسی کی شکر گزاری سے نہ ذرہ برابر کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ کسی کی ناشکری و احسان فراموشی سے یک سر مو کوئی کمی آتی ہے، وہ آپ اپنے ہی بل بوتے پر خدائی کر رہا ہے، بندوں کے ماننے یا نہ ماننے پر اس کی خدائی منحصر نہیں ہے، یہی بات قرآن مجید میں ایک جگہ حضرت موسیٰ کی زبان سے نقل کی گئی ہے کہ اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ۔ " اگر تم اور ساری دنیا والے مل کر بھی کفر کریں تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے " (ابراہیم۔ آیت 8) اور یہی مضمون اس حدیث قدسی کا ہے جو صحیح مسلم میں وارد ہوئی ہے کہ
یقول اللہ تعالیٰ یا عبادی لو ان اولکم و اخرکم وانسکم و جنکم کانوا علی اتقی قلب رجل منکم ما زاد زلک فی ملکی شیئا، یا عبادی لو ان اولکم و اخرکم وانسکم و جنکم کانوا علی افجر قلب قلب رجل منکم ما نقص ذلک فی ملکی شیئا، یا عبدادی انما ھی اعمالکم احصیھا لکم ثم اوفیکم ایاھا۔ فمن وجد خیرا فلیحمد اللہ ومن وجد غیر ذلک فلا یلومن الا نفسہ۔
" اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو، اگر اول سے آخر تک تم سب انس اور جن اپنے سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجاؤ تو اس سے میری بادشاہ میں کوئی اضافہ نہ ہوجائے گا، اے میرے بندو، اگر اول سے آخر تک تم سب انس اور جن اپنے سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل جیسے ہوجاؤ تو میری بادشاہی میں اس سے کوئی کمی نہ ہوجائے گی، اے میرے بندو یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جن کا میں تمہارے حساب میں شمار کرتا ہوں، پھر ان کی پوری پوری جزا تمہیں دیتا ہوں، پس جسے کوئی بھلائی نصیب ہو اسے چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جسے کچھ اور نصیب ہو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔
Ayah 27:41سورة النمل 50
بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ ملکہ کیسے بیت المقدس پہنچی اور کسی طرح اس کا استقبال ہوا، اسے چھوڑ کر اب اس وقت کا حال بیان کیا جارہا ہے جب وہ حضرت سلیمان کی ملاقات کے لیے ان کے محل میں پہنچ گئی۔
سورة النمل 51
ذو معنی فقرہ ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ یکایک اپنے ملک سے اتنی دور اپنا تخت موجود پاکر یہ سمجھ جاتی ہے یا نہیں کہ یہ اسی کا تخت اٹھا لایا گیا ہے، اور یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ کر ہدایت پاتی ہے یا اپنی گمراہی پر قائم رہتی ہے۔
اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان اس تخت پر قبضہ کرنے کی نیت رکھتے تھے، یہاں وہ خود اس مقصد کا اظہار فرما رہے ہیں کہ انہوں نے یہ کام ملکہ کی ہدایت کے لیے کیا تھا۔
Ayah 27:42سورة النمل 52
اس سے ان لوگوں کے خیالات کی بھی تردید ہوجاتی ہے جنہوں نے صورت واقعہ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے کہ گویا حضرت سلیمان اپنی مہمان ملکہ کے لیے ایک تخت بنوانا چاہتے تھے، اس غرض کے لیے انہوں نے ٹینڈر طلب کیے، ایک ہٹے کٹے کاریگر نے کچھ زیادہ مدت میں تخت بنا دینے کی پیش کش کی، مگر ایک دوسرے ماہر استاد نے کہا میں ترت پھرت بنائے دیتا ہوں، اس سارے نقشے کا تارو پود اس بات سے بکھر جاتا ہے کہ حضرت سلیمان نے خود ملکہ ہی کا تخت لانے کے لیے فرمایا تھا (اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا) اور اس کی آمد پر اپنے ملازموں کو اسی کا تخت انجام طریقے سے اس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا (نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا) پھر جب وہ آئ تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے (اَهٰكَذَا عَرْشُكِ) اور اس نے کہا گویا یہ وہی ہے (كَاَنَّهٗ هُوَ) اس صاف بیان کی موجودگی میں ان لا طائل تاویلات کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے، اس پر بھی کسی کو شک رہے تو بعد کا فقرہ اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی ہے۔
سورة النمل 53
یعنی یہ معجزہ دیکھنے سے پہلے ہی سلیمان ؑ کے جو اوصاف اور حالات ہمیں معلوم ہوچکے تھے ان کی بنا پر ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، محض ایک سلطنت کے فرمانروا نہیں ہیں، تخت کو دیکھنے اور " گویا یہ وہی ہے " کہنے کے بعد اس فقرے کا اضافہ کرنے میں آخر کیا معنویت باقی رہ جاتی ہے، اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت سلیمان نے اس کے لیے ایک تخت بنوا کر رکھ دیا تھا ؟ بالفرض اگر وہ تخت ملکہ کے تخت سے مشابہ ہی تیار کرا لیا گیا ہو تب بھی اس میں آخر وہ کیا کمال ہوسکتا تھا کہ ایک آفتاب پرست ملکہ اسے دیکھ کر یہ بول اٹھتی کہ (اُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِيْنَ) " ہم کو پہلے ہی علم نصیب ہوگیا تھا اور ہم مسلم ہوچکے تھے "۔
Ayah 27:43سورة النمل 54
یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے، یعنی اس میں ضد اور ہٹ دھرمی نہ تھی، وہ اس وقت تک صرف اس لیے کافر تھی کہ کافر قوم میں پیدا ہوئی تھی، ہوش سنبھالنے کے بعد اس کو جس چیز کے آگے سجدہ ریز ہونے کی عادت پڑی ہوئی تھی، بس وہی اس کے راستے میں ایک رکاوٹ بن گئی تھی، حضرت سلیمان سے سابقہ پیش آنے پر جب اس کی آنکھیں کھلیں تو اس رکاوٹ کے ہٹ جانے میں ذرا سی دیر بھی نہ لگی۔
Ayah 27:44سورة النمل 55
یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں، پہلی چیز حضرت سلیمان کا وہ خط تھا جو عام بادشاہوں کے طریقے سے ہٹ کر اللہ رحمان و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا تھا، دوسری چیز اس کے بیش قیمت ہدیوں کو رد کرنا تھا جس سے ملکہ کو اندازہ ہوا کہ یہ بادشاہ کسی اور طرز کا ہے، تیسری چیز ملکہ کی سفارت کا بیان تھا جس سے اس کو حضرت سلیمان کی متقیانہ زندگی، ان کی حکمت اور ان کی دعوت حق کا علم ہوا، اسی چیز نے اسے آمادہ کیا کہ خود چل کر ان سے ملاقات کرے، اور اسی کی طرف اس نے اپنے اس قول میں اشارہ کیا کہ " ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم مسلم ہوچکے تھے "۔ چوتھی چیز اس عظیم الشان تخت کا آناً فاناً مارب سے بیت المقدس پہنچ جانا تھا جس سے ملکہ کو معلوم ہوا کہ اس شخص کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی طاقت ہے، اور اب آخری چیز یہ تھی کہ اس نے دیکھا جو شخص یہ سامان عیش و تنعم رکھتا ہے اور ایسے شاندار محل میں رہتا ہے وہ کس قدر غرور نفس سے پاک ہے، کتنا خدا ترس اور نیک نفس ہے، کس طرح بات بات پر اس کا سر خدا کے آگے شکر گزاری میں جھکا جاتا ہے، اور اس کی زندگی فریفتگان حیات دنیا کی زندگی سے کتنی مختلف ہے، یہی چیز تھی جس نے اسے وہ کچھ پکار اٹھنے پر مجبور کردیا جو آگے اس کی زبان سے نقل کیا گیا ہے۔
سورة النمل 56
حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کا یہ قصہ بائیبل کے عہد عتیق و جدید اور روایات یہود، سب میں مختلف طریقوں سے آیا ہے، مگر قرآن کا بیان ان سب سے مختلف ہے، عہد عتیق میں اس قصے کا خلاصہ یہ ہے
" اور جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی تاکہ مشکل سوالوں سے اسے آزمائے، اور وہ بہت بڑی جلو کے ساتھ یروشلم میں آئی۔ جب وہ سلیمان کے پاس پہنچی تو اس نے ان سب باتوں کے بارے میں جو اس کے دل میں تھیں اس سے گفتگو کی، سلیمان نے ان سب کا جواب دیا۔ اور جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری حکمت اور اس محل کو جو اس نے بنایا تھا اور اس کے دسترخوان کی نعمتوں اور اس کے ملازموں کی نشست اور اس کے خادموں کی حاضر باشی اور ان کی پوشاک اور اس کے ساقیوں اور اس سیڑھی کو جس سے وہ خداوند کے گھر کو جاتا تھا دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے ملک میں سنی تھی، تو بھی میں نے وہ باتیں باور نہ کیں جب تک خود آخر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیا، اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبال مندی اس شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے۔ خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے اور تیری حکمت سنتے ہیں۔ خداوند تیرا خدا مبارک ہو جو تجھ سے ایسا خوشنود ہوا کہ تجھے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا۔ اور اس نے بادشاہ کو ایک سو بیس قنطار سونا اور مسالے کا بہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہر دیے اور جیسے مسالے سبا کی ملکہ نے سلیمان بادشاہ کو دیے ویسے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے۔ اور سلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہوئ اور جو کچھ اس نے مانگا دیا، پھر وہ اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو لوٹ گئی "۔ (سلاطین۔ 10۔ 1۔ 13۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون 2 تواریخ 9۔ 1۔ 12 میں بھی ہے۔
عہد جدید میں حضرت عیسیٰ کی ایک تقریر کا صرف یہ فقرہ ملکہ سبا کے متعلق منقول ہوا ہے
" دکھن کی ملکہ عدالت کے دن اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ اٹھ کر ان کو مجرم ٹھہرائے گی، کیونکہ وہ دنیا کے کنارے سے سلیمان کی حکمت سننے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ہے "۔ (متی 12۔ 43۔ لوقا 11۔ 31)
یہودی ربیوں کی روایات میں حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کا قصہ اپنی بیشتر تفصیلات میں قرآن سے ملتا جلتا ہے۔ ہدہد کا غائب ہونا، پھر آکر سبا اور اس کی ملکہ کے حالات بیان کرنا، حضرت سلیمان کا اس کے ذریعہ سے خط بھیجنا، ہدہد کا عین اس وقت وہ خط ملکہ کے آگے گرانا جبکہ وہ آفتاب کی پرستش کو جارہی تھی، ملکہ کا اس خط کو دیکھ کر اپنے وزراء کی کونسل منعقد کرنا، پھر ملکہ کا ایک قیمتی ہدیہ حضرت سلیمان کے پاس بھیجنا، خود یروشلم پہنچ کر انسے ملان، ان کے محل میں پہنچ کر یہ خیال کرنا کہ حضرت سلیمان پانی کے حوض میں بیٹھے ہیں، اور اس میں اترنے کے لیے پانچے چڑھا لینا، یہ سب ان روایات میں اسی طرح مذکور ہے جس طرح قرآن میں بیان ہوا ہے، مگر ہدیہ وصول ہونے پر حضرت سلیمان کا جواب ملکہ کے تخت کو اٹھوا منگانا، ہر موقع پر ان کا خدا کے آگے جھکنا اور آخر کار ملکہ کا ان کے ہاتھ پر ایمان لانا، یہ سب باتیں بلکہ خدا پرستی اور توحید کی ساری باتیں ہی ان روایات میں ناپید ہیں، سب سے بڑھ کر غضب یہ ہے کہ ان ظالموں نے حضرت سلیمان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ملکہ سبا کے ساتھ معاذ اللہ زنا کا ارتکاب کیا اور اسی حرامی نسل سے بابل کا بادشاہ بخت نصر پیدا ہوا جس نے بیت المقدس کو تباہ کیا (جیوش انسائیکلو پیڈیا ج 11 صفحہ 443) اصل معاملہ یہ ہے کہ یہودی علماء کا ایک گروہ حضرت سلیمان کا سخت مخالف رہا ہے، ان لوگوں نے ان پر توراۃ کے احکام کی خلاف ورزی، غرور حکومت، غرور عقل و دانش، زن مریدی، عیش پرستی اور شرک و بت پرستی کے گھناؤنے الزامات لگائے ہیں (جیوش انسائیکلوپیڈیا ج 11 ص 439۔ 441) اور یہ اسی پروپیگنڈے کا اثر ہے کہ بائیبل انہیں نبی کے بجائے محض ایک بادشاہ کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور بادشاہ بھی ایسا جو معاذ اللہ احکام الہی کے خلاف مشرک عورتوں کے عشق میں گم ہوگیا، جس کا دل خدا سے پھر گیا اور جو خدا کے سوا دوسرے معبودوں کی طرف مائل ہوگیا (سلاطین 11۔ 1۔ 11) ان چیزوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے بنی اسرائیل پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے اکابر کا دامن کود ان کی پھینکی ہوئی گندگیوں سے صاف کیا، اور یہ بنی اسرائیل کتنے احسان فراموش ہیں کہ اس پر بھی یہ قرآن اور اس کے لانے والے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔
Ayah 27:45سورة النمل 57
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 73 تا 79۔ ہود 61 تا 68۔ الشعراء 141 تا 159۔ القمر 23 تا 32۔ الشمس، آیات 11 تا 15
سورة النمل 58
یعنی جونہی کہ حضرت صالح کی دعوت کا آغاز ہوا، ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ ایمان لانے والوں کا، دوسرا گروہ انکار کرنے والوں کا، اور اس تفرقہ کے ساتھ ہی ان کے درمیان کش مکش شروع ہوگئی، جیسا کہ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭقَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ۔ قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا بالَّذِيْٓ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ۔ اس کی قوم میں سے جو سردار اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھتے تھے انہوں نے ان لوگوں سے جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، جو ان سے ایمان لائے تھے، کہا کیا واقعی تم یہ جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جس کو لے کر وہ بھیجے گئے ہیں، ان متکبرین نے کہا جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس کے ہم کافر ہیں "۔ (الاعراف، آیات 75۔ 76) یاد رہے کہ ٹھیک یہی صورت حال محمد ﷺ کی بعثت کے ساتھ مکہ میں بھی پیدا ہوئی تھی کہ قوم دو حصوں میں بٹ گئ اور اس کے ساتھ ہی ان دونوں گروہوں میں کش مکش شروع ہوگئی۔ اس لیے یہ قصہ آپ سے آپ ان حالات پر چسپاں ہورہا تھا جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
Ayah 27:46سورة النمل 59
یعنی اللہ سے خیر مانگنے کے بجائے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی کرتے ہو ؟ دوسرے مقام پر قوم صالح کے سرداروں کا یہ قول نقل ہوچکا ہے کہ يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۔ اے صالح لے آ وہ عذاب ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی رسولوں میں سے ہے۔ (الاعراف، آیت 77)
Ayah 27:47سورة النمل 60
ان کے اس قول کا ایک مطلب یہ ہے کہ تمہاری یہ تحریک ہمارے لیے سخت منحوس ثابت ہوئی ہے، جب سے تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے دین آبائی کے خلاف یہ بغاوت شروع کی ہے ہم پر آئے دن کوئی نہ کوئی مصیبت نازل ہوتی رہتی ہے، کیونکہ ہمارے معبود ہم سے ناراض ہوگئے ہیں، اس معنی کے لحاظ سے یہ قول اکثر ان مشرک قوموں کے اقوال سے مشابہ ہے جو اپنے انبیاء کو منحوس قرار دیتی تھیں۔ چناچہ سورة یسین میں ایک قوم کا ذکر آتا ہے کہ اس نے اپنے انبیاء سے کہا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ، " ہم نے تم کو منحوس پایا ہے " (آیت 18) یہی بات فرعون کی قوم حضرت موسیٰ کے متعلق کہتی تھی فَاِذَا جَاۗءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰي وَمَنْ مَّعَهٗ۔ " جب ان پر کوئی اچھا وقت آتا تو کہتے کہ ہمارے لیے یہی ہے اور جب کوئی مصیبت آجاتی تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کو اس کا ذمہ ٹھہراتے "۔ (الاعراف، آیت 131) قریب قریب ایسی ہی باتیں مکہ میں نبی ﷺ کے متعلق بھی کہی جاتی تھیں۔
دوسرا مطلب اس قول کا یہ ہے کہ تمہارے آتے ہی ہماری قوم میں پھوٹ پڑگئی ہے، پہلے ہم ایک قوم تھے جو ایک دین پر مجتمع تھے، تم ایسے سبز قدم آئے کہ بھائی بھائی کا دشمن ہوگیا اور بیٹا باپ سے کٹ گیا، اس طرح قوم کے اندر ایک نئی قوم اٹھ کھڑی ہونے کا انجام ہمیں اچھا نظر نہیں آتا، یہی وہ الزام تھا جسے محمد ﷺ کے مخالفین آپ کے خلاف بار بار پیش کرتے تھے، آپ کی دعوت کا آغاز ہوتے ہی سرداران قریش کا جو وفد ابو طالب کے پاس گیا تھا اس نے یہی کہا تھا کہ " اپنے اس بھتیجے کو ہمارے حوالہ کردو جس نے تمہارے دین اور تمہارے باپ دادا کے دین کی مخالفت کی ہے اور تمہاری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ساری قوم کو بیوقوف قرار دیا ہے "۔ (ابن ہشام جلد اول، ص 285) حج کے موقعہ پر جب کفار مکہ کو اندیشہ ہوا کہ باہر کے زائرین آکر کہیں محمد ﷺ کی دعوت سے متاثر نہ ہوجائیں تو انہوں نے باہم مشورہ کرنے کے بعد یہی طے کیا کہ قبائل عرب سے کہا جائے " یہ شخص جادوگر ہے، اس کے جادو کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بیٹا باپ سے، بھائی بھائی سے، بیوی شوہر سے اور آدمی اپنے سارے خاندان سے کٹ جاتا ہے "۔ (ابن ہشام، ص 289)
سورة النمل 61
یعنی بات وہ نہیں ہے جو تم نے سمجھ رکھی ہے، اصل معاملہ جسے اب تک تم نہیں سمجھے ہو یہ ہے کہ میرے آنے سے تمہارا امتحان شروع ہوگیا ہے۔ جب تک میں نہ آیا تھا تم اپنی جہالت میں ایک ڈگر پر چلے جارہے تھے، حق اور باطل کا کوئی کھلا امتیاز سامنے نہ تھا، کھرے اور کھوٹے کی پرکھ کا کوئی معیار نہ تھا، بدتر سے بدتر لوگ اونچے ہورہے تھے، اور اچھی سے اچھی صلاحیتوں کے لوگ خاک میں ملے جارہے تھے، مگر اب ایک کسوٹی آگئی ہے جس پر تم سب جانچے اور پرکھے جاؤ گے، اب بیچ میدان میں ایک ترازو رکھ دیا گیا ہے جو ہر ایک کو اس کے وزن کے لحاظ سے تولے گا، اب حق اور باطل آمنے سامنے موجود ہیں، جو حق کو قبول کرے گا وہ بھاری اترے گا خواہ آج تک اس کی کوڑی بھر بھی قیمت نہ رہی ہو۔ اور جو باطل پر جمے گا اس کا وزن رتی بھر بھی نہ رہے گا چاہے وہ آج تک امیر الامراء ہی بنا رہا ہو، اب فیصلہ اس پر نہیں ہوگا کہ کون کس خاندان کا ہے اور کس کے ذرائع و وسائل کتنے ہیں، اور کون کتنا زور رکھتا ہے، بلکہ اس پر ہوگا کہ کون سیدھی طرح صداقت کو قبول کرتا ہے اور کون جھوٹ کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کردیتا ہے۔
Ayah 27:48سورة النمل 62
یعنی 9 سرداران قبائل جن میں سے ہر ایک اپنے ساتھ ایک بڑا جتھا رکھتا تھا۔
Ayah 27:49سورة النمل 63
یعنی حضرت صالح ؑ کے قبیلے کے سردار سے جس کو قدیم قبائلی رسم و رواج کے مطابق ان کے خون کے دعوے کا حق پہنچتا تھا، یہ وہی پوزیشن تھی جو نبی ﷺ کے زمانے میں آپ کے چچا ابوطالب کو حاصل تھی، کفار قریش بھی اسی اندیشے سے ہاتھ روکتے تھے کہ اگر وہ آنحضرت ﷺ کو قتل کردیں گے تو بنی ہاشم کے سردار ابو طالب اپنے قبیلے کی طرف سے خون کا دعوی لے کر اٹھیں گے۔
سورة النمل 64
یہ بعینہ اسی نوعیت کی سازش تھی جیسی مکہ کے قبائلی سردار نبی ﷺ کے خلاف سوچتے رہتے تھے اور بالاخر یہی سازش انہوں نے ہجرت کے موقع پر حضور کو قتل کرنے کے لیے کی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ ملکر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔
Ayahs 27:50–51سورة النمل 65
یعنی قبل اس کے کہ وہ اپنے طے شدہ وقت پر حضرت صالح کے ہاں شبخون مارتے، اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب بھیج دیا اور نہ صرف وہ بلکہ ان کی پوری قوم تباہ ہوگئی۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ سازش ان لوگوں نے اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کے بعد کی تھی۔ سورة ہود میں ذکر آتا ہے کہ جب انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا تو حضرت صالح نے انہیں نوٹس دیا کہ بس اب تین دن مزے کرلو، اس کے بعد تم پر عذاب آجائے گا (فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ) اس پر شاید انہوں نے سوچا ہوگا کہ صالح کا عذاب موعود تو آئے چاہے نہ آئے، ہم لگے ہاتھوں اونٹنی کے ساتھ اس کا بھی کیوں نہ کام تمام کردیں۔ چناچہ اغلب یہ ہے کہ انہوں نے شبخون مارنے کے لیے وہی رات تجویز کی ہوگی جس رات عذاب آنا تھا اور قبل اس کے کہ ان کا ہاتھ حضرت صالح پر پڑتا خدا کا زبردست ہاتھ پر پڑگیا۔
Ayahs 27:52–53سورة النمل 66
یعنی جاہلوں کا معاملہ تو دوسرا ہے، وہ تو کہیں گے کہ حضرت صالح اور ان کی اونٹنی کے معاملہ سے اس زلزلے کا کوئی تعلق نہیں ہے جو قوم ثمود پر آیا، یہ چیزیں تو اپنے طبیعی اسباب سے آیا کرتی ہیں، ان کے آنے یا نہ آنے میں اس چیز کا کوئی دخل نہیں ہوسکتا کہ کون اس علاقے میں نیکو کار تھا اور کون بد کار اور کس نے کس پر طلم کیا تھا اور کس نے رحم کھایا تھا، یہ محض واعظانہ ڈھکوسلے ہیں کہ فلاں شہر یا فلاں علاقہ فسق و فجور سے بھر گیا تھا اس لیے اس پر سیلاب آگیا یا زلزلے نے اس کی بستیاں الٹ دیں یا کسی اور بلائے ناگہانی نے اسے تل پٹ کر ڈالا۔ لیکن جو لوگ علم رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کوئی اندھا بہرا خدا اس کائنات پر حکومت نہیں کر رہا ہے بلکہ ایک حکیم و دانا ہستی یہاں قسمتوں کے فیصلے کر رہی ہے، اس کے فیصلے پر طبیعی اسباب کے غلام نہیں ہیں بلکہ طبیعی اسباب اس کے ارادے کے غلام ہیں، اس کے ہاں قوموں کو گرانے اور اٹھانے کے فیصلے اندھا دھند نہیں کیے جاتے بلکہ حکمت اور عدل کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور ایک قانون مکافات بھی اس کی کتاب آئین میں شامل ہے جس کی رو سے اخلاقی بنیادوں پر اس دنیا میں بھی ظالم کیفر کردار کو پہنچائے جاتے ہیں، ان حقیقتوں سے جو لوگ باخبر ہیں وہ اس زلزلے کو اسباب طبیعی کا نتیجہ کہہ کر نہیں ٹال سکتے، وہ اسے اپنے حق میں تنبیہ کا کوڑا سمجھیں گے، وہ اس سے عبرت حاصل کریں گے، وہ ان اخلاقی اسباب کو سمجھنے کی وکشش کریں گے جن کی بنا پر خالق نے اپنی پیدا کی ہوئی ایک پھلتی پھولتی قوم کو غارت کرکے رکھ دیا۔ وہ اپنے رویے کو اس راہ سے ہٹائیں گے جو اس کا غضب لانے والی ہے اور اس راہ پر ڈالیں گے جو اس کی رحمت سے ہمکنار کرنے والی ہے۔
Ayah 27:54سورة النمل 67
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 80 تا 84، ہود 74 تا 83، الحجر 57 77، الانبیاء 71 تا 75، الشعراء 16 تا 174، العنکبوت 28 تا 75، الصافات 133 تا 138، القمر 33 تا 39
سورة النمل 68
اس ارشاد کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں، اور غالبا وہ سب ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ تم اس فعل کے فحش اور کار بد ہونے سے ناواقف نہیں ہو، بلکہ جانتے بوجھتے اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ دوسرے یہ کہ تم اس بات سے بھی ناواقف نہیں ہو کہ مرد کی خواہش نفس کے لیے مرد نہیں پیدا کیا گیا بلکہ عورت پیدا کی گئی ہے، اور مرد و عورت کا فرق بھی ایسا نہیں ہے کہ تمہاری آنکھوں کو نظر نہ آتا ہو، مگر تم کھلی آنکھوں کے ساتھ یہ جیتی مکھی نگلتے ہو، تیسرے یہ کہ تم علانیہ یہ بےحیائی کا کام کرتے ہو جب کہ دیکھنے والی آنکھیں تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہیں، جیسا کہ آگے سورة عنکبوت میں آرہا ہے ڏوَتَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ ، " اور تم اپنی مجلسوں میں برا کام کرتے ہو "۔ (آیت 29)
Ayahs 27:55–56سورة النمل 69
جہالت کا لفظ یہاں حماقت اور سفاہت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اردو زبان میں بھی ہم گالی گلوچ اور بیہودہ حرکات کرنے والے کو کہتے ہیں کہ وہ جہالت پر اتر آیا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ عربی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے وّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان 63) لیکن اگر اس لفظ کو بےعلمی ہی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنی ان حرکات کے برے انجام کو نہیں جانتے، تم یہ تو جانتے ہو کہ یہ ایک لذت نفس ہے جو تم حاصل کر رہے ہو، مگر تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اس انتہائی مجرمانہ اور گھناؤنی لذت چشی کا کیسا سخت خمیازہ تمہیں عنقریب بھگتنا پڑے گا۔ خدا کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار کھڑا ہے اور تم ہو کہ انجام سے بےاخبر اپنے اس گندے کھیل میں منہمک ہو۔
Ayahs 27:57–58سورة النمل 70
یعنی پہلے ہی حضرت لوط کو ہدایت کردی گئی تھی کہ وہ اس عورت کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہی تباہ ہونا ہے۔
Ayah 27:59سورة النمل 71
یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے اور یہ فقرہ اس کی تمہید ہے، اس تمہید سے یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی تقریر کا آغاز کس طرح کرنا چاہیے۔ اسی بنا پر صحیح اسلامی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہمیشہ سے اپنی تقریریں اللہ کی حمد اور اس کے نیک بندوں پر سلام سے شروع کرتے رہے ہیں۔ مگر اب اسے ملائیت سمجھا جانے لگا ہے اور موجودہ زمانے کے مسلمان مقررین اس سے کلام کی ابتدا کی ابتدا کرنے کا تصور تک اپنے ذہن میں نہیں رکھتے یا پھر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں۔
سورة النمل 72
بظاہر یہ سوال بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ بہتر ہے یا یہ معبودان باطل حقیقت کے اعتبار سے تو معبودان باطل میں سرے سے کسی خیر کا سوال ہی نہیں ہے کہ اللہ سے ان کا مقابلہ کیا جائے، رہے مشرکین تو وہ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ تھے کہ اللہ کا اور ان کے معبودوں کا کوئی مقابلہ ہے، لیکن یہ سوال ان کے سامنے اس لیے رکھا گیا کہ وہ اپنی غلطی پر متنبہ ہوں، ظاہر ہے کہ کوئی شخص دنیا میں کوئی کام بھی اس وقت تک نہیں کرتا جب تک وہ اپنے نزدیک اس میں کسی بھلائی یا فائدے کا خیال نہ رکھتا ہو۔ اب اگر یہ مشرک لوگ اللہ کی عبادت کے بجائے ان معبودوں کی عبادت کرتے تھے، اور اللہ کو چھوڑ کر ان سے اپنی حاجتیں طلب کرتے اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش کرتے تھے، تو یہ اس کے بغیر بالکل بےمعنی تھا کہ ان معبودوں میں کوئی خیر ہو، اسی بنا پر ان کے سامنے صاف الفاظ میں یہ سوال رکھا گیا کہ بتاؤ اللہ بہتر ہے یا تمہارے یہ معبود ؟ کیونکہ اس دو ٹوک سوال کا سامنا کرنے کی ان میں ہمت نہ تھی، ان میں سے کوئی کٹے سے کٹا مشرک بھی یہ کہنے کی جرأت نہ کرسکتا تھا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں، اور یہ مان لینے کے بعد کہ اللہ بہتر ہے، ان کے پورے دین کی بنیاد ڈھے جاتی تھی، اس لیے کہ پھر یہ بات سراسر نامعقول قرار پاتی تھی کہ بہتر کو چھوڑ کر بدتر کو اختیار کیا جائے۔
اس طرح قرآن نے تقریر کے پہلے ہی فقرے میں مخالفین کو بےبس کردیا، اس کے بعد اب پے در پے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تخلیق کے ایک ایک کرشمے کی طرف انگلی اٹھا کر پوچھا جاتا ہے کہ بتاؤ یہ کام کس کے ہیں ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی ان کاموں میں شریک ہے ؟ اگر نہیں ہے تو پھر یہ دوسرے آخر کیا ہیں کہ انہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فورا اس کے جواب میں فرماتے بل اللہ خیر و ابقی واجل واکرم، " نہیں بلکہ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا اور بزرگ و برتر ہے "۔
Ayah 27:60سورة النمل 73
مشرکوں میں سے کوئی بھی اس سوال کا یہ جواب نہ دے سکتا تھا کہ یہ کام اللہ کے سوا کسی اور کے ہیں، یا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ان میں شریک ہے، قرآن مجید دوسرے مقامات پر کفار مکہ اور مشرکین عرب کے متعلق کہتا ہے وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ، " اور اگر ان سے پوچھو کہ خود انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے " (الزخرف، آیت 87) وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ، " اور اگر ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا اور مردہ پڑی ہوئی زمین کو جلا اٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے " (العنکبوت، آیت 63) قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ الی قولہ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ، " ان سے پوچھو کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں ؟ کون جاندار کو بےجان میں سے اور بےجان کو جاندار میں سے نکالتا ہے ؟ کون اس نظام عالم کی تدبیر کر رہا ہے، وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ " (یونس، آیت 31) عرب کے مشرکین ہی نہیں، دنیا بھر کے مشرکین بالعموم یہی مانتے تھے اور آج بھی مانتے ہیں کہ کائنات کا خالق اور نظام کائنات کا مدبر اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے قرآن مجید کے اس سوال کا یہ جواب ان میں سے کوئی شخص ہٹ دھرمی کی بنا پر برائے بحث بھی نہ دے سکتا تھا کہ ہمارے معبود خدا کے ساتھ ان کاموں میں شریک ہیں، کیونکہ اگر وہ ایسا کہتا تو اس کی اپنی ہی قوم کے ہزارہا آمی اس کو جھٹلا دیتے اور صاف کہتے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے۔
اس سوال اور اس کے بعد کے سوالات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا ابطال بھی ہے۔ مثلا اسی پہلے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ یہ بارش برسانے والا اور اس کے ذریعہ سے ہر طرح کی نباتات اگانے والا کون ہے ؟ اب غور کیجیے، زمین میں اس مواد کا ٹھیک سطح پر یا سطح سے متصل موجود ہونا جو بیشمار مختلف اقسام کی نباتی زندگی کے لیے درکار ہے، اور پانی کے اندر ٹھیک وہ اوصاف موجود ہونا جو حیوانی اور نباتی زندگی کی ضروریات کے مطابق ہیں اور اس پانی کا پے در پے سمندروں سے اٹھایا جانا اور زمین کے مختلف حصوں میں وقتا فوقتا ایک باقاعدگی کے ساتھ برسایا جانا، اور زمین، ہوا، پانی اور درجہ حرارت وغیرہ مختلف قوتوں کے درمیان ایسا متناسب تعاون قائم کرنا کہ اس سے نباتی زندگی کو نشو ونما نصیب ہو اور وہ ہر طرح کی حیوانی زندگی کے لیے اس کی بیشمار ضروریات پوری کرے، کیا یہ سب کچھ ایک حکیم کی منصوبہ بندی اور دانشمندانہ تدبیر اور غالب قدرت و ارادہ کے بغیر جو خود بخود اتفاقا ہوسکتا ہے، اور کیا یہ ممکن ہے کہ یہ اتفاق حادثہ مسلسل ہزار ہا برس بلکہ لاکھوں کروڑوں برس تک اسی باقاعدگی سے رونما ہوتا چلا جائے ؟ صرف ایک ہٹ دھرم آدمی ہی جو تعصب میں اندھا ہوچکا ہو، اسے ایک امر اتفاقی کہہ سکتا ہے، کسی راستی پسند عاقل انسان کے لیے ایسا لغو دعوی کرنا اور ماننا ممکن نہیں ہے۔
Ayah 27:61سورة النمل 74
زمین کا اپنی بےحد و حساب مختلف النوع آبادی کے لیے جائے قرار ہونا بھی کوئی سادہ سی بات نہیں ہے۔ اس کرہ خاکی کو جن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے ان کی تفصیلات پر آدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادر مطلق کی تدبیر کے بغیر قائم نہ ہوسکتی تھیں، یہ کرہ فضائے بسیط میں معلق ہے، کسی چیز پر ٹکا ہوا نہیں ہے، مگر اس کے باوجود اس میں کوئی اضطراب اور اہتزاز نہیں ہے، اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز ہوتا جس کے خطرناک نتائک کا ہم کبھی زلزلہ آجانے سے بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں، تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ تھی، یہ کرہ باقاعدگی کے ساتھ سورج کے سامنے آتا اور چھپتا ہے جس سے رات اور دن کا اختلاف رونما ہوتا ہے، اگر اس کا ایک ہی رخ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا اور دوسرا رخ ہر وقت چھپا رہتا تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی کیونکہ ایک رخ کو سردی اور بےنوری نباتات اور حیوانات کی پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رخ کو گرمی کی شدت بےآب وگیاہ اور غیر آباد بنا دیتی۔ اس کرہ پر پانچ سو میل کی بلندی تک ہوا کا ایک کثیف ردا چرھا دیا گیا ہے جو شہابوں کی خوفناک بم باری سے اسے بچائے ہوئے ہے۔ ورنہ روزانہ دو کروڑ شہاب، جو 30 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں، یہاں وہ تباہی مچاتے ہیں کہ کوئی انسان، حیوان یا درخت جیتا نہ رہ سکتا تھا، یہی ہوا درجہ حرارت کو قابو میں رکھتی ہے، یہی سمندروں سے بادل اٹھاتی اور زمین کے مختلف حصوں تک آب رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے اور یہی انسان اور حیوان اور نباتات کی زندگی کو مطلوبہ گیسیں گراہم کرتی ہے، یہ نہ ہوتی تب بھی زمین کسی آبادی کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی، اس کرے کی سطح سے بالکل متصل وہ معدنیات اور مختلف قسم کے کیمیاوی اجزاء بڑے پیمانے پر فراہم کردیے گئے ہیں جو نباتی، حیوانی اور انسانی زندگی کے لیے مطلوب ہیں، جس جگہ بی یہ سرو سامان مفقود ہوتا ہے وہاں کی زمین کسی زندگی کو سہارنے کے لائق نہیں ہوتی، اس کرے پر سمندروں، دریاؤں، جھیلوں، چشموں اور زیر زمین سوتوں کی شکل میں پانی کا بڑا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کردیا گیا ہے، اور پہاڑوں پر بھی اس کے بڑے بڑے ذخائر کو منجمد کرنے اور پھر پگھلا کر بہانے کا انتظام کیا گیا ہے، اس تدبیر کے بغیر یہاں کسی زندگی کا امکان نہ تھا، پھر اس پانی، ہوا اور تمام ان اشیاء کو جو زمین پر پائی جاتی ہیں، سمیٹے رکھنے کے لیے اس کرے میں نہایت ہی مناسب کشش رکھ دی گئی ہے، یہ کشش اگر کم ہوتی تو ہوا اور پانی، دونوں کو نہ روک سکتی اور درجہ حرارت اتنا زیادہ ہوتا کہ زندگی یہاں دشوار ہوجاتی، یہ کشش اگر زیادہ ہوتی تو ہوا بہت کثیف ہوجاتی، اس کا دباؤ بہت بڑھ جاتا، بخارات آبی کا اٹھنا مشکل ہوتا اور بارشیں نہ ہوسکتیں، سردی زیادہ ہوتی، زمین کے بہت کم رقبے آبادی کے قابل ہوتے، بلکہ کشش ثقل بہت زیادہ ہونے کی صورت انسان اور حیوانات کی جسامت بہت کم ہوتی اور ان کا وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ نقل و حرکت بھی ان کے لیے مشکل ہوتی، علاوہ بریں اس کرے کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے جو آبای کے لیے مناسب ترین ہے۔ اگر اس کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سے اس کو حرارت کم ملتی، سردی بہت زیادہ ہوتی تو موسم بہت لمبے ہوتے، اور مشکل ہی سے یہ آبادی کے قابل ہوتا، اور اگر فاصلہ کم ہوتا تو اس کے برعکس گرمی کی زیادتی اور دوسری بہت سی چیزیں مل جل کر اسے انسان جیسی مخلوق کی سکونت کے قابل نہ رہنے دیتیں۔
ہپ صرف چند وہ مناسبتیں ہیں جن کی بدولت زمین اپنی موجودہ آبادی کے لیے جائے قرار بنی ہے، کوئی شخص عقل رکھتا ہو اور ان امور کو نگاہ میں رکھ کر سوچے تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی نہ یہ تصور کرسکتا ہے کہ کسی خالق حکیم کی منصوبہ سازی کے بغیر یہ مناسبتیں محض ایک حادثہ کے نتیجے میں خود بخود قائم ہوگئی ہیں، اور نہ یہ گمان کرسکتا ہے کہ اس عظیم الشان تخلیقی منصوبے کو بنانے اور رو بعمل لانے میں کسی دیوی دیوتا، یا جن، یا نبی و ولی یا فرشتے کا کوئی دخل ہے۔
سورة النمل 75
یعنی میٹھے اور کھاری پانی کے ذخیرے جو اسی زمین پر موجود ہیں، مگر باہم خلط ملط نہیں ہوتے، زیر زمین پانی کی سوتیں بسا اوقات ایک ہی علاقے میں کھاری پانی الگ اور میٹھا پانی الگ لیکر چلتی ہیں، کھاری پانی کے سمندر تک میں بعض مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے رواں ہوتے ہیں اور ان کی دھار سمندر کے پانی سے اس طرح الگ ہوتی ہے کہ بحری مسافر اس میں سے پینے کے لیے پانی حاصل کرسکتے ہیں۔ (تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورة الفرقان، حاشیہ 68)
Ayah 27:62سورة النمل 76
مشرکین عرب خود اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا حقیقت میں اللہ ہی ہے چناچہ قرآن مجید جگہ جگہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ جب تم پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو تم خدا ہی سے فریاد کرتے ہو، مگر جب وہ وقت ٹل جاتا ہے تو خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، الانعام، حواشی 29۔ 41، جلد دوم یونس آیات 21۔ 22۔ حاشیہ 31۔ النحل حاشیہ 46، بنی اسرائیل حاشیہ 84، اور یہ بات صرف مشرکین عرب ہی تک محدود نہیں ہے۔ دنیا بھر کے مشرکین کا بالعموم یہی حال ہے، حتی کہ روس کے منکرین خدا جنہوں نے خدا پرستی کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے، ان پر بھی جب گزشتہ جنگ عظیم میں جرمن فوجوں کا نرغہ سخت ہوگیا تو انہیں خدا کو پکارنے کی ضرورت محسوس ہوگئی تھی۔
سورة النمل 77
اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم اٹھاتا ہے دوسرے یہ کہ تم کو زمین میں تصرف اور فرمانروائی کے اختیارات عطا کرتا ہے۔
Ayah 27:63سورة النمل 78
یعنی جس نے ستاروں کے ذریعہ سے ایسا انتظام کردیا ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کرسکتے ہو، یہ بھی اللہ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کردیے جن سے وہ اپنی سمت سفر اور منزل مقصود کی طرف اپنی راہ متعین کرتا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان سب کو اللہ تعالیٰ کے احسانات میں شمار کیا گیا ہے۔ وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ (آیت 16)
سورة النمل 79
رحمت سے مراد بارش جس کے آنے سے پہلے ہوائیں اس کی آمد آمد کی خبر دے دیتی ہیں۔