26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

آیت 224 وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ ۔ سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول

مضمون اور انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے اور روایات اس کی تائید کرتی ہیں کہ اس سورے کا زمانہ نزول مکہ کا دور متوسط ہے۔ ابن عباس (رض) کا بیان ہے کہ پہلے سورة طٰہٰ نازل ہوئی پھر واقعہ اور اس کے بعد الشعراء (روح المعانی جلد 19 صفحہ 64) ۔ اور سورة طٰہٰ کے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ حضرت عمر (رض) کے قبول اسلام سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔

موضوع اور مباحث

تقریر کا پس منظر یہ ہے کہ کفار مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ و تذکیر کا مقابلہ پیہم جحود و انکار سے کر رہے تھے اور اس کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشے چلے جاتے تھے۔ کبھی کہتے کہ تم نے ہمیں کوئی نشانی تو دکھائی ہی نہیں، پھر ہمیں کیسے یقین آئے کہ تم نبی ہو۔ کبھی آپ کو شاعر اور کاہن قرار دے کر آپ کی تعلیم و تلقین کو باتوں میں اڑا دینے کی کوشش کرتے۔ اور کبھی یہ کہہ کر آپ کے مشن کا استخفاف کرتے کہ ان کے پیرو یا تو چند نادان نوجوان ہیں، یا پھر ہمارے معاشرے کے ادنی طبقات کے لوگ، حالانکہ اگر اس تعلیم میں کوئی جان ہوتی تو اشراف قوم اور شیوخ اس کو قبول کرتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو معقول دلائل کے ساتھ ان کے عقائد کی غلطی اور توحید و معاد کی صداقت سمجھانے کی کوشش کرتے کرتے تھکے جاتے تھے، مگر وہ ہٹ دھرمی کی نت نئی صورتیں اختیار کرتے نہ تھکتے تھے۔ یہی چیز آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی اور اس غم میں آپ کی جان گھلی جاتی تھی۔ ان حالات میں یہ سورت نازل ہوئی۔ کلام کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ تم ان کے پیچھے ہی جان کیوں گھلاتے ہو ؟ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی نشانی نہیں دیکھی ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہٹ دھرم ہیں، سمجھانے سے نہیں ماننا چاہتے، کسی ایسی نشانی کے طالب ہیں جو زبردستی ان کی گردنیں جھکا دے، اور وہ نشانی اپنے وقت پر جب آجائے گی تو انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ جو بات انہیں سمجھائی جا رہی تھی وہ کیسی برحق تھی۔ اس تمہید کے بعد دسویں رکوع تک جو مضمون مسلسل بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ طالب حق لوگوں کے لیے تو خدا کی زمین پر ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر وہ حقیقت کو پہچان سکتے ہیں۔ لیکن ہٹ دھرم لوگ کبھی کسی چیز کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے ہیں، نہ آفاق کی نشانیاں دیکھ کر اور نہ انبیاء کے معجزات دیکھ کر۔ وہ تو ہمیشہ اس وقت تک اپنی ضلالت پر جمے رہے ہیں جب تک خدا کے عذاب نے آ کر ان کو گرفت میں نہیں لے لیا ہے۔ اسی مناسبت سے تاریخ کی سات قوموں کے حالات پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے اسی ہٹ دھرمی سے کام لیا تھا جس سے کفار مکہ کام لے رہے تھے۔ اور اس تاریخی بیان کے ضمن میں چند باتیں ذہن نشین کرائی گئی ہیں :۔ اول یہ کہ نشانیاں دو طرح کی ہیں۔ ایک قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو خدا کی زمین پر ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جنہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل آدمی تحقیق کرسکتا ہے کہ نبی جس چیز کی طرف بلا رہا ہے وہ حق ہے یا نہیں۔ دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو فرعون اور اسکی قوم نے دیکھیں، قوم نوح نے دیکھیں، عاد اور ثمود نے دیکھیں، قوم لوط اور اصحاب الایکہ نے دیکھیں۔ اب یہ فیصلہ کرنا خود کفار کا اپنا کام ہے کہ وہ کس قسم کی نشانی دیکھا چاہتے ہیں۔ دوم یہ کہ ہر زمانے میں کفار کی ذہنیت ایک سی رہی ہے۔ ان کی حجتیں ایک ہی طرح کی تھیں۔ ان کے اعتراضات یکساں تھے۔ ایمان نہ لانے کے لیے ان کے حیلے اور بہانے یکساں تھے۔ اور آخر کار ان کا انجام بھی یکساں ہی رہا۔ اس کے برعکس ہر زمانے میں انبیاء کی تعلیم ایک تھی۔ ان کی سیرت و اخلاق کا رنگ ایک تھا۔ اپنے مخالفوں کے مقابلے میں ان کی دلیل و حجت کا انداز ایک تھا۔ اور ان سب کے ساتھ اللہ کی رحمت کا معاملہ بھی ایک تھا۔ یہ دونوں نمونے تاریخ میں موجود ہیں۔ کفار خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اپنی تصویر کس نمونے سے ملتی ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات میں کس نمونے کی علامات پائی جاتی ہیں۔ تیسری بات جو بار بار دہرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا زبردست، قادر و توانا بھی ہے اور رحیم بھی۔ تاریخ میں اس کے قہر کی مثالیں بھی موجود ہیں اور رحمت کی بھی۔ اب یہ بات لوگوں کو خود ہی طے کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے رحم کا مستحق بناتے ہیں یا قہر کا۔ آخری رکوع میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لوگ اگر نشانیاں ہی دیکھنا چاہتے ہو، تو آخر وہ خوفناک نشانیاں دیکھنے پر کیوں اصرار کرتے ہو جو تباہ شدہ قوموں نے دیکھی ہیں۔ اس قرآن کو دیکھو جو تمہاری اپنی زبان میں ہے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھو۔ ان کے ساتھیوں کو دیکھو۔ کیا یہ کلام کسی شیطان یا جن کا کلام ہوسکتا ہے ؟ کیا اس کلام کا پیش کرنے والا تمہیں کاہن نظر آتا ہے ؟ کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب تمہیں ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے شاعر اور ان کے ہم مشرب ہوا کرتے ہیں ؟ ضدّم ضدّا کی بات دوسری ہے، مگر اپنے دلوں کو ٹٹول کر دیکھو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اگر دلوں میں تم خود جانتے ہو کہ کہانت اور شاعری سے اس کا کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے تو پھر یہ بھی جان لو کہ تم ظلم کر رہے ہو اور ظالموں کا سا انجام دیکھ کر رہو گے۔

Ayahs 26:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں۔ 1

سورة الشُّعَرَآء 1 یعنی یہ آیات جو اس سورے میں پیش کی جا رہی ہیں، اس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف کھول کر بیان کرتی ہے۔ جسے پڑھ کر یا سن کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ کس چیز کی طرف بلاتی ہے، کس چیز سے روکتی ہے، کسے حق کہتی ہے اور کسے باطل قرار دیتی ہے۔ ماننا یا نہ ماننا الگ بات ہے، مگر کوئی شخص یہ بہانہ کبھی نہیں بنا سکتا کہ اس کتاب کی تعلیم اس کی سمجھ میں نہیں آئی اور وہ اس سے یہ معلوم ہی نہ کرسکا کہ وہ اس کو کیا چیز چھوڑنے اور کیا اختیار کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ قرآن کو الکِتَابُ الْمُبِیْن کہنے کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے، اور وہ یہ کہ اس کا کتاب الہیٰ ہونا ظاہر و باہر ہے۔ اس کی زبان، اس کا بیان، اس کے مضامین، اس کے پیش کردہ حقائق، اور اس کے حالات نزول، سب کے سب صاف صاف دلالت کر رہے ہیں کہ یہ خداوند عالم ہی کی کتاب ہے۔ اس لحاظ سے ہر فقرہ جو اس کتاب میں آیا ہے ایک نشانی اور ایک معجزہ (آیت) ہے۔ کوئی شخص عقل و خرد سے کام لے تو اسے محمد ﷺ کی نبوت کا یقین کرنے کے لیے کسی اور نشانی کی حاجت نہیں، کتاب مبین کی یہی آیات (نشانیاں) اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مختصر تمہیدی فقرہ اپنے دونوں معنوں کے لحاظ سے اس مضمون کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے جو آگے اس سورة میں بیان ہوا ہے۔ کفار مکہ نبی ﷺ سے معجزہ مانگتے تھے تاکہ اس نشانی کو دیکھ کر انہیں اطمینان ہو کہ واقعی آپ یہ پیغام خدا کی طرف سے لائے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اگر حقیقت میں کسی کو ایمان لانے کے لیے نشانی کی طلب ہے تو کتاب مبین کی یہ آیات موجود ہیں۔ اسی طرح کفار نبی ﷺ پر الزام رکھتے تھے کہ آپ شاعر یا کاہن ہیں۔ فرمایا گیا کہ یہ کتاب کوئی چیستاں اور معما تو نہیں ہے۔ صاف صاف کھول کر اپنی تعلیم پیش کر رہی ہے۔ خود ہی دیکھ لو کہ یہ تعلیم کسی شاعر یا کاہن کی ہو سکتی ہے ؟
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

اے محمدؐ ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 2

سورة الشُّعَرَآء 2 نبی ﷺ کی اس حالت کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة کہف میں فرمایا فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّم یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفاً۔ " شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے "۔ (آیت 6)۔ اور سورة فاطر میں ارشاد ہوا فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍ۔ " ان لوگوں کی حالت پر رنج و افسوس میں تمہاری جان نہ گھلے " (آیت 8)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں اپنی قوم کی گمراہی و ضلالت، اس کی اخلاقی پستی، اس کی ہٹ دھرمی، اور اصلاح کی ہر کوشش کے مقابلے میں اس کی مزاحمت کا رنگ دیکھ دیکھ کر نبی ﷺ برسوں اپنے شب و روز کس دل گداز و جاں گُسِل کیفیت میں گزارتے رہے ہیں۔ بَخع کے اصل معنی پوری طرح ذبح کر ڈالنے کے ہیں۔ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ کے لغوی معنی یہ ہوئے کہ تم اپنے آپ کو قتل کیے دے رہے ہو۔
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جُھک جائیں۔ 3

سورة الشُّعَرَآء 3 یعنی کوئی ایسی نشانی نازل کردینا جو تمام کفار کو ایمان وطاعت کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دے، اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ کام اس کی قدرت سے باہر ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا جبری ایمان اس کو مطلوب نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل و خرد سے کام لے کر ان آیات کی مدد سے حق کو پہچانیں جو کتاب الہیٰ میں پیش کی گئی ہیں، جو تمام آفاق میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جو خود ان کی اپنی ہستی میں پائی جاتی ہیں۔ پھر جب ان کا دل گواہی دے کہ واقعی حق وہی ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) نے پیش کیا ہے، اور اس کے خلاف جو عقیدے اور طریقے رائج ہیں وہ باطل ہیں، تو جان بوجھ کر باطل کو چھوڑیں اور حق کو اختیار کریں۔ یہی اختیاری ایمان اور ترک باطل اور اتباع حق وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ انسان سے چاہتا ہے۔ اسلیے اس نے انسان کو ارادے اور اختیار کی آزادی دی ہے۔ اسی بنا پر اس نے انسان کو یہ قدرت عطا کی ہے کہ صحیح اور غلط، جس راہ پر بھی وہ جانا چاہے جاسکے۔ اسی وجہ سے اس نے انسان کے اندر خیر اور شر کے دونوں رجحانات رکھ دیے ہیں، فجور اور تقویٰ کی دونوں راہیں اس کے آگے کھول دی ہیں، شیطان کو بہکانے کی آزادی عطا کی ہے، نبوت اور وحی اور دعوت خیر کا سلسلہ راہ راست دکھانے کے لیے قائم کیا ہے، اور انسان کو انتخاب راہ کے لیے ساری مناسب حال صلاحیتیں دے کر اس امتحان کے مقام پر کھڑا کردیا ہے کہ وہ کفر و فسق کا راستہ اختیار کرتا ہے یا ایمان وطاعت کا۔ اس امتحان کا سارا مقصد ہی فوت ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کوئی ایسی تدبیر اختیار فرمائے جو انسان کو ایمان اور اطاعت پر مجبور کردینے والی ہو۔ جبری ایمان ہی مطلوب ہوتا تو نشانیاں نازل کر کے مجبور کرنے کی کیا حاجت تھی، اللہ تعالیٰ انسان کو اسی فطرت اور ساخت پر پیدا فرما سکتا تھا جس میں کفر، نافرمانی اور بدی کا کوئی امکان ہی نہ ہوتا، بلکہ فرشتوں کی طرح انسان بھی پیدائشی فرماں بردار ہوتا۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف متعدد مواقع پر قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلاً فرمایا وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعاً اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّیٰ یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ۔۔ " اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین کے رہنے والے سب کے سب لوگ ایمان لے آتے۔ اب کیا تم لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرو گے " ؟ (یونس، آیت 99)۔ اور وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ۔ " اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا۔ وہ تو مختلف راہوں پر ہی چلتے رہیں گے (اور بےراہ رویوں سے) صرف وہی بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی لیے تو اس نے ان کو پیدا کیا تھا "۔ (ہود۔ آیت 119)۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم (یونس، حواشی 101۔ 102۔ ہود، حاشیہ 116)۔
Ayahs 26:5–6

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

اب کہ یہ جھُٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے)معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں۔ 4

سورة الشُّعَرَآء 4 یعنی جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ معقولیت کے ساتھ ان کو سمجھانے اور راہ راست دکھانے کی جو کوشش بھی کی جائے اس کا مقابلہ بےرخی و بےالتفاتی سے کریں، ان کا علاج یہ نہیں ہے کہ ان کے دل میں زبردستی ایمان اتارنے کے لیے آسمان سے نشانیاں نازل کی جائیں، بلکہ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ جب ایک طرف انہیں سمجھانے کا حق پورا پورا ادا کردیا جائے اور دوسری طرف وہ بےرخی سے گزر کر قطعی اور کھلی تکذیب پر، اس سے بھی آگے بڑھ کر حقیقت کا مذاق اڑانے پر اتر آئیں، تو ان کا انجام بد انہیں دکھا دیا جائے۔ یہ انجام بد اس شکل میں بھی انہیں دکھایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں وہ حق ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی ساری مزاحمتوں کے باوجود غالب آجائے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ اس کی شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان پر ایک عذاب الیم نازل ہوجائے اور وہ تباہ و بر باد کر کے رکھ دیے جائیں۔ اور وہ اس شکل میں بھی ان کے سامنے آسکتا ہے کہ چند سال اپنی غلط فہمیوں میں مبتلا رہ کر وہ موت کی ناگزیر منزل سے گزریں اور آخر کار ان پر ثابت ہوجائے کہ سراسر باطل تھا جس کی راہ میں انہوں نے اپنی تمام سرمایہ زندگانی کھپا دیا اور حق وہی تھا جسے انبیاء (علیہم السلام) پیش کرتے تھے اور جسے یہ عمر بھر ٹھٹھوں میں اڑاتے رہے۔ اس انجام بد کے سامنے آنے کی چونکہ بہت سی شکلیں ہیں اور مختلف لوگوں کے سامنے وہ مختلف صورتوں سے آسکتا ہے اور آتا رہا ہے اسی لیے آیت میں نَبَاء کے بجائے اَنْبَاء بصیغہ جمع فرمایا گیا، یعنی جس چیز کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اس کی حقیقت آخر کار بہت سی مختلف شکلوں میں انہیں معلوم ہوگی۔
Ayahs 26:7–8

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے 5 ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

سورة الشُّعَرَآء 5 یعنی جستجوئے حق کے لیے کسی کو نشانی کی ضرورت ہو تو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، آنکھیں کھول کر ذرا اس زمین ہی کی روئیدگی کو دیکھ لے، اسے معلوم ہوجائے گا کہ نظام کائنات کی جو حقیقت (توحید الہٰ) انبیاء (علیہم السلام) پیش کرتے ہیں وہ صحیح ہے، یا وہ نظریات صحیح ہیں جو مشرکین یا منکرین خدا بیان کرتے ہیں۔ زمین سے اگنے والی بیشمار انواع و اقسام کی چیزیں جس کثرت سے اگ رہی ہیں، جن مادوں اور قوتوں کی بدولت اگ رہی ہیں، جن قوانین کے تحت اگ رہی ہیں، پھر ان کی خواص اور صفات میں اور بیشمار مخلوقات کی ان گنت ضرورتوں میں جو صریح مناسبت پائی جاتی ہے، ان ساری چیزوں کو دیکھ کر صرف ایک احمق ہی اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی حکیم کی حکمت، کسی علیم کے علم، کسی قادر و توانا کی قدرت اور کسی خالق کے منصوبہ تخلیق کے بغیر بس یونہی آپ سے آپ ہو رہا ہے۔ یا اس سارے منصوبے کو بنانے اور چلانے والا کوئی ایک خدا نہیں ہے بلکہ بہت سے خداؤں کی تدبیر نے زمین اور آفتاب و ماہتاب اور ہوا اور پانی کے درمیان یہ ہم آہنگی، اور ان وسائل سے پیدا ہونے والی نباتات اور بےحد و حساب مختلف النوع جانداروں کی حاجات کے درمیان یہ منا سبت پیدا کر رکھی ہے۔ ایک ذی عقل انسان ہو، اگر وہ کسی ہٹ دھرمی اور پیشگی تعصب میں مبتلا نہیں ہے، اس منظر کو دیکھ کر بےاختیار پکار اٹھے گا کہ یقیناً یہ خدا کے ہونے اور ایک ہی خدا کے ہونے کی کھلی کھلی علامات ہیں۔ ان نشانیوں کے ہوتے اور کس معجزے کی ضرورت ہے جسے دیکھے بغیر آدمی کو توحید کی صداقت کا یقین نہ آسکتا ہو ؟
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ 6

سورة الشُّعَرَآء 6 یعنی اس کی قدرت تو ایسی زبردست ہے کہ کسی کو سزا دینا چاہے تو پل بھر میں مٹا کر رکھ دے۔ مگر اس کے باوجود یہ سراسر اس کا رحم ہے کہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ برسوں اور صدیوں ڈھیل دیتا ہے، سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت دیے جاتا ہے، اور عمر بھر کی نافرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کردینے کے لیے تیار رہتا ہے۔
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ جب کہ تمہارے ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا”7 ظالم قوم کے پاس جا

سورة الشُّعَرَآء 7 اوپر کی مختصر تمہیدی تقریر کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس کی ابتدا حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے۔ اس سے خاص طور پر جو سبق دینا مقصود ہے وہ یہ کہ اولاً ، حضرت موسیٰ کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا وہ ان حالات کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ سخت تھے جن سے نبی ﷺ کو سابقہ درپیش تھا۔ حضرت موسیٰ ایک غلام قوم کے فرد تھے جو فرعون اور اس کی قوم سے بری طرح دبی ہوئی تھی، بخلاف اس کے نبی ﷺ قریش کے ایک فرد تھے اور آپ کا خاندان قریش کے دوسرے خاندانوں کے ساتھ بالکل برابر کی پوزیشن رکھتا تھا۔ حضرت موسیٰ نے خود اس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اور ایک قتل کے الزام میں دس برس روپوش رہنے کے بعد انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اسی بادشاہ کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں سے وہ جان بچا کر فرار ہوئے تھے نبی ﷺ کو ایسی کسی نازک صورت حال سے سابقہ نہ تھا۔ پھر فرعون کی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقتور سلطنت تھی۔ قریش کی طاقت کو اس کی طاقت سے کوئی نسبت نہ تھی۔ اس کے باوجود فرعون حضرت موسیٰ کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور آخر کار ان سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کفار قریش کو یہ سبق دینا چاہتا ہے کہ جس کی پشت پر اللہ کا ہاتھ ہو اس کا مقابلہ کر کے کوئی جیت نہیں سکتا۔ جب فرعون کی موسیٰ ؑ کے سامنے کچھ پیش نہ گئی تو تم بیچارے کیا ہستی ہو کہ محمد ﷺ کے مقابلہ میں بازی جیت لے جاؤ گے۔ ثانیاً جو نشانیاں حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے فرعون کو دکھائی گئیں اس سے زیادہ کھلی نشانیاں اور کیا ہو سکتی ہیں۔ پھر ہزارہا آدمیوں کے مجمع میں فرعون ہی کے چیلنج پر علی الاعلان جادوگروں سے مقابلہ کرا کے یہ ثابت بھی کردیا گیا کہ جو کچھ حضرت موسیٰ دکھا رہے ہیں وہ جادو نہیں ہے۔ فن سحر کے جو ماہرین فرعون کی اپنی قوم سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے اپنے بلائے ہوئے تھے۔ انہوں نے خود یہ تصدیق کردی کہ حضرت موسیٰ کی لاٹھی کا اژدھا بن جانا ایک حقیقی تغیر ہے اور یہ صرف خدائی معجزے سے ہوسکتا ہے، جادوگری کے ذریعہ سے ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں۔ ساحروں نے ایمان لاکر اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس امر میں کسی شک کی گنجائش بھی باقی نہ چھوڑی کہ حضرت موسیٰ کی پیش کردہ نشانی واقعی معجزہ ہے، جادو گری نہیں ہے۔ لیکن اس پر بھی جو لوگ ہٹ دھرمی میں مبتلا تھے انہوں نے نبی کی صداقت تسلیم کر کے نہ دی۔ اب تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ تمہارا ایمان لانا درحقیقت کوئی حسی معجزہ اور مادی نشان دیکھنے پر موقوف ہے۔ تعصب، حمیت جاہلیہ، اور مفاد پرستی سے آدمی پاک ہو اور کھلے دل سے حق اور باطل کا فرق سمجھ کر غلط بات کو چھوڑنے اور صحیح بات قبول کرنے کے لیے کوئی شخص تیار ہو تو اس کے لیے وہی نشانیاں کافی ہیں جو اس کتاب میں اور اس کے لانے والے کی زندگی میں اور خدا کی وسیع کائنات میں ہر آنکھوں والا ہر وقت دیکھ سکتا ہے۔ ورنہ ایک ہٹ دھرم آدمی جسے حق کی جستجو ہی نہ ہو اور اغراض نفسانی کی بندگی میں مبتلا ہو کر جس نے فیصلہ کرلیا ہو کہ کسی ایسی صداقت کو قبول نہ کرے گا جس سے اس کی اغراض پر ضرب لگتی ہو، وہ کوئی نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے گا خواہ زمین اور آسمان ہی اس کے سامنے کیوں نہ الٹ دیے جائیں۔ ثانیاً ، اس ہٹ دھرمی کا جو انجام فرعون نے دیکھا وہ کوئی ایسا انجام تو نہیں ہے جسے دیکھنے کے لیے دوسرے لوگ بےتاب ہوں۔ اپنی آنکھوں سے خدائی طاقت کے نشانات دیکھ لینے کے بعد جو نہیں مانتے وہ پھر ایسے ہی انجام سے دو چار ہوتے ہیں۔ اب کیا تم لوگ اس سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے اس کا مزا چکھنا ہی پسند کرتے ہو ؟ تقابل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، آیات 103 تا 137۔ یونس، 75 تا 92۔ بنی اسرائیل، 101 تا 104۔ جلد سوم طٰہٰ ، 0 تا 79۔
Ayah 26:11

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

فرعون کی قوم کے پاس 8۔۔۔۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟“ 9

سورة الشُّعَرَآء 8 یہ انداز بیان قوم فرعون کے انتہائی ظلم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا تعارف ہی " ظالم قوم " کے لقب سے کرایا گیا ہے۔ گویا اس کا اصل نام ظالم قوم ہے اور قوم فرعون اس کا ترجمہ و تفسیر۔ سورة الشُّعَرَآء 9 یعنی اے موسیٰ ، دیکھو کیسی عجیب بات ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھتے ہوئے دنیا میں ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور اس بات سے بےخوف ہیں کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ان سے باز پرس کرنے والا ہے۔
Ayahs 26:12–13

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔ 10

سورة الشُّعَرَآء 10 سورة طٰہٰ رکوع 2، اور سورة قصص رکوع 4 میں اس کی جو تفصیل آئی ہے اسے ان آیات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اول تو اتنے بڑے مشن پر تنہا جاتے ہوئے گھبراتے تھے (میرا سینہ گھٹتا ہے کے الفاظ اسی کی نشان دہی کرتے ہیں) ، دوسرے ان کو یہ بھی احساس تھا کہ وہ روانی کے ساتھ تقریر نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ہارون کو ان کے ساتھ مددگار کی حیثیت سے نبی بنا کر بھیجا جائے کیونکہ وہ زیادہ زبان آور ہیں، جب ضرورت پیش آئے گی تو وہ ان کی تائید و تصدیق کر کے ان کی پشت مضبوط کریں گے۔ ممکن ہے کہ ابتداءً حضرت موسیٰ کی درخواست یہ رہی ہو کہ آپ کے بجائے حضرت ہارون کو اس منصب پر مامور کیا جائے، اور بعد میں جب آپ نے محسوس کیا ہو کہ مرضی الٰہی آپ ہی کو مامور کرنے کی ہے تو پھر یہ درخواست کی ہو کہ انہیں آپ کا وزیر اور مددگار بنایا جائے۔ یہ شبہہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہاں حضرت موسیٰ ان کو وزیر بنانے کی درخواست نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ عرض کر رہے ہیں یہ فَاَرْسِلْ الیٰ ھَارُوْنَ ، " آپ ہارون کی طرف رسالت بھیجیں "۔ اور سورة طٰہٰ میں وہ یہ گزارش کرتے ہیں کہ وَجْعَلْ لِّیْ وَزِیْراً مِّنْ اَھْلِیْ ھَارُوْنَ اَخِیْ ، " میرے لیے میرے خاندان میں سے ایک وزیر مقرر فرما دیجیے، میرے بھائی ہارون کو "۔ نیز سورة قصص میں وہ یہ عرض کرتے ہیں کہ وَاَخِیْ ھٰرُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَاناً فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْاءً یُّصَدِّقُنِیْ ، " میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہیں لہٰذا انہیں مددگار کے طور پر میرے ساتھ بھیجیے تاکہ وہ میری تصدیق کریں "۔ اس سے خیال ہوتا ہے کہ غالباً یہ مؤخر الذکر دونوں درخواستیں بعد کی تھیں، اور پہلی بات وہی تھی جو حضرت موسیٰ سے اس سورے میں نقل ہوئی ہے۔ بائیبل کا بیان اس سے مختلف ہے۔ وہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے قوم فرعون کی تکذیب کا خوف اور اپنی زبان کے کند ہونے کا عذر پیش کر کے یہ منصب قبول کرنے سے بالکل ہی انکار کردیا تھا " اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں۔ کسی اور کے ہاتھ سے جسے تو چاہے یہ پیغام بھیج "۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بطور خود حضرت ہارون کو ان کے لیے مددگار مقرر فرما کر انہیں اس بات پر راضی کیا کہ دونوں بھائی مل کر فرعون کے پاس جائیں (خروج باب 4۔ آیات ا تا 71) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 19۔
Ayah 26:14

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور مجھ پر اُن کےہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ 11

سورة الشُّعَرَآء 11 یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو سورة قصص رکوع 2 میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ نے قوم فرعون کے ایک شخص کو ایک اسرائیل سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے وہ مر گیا۔ پھر جب حضرت موسیٰ کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع قوم فرعون کے لوگوں کو ہوگئی ہے اور وہ بدلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ملک چھوڑ کر مَدْیَن کی طرف فرار ہوگئے تھے۔ اب جو آٹھ دس سال کی روپوشی کے بعد یکایک انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم پیغام رسالت لے کر اسی فرعون کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں تمہارے خلاف قتل کا مقدمہ پہلے سے موجود ہے تو حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ خطرہ ہوا کہ پیغام سنانے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ تو مجھے اس قتل کے الزام میں پھانس لے گا۔
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا”ہر گز نہیں، تم دونوں جاوٴ ہماری نشانیاں لے کر 12 ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے

سورة الشُّعَرَآء 12 نشانیوں سے مراد عصا اور ید بیضاء کے معجزے ہیں جن کے عطا کیے جانے کی تفصیل سورة الاعراف رکوع 13۔ 14، طٰہٰ رکوع 1، سورة نمل رکوع 1، اور سورة قصص رکوع 4 میں بیان ہوئی ہے۔
Ayahs 26:16–17

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“ 13

سورة الشُّعَرَآء 13 حضرت موسیٰ و ہارون کی دعوت کے دو جز تھے ایک، فرعون کو اللہ کی بندگی کی طرف بلانا، جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کا اصل مقصود رہا ہے۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو فرعون کے بند غلامی سے نکالنا، جو مخصوص طور پر انہیں دونوں حضرات کا مشن تھا۔ قرآن مجید میں کسی جگہ صرف پہلے جزء کا ذکر کیا گیا ہے۔ (مثلاً سورة نازعات میں) اور کسی جگہ صرف دوسرے جز کا۔
Ayah 26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا”کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ 14 تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے

سورة الشُّعَرَآء 14 اس سے ایک اشارہ اس خیال کی تائید میں نکلتا ہے کہ یہ فرعون وہ فرعون نہ تھا جس کے گھر میں حضرت موسیٰ نے پرورش پائی تھی، بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا۔ اگر یہ وہی فرعون ہوتا تو کہتا کہ میں نے تجھے پالا تھا۔ لیکن یہ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں تو رہا ہے اور ہم نے تیری پرورش کی ہے۔ (اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم الاعراف، حواشی 85۔ 93)۔
Ayah 26:19

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا 15 ، تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔“

سورة الشُّعَرَآء 15 اشارہ ہے اسی واقعہ قتل کی طرف جو حضرت موسیٰ سے سرزد ہوگیا تھا۔
Ayah 26:20

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا”اُس وقت وہ کام میں نے نا دانستگی میں کر دیا تھا۔ 16

سورة الشُّعَرَآء 16 اصل الفاظ ہیں وَاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ، " میں اس وقت ضلالت میں تھا "۔ یا " میں نے اس وقت یہ کام ضلالت کی حالت میں کیا تھا "۔ یہ لفظ ضلالت لازماً " گمراہی " کا ہی ہم معنی نہیں ہے۔ بلکہ عربی زبان میں اسے نا واقفیت، نادانی، خطا، نسیان، نادانستگی وغیرہ معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جو واقعہ سورة قصص میں بیان ہوا ہے اس پر غور کرنے سے یہاں ضلالت بمعنی خطا یا نادانستگی ہی لینا زیادہ صحیح ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس قبطی کو ایک اسرائلی پر ظلم کرتے دیکھ کر صرف ایک گھونسا مارا تھا۔ ظاہر ہے کہ گھونسے سے بالعموم آدمی مرتا نہیں ہے، نہ قتل کی نیت سے گھونسا مارا جاتا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس سے وہ شخص مرگیا۔ اس لیے صحیح صورت واقعہ یہی ہے کہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا۔ قتل ہوا ضرور، مگر بالارادہ قتل کی نیت سے نہیں ہوا، نہ کوئی ایسا آلہ یا ذریعہ استعمال کیا گیا جو قتل کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے یا جس سے قتل واقع ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔
Ayah 26:21

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے ربّ نے مجھ کو حکم عطا کیا 17 اور مجھے رسُولوں میں شامل فرما لیا

سورة الشُّعَرَآء 17 یعنی علم و دانش اور پروانہ نبوت۔ حکم کے معنی حکمت و دانش کے بھی ہیں، اور اس سند اقتدار (Authority) کے بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو عطا کی جاتی ہے، جس کی بنا پر وہ اختیار کے ساتھ بولتا ہے۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔“ 18

سورة الشُّعَرَآء 18 یعنی تیرے گھر میں پرورش پانے کے لیے میں کیوں آتا اگر تو نے بنی اسرائیل پر ظلم نہ ڈھایا ہوتا۔ تیرے ہی ظلم کی وجہ سے تو میری ماں نے مجھے ٹوکری میں ڈال کر دریا میں بہایا تھا۔ ورنہ کیا میری پرورش کے لیے میرا اپنا گھر موجود نہ تھا ؟ اس لیے اس پرورش کا احسان جتانا تجھے زیب نہیں دیتا۔
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا 19 ”اور یہ ربّ العالمین کیا ہوتا ہے؟“ 20

سورة الشُّعَرَآء 19 بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنے آپ کو رب العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کر کے فرعون کو وہ پیغام پہنچایا جس کے لیے وہ بھیجے گئے تھے۔ یہ بات آپ سے آپ ظاہر ہے کہ نبی نے ضرور وہ پیغام پہنچا دیا ہوگا جس پر وہ مامور کیے گئے تھے، اس لیے اس کا ذکر کرنے کی حاجت نہ تھی۔ اسے چھوڑ کر اب وہ گفتگو نقل کی جاتی ہے جو اس پیغام کی تبلیغ کے بعد فرعون اور موسیٰ کے درمیان ہوئی۔ سورة الشُّعَرَآء 20 یہ اس کا سوال حضرت موسیٰ کے اس قول پر تھا کہ میں رب العالمین (تمام جہان والوں کے مالک و آقا اور فرماں روا) کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ اس پیغام کی نوعیت صریح طور پر سیاسی تھی۔ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ حضرت موسیٰ جس کی نمائندگی کے مدعی ہیں وہ سارے جہاں والوں پر حاکمیت و اقتدار اعلیٰ رکھتا ہے اور فرعون کو اپنا تابع قرار دے کر اس کے دائرہ حکومت و اقتدار میں ایک بالا تر فرمانروا کی حیثیت سے نہ صرف یہ کہ مداخلت کر رہا ہے بلکہ اس کے نام یہ فرمان بھیج رہا ہے کہ تو اپنی رعایا کے ایک حصے کو میرے نامزد کردہ نمائندے کے حوالے کر دے تاکہ وہ اسے تیری سلطنت سے نکال کرلے جائے۔ اس پر فرعون پوچھتا ہے کہ یہ سارے جہاں والوں کا مالک و فرمانروا ہے کون جو مصر کے بادشاہ کو اس کی رعایا کے ایک ادنی فرد کے ہاتھوں یہ حکم بھیج رہا ہے۔
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا”آسمانوں اور زمین کا ربّ، اور اُن سب چیزوں کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو۔“ 21

سورة الشُّعَرَآء 21 یعنی میں زمین پر بسنے والے کسی مخلوق اور فانی مدعی ملوکیت کی طرف سے نہیں آیا ہوں، بلکہ اس کی طرف سے آیا ہوں جو آسمان و زمین کا مالک ہے۔ اگر تم اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک و فرمانروا ہے تو تمہیں یہ سمجھنے میں کوئی زحمت نہیں ہونی چاہیے کہ سارے جہاں والوں کا رب کون ہے۔
Ayahs 26:25–26

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟"

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا”تمہارا ربّ بھی اور تمہارے اُن آباوٴ اجداد کا ربّ بھی جو گزر چکے ہیں۔“ 22

سورة الشُّعَرَآء 22 حضرت موسیٰ کا یہ خطاب فرعون کے درباریوں سے تھا۔ جن سے فرعون نے کہا تھا کہ " سنتے ہو "۔ حضرت موسیٰ نے ان سے فرمایا کہ میں ان جھوٹے ارباب کا قائل نہیں ہوں جو آج ہیں اور کل نہ تھے، اور کل تھے مگر آج نہیں ہیں۔ تمہارا یہ فرعون جو آج تمہارا رب بنا بیٹھا ہے کل نہ تھا اور کل تمہارے باپ دادا جن فرعونوں کو رب بنائے بیٹھے تھے وہ آج نہیں ہیں۔ میں صرف اس رب کی حاکمیت و فرماں روائی مانتا ہوں جو آج بھی تمہارا اور اس فرعون کا رب ہے، اور اس سے پہلے جو تمہارے اور اس کے باپ دادا گزر چکے ہیں ان سب کا رب بھی تھا۔
Ayahs 26:27–28

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں"

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا”مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا ربّ، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں۔“ 23

سورة الشُّعَرَآء 23 یعنی مجھے تو پاگل قرار دیا جا رہا ہے، لیکن آپ لوگ اگر عاقل ہیں تو خود سوچیے کہ حقیقت میں رب یہ بیچارا فرعون ہے جو زمین کے ایک ذرا سے رقبے پر بادشاہ بنا بیٹھا ہے، یا وہ جو مشرق و مغرب کا مالک اور مصر سمیت ہر اس چیز کا مالک ہے جو مشرق و مغرب سے گھری ہوئی ہے۔ میں تو فرماں روائی اسی کی مانتا ہوں اور اسی کی طرف سے یہ حکم اس کے ایک بندے کو پہنچا رہا ہوں۔
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا”اگر تُو نے میرے سوا کسی اور کو معبُود مانا تو تجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔“ 24

سورة الشُّعَرَآء 24 اس گفتگو کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج کی طرح قدیم زمانے میں بھی " معبود " کا تصور صرف مذہبی معنوں تک محدود تھا۔ یعنی یہ کہ اسے بس پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا استحقاق پہنچتا ہے، اور اپنے فوق الفطری غلبہ و اقتدار کی وجہ سے اس کا یہ منصب بھی ہے کہ انسان اپنے معاملات میں اس سے استمداد و استعانت کے لیے دعائیں مانگیں۔ لیکن کسی معبود کی یہ حیثیت کہ وہ قانونی اور سیاسی معنوں میں بھی بالا دست ہے، اور اسے یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ معاملات دنیا میں وہ جو حکم چاہے دے، اور انسانوں کا یہ فرض ہے کہ اس کے امر و نہی کو قانون برتر مان کر اس کے آگے جھک جائیں، یہ چیز زمین کے مجازی فرمانرواؤں نے نہ پہلے کبھی مان کردی تھی، نہ آج وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ ہمیشہ سے یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ دنیا کے معاملات میں ہم مختار مطلق ہیں، کسی معبود کو ہماری سیاست اور ہمارے قانون میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ دنیوی حکومتوں اور بادشاہوں سے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی پیروی کرنے والے مصلحین کے تصادم کی اصل وجہ یہی رہی ہے۔ انہوں نے ان سے خداوند عالم کی حاکمیت وبالا دستی تسلیم کرانے کی کوشش کی ہے، اور یہ اس کے جواب میں نہ صرف یہ کہ اپنی حاکمیت مطلقہ کا دعویٰ پیش کرتی رہی ہیں بلکہ انہوں نے ہر اس شخص کو مجرم اور باغی ٹھہرایا ہے جو ان کے سوا کسی اور کو قانون و سیاست کے میدان میں معبود مانے۔ اس تشریح سے فرعون کی اس گفتگو کا صحیح مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ اگر معاملہ پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا ہوتا تو اس کو اس سے کوئی بحث نہ تھی کہ حضرت موسیٰ دوسرے دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ رب العالمین کو اس کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اگر صرف اسی معنی میں توحید فی العبادت کی دعوت موسیٰ ؑ نے اس کو دی ہوتی تو اسے غضب ناک ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ زیادہ سے زیادہ اگر وہ کچھ کرتا تو بس یہ کہ اپنا دین آبائی چھوڑنے سے انکار کردیتا، یا حضرت موسیٰ سے کہتا کہ میرے مذہب کے پنڈتوں سے مناظرہ کرلو۔ لیکن جس چیز نے اسے غضبناک کردیا وہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ نے رب العالمین کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر کے اسے اس طرح ایک سیاسی حکم پہنچایا کہ گویا وہ ایک ماتحت حاکم ہے اور ایک حاکم برتر کا پیغامبر آ کر اس سے اطاعت امر کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس معنی میں وہ اپنے اوپر کسی کی سیاسی و قانونی برتری ماننے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ وہ یہ بھی گوارا نہ کرسکتا تھا کہ اس کی رعایا میں سے کوئی فرد اس کے بجائے کسی اور کو حاکم برتر مانے۔ اسی لیے اس نے پہلے " رب العالمین " کی اصطلاح کو چیلنج کیا، کیونکہ اس کی طرف سے لائے ہوئے پیغام میں محض مذہبی معبودیت کا نہیں بلکہ کھلا کھلا سیاسی اقتدار اعلیٰ کا رنگ نظر آتا تھا۔ پھر جب حضرت موسیٰ نے بار بار تشریح کر کے بتایا کہ جس رب العالمین کا پیغام وہ لائے ہیں وہ کون ہے، تو اس نے صاف صاف دھمکی دی کہ ملک مصر میں تم نے میرے اقتدار اعلیٰ کے سوا کسی اور کے اقتدار کا نام بھی لیا تو جیل کی ہوا کھاؤ گے۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا”اگر چہ میں لے آوٴں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟“ 25

سورة الشُّعَرَآء 25 یعنی کیا تو اس صورت میں بھی میری بات ماننے سے انکار کرے گا اور مجھے جیل بھیجے گا جبکہ میں اس امر کی ایک صریح علامت پیش کر دوں کہ میں واقعی اس خدا کا فرستادہ ہوں جو رب العالمین، رب السمٰوات والارض اور رب المشرق و المغرب ہے ؟
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا”اچھا تو لے آ اگر تُو سچا ہے۔ 26“

سورة الشُّعَرَآء 26 حضرت موسیٰ کے سوال پر فرعون کا یہ جواب خود ظاہر کرتا ہے کہ اس کا حال قدیم و جدید زمانے کے عام مشرکین سے مختلف نہ تھا۔ وہ دوسرے تمام مشرکین کی طرح فوق الفطری معنوں میں اللہ کے الٰہٰ الالٰہہ ہونے کو مانتا تھا اور ان ہی کی طرح یہ بھی تسلیم کرتا تھا کہ کائنات میں اس کی قدرت سب دیوتاؤں سے برتر ہے۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ اگر تجھے میرے مامور من اللہ ہونے کا یقین نہیں ہے تو میں ایسی صریح نشانیاں پیش کروں جن سے ثابت ہوجائے کہ میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں۔ اور اسی وجہ سے اس نے بھی جواب دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو لاؤ کوئی نشانی۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی ہستی یا اس کے مالک کائنات ہونے ہی میں اسے کلام ہوتا تو نشانی کا سوال پیدا ہی نہ ہوسکتا تھا۔ نشانی کی بات تو اسی صورت میں درمیان آسکتی تھی جبکہ اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کا وجود اور اس کا قادر مطلق ہونا تو مسلم ہو، اور بحث اس امر میں ہو کہ حضرت موسیٰ اس کے بھیجے ہوئے ہیں یا نہیں۔
Ayah 26:32

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی)موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدہا تھا۔ 27

سورة الشُّعَرَآء 27 قرآن مجید میں کسی جگہ اس کے لیے حَیَّۃٌ (سانپ) اور کسی جگہ جَآن (جو بالعموم چھوٹے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور یہاں اسے ثُعْبَانٌ (اژدہا) کہا جا رہا ہے۔ اس کی توجیہ امام رازی اس طرح کرتے ہیں کہ حَیَّۃٌ عربی زبان میں سانپ کی جنس کے لیے مشترک نام ہے، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اور ثُعْبَانٌ کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کہ جسامت کے اعتبار سے وہ اژدھے کی طرح تھا۔ اور جانّ کا لفظ اس بنا پر استعمال کیا گیا کہ اس کی پھرتی اور تیزی چھوٹے سانپ جیسی تھی۔
Ayah 26:33

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے)کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ 28

سورة الشُّعَرَآء 28 بعض مفسرین نے یہودی روایات سے متاثر ہو کر بَیْضَاء کے معنی " سفید " کیے ہیں اور اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ بغل سے نکالتے ہی بھلا چنگا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید ہوگیا۔ لیکن ابن جریر، ابن کثیر، زَمَخْشَری، رازی، ابو السعود عمادی، آلوسی اور دوسرے بڑے بڑے مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہاں بَیْضَآء بمعنی روشن اور چمکدار ہے۔ جونہی کہ حضرت موسیٰ نے بغل سے ہاتھ نکالا یکایک سارا ماحول جگمگا اٹھا اور یوں محسوس ہوا جیسے سورج نکل آیا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، طٰہٰ حاشیہ 13)۔
Ayahs 26:34–35

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ 29 اب بتاوٴ تم کیا حکم دیتے ہو؟“ 30

سورة الشُّعَرَآء 29 دونوں معجزوں کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ یا تو ایک لمحہ پہلے وہ اپنی رعیت کے ایک فرد کو برسر دربار رسالت کی باتیں اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کرتے دیکھ کر پاگل قرار دے رہا تھا (کیونکہ اس کے نزدیک ایک غلام قوم کے فرد کا اس جیسے با جبروت بادشاہ کے حضور ایسی جسارت کرنا پاگل پن کے سوا اور کچھ نہ ہوسکتا تھا) اور اسے دھمکی دے رہا تھا کہ اگر تو نے میرے سوا کسی کو معبود مانا تو جیل میں سڑا سڑا کر مار دوں گا، یا اب ان نشانیوں کو دیکھتے ہی اس پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ اسے اپنی بادشاہی اور اپنا ملک چھننے کا خطرہ لاحق ہوگیا اور بد حواسی میں اسے یہ بھی احساس نہ رہا کہ میں بھرے دربار میں اپنے نوکروں کے سامنے کیسی بےتکی باتیں کر رہا ہوں۔ بنی اسرائیل جیسی دبی ہوئی قوم کے دو افراد وقت کے سب سے بڑے طاقتور بادشاہ کے سامنے کھڑے تھے۔ کوئی لاؤ لشکر ان کے ساتھ نہ تھا۔ کوئی جان ان کی قوم میں نہ تھی۔ کسی بغاوت کا نام و نشان تک ملک کے کسی گوشے میں نہ تھا۔ ملک سے باہر کسی دوسری حکومت کی طاقت بھی ان کی پشت پر نہ تھی۔ اس حالت میں صرف ایک لاٹھی کا اژدہا بنتے دیکھ کر اور ایک ہاتھ کو چمکتے دیکھ کر یکایک اس کا چیخ اٹھنا کہ یہ دو بےسرو سامان آدمی میری سلطنت کا تختہ الٹ دیں گے اور پورے حکمران طبقے کو اقتدار سے بےدخل کردیں گے، آخر کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس کا یہ کہنا کہ یہ شخص جادو کے زور سے ایسا کر ڈالے گا، مزید بد حواسی کی دلیل ہے۔ جادو کے زور سے دنیا میں کبھی کوئی سیاسی انقلاب نہیں ہوا، کوئی ملک فتح نہیں ہوا، کوئی جنگ نہیں جیتی گئی۔ جادوگر تو اس کے اپنی ملک میں موجود تھے اور بڑے بڑے کرشمے دکھا سکتے تھے۔ مگر وہ خود جانتا تھا کہ تماشا کر کے انعام لینے سے بڑھ کر ان کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ سلطنت تو کجا، وہ بیچارے تو سلطنت کے کسی پولیس کا نسٹیبل کو بھی چیلنج کرنے کی ہمت نہ کرسکتے تھے۔ سورة الشُّعَرَآء 30 یہ فقرہ فرعون کی مزید بدحواسی کو ظاہر کرتا ہے۔ کہاں تو وہ الٰہ بنا ہوا تھا اور یہ سب اس کے بندے تھے۔ کہاں اب الٰہ صاحب مارے خوف کے بندوں سے پوچھ رہے ہیں کہ تمہارا حکم کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری عقل تو اب کچھ کام نہیں کرتی، تم بتاؤ کہ اس خطرے کا مقابلہ میں کیسے کروں۔
Ayahs 26:36–38

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں"

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

چنانچہ ایک روز مقرر وقت 31 پر جادُو گر اکٹھے کر لیے گئے

سورة الشُّعَرَآء 31 سور طٰہٰ میں گزر چکا ہے کہ اس مقابلے کے لیے قبطیوں کی قومی عید کا دن (یوم الزینۃ) مقرر کیا گیا تھا تاکہ ملک کے گوشے گوشے سے میلوں ٹھیلوں کی خاطر آنے والے سب لوگ یہ عظیم الشان " دنگل " دیکھنے کے لیے جمع ہوجائیں، اور اس کے لیے وقت بھی دن چڑھے کا طے ہوا تھا تاکہ روز روشن میں سب کی آنکھوں کے سامنے فریقین کی طاقت کا مظاہرہ ہو اور روشنی کی کمی کے باعث کوئی شک و شبہہ پیدا ہونے کی گنجائش نہ رہے۔
Ayah 26:39

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہا گیا”تم اجتماع میں چلو گے؟ 32

سورة الشُّعَرَآء 32 یعنی صرف اعلان و اشتہار ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ آدمی اس غرض کے لیے چھوڑے گئے کہ لوگوں کو اکسا اکسا کر یہ مقابلہ دیکھنے کے لیے لائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھرے دربار میں جو معجزات حضرت موسیٰ نے دکھائے تھے ان کی خبر عام لوگوں میں پھیل چکی تھی اور فرعون کو یہ اندیشہ ہوگیا تھا کہ اس سے ملک کے باشندے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے اس نے چاہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں اور خود دیکھ لیں کہ لاٹھی کا سانپ بن جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، ہمارے ملک کا ہر جادوگر یہ کمال دکھا سکتا ہے۔
Ayah 26:40

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید کہ ہم جادُوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔“ 33

سورة الشُّعَرَآء 33 یہ فقرہ اس خیال کی تصدیق کرتا ہے کہ جن حاضرین دربار نے حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھا تھا اور باہر جن لوگوں تک اس کی معتبر خبریں پہنچی تھیں ان کے عقیدے اپنے دین آبائی پر سے متزلزل ہوئے جا رہے تھے، اور اب ان کے دین کا دارو مدار بس اس پر رہ گیا تھا کہ کسی طرح جادوگر بھی وہ کام کردکھائیں جو موسیٰ ؑ نے کیا ہے۔ فرعون اور اس کے احیان سلطنت اسے خود ایک فیصلہ کن مقابلہ سمجھ رہے تھے۔ ان کے اپنے بھیجے ہوئے آدمی عوام الناس کے ذہن میں یہ بات بٹھاتے پھرتے تھے کہ اگر جادوگر کامیاب ہوگئے تو ہم موسیٰ کے دین میں جانے سے بچ جائیں گے ورنہ ہمارے دین و ایمان کی خیر نہیں ہے۔