26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 26:159–160

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

لُوطؑ کی قوم نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ 107

سورة الشُّعَرَآء 107 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 80 تا 84۔ ہود، 74 تا 83۔ الحجر 57 تا 77۔ الانبیاء 71 تا 75 النمل 54 تا 58۔ العنکبوت 28۔ 35۔ الصافات 133 تا 138۔ القمر 33 تا 39۔
Ayahs 26:161–165

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو 108

سورة الشُّعَرَآء 108 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ ساری مخلوق میں سے صرف مردوں کو تم نے اس غرض کے لیے چھانٹ لیا ہے کہ ان سے خواہش نفس پوری کرو حالانکہ دنیا میں بکثرت عورتیں موجود ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو، ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم ایسی نہیں ہے، بلکہ حیوانات میں سے بھی کوئی جانور یہ کام نہیں کرتا۔ اس دوسرے مفہوم کی صراحت سورة اعراف اور سورة عنکبوت میں یوں کی گئی ہے اَتَاْتَوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۔ " کیا تم وہ بےحیائی کا کام کرتے ہو جو دنیا کی مخلوق میں سے کسی نے تم سے پہلے نہیں کیا ؟ "
Ayah 26:166

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں میں تمہارے ربّ نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ 109 بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو۔“ 110

سورة الشُّعَرَآء 109 اس کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے جو بیویاں خدا نے پیدا کی تھیں انہیں چھوڑ کر تم غیر فطری ذریعے یعنی مردوں کا اس غرض کے لیے استعمال کرتے ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود ان بیویوں کے اندر خدا نے اس خواہش کی تکمیل کا جو فطری راستہ رکھا تھا اسے چھوڑ کر تم غیر فطری راستہ اختیار کرتے ہو۔ اس دوسرے مطلب میں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ وہ ظالم لوگ اپنی عورتوں سے بھی خلاف وضع فطری فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ بعید نہیں کہ وہ یہ حرکت خاندانی منصوبہ بندی کی خاطر کرتے ہوں۔ سورة الشُّعَرَآء 110 یعنی تمہارا صرف یہی ایک جرم نہیں ہے۔ تمہاری زندگی کا تو سارا ہنجار ہی حد سے زیادہ بگڑ چکا ہے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کے اس عام بگاڑ کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۔ (النمل آیت 54)۔ " کیا تمہارا یہ حال ہوگیا ہے کہ کھلم کھلا دیکھنے والوں کی نگاہوں کے سامنے فحش کام کرتے ہو ؟ " اَئِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ (العنکبوت آیت 29) " کیا تم ایسے بگڑے گئے ہو کہ مردوں سے مباشرت کرتے ہو، راستوں پر ڈاکے مارتے ہو، اور اپنی مجلسوں میں علانیہ برے کام کرتے ہو ؟ " (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حاشیہ 39)۔
Ayah 26:167

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

انہوں نے کہا”اے لُوطؑ ، اگر تُو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تُو بھی شامل ہو کر رہے گا۔“ 111

سورة الشُّعَرَآء 111 یعنی تجھے معلوم ہے کہ اس سے پہلے جس نے بھی ہمارے خلاف زبان کھولی ہے یا ہماری حرکتوں پر احتجاج کیا ہے، یا ہماری مرضی کے خلاف کام کیا ہے، وہ ہماری بستیوں سے نکالا گیا ہے۔ اب اگر تو یہ باتیں کرے گا تو تیرا حشر بھی ایسا ہی ہوگا۔ سورة اعراف اور سورة نمل میں بیان ہوا ہے کہ حضرت لوط ؑ کو یہ نوٹس دینے سے پہلے اس شریر قوم کے لوگ آپس میں یہ طے کرچکے تھے کہ اَخْرِجُوْٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ۔ " لوط ؑ اور اس کے خاندان والوں اور ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو۔ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ ان " صالحین " کو باہر کا راستہ دکھاؤ "۔
Ayahs 26:168–169

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

اس نے کہا "تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے۔“ 112

سورة الشُّعَرَآء 112 اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں ان کے اعمال بد کے برے انجام سے بچا۔ اور یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ اس بد کردار بستی میں جو اخلاقی گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کی چھوت کہیں ہماری آل اولاد کو نہ لگ جائے، اہل ایمان کی اپنی نسلیں کہیں اس بگڑے ہوئے ماحول سے متاثر نہ ہوجائیں، اس لیے اے پروردگار، ہمیں اس ہر وقت کے عذاب سے نجات دے جو اس ناپاک معاشرے میں زندگی بسر کرنے سے ہم پر گزر رہا ہے۔
Ayahs 26:170–171

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

بجز ایک بُڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ 113

سورة الشُّعَرَآء 113 اس سے مراد حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے۔ سورة تحریم میں حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط کی بیویوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ کانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰھُمَا (آیت 10)۔ " یہ دونوں عورتیں ہمارے دو صالح بندوں کے گھر میں تھیں مگر انہوں نے ان کے ساتھ خیانت کی "۔ یعنی دونوں ایمان سے خالی تھیں اور اپنے نیک شوہروں کا ساتھ دینے کے بجائے ان دونوں نے اپنی کافر قوم کا ساتھ دیا۔ اسی بنا پر جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط ؑ پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرمایا اور حضرت لوط ؑ کو حکم دیا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر اس علاقے سے نکل جائیں تو ساتھ ہی یہ بھی ہدایت فرما دی کہ اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جاؤ، فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ (ہود آیت 81)۔ " پس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر نکل جا اور تم میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جا، اس پر وہی کچھ گزرنی ہے جو ان لوگوں پر گزرنی ہے "۔
Ayahs 26:172–173

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔ 114

سورة الشُّعَرَآء 114 اس بارش سے مراد پانی کی بارش نہیں بلکہ پتھروں کی بارش ہے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت لوط جب رات کے پچھلے پہر اپنے بال بچوں کو لے کر نکل گئے تو صبح پو پھٹتے ہی یکایک ایک زور کا دھماکا ہوا (فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ مُشْرِقِیْنَ) ، ایک ہولناک زلزلے نے ان کی بستیوں کو تل پٹ کر کے رکھ دیا (جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا) ، ایک زبردست آتش فشانی انفجار سے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر بر سائے گئے (وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ) اور ایک طوفانی ہوا سے بھی ان پر پتھراؤ کیا گیا (اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ حَاصِباً)۔ بائیبل کے بیانات، قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں، جدید زمانے کی طبقات الارضی تحقیقات اور آثار قدیمہ کے مشاہدات سے اس عذاب کی تفصیلات پر جو روشنی پڑتی ہے اس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں بحیرہ مردار (Dead Sea) کے جنوب اور مشرق میں جو علاقہ آج انتہائی ویران اور سنسان حالت میں پڑا ہوا ہے، اس میں بکثرت پرانی بستیوں کے کھنڈروں کی موجودگی پتہ دیتی ہے کہ یہ کسی زمانہ میں نہایت آباد علاقہ رہا تھا۔ آج وہاں سینکڑوں برباد شدہ قریوں کے آثار ملتے ہیں، حالانکہ اب یہ علاقہ اتنا شاداب نہیں ہے کہ اتنی آبادی کا بوجھ سہار سکے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس علاقے کی آبادی و خوشحالی کا دور 2400 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح تک رہا ہے، اور حضرت ابراہیم ؑ کے متعلق مؤرخین کا اندازہ یہ ہے کہ وہ دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں گزرے ہیں۔ اس لحاظ سے آثار کی شہادت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ علاقہ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے بھتیجے حضرت لوط ؑ کے عہد ہی میں برباد ہوا ہے۔ اس علاقے کا سب سے زیادہ آباد اور سر سبز و شاداب حصہ وہ تھا جسے بائیبل میں " سِدّیم کی وادی " کہا گیا ہے، جس کے متعلق بائیبل کا بیان ہے کہ " وہ اس سے پیشتر خداوند نے سَدُوم اور عمورہ کو تباہ کیا، خداوند کے باغ (عدن) اور مصر کے مانند خوب سیراب تھی " (پیدائش، باب 13۔ آیت 10)۔ موجودہ زمانے کے محققین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ وادی اب بحیرہ مردار کے اندر غرق ہے، اور یہ رائے مختلف آثار کی شہادتوں سے قائم کی گئی ہے۔ قدیم زمانہ میں، بحیرہ مردار جنوب کی طرف اتنا وسیع نہ تھا جتنا اب ہے۔ شرق اردن کے موجودہ شہر الکرک کے سامنے مغرب کی جانب اس بحیرے میں جو ایک چھوٹا سا جزیرہ نما " اللّسان " پایا جاتا ہے، قدیم زمانے میں بس یہی پانی کی آخری سرحد تھی۔ اس کے نیچے کا حصہ جہاں اب پانی پھیل گیا ہے (جسے ملحقہ نقشے میں ہم نے آڑی لکیروں سے نمایاں کیا ہے) پہلے ایک سر سبز وادی کی شکل میں آباد تھا اور یہی وہ وادی سدیم تھی جس میں قوم لوط ؑ کے بڑے بڑے شہر سدوم، عمورہ، ادمہ، ضبوئیم اور ضغر واقع تھے۔ دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانہ میں ایک زبردست زلزلے کی وجہ سے یہ وادی پھٹ کر دب گئی اور بحیرہ مردار کا پانی اس کے اوپر چھا گیا۔ آج بھی یہ بحیرے کا سب سے زیادہ اتھلا حصہ ہے، مگر رومی عہد میں یہ اتنا اتھلا تھا کہ لوگ اللّسان سے مغربی ساحل تک چل کر پانی میں سے گزر جاتے تھے۔ اس وقت تک جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ پانی میں ڈوبے ہوئے جنگلات صاف نظر آتے ہیں۔ بلکہ یہ شبہہ بھی کیا جاتا ہے کہ پانی میں کچھ عمارات ڈوبی ہوئی ہیں۔ بائیبل اور قدیم یونانی و لاطینی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں جگہ جگہ نفط (پٹرول) اور اسفالٹ کے گڑھے تھے اور بعض بعض زمین سے آتش گیر گیس بھی نکلتی تھی۔ اب بھی وہاں زیر زمین پٹرول اور گیسوں کا پتہ چلتا ہے۔ طبقات الارض مشاہدات سے اندازہ کیا گیا ہے کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے ساتھ پٹرول، گیس اور اسفالٹ زمین سے نکل کر بھڑک اٹھے اور سارا علاقہ بھک سے اڑ گیا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس تباہی کی اطلاع پاکر حضرت ابراہیم ؑ جب حبرون سے اس وادی کا حال دیکھنے آئے تو زمین سے دھواں اس طرح اٹھ رہا تھا جیسے بھٹی کا دھواں ہوتا ہے (پیدائش باب 19۔ آیت 28)۔
Ayahs 26:174–176

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اصحابُ الایکہ نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ 115

سورة الشُّعَرَآء 115 اصحاب الایکہ کا مختصر ذکر سورة الحجر آیت 78۔ 84 میں پہلے گزر چکا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا مَدْیَن اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں ہیں یا ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دو الگ قومیں ہیں اور اس کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سورة اعراف میں حضرت شعیب ؑ کو اہل مدین کا بھائی فرمایا گیا ہے (وَاِلیٰ مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْباً) ، اور یہاں اصحاب الایکہ کے ذکر میں صرف یہ ارشاد ہوا ہے کہ اِذْ قَالَ لَھُمْ شُعَیبٌ (جبکہ ان سے شعیب نے کہا) ، " ان کے بھائی " (اَخُوْھُمْ) کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کے بر عکس بعض مفسرین دونوں کو ایک ہی قوم قرار دیتے ہیں، کیونکہ سورة اعراف اور سورة ہود میں جو امراض اور اوصاف اصحاب مدین کے بیان ہوئے ہیں وہی یہاں اصحاب الایکہ کے بیان ہو رہے ہیں، حضرت شعیب کی دعوت و نصیحت بھی یکساں ہے، اور آخر کار ان کے انجام میں بھی فرق نہیں ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اقوال اپنی جگہ صحیح ہیں۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ بلا شبہ دو الگ قبیلے ہیں مگر ہیں ایک ہی نسل کی دو شاخیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کی جو اولاد ان کی بیوی یا کنیز قطورا کے بطن سے تھی وہ عرب اور اسرائیل کی تاریخ میں بنی قطورا کے نام سے معروف ہے۔ ان میں سے ایک قبیلہ جو سب سے زیادہ مشہور ہوا، مدیان بن ابراہیم کی نسبت سے مدیانی، یا اصحاب مدین کہلایا، اور اس کی آبادی شمالی حجاز سے فلسطین کے جنوب تک اور وہاں سے جزیرہ نمائے سینا کے آخری گوشے تک بحر قلزم اور خلیج عقبہ کے سواحل پر پھیل گئی۔ اس کا صدر مقام شہر مدین تھا جس کی جائے وقوع ابوالفدا نے خلیج عقبہ کے مغربی کنارے ایلہ (موجودہ عقبہ) سے پانچ دن کی راہ پر بتائی ہے۔ باقی بنی قطورا جن میں بنی ودان (Dedanites) نسبۃً زیادہ مشہور ہیں، شمالی عرب میں تیماء اور تبوک اور العلاء کے درمیان آباد ہوئے اور ان کا صدر مقام تبوک تھا جسے قدیم زمانے میں ایکہ کہتے تھے۔ (یاقوت نے معجم البلدان میں لفظ ایکہ کے تحت بتایا ہے کہ یہ تبوک کا پرانا نام ہے اور اہل تبوک میں عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ یہی جگہ کسی زمانے میں ایکہ تھی)۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کے لیے ایک ہی پیغمبر مبعوث کیے جانے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ دونوں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے، ایک ہی زبان بولتے تھے، اور ان کے علاقے بھی بالکل ایک دوسرے سے متصل تھے۔ بلکہ بعید نہیں کہ بعض علاقوں میں یہ ساتھ ساتھ آباد ہوں اور آپس کے شادی بیاہ سے ان کا معاشرہ بھی باہم گھل مل گیا ہو۔ اس کے علاوہ بنی قطور کی ان دونوں شاخوں کا پیشہ بھی تجارت تھا۔ اور دونوں میں ایک ہی طرح کی تجارتی بےایمانیاں اور مذہبی و اخلاقی بیماریاں پائی جاتی تھیں۔ بائیبل کی ابتدائی کتابوں میں جگہ جگہ یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ لوگ بعل فغور کی پرستش کرتے تھے اور بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر ان کے علاقے میں آئے تو ان کے اندر بھی انہوں نے شرک اور زنا کاری کی وبا پھیلا دی (گنتی، باب 25 آیت 1۔ 5، باب 31 آیت 16۔ 17)۔ پھر یہ لوگ بین الاقوامی تجارت کی ان دو بڑی شاہراہوں پر آباد تھے جو یمن سے شام اور خلیج فارس سے مصر کی طرف جاتی تھیں۔ ان شاہراہوں پر واقع ہونے کی وجہ سے انہوں نے بڑے پیمانے پر رہزنی کا سلسلہ چلا رکھا تھا۔ دوسری قوموں کے تجارتی قافلوں کو بھاری خراج لیے بغیر نہ گزرنے دیتے تھے، اور بین الاقوامی تجارت پر خود قابض رہنے کی خاطر انہوں نے راستوں کا امن خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ قرآن مجید میں ان کی اس پوزیشن کو یوں بیان کیا گیا ہے اِنَّھُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍ۔ " یہ دونوں (قوم لوط اور اصحاب الایکہ) کھلی شاہراہ پر آباد تھے "، اور ان کی رہزنی کا ذکر سورة اعراف میں اس طرح کیا گیا ہے وَلَا تَقْعُدُوْا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ۔ " اور ہر راستے پر لوگوں کو ڈرانے نہ بیٹھو "۔ یہی اسباب تھے جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قبیلوں کے لیے ایک ہی پیغمبر بھیجا اور ان کو ایک ہی طرح کی تعلیم دی۔ حضرت شعیب علی السلام اور اہل مدین کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 85۔ 93۔ ہود 84۔ 95۔ العنکبوت 36۔ 37۔
Ayahs 26:177–188

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

صحیح ترازو سے تولو

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے"

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

انہوں نے کہا "تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہے

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو کچھ نہیں مگر ایک انسان ہم ہی جیسا، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے"

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیبؑ نے کہا”میرا ربّ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔“ 116

سورة الشُّعَرَآء 116 یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی مطالبے کرتے تھے، اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً ، " یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے "۔ (بنی اسرائیل۔ آیت 92)۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد ﷺ کی طرف سے تمہاری طلب کا جواب بھی ہے۔
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

انہوں نے اُسے جھُٹلا دیا، آخر کارچھتری والے دن کا عذاب ان پر آگیا 117 ، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھ

سورة الشُّعَرَآء 117 اس عذاب کی کوئی تفصیل قرآن مجید میں یا کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ ظاہر الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے چونکہ آسمانی عذاب مانگا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بادل بھیج دیا اور وہ چھتری کی طرح ان پر اس وقت تک چھایا رہا جب تک باران عذاب نے ان کو بالکل تباہ نہ کردیا۔ قرآن سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اصحاب مدین کے عذاب کی کیفیت اصحاب الایکہ کے عذاب سے مختلف تھی۔ یہ جیسا کہ یہاں بتایا گیا ہے، چھتری والے عذاب سے ہلاک ہوئے، اور ان پر عذاب ایک دھماکے اور زلزلے کی شکل میں آیا (فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْ فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ، اور وَاَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ)۔ اس لیے ان دونوں کو ملا کر ایک داستاں بنانے کی کوشش درست نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے عذاب یوم الظُّلہ کی کچھ تشریحات بیان کی ہیں، مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی معلومات کا ماخذ کیا ہے۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ من حدثک من العلماء ما عذاب یوم الظلۃ فکذبہ، " علماء میں سے جو کوئی تم سے بیان کرے کہ یوم الظُّلہ کا عذاب کیا تھا اس کو درست نہ سمجھو "۔
Ayahs 26:190–192

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

118 یہ ربّ العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ 119

سورة الشُّعَرَآء 118 تاریخی بیان ختم کر کے اب سلسلہ کلام اسی مضمون کی طرف پھرتا ہے جس سے سورة کا آغاز فرمایا گیا تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک دفعہ پھر پلٹ کر پہلے رکوع کو دیکھ لینا چاہیے۔ سورة الشُّعَرَآء 119 یعنی یہ " کتاب مبین " جس کی آیات یہاں سنائی جا رہی ہیں، اور یہ " ذکر " جس سے لوگ منہ موڑ رہے ہیں کسی انسان کی من گھڑت چیز نہیں ہے، اسے محمد ﷺ نے خود تصنیف نہیں کرلیا ہے، بلکہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔
Ayah 26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار رُوح 120 اُتری ہے

سورة الشُّعَرَآء 120 مراد ہیں جبریل علیہ السلام، جیسا کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہ نَزَّلَہ عَلیٰ قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ۔ (البقرہ۔ آیت 97)۔ " کہہ دے کہ جو کوئی دشمن ہے جبریل ؑ کا تو اسے معلوم ہو کہ اسی نے یہ قرآن اللہ کے حکم سے تیرے دل پر نازل کیا ہے۔ " یہاں ان کا نام لینے کے بجائے ان کے لیے روح امین (امانت دار روح) کا لقب استعمال کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ رب العالمین کی طرف سے اس تنزیل کو لے کر کوئی مادی طاقت نہیں آئی ہے جس کے اندر تغیر و تبدل کا امکان ہو، بلکہ وہ ایک خالص روح ہے بلا شائبہ مادیت، اور وہ پوری طرح امین ہے، خدا کا پیغام جیسا اس کے سپرد کیا جاتا ہے ویسا ہی بلا کم وکاست پہنچا دیتی ہے، اپنی طرف سے کچھ بڑھانا یا گھٹا دینا بطور خود کچھ تصنیف کرلینا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔
Ayahs 26:194–195

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

صاف صاف عربی زبان میں۔ 121

سورة الشُّعَرَآء 121 اس فقرے کا تعلق " امانت دار روح اتری ہے " سے بھی ہوسکتا ہے اور " متنبہ کرنے والے ہیں " سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ امانت دار روح اسے صاف صاف عربی زبان میں لائی ہے، اور دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ ان انبیاء میں شامل ہوں جنہیں عربی زبان میں خلق خدا کو متنبہ کرنے کے لیے مامور فرمایا گیا تھا، یعنی ہود، صالح، اسماعیل اور شعیب علیہم السلام۔ دونوں صورتوں میں مقصود کلام ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ رب العالمین کی طرف سے یہ تعلیم کسی مردہ یا جنّاتی زبان میں نہیں آئی ہے، نہ اس میں کوئی معمے یا چیستاں کی سی گنجلک زبان استعمال کی گئی ہے، بلکہ یہ ایسی صاف اور فصیح عربی زبان میں ہے جس کا مفہوم و مدعا ہر عرب اور ہر وہ شخص جو عربی زبان جانتا ہو، بےتکلف سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے جو لوگ اس سے منہ موڑ رہے ہیں ان کے لیے یہ عذر کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے کہ وہ اس تعلیم کو سمجھ نہیں سکے ہیں، بلکہ ان کے اعراض و انکار کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ اسی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں فرعون مصر اور قوم ابراہیم اور قوم نوح اور قوم لوط اور عاد وثمود اور اصحاب الایکہ مبتلا تھے۔
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ 122

سورة الشُّعَرَآء 122 یعنی یہ ذکر اور یہی تنزیل اور یہی الہٰی تعلیم سابق کتب آسمانی میں بھی موجود ہے۔ یہی خدائے واحد کی بندگی کا بلاوا، یہی آخرت کی زندگی کا عقیدہ، یہی انبیاء کی پیروی کا طریقہ ان سب میں بھی پیش کیا گیا ہے، سب کتابیں جو خدا کی طرف سے آئی ہیں شرک کی مذمت ہی کرتی ہیں، مادہ پرستانہ نظریہ حیات کو چھوڑ کر اسی بر حق نظریہ حیات کی طرف دعوت دیتی ہیں جس کی بنیاد خدا کے حضور انسان کی جواب دہی کے تصور پر ہے، اور انسان سے یہی مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنی خود مختاری سے دست بردار ہو کر ان الہٰی احکام کی پیروی اختیار کرے جو انبیاء (علیہم السلام) لائے ہیں۔ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نرالی نہیں جو دنیا میں پہلی مرتبہ قرآن ہی پیش کر رہا ہو اور کوئی شخص یہ کہہ سکے تم وہ بات کر رہے ہو جو اگلوں پچھلوں میں سے کسی نے کبھی نہیں کی۔ یہ آیت منجملہ ان دلائل کے ہے جو امام ابوحنیفہ ؓ کی اس قدیم رائے کے حق میں پیش کیے جاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھ لے تو نماز ہوجاتی ہے، خواہ وہ شخص عربی میں قرآن پڑھنے کی قدرت رکھتا ہو نہ رکھتا ہو۔ بنائے استدلال علامہ ابوبکر جصاص کے الفاظ میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرما رہا ہے کہ قرآن پچھلی کتابوں میں بھی تھا، اور ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں وہ عربی الفاظ کے ساتھ نہ تھا۔ لہٰذا کسی دوسری زبان میں اس کے مضامین کو نقل کردینا اسے قرآن ہونے سے خارج نہیں کردیتا (احکام القرآن، جلد سوم، صفحہ 429)۔ لیکن اس استدلال کی کمزوری بالکل ظاہر ہے۔ قرآن مجید ہو یا کوئی دوسری آسمانی کتاب، کسی کے نزول کی کیفیت بھی یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے صرف معانی نبی کے دل پر القا کردیے ہوں اور نبی نے پھر انہیں اپنے الفاظ میں بیان کیا ہو۔ بلکہ ہر کتاب جس زبان میں بھی آئی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معنی اور لفظ دونوں کے ساتھ آئی ہے۔ اس لیے قرآن کی تعلیم جن پچھلی کتابوں میں تھی، انسانی الفاظ میں نہیں، خدائی الفاظ ہی میں تھی، اور ان میں سے کسی کے ترجمہ کو بھی کتاب اللہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اصل کا قائم مقام ٹھہرایا جاسکے۔ رہا قرآن تو اس کے متعلق بار بار بصراحت فرمایا گیا ہے کہ وہ لفظاً لفظاً عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰناً عَرَبِیًّا، (یوسف۔ آیت 2) وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ حُکْماً عَرَبِیًّا، (الرعد۔ آیت 37)۔ قُرْاٰناً عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ ، (الزمر۔ آیت 28)۔ اور خود اسی آیت زیر بحث سے پہلے متصلاً فرمایا جا چکا ہے کہ روح الامین اسے زبان عربی میں لے کر اترا ہے۔ اب اس کے متعلق یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا کوئی ترجمہ جو کسی انسان نے دوسری زبان میں کیا ہو وہ بھی قرآن ہی ہوگا اور اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے الفاظ کے قائم مقام ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ استدلال کی اس کمزوری کو بعد میں خود امام ممدوح نے ہی محسوس فرما لیا تھا، چناچہ معتبر روایات سے یہ بات نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے اس مسئلے میں اپنی رائے سے رجوع کر کے امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے قبول کرلی تھی، یعنی یہ کہ جو شخص عربی زبان میں قرأت پر قادر نہ ہو وہ اس وقت تک نماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھ سکتا ہے جب تک اس کی زبان عربی الفاظ کے تلفظ کے قابل نہ ہوجائے، لیکن جو شخص عربی میں قرآن پڑھ سکتا ہو وہ اگر قرآن کا ترجمہ پڑھے گا تو اس کی نماز نہ ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ صاحبین نے یہ رعایت دراصل ان عجمی نو مسلموں کے لیے تجویز کی تھی جو اسلام قبول کرتے ہی فوراً عربی زبان میں نماز ادا کرنے کے قابل نہ ہو سکتے تھے۔ اور اس میں بنائے استدلال یہ نہ تھی کہ قرآن کا ترجمہ بھی قرآن ہے، بلکہ ان کا استدلال یہ تھا کہ جس طرح اشارے سے رکوع و سجود کرنا اس شخص کے لیے جائز ہے جو رکوع اور سجدہ کرنے سے عاجز ہو، اسی طرح غیر عربی میں نماز پڑھنا اس شخص کے لیے جائز ہے جو عربی تلفظ پر قادر نہ ہو۔ اور علیٰ ہٰذا القیاس جس طرح عجز رفع ہوجانے کے بعد اشارے سے رکوع و سجود کرنے والے کی نماز نہ ہوگی اسی طرح قرآن کے تلفظ پر قادر ہوجانے کے بعد ترجمہ پڑھنے والے کی نماز بھی نہ ہوگی۔ (اس مسئلے پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو مبسوط سَرَخْسی، جلد اول، صفحہ 37۔ فتح القدیر و شرح عنایہ علی الہدایہ جلد 1، صفحہ 190۔ 201)۔
Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا اِن (اہلِ مکّہ)کےلیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماءِ بنی اسرائیل جانتے ہیں؟ 123

سورة الشُّعَرَآء 123 یعنی علمائے بنی اسرائیل اس بات سے واقف ہیں کہ جو تعلیم قرآن مجید میں دی گئی ہے وہ ٹھیک وہی تعلیم ہے جو سابق کتب آسمانی میں دی گئی تھی۔ اہل مکہ خود علم کتاب سے نا آشنا سہی، بنی اسرائیل کے اہل علم تو گرد و پیش کے علاقوں میں کثرت سے موجود ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھا اور نرالا " ذکر " نہیں ہے جو آج پہلی مرتبہ محمد بن عبد اللہ نے لا کر تمہارے سامنے رکھ دیا ہو، بلکہ ہزارہا برس سے خدا کے نبی یہی ذکر پے در پے لاتے رہے ہیں۔ کیا یہ بات اس امر کا اطمینان کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ تنزیل بھی اسی رب العالمین کی طرف سے ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل کی تھیں ؟ سیرت ابن ہشام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے زمانہ نزول سے قریب ہی یہ واقعہ پیش آ چکا تھا کہ حبش سے حضرت جعفر ؓ کی دعوت سن کر 20 آدمیوں کا ایک وفد مکہ آیا اور اس نے مسجد حرام میں کفار قریش کے سامنے رسول اللہ ﷺ سے مل کر دریافت کیا کہ آپ کیا تعلیم لائے ہیں۔ حضور ﷺ نے جواب میں ان کو قرآن کی کچھ آیات سنائیں۔ اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ اسی وقت آپ کے رسول برحق ہونے کی تصدیق کر کے آپ پر ایمان لے آئے۔ پھر جب وہ حضور ﷺ کے پاس سے اٹھے تو ابو جہل قریش کے چند لوگوں کے ساتھ ان سے ملا اور انہیں سخت ملامت کی۔ اس نے کہا " تم سے زیادہ احمق قافلہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ نامرادو، تمہارے ہاں کے لوگوں نے تو تمہیں اس لیے بھیجا تھا کہ اس شخص کے حالات کی تحقیق کر کے آؤ، مگر تم ابھی اس سے ملے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ بیٹھے "۔ وہ شریف لوگ ابو جہل کی اس زجر و توبیخ پر الجھنے کے بجائے سلام کر کے ہٹ گئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتے، آپ اپنے دین کے مختار ہیں اور ہم اپنے دین کے مختار ہمیں جس چیز میں اپنی خیر نظر آئی اسے ہم نے اختیار کرلیا (جلد دوم۔ صفحہ 32)۔ اسی واقعہ کا ذکر سورة قصص میں آیا ہے کہ اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہ ھُمْ بِہ یُؤْمِنُوْنَ ہ وَاِذَا یُتْلیٰ عَلَیْہِمْ قَالُؤآ اٰمَنَّا بِہٖ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَا اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ۔ .......... وَاِذَ سَمِعُوا الْلَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ ، لَا نَبْتَغِی الْجَاھِلِیْنَ۔ (آیات 52۔ 55)۔ " جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ انہیں سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، ہم اس سے پہلے بھی اسی دین اسلام پر تھے ....... اور جب انہوں نے بیہودہ باتیں سنیں تو الجھنے سے پرہیز کیا اور بولے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہو، ہم جاہلوں کا طریقہ پسند نہیں کرتے (کہ چار باتیں تم ہمیں سناؤ تو ہم تمہیں سنائیں) "۔