26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 26:81–82

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور جس سے میں اُمید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔“ 59

سورة الشُّعَرَآء 59 یہ تیسری وجہ ہے جس کی بنا پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت درست نہیں ہو سکتی۔ انسان کا معاملہ اپنے خدا کے ساتھ صرف اس دنیا اور اس کی زندگی تک محدود نہیں ہے کہ وجود کی سرحد میں قدم رکھنے سے شروع ہو کر موت کی آخری ہچکی پر وہ ختم ہوجائے، بلکہ اس کے بعد اس کا انجام بھی سراسر خدا ہی کے ہاتھ میں ہے، وہی خدا جو اس کو وجود میں لایا ہے، آخر کار اسے اس دنیا سے واپس بلا لیتا ہے اور کوئی طاقت دنیا میں ایسی نہیں ہے جو انسان کی اس واپسی کو روک سکے۔ آج تک کسی دوا یا طبیب یا دیوی دیوتا کی مداخلت اس ہاتھ کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جو انسان کو یہاں سے نکال لے جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت سے انسان بھی جنہیں معبود بنا کر انسانوں نے پوج ڈالا ہے، خود اپنی موت کو نہیں ٹال سکے ہیں۔ صرف خدا ہی اس امر کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس شخص کو کب اس جہان سے واپس طلب کرنا ہے، اور جس وقت جس کی طلبی بھی اس کے ہاں سے آجاتی ہے اسے چارو ناچار جانا ہی پڑتا ہے۔ پھر وہی خدا ہے جو اکیلا اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ کب ان تمام انسانوں کو جو دنیا میں پیدا ہوئے تھے دوبارہ وجود میں لائے اور ان سے ان کی حیات دنیا کا محاسبہ کرے۔ اس وقت بھی کسی کی یہ طاقت نہ ہوگی کہ بعث بعد الموت سے کسی کو بچا سکے یا خود بچ سکے۔ ہر ایک کو اس کے حکم پر اٹھنا ہی ہوگا اور اس کی عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔ پھر وہی اکیلا خدا اس عدالت کا قاضی و حاکم ہوگا۔ کوئی دوسرا اس کے اختیارات میں ذرہ برابر بھی شریک نہ ہوگا۔ سزا دینا یا معاف کرنا بالکل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہوگا۔ کسی کی یہ طاقت نہ ہوگی کہ جسے وہ سزا دینا چاہے اس کو بخشوا لے جائے، یا جسے وہ بخشنا چاہے اس سزا دلوا سکے۔ دنیا میں جن کو بخشوا لینے کا مختار سمجھا جاتا ہے وہ خود اپنی بخشش کے لیے بھی اسی کے فضل و کرم کی آس لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان حقائق کی موجودگی میں جو شخص خدا کے سوا کسی کی بندگی کرتا ہے وہ اپنی بد انجامی کا خود سامان کرتا ہے۔ دنیا سے لے کر آخرت تک آدمی کی ساری قسمت تو ہو خدا کے اختیار میں، اور اسی قسمت کے بناؤ کی خاطر آدمی رجوع کرے ان کی طرف جن کے اختیار میں کچھ نہیں ہے ! اس سے بڑھ کر شامت اعمال اور کیا ہو سکتی ہے۔
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دُعا کی)”اے میرے ربّ، مجھے حکم عطا کر۔ 60 اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ مِلا۔ 61

سورة الشُّعَرَآء 60 " حکم " سے مراد " نبوت " یہاں درست نہیں ہے، کیونکہ جس وقت کی یہ دعا ہے اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کو نبوت عطا ہوچکی تھی۔ اور اگر بالفرض یہ دعا اس سے پہلے کی بھی ہو تو نبوت کسی کی طلب پر اسے عطا نہیں کی جاتی بلکہ وہ ایک وہبی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ خود ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اس لیے یہاں حکم سے مراد علم، حکمت، فہم صحیح اور قوت فیصلہ ہی لینا درست ہے، اور حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا قریب قریب اسی معنی میں ہے جس میں نبی ﷺ سے یہ دعا منقول ہے کہ اَرِنَا الْاَ شْیَآءَ کَمَاھِیَ یعنی ہم کو اس قابل بنا کہ ہم ہر چیز کو اسی نظر سے دیکھیں جیسی کہ وہ فی الواقع ہے اور ہر معاملہ میں وہی رائے قائم کریں جیسی کہ اس کی حقیقت کے لحاظ سے قائم کی جانی چاہیے۔ سورة الشُّعَرَآء 61 یعنی دنیا میں مجھے صالح سوسائٹی دے اور آخرت میں میرا حشر صالحوں کے ساتھ کر۔ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے، صالح لوگوں کے ساتھ کسی کا حشر ہونا اور اس کا نجات پانا گویا ہم معنی ہیں، اس لیے یہ تو ہر اس انسان کی دعا ہونی ہی چاہیے جو حیات بعد الموت اور جزا و سزا پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن دنیا میں بھی ایک پاکیزہ روح کی دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایک بد اخلاق فاسق و فاجر معاشرے میں زندگی بسر کرنے کی مصیبت سے نجات دے اور اس کو نیک لوگوں کے ساتھ ملائے۔ معاشرے کا بگاڑ جہاں چاروں طرف محیط ہو وہاں ایک آدمی کے لیے صرف یہی چیز ہمہ وقت اذیت کی موجب نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گردو پیش گندگی ہی گندگی پھیلی ہوئی دیکھتا ہے، بلکہ اس کے لیے خود پاکیزہ رہنا اور اپنے آپ کو گندگی کی چھینٹوں سے بچا کر رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ایک صالح آدمی اس وقت تک بےچین ہی رہتا ہے جب تک یا تو اس کا اپنا معاشرہ پاکیزہ نہ ہوجائے، یا پھر اس سے نکل کر وہ کوئی دوسری ایسی سوسائیٹی نہ پالے جو حق و صداقت کے اصولوں پر چلنے والی ہو۔
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر۔ 62

سورة الشُّعَرَآء 62 یعنی بعد کی نسلیں مجھے خیر کے ساتھ یاد کریں۔ میں دنیا سے وہ کام کر کے نہ جاؤں کہ نسل انسانی میرے بعد میرا شمار ان ظالموں میں کرے جو خود بگڑے ہوئے تھے اور دنیا کو بگاڑ کر چلے گئے، بلکہ مجھ سے وہ کارنامے انجام پائیں جن کی بدولت رہتی دنیا تک میری زندگی خلق خدا کے لیے روشنی کا مینار بنی رہے اور مجھے انسانیت کے محسنوں میں شمار کیا جائے۔ یہ محض شہرت و ناموری کی دعا نہیں ہے بلکہ سچی شہرت اور حقیقی ناموری کی دعا ہے جو لازماً ٹھوس خدمات اور بیش قیمت کارناموں ہی کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اس چیز کا حاصل ہونا اپنے اندر دو فائدے رکھتا ہے۔ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ انسانی نسلوں کو بری مثالوں کے مقابلے میں ایک نیک مثال ملتی ہے جس سے وہ بھلائی کا سبق حاصل کرتی ہیں اور ہر سعید روح کو راہ راست پر چلنے میں اس سے مدد ملتی ہے۔ اور آخرت میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ ایک آدمی کی چھوڑی ہوئی نیک مثال سے قیامت تک جتنے لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہوئی ہو ان کا ثواب اس شخص کو بھی ملے گا اور قیامت کے روز اس کے اپنے اعمال کے ساتھ کروڑوں بندگان خدا کی یہ گواہی بھی اس کے حق میں موجود ہوگی کہ وہ دنیا میں بھلائی کے چشمے رواں کر کے آیا ہے جن سے نسل پر نسل سیراب ہوتی رہی ہے۔
Ayahs 26:85–86

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے 63

سورة الشُّعَرَآء 63 بعض مفسرین نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعائے مغفرت کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ مغفرت بہرحال اسلام کے ساتھ مشروط ہے اس لیے آنجناب کا اپنے والد کی مغفرت کے لیے دعا کرنا گویا اس بات کی دعا کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ لیکن قرآن مجید میں اس کے متعلق مختلف مقامات پر جو تصریحات ملتی ہیں وہ اس توجیہ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کے ظلم سے تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے لگے تو انہوں نے رخصت ہوتے وقت فرمایا سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیٓ اِنَّہ کَانَ بِیْ حَفِیًّا (مریم، آیت 47) " آپ کو سلام ہے، میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا، وہ میرے اوپر نہایت مہربان ہے "۔ اسی وعدے کی بنا پر انہوں نے یہ دعائے مغفرت نہ صرف اپنے باپ کے لیے کی بلکہ ایک دوسرے مقام پر بیان ہوا ہے کہ ماں اور باپ دونوں کے لیے کی رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ (ابرہیم۔ آیت 41)۔ لیکن بعد میں انہیں خود یہ احساس ہوگیا کہ ایک دشمن حق، چاہے وہ ایک مومن کا باپ ہی کیوں نہ ہو، دعائے مغفرت کا مستحق نہیں ہے۔ وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّ عَدَھَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ اَنَّہ عَدُوٌّ للہِ تَبَرَّأ مِنْہُ (التوبہ۔ آیت 114) " ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کرنا محض اس وعدے کی وجہ سے تھا جو اس نے اس سے کیا تھا۔ مگر جب یہ بات اس پر کھل گئی کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس نے اس سے اظہار بیزاری کردیا "۔
Ayah 26:87

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے اُس دن رُسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اُٹھائے جائیں گے 64

سورة الشُّعَرَآء 64 یعنی قیامت کے روز یہ رسوائی مجھے نہ دکھا کہ میدان حشر میں تمام اوّلین و آخرین کے سامنے ابراہیم ؑ کا باپ سزا پا رہا ہو اور ابراہیم ؑ کھڑا دیکھ رہا ہو۔
Ayahs 26:88–89

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔“ 65

سورة الشُّعَرَآء 65 ان دو فقروں کے متعلق یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا حصہ ہیں یا انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اگر پہلی بات مانی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ کے لیے یہ دعا کرتے وقت خود بھی ان حقائق کا احساس رکھتے تھے۔ اور دوسری بات تسلیم کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی دعا پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے کام اگر کوئی چیز آسکتی ہے تو وہ مال اور اولاد نہیں بلکہ صرف قلب سلیم ہے، ایسا دل جو کفر و شرک و نافرمانی اور فسق و فجور سے پاک ہو۔ مال اور اولاد بھی قلب سلیم ہی کے ساتھ نافع ہو سکتے ہیں، اس کے بغیر نہیں۔ مال صرف اس صورت میں وہاں مفید ہوگا جبکہ آدمی نے دنیا میں ایمان و اخلاص کے ساتھ اسے اللہ کی راہ میں صرف کیا ہو، ورنہ کروڑ پتی اور ارب پتی آدمی بھی وہاں کنگال ہوگا۔ اولاد بھی صرف اسی حالت میں وہاں کام آسکے گی جبکہ آدمی نے دنیا میں اسے اپنی حد تک ایمان اور حسن عمل کی تعلیم دی ہو، ورنہ بیٹا اگر نبی بھی ہو تو وہ باپ سزا پانے سے نہیں بچ سکتا جس کا اپنا خاتمہ کفر و معصیت پر ہوا ہو اور اولاد کی نیکی میں جس کا اپنا کوئی حصہ نہ ہو۔
Ayah 26:90

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

(اُس روز 66)جنّت پرہیز گاروں کے قریب لے آئی جائے گی

سورة الشُّعَرَآء 66 یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی پوری عبارت حضرت ابراہیم ؑ کے کلام کا جز نہیں معلوم ہوتی بلکہ اس کا مضمون صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔
Ayah 26:91

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی 67

سورة الشُّعَرَآء 67 یعنی ایک طرف متقی لوگ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کیسی نعمتوں سے لبریز جگہ ہے جہاں اللہ کے فضل سے ہم جانے والے ہیں۔ اور دوسری طرف گمراہ لوگ ابھی میدان حشر ہی میں ہوں گے کہ ان کے سامنے اس جہنم کا ہولناک منظر پیش کردیا جائے گا جس میں انہیں جانا ہے۔
Ayahs 26:92–94

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟"

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ

سورة الشُّعَرَآء 68 اصل میں لفظ کُبْکِبُوْا فرمایا گیا ہے جس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ ایک کے اوپر ایک دھکیل دیا جائے گا، دوسرے یہ کہ وہ قعر جہنم تک لڑھکتے چلے جائیں گے۔
Ayahs 26:95–99

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے۔ 68

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

کہ "خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا۔ 69

سورة الشُّعَرَآء 69 یہ پیروؤں اور معتقدوں کی طرف سے ان لوگوں کی تواضع ہو رہی ہوگی جنہیں یہی لوگ دنیا میں بزرگ، پیشوا اور رہنما مانتے رہے تھے، جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے، جن کے قول و عمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں گزرانی جاتی تھیں۔ آخرت میں جا کر جب حقیقت کھلے گی اور پیچھے چلنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ آگے چلنے والے خود کہاں آئے ہیں اور ہمیں کہاں لے آئے ہیں تو یہی معتقدین ان کو مجرم ٹھہرائیں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ عالم آخرت کا یہ عبرت ناک نقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے دیکھ لیں کہ وہ ٹھیک بھی جا رہا ہے یا نہیں۔ سورة اعراف میں فرمایا کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا ؕ حَتّیٰٓ اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعاً ۙ قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّارِ ؕ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ۔ (آیت 38) ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے ساتھ کے گروہ پر لعنت کرتا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے متعلق کہے گا کہ اے ہمارے رب، یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، اب انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔ رب فرمائے گا سب ہی کے لیے دوہرا عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔ سورة حٰم السجدہ میں ارشاد ہوا ہے وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَا اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْھُمَا تَحْتَ اَقدَامِنا لِیَکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ۔ (آیت 29)۔ اور کافر اس وقت کہیں گے کہ اے پروردگار، ان جنوں اور انسانوں کو ہمارے سامنے لا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں اور وہ پست و ذلیل ہو کر رہیں۔ یہی مضمون سورة احزاب میں ارشاد ہوا ہے وَقَالُوْا رَبَّنَآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا 5 رَبَّنَآ اٰتِھِمْ ضعفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْناً کَبِیْراً۔ (آیات 67۔ 68) اور وہ کہیں گے اے رب، ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ اے رب، ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔
Ayah 26:100

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے 70

سورة الشُّعَرَآء 70 یعنی جنہیں ہم دنیا میں سفارشی سمجھتے تھے اور جن کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا دامن جس نے تھام لیا بس اس کا بیڑا پار ہے، ان میں سے آج کوئی بھی سعی سفارش کے لیے زبان کھولنے والا نہیں ہے۔
Ayah 26:101

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی جگری دوست۔ 71

سورة الشُّعَرَآء 71 یعنی کوئی ایسا بھی نہیں ہے جو ہمارا غم خوار اور ہمارے لیے کڑھنے والا ہو، چاہے ہم کو چھڑا نہ سکے مگر کم از کم اسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی ہی ہو۔ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ آخرت میں دوستیاں صرف اہل ایمان ہی کی باقی رہ جائیں گی۔ رہے گمراہ لوگ، تو وہ دنیا میں چاہے کیسے ہی جگری دوست رہے ہوں، وہاں پہنچ کر ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں گے، ایک دوسرے کو مجرم ٹھہرائیں گے اور اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے کر ہر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔ اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ۔ (الزخرف۔ آیت 67) " دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقین (کی دوستیاں قائم رہیں گی) "۔
Ayah 26:102

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں۔“ 72

سورة الشُّعَرَآء 72 اس تمنا کا جواب بھی قرآن میں دے دیا گیا ہے کہ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہٗ۔ (الانعام۔ آیت 28) " اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے "۔ رہا یہ سوال کہ انہیں واپسی کا موقع کیوں نہ دیا جائے گا، اس کے وجوہ پر مفصل بحث ہم سورة مؤمنون حواشی 90 تا 92 میں کرچکے ہیں۔
Ayah 26:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے 73 ، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں

سورة الشُّعَرَآء 73 حضرت ابراہیم ؑ کے اس قصے میں نشانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ مشرکین عرب اور بالخصوص قریش کے لوگ ایک طرف تو حضرت ابراہیم ؑ کی پیروی کا دعویٰ اور ان کے ساتھ انتساب پر فخر کرتے ہیں مگر دوسری طرف اسی شرک میں مبتلا ہیں جس کے خلاف جدو جہد کرتے ان کی عمر بیت گئی تھی، اور ان کے لائے ہوئے دین کی دعوت آج جو نبی پیش کر رہا ہے اس کے خلاف ٹھیک وہی کچھ کر رہے ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ کی قوم نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ تو شرک کے دشمن اور دعوت توحید کے علم بردار تھے، تم خود بھی جانتے اور مانتے ہو کہ حضرت ممدوح مشرک نہ تھے، مگر پھر بھی تم اپنی ضد پر قائم ہو۔ دوسرا پہلو اس قصہ میں نشانی کا یہ ہے کہ قوم ابراہیم ؑ دنیا سے مٹ گئی اور ایسی مٹی کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا، اس میں سے اگر کسی کو بقا نصیب ہوا تو صرف ابراہیم ؑ اور ان کے مبارک فرزندوں (اسماعیل ؑ و اسحاق ؑ کی اولاد ہی کو نصیب ہوا۔ قرآن میں اگرچہ اس عذاب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کے نکل جانے کے بعد ان کی قوم پر آیا، لیکن اس کا شمار معذب قوموں ہی میں کیا گیا ہے، اَلَمْ یَاْتِھِمْ نَبَاءُ الَّذِیْنَ مِنْ قَٓبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ قَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْ تَفِکٰتِ (التوبہ۔ آیت 70)۔
Ayahs 26:104–105

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

74 قومِ نوحؑ نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ 75

سورة الشُّعَرَآء 74 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات 59 تا 64۔ یونس، آیات 71 تا 73۔ ہود، آیات 25 تا 48۔ بنی اسرائیل، آیت 3۔ الانبیاء، آیات 76۔ 77۔ المؤمنون، آیات 23 تا 30۔ الفرقان، آیت 37۔ اس کے علاوہ قصہ نوح ؑ کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں العنکبوت آیات 14۔ 15۔ الصّٰفّٰت، 75 تا 82۔ القمر، 9۔ 15۔ سورة نوح مکمل۔ سورة الشُّعَرَآء 75 اگرچہ انہوں نے ایک ہی رسول کو جھٹلایا تھا، لیکن چونکہ رسول کی تکذیب درحقیقت اس دعوت اور پیغام کی تکذیب ہے جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے، اس لیے جو شخص یا گروہ کسی ایک رسول کا بھی انکار کر دے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمام رسولوں کا منکر ہے۔ یہ ایک بڑی اہم اصولی حقیقت ہے جسے قرآن میں جگہ جگہ مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ حتّیٰ کہ وہ لوگ بھی کافر ٹھہرائے گئے ہیں جو صرف ایک نبی کا انکار کرتے ہوں، باقی تمام انبیاء کو مانتے ہوں۔ اس لیے کہ جو شخص اصل پیغام رسالت کا ماننے والا ہے وہ تو لازماً ہر رسول کو مانے گا۔ مگر جو شخص کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ اگر دوسرے رسولوں کو مانتا بھی ہے تو کسی عصبیت یا تقلید آبائی کی بنا پر مانتا ہے، نفس پیغام رسالت کو نہیں مانتا، ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہی حق ایک پیش کرے تو یہ اسے مان لے اور وہی دوسرا پیش کرے تو یہ اس کا انکار کر دے۔
Ayah 26:106

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

یاد کرو جبکہ اُن کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا”کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ 76

سورة الشُّعَرَآء 76 دوسرے مقامات پر حضرت نوح ؑ کا اپنی قوم سے ابتدائی خطاب ان الفاظ میں آیا ہے اُعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (المؤمنون آیت 23) " اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے، تو کیا تم ڈرتے نہیں ہو " ؟ اُعْبُدُوا اللہَ وَاتَّقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِ ہ (نوح آیت 3)۔ " اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ " اس لیے یہاں حضرت نوح ؑ کے اس ارشاد کا مطلب محض خوف نہیں بلکہ اللہ کا خوف ہے۔ یعنی کیا تم اللہ سے بےخوف ہوگئے ؟ اس کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہوئے تم کچھ نہیں سوچتے کہ اس باغیانہ روش کا انجام کیا ہوگا ؟ دعوت کے آغاز میں خوف دلانے کی حکمت یہ ہے کہ جب تک کسی شخص یا گروہ کو اس کے غلط رویے کی بد انجامی کا خطرہ نہ محسوس کرایا جائے، وہ صحیح بات اور اس کے دلائل کی طرف توجہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ راہ راست کی تلاش آدمی کے دل میں پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب اس کو یہ فکر دامن گیر ہوجاتی ہے کہ کہیں میں کسی ٹیڑھے راستے پر تو نہیں جا رہا ہوں جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو۔
Ayah 26:107

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں 77

سورة الشُّعَرَآء 77 اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ میں اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر یا کم و بیش کر کے بیان نہیں کرتا بلکہ جو کچھ خدا کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے وہی بےکم وکاست تم تک پہنچا دیتا ہوں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ میں ایک ایسا رسول ہوں جسے تم پہلے سے ایک امین اور راستباز آدمی کی حیثیت سے جانتے ہو۔ جب میں خلق کے معاملے میں خیانت کرنے والا نہیں ہوں تو خدا کے معاملے میں کیسے خیانت کرسکتا ہوں۔ لہٰذا تمہیں باور کرنا چاہیے کہ جو کچھ میں خدا کی طرف سے پیش کر رہا ہوں اس میں بھی ویسا ہی امین ہوں جیسا دنیا کے معاملات میں آج تک تم نے مجھے امین پایا ہے۔
Ayah 26:108

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ 78

سورة الشُّعَرَآء 78 یعنی میرے رسول امین ہونے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تم دوسرے سب مطاعوں کی اطاعت چھوڑ کر صرف میری اطاعت کرو اور جو احکام میں تمہیں دیتا ہوں ان کے آگے سر تسلیم خم کردو، کیونکہ میں خداوند عالم کی مرضی کا نمائندہ ہوں، میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور میری نافرمانی محض میری ذات کی نافرمانی نہیں بلکہ براہ راست خدا کی نافرمانی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کا حق صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ جن لوگوں کی طرف وہ رسول بنا کر بھیجا گیا ہے وہ اس کی صداقت تسلیم کرلیں اور اسے رسول بر حق مان لیں۔ بلکہ اس کو خدا کا سچا رسول مانتے ہی آپ سے آپ یہ بھی لازم آجاتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور ہر دوسرے قانون کو چھوڑ کر صرف اسی کے لائے ہوئے قانون کا اتباع کیا جائے۔ رسول کو رسول نہ ماننا، یا رسول مان کر اس کی اطاعت نہ کرنا، دونوں صورتیں دراصل خدا سے بغاوت کی ہم معنی ہیں اور دونوں کا نتیجہ خدا کے غضب میں گرفتار ہونا ہے۔ اسی لیے ایمان اور اطاعت کے مطالبے سے پہلے " اللہ سے ڈرو " کا تنبیہی فقرہ ارشاد فرمایا گیا تاکہ ہر مخاطب اچھی طرح کان کھول کر سن لے کہ رسول کی رسالت تسلیم نہ کرنے یا اس کی اطاعت قبول نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہوگا۔
Ayah 26:109

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔ 79

سورة الشُّعَرَآء 79 یہ اپنی صداقت پر حضرت نوح کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل یہ تھی کہ دعوائے نبوت سے پہلے میری ساری زندگی تمہارے درمیان گزری ہے اور آج تک تم مجھے ایک امین آدمی کی حیثیت سے جانتے رہے ہو۔ اور دوسری دلیل یہ ہے کہ میں ایک بےغرض آدمی ہوں، تم کسی ایسے ذاتی فائدے کی نشان دہی نہیں کرسکتے جو اس کام سے مجھے حاصل ہو رہا ہو یا جس کے حصول کی میں کوشش کر رہا ہوں۔ اس بےغرضانہ طریقہ سے کسی ذاتی نفع کے بغیر جب میں اس دعوت حق کے کام میں شب و روز اپنی جان کھپا رہا ہوں، اپنے اوقات اور اپنی محنتیں صرف کر رہا ہوں اور ہر طرح کی تکلیفیں اٹھا رہا ہوں، تو تمہیں باور کرنا چاہیے کہ میں اس کام میں مخلص ہوں، ایمانداری کے ساتھ جس چیز کو حق جانتا ہوں اور جس کی پیروی میں خلق خدا کی فلاح دیکھتا ہوں وہی پیش کر رہا ہوں، کوئی نفسانی جذبہ اس کا محرک نہیں ہے کہ اس کی خاطر میں جھوٹ گھڑ کر لوگوں کو دھوکا دوں۔ یہ دونوں دلیلیں ان اہم دلائل میں سے ہیں جو قرآن مجید نے بار بار انبیاء (علیہم السلام) کی صداقت کے ثبوت میں پیش کی ہیں اور جن کو وہ نبوت کے پرکھنے کی کسوٹی قرار دیتا ہے۔ نبوت سے پہلے جو شخص ایک معاشرے میں برسوں زندگی بسر کرچکا ہو اور لوگوں نے ہمیشہ ہر معاملہ میں اسے سچا اور راستباز آدمی پایا ہو، اس کے متعلق کوئی غیر متعصب آدمی مشکل ہی سے یہ شک کرسکتا ہے کہ وہ یکایک خدا کے نام سے اتنا بڑا جھوٹ بولنے پر اتر آئے گا کہ اسے نبی نہ بنایا گیا ہو اور وہ کہے کہ خدا نے مجھے نبی بنایا ہے۔ پھر دوسری اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ ایسا سفید جھوٹ کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ تو نہیں گھڑا کرتا۔ لا محالہ کوئی نفسانی غرض ہی اس فریب کاری کی محرک ہوتی ہے۔ اور جب کوئی شخص اپنی اغراض کے لیے اس طرح کی فریب کاری کرتا ہے تو اخفا کی تمام کوششوں کے باوجود اس کے آثار نمایاں ہو کر رہتے ہیں۔ اسے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے پڑتے ہیں جن کے گھناؤنے پہلو گرد و پیش کے معاشرے میں چھپائے نہیں چھپ سکتے۔ اور مزید برآں وہ اپنی پیری کی دکان چمکا کر کچھ نہ کچھ اپنا بھلا کرتا نظر آتا ہے۔ نذرانے وصول کیے جاتے ہیں، لنگر جاری ہوتے ہیں، جائدادیں بنتی ہیں، زیور گھڑے جاتے ہیں، اور فقیری کا آستانہ دیکھتے دیکھتے شاہی دربار بنتا چلا جاتا ہے۔ لیکن جہاں اس کے بر عکس نبوت کا دعویٰ کرنے والے شخص کی ذاتی زندگی ایسے فضائل اخلاق سے لبریز نظر آئے کہ اس میں کہیں ڈھونڈے سے بھی کسی فریب کارانہ ہتھکنڈے کا نشان نہ مل سکے، اور اس کام سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھانا تو در کنار، وہ اپنا سب کچھ اسی خدمت بےمزد کی نذر کر دے، وہاں جھوٹ کا شبہ کرنا کسی معقول انسان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ کوئی شخص جو عقل بھی رکھتا ہو اور بےانصاف بھی نہ ہو، یہ تصور نہیں کرسکتا کہ آخر ایک اچھا بھلا آدمی، جو اطمینان کی زندگی بسر کر رہا تھا، کیوں بلا وجہ ایک جھوٹا دعویٰ لے کر اٹھے جبکہ اسے کوئی فائدہ اس جھوٹ سے نہ ہو، بلکہ وہ الٹا اپنا مال، اپنا وقت اور اپنی ساری قوتیں اور محنتیں اس کام میں کھپا رہا ہو اور بدلے میں دنیا بھر کی دشمنی مول لے رہا ہو۔ ذاتی مفاد کی قربانی آدمی کے مخلص ہونے کی سب سے زیادہ نمایاں دلیل ہوتی ہے۔ یہ قربانی کرتے جس کو سالوں بیت جائیں اسے بد نیت یا خود غرض سمجھنا خود اس شخص کی اپنی بد نیتی کا ثبوت ہوتا ہے جو ایسے آدمی پر یہ الزام لگائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المؤمنون، حاشیہ 70)۔
Ayah 26:110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے)میری اطاعت کرو۔“ 80

سورة الشُّعَرَآء 80 اس فقرے کی تکرار بےوجہ نہیں ہے۔ پہلے یہ ایک اور مناسبت سے فرمایا گیا تھا اور یہاں ایک دوسری مناسبت سے اس کو دہرایا گیا ہے۔ اوپر اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ سے فاتَّقُوا اللہَ کے فقرے کی مناسبت یہ تھی کہ جو شخص اللہ کی طرف سے ایک امانت دار رسول ہے، جس کی صفت امانت سے تم لوگ خود بھی واقف ہو، اسے جھٹلاتے ہوئے خدا سے ڈرو۔ اور یہاں مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ سے اس فقرے کی مناسبت یہ ہے کہ جو شخص اپنے کسی ذاتی فائدے کے بغیر محض اصلاح خلق کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ کام کر رہا ہے اس کی نیت پر حملہ کرتے ہوئے خدا سے ڈرو۔ اس بات کو اتنا زور دے کر بیان کرنے کی وجہ یہ تھی کہ قوم کے سردار حضرت نوح کی مخلصانہ دعوت حق میں کیڑے ڈالنے کے لیے ان پر یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ شخص دراصل یہ ساری دوڑ دھوپ اپنی بڑائی کے لیے کر رہا ہے یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ (المؤمنون، آیت 24)۔ " یہ چاہتا ہے کہ تم پر فضیلت حاصل کرے "۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا”کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟“ 81

سورة الشُّعَرَآء 81 یہ لوگ جنہوں نے حضرت نوح کو دعوت حق کا یہ جواب دیا، ان کی قوم کے سردار، شیوخ اور اشراف تھے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اسی قصے کے سلسلے میں بیان ہوا ہے فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہ مَا نَرٰکَ اِلَّا بَشَراً مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّأیِ ، وَمَا نَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ (ہود، آیت 27)۔ " اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہمیں تو تم اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتے کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے، اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ان لوگوں نے بےسمجھے بوجھے اختیار کرلی ہے جو ہمارے ہاں کے اراذل ہیں، اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے بڑھے ہوئے ہو "۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح پر ایمان لانے والے زیادہ تر غریب لوگ، چھوٹے چھوٹے پیشہ ور لوگ، یا ایسے نوجوان تھے جن کی قوم میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ رہے اونچے طبقہ کے با اثر اور خوش حال لوگ، تو وہ ان کی مخالفت پر کمر بستہ تھے اور وہی اپنی قوم کے عوام کو طرح طرح کے فریب دے دے کر اپنے پیچھے لگائے رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں جو دلائل وہ حضرت نوح ؑ کے خلاف پیش کرتے تھے ان میں سے ایک استدلال یہ تھا کہ اگر نوح کی دعوت میں کوئی وزن ہوتا تو قوم کے امراء علماء، مذہبی پیشوا، معززین اور سمجھ دار لوگ اسے قبول کرتے۔ لیکن ان میں سے تو کوئی بھی اس شخص پر ایمان نہیں لایا ہے۔ اس کے پیچھے لگے ہیں ادنیٰ طبقوں کے چند نادان لوگ جو کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ اب کیا ہم جیسے بلند پایہ لوگ ان بےشعور اور کمین لوگوں کے زمرے میں شامل ہوجائیں ؟ بعینہ یہی بات قریش کے کفار نبی ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ ان کے پیرو یا تو غلام اور غریب لوگ ہیں یا چند نادان لڑکے، قوم کے اکابر اور معززین میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں ہے۔ ابوسفیان نے ہرقل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بھی یہی کہا تھا کہ تَبِعَہ منا الضعفآء والمسَاکین (محمد ﷺ کی پیروی ہمارے غریب اور کمزور لوگوں نے قبول کی ہے) گویا ان لوگوں کا طرز فکر یہ تھا کہ حق صرف وہ ہے جسے قوم کے بڑے لوگ حق مانیں کیونکہ وہی عقل اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، رہے چھوٹے لوگ، تو ان کا چھوٹا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بےعقل اور ضعیف الرائے ہیں، اس لیے ان کا کسی بات کو مان لینا اور بڑے لوگوں کا رد کردینا صاف طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک بےوزن بات ہے۔ بلکہ کفار مکہ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دلیل لاتے تھے کہ پیغمبر بھی کوئی معمولی آدمی نہیں ہو سکتا، خدا کو اگر واقعی کوئی پیغمبر بھیجنا منظور ہوتا تو کسی بڑے رئیس کو بناتا، وَقَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (الزخرف، آیت 3) " وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن ہمارے دونوں شہروں (مکہ اور طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا "۔
Ayahs 26:112–113

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوحؑ نے کہا "میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب تو میرے ربّ کے ذمّہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو۔ 82

سورة الشُّعَرَآء 82 یہ ان کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، ان کے اعتراض کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ جو لوگ غریب، محنت پیشہ اور ادنیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والے ہیں یا معاشرے کے پست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں کوئی ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی، اور وہ علم و عقل اور سمجھ بوجھ سے عاری ہوتے ہیں، اس لیے نہ ان کا ایمان کسی فکر و بصیرت پر مبنی، نہ انکا اعتقاد لائق اعتبار، اور نہ ان کے اعمال کا کوئی وزن۔ حضرت نوح ؑ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ میرے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ جو شخص میرے پاس آ کر ایمان لاتا ہے اور ایک عقیدہ قبول کر کے اس کے مطابق عمل کرنے لگتا ہے، اس کے اس فعل کی تہ میں کیا محرکات کام کر رہے ہیں اور وہ کتنی کچھ قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ ان چیزوں کا دیکھنا اور ان کا حساب لگانا تو خدا کا کام ہے، میرا اور تمہارا کام نہیں ہے۔
Ayahs 26:114–115

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس ایک صاف صاف متنبّہ کر دینے والا آدمی ہوں۔“ 83

سورة الشُّعَرَآء 83 یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ ان کے اعتراض میں یہ بات بھی مضمر تھی کہ ایمان لانے والوں کا جو گروہ حضرت نوح ؑ کے گرد جمع ہو رہا ہے یہ چونکہ ہمارے معاشرے کے ادنیٰ طبقات پر مشتمل ہے، اس لیے اونچے طبقوں میں سے کوئی شخص اس زمرے میں شامل ہونا گوارا نہیں کرسکتا۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اے نوح ؑ کیا تم پر ایمان لا کر ہم اپنے آپ کو اراذل اور سفہاء میں شمار کرائیں ؟ کیا ہم غلاموں، نوکروں، مزدوروں اور کام پیشہ لوگوں کی صف میں آ بیٹھیں ؟ حضرت نوح ؑ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ میں آخر یہ غیر معقول طرز عمل کیسے اختیار کرسکتا ہوں کہ جو لوگ میری بات نہیں مانتے ان کے تو پیچھے پھرتا رہوں اور جو میری بات مانتے ہیں انہیں دھکے دے کر نکال دوں۔ میری حیثیت تو ایک ایسے بےلاگ آدمی کی ہے جس نے علی الاعلان کھڑے ہو کر پکار دیا ہے کہ جس طریقے پر تم لوگ چل رہے ہو یہ باطل ہے اور اس پر چلنے کا انجام تباہی ہے، اور جس طریقے کی طرف میں رہنمائی کر رہا ہوں اسی میں تم سب کی نجات ہے۔ اب جس کا جی چاہے میری اس تنبیہ کو قبول کر کے سیدھے راستے پر آئے اور جس کا جی چاہے آنکھیں بند کر کے تباہی کی راہ چلتا رہے۔ میں یہ نہیں کرسکتا کہ جو اللہ کے بندے میری اس تنبیہ کو سن کر سیدھا راستہ اختیار کرنے کے لیے میرے پاس آئیں ان کی ذات، برادری، نسب اور پیشہ پوچھوں اور اگر وہ آپ لوگوں کی نگاہ میں " کمین " ہوں تو ان کو واپس کر کے اس انتظار میں بیٹھا رہوں کہ " شریف " حضرات کب تباہی کا راستہ چھوڑ کر نجات کی راہ پر قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ ٹھیک یہی معاملہ ان آیات کے نزول کے زمانے میں نبی ﷺ اور کفار مکہ کے درمیان چل رہا تھا اور اسی کو نگاہ میں رکھنے سے یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ حضرت نوح اور ان کی قوم کے سرداروں کی یہ گفتگو یہاں کیوں سنائی جا رہی ہے۔ کفار مکہ کے بڑے بڑے سردار نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم آخر بلال اور عمار اور صہیب جیسے غلاموں اور کام پیشہ لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی صف سے یہ غریب لوگ نکالے جائیں تب کوئی امکان اس کا نکل سکتا ہے کہ اشراف ادھر کا رخ کریں، ورنہ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ محمود اور ایاز ایک صف میں کھڑے ہوجائیں۔ اس پر نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بالکل صاف اور دو ٹوک الفاظ میں یہ ہدایت دی گئی کہ حق سے منہ موڑنے والے متکبروں کی خاطر ایمان قبول کرنے والے غریبوں کو دھکے نہیں دیے جاسکتے اَمَّا مَنِ اسْتَغْنیٰ ۙ فَاَنْتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّیٰ ؕ وَاَ مَّا مَنْ جَآءَکَ یَسْعٰی ۙ وَھُوَ یَخْشیٰ ۙ فَاَ نْتَ عَنْہُ تَلَھّیٰ کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃً فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہ ۔ (آیات 5 تا 13) اے محمد ﷺ ، جس نے بےنیازی برتی تم اس کے پیچھے پڑتے ہو ؟ حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے۔ اور جو تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اس حال میں کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے، تم اس سے بےرخی برتتے ہو ؟ ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بالْغَدٰوَۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجُھَہ ؕ مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْھِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَھُمْٰ فَتَکُوْ نَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ 5 وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَھٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللہُ عَلَیْھِمْ مِّنْ بَیْنِنَا ؕ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ ہ (الانعام۔ آیت 52)۔ نہ دور پھینکو ان لوگوں کو جو شب و روز اپنے رب کو پکارتے ہیں محض اس کی خوشنودی کی خاطر۔ ان کا کوئی حساب تمہارے ذمہ نہیں اور تمہارا کوئی حساب ان کے ذمہ نہیں۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے۔ ہم نے تو اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈال دیا ہے تاکہ وہ کہیں " کیا ہمارے درمیان بس یہی لوگ رہ گئے تھے جن پر اللہ کا فضل و کرم ہوا ؟ " ہاں، کیا اللہ اپنے شاکر بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا۔
Ayah 26:116

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا”اے نُوحؑ ، اگر تُو باز نہ آیا تو پھِٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا۔“ 84

سورة الشُّعَرَآء 84 اصل الفاظ ہیں لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم کو رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ تم پر ہر طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ کی جائے گی، جہاں جاؤ گے دھتکارے اور پھٹکارے جاؤ گے۔ عربی محاورے کے لحاظ سے ان الفاظ کے یہ دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں۔
Ayah 26:117

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نُوحؑ نے دُعا کی”اے میرے ربّ، میری قوم نے مجھے جھُٹلا دیا۔ 85

سورة الشُّعَرَآء 85 یعنی آخری اور قطعی طور پر جھٹلا دیا ہے جس کے بعد اب کسی تصدیق و ایمان کی امید باقی نہیں رہی۔ ظاہر کلام سے کوئی شخص اس شبہ میں نہ پڑے کہ بس پیغمبر اور سرداران قوم کے درمیان اوپر کی گفتگو ہوئی اور ان کی طرف سے پہلی ہی تکذیب کے بعد پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کے حضور رپورٹ پیش کردی کہ یہ میری نبوت نہیں مانتے، اب آپ میرے اور ان کے مقدمہ کا فیصلہ فرما دیں۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس طویل کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے جو حضرت نوح ؑ کی دعوت اور ان کی قوم کے اصرار علی الکفر کے درمیان صدیوں برپا رہی۔ سورة عنکبوت میں بتایا گیا ہے کہ اس کشمکش کا زمانہ ساڑھے نو سو برس تک ممتد رہا ہے۔ فَلَبِثَ فِیْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَاماً (آیت 14)۔ حضرت نوح ؑ نے اس زمانہ میں پشت در پشت ان کے اجتماعی طرز عمل کو دیکھ کر نہ صرف یہ اندازہ فرما لیا کہ ان کے اندر قبول حق کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے، بلکہ یہ رائے بھی قائم کرلی کہ آئندہ ان کی نسلوں سے بھی نیک اور ایماندار آدمیوں کے اٹھنے کی توقع نہیں ہے۔ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْآ اِلَّا فَاجِراً کَفَّاراً (نوح، آیت 27)۔ " اے رب اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا فاجر اور سخت منکر حق ہوگا "۔ خود اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت نوح ؑ کی اس رائے کو درست قرار دیا اور اپنے علم کامل و شامل کی بنا پر فرمایا لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ہ (ہود، آیت 36)۔ " تیری قوم میں سے جو ایمان لا چکے بس وہ لا چکے، اب کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ لہٰذا اب ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دے۔ "
Ayah 26:118

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے۔“ 86

سورة الشُّعَرَآء 86 یعنی صرف یہی فیصلہ نہ کر دے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون، بلکہ وہ فیصلہ اس شکل میں نافذ فرما کہ باطل پرست تباہ کر یئے جائیں اور حق پرست بچا لیے جائیں۔ یہ الفاظ کہ " مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لے " خود بخود اپنے اندر یہ مفہوم رکھتے ہیں کہ باقی لوگوں پر عذاب نازل کر اور انہیں حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دے۔
Ayah 26:119

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا۔ 87

سورة الشُّعَرَآء 87 " بھری ہوئی کشتی " سے مراد یہ ہے کہ وہ کشتی ایمان لانے والے انسانوں اور تمام جانوروں سے بھر گئی تھی جن کا ایک ایک جوڑا ساتھ رکھ لینے کی ہدایت فرمائی گئی تھی۔ اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة ہود، آیت 40۔