Ayah 28:57سورة القصص 80
یہ وہ بات ہے جو کفار قریش اسلام قبول نہ کرنے کے لیے عذر کے طور پر پیش کرتے تھے، اور اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کفر و انکار کا سب سے اہم بنیادی سبب یہی تھا۔ اس بات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ تاریخی طور پر اس زمانے میں قریش کی پوزیشن کیا تھی جس پر ضرب پڑنے کا انہیں اندیشہ تھا۔
قریش کو ابتداً جس چیز نے عرب میں اہمیت دی وہ یہ تھی کہ ان کا حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہونا انساب عرب کی رو سے بالکل ثابت تھا، اور اس بنا پر ان کا خاندان عربوں کی نگاہ میں پیرزادوں کا خاندان تھا، پھر جب قصی بن کلاب کے حسن تدبیر سے یہ لوگ کعبہ کے متولی ہوگئے اور مکہ ان کا مسکن بن گیا تو ان کی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ ہوگئی، اس لیے کہ اب وہ عرب کے سب سے بڑے تیرتھ کے مجاور تھے، تمام قبائل عرب میں ان کو مذہبی پیشوائی کا مقام حاصل تھا، اور حج کی وجہ سے عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جو ان سے تعلقات نہ رکھتا ہو، اس مرکزی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر قریش نے بتدریج تجارتی ترقی شروع کی اور خوشی قسمی سے روم و ایران کی سیاسی کشمکش نے ان کو بین الاقوامی تجارت میں ایک اہم مقام عطا کردیا، اس زمانہ میں روم و یونان اور مصر و شام کی جتنی تجارت بھی چین، ، ہندوستان، انڈونیشیا اور مشرقی افریقہ کے ساتھ تھی، اس کے سارے ناکے ایران نے روک دیے تھے، آخری رستہ بحر احمر کا رہ گیا تھا، سو یمن پر ایران کے قبضہ نے اسے بھی روک دیا، اس کے بعد کوئی صورت اس تجارت کو جاری رکھنے کے لیے اس کے سوا نہیں رہ گئی تھی کہ عرب کے تاجر ایک طرف رومی مقبوضات کا مال بحر عرب اور خلیج فارس کے بندرگاہوں پر پہنچائیں اور دوسری طرف انہی بندرگاہوں سے مشرقی اموال تجارت لے کر رومی مقبوضات میں پہنچیں، اس صورت حال نے مکہ کو بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم مرکز بنادیا۔ اس وقت قریش ہی تھے جنہیں اس کاروبار کا قریب قریب اجارہ حاصل تھا، لیکن عرب کی طوائف الملوکی کے ماحول میں یہ تجارتی نقل و حرکت اس کے بغیر نہ ہوسکتی تھی کہ تجارتی شاہراہیں جن قبائل کے علاقوں سے گزرتی تھیں ان کے ساتھ قریش کے گہرے تعلقات ہوں، سرداران قریش اس غرض کے لیے صرف اپنے مذہبی اثر پر اکتفا نہ کرسکتے تھے، اس کے لیے انہوں نے تمام قبائل کے ساتھ معاہدات کر رکھے تھے، تجارتی منافع میں سے بھی وہ ان کو حصہ دیتے تھے، شیوخ قبائل اور بااثر سرداروں کو تحائف و ہدایا سے بھی خوش رکھتے تھے۔ اور سودی کاروبار کا بھی ایک جال انہوں نے پھیلا رکھا تھا جس میں قریب قریب تمام ہمسایہ قبائل کے تجار اور سردار جکڑے ہوئے تھے۔
ان حالات میں جب نبی ﷺ کی دعوت توحید اٹھی تو دین آبائی کے تعصب سے بھی بڑھ کر جو چیز قریش کے لیے اس کے خلاف وجہ اشتغال بنی وہ یہ تھی کہ اس دعوت کی بدولت انہیں اپنا مفاد خطرے میں نظر آرہا تھا، وہ سمجھتے تھے کہ معقول دلائل اور حجتوں سے شرک و بت پرستی غلط اور توحید صحیح بھی ہو تو اس کو چھوڑنا اور اسے قبول کرلینا ہمارے لیے تباہ کن ہے۔ ایسا کرتے ہی تمام عرب ہمارے خلاف بھڑک اٹھے گا، ہمیں کعبہ کی تولیت سے بےدخل کردیا جائے گا۔ بت پرست قبائل کے ساتھ ہمارے وہ تمام معاہدانہ تعلقات ختم ہوجائیں گے جن کی وجہ سے ہمارے تجارتی قافلے رات دن عرب کے مختلف حصوں سے گزرتے ہیں، اس طرح یہ دین ہمارے مذہبی رسوخ و اثر کا بھی خاتمہ کردے گا اور ہماری معاشی خوشحالی کا بھی، بلکہ بعید نہیں کہ تمام قبائل عرب ہمیں سرے سے مکہ ہی چھوڑ دینے پر مجبور کردیں۔
یہاں پہنچ کر دنیا پرستوں کی بےبصیرتی کا عجیب نقشہ انسان کے سامنے آتا ہے، رسول اللہ ﷺ بار بار انہیں یقین دلاتے تھے کہ یہ کلمہ جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اسے مان لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوجائٰں گے۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، صفحہ 316۔ 317) مگر انہیں اس میں اپنی موت نظر آتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو دولت، اثر، رسوخ ہمیں آج حاصل ہے یہ بھی ختم ہوجائے گا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ یہ کلمہ قبول کرتے ہی ہم اس سرزمین میں ایسے بےیارومددگار ہوجائیں گے کہ چیل کوے ہماری بوٹیاں نوچ کھائیں گے، ان کی کوتاہ نظری وہ وقت نہ دیکھ سکتی تھی جب چند ہی سال بعد تمام عرب محمد ﷺ کے ماتحت ایک مرکزی سلطنت کا تابع فرمان ہونے والا تھا، پھر اسی نسل کی زندگی میں ایران، عراق، شام، مصر سب ایک ایک کر کے اس سلطنت کے زیر نگیں ہوجانے والے تھے، اور اس قول پر ایک صدی گزرنے سے بھی پہلے قریش ہی کے خلفاء سندھ سے لے کر اسپین تک اور قفقاز سے لے کر یمن کے سواحل تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ پر حکمرانی کرنے والے تھے۔
سورة القصص 81
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے عذر کا پہلا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حرم جس کے امن وامان اور جس کی مرکزیت کی بدولت آج تم اس قابل ہوئے ہو کہ دنیا بھر کا مال تجارت اس وادی غیر ذی زرع میں کھچا چلا آرہا ہے، کیا اس کو یہ امن اور یہ مرکزیت کا مقام تمہاری کسی تدبیر نے دیا ہے ؟ ڈھائی ہزار برس پہلے چٹیل پہاڑوں کے درمیان اس بےآب وگیاہ وادی میں ایک اللہ کا بندہ اپنی بیوی اور ایک شیر خوار بچے کو لے کر آیا تھا۔ اس نے یہاں پتھر اور گارے کا ایک حجرہ تعمیر کردیا اور پکار دیا کہ اللہ نے اسے حرم بنایا ہے، آؤ اس گھر کی طرف اور اس کا طواف کرو، اب یہ اللہ کی دی ہوئی برکت نہیں تو اور کیا ہے کہ 25 صدیوں سے یہ جگہ عرب کا مرکز بنی ہوئی ہے، سخت بدامنی کے ماحول میں ملک کا صرف یہی گوشہ ایسا ہے جہاں امن میسر ہے، اس کو عرب کا بچہ بچہ احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہر سال ہزارہا انسان اس کے طواف کے لیے چلے آتے ہیں، اسی نعمت کا ثمرہ تو ہے کہ تم عرب کے سردار بنے ہوئے ہو اور دنیا کی تجارت کا ایک بڑا حصہ تمہارے قبضے میں ہے، اب کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ جس خدا نے یہ نعمت تمہیں بخشی ہے، اس سے منحرف اور باغی ہو کر تو تم پھلو پھولو گے مگر اس کے دین کی پیروی اختیار کرتے ہی برباد ہوجاؤ گے ؟
Ayah 28:58سورة القصص 82
یہ ان کے عذر کا دوسرا جواب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مال و دولت اور خوشحالی پر تم اترائے ہوئے ہو، اور جس کے کھوئے جانے کے خطرے سے باطل پر جمنا اور حق سے منہ موڑنا چاہتے ہو، یہی چیز کبھی عاد اور ثمود اور سبا اور مدین اور قوم لوط کے لوگوں کو بھی حاصل تھی۔ پھر کیا یہ چیز ان کو تباہی سے بچا سکی ؟ آخر معیار زندگی کی بلندی ہی تو ایک مقصود نہیں ہے کہ آدمی حق و باطل سے بےنیاز ہو کر بس اسی کے پیچھے پڑا رہے اور راہ راست کو صرف اس لیے قبول کرنے سے انکار کردے کہ ایسا کرنے سے یہ گوہر مقصود ہاتھ سے جانے کا خطرہ ہے، کیا تمہارے پاس اس کی کوئی ضمانت ہے کہ جن گمراہیوں اور بدکاریوں نے بچھلی خوشحال قوموں کو تباہ کیا انہی پر اصرار کر کے تم بچے رہ جاؤ گے اور ان کی طرح تمہاری شامت کبھی نہ آئے گی ؟
Ayahs 28:59–60سورة القصص 83
یہ ان کے عذر کا تیسرا جواب ہے۔ پہلے جو قومیں تباہ ہوئیں ان کے لوگ ظالم ہوچکے تھے، مگر خدا نے ان کو تباہ کرنے سے پہلے اپنے رسول بھیج کر انہیں متنبہ کیا، اور جب ان کی تنبیہ پر بھی وہ اپنی کچ روی سے باز نہ آئے تو انہیں ہلاک کردیا۔ یہی معاملہ اب تمہیں درپیش ہے، تم بھی ظالم ہوچکے ہو، اور ایک رسول تمہیں بھی متنبہ کرنے کے لیے آگیا ہے۔ اب تم کفر و انکار کی روش اختیار کر کے اپنے عیش اور اپنی خوشحالی کو بچاؤ گے نہیں بلکہ الٹا خطرے میں ڈالو گے، جس تباہی کا تمہیں اندیشہ ہے وہ ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکار کرنے سے تم پر آئے گی۔
Ayah 28:61سورة القصص 84
یہ ان کے عذر کا چوتھا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے دو باتیں اچھی طرح ذہن نشین ہوجانی چاہیں۔
اول یہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی جس کی مقدار کسی کے لیے بھی چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوتی، محض ایک سفر کا عارضی مرحلہ ہے، اصل زندگی جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے، آگے آنی ہے، موجودہ عارضی زندگی میں انسان خواہ کتنا ہی سروسامان جمع کرلے اور چند سال کیسے ہی عیش کے ساتھ بسر کرلے، بہرحال اسے ختم ہونا ہے اور یہاں کا سب سروسامان آدمی کو یونہی چھوڑ کر اٹھ جانا ہے۔ اس مختصر سے عرصہ حیات کا عیش اگر آدمی کو اس قیمت پر حاصل ہوتا ہو کہ آئندہ کی ابدی زندگی میں وہ دائما خستہ حال اور مبتلائے مصیبت رہے، تو کوئی صاحب عقل آدمی یہ خسارے کا سودا نہیں کرسکتا، اس کے مقابلے میں ایک عقل مند آدمی اس کو ترجیح دے گا کہ یہاں چند سال مصیبتیں بھگت لے، مگر یہاں سے وہ بھلائٰیاں کما کرلے جائے جو بعد کی دائمی زندگی میں اس کے لیے ہمیشگی کے عیش کی موجب بنیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کا دین انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اس دنیا کی متاع حیات سے استفادہ نہ کرے اور اس کی زینت کو خواہ مخواہ لات ہی مار دے۔ اس کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی، اور دنیا کا عیش کم تر ہے اور آخرت کا عیش بہتر، اس لیے دنیا کی وہ متاع اور زینت تو آدمی کو ضرور حاصل کرنی چاہیے جو آخرت کی باقی رہنے والی زندگی میں اسے سرخسرو کرے، یا کم از کم یہ کہ اسے وہاں کے ابدی خسارے میں مبتلا نہ کرے، لیکن جہاں معابلہ مقابلے کا آپڑے، یعنی دنیا کی کامیابی اور آخرت کی کامیابی ایک دوسرے کی ضد ہوجائیں، وہاں دین حق کا مطالبہ انسان سے یہ ہے، اور یہی عقل سلیم کا مطالبہ بھی ہے کہ آدمی دنیا کو آخر پر قربان کردے اور اس دنیا کی عارضی متاع وزینت کی خاطر وہ راہ ہرگز اختیار نہ کرے جس سے ہمیشہ کے لیے اس کی عاقبت خراب ہوتی ہو۔
ان دو باتوں کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ اوپر کے فقروں میں کفار مکہ سے کیا فرماتا ہے۔ وہ یہ نہیں فرماتا کہ تم اپنی تجارت لپیٹ دو ، اپنے کاروبار ختم کردو، اور ہمارے پیغمبر کو مان کر فقیر ہوجاؤ، بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ یہ دنیا کی دولت جس پر تم ریجھے ہوئے ہو، بہت تھوڑی دولت ہے اور بہت تھوڑے دنوں کے لیے تم اس کا فائدہ اس حیات دنیا میں اٹھا سکتے ہو، اس کے برعکس اللہ کے ہاں جو کچھ ہے وہ اس کی بہ نسبت کم و کیف (Quality اور Quantity) میں بھی بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا بھی ہے۔ اس لیے تم سخت حماقت کرو گے اگر اس عارضی زندگی کی محدود نعمتوں سے متمتع ہونے کی خاطر وہ روش اختیار کرو جس کا نتیجہ آخرت کے دائمی خسارے کی شکل میں تمہیں بھگتنا پڑے، تم خود مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کامیاب آیا وہ شخص ہے جو محنت و جانفشانی کے ساتھ اپنے رب کی خدمت بجا لائے اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے انعام سے سرفراز ہو، یا وہ شخص جو گرفتار ہو کر مجرم کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش کیا جانے والا ہو اور گرفتاری سے پہلے محض چند روز حرام کی دولت سے مزے لوٹ لینے کا اس کو موقع مل جائے ؟
Ayah 28:62سورة القصص 85
یہ تقریر بھی اسی چوتھے جواب کے سلسلہ میں ہے، اور اس کا تعلق اوپر کی آیت کے آخری فقرے سے ہے اس میں یہ بتایا جارہا ہے کہ محض اپنے دنیوی مفاد کی خاطر شرک و بت پرستی اور انکار نبوت کی جس گمراہی پر یہ لوگ اصرار کر رہے ہیں، آخرت کی ابدی زندگی میں اس کا کیسا برا نتیجہ انہیں دیکھنا پڑے گا، اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ فرض کرو دنیا میں تم پر کوئی آفت نہ بھی آئے اور یہاں کی مختصر سی زندگی میں تم حیات دنیا کی متاع وزینت سے خوب بہرہ اندوز بھی ہولو، تب بھی اگر آخرت میں اس کا انجام یہی کچھ ہونا ہے تو خود سوچ لو کہ یہ نفع کا سودا ہے جو تم کر رہے ہو، یا سراسر خسارے کا سودا ؟
Ayah 28:63سورة القصص 86
اس سے مراد وہ شیاطین جن و انس ہیں جن کو دنیا میں خدا کا شریک بنایا گیا تھا، جن کی بات کے مقابلے میں خدا اور اس کے رسولوں کی بات کو رد کیا تھا تھا، اور جن کے اعتماد پر صراط مستقیم کو چھوڑ کر زندگی کے غلط راستے اختیار کیے گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو خواہ کسی نے الہ اور رب کہا ہو یا نہ کہا ہو، بہرحال جب ان کی اطاعت و پیروی اس طرح کی گئی جیسی خدا کی ہونی چاہیے تو لازما انہیں خدائی میں شریک کیا گیا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الکہف، حاشیہ 50)
سورة القصص 87
یعنی ہم نے زبردستی ان کو گمراہ نہیں کیا تھا، ہم نے نہ ان سے بینائی اور سماعت سلب کی تھہ، نہ ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی تھیں، اور نہ ایسی ہی کوئی صورت پیش آئی تھی کہ یہ تو راہ راست کی طرف جانا چاہتے ہوں مگر ہم ان کا ہاتھ پکڑ کر جبرا انہیں غلط راستے پر کھینچ لے گئے ہوں۔ بلکہ جس طرح ہم خود اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح ان کے سامنے بھی ہم نے گمراہی پیش کی اور انہوں نے اپنی مرض سے اس کو قبول کیا۔ لہذا ہم ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے، ہم اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں اور یہ اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں۔
یہاں یہ لطیف نکتہ قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال تو کرے گا شریک ٹھہرانے والوں سے، مگر قبل اس کے کہ یہ کچھ بولیں، جواب دینے لگیں وہ جن کو شریک ٹھہرایا گیا تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے یہ سوال کیا جائے گا تو ان کے لیڈر اور پیشوا محسوس کریں گے کہ اب آگئی ہماری شامت، یہ ہمارے سابق پیرو ضرور کہیں گے کہ یہ لوگ ہماری گمراہی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اس لیے پیرو وں کے بولنے سے پہلے وہ خود سبقت کر کے اپنی صفائی پیش کرنی شروع کردیں گے۔
سورة القصص 88
یعنی یہ ہمارے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔
Ayahs 28:64–67سورة القصص 89
یعنی انہیں مدد کے لیے پکارو۔ دنیا میں تو تم نے ان پر بھروسا کر کے ہماری بات رد کی تھی۔ اب یہاں ان سے کہو کہ آئیں اور تمہاری مدد کریں اور تمہیں عذاب سے بچائیں۔
Ayah 28:68سورة القصص 90
یہ ارشاد دراصل شرک کی تردید میں ہے، مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جو بیشمار معبود اپنے لیے بنا لیے ہیں، اور ان کو اپنی طرف سے جو اوصاف، مراتب اور مناصب سونپ رکھے ہیں، اس پر اعتراض کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں، فرشتوں، جنوں اور دوسرے بندوں میں سے ہم خود جس کو جیسے چاہتے ہیں اوصاف، صلاحیتیں اور طاقتیں بخشتے ہیں اور جو کام جس سے لینا چاہتے ہیں لیتے ہیں، یہ اختیارات آخر ان مشرکین کو کیسے اور کہاں سے مل گئے کہ میرے بندوں میں سے جس کو چاہیں مشکل کشا، جسے چاہیں گنج بخش اور جسے چاہیں فریاد فرس قرار دے لیں ؟ جسے چاہیں بارش برسانے کا مختار، جسے چاہیں روزگار یا اولاد بخشنے والا، جسے چاہیں بیماری و صحت کا مالک بنادیں ؟ جسے چاہیں میری خدائی کے کسی حصے کا رماں روا ٹھہرا لیں ؟ اور میرے اختیارات میں سے جو کچھ جس کو چاہیں سونپ دیں ؟ کوئی فرشتہ ہو یا جن یا نبی یا ولی، بہرحال جو بھی ہے ہمارا پیدا کیا ہوا ہے، جو کمالات بھی کسی کو ملے ہیں ہماری عطا و بخشش سے ملے ہیں، اور جو خدمت بھی ہم نے جس سے لینی چاہی ہے لی ہے۔ اس برگزیدگی کے یہ معنی آخر کیسے ہوگئے کہ یہ بندے بندگی کے مقام سے اٹھا کر خدائی کے مرتبے پر پہنچا دیے جائیں اور خدا کو چھوڑ کر ان کے آگے سر نیاز جھکا دیا جائے، ان کو مدد کے لیے پکارا جانے لگے، ان سے حاجتیں طلب کی جانے لگیں، انہیں قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ لیا جائے، اور انہیں خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دیا جائے ؟
Ayahs 28:69–74سورة القصص 91
اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے، اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی برے جذبے سے نہیں بلکہ خاص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہری کو نہیں دیکھتا، اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا ہے، وہ اس کے علم اور احساسات اور جذبات اور خواہشات اور نیت اور ضمیر، ہر چیز کو براہ راست جانتا ہے، اس کو معلوم ہے کہ کس شخص کو کس کس وقت کن ذرائع سے تنبیہ ہوئی، کن کن راستوں سے حق پہنچا، کس کس طریقے سے باطل کا باطل ہونا اس پر کھلا، اور پھر وہ اصل محرکات کیا تھے جن کی بنا پر اس نے اپنی گمراہی کو ترجیح دی اور حق سے منہ موڑا۔
Ayah 28:75سورة القصص 92
یعنی وہ نبی جس نے اس امت کو خبردار کیا تھا، یا انبیاء کے پیرو وں میں سے کوئی ایسا ہدایت یافتہ انسان جس نے اس امت میں تبلیغ حق کا فریضہ انجام دیا تھا، یا کوئی ایسا ذریعہ جس سے اس امت تک پیغام حق پہنچ چکا تھا۔
سورة القصص 93
یعنی اپنی صفائی میں کوئی ایسی حجت پیش کرو جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جاسکے، یا تو یہ ثابت کرو کہ تم جس شرک، جس انکار آخرت اور جس انکار نبوت پر قائم تھے وہ برحق تھا اور تم نے معقول وجوہ کی بنا پر یہ مسلک اختیار کیا تھا، یا یہ نہیں تو پھر کم از کم یہی ثابت کردو کہ خدا کی طرف سے تم کو اس غلطی پر متنبہ کرنے اور ٹھیک بات تم تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
Ayahs 28:76–77سورة القصص 94
یہ واقعہ بھی کفار مکہ کے اسی عذر کے جواب میں بیان کیا جارہا ہے جس پر آیت نمبر 57 سے مسلسل تقریر ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ جن لوگوں نے محمد ﷺ کی دعوت سے قومی مفاد پر ضرب لگنے کا خطرہ ظاہر کیا تھا وہ دراصل مکہ کے بڑے بڑے سیٹھ، ساہبوکار اور سرمایہ دار تھے، جنہیں بین الاقوامی تجارت اور سود خواری نے قارون وقت بنا رکھا تھا، یہی لوگ اپنی جگہ یہ سمجھنے بیٹھے تھے کہ اصل حق بس یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹو، اس مقصد پر جس چیز سے بھی آنچ آنے کا اندیشہ ہو وہ سراسر باطل ہے جسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جاسکتا، دوسری طرف عوام الناس دولت کے ان میناروں کو آرزو بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ان کی غایت تمنا بس یہ تھی کہ جس بلندی پر یہ لوگ پہنچے ہوئے ہیں، کاش ہمیں بھی اس تک پہنچنا نصیب ہوجائے، اس زر پرستی کے ماحول میں یہ دلیل بڑی وزنی سمجھی جارہی تھی کہ محمد ﷺ جس توحید و آخرت کی اور جس ضابطہ اخلاق کی دعوت دے رہے ہیں اسے مان لیا جائے تو قریش کی عظمت کا یہ فلک بوس قصر زمین پر آرہے گا اور تجارتی کاروبار تو درکنار جینے تک کے لالے پڑجائیں گے۔
سورة القصص 95
قارون، جس کا نام بائیبل اور تلمود میں قورح (Korah) بیان کیا گیا ہے، حضرت موسیٰ ؑ کا چچازاد بھائی تھا، بائیبل کی کتاب خروج (باب 6۔ آیت 18۔ 21) میں جو نسب نامہ درج ہے اس کی رو سے حضرت موسیٰ اور قارون کے والد باہم سگے بھائی تھے، قرآن مجید میں دوسری جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ شخص بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ جا ملا تھا اور اس کا مقرب بن کر اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ موسیٰ ؑ کی دعوت کے مقابلے میں فرعون کے بعد مخالفت کے جود و سب سے بڑے سرغنے تھے ان میں سے ایک یہی قارون تھا
وَلَـقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ ، اِلٰى فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ (المومن۔ آیت 23۔ 24) " ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیل کے ساتھ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادوگر ہے سخت جھوٹا "
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قارون اپنی قوم سے باغی ہو کر اس دشمن طاقت کا پٹھو بن گیا تھا جو بنی اسرائیل کو جڑ بنیاد سے ختم کردینے پر تلی ہوئی تھی۔ اور اس قوم کی غداری کی بدولت اس نے فرعونی سلطنت میں یہ مرتبہ حاصل کرلیا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون کے علاوہ مصر کی جن دو بڑی ہستیوں کی طرف بھیجے گئے تھے وہ دو ہی تھیں، ایک فرعون کا وزیر ہامان، اور دوسرا یہ اسرائیلی سیٹھ۔ باقی سب اعیان سلطنت اور درباری ان سے کم تر درجے میں تھے جن کا خاص طور پر نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔ قارون کی یہی پوزیشن سورة عنکبوت کی آیت نمبر 39 میں بھی بیان کی گئی ہے۔
سورة القصص 96
بائیبل (گنتی، باب 16) اس کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے اس میں اس شخص کی دولت کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر یہودی روایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ شخص غیر معمولی دولت کا مالک تھا حتی کہ اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے کے لیے تین سو خچر درکار ہوتے تھے (جیوش انسائیکلوپیڈیا، ج 7۔ ص 556) یہ بیان اگرچہ انتہائی مبالغہ آمیز ہے، لیکن اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اسرائیلی روایات کی رو سے بھی قارون اپنے وقت کا بہت بڑا دولت مند آدمی تھا۔
Ayahs 28:78–79سورة القصص 97
اصل الفاظ ہیں اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ، اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے جو کچھ پایا ہے اپنی قابلیت سے پایا ہے، یہ کوئٰ فضل نہیں ہے جو استحقاق کے بجائے احسان کے طور پر کسی نے مجھ کو دیا ہو اور اب مجھے اس کا شکریہ اس طرح ادا کرنا ہو کہ جن نااہل لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا ہے انہیں میں فضل و احسان کے طور پر اس میں سے کچھ دوں، یا کوئی خیرات اس غرض کے لیے کروں کہ یہ فضل مجھ سے چھین نہ لیا جائے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے نزدیک تو خدا نے یہ دولت جو مجھے دی ہے میرے اوصاف کو جانتے ہوئے دی ہے، اگر میں اس کی نگاہ میں ایک پسندیدہ انسان نہ ہوتا تو یہ کچھ مجھے کیوں دیتا۔ مجھ پر اس کی نعمتوں کی بارش ہونا ہی اس کی اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس کا محبوب ہوں اور میری روش اس کو پسند ہے۔
سورة القصص 98
یعنی یہ شخص جو بڑا عالم و فاضل اور دانا و باخبر بنا پھر رہا تھا اور اپنی قابلیت کا یہ کچھ غرہ رکھتا تھا اس کے علم میں کیا یہ بات کبھی نہ آئی تھی کہ اس سے زیادہ دولت و حشمت اور قوت و شوکت والے اس سے پہلے دنیا میں گزر چکے ہیں اور اللہ نے انہیں آخر کار تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ؟ اگر قابلیت اور ہنرمندی ہی دنیوی عروج کے لیے کوئی ضمانت ہے تو ان کی یہ صلاحیتیں اس وقت کہاں چلی گئی تھیں جب وہ تباہ ہوئے ؟ اور اگر کسی کو دنیوی عروج نصیب ہونا لازما اسی بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے خوش ہے اور اس کے اعمال و اوصاف کو پسند کرتا ہے تو پھر ان لوگوں کی شامت کیوں آئی ؟
سورة القصص 99
یعنی مجرم تو یہی دعوی کیا کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے لوگ ہیں، وہ کب مانا کرتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی برائی ہے، مگر ان کی سزا ان کے اپنے اعتراف پر منحرف ہوتی، انہیں جب پکڑا جاتا ہے تو ان سے پوچھ کر نہیں پکڑا جاتا کہ بتا تمہارے گناہ کیا ہیں۔
Ayahs 28:80–81سورة القصص 100
یعنی یہ سیرت، یہ انداز فکر اور یہ ثواب الہی کی بخشش صرف انہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جن میں اتنا تحمل اور اتنی ثابت قدمی موجود ہو کہ حلال طریقے ہی اختیار کرنے پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں، خواہ ان سے صرف چٹنی روٹی میسر ہو یا کروڑ پتی بن جانا نصیب ہوجائے، اور حرام طریقوں کی طرف قطعا مائل نہ ہوں خواہ ان سے دنیا بھر کے فائدے سمیٹ لینے کا موقع مل رہا ہو۔ اس آیت میں اللہ کے ثواب سے مراد ہے وہ رزق کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت و کوشش کرنے کے نتیجے میں انسان کو دنیا اور آخرت میں نصیب ہو۔ اور صبر سے مراد ہے اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا، لالچ اور حرص و آز کے مقابلے میں ایمانداری اور راستبازی پر ثابت قدم رہنا، صداقت و دیانت سے جو نقصان بھی وہتا ہو یا جو فائدہ بھی ہاتھ سے جاتا ہو اسے برداشت کرلینا، ناجائز تدبیروں سے جو منفعت بھی حاصل ہوسکتی ہو اسے ٹھوکر مار دینا، حلال کی روزی خواہ بقدر سدرمق ہی ہو اس پر قانع و مطمئن رہنا، حرام خوروں کے ٹھاٹھ دیکھ کر رشک و تمنا کے جذبات سے بےچین ہونے کے بجائے اس پر ایک نگاہ غلط انداز بھی نہ ڈالنا اور دل سے یہ سمجھ لینا کہ ایک ایماندار آدمی کے لیے اس چمکدار گندگی کی بہ نسبت وہ بےرونق طہارت ہی بہتر ہے جو اللہ نے اپنے فضل سے اس کو بخشی ہے، رہا یہ ارشاد کہ " یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو " تو اس دولت سے مراد اللہ کا ثواب بھی ہے اور وہ پاکیزہ ذہنیت بھی جس کی بنا پر آدمی ایمان و عمل صالح کے ساتھ فاقہ کشی کرلینے کو اس سے بہتر سمجھتا ہے کہ بےایمانی اختیار کر کے ارب پتی بن جائے۔
Ayah 28:82سورة القصص 101
یعنی اللہ کی طرف سے رزق کی کشادگی و تنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے اس کی مشیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس مشیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں، کسی کو زیادہ رزق دینے کے معنی لازما یہی نہیں ہیں کہ اللہ اس سے بہت خوش ہے اور اسے انعام دے رہا ہے۔ بسا اوقات ایک شخص اللہ کا نہایت مغضوب ہوتا ہے مگر وہ اسے بڑی دولت عطا کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ آخر کار یہی دولت اس کے اوپر اللہ کا سخت عذاب لے آتی ہے، اس کے برعکس کسی کا رزق تنگ ہے تو اس کے معنی لازما یہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے۔ اکثر نیک لوگوں پر تنگی اس کے باوجود رہتی ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہوتے ہیں، بلکہ بارہا یہی تنگی ان کے لیے خدا کی رحمت ہوتی ہے، اس حقیقت کو نہ سمجھنے ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ان لوگوں کی خوشحالی کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو دراصل خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں۔
سورة القصص 102
یعنی ہمیں یہ غلط فہمی تھی کہ دنیوی خوشحالی اور دولت مندی ہی فلاح ہے، اسی وجہ سے ہم سمجھے بیٹھے تھے کہ قارون بڑی فلاح پارہا ہے۔ مگر اب پتہ چلا کہ حقیقی فلاح کسی اور ہی چیز کا نام ہے اور وہ کافروں کو نصیب نہیں ہوتی۔
قارون کے قصے کا یہ سبق آموز پہلو صرف قرآن ہی میں بیان ہوا ہے۔ بائیبل اور تلمود دونوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، البتہ ان دونوں کتابوں میں جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تو یہ شخص بھی اپنی پارٹی سمیت ان کے ساتھ نکلا، اور پھر اس نے حضرت موسیٰ و ہارون کے خلاف ایک سازش کی جس میں ڈھائی سو آدمی شامل تھے۔ آخر اللہ کا غضب اس پر نازل ہوا اور یہ اپنے گھر بار اور مال اسباب سمیت زمین میں دھنس گیا۔
Ayahs 28:83–84سورة القصص 103
مراد ہے جنت جو حقیقی فلاح کا مقام ہے۔
سورة القصص 104
یعنی جو خدا کی زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنے کے خواہاں نہیں ہیں، جو سرکش و جبار اور متکبر بن کر نہیں رہتے بلکہ بندے بن کر رہتے ہیں اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
سورة القصص 105
فساد سے مراد انسانی زندگی کے نظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجے میں لازما رونما ہوتا ہے، خدا کی بندگی اور اس کے قوانین کی اطاعت سے نکل کر آدمی جو کچھ بھی کرتا ہے وہ سراسر فساد ہی فساد ہے، اسی کا ایک جز وہ فساد بھی ہے جو حرام طریقوں سے دولت سمیٹنے اور حرام راستوں میں خرچ کرنے سے برپا ہوتا ہے۔
سورة القصص 106
یعنی ان لوگوں کے لیے جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں۔
Ayah 28:85سورة القصص 107
یعنی اس قرآن کو خلق خدا تک پہنچانے اور اس کی تعلیم دینے اور اس کی ہدایت کے مطابق دنیا کی اصلاح کرنے کی ذمہ داری تم پر ڈالی ہے۔
سورة القصص 108
اصل الفاظ ہیں لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ۔ " تمہیں ایک معاد کی طرف پھیرنے والا ہے "۔ معاد کے لغوی معنی ہیں وہ مقام جس کی طرف آخر کار آدمی کو پلٹنا ہو، اور اسے نکرہ استعمال کرنے سے اس میں خودبخود یہ مفہوم پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ مقام بڑی شان اور عظمت کا مقام ہے، بعض مفسرین نے اس سے مراد جنت لی ہے، لیکن اسے صرف جنت کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، کیوں نہ اسے ویسا ہی عام رکھا جائے جیسا خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے، تاکہ یہ وعدہ دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہوجائے۔ سیاق عبارت کا اقتضاء بھی یہ ہے کہ اسے آخرت ہی میں نہیں اس دنیا میں بھی نبی ﷺ کو آخر کار بڑی شان و عظمت عطا کرنے کا وعدہ سمجھا جائے۔ کفار مکہ کے جس قول پر آیت نمبر 57 سے لے کر یہاں تک مسلسل گفتگو چلی آرہی ہے اس میں انہوں نے کہا تھا کہ اے محمد ﷺ تم اپنے ساتھ ہمیں بھی لے ڈوبنا چاہتے ہو، اگر ہم تمہارا ساتھ دیں اور اس دین کو اختیار کرلیں تو عرب کی سرزمین میں ہمارا جینا مشکل ہوجائے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ اے نبی جس خدا نے اس قرآن کی علم برداری کا بار تم پر ڈالا ہے وہ تمہیں برباد کرنے والا نہیں ہے، بلکہ تم کو اس مرتبے پر پہنچانے والا ہے جس کا تصور بھی یہ لوگ آج نہیں کرسکتے۔ اور فی الواقع اللہ تعالیٰ نے چند ہی سال بعد حضور کو اس دنیا میں، انہی لوگوں کی آنکھوں کے سامنے تمام ملک عرب پر ایسا مکمل اقتدار عطا کر کے دکھا دیا کہ آپ کی مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت وہاں نہ ٹھہر سکی اور آپ کے دین کے سوا کسی دین کے لیے وہاں گنجائش نہ رہی۔ عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی نظیر اس کی موجود نہ تھی کہ پورے جزیرۃ العرب پر کسی ایک شخص بےغل و غش بادشاہی قائم ہوگئی ہو کہ ملک بھر میں کوئی اس کا مد مقابل باقی نہ رہا ہو، کسی میں اس کے حکم سے سرتابی کا یارانہ ہو، اور لوگ صرف سیاسی طور پر ہی اس کے حلقہ بگوش نہ ہوئ ہوں بلکہ سارے دینوں کو مٹا کر اسی ایک شخص نے سب کو اپنے دین کا پیرو بھی بنا لیا ہو۔
بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ سورة قصص کی یہ آیت مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے راستہ میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپ کو پھر مکہ واپس پہنچائے گا۔ لیکن اول تو اس کے الفاظ میں کوئی گنجائش اس امر کی نہیں ۃ ے کہ " معاد " سے " مکہ " مراد لیا جائے۔ دوسرے یہ سورة روایات کی رو سے بھی اور اپنے مضمون کی اعلی شہادت کے اعتبار سے بھی ہجرت حبشہ کے قریب زمانہ کی ہے اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کئی سال بعد ہجرت مدینہ کے راستہ میں اگر یہ آیت نازل ہوئی تھی تو اسے کس مناسبت سے یہاں اس سیاق وسباق میں لاکر رکھ دیا گیا۔ تیسرے اس سیاق وسباق کے اندر مکہ کی طرف حضور کی واپسی کا ذکر بالکل بےمحل نظر آتا ہے، آیت کے یہ معنی اگر لیے جائیں تو یہ کفار مکہ کی بات کا جواب نہیں بلکہ ان کے عذر کو اور تقویت پہنچانے والا ہوگا۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ بیشک اے اہل مکہ، تم ٹھیک کہتے ہو، محمد اس شہر سے نکال دیے جائیں گے، لیکن وہ مستقل طور پر جلا وطن نہیں رہیں گے، بلکہ آخر کار ہم انہیں اسی جگہ واپس لے آئیں گے، یہ روایت اگرچہ بخاری، نسائی، ابن جریر اور دوسرے محدثین نے ابن عباس سے نقل کی ہے، لیکن یہ ہے ابن عباس کی اپنی ہی رائے۔ کوئی حدیث مرفوع نہیں ہے کہ اسے ماننا لازم ہو۔
Ayah 28:86سورة القصص 109
یہ بات محمد ﷺ کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی جارہی ہے جس طرح موسیٰ ؑ بالکل بیخبر تھے کہ انہیں نبی بنایا جانے والا ہے اور ایک عظیم الشان مشن پر وہ مامور کیے جانے والے ہیں، ان کے حاشیہ خیال میں بھی اس کا ارادہ یا خواہش تو درکنار اس کی توقع تک کبھی نہ گزری تھی، بس یکایک راہ چلتے انہیں کھینچ بلایا گیا اور نبی بنا کر وہ حیرت انگیز کام ان سے لیا گیا جو ان کی سابق زندگی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا، ٹھیک ایسا ہی معاملہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی پیش آیا، مکہ کے لوگ خود جانتے تھے کہ غار حرا سے جس روز آپ نبوت کا پیغام لے کر اترے اس سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی کیا تھی، آپ کے مشاغل کیا تھے، آپ کی بات چیت کیا تھی، آپ کی گفتگو کے موضوعات کیا تھے، آپ کی دلچسپیاں اور سرگرمیاں کس نوعیت کی تھیں، یہ پوری زندگی صداقت، دیانت، امانت اور پاکبازی سے لبریز ضرور تھی، اس میں انتہائی شرافت، امن پسندی، پاس عہد، ادائے حقوق اور خدمت خلق کا رنگ بھی غیر معمولی شان کے ساتھ نمایاں تھا، مگر اس میں کوئی چیز ایسی موجود نہ تھی جس کی بنا پر کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ خیال گزر سکتا ہو کہ یہ نیک بندہ کل نبوت کا دعوی لے کر اٹھنے والا ہے، آپ سے قریب ترین ربط ضبط رکھنے والوں میں، آپ کے رشتہ داروں اور ہمسایوں اور دوستوں میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپ پہلے سے نبی بننے کی تیاری کر رہے تھے، کسی نے ان مضامین اور مسائل اور موضوعات کے متعلق بھی ایک لفظ تک آپ کی زبان سے نہ سنا تھا جو غار حرا کی اس انقلابی ساعت کے بعد یکایک آپ کی زبان پر جاری ہونے شروع ہوگئے۔ کسی نے آپ کو وہ مخصوص زبان اور وہ الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرتے نہ سنا تھا جو اچانک قرآن کی صورت میں لوگ آپ سے سننے لگے، کبھی آپ وعظ کہنے کھڑے نہ ہوئے تھے، کبھی کوئی دعوت اور تحریک لے کر نہ اٹھے تھے، بلکہ کبھی آپ کی کسی سرگرمی سے یہ گمان تک نہ ہوسکتا تھا کہ آپ اجتماعی مسائل کے حل، یا مذہبی اصلاح یا اخلاقی اصلاح کے لیے کوئی کام شروع کرنے کی فکر میں ہیں، اس انقلابی ساعت سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی ایک ایسے تاجر کی زندگی نظر آتی تھی جو سیدھے سادھے جائز طریقوں سے اپنی روزی کماتا ہے، اپنے بال بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہتا ہے، مہمانوں کی تواضع، غریبوں کی مدد اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا ہے، اور کبھی کبھی عبادت کرنے کے لیے خلوت میں جا بیٹھتا ہے، ایسے شخص کا یکایک ایک عالمگیر زلزلہ ڈال دینے والی خطابت کے ساتھ اٹھنا، ایک انقلاب انگیز دعوت شروع کردینا، ایک نرالا لٹریچر پیدا کردینا، ایک مستقل فلسفہ حیات اور نظام فکر و اخلاق و تمدن لے کر سامنے آجانا، اتنا بڑا تغیر ہے جو انسانی نفسیات کے لحاظ سے کسی بناوٹ اور تیاری اور ارادی کوشش کے نتیجے میں قطعا رونما نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ ایسی ہر کوشش اور تیاری بہرحال تدریجی ارتقاء کے مراحل سے گزرتی ہے اور یہ مراحل ان لوگوں سے کبھی مخفی نہیں رہ سکتے جن کے درمیان آدمی شب و روز زندگی گزارتا ہو، اگر آنحضرت ﷺ کی زندگی ان مراحل سے گزری ہوتی تو مکہ میں سینکڑوں زبانیں یہ کہنے والی ہوتیں کہ ہم نہ کہتے تھے، یہ شخص ایک دن کوئی بڑا دعوی لے کر اٹھنے والا ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ کفار مکہ نے آپ پر ہر طرح کے اعتراضات کیے، مگر یہ اعتراض کرنے والا ان میں سے کوئی ایک شخص بھی نہ تھا۔
پھر یہ بات کہ آپ خود بھی نبوت کے خواہش مند یا اس کے لیے متوقع اور منتظر نہ تھے بلکہ پوری بیخبر ی کی حالت میں اچانک آپ کو اس معاملہ سے سابقہ پیش آگیا، اس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے جو احادیث میں آغاز وحی کی کیفیت کے متعلق منقول ہوا ہے، جبریل سے پہلی ملاقات اور سورة علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد آپ غار حرا سے کانپتے اور لرزتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں، گھر والوں سے کہتے ہیں کہ " مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ " کچھ دیر کے بعد جب ذرا خوف زدگی کی کیفیت دور ہوتی ہے تو اپنی رفیق زندگی کو سارا ماجرا سنا کر کہتے ہیں کہ " مجھے اپنی جان کا ڈر ہے " وہ فورا جواب دیتی ہیں " ہرگز نہیں، آپ کو اللہ کبھی رنج میں نہ ڈالے گا، آپ تو قرابت داروں کے حق ادا کرتے ہیں، بےکس کو سہارا دیتے ہیں، بےزر کی دستگیری کرتے ہیں، مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں، ہر کار خیر میں مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں "۔ پھر وہ آپ کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس جاتی ہیں جو ان کے چچازاد بھائی اور اہل کتاب میں سے ایک ذی علم اور راستباز آدمی تھے۔ وہ آپ سے سارا واقعہ سننے کے بعد بلا تامل کہتے ہیں کہ " یہ جو آپ کے پاس آیا تھا وہی ناموس (کار خاص پر مامور فرشتہ) ہے جو موسیٰ کے پاس آتا تھا، کاش میں جوان ہوتا اور اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی "۔ آپ پوچھتے ہیں " کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے "؟ وہ جواب دیتے ہیں " ہاں، کوئی شخص ایسا نہیں گزرا کہ وہ چیز لے کر آیا ہو جو آپ لائے ہیں اور لوگ اس کے دشمن نہ ہوگئے ہوں "۔
یہ پورا واقعہ اس حالت کی تصویر پیش کردیتا ہے جو بالکل فطری طور پر یکایک خلاف توقع ایک انتہائی غیر معمولی تجربہ پیش آجانے سے کسی سیدھے سادھے انسان پر طاری ہوسکتی ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ پہلے سے نبی بننے کی فکر میں ہوتے، اپنے متعلق یہ سوچ رہے ہوتے کہ مجھ جیسے آدمی کو نبی ہونا چاہیے، اور اس انتظار میں مراقبے کر کر کے اپنے ذہن پر زور ڈال رہے ہوتے کہ کب کوئی فرشتہ آتا ہے اور میرے پاس پیغام لاتا ہے، تو غار حرا والا معاملہ پیش آتے ہی آپ خوشی سے اچھل پڑتے اور بڑے دم دعوے کے ساتھ پہاڑ سے اتر کر سیدھے اپنی قوم کے سامنے پہنچتے اور اپنی نبوت کا اعلان کردیتے، لیکن اس کے برعکس یہاں حالت یہ ہے کہ جو کچھ دیکھا تھا اس پر ششدر رہ جاتے ہیں، کانپتے اور لرزتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں، لحاف اوڑھ کر لیٹ جاتے ہیں، ذرا دل ٹھہرتا ہے تو بیوی کو چپکے سے بتاتے ہیں کہ آج غار کی تنہائی میں مجھ پر یہ حادثہ گزرا ہے، معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے، مجھے اپنی جان کی خیر نظر نہیں آتی، یہ کیفیت نبوت کے کسی امیدوار کی کیفیت سے کس قدر مختلف ہے۔
پھر بیوی سے بڑھ کر شوہر کی زندگی، اس کے حالات اور اس کے خیالات کو کون جان سکتا ہے ؟ اگر ان کے تجربے میں پہلے سے یہ بات آئی ہوئی ہوتی کہ یہاں نبوت کے امیدوار ہیں اور ہر وقت فرشتے کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں تو ان کا جواب ہرگز وہ نہ ہوتا جو حضرت خدیجہ نے دیا۔ وہ کہتیں کہ میاں گھبراتے کیوں ہو جس چیز کی مدتوں سے تمنا تھی وہ مل گئی، چلو اب پیری کی دکان چمکاؤ، میں بھی نذرانے سنبھالنے کی تیاری کرتی ہوں، لیکن وہ پندرہ برس کی رفاقت میں آپ کی زندگی کا جو رنگ دیکھ چکی تھیں اس کی بنا پر انہیں یہ بات سمجھنے میں ایک لمحہ کی دیر بھی نہ لگی کہ ایسے نیک اور بےلوث انسان کے پاس شیطان نہیں آسکتا، نہ اللہ اس کو کسی بری آزمائش میں ڈال سکتا ہے، اس نے جو کچھ دیکھا ہے وہ سراسر حقیقت ہے۔
اور یہی معاملہ ورقہ بن نوفل کا بھی ہے۔ وہ کوئی باہر کے آدمی نہ تھے بلکہ حضور کی اپنی برادری کے آدمی اور قریب کے رشتے سے برادر نسبتی تھے، پھر ایک ذی علم عیسائی ہونے کی حیثیت سے نبوت اور کتاب اور وحی کو بناوٹ اور تصنع سے ممیز کرسکتے تھے۔ عمر میں کئی سال بڑے ہونے کی وجہ سے آپ کی پوری زندگی بچپن سے اس وقت تک ان کے سامنے تھی، انہوں نے بھی آپ کی زبان سے حرا کی سرگزشت سنتے ہی فورا کہہ دیا کہ یہ آنے والا یقینا وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ ؑ پر وحی لاتا تھا۔ کیونکہ یہاں بھی وہی صورت پیش آئی تھی جو حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی تھی کہ ایک انتہائی پاکیزہ سیرت کا سیدھا سادھا انسان بالکل خالی الذہن ہے، نبوت کی فکر میں رہنا تو درکنار اس کے حصول کا تصور تک اس کے حاشیہ خیال میں کبھی نہیں آیا ہے، اور اچانک وہ پورے ہوش و حواس کی حالت میں علانیہ اس تجربے سے دوچار ہوتا ہے، اسی چیز نے ان کو دو اور دو چار کی طرح بلا ادنی تامل اس نتیجہ تک پہنچا دیا کہ یہاں کوئی فریب نفس یا شیطانی کرشمہ نہیں ہے، بلکہ اس سچے انسان نے اپنے کسی ارادے اور خواہش کے بغیر جو کچھ دیکھا ہے وہ دراصل حقیقت ہی کا مشاہدہ ہے۔
یہ محمد ﷺ کی نبوت کا ایک ایسا بین ثبوت ہے کہ ایک حقیقت پسند انسان مشکل ہی سے اس کا انکار کرسکتا ہے، اسی لیے قرآن میں متعدد مقامات پر اسے دلیل نبوت کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے، مثلا سورة یونس میں فرمایا
قُلْ لَّوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ ڮ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ (آیت 16) " اے نبی ان سے کہو کہ اگر اللہ نے یہ نہ چاہا ہوتا تو میں کبھی یہ قرآن تمہیں نہ سناتا بلکہ اس کی خبر تک وہ تم کو نہ دیتا۔ آخر میں اس سے پہلے ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ؟
اور سورة شوریٰ میں فرمایا
مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا۔ (آیت 52) " اے نبی تم تو جانتے تک نہ تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر ہم نے اس وحی کو ایک نور بنادیا جس سے ہم رہنمائی کرتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتے ہیں۔
مزید تشریح کے لیے ملاحظۃ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، یونس، حاشیہ 21۔ جلد سوم، عنکبوت حواشی 88 تا 92، جلد چہارم، الشوری، حاشیہ 84۔
سورة القصص 110
یعنی جب اللہ نے یہ نعمت تمہیں بےمانگے عطا فرمائی ہے تو اس کا حق اب تم پر یہ ہے کہ تمہاری ساری قوتیں اور محنتیں اس کی علمبرداری پر، اس کی تبلیغ پر اور اسے فروغ دینے پر صرف ہوں، اس میں کوتاہی کرنے کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے حق کے بجائے منکرین حق کی مدد کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی ﷺ سے ایسی کسی کوتاہی کا اندیشہ تھا، بلکہ دراصل اس طرح اللہ تعالیٰ کفار کو سناتے ہوئے اپنے نبی کو یہ ہدایت فرما رہا ہے کہ تم ان کے شور و غوغا اور ان کی مخالفت کے باوجود اپنا کام کرو اور اس کی کوئی پروا نہ کرو کہ دشمنان حق اس دعوت سے اپنے قومی مفاد پر ضرب لگنے کے کیا اندیشے ظاہر کرتے ہیں۔
Ayah 28:87سورة القصص 111
یعنی ان کی تبلیغ و اشاعت سے اور ان کے مطابق عمل کرنے سے۔
Ayah 28:88سورة القصص 112
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ فرمانروائی اسی کے لیے ہے، یعنی اس کا حق رکھتا ہے۔