28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ ان دونوں مدّتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اُس پر نگہبان ہے۔“39

سورة القصص 39 بعض لوگوں نے حضرت موسیٰ اور لڑکی کے والد کی اس گفتگو کو نکاح کا ایجاب و قبول سمجھ لیا ہے اور یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا باپ کی خدمت بیٹی کے نکاح کا مہر قرار پاسکتی ہے ؟ اور کیا عقد نکاح میں اس طرح کی خارجی شرائط شامل ہوسکتی ہیں ؟ حالانکہ آیات زیر بحث کی عبارت سے خود ہی یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ یہ عقد نکاح نہ تھا بلکہ وہ ابتدائی بات چیت تھی جو نکاح سے پہلے تجویز نکاح کے سلسلے میں بالعموم دنیا میں ہوا کرتی ہے۔ آخر یہ نکاح کا ایجاب و قبول کیسے ہوسکتا ہے جبکہ یہ تعین بھی اس میں نہ کیا گیا تھا کہ دونوں لڑکیوں میں سے کون سی نکاح میں دی جارہی ہے۔ اس گفتگو کا ماحصل تو صرف یہ تھا کہ لڑکی کے باپ نے کہا میں اپنی لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تم سے کردینے کے لیے تیار ہوں، بشرطیکہ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ آٹھ دس سال میرے ہاں رہ کر میرے گھر کے کام کاج میں میرا ہاتھ بٹاؤ گے، کیونکہ اس رشتے سے میری اصل غرض یہی ہے کہ میں بوڑھا آدمی ہوں، کوئی بیٹا میرے ہاں نہیں ہے جو میری جائداد کا انتظام سنبھالے، لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں جنہیں مجبورا باہر نکالتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ دادا میرا دست وبازو بن کر رہے، یہ ذمہ داری اگر تم سنبھالنے کے لیے تیار ہو اور شادی کے بعد ہی بیوی کو لے کر چلے جانے کا ارادہ نہ رکھتے ہو تو میں اپنی ایک لڑکی کا نکاح تم سے کردوں گا۔ حضرت موسیٰ اس وقت خود ایک ٹھکانے کے طالب تھے، انہوں نے اس تجویز کو قبول کرلیا ظاہر ہے کہ یہ ایک معاہدے کی صورت تھی جو نکاح سے پہلے فریقین میں طے ہوئی تھی۔ اس کے بعد اصل عقد نکاح قاعدے کے مطابق ہوا ہوگا اور اس میں مہر بھی باندھا گیا ہوگا، اس عقد میں خدمت کی شرط شامل ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

جب موسیٰؑ نے مدّت پوری کر دی40 اور اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اُس کو ایک آگ نظر آئی۔41 اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا”ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آوٴں یا اُس آگ سے کوئی انگارا ہی اُٹھا لاوٴں جس سے تم تاپ سکو۔“

سورة القصص 40 حضرت حسن بن علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے آٹھ کے بجائے دس سال کی مدت پوری کی تھی، ابن عباس کی روایت ہے کہ یہ بات خود نبی ﷺ سے مروی ہے۔ حضور نے فرمایا قضی موسیٰ اتم الاجلین وا طیبھما عشر شنین۔ " موسیٰ ؑ نے دونوں مدتوں میں سے وہ مدت پوری کی جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لیے زیاہ خوشگوار تھی، یعنی دس سال "۔ سورة القصص 41 اس سفر کا رخ طور کی جانب ہونے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال کو لیکر مصر ہی جانا چاہتے ہوں گے۔ اس لیے کہ طور اس راستے پر ہے جو مدین سے مصر کی طرف جاتا ہے، غالبا حضرت موسیٰ نے خیال کیا ہوگا کہ دس سال گزر چکے ہیں، وہ فرعون بھی مرچکا ہے جس کی حکومت کے زمانے میں وہ مصر سے نکلے تھے، اب اگر خاموشی کے ساتھ وہاں چلا جاؤں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہ پڑوں تو شاید کسی کو میرا پتہ بھی نہ چلے۔ بائیبل کا بیان یہاں واقعات کی ترتیب میں قرآن کے بیان سے بالکل مختلف ہے، وہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ اپنے خسر کی بکریاں چراتے ہوئے بیابان کے پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ حورب کے نزدیک آ نکلے تھے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام کیا اور انہیں رسالت کے منصب پر مامور کر کے مصر جانے کا حکم دیا، پھر وہ اپنے خسر کے پاس واپس آگئے اور ان سے اجازت لے کر اپنے بچوں کے ساتھ مصر روانہ ہوئے (خروج 3۔ 1۔ 4۔ 18) اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ حضرت موسیٰ مدت پوری کرنے کے بعد پنے اہل و عیال کو لیکر مدین سے روانہ ہوئے اور اس سفر میں اللہ تعالیٰ کی مخاطبت اور منصب نبوت پر تقرر کا معاملہ پیش آیا۔ بائیبل اور تلمود دونوں کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانہ قیام مدین میں وہ فرعون مرچکا تھا جس کے ہاں انہوں نے پرورش پائی تھی اور اب ایک دوسرا فرعون مصر کا فرمانروا تھا۔
Ayahs 28:30–31

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے42 پر مبارک خطّے میں43 ایک درخت سے پُکارا گیا کہ”اے موسیٰؑ ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہاں والوں کا مالک۔“

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور (حکم دیا گیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا) "موسیٰؑ، پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے

سورة القصص 42 یعنی اس کنارے پر جو حضرت موسیٰ کے داہنے ہاتھ کی طرف تھا۔ سورة القصص 43 یعنی اس خطے میں جو نور تجلی سے روشن ہورہا تھا۔
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔44 اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازُو بھینچ لے۔45 یہ دوروشن نشانیاں ہیں تیرے ربّ کی طرف سے فرعون اور اُس کے درباریوں کے سامنے پیش کر نے کے لیے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔“46

سورة القصص 44 یہ دونوں معجزے اس وقت حضرت موسیٰ کو اس لیے دکھائے گئے کہ اول تو انہیں خود پوری طرح یقین ہوجائے کہ فی الواقع وہی ہستی ان سے مخاطب ہے جو کائنات کے پورے نظام کی خالق ومالک اور فرماں روا ہے۔ دوسرے وہ ان معجزوں کو دیکھ کر مطمئن ہوجائیں کہ جس خطرناک مشن پر انہیں فرعون کی طرف بھیجا جارہا ہے اس کا سامنا کرنے کے لیے وہ بالکل نہتے نہیں جائیں گے بلکہ دو زبردست ہتھیار لے کر جائیں گے۔ سورة القصص 45 یعنی جب کبھی کوئی خطرناک موقع ایسا آئے جس سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہو تو اپنا بازو بھینچ لیا کرو، اس سے تمہارا دل قوی ہوجائے گا اور رعب و دہشت کی کوئی کیفیت تمہارے اندر باقی نہ رہے گی۔ بازو سے مراد غالبا سیدھا بازو ہے، کیونکہ مطلقا ہاتھ بول کر سیدھا ہاتھ مراد لیا جاتا ہے، بھینچنے کی دو شکلیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ بازو کو پہلے کے ساتھ لگا کر دبا لیا جائے۔ دوسری یہ کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کی بغل میں رکھ کر دبایا جائے۔ اغلب یہ ہے کہ پہلی شکل ہی مراد ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں دوسرا کوئی شخص یہ محسوس نہیں کرسکتا کہ آدمی اپنے دل کا خوف دور کرنے کے لیے کوئی خاص عمل کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰ کو یہ تدبیر اس لیے بتائی گئی کہ وہ ایک ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی لاؤ لشکر اور دنیوی سازوسامان کے بغیر بھیجے جارہے تھے، بارہا ایسے خوفناک مواقع پیش آنے والے تھے جن میں ایک اولو العزم نبی تک دہشت سے محفوظ نہ رہ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی صورت پیش آئے، تم بس یہ عمل کرلیا کرو، فرعون اپنی پوری سلطنت کا زور لگا کر بھی تمہارے دل کو متزلزل نہ کرسکے گا۔ سورة القصص 46 ان الفاظ میں یہ مفہوم آپ سے آپ شامل ہے کہ یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اللہ کے رسول کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر کے اسے اور اس کے اعیان سلطنت کو اللہ رب العالمین کی اطاعت و بندگی کی طرف دعوت دو۔ اسی لیے یہاں اس ماموریت کی تصریح نہیں کی گئی ہے البتہ دوسرے مقامات پر صراحت کے ساتھ یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ سورة طہ اور سورة نازعات میں فرمایا اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى " فرعون کے پاس جا کہ وہ سرکش ہوگیا ہے "۔ اور الشعراء میں فرمایا اِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، قَوْمَ فِرْعَوْنَ۔ " جبکہ پکارا تیرے رب نے موسیٰ کو کہ جا ظالم قوم کے پاس، فرعون کی قوم کے پاس "۔
Ayahs 28:33–34

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰؑ نے عرض کیا”میرے آقا، میں تو اُن کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔47

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"

سورة القصص 47 اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس ڈر سے میں وہاں نہیں جانا چاہتا۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ حضور کی طرف سے ایسا کوئی انتظام ہونا چاہیے کہ میرے پہنچتے ہی کسی بات چیت اور ادائے رسالت کی نوبت آنے سے پہلے وہ لوگ مجھے الزام قتل میں گرفتار نہ کرلیں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ مقصد ہی فوت ہوجائے گا جس کے لیے مجھے اس مہم پر بھیجا جارہا ہے۔ بعد کی عبارت سے یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی اس گزارش کا یہ مدعا ہرگز نہیں تھا کہ وہ ڈر کے مارے نبوت کا منصب قبول کرنے اور فرعون کے ہاں جانے سے انکار کرنا چاہتے تھے۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا”ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہوگا۔“48

سورة القصص 48 اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰ کی اس ملاقات اور گفتگو کا حال اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ سورة طہ آیت 9 تا 48 میں بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید کے اس بیان کا جو شخص بھی اس داستان سے مقابلہ کرے گا جو اس سلسلہ میں بائیبل کی کتاب خروج (باب 3۔ 4) بیان کی گئی ہے، وہ اگر کچھ ذوق سلیم رکھتا ہو تو خود محسوس کرلے گا کہ ان دونوں میں سے کلام لہی کونسا ہے اور انسانی داستان گوئی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے۔ نیز وہ اس معاملہ میں بھی بآسانی رائے قائم کرسکے گا کہ آیا قرآن کی یہ روایت معاذ اللہ بائیبل اور اسرائیلی روایات کی نقل ہے، یا وہ خدا خود اصل واقعہ بیان فرما رہا ہے جس نے حضرت موسیٰ کو باریاب فرمایا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طہ حاشیہ 19)
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادُو۔49 اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنی ہی نہیں۔50

سورة القصص 49 اصل الفاظ ہیں سِحْرٌ مُّفْتَرًى " افترا کیا ہوا جادو "۔ اس افترا کو جھوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لاٹھی کا اژدھا بننا اور ہاتھ کا چمک اٹھنا، نفس شے میں حقیقی تغیر نہیں ہے بلکہ محض ایک نمائشی شعبدہ ہے جسے یہ شخص معجزہ کہہ کر ہمیں دھوکا دے رہا ہے۔ اور اگر اسے بناوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ یہ شخص کسی کرتب سے ایک ایسی چیز بنا لایا ہے جو دیکھنے میں لاٹھی معلوم ہوتی ہے مگر جب یہ اسے پھینک دیتا ہے تو سانپ نظر آنے لگتی ہے، اور اپنے ہاتھ پر بھی اس نے کوئی ایسی چیز مل لی ہے کہ اس کی بغل سے نکلنے کے بعد وہ یکایک چمک اٹھتا ہے، یہ مصنوعی طلسم اس نے خود تیار کیا ہے اور ہمیں یقین یہ دلا رہا ہے کہ یہ معجزے ہیں جو خدا نے اسے عطا کیے ہیں۔ سورة القصص اشارہ ہے ان باتوں کی طرف جو تبلیغ رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ نے پیش کی تھیں، قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان باتوں کی تفصیل دی گئی ہے۔ النازعات میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس سے کہا فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰٓى اَنْ تَـزَكّٰى، وَاَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰى۔ " کیا تو پاکیزہ روش اختیار کرنے پر آمادہ ہے ؟ اور میں تجھے تیرے رب کی راہ بتاؤں تو خشیت اختیار کرے گا "۔ سورة طہ میں ہے کہ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ ۭ وَالسَّلٰمُ عَلٰي مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى، اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰي مَنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى۔ " ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لائے ہیں، اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہ راست کی پیروی کرے اور ہم پر وحی کی گئی ہے کہ سزا ہے اس کے لیے جو جھٹلائے اور منہ موڑے " اور اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ۔ " ہم تیرے رب کے پیغمبر ہیں، تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے "۔ انہی باتوں کے متعلق فرعون نے کہا کہ ہمارے باپ دادا نے کبھی یہ نہیں سنا تھا کہ فرعون مصر سے اوپر بھی کوئی ایسی مقتدر ہستی ہے جو اس کو حکم دینے کی مجاز ہو، جو اسے سزا دے سکتی ہو، جو اسے ہدایات دینے کے لیے کسی آدمی کو اس کے دربار میں بھیجے، اور جس سے ڈرنے کے لیے مصر کے بادشاہ سے کہا جائے۔ یہ تو نرالی باتیں ہیں جو آج ہم ایک شخص کی زبان سے سن رہے ہیں۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا”میرا ربّ اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اُس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کِس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔“51

سورة القصص 51 یعنی تو مجھے ساحر اور افترا پرداز قرار دیتا ہے، لیکن میرا رب میرے حال سے خوب واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ جو شخص اس کی طرف سے رسول مقرر کیا گیا ہے وہ کیسا آدمی ہے۔ اور آخری انجام کا فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے، میں جھوٹا ہوں تو میرا انجام برا ہوگا اور تو جھوٹا ہے تو پھر خوب جان لے کہ تیرا انجام اچھا نہیں ہے۔ بہرحال یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ ظالم کے لیے فلاح نہیں ہے، جو شخص خدا کا رسول نہ ہو اور جھوٹ موٹ کا رسول بن کر اپنا کوئی مفاد حاصل کرنا چاہے وہ بھی ظالم ہے اور فلاح سے محروم رہے گا، اور جو طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر سچے رسول کو جھٹلائے اور مکاریوں سے صداقت کو دبانا چاہے وہ بھی ظالم ہے اور اسے کبھی فلاح نصیب نہ ہوگی۔
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا”اے اہلِ دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔52 ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اُس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹاسمجھتا ہوں۔“53

سورة القصص 52 اس قول سے فرعون کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ نہیں تھا کہ اور نہیں ہوسکتا تھا کہ میں ہی تمہارا اور زمین و آسمان کا خالق ہوں، کیونکہ ایسی بات صرف ایک پاگل ہی کے منہ سے نکل سکتی تھی، اور اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، کیونکہ اہل مصر کے مذہب میں بہت سے معبودوں کی پرستش ہوتی تھی اور خود فرعون کو جس بنا پر معبودیت کا مرتبہ دیا گیا تھا وہ بھی صرف یہ تھی کہ اسے سورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا تھا، سب سے بڑی شہادت قرآن مجید کی موجود ہے کہ فرعون خود بہ سے دیوتاؤں کا پرستار تھا وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ۔ " اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوٹ دے دے گا کہ ملک میں فساد برپا کریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں "۔ (الاعراف، آیت 127) اس لیے لامحالہ یہاں فرعون نے لفظ " خدا " اپنے لیے بمعنی خالق و معبود نہیں بلکہ بمعنی مطیع و حاکم مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مدعا یہ تھا کہ اس سرزمین مصر کا مالک میں ہوں۔ یہاں میرا حکم چلے گا، میرا ہی قانون یہاں قانون مانا جائے گا۔ میری ذات ہی یہاں امر و نہی کا سرچشمہ تسلیم کی جائے گی، کوئی دوسرا یہاں حکم چلانے کا مجاز نہیں ہے، یہ موسیٰ کون ہے جو رب العالمین کا نمائندہ بن کر کھڑا ہوا ہے اور مجھے اس طرح احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل فرمنروا یہ ہے اور میں اس کا تابع ہوں۔ اسی بنا پر اس نے اپنے دربار کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا تھا يٰقَوْمِ اَلَيْسَ لِيْ مُلْكُ مِصْرَ وَهٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِيْ۔ " اے قوم، کیا مصر کی بادشاہی میری ہی نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے تحت جاری نہیں ہیں " (الزخرف، آیت 51) اور اسی بنا پر وہ حضرت موسیٰ سے بار بار کہتا تھا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاۗءُ فِي الْاَرْضِ۔ " کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس طریقے سے ہٹا دے جو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے چلا آرہا ہے اور اس ملک میں بڑائی تم دونوں بھائیوں کی ہوجائے " (یونس، آیت 78) اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يٰمُوْسٰى۔ " اے موسیٰ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہماری زمین سے بےدخل کردے " (طہ، آیت 57) اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ فِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ۔ " میں ڈرتا ہوں کہ یہ شخص تم لوگوں کا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا "۔ (المومن، آیت 26) اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کی پوزیشن ان ریاستوں کی پوزیشن سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جو خدا کے پیغمبر کی لائی ہوئی شریعت سے آزاد و خود مختار ہو کر اپنی سیاسی اور قانونی حاکمیت کی مدعی ہیں۔ وہ خواہ سرچشمہ قانون اور صاحب امر و نہی کسی بادشاہ کو مانیں یا قوم کی مرضی کو، بہرحال جب تک وہ یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ملک میں خدا اور اس کے رسول کا بلکہ ہمارا حکم چلے گا اس وقت تک ان کے اور فرعون کے موقف میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بےشعور لوگ فرعون پر لعنت بھیجتے رہیں اور ان کو سند جواز عطا کرتے رہیں، حقائق کی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی تو معنی اور روح کو دیکھے گا نہ کہ الفاظ اور اصطلاحات کو۔ آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ فرعون نے اپنے لیے الہ کا لفظ استعمال کیا تھا، اور یہ اسی معنی میں " حاکمیت " کی اصطلاح استعمال کرتی ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، سورة طہ، حاشیہ 21) سورة القصص 53 یہ اسی قسم کی ذہنیت تھی جیسی موجودہ زمانے کے ر وسی کمیونسٹ ظاہر کر رہے ہیں، یہ اسپٹنک اور لونک چھوڑ کر دنیا کو خبر دیتے ہیں کہ ہماری ان گیندوں کو اوپر کہیں خدا نہیں ملا۔ وہ بیوقوف ایک مینارے پر چڑھ کر خدا کو جھانکنا چاہتا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ گمراہ لوگوں کے ذہن کی پرواز ساڑھے تین ہزار برس پہلے جہاں تک تھی آج بھی وہیں تک ہے۔ اس اعتبار سے ایک انگل بھر ترقی بھی وہ نہیں کرسکے ہیں۔ معلوم نہیں کسی احمق نے ان کو یہ خبر دی تھی کہ خدا پرست لوگ لوگ جس رب العالمین کو مانتے ہیں وہ ان کے عقیدے کی رو سے اوپر کہیں بیٹھا ہوا ہے، اور اس اتھاہ کائنات میں زمین سے چند ہزار فیٹ یا چند لاکھ میل اوپر اٹھ کر اگر وہ انہیں نہ ملے تو یہ بات گویا بالکل ثابت ہوجائے گی کہ وہ کہیں موجود نہیں ہے۔ قرآن یہاں یہ نہیں کہتا کہ فرعون نے فی الواقع ایک عمارت اس غرض کے لیے بنوائی تھی اور اس پر چڑھ کر خدا کو جھانکنے کی کوشش بھی کی تھی، بلکہ وہ اس کے صرف اس قول کو نقل کرتا ہے اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے عملا یہ حماقت نہیں کی تھی، ان باتوں سے اس کا مدعا صرف بیوقوف بنانا تھا۔ یہ امر بھی واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ فرعون آیا فی الواقع خداوند عالم کی ہستی کا منکر تھا یا محض ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر دہریت کی باتیں کرتا تھا۔ اس کے اقوال اس معاملہ میں اسی ذہنی الجھاؤ کی نشان دہی کرتے ہیں جو روسی کمیونسٹوں کی باتوں میں پایا جاتا ہے۔ کبھی تو وہ آسمان پر چڑھ کر دنیا کو باتانا چاہتا تھا کہ میں اوپر دیکھ آیا ہوں، موسیٰ کا خدا کہیں نہیں ہے، اور کبھی وہ کہتا فَلَوْلَآ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَاۗءَ مَعَهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ مُقْتَرِنِيْنَ۔ " اگر موسیٰ واقعی خدا کا بھیجا ہوا ہے تو کیوں نہ اس کے لیے سونے کے کنگن اتارے گئے، یا اس کی اردلی میں ملائکہ نہ آئے "۔ یہ باتیں روس کے ایک سابق وزیر اعظم خروشچیف کی باتوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں جو کبھی خدا کا انکار کرتا اور کبھی بار بار خدا کا نام لیتا اور اس کے نام کی قسمیں کھاتا تھا۔ ہمارا قیاس ہے کہ حضرت یوسف ؑ اور ان کے خلفاء کا دور اقتدار گزر جانے کے بعد جب مصر میں قبطی قوم پرستی کا زور ہوا اور ملک میں اسی نسلی و وطنی تعصب کی بنیاد پر سیاسی انقلاب رونما ہوگیا تو نئے لیڈروں نے اپنے قوم پرستانہ جوش میں اس خدا کے خلاف بھی بغاوت کردی جس کو ماننے کی دعوت حضرت یوسف اور ان کے پیرو اسرائیلی اور مصری مسلمان دیتے تھے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ خدا کو مان کر ہم یوسفی تہذیب کے اثر سے نکل سکیں گے، اور یہ تہذیب باقی رہی تو ہمارا سیاسی اثر بھی مستحکم نہ ہوسکے گا۔ وہ خدا کے اقرار و مسلم اقتدار کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے، اس لیے ایک سے پیچھا چھڑانے کی خاطر دوسرے کا انکار ان کے نزدیک ضروری تھا، اگرچہ اس کا اقرار ان کے دل کی گہرائیوں سے کسی طرح نکالے نہ نکلتا تھا۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اُس نے اور اُس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا54 اور سمجھے کہ اُنہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے۔55

سورة القصص 54 یعنی بڑائی کا حق تو اس کائنات میں صرف اللہ رب العالمین کو ہے، مگر فرعون اور اس کے لشکر زمین کے ایک ذرا سے خطے میں تھوڑا سا اقتدار پاکر یہ سمجھ بیٹھے کہ یہاں بڑے بس وہی ہیں۔ سورة القصص 55 یعنی انہوں نے اپنے آپ کو غیر مسؤل سمجھ لیا اور یہ فرض کر کے خود مختارانہ کام کرنے لگے کہ انہیں جاکر کسی کے سامنے جواب دہی نہیں کرنی ہے۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اُسے اور اُس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔56 اب دیکھ لو کہ اُن ظالموں کا کیسا انجام ہوا

سورة القصص 56 ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے تکبر کے مقابلے میں ان کی بےحقیقی اور ہیچ میرزی کی تصویر کھینچ دی ہے، وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے، مگر جب وہ مہلت جو خدا نے ان کو راہ راست پر آنے کے لیے دی تھی ختم ہوگئی تو انہیں اس طرح اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا جیسے کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے۔
Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

ہم نے اُنہیں جہنّم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا57 اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے

سورة القصص 57 یعنی وہ بعد کی نسلوں کے لیے ایک مثال قائم کر گئے ہیں کہ ظلم یوں کیا جاتا ہے، انکار حق پر ڈٹ جانے اور آخر وقت تک ڈٹے رہنے کی شان یہ ہوتی ہے، اور صداقت کے مقابلے میں باطل پر لوگ ایسے ایسے ہتھیار استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ سب راستے دنیا کو دکھا کر وہ جہنم کی طرف جا چکے ہیں اور ان کے اخلاف اب انہی کے نقش قدم پر چل کر اسی منزل کے رخ لپکے جارہے ہیں۔
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔58

سورة القصص 58 اصل الفاظ ہیں قیامت کے روز وہ " مقبوحین " میں سے ہوں گے، اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں، وہ مردود و مطرد ہوں گے۔ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردیے جائیں گے، ان کی بری گت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر ، ہدایت اور رحمت بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں۔59

سورة القصص 59 یعنی پچھلی نسلیں جب انبیائے سابقین کی تعلیمات سے روگردانی کا برا نتیجہ بھگت چکیں اور ان کا آخری انجام وہ کچھ ہوچکا جو فرعون اور اس کے لشکروں نے دیکھا، تو اس کے بعد موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی گئی تاکہ انسانیت کا ایک نیا دور شروع ہو۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

(اے محمدؐ)تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے60 جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمانِ شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے،61

سورة القصص 60 مغربی گوشے سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ کو احکام شریعت دیے گئے تھے، یہ علاقہ حجاز کے مغربی جانب واقع ہے۔ سورة القصص 61 یعنی بنی اسرائیل کے ان ستر نمائندوں میں جن کو شریعت کی پابندی کا عہد لینے کے لیے حضرت موسیٰ کے ساتھ بلایا گیا تھا (سورة اعراف، آیت 155 میں ان نمائندوں کے بلائے جانے کا ذکر گزر چکا ہے، اور بائیبل کی کتاب خروج، باب 24 میں بھی اس کا ذکر موجود ہے)
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

بلکہ اُس کے بعد (تمہارے زمانے تک)ہم بہت سی نسلیں اُٹھا چکے ہیں اور اُن پر بہت زمانہ گُزر چکا ہے۔62 تم اہلِ مَدیِن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے،63 مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں

سورة القصص 62 یعنی تمہارے پاس ان معلومات کے حصول کا براہ راست کوئی ذریعہ نہیں تھا، آج جو تم ان واقعات کو دو ہزار برس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد اس طرح بیان کر رہے ہو کہ گویا یہ سب تمہارا آنکھوں دیکھا حال ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے تم کو یہ معلومات بہم پہنچائی جارہی ہیں۔ سورة القصص 63 یعنی جب حضرت موسیٰ مدین پہنچے، اور جو کچھ وہاں ان کے ساتھ پیش آیا، اور دس سال گزار کر جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے، اس وقت تمہارا کہیں پتہ بھی نہ تھا، تم اس وقت مدین کی بستیوں میں وہ کام نہیں کر رہے تھے جو آج مکہ کی گلیوں میں کر رہے ہو۔ ان واقعات کا ذکر تم کچھ اس بنا پر نہیں کر رہے ہو کہ یہ تمہارا عینی مشاہدہ ہے، بلکہ یہ علم بی تم کو ہماری وحی کے ذریعہ سے ہی حاصل ہوا۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ)پکارا تھا، مگر یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے(کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں) 64 تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کرو جن کے پاس ان سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا،65 شاید کہ وہ ہوش میں آئیں

سورة القصص 64 یہ تینوں باتیں محمد ﷺ کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ باتیں کہی گئی تھیں اس وقت مکہ کے تمام سردار اور عام کفار اس بات پر پوری طرح تلے ہوئے تھے کہ کسی نہ کسی طرح آپ کو غیر نبی اور معاذ اللہ جھوٹا مدعی ثابت کردیں۔ ان کی مدد کے لیے یہود کے علماء اور عیسائیوں کے راہب بھی حجاز کی بستیوں میں موجود تھے۔ اور محمد ﷺ کہیں عالم بالا سے آکر یہ قرآن نہیں سنا جاتے تھے، بلکہ اسی مکہ کے رہنے والے تھے اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ آپ کی بستی اور آپ کے قبیلہ کے لوگوں سے چھپا ہوا نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت اس کھلے چیلنج کے انداز میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کے ثبوت کے طور پر یہ تین باتیں ارشاد فرمائی گئیں، اس وقت مکہ اور حجاز اور پورے عرب میں کوئی ایک شخص بھی اٹھ کر وہ بیہودہ بات نہ کہہ سکا جو آج کے مستشرقین کہتے ہیں۔ اگرچہ جھوٹ گھڑنے میں وہ لوگ ان سے کچھ کم نہ تھے، لیکن ایسا دروغ بےفروغ آخر وہ کیسے بول سکتے تھے جو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتا ہو۔ وہ کیسے کہتے کہ اے محمد، تم فلاں فلاں یہودی عالموں اور عیسائی راہبوں سے یہ معلومات حاصل کر لائے ہو، کیونکہ پورے ملک میں وہ اس غرض کے لیے کسی کا نام نہیں لے سکتے تھے۔ جس کا نام بھی وہ لیتے فورا ہی یہ ثابت ہوجاتا کہ اس سے آنحضرت نے کوئی معلومات حاصل نہیں کی ہیں۔ وہ کیسے کہتے کہ اے محمد، تمہارے پاس پچھلی تاریخ اور علوم و آداب کی ایک لائبریری موجود ہے جس کی مدد سے تم یہ ساری تقریریں کر رہے ہو، کیونکہ لائبریری تو درکنار محمد ﷺ کے آس پاس کہیں سے وہ ایک کاغذ کا پرزہ بھی برآمد نہیں کرسکتے تھے جس میں یہ معلومات لکھی ہوئی ہوں۔ مکہ کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ لکھے پڑھے آدمی نہیں ہیں، اور کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ نے کچھ مترجمین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو عبرانی اور سریانی اور یونانی کتابوں کے ترجمے کر کے آپ کو دیتے ہیں۔ پھر ان میں سے کوئی بڑے سے بڑا بےحیا آدمی بھی یہ دعوی کرنے کی جرات نہ رکھتا تھا کہ شام و فلسطین کے تجارتی سفروں میں آپ یہ معلومات حاصل کر آئے تھے، کیونکہ یہ سفر تنہا نہیں ہوئے تھے، مکہ ہی کے تجارتی قافلے ہر سفر میں آپ کے ساتھ لگے ہوتے تھے۔ اگر کوئی اس وقت ایسا دعوی کرتا تو سینکڑوں زندہ شاہد یہ شہادت دے دیتے کہ وہاں آپ نے کسی سے کوئی درس نہیں لیا۔ اور آپ کی وفات کے بعد تو دو سال کے اندر ہی رومیوں سے مسلمان برسر پیکار ہوگئے تھے، اگر کہیں جھوٹوں بھی شام و فلسطین میں کسی عیسائی راہب یا یہودی ربی سے حضور نے کوئی مذاکرہ کیا ہوتا تو رومی سلطنت رائی کا پہاڑ بنا کر یہ پروپیگنڈا کرنے میں ذرا دریغ نہ کرتی کہ محمد، معاذ اللہ سب کچھ یہاں سے سیکھ گئے تھے اور مکہ جاکر نبی بن بیٹھے، غرض اس زمانے میں جبکہ قرآن کا یہ چیلنج قریش کے کفار و مشرکین کے لیے پیام موت کی حیثیت رکھتا تھا، اور اس کو جھٹلانے کی ضرورت موجودہ زمانے کے مستشرقین کی بہ نسبت ان لوگوں کو بدرجہا زیادہ لاحق تھی، کوئی شخص بھی کہیں سے ایسا کوئی مواد فراہم کر کے نہ لاسکا جس سے وہ یہ ثابت کرسکتا کہ محمد ﷺ کے پاس وحی کے سوا ان معلومات کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود ہے جس کی نشان دہی کی جاسکتی ہو۔ یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ قرآن نے یہ چیلنج اسی ایک جگہ نہیں دیا ہے بلکہ متعدد مقامات پر مختلف قصوں کے سلسلہ میں دیا ہے، حضرت زکریا اور حضرت مریم کا قصہ بیان کر کے فرمایا ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ۔ " یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کے ذریعے سے تمہیں دے رہے ہیں، تم ان لوگوں کے آس پاس کہیں موجود نہ تھے جبکہ وہ اپنے قرعے یہ طے کرنے کے لیے پھینک رہے تھے کہ مریم کی کفالت کون کرے، اور نہ تم اس وقت موجود تھے جبکہ وہ جھگڑ رہے تھے " (آل عمران، آیت 44) حضرت یوسف کا قصہ بیان کرنے کے بعد فرمایا ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ۔ " یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کے ذریعہ سے تمہیں دے رہے ہیں تم ان کے (یعنی یوسف کے بھائیوں کے) آس پاس کہیں موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنی تدبیر پر اتفاق کیا اور جب کہ وہ اپنی چال چل رہے تھے " (یوسف، آیت 102) اسی طرح حضرت نوح کا مفصل قصہ بیان کرکے فرمایا تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا۔ " یہ باتیں غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں، تمہیں اور تمہاری قوم کو اس سے پہلے ان کا کوئی علم نہ تھا " (ہود، آیت 49) اس چیز کی بار بار تکرار سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن مجید اپنے من جانب اللہ ہونے اور محمد ﷺ رسول اللہ ہونے پر جو بڑے بڑے دلائل دیتا تھا ان میں سے ایک یہ دلیل تھی کہ سینکڑوں ہزاروں برس پہلے کے گزرے ہوئے واقعات کی جو تفصیلات ایک امی کی زبان سے بیان ہو رہی ہیں ان کے علم کا کوئی ذریعہ اس کے پاس وحی کے سوا نہیں ہے۔ اور یہ چیز ان اہم اسباب میں سے ایک تھی جن کی بنا پر نبی ﷺ کے ہم عصر لوگ اس بات پر یقین لاتے چلے جارہے تھے کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں اور آپ پر وحی آتی ہے، اب یہ ہر شخص خود تصور کرسکتا ہے کہ اسلامی تحریک کے مخالفین کے لیے اس زمانے میں اس چیلنج کی تردید کرنا کیسی کچھ اہمیت رکھتا ہوگا، اور انہوں نے اس کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کی کوششوں میں کیا کسر اٹھا رکھی ہوتی، نیز یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر معاذ اللہ اس چیلنج میں ذرا سی بھی کوئی کمزوری ہوتی تو اس کو غلط ثابت کرنے کے لیے شہادتیں فراہم کرنا ہم عصر لوگوں کے لیے مشکل نہ تھا۔ سورة القصص 65 عرب میں حضرت اسماعیل اور حضرت شعیب (علیہما السلام) کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا، تقریبا دو ہزار برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچیں، مثلا حضرت موسی، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کی دعوتیں، مگر کسی نبی کی بعثت خاص اس سرزمین میں نہیں ہوئی تھی۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ)کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں”اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسُول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے۔“66

سورة القصص 66 اسی چیز کو قرآن مجید متعدد مقامات پر رسولوں کے بھیجے جانے کی وجہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اس غرض کے لیے ہر وقت ہر جگہ ایک رسول آنا چاہیے۔ جب تک دنیا میں ایک رسول کا پیغام اپنی صحیح صورت میں موجود رہے اور لوگوں تک اس کے پہنچنے کے ذرائع موجود رہیں، کسی نئے رسول کی حاجت نہیں رہتی، الا یہ کہ پچھلے پیغام میں کسی اضافے کی اور کوئی نیا پیغام دینے کی ضرورت ہو۔ البتہ جب انبیاء کی تعلیمات محو ہوجائیں، یا گمراہیوں میں خلط ملط ہو کر وسیلہ ہدایت بننے کے قابل نہ رہیں، تب لوگوں کے لیے یہ عذر پیش کرنے کا موقع پیدا ہوجاتا ہے کہ ہمیں حق و باطل کے فرق سے آگاہ کرنے اور صحیح راہ بتانے کا کوئی انتظام سرے سے موجود ہی نہیں تھا، پھر بھلا ہم کیسے ہدایت پاسکتے تھے، اسی عذر کو قطع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے حالات میں نبی مبعوث فرماتا ہے تاکہ اس کے بعد جو شخص بھی غلط راہ پر چلے وہ اپنی کجروی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاسکے۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے”کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟“67 کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟68 اُنہوں نے کہا”دونوں جادُو ہیں69 جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ اور کہا”ہم کسی کو نہیں مانتے۔“

سورة القصص 67 یعنی محمد ﷺ کو وہ سارے معجزے کیوں نہ دیے گئے جو حجرت موسیٰ کو دیے گئے تھے، یہ بھی عصا کا اژدھا بنا کر ہمیں دکھاتے، ان کا ہاتھ بھی سورج کی طرح چمک اٹھتا، جھٹلانے والوں پر ان کے اشارے سے بھی پے درپے طوفانوں اور زمین و آسمان سے بلاؤں کا نزول ہوتا اور یہ بھی پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام لاکر ہمیں دیتے۔ سورة القصص 68 یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے، مطلب یہ ہے کہ ان معجزوں کے باوجود موسیٰ ہی پر تم کب ایمان لائے تھے جو اب محمد ﷺ سے ان کا مطالبہ کر رہے ہو، تم خود کہتے ہو کہ موسیٰ کو یہ معجزے دیے گئے تھے، مگر پھر بھی ان کو نبی مان کر ان کی پیروی تم نے کبھی قبول نہیں کی، سورة سبا آیت 31 میں بھی کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ " نہ ہم اس قرآن کو مانیں گے نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں "۔ سورة القصص 69 یعنی قرآن اور توراۃ۔
Ayahs 28:49–50

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

(اے نبیؐ)اِن سے کہو”اچھا، تو لاوٴ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا۔“70

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا

سورة القصص 70 یعنی مجھے تو ہدایت کی پیروی کرنی ہے، بشرطیکہ وہ کسی کی من گھڑت نہ ہو، بلکہ خدا کی طرف سے حقیقی ہدایت ہو، اگر تمہارے پاس کوئی کتاب اللہ موجود ہے جو قرآن اور توراۃ سے بہتر رہنمائی کرتی ہو تو اسے تم نے چھپا کیوں رکھا ہے ؟ اسے سامنے لاؤ میں بلا تامل اس کی پیروی قبول کرلوں گا۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور (نصیحت کی)بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تا کہ وہ غفلت سے بیدار ہوں۔71

سورة القصص 71 یعنی جہاں تک حق نصیحت ادا کرنے کا تعلق ہے ہم اس قرآن میں پیہم اسے ادا کرچکے ہیں، لیکن ہدایت تو اسی کو نصیب ہوسکتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑے اور تعصبات سے دل کو پاک کر کے سچائی کو سیدھی طرح قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو اِس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اِس (قرآن)پر ایمان لاتے ہیں۔72

سورة القصص 72 اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ تمام اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) اس پر ایمان لاتے ہیں، بلکہ یہ اشارہ دراصل اس واقعہ کی طرف ہے جو اس سورة کے نزول کے زمانہ میں پیش آیا تھا، اور اس سے اہل مکہ کو شرم دلانی مقصود ہے کہ تم اپنے گھر آئی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہے ہو حالانکہ دور دور کے لوگ اس کی خبر سن کر آرہے ہیں اور اس کی قدر پہچان کر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس واقعہ کو ابن ہشام اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن اسحاق کے حوالہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ ہجرت حبشہ کے جب نبی ﷺ کی بعثت اور دعوت کی خبریں حبش کے ملک میں پھیلیں تو وہاں سے 20 کے قریب عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق حال کے لیے مکہ معظمہ آیا اور نبی ﷺ سے مسجد حرام میں ملا۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ کر گردو پیش کھڑے ہوگئے۔ وفد کے لوگوں نے حضور سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا، پھر آپ نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات ان کے سامنے پڑھیں۔ قرآن سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے اس کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کی اور حضور پر ایمان لے آئے، جب مجلس برخاست ہوئی تو ابوجہل اور اس کے چند ساتھیوں نے ان لوگوں کو راستہ میں جالیا اور انہیں سخت ملامت کی کہ بڑے نامراد ہو تم لوگ، تمہارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لیے بھیجا تھا کہ تم شخص کے حالات کی تحقیق کر کے آؤ اور انہیں ٹھیک ٹھیک خبردو، مگر تم ابھی اس کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر اس پر ایمان لے آئے۔ تم سے زیاہ احمق گروہ تو کبھی ہماری نظر سے نہیں۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ سلام ہے بھائیو تم کو، ہم تمہارے ساتھ جہالت بازی نہیں کرسکتے، ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو،۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ (سیرت ابن ہشام ج 2، ص 32۔ البدایہ والنہایہ، ج 3، ص 82) مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الشعراء، حاشیہ 123۔
Ayah 28:53

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ”ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے ربّ کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔“73

سورة القصص 73 یعنی اس سے پہلے بھی ہم انبیاء اور کتب آسمانی کے ماننے والے تھے، اس لیے اسلام کے سوا ہمارا کوئی اور دین نہ تھا، اور اب جو نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب لے کر آیا ہے اسے بھی ہم نے مان لیا ہے، لہذا درحقیقت ہمارے دین میں کوئٰ تبدیلی نہیں ہوئی ہے بلکہ جیسے ہم پہلے مسلمان تھے ویسے ہی اب بھی مسلمان ہیں۔ یہ قول اس بات کی صاف صراحت کردیتا ہے کہ اسلام صرف اس دین کا نام نہیں ہے جسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، اور " مسلم " کی اصطلاح کا اطلاق محض حضور کے پیرو وں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام تھا اور ہر زمانہ میں ان سب کے پیرو مسلمان ہی تھے۔ یہ مسلمان اگر کبھی کافر ہوئے تو صرف اس وقت جبکہ کسی بعد کے آنے والے نبی صادق کو ماننے سے انہوں نے انکار کیا، لیکن جو لوگ پہلے نبی کو مانتے تھے اور بعد کے آنے والے نبی پر بھی ایمان لے آئے ان کے اسلام میں کوئی انقطاع نہیں ہوا۔ وہ جیسے مسلمان پہلے تھے ویسے ہی بعد میں رہے۔ تعجب ہے کہ بعض بڑے بڑے اہل علم بھی اس حقیقت کے ادراک سے عاجز رہ گئے ہیں، حتی کہ اس صریح آیت کو دیکھ کر بھی ان کا اطمینان نہ ہوا۔ علامہ سیوطی نے ایک مفصل رسالہ اس موضوع پر لکھا کہ مسلم کی اصطلاح صرف امت محمد ﷺ کے لیے مختص ہے۔ پھر جب یہ آیت سامنے آئی تو خود فرماتے ہیں کہ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، لیکن کہتے ہیں کہ میں نے پھر خدا سے دعا کی کہ اس معاملہ میں مجھے شرح صدر عطا کردے۔ آخر کار اپنی رائے سے رجوع کرنے کے بجائے انہوں نے اس پر اصرار کیا اور اس آیت کی متعدد تاویلیں کر ڈالیں جو ایک سے ایک بڑھ کر بےوزن ہیں۔ مثلا ان کی ایک تاویل یہ ہے کہ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ۔ کے معنی ہیں ہم قرآن کے آنے سے پہلے ہی مسلم بن جانے کا عزم رکھتے تھے کیونکہ ہمیں اپنی کتابوں سے اس کے آنے کی خبر مل چکی تھی اور ہمارا ارادہ یہ تھا کہ جب وہ آئے گا تو ہم اسلام قبول کرلیں گے۔ دوسری تاویل یہ ہے کہ اس فقرے میں مُسْلِمِيْنَ کے بعد لفظ بِہٖ محذوف ہے، یعنی پہلے ہی سے ہم قرآن کو مانتے تھے کیونکہ اس کے آنے کی ہم توقع رکھتے تھے اور اس پر پیشگی ایمان لائے ہوئے تھے، اس لیے توراۃ و انجیل کو ماننے کی بنا پر نہیں بلکہ قرآن کو اس کے زول سے پہلے برحق مان لینے کی بنا پر ہم مسلم تھے۔ تیسری تاویل یہ ہے کہ تقدیر الہی میں ہمارے لیے پہلے ہی مقدر ہوچکا تھا کہ محمد ﷺ اور قرآن کی آمد پر ہم اسلام قبول کرلیں گے اس لیے درحقیقت ہم پہلے ہی سے مسلم تھے۔ ان تاویلوں میں سے کسی کو دیکھ کر بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اللہ کے عطا کردہ شرح صدر کا اس میں کوئی اثر موجود ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن صرف اسی ایک مقام پر نہیں بلکہ بیسیوں مقامات پر اس اصولی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اصل دین صرف " اسلام " (اللہ کی فرمانبرداری) ہے، اور خدا کی کائنات میں خدا کی مخلوق کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا دین ہو نہیں سکتا، اور آغاز آفرینش سے جو نبی بھی انسانوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے وہ یہی دین لے کر آیا ہے، اور یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ خوش مسلم رہے ہیں، اپنے پیرو وں کو انہوں نے مسلم ہی بن کر رہنے کی تاکید ہے اور ان کے وہ سب متبعین جنہوں نے نبوت کے ذریعہ سے آئے ہوئے فرمان خداوندی کے آگے سرتسلیم خم کیا، ہر زمانے میں مسلم ہی تھے۔ اس سلسلہ میں مثال کے طور پر صرف چند آیات ملاحظہ ہوں۔ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ (آل عمران، آیت 19) " درحقیقت اللہ کے نزدیک تو دین صرف اسلام ہے۔ وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ (آل عمران، آیت 85) " اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرے وہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا "۔ حضرت نوح ؑ فرماتے ہیں اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ ۙ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ (یونس، آیت 72) " میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلموں میں شامل ہو کر رہوں "۔ حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ ۭيٰبَنِىَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ ۭ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَاۗىِٕكَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا ښ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ۔ (البقرہ، آیت 131 تا 133) " جبکہ اس کے رب نے اس سے کہا کہ مسلم (تابع فرمان) ہوجا، تو اس نے کہا میں مسلم ہوگیا رب العالمین کے لیے، اور اسی چیز کی وصیت کی ابراہم نے اپنی اولاد کو اور یعقوب نے بھی کہ اے میرے بچو اللہ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند کیا ہے لہذا تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو، کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کی وفات کا وقت آیا ؟ جبکہ اس نے اپنی اولاد سے پوچھا کس کی بندگی کرو گے تم میرے بعد ؟ انہوں نے جواب دیا ہم بندگی کریں گے آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی، اس کو اکیلا معبود مان کر اور ہم اسی کے مسلم ہیں۔ مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا۔ (آل عمران، آیت 67) " ابراہیم نہ یہودی تھا نہ نصرانی، بلکہ وہ یکسو مسلم تھا۔ حضرت ابراہیم و اسماعیل خود دعا مانگتے ہیں رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ۔ (البقرہ، آیت 128) " اے ہمارے رب ہم کو اپنا مسلم بنا اور ہماری نسل سے ایک امت پیدا کر جو تیری مسلم ہو "۔ حضرت لوط کے قصے میں ارشاد ہوتا ہے فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ (الذاریات، آیت 36) " ہم نے قوم لوط کی بستی میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا " حضرت یوسف بارگاہ رب العزت میں عرض کرتے ہیں تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ۔ (یوسف، آیت 101) " مجھ کو مسلم ہونے کی حالت میں موت دے اور صالحوں کے ساتھ بلا "۔ حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم سے کہتے ہیں يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ۔ (یونس، آیت 84) " اے میری قوم کے لوگو، اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کر اگر تم مسلم ہو "۔ بنی اسرائیل کا اصل مذہب یہودیت نہیں بلکہ اسلام تھا، اس بات کو دوست اور دشمن سب جانتے تھے، چناچہ فرعون سمندر میں ڈوبتے وقت آخری کلمہ جو کہتا ہے وہ یہ ہے۔ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ (یونس، آیت 90) " میں مان گیا کہ کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلموں میں سے ہوں۔ تمام انبیاء بنی اسرائیل کا دین بھی یہی اسلام تھا اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا۔ (المائدہ، آیت 44) " ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اسی کے مطابق وہ نبی جو مسلم تھے ان لوگوں کے معاملات کے فیصلے رکتے تھے جو یہودی ہوگئے تھے۔ یہی حضرت سلیمان ؑ کا دین تھا، چناچہ ملکہ سبا ان پر ایمان لاتے ہوئے کہتی ہے اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ (النمل، آیت 44) " میں سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی مسلم ہوگئی۔ اور یہی حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کے حواریوں کا دین تھا وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِيْ وَبِرَسُوْلِيْ ۚ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ۔ (المائدہ، آیت 111) " اور جبکہ میں نے حواریوں پر وحی کی کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلم ہیں " اس معاملہ میں اگر کوئی شک اس بنا پر کیا جائے کہ عربی زبان کے الفاظ " اسلام " اور " مسلم " ان مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں میں کیسے مستعمل ہوسکتے تھے، تو ظاہر ہے کہ یہ محض ایک نادانی کی بات ہوگی۔ کیونکہ اصل اعتبار عربی کے ان الفاظ کا نہیں بلکہ اس معنی کا ہے جس کے لیے یہ الفاظ عربی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ دراصل جو بات ان آیات میں بتائ گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کی طرف سے آیا ہوا حقیقی دین مسیحیت یا موسویت یا محمدیت نہیں ہے بلکہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعہ سے آئے ہوئے فرمان خداوندی کے آگے سر اطاعت جھکا دینا ہے اور یہ رویہ جہاں جس بندہ خدا نے بھی جس زمانے میں اختیار کیا ہے وہ ایک ہی عالمگیر ازلی و ابدی دین حق کا متبع ہے۔ اس دین کو جن لوگوں نے ٹھیک ٹھیک شعور اور اخلاص کے ساتھ اختیار کیا ہے ان کے لیے موسیٰ کے بعد مسیح کو اور مسیح کے بعد محمد ﷺ وعلیہم اجمعین کو ماننا تبدیل مذہب نہیں بلکہ حقیقی دین کے اتباع کا فطری و منقطی تقاضا ہے۔ بخلاف اس کے جو لوگ انبیاء (علیہم السلام) کے گروہوں میں بےسوچے سمجھے گھس آئے یا پیدا ہوگئے اور قومی و نسلی اور گروہی تعصبات نے جن کے لیے اصل مذہب کی حیثیت اختیار کرلی، وہ بس یہودی یا مسیحی بن کر رہ گئے اور محمد ﷺ کے آنے پر ان کی جہالت کی قلعی کھل گئی، کیونکہ انہوں نے اللہ کے اکری نبی کا انکار کر کے نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لیے مسلم رہنا قبول نہ کیا، بلکہ اپنی اس حرکت سے یہ ثابت کردیا کہ حقیقت میں وہ پہلے بھی " مسلم " نہ تھے، محض ایک نبی یا بعض انبیاء کی شخصی گرویدگی میں مبتلا تھے یا آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کو دین بنائے بیٹھے تھے۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا74 اُس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔75 وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں76 اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔77

سورة القصص 74 یعنی ایک اجر اس ایمان کا جو وہ پہلے سیدنا عیسیٰ ؑ پر رکھتے تھے اور دوسرا اجر اس ایمان کا جو وہ اب نبی عربی محمد ﷺ پر لائے۔ یہی بات اس حدیث میں بیان کی گئی ہے جو بخاری و مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ثلثۃ لہم اجران، رجل من اھل الکتب امن بنبیہ وامن بمحمد۔ " تین شخص ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا، ان میں سے ایک وہ ہے جو اہل کتاب میں سے تھا اور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا، پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا "۔ سورة القصص 75 یعنی انہیں یہ دوہرا اجر اس بات کا ملے گا کہ وہ قومی و نسلی اور وطنی و گروہی تعصبات سے بچ کر اصل دین حق پر ثابت قدم رہے اور نئے نبی کی آدم پر جو سخت امتحان درپیش ہوا اس میں انہوں نے ثابت کردیا کہ دراصل وہ مسیح پرست نہیں بلکہ خدا پرست تھے، اور شخصیت مسیح کے گرویدہ نہیں بلکہ " اسلام " کے متبع تھے، اسی وجہ سے مسیح کے بعد جب دوسرا نبی وہی اسلام لیکر آیا جسے مسیح لائے تھے تو انہوں نے بےتکلف اس کی رہنمائی میں اسلام کا راستہ اختیار کرلیا اور ان لوگوں کا راستہ چھوڑ دیا جو مسیحیت پر جمے رہ گئے۔ سورة القصص 76 یعنی وہ بدی کا جواب بدی سے نہیں بلکہ نیکی سے دیتے ہیں، جھوٹ کے مقابلے میں جھوٹ نہیں بلکہ صداقت لاتے ہیں، ظلم کو ظلم سے نہیں بلکہ انصاف سے دفع کرتے ہیں، شرارتوں کا سامنا شرارت سے نہیں بلکہ شرافت سے کرتے ہیں۔ سورة القصص 77 یعنی وہ راہ حق میں مالی ایثار بھی کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس میں اشارہ اس طرف بھی ہو کہ وہ لوگ محض حق کی تلاش میں حبش سے سفر کر کے مکہ آئے تھے۔ اس محنت اور صرف مال سے کوئی مادی منفعت ان کے پیش نظر نہ تھی۔ انہوں نے جب سنا کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے ضروری سمجھا کہ خود جاکر تحقیق کریں تاکہ اگر واقعی ایک نبی ہی خدا کی طرف سے مبعوث ہوا ہو تو وہ اس پر ایمان لانے اور ہدایت پانے سے محروم نہ رہ جائیں۔
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب انہوں نے بیہودہ بات سُنی78 تو یہ کہہ کر اُس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ”ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔“

سورة القصص 78 اشارہ ہے اس بیہودہ بات کی طرف جو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے حبشی عیسائیوں کے اس وفد سے کی تھی، جس کا ذکر اوپر حاشیہ 72 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

اے نبیؐ ، تم جسے چاہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خُوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔79

سورة القصص 79 سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ حبشی عیسائیوں کے ایمان و اسلام کا ذکر کرنے کے بعد نبی ﷺ کو مخاطب کر کے یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود دراصل کفار مکہ کو شرم دلانا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ بدنصیبو، ماتم کرو اپنی حالت پر کہ دوسرے کہاں کہاں سے آکر اس نعمت سے مستفید ہورہے ہیں اور تم اس چشمہ فیض سے جو تمہارے اپنے گھر میں بہہ رہا ہے محروم رہے جاتے ہو، لیکن کہا گیا ہے اس انداز سے کہ اے محمد ﷺ ، تم چاہتے ہو کہ میری قوم کے لوگ، میرے بھائی بند، میرے عزیز و اقارب، اس آب حیات سے بہرہ مند ہوں، لیکن تمہارے چاہنے سے کیا ہوتا ہے، ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہ اس نعمت سے انہی لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے جن میں وہ قبول ہدایت کی آمادگی پاتا ہے، تمہارے رشتہ داروں میں اگر یہ جوہر موجود نہ ہو تو انہیں یہ فیض کیسے نصیب ہوسکتا ہے۔ صحیحین کی روایت ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کے چچا ابو طالب کے معاملہ میں نازل ہوئی ہے، ان کا جب آخرت وقت آیا تو حضور نے اپنی حد تک انتہائی کوشش کی کہ وہ کلمہ لا الہ لا اللہ پر ایمان لے آئیں تاکہ ان کا خاتمہ بالخیر ہو، مگر انہوں نے ملت عبدالمطلب پر ہی جان دینے کو ترجیح دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا انک لا تھدی من احببت۔ لیکن محدثین و مفسرین کا یہ طریقہ معلوم و معروف ہے کہ ایک آیت عہد نبوی کے جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے اسے وہ آیت کی شان نزول کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس لیے اس روایت اور اسی مضمون کی ان دوسری روایات سے جو ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں حضرات ابوہریرہ، ابن عباس، ابن عمر ؓ ، وغیرہم سے مروی ہیں۔ لازما یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ سورة قصس کی یہ آیت ابو طالب کی وفات کے وقت نازل ہوئی تھی، بلکہ ان سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مضمون کی صداقت سب سے زیادہ اس موقع پر ظاہر ہوئی، اگرچہ حضور کی دلی خواہش تو ہر بندہ خدا کو راہ راست پر لانے کی تھی، لیکن سب سے بڑھ کر اگر کسی شخص کا کفر پر خاتمہ حضور کو شاق ہوسکتا تھا اور ذاتی محبت وتعلق کی بنا پر سب سے زیادہ کسی شخص کی ہدایت کے آپ آرزو مند ہوسکتے تھے تو وہ ابو طالب تھے، لیکن جب ان کو بھی ہدایت دینے پر آپ قادر نہ ہوئے تو یہ بات بالکل ظاہر ہوگئی کہ کسی کو ہدایت بخشنا اور کسی کو اس سے محروم رکھنا نبی کے بس کی بات نہیں ہے، یہ معاملہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں اور اللہ کے ہاں سے یہ دولت کسی رشتہ داری و برادری کی بنا پر نہیں بلکہ آدمی کی قبولیت و استعداد اور مخلصانہ صداقت پسندی کی بنا پر عطا ہوتی ہے۔