28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة القصص تعارف حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی ایک روایت میں ہے کہ یہ سورت سورة نمل (سورت نمبر ٢٧) کے بعد نازل ہوئی تھی، اور مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری سورت ہے جو مکہ مکرمہ میں ہجرت سے پہلے نازل ہوئی، کیونکہ اس کی آیت نمبر ٨٥ اس وقت نازل ہوئی تھی جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کی غرض سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔ سورت کا مرکزی موضوع حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آپ کی دعوت کی سچائی کو ثابت کرنا ہے۔ سورت کی پہلی ٤٣ آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ابتدائی زندگی کی وہ تفصیلات بیان فرمائی گئی ہیں جو کسی اور سورت میں بیان نہیں ہوئیں۔ اس واقعے کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمانے کے بعد آیات ٤٤ تا ٤٧ میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ان واقعات کو اتنی تفصیل سے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اس کے باوجود جب آپ یہ واقعات بیان فرما رہے ہیں تو اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ کفار مکہ کی طرف سے آپ کی نبوت اور رسالت پر جو اعتراضات کیے جاتے تھے، ان کا شافی جواب بھی اس سورت میں دیا گیا ہے، اور آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ ضد پر اڑے ہوئے ہیں، ان کے طرز عمل کی کوئی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی۔ پھر کفار مکہ جن جھوٹے خداؤں پر ایمان رکھتے تھے، ان کی تردید کی گئی ہے۔ قریش کے بڑے بڑے سردار اپنی دولت پر غرور کی وجہ سے بھی آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتے تھے۔ ان کی عبرت کے لیے آیات ٧٦ تا ٨٢ میں قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند شخص تھا، لیکن اس کی دولت اسے تباہی سے نہ بچا سکی جو غرور اور ضد کے نتیجے میں اس پر آکر رہی۔ سورت کے آخر میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگرچہ اس وقت آپ بےسروسامانی کی حالت میں مکہ مکرمہ چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو فاتح کی حیثیت سے دوبارہ مکہ مکرمہ واپس آنے کا موقع عنایت فرمائے گا۔ یہ سورت مکی ہے اور اس میں اٹھاسی آیتیں اور نو رکوع ہیں

Ayah 28:1
Ayah 28:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حقیقت واضح کرنے والی ہے۔

Ayah 28:3

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم ایمان والے لوگوں کے فائدے کے لیے تمہیں موسیٰ اور فرعون کے کچھ حالات ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں۔

Ayahs 28:4–5

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کر رکھی تھی، اور اس نے وہاں کے باشندوں کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کردیا تھا جن میں سے ایک گروہ کو اس نے اتنا دبا کر رکھا ہوا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا۔ (1) اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو فساد پھیلایا کرتے ہیں۔

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم یہ چاہتے تھے کہ جن لوگوں کو زمین میں دبا کر رکھا گیا ہے ان پر احسان کریں ان کو پیشوا بنائیں، انہی کو (ملک و مال کا) وارث بنادیں۔

1: جیسا کہ سورة طٰہٰ :36 کے حاشیے میں ہم نے عرض کیا ہے، فرعون کو کسی نجومی نے یہ کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تمہاری سلطنت ختم کرے گا، اس لیے اس نے یہ حکم جاری کردیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ کو فکر ہوئی کہ ان کو بھی فرعون کے آدمی قتل کر ڈالیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر الہام فرمایا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا اور فرعون کے کارندوں نے بچے کو اٹھا کر فرعون کے پاس پیش کیا، اور اس کی بیوی حضرت آسیہ نے اسے آمادہ کرلیا کہ اسے اپنا بیٹا بنا کر پالیں۔ یہی واقعہ آگے آیت نمبر 6 تا 8 میں بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 28:6–7

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور انہیں زمین میں اقتدار عطاکریں، اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھا دیں جس سے بچاؤ کی وہ تدبیریں کر رہے تھے۔ (2)

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کو الہام کیا کہ : تم اس (بچے) کو دودھ پلاؤ، پھر جب تمہیں اس کے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا، اور ڈرنا نہیں، اور نہ صدمہ کرنا، یقین رکھو ہم اسے واپس تمہارے پاس پہنچا کر رہیں گے، اور اس کو پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر بنائیں گے۔

2: انہیں جو خطرہ تھا کہ کوئی بچہ بڑا ہو کر ان کے زوال کا باعث بنے گا، اسی سے بچنے کے لیے وہ تدبیریں کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ انہیں یہ دکھائیں کہ ان کی ساری تدبیریں ناکام ہوگئی ہیں اور وہ خطرہ حقیقت بن کر سامنے آگیا ہے۔
Ayahs 28:8–11

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

اس طرح فرعون کے لوگوں نے اس بچے (یعنی حضرت موسیٰ ؑ) کو اٹھا لیا تاکہ آخر کار وہ ان کے لیے دشمن اور غم کا ذریعہ بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور ان کے لشکر بڑے خطار کار تھے۔ (3)

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا کہ : یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اور (یہ فیصلہ کرتے وقت) انہیں انجام کا پتہ نہیں تھا۔

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

ادھر موسیٰ کی والدہ کا دل بےقرار تھا۔ قریب تھا کہ وہ یہ سارا راز کھول دیتیں، اگر ہم نے ان کے دل کو سنبھالا نہ ہوتا، تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) یقین کیے رہیں۔

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور انہوں نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ : اس بچے کا کچھ سراغ لگاؤ۔ چنانچہ اس نے بچے کو دور سے اس طرح دیکھا کہ ان لوگوں کو پتہ نہیں چلا۔

3: خطا کار ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کافر اور گناہگار لوگ تھے، اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بچے کو اٹھا کر اپنے حق میں غلطی کی، کیونکہ وہی بچہ آخر ان کے زوال کا سبب بنا
Ayahs 28:12–14

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ پر پہلے ہی سے یہ بندش لگا دی تھی کہ وہ دودھ پلانے والیاں انہیں دودھ نہ پلاسکیں۔ اس لیے ان کی بہن نے کہا : کیا میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ تمہارے لیے اس بچے کی پرورش کریں، اور اس کے خیر خواہ رہیں ؟ (4)

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

اس طرح ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کے پاس لوٹا دیا، تاکہ ان کی آنکھ ٹھنڈی رہے، اور وہ غمگین نہ ہوں، اور تاکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی بھرپور توانائی کو پہنچے اور پورے جوان ہوگئے تو ہم نے انہیں حکمت اور علم سے نوازا، اور نیک لوگوں کو ہم یوں ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔

4: فرعون کی اہلیہ نے جب بچے کو پالنے کا ارادہ کرلیا تو ان کو دودھ پلانے والی کی تلاش شروع ہوئی، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کسی بھی عورت کا دودھ منہ میں نہیں لیتے تھے۔ حضرت آسیہ نے اپنی کنیزیں بھیجیں کہ وہ کوئی ایسی عورت تلاش کریں جس کا دودھ یہ قبول کرلیں۔ ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو دریا میں ڈالنے کے بعد بےچین تھیں۔ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ بچہ کا انجام کیا ہوا ؟ یہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسی جگہ پہنچ گئیں، جہاں فرعون کی کنیزیں پریشانی کے عالم میں دودھ پلانے والی عورتوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ ان کو موقع مل گیا، اور انہوں نے اپنی والدہ کو یہ خدمت سونپنے کی تجویز پیش کی، اور انہیں وہاں لے بھی آئیں۔ جب انہوں نے بچے کو دودھ پلانا چاہا تو بچے نے آرام سے دودھ پی لیا، اور پھر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق بچہ دوبارہ ان کے پاس آگیا۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور (ایک دن) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جب اس کے باشندے غفلت میں تھے (5) تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں دو آمی لڑ رہے ہیں، ایک تو ان کی اپنی برادری کا تھا، اور دوسرا ان کی دشمن قوم کا۔ اب جو شخص ان کی برادری کا تھا، اس نے انہیں ان کی دشمن قوم کے آدمی کے مقابلے میں مدد کے لیے پکارا، اس پر موسیٰ نے اس کو ایک مکا مارا جس نے اس کا کام تمام کردیا۔ (6) (پھر) انہوں نے (پچھتا کر) کہا کہ : یہ تو کوئی شیطان کی کاروائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک کھلا دشمن ہے جو غلط راستے پر ڈال دیتا ہے۔

5: یعنی اکثر لوگ دوپہر کے وقت بیخبر سوئے ہوئے تھے 6: حضرت موسیٰ ؑ کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ اسرائیلی شخص کو اس کے ظلم سے بچائیں، اسے قتل کرنا مقصود نہیں تھا، لیکن وہ ایک ہی مکے سے مرگیا۔
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

کہنے لگے : میرے پروردگار ! میں نے اپنی جان پر ظلم کرلیا، آپ مجھے معاف فرمادیجیے۔ (7) چنانچہ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ یقینا وہی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

7: چونکہ حضرت موسیٰ ؑ نے جان بوجھ کر اسے قتل نہیں کیا تھا بلکہ وہ بلا ارادہ مارا گیا، اس لئے اصل میں تو حضرت موسیٰ ؑ معذور تھے ؛ لیکن بہر حال کسی کا قتل ہوجانا ایک سنگین معاملہ ہے اور ایک ہونے والے پیغمبر کے شایان شان نہیں، اس لئے وہ شرمندہ بھی ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی بھی مانگی، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس جگہ مسلمان اور غیر مسلم آپس میں امن کے ساتھ رہ رہے ہوں، خواہ وہاں حکومت غیر مسلموں ہی کی ہو، وہاں مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کو قتل کرے یا اس کی جان ومال کو کسی اور طرح نقصان پہنچائے۔
Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : میرے پروردگار ! آپ نے مجھ پر انعام کیا ہے تو میں آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ (8)

8: اب تک حضرت موسیٰ ؑ فرعون کے ساتھ رہ رہے تھے اور اس کے ساتھ آتے جاتے تھے، اس واقعہ نے ان کے دل میں ایک انقلاب پیدا کردیا اور انہیں یہ محسوس ہوا کہ یہ سارا جھگڑا در حقیقت فرعون کے جابرانہ طرز حکومت کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے مصریوں کو اسرائیلیوں پر ظلم ڈھانے کی جرأت ہوئی ہے، اس لئے اس واقعے کے بعد انہوں نے تہیہ کرلیا کہ آئندہ میں فرعون اور اس کے اہل کاروں سے مکمل علیحدگی اختیار کرلوں گا تاکہ اس کی بالواسطہ بھی کسی بھی قسم کی مدد کا ارتکاب نہ ہو۔
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر صبح کے وقت وہ شہر میں ڈرتے ڈرتے حالات کا جائزہ لے رہے تھے، اتنے میں دیکھا کہ جس شخص نے کل ان سے مدد مانگی تھی وہ پھر انہیں فریاد کے لیے پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ : معلوم ہوا کہ تم تو کھلم کھلا شریر آدمی ہو۔ (9)

9: یعنی لڑائی بھڑائی تمہارا روز کا وطیرہ معلوم ہوتا ہے کہ کل کسی اور سے لڑے تھے اور آج اس شخص سے لڑ رہے ہو۔
Ayahs 28:19–21

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس شخص کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس (اسرائیلی) نے کہا : موسیٰ کیا تم مجھے بھی اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک آدمی کو قتل کردیا تھا ؟ (10) تمہارا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ تم زمین میں اپنی زبردستی جماؤ، اور تم مصلح بننا نہیں چاہتے۔

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور (اس کے بعد یہ ہوا کہ) شہر کے بالکل دور دراز علاقے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا کہ : موسیٰ ! سردار لوگ تمہارے بارے میں مشورے کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کر ڈالیں، اس لیے تم یہاں سے نکل جاؤ، یقین رکھو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

چنانچہ موسیٰ ڈرتے ڈرتے، حالات کا جائزہ لیتے شہر سے نکل کھڑے ہوئے۔ کہنے لگے : میرے پروردگار ! مجھے ظالم لوگوں سے بچا لے۔

10: حضرت موسیٰ ؑ نے ہاتھ تو اس مصری کی طرف بڑھایا تھا، تاکہ اسے مارنے سے روکیں ؛ لیکن اسرائیلی نے جب ان کا یہ جملہ سنا کہ تم بڑے شریر آدمی ہو تو وہ یہ سمجھا کہ وہ اس کو مارنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں، اس لئے اس نے یہ بات کہی۔
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب انہوں نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا کہ : مجھے پوری امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھے راستے پر ڈال دے گا۔ (11)

11: مدین حضرت شعیب ؑ کی بستی تھی اور وہ علاقہ فرعون کی حکومت سے باہر تھا اس لئے حضرت موسیٰ ؑ نے وہاں جانے کا ارادہ کیا لیکن شاید راستہ پوری طرح معلوم نہیں تھا، محض اندازے سے چل رہے تھے اس لئے یہ جملہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحیح راستے پر ڈالدے گا۔
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ اس پر ایسے لوگوں کا ایک مجمع ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، اور دیکھا کہ ان سے پہلے دو عورتیں ہیں جو اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے کہا : تم کیا چاہتی ہو ؟ ان دونوں نے کہا : ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک سارے چرواہے پانی پلا کر نکل نہیں جاتے، اور ہمارے والد بہت بوڑھے آدمی ہیں۔ (12)

12: مطلب یہ تھا کہ ہمارے والد بوڑھے ہونے کی وجہ سے جانوروں کو پانی پلانے کے لئے نہیں آسکتے اور ہم چونکہ عورت ذات ہیں اس لئے مردوں میں گھس کر پانی نہیں پلاسکتیں، اس لئے انتظار میں ہیں کہ مرد چلے جائیں اور کنواں خالی ہوجائے تو ہم اپنے جانوروں کو لے جاکر پانی پلائیں، واضح رہے کہ ان عورتوں کے والد حضرت شعیب ؑ تھے جنہیں مدین کے لوگوں کی اصلاح کے لئے پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا، اور جن کا واقعہ سورة اعراف، سورة ہود وغیرہ میں تفصیل سے آچکا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت خواتین کا کسی کام کے لئے باہر نکلنا جائز ہے، البتہ اگر مرد کام انجام دے سکتے ہوں تو مردوں ہی کو انجام دینا چاہیے، اسی لئے انہوں نے اپنے آنے کی وجہ یہ بیان کی کہ ہمارے والد ضعیف ہیں، اور گھر میں کوئی اور مرد نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین سے بات کرنا جائز ہے، خاص طور پر انہیں کسی مشکل میں مبتلا دیکھیں تو ان کی مدد کے لئے ان کا حال پوچھ کر حتی الامکان ان کی مدد کرنی چاہیے، بشرطیکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

اس پر موسیٰ نے ان کی خاطر ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، (13) پھر مڑ کر ایک سائے کی جگہ چلے گئے، اور کہنے لگے : میرے پروردگار ! جو کوئی بہتری تو مجھ پر اوپر سے نازل کردے، میں اس کا محتاج ہوں۔ (14)

13: حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ان عورتوں سے پوچھا کہ کیا یہاں کوئی اور کنواں بھی ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ایک کنواں اور ہے، مگر اس کے منہ پر ایک بہت بھاری پتھر رکھا ہوا ہے جسے اٹھانا آسان نہیں۔ اس پر حضرت موسیٰ ؑ وہاں گئے اور پتھر کو اٹھا کر ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ (روح المعانی بحوالہ عبد بن حمید ص 367 ج 20 14: اس مختصر دعا میں عبدیت کا عجیب مظاہرہ ہے، ایک طرف اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے محتاج ہونے کا ذکر فرما رہے ہیں کہ اس غریب الوطنی میں جہاں کوئی شخص آشنا نظر نہیں آتا، زندگی کی ہر ضرورت کی احتیاج ہے اور دوسری طرف خود سے کوئی نعمت تجویز کرنے کے بجائے معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رہے ہیں کہ آپ بھلائی کی صورت بھی تجویز کر کے مجھ پر اوپر سے نازل فرما دیں گے، تو سمجھوں کہ اسی کی احتیاج ظاہر کر کے وہی میں نے مانگی ہے، میں اپنی طرف سے کوئی متعین حاجت مانگنے کی حالت میں نہیں ہو۔
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

تھوڑی دیر بعد ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کے پاس شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی، (15) کہنے لگی : میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں، تاکہ آپ کو اس بات کا انعام دیں کہ آپ نے ہماری خاطر جانوروں کو پانی پلایا ہے، (16) چنانچہ جب وہ عورتوں کے والد کے پاس پہنچے اور ان کو ساری سرگزشت سنائی، تو انہوں نے کہا : کوئی اندیشہ نہ کرو، تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو۔

15: معلوم ہوا کہ اگرچہ اس وقت پردے کے باقاعدہ احکام نہیں تھے جو قرآن کریم نے عطا فرمائے، لیکن خواتین شرم و حیا کے لباس میں رہتی تھیں، اور مردوں سے معاملات کرتے وقت شرم و حیاء کو پوری طرح ملحوظ رکھتی تھیں، چنانچہ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور سعید بن منصور نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ خاتون جب آئیں تو انہوں نے اپنی قمیص کی آستیں اپنے چہرے پر رکھی ہوئی تھی۔ 16: اگرچہ کسی نیکی کا انعام وصول کرنے کے لیے جانا حضرت موسیٰ ؑ کی غیرت اور شرافت کے خلاف تھا، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ آپ کی طرف سے جو بھلائی بھی آئے گی، میں اس کا محتاج ہوں، اور اس خاتون کی دعوت سے ایک راستہ ایسا پیدا ہوا تھا کہ اس بستی میں کسی برزرگ سے جان پہچان ہوجائے اور دوسری طرف ان کے اپنی بیٹی کو بھیجنے سے ان کی شرافت اور بزرگی ظاہر ہو رہی تھی، اس لیے حضرت موسیٰ ؑ نے اس وقت یہ خیال فرمایا کہ اس دعوت کو رد کرنا نا شکری اور اس عبدیت کے خلاف ہوگا جس کے ساتھ دعا مانگی گئی تھی، اور ہوسکتا ہے کہ ان بزرگ سے کوئی مفید مشورہ مل جائے۔ چنانچہ دعوت کو قبول کر کے ان کے پاس چلے گئے، لیکن ابن عساکر کی ایک روایت میں حضرت ابو حازم سے یہ تفصیل منزول ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ ل وہاں پہنچے تو حضرت شعیب ؑ نے کھانا پیش کیا، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا : میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ حضرت شعیب ؑ نے پوچھا : کیوں ؟ کیا آپ کو بھوک نہیں ہے ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا بھوک تو ہے لیکن مجھے انیدشہ ہے کہ یہ کھانا میرے اس عمل کا معاوضہ نہ بن جائے کہ میں نے بکریوں کو پانی پلا دیا تھا، اور ہم ایسے لوگ ہیں کہ جو کام آخرت کی خاطر کریں، اس کے معاوضے میں کوئی پوری زمین سونے سے بھر کر بھی دیدے تو اسے قبول نہیں کرتے۔ حضرت شعیب ؑ نے جواب دیا کہ : اللہ کی قسم، ایسا نہیں ہے، لیکن میری اور میرے آباء و اجداد کی یہ عادت رہی ہے کہ ہم مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ اس پر حضرت موسیٰ ؑ ان کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ (روح المعانی، حوالہ بالا)۔ اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاتون نے جو کہا تھا کہ میرے والد آپ کو اس لیے بلا رہے ہیں کہ آپ کو آپ کی نیکی کا انعام دیں گے، یہ انہوں نے اپنے خیال کے مطابق کہہ دیا تھا، حضرت شعیب ؑ نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہوں گے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا : ابا جان ! آپ ان کو اجرت پر کوئی کام دے دیجیے۔ آپ کسی سے اجرت پر کام لیں تو اس کے لیے بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور بھی ہو، امانت دار بھی۔ (17)

17: یہ وہی خاتون تھیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو بلانے گئی تھیں ان کا نام صفورا تھا، اور پھر انہی سے حضرت موسیٰ ؑ کا نکاح ہوا، گھر میں ایک ایسے مرد کی ضرورت تھی جو گھر کے باہر کے کاموں کی دیکھ بھال کرے اور عورتوں کو بکریاں چرانے اور انہیں پانی پلانے کی ضرورت نہ پڑے، اس لئے انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ آپ انہیں اس کام پر رکھ لیں اور اسکی باقاعدہ اجرت طے کرلیں، اور خاتون کا یہ جملہ کہ : آپ کسی سے اجرت پر کام لیں تو اس کے لئے بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور بھی ہو، امانت دار بھی، ان کی کمال عقل مندی کا ثبوت ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ جملہ نقل فرما کر ملازمت کے فیصلے کے لئے بہترین معیار عطا فرمادیا ہے کہ ایک اچھے ملازم میں یہی دو بنیادی خصوصیات ہونی چاہئیں، ایک یہ کہ جو فرائض اس کے سپرد کئے گئے ہیں وہ ان کو بجالانے کی جسمانی اور ذہنی طاقت رکھتا ہو اور دوسرے یہ کہ امانت دار ہو۔
Ayahs 28:27–28

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

ان کے باپ نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک سے تمہارا نکاح کردوں۔ بشرطیکہ تم آٹھ سال تک اجرت پر میرے پاس کام کرو، (18) پھر اگر تم دس سال پورے کردو تو یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہوگا، اور میرا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ تم پر مشقت ڈالوں، انشاء اللہ تم مجھے ان لوگوں میں سے پاؤ گے جو بھلائی کا معاملہ کرتے ہیں۔

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کردوں، تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہوگی، اور جو بات ہم کر رہے ہیں، اللہ اس کا رکھوالا ہے۔

18: اس وقت تو حضرت شعیب ؑ نے دونوں میں سے کسی ایک صاحبزادی کی تعیین نہیں کی، لیکن جب باقاعدہ نکاح ہوا تو متعین کر کے معروف طریقے کے مطابق ہوا۔ اور اجرت پر کام کرنے سے مراد بکریاں چرانا تھا۔ بہت سے فقہاء اور مفسرین نے یہ قرار دیا ہے کہ بکریاں چرانے کو حضرت شعیب ؑ نے اپنی صاحبزادی کا مہر مقرر کیا تھا، لیکن اس پر اول تو یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آیا بیوی کا کوئی کام کرنا مہر بن سکتا ہے یا نہیں ؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے، دوسرے یہاں تو بیوی کا نہیں، بلکہ بیوی کے والد کا کام کرنے کا معاہدہ ہوا تھا جو حضرات اس معاہدے کو مہر قرار دیتے ہیں اگرچہ انہوں نے اس اشکال کا بھی جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن وہ تکلف سے خالی نہیں ہے، اس کے برعکس بعض مفسرین اور فقہاء نے یہ موقف اختیار فرمایا ہے کہ بکریاں چرانا بطور مہر نہیں تھا۔ بلکہ یہ دو الگ الگ باتوں کی مفاہمت تھی، حضرت شعیب ؑ یہ چاہتے تھے کہ حضرت موسیٰ ؑ ان کی بکریاں بھی چرائیں جس کی اجرت الگ مقرر ہو، اور ان کی صاحبزادی سے نکاح بھی کریں، جس کا مہر الگ سے قاعدے کے مطابق طے کیا جائے ان دونوں باتوں کے بارے میں ان کی مرضٰ معلوم کرنے کے لیے آپ نے دونوں باتیں ذکر فرمائیں، تاکہ جب وہ ان باتوں کو منظور کر کے وعدہ کرلیں تو نکاح اس کے اپنے طریقے سے کیا جائے جس میں لڑکی کا تعین بھی ہو، گواہ بھی ہوں اور مہر بھی مقرر کیا جائے اور ملازمت کا معاہدہ اپنے طریقے سے کیا جائے جس میں اجرت باقاعدہ مقرر کی جائے۔ چنانچہ یہ دونوں معاملات اپنے اپنے احکام کے مطابق اپنے اپنے وقت پر انجام پائے اور اس وقت صرف ان معاملات کو آئندہ وجود میں لانے کا دونوں طرف سے وعدہ کیا گیا۔ لہذا اس پر یہ اشکال بھی نہیں ہوسکتا کہ ایک معاملے کو دوسرے معاملے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ یہی موقف علامہ بدر الدین عینی نے شرح بخاری میں اختیار فرمایا ہے۔ (دیکھئے عمدۃ القاری، کتاب الاجارات، ص : 85 ج 12)
Ayahs 28:29–30

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی، اور اپنی اہلیہ کو لے کر چلے (19) تو انہوں نے کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : ٹھہرو ! میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں، یا آگ کا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم گرمائی حاصل کرسکو۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

چنانچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو دائیں وادی کے کنارے پر جو برکت والے علاقے میں واقع تھی، ایک درخت سے آواز آئی کہ : اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں، تمام جہانوں کا پروردگار !

19: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دس سال حضرت شعیب ؑ کے پاس پورے کیے تھے، اس کے بعد غالبا انہوں نے اپنی والدہ اور دوسرے رشتہ داروں کے پاس مصر جانے کا ارادہ فرمایا یا اور یہ سوچا کہ قبطی کے قتل کا قصہ اب بھولا بسرا ہوچکا ہوگا، اور واپس مصر جانے میں کوئی خطرہ نہیں رہا
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ : اپنی لاٹھی نیچے ڈال دو ، پھر ہوا یہ کہ جب انہوں نے اس لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اس طرح حرکت کر رہی ہے جیسے وہ سانپ ہو، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، اور مڑ کر بھی نہ دیکھا (20) (ان سے کہا گیا) موسیٰ ! سامنے آؤ، اور ڈرو نہیں، تم بالکل محفوظ ہو۔

20: یہ ایک طبعی خوف تھا جو نبوت کے منافی نہیں ہوتا
Ayahs 28:32–33

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا، اور ڈر دور کرنے کے لیے اپنا بازو اپنے جسم سے لپٹا لینا (21) اب یہ دو زبردست دلیلیں ہیں جو تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجی جارہی ہیں۔ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : میرے پروردگار ! میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا، اس لیے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں۔

21: لاٹھی کے سانپ بننے اور ہاتھ سے اچانک روشنی نکلنے کے واقعات سے جو طبعی گھبراہٹ ہوئی، اس کا علاج بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ جس ہاتھ کو بغل سے نکالا تھا، اور وہ چمکنے لگا تھا، اسے دوبارہ اپنے جسم سے لپٹا لو، تو گھبراہٹ دور ہوجائے گی۔
Ayahs 28:34–36

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے۔ (22) اس لیے ان کو بھی میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دیجیے کہ وہ میری تائید کریں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

ارشاد ہوا : ہم تمہارے بھائی کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے دیتے ہیں، اور تم دونوں کو ایسا دبدبہ عطا کردیتے ہیں کہ ان کو ہماری نشانیوں کی برکت سے تم پر دسترس حاصل نہیں ہوگی، تم اور تمہارے پیروکار ہی غالب رہو گے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

چنانچہ جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی ہوئی نشانیاں لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا : یہ کچھ نہیں، بس بناوٹی جادو ہے، اور ہم نے یہ بات اپنے پچھلے باپ دادوں میں نہیں سنی۔

22: جیسا کہ سورة طہ : 25 میں گذرا ہے کہ بچپن میں حضرت موسیٰ ؑ نے ایک انگارا زبان پر رکھ لیا تھا جس کی وجہ سے ان کی زبان میں تھوڑی سی لکنت پیدا ہوگئی تھی، اس لیے انہوں نے درخواست کی کہ ان کے بھائی حضرت ہارون ؑ کو بھی ان کے ساتھ نبی بنا کر بھیج دیا جائے، کیونکہ ان کی زبان زیادہ صاف ہے۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا : میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور آخر کار بہتر ٹھکانا کس کے ہاتھ آئے گا، (23) یہ یقینی بات ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔

23: ٹھکانے سے مراد دنیا بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا میں اچھا انجام کس کا ہوگا کہ خاتمہ بخیر ہو، اور آخرت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ آخرت میں انجام بہتر ہو۔