28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsآسان قرآن

Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

کہنے لگا : یہ سب کچھ تو مجھے خود اپنے علم کی وجہ سے ملا ہے۔ بھلا کیا اسے اتنا بھی علم نہیں تھا کہ اللہ نے اس سے پہلی نسلوں کے ایسے ایسے لوگوں کو ہلاک کر ڈالا تھا جو طاقت میں بھی اس سے زیادہ مضبوط تھے (46) اور جن کی جمعیت بھی زیادہ تھی۔ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا بھی نہیں جاتا۔ (47)

46: ایک طرف تو قارون یہ دعوی کررہا تھا کہ میں نے جو مال و دولت حاصل کیا ہے اپنے علم وہنر سے حاصل کیا ہے، اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ علم کا کوئی اعلی درجہ تو درکنار اسے اتنی معمولی بات بھی معلوم نہیں تھی کہ اگر بالفرض اس نے اپنے علم وہنرہی سے یہ سب کچھ حاصل کیا تو وہ علم وہنر کس کا دیا ہوا تھا ؟ نیز یہ بات بھی اس نے نظر انداز کردی کہ اللہ تعالیٰ ایسے بہت سے انسانوں کو ہلاک کرچکا ہے، جو اس سے زیادہ مضبوط تھے، اور اسی قسم کے دعوے کیا کرتے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو مجرموں کے حالات کا پورا علم ہے، اس لئے اس کو حالات جاننے کے لئے ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے، ہاں آخرت میں ان سے جو سوالات ہوں گے وہ ان کا جرم خود ان پر ثابت کرنے کے لئے ہوں گے۔
Ayah 28:79

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر (ایک دن) وہ اپنی قوم کے سامنے آن بان کے ساتھ نکلا۔ جو لوگ دنیوی زندگی کے طلب گار تھے، وہ کہنے لگے : اے کاش ! ہمارے پاس بھی وہ چیزیں ہوتیں جو قارون کو عطا کی گئی ہیں۔ یقینا وہ بڑے نصیبوں والا ہے۔

47: یعنی اللہ تعالیٰ کو مجرموں کے حالات کا پورا علم ہے، اس لیے اس کو حالات جاننے کے لیے ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں آخرت میں ان سے جو سوالات ہوں گے، وہ ان کا جرم خود ان پر ثابت کرنے کے لیے ہوں گے۔
Ayahs 28:80–84

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو (اللہ کی طرف سے) علم عطا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے (کہ تم ایسا کہہ رہے ہو) اللہ کا دیا ہوا ثواب اس شخص کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور وہ انہی کو ملتا ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔ (48)

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر اسے کوئی ایسا گروہ میسر نہ آیا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود اپنا بچاؤ کرسکا۔

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور کل جو لوگ اس جیسا ہونے کی تمنا کر رہے تھے، کہنے لگے : اوہو ! پتہ چل گیا کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت کردیتا ہے، اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو وہ ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ اوہو ! پتہ چلا گیا کہ کافر لوگ فلاح نہیں پاتے۔

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

وہ آخرت والا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں نہ تو بڑائی چاہتے ہیں، اور نہ فساد، اور آخرت انجام پرہیزگاروں کے حق میں ہوگا۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس سے بہتر چیز ملے گی، اور جو کوئی بدی لے کر آئے گا تو جنہوں نے برے کام کیے ہیں، ان کو کسی اور چیز کی نہیں، ان کے کیے ہوئے کاموں ہی کی سزا دی جائے گی۔

48:”صبر“ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ناجائز خواہشات پر قابو پاکر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری پر ثابت قدم رکھے۔
Ayahs 28:85–88

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

(اے پیغمبر) جس ذات نے تم پر اس قرآن کی ذمہ داری ڈالی ہے، وہ تمہیں دوبارہ اس جگہ پر لاکر رہے گا جو (تمہارے لیے) انسیت کی جگہ ہے (49) کہہ دو : میرا رب اس سے بھی خوب واقف ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے، اور اس سے بھی جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تمہیں پہلے سے یہ امید نہیں تھی کہ تم پر یہ کتاب نازل کی جائے گی، لیکن یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے، لہذا کافروں کے ہرگز مددگار نہ بننا۔

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور جب اللہ کی آیتیں تم پر نازل کردی گئی ہیں تو اس کے بعد یہ لوگ تمہیں ہرگز ان (پر عمل کرنے) سے روکنے نہ پائیں۔ اور تم اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے رہو، اور ہرگز ان مشرکین میں شامل نہ ہونا۔

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اس ذات کے، حکومت اسی کی ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹایا جائے گا۔

49: قرآن کریم میں اصل لفظ“ معاد ”استعمال ہوا ہے، بعض مفسرین کے نزدیک یہ“ عادت ”سے نکلا ہے، یعنی وہ جگہ جس میں رہنے اور آنے جانے کا انسان عادی اور اس سے مانوس ہو، اور بعض مفسرین نے اس کے معنی“ لوٹنے کی جگہ ”بیان کئے ہیں، دونوں صورتوں میں اس سے مکہ مکرمہ مراد ہے، اور یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب حضور نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے جارہے تھے، جب جحفہ کے قریب اس جگہ پہنچے جہاں سے مکہ مکرمہ کا راستہ الگ ہوجاتا تھا، تو آپ کو اپنے وطن سے جدائی کا احساس ہوا، اس موقع پر اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تسلی دی، اور وعدہ فرمایا کہ آپ کو دوبارہ اس سرزمین میں فاتح کی حیثیت سے لایا جائے گا، چنانچہ آٹھ سال کی مدت میں یہ وعدہ پورا ہوگیا اور مکہ مکرمہ میں آپ فاتح بن کر داخل ہوئے، اور بعض مفسرین نے انسیت کی جگہ یا لوٹنے کی جگہ سے مراد جنت لی ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ آپ کو اگرچہ اس دنیا میں تکلیفیں پہنچ رہی ہیں ؛ لیکن آخر کار آپ کا مقام جنت ہے۔