27. Surah An-Naml
النملThe Ant · 93 ayahsآسان قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمل تعارف حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی ایک روایت کے مطابق یہ سورت پچھلی سورت یعنی سورة شعراء کے فورا بعد نازل ہوئی تھی۔ دوسری مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور کفر کے برے نتائج کا بیان ہے۔ حضرت موسیٰ ، اور حضرت صالح (علیہما السلام) کے واقعات کی طرف مختصر اشارہ کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی قوموں نے اس بنا پر ان کی بات نہیں مانی کہ انہیں اپنی دولت اور اپنے سماجی رتبے پر گھمنڈ تھا۔ اسی طرح کفار مکہ بھی گھمنڈ میں مبتلا ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کررہے تھے۔ دوسری طرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی دولت اور بےنظیر بادشاہت سے نوازا تھا، لیکن یہ دولت اور بادشاہت ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے مانع نہیں ہوئی۔ اسی طرح سبا کی ملکہ بلقیس بھی بہت دولت مند تھی، لیکن حق واضح ہونے کے بعد اس نے اس کو فورا قبول کرلیا۔ اس سیاق میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور سبا کی ملکہ کا واقعہ اس سورت میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور اس کے بعد کائنات میں پھیلی ہوئی قدرت خداوندی کی نشانیوں کو بڑے موثر انداز میں ذکر فرمایا گیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہوتی ہے۔ نمل کے معنی عربی میں چیونٹی کے ہوتے ہیں، اور چونکہ اس سورت کی آیت نمبر ١٨ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ چیونٹیوں کی وادی کے پاس سے گزرے تھے، اس لیے اس کا نام سورة نمل رکھا گیا ہے۔
طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader
طس۔ یہ قرآن کی اور ایک ایسی کتاب کی آیتیں جو حقیقت کھول دینے والی ہے۔
هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader
یہ ان مومنوں کے لیے سراپا ہدایت اور خوشخبری بن کر آئی ہے۔
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader
جو نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما بنادیا ہے۔ (1) اس لیے وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہی ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader
اور (اے پیغمبر) بلا شبہ تمہیں یہ قرآن اس (اللہ) کی طرف سے عطا کیا جارہا ہے جو حکمت کا بھی مالک ہے علم کا بھی مالک۔
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader
اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا کہ : مجھے ایک آگ نظر آئی ہے۔ میں ابھی تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں، یا پھر تمہارے پاس آگ کا کوئی شعلہ اٹھا کرلے آؤں گا، تاکہ تم آگ سے گرمی حاصل کرسکو۔ (2)
فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader
چنانچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز دی گئی کہ : برکت ہو ان پر جو اس آگ کے اندر ہیں، اور اس پر بھیجو اس کے آس پاس ہے (3) اور پاک ہے اللہ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader
اے موسیٰ : بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں، بڑے اقتدار والا، بڑی حکمت والا۔
وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader
اور ذرا اپنی لاٹھی کو نیچے پھینکو۔ پھر جب انہوں نے لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اس طرح حرکت کر رہی ہے جیسے وہ کوئی سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ (ارشاد ہوا) موسیٰ ! ڈرو نہیں، جن کو پیغمبر بنایا جاتا ہے ان کو میرے حضور کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader
الا یہ کہ کسی نے کوئی زیادتی کی ہو۔ (4) پھر وہ برائی کے بعد اسے بدل کر اچھے کام کرلے، تو میں بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہوں۔
وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader
اور اپنا ہاتھ گریبان میں داخل کرو، تو وہ کسی بیماری کے بغیر سفید ہو کر نکلے گا۔ یہ دونوں باتیں ان نو نشانیوں میں سے ہیں جو فرعون اور اس کی قوم کی طرف (تمہارے ذریعے) بھیجی جارہی ہیں۔ (5) حقیقت یہ ہے کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader
پھر ہوا یہ کہ جب ان کے پاس ہماری نشانیاں اس طرح پہنچیں کہ وہ آنکھیں کھولنے والی تھیں تو انہوں نے کہا کہ : یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader
اور اگرچہ ان کے دلوں کو ان (کی سچائی) کا یقین ہوچکا تھا، مگر انہوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ اب دیکھ لو ان فساد مچانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟ (6)۔
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader
اور ہم داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ اور انہوں نے کہا : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔
وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader
اور سلیمان کو داؤد کی وراثت ملی (7) اور انہوں نے کہا : اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے، (8) اور ہمیں ہر (ضرورت کی) چیز عطا کی گئی ہے۔ یقینا یہ (اللہ تعالیٰ کا) کھلا ہوا فضل ہے۔
وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader
اور سلیمان کے لیے ان کے سارے لشکر جمع کردیے گئے تھے جو جنات، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے، چنانچہ انہیں قابو میں رکھا جاتا تھا۔ (9)
حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader
یہاں تک کہ ایک دن جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا : چیونٹیو ! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پیس ڈالے، اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader
اس کی بات پر سلیمان مسکرا کر ہنسے، اور کہنے لگے : میرے پر ورگار ! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرمالیجیے۔
وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader
اور انہوں نے (ایک مرتبہ) پرندوں کی حاضری لی تو کہا : کیا بات ہے، مجھے ہدہد نظر نہیں آرہا، کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے ؟
لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader
میں اسے سخت سزا دوں گا، یا اسے ذبح کر ڈالوں گا، الا یہ کہ وہ میرے سامنے کوئی واضح وجہ پیش کرے۔
فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader
پھر ہدہد نے زیادہ دیر نہیں لگائی اور (آکر) کہا کہ : میں نے ایسی معلومات حاصل کی ہیں جن کا آپ کو علم نہیں ہے، اور میں ملک سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔ (10)
اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader
میں نے وہاں ایک عورت کو پایا جو ان لوگوں پر بادشاہت کر رہی ہے، اور اس کو ہر طرح کا سازوسامان دیا گیا ہے، اور اس کا ایک شاندار تخت بھی ہے۔
وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader
میں نے اس عورت اور اس کی قوم کو پایا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کے آگے سجدے کرتے ہیں، اور شیطان نے ان کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ان کے اعمال بہت اچھے ہیں، چنانچہ اس نے انہیں صحیح راستے سے روک رکھا ہے اور اس طرح وہ ہدایت سے اتنے دور ہیں۔
اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader
کہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے، جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو باہر نکال لاتا ہے، اور تم جو کچھ چھپاؤ اور جو کچھ ظاہر کرو، سب کو جانتا ہے۔
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader
اللہ تو وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور) جو عرش عظیم کا مالک ہے۔ (8)
قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader
سلیمان نے کہا : ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے یا جھوٹ بولنے والوں میں تم بھی شامل ہوگئے ہو۔
اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader
میرا یہ خط لے کر جاؤ اور ان کے پاس ڈال دینا، پھر الگ ہٹ جانا، اور دیکھنا کہ وہ جواب میں کیا کرتے ہیں۔
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader
(چنانچہ ہدہد نے ایسا ہی کیا اور) ملکہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا : قوم کے سردارو ! میرے سامنے ایک باوقار خط ڈالا گیا ہے۔
اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader
وہ سلیمان کی طرف سے آیا ہے اور وہ اللہ کے نام سے شروع کیا گیا ہے جو رحمن و رحیم ہے۔
اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader
(اس میں لکھا ہے) کہ : میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، اور میرے پاس تابع دار بن کر چلے آؤ (11)
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader
ملکہ نے کہا : قوم کے سردارو ! جو مسئلہ میرے سامنے آیا ہے اس میں مجھے فیصلہ کن مشورہ دو۔ میں کسی مسئلے کا حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader
انہوں نے کہا : ہم طاقتور اور ڈٹ کر لڑنے والے لوگ ہیں، آگے معاملہ آپ کے سپرد ہے، اب آپ دیکھ لیں کہ کیا حکم دیتی ہیں۔
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader
ملکہ بولی : حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب کر ڈالتے ہیں، اور اس کے باعزت باشندوں کو ذلیل کر کے چھوڑتے ہیں، اور یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے۔
وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader
اور میں ان کے پاس ایک تحفہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر واپس آتے ہیں ؟
فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader
چنانچہ جب ایلچی سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : کیا تم مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے، البتہ تم ہی لوگ اپنے تحفے پر خوش ہوتے ہو۔
اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader
ان کے پاس واپس جاؤ، کیونکہ اب ہم ان کے پاس ایسے لشکر لے کر پہنچیں گے جن کے مقابلے کی ان میں تاب نہیں ہوگی، اور انہیں وہاں سے اس طرح نکالیں گے کہ وہ ذلیل ہوں گے، اور ماتحت بن کر رہیں گے۔
قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader
سلیمان نے کہا : اے اہل دربار ! تم میں سے کون ہے جو اس عورت کا تخت ان کے تابع دار بن کر آنے سے پہلے ہی میرے پاس لے آئے ؟ (12)
قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader
ایک قوی ہیکل جن نے کہا : آپ اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ ہوں گے کہ میں اس سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آؤں گا، اور یقین رکھیے کہ میں اس کام کی پوری طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار بھی ہوں۔ (13)
قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader
جس کے پاس کتاب کا علم تھا، وہ بول اٹھا : میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے ہی اسے آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ (14) چنانچہ جب سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا : یہ میرے پروردگار کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟ اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو میرا پروردگار بےنیاز ہے، کریم ہے۔