27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsآسان قرآن

Ayahs 27:77–82

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور یقینا یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار یقینا ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کرے گا، اور وہ بڑا اقتدار والا، بڑا علم والا ہے۔

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) تم اللہ پر بھروسہ رکھو۔ یقینا تم کھلے کھلے حق پر ہو۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

یاد رکھو کہ تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں۔

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راستے پر لاسکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو اپنی بات سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں، پھر وہی لوگ فرمانبردار ہوں گے۔

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان لوگوں پر آپہنچے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ (36)

36: قیامت کی آخری علامتوں میں سے ایک علامت قیامت کے بالکل قریب یہ ظاہر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ زمین سے ایک عجیب الخلقت جانور پیدا کریں گے جو انسانوں سے بات کرے گا بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی، اور اس جانور کے نکلنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔
Ayahs 27:83–87

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور اس دن کو نہ بھولو جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی پوری فوج کو گھیر لائیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کی جماعت بندی کی جائے گی۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو اللہ کہے گا کہ : کیا تم نے میری آیتوں کو پوری طرح سمجھے بغیر ہی جھٹلا دیا تھا، یا کیا کرتے رہے تھے ؟

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور انہوں نے جو ظلم کیا تھا، اس کی وجہ سے ان پر عذاب کی بات پوری ہوجائے گی، چنانچہ وہ کچھ بول نہیں سکیں گے۔

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے رات اس لیے بنائی ہے کہ وہ اس میں سکون حاصل کریں، اور دن اس طرح بنایا ہے کہ اس میں چیزیں دکھائی دیں ؟ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس دن صور پھونکا جائے گا، تو آسمانوں اور زمین کے سب رہنے والے گھبرا اٹھیں گے۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ (37) اور سب اس کے پاس جھکے ہوئے حاضر ہوں گے۔

37: آگے آیت نمبر 89 میں اس کی وضاحت آرہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نیک اعمال لے کر آئیں گے، اور بعض روایات میں ہے کہ اس سے مراد وہ شہداء ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔
Ayahs 27:88–89

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

تم (آج) پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو کہ یہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں، حالانکہ (اس وقت) وہ اس طرح پھر رہے ہوں گے جیسے بادل پھرتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مستحکم طریقے سے بنایا ہے۔ یقینا اسے پوری خبر ہے کہ تم کیا کام کرتے ہو۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا۔ (38) اور ایسے لوگ اس دن ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔

38: اللہ تعالیٰ نے ہر نیکی کا ثواب دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔
Ayahs 27:90–93

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگوں کو منہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ تمہیں کسی اور بات کی نہیں، انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو کہ :) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو حرمت بخشی ہے، اور ہر چیز کا مالک وہی ہے، اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں شامل رہوں۔

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ اب جو شخص ہدایت کے راستے پر آئے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے راستے پر آئے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے، تو کہہ دینا کہ : میں تو بس ان لوگوں میں سے ہوں جو خبردار کرتے ہیں۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، پھر تم انہیں پہچان بھی لو گے۔ (39) اور تمہارا پروردگار تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں ہے۔

39: اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی حقانیت اور اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دنیا میں دکھاتا رہا ہے، مثلا بہت سی پیشگی خبریں جو آپ نے وحی کی بیناد پر دی تھیں، وہ لوگوں نے کھلی آنکھوں پر پوری ہوتی ہوئی دیکھیں، جیسا کہ سورة روم کے شروع میں اس کی ایک مثال آنے والی ہے۔ یہاں اس قسم کی نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، اور قیامت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس وقت قیامت کے منکر بھی اسے پہچان لیں گے، لیکن اس وقت کا پہچاننا فائدہ مند نہیں ہوگا، کیونکہ ایمان لانے کا وقت گذر چکا ہوگا۔