27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsآسان قرآن

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے (اپنے خدام سے) کہا کہ : اس ملکہ کے تخت کو اس کے لیے اجنبی بنادو۔ (15) دیکھیں وہ اسے پہچانتی ہے، یا وہ ان لوگوں میں سے ہے جو حقیقت تک نہیں پہنچتے ؟

15: یعنی اس کی شکل میں کوئی ایسی تبدیلی کر دو جس کی وجہ سے اسے پہچاننے میں کچھ دقت ہو، اور اس کی سمجھ کو آزمادیا جاسکے۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

غرض جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا : کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ کہنے لگی : ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بالکل وہی ہے۔ (16) ہمیں تو اس سے پہلے ہی (آپ کی سچائی کا) علم عطا ہوگیا تھا، اور ہم سر جھکا چکے تھے۔ (17)

16: بلقیس سمجھ گئی کہ اس تخت کی شکل میں کچھ رد وبدل کیا گیا ہے اس لئے اس نے ایک طرف تو یقین ظاہر کرنے کے بجائے یہ کہا کہ ایسا لگتا ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی ظاہر کردیا کہ وہ اپنے تخت کو پہچان گئی ہے۔ 17: یعنی مجھے آپ کی سچائی کا یقین کرنے کے لئے یہ معجزہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی، بلکہ آپ کے ایلچیوں کے ذریعے آپ کے جو حالات مجھے معلوم ہوئے تھے ان کی وجہ سے مجھے پہلے ہی آپ کی سچائی کا علم حاصل ہوگیا تھا اور ہم نے آپ کی تابع داری میں سرجھکانے کا ارادہ کرلیا تھا۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور (اب تک) اس کو (ایمان لانے سے) اس بات نے روک رکھا تھا کہ وہ اللہ کے بجائے دوسروں کی عبادت کرتی تھی، اور ایک کافر قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ (18)

18: بلقیس نے چونکہ سمجھ کی بات کی تھی کہ ہمیں پہلے ہی آپ کی سچائی کا علم ہوچکا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی تعریف فرمائی کہ وہ ایک سمجھ دار عورت تھی، اور اب تک وہ جو ایمان نہیں لائی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی ساری قوم کافر تھی، اور انسان جب ایسے ماحول میں ہو تو بےسوچے سمجھے ماحول کے مطابق کام کرتا رہتا ہے، لیکن جب اسے توجہ دلائی گئی تو اس نے حق بات کے ماننے میں دیر نہیں لگائی۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس سے کہا گیا کہ : اس محل میں داخل ہوجاؤ (19) اس نے جو دیکھا تو یہ سمجھی کہ یہ پانی ہے، اس لیے اس نے (پائینچے چڑھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا کہ : یہ تو محل ہے جو شیشوں کی وجہ سے شفاف نظر آرہا ہے۔ ملکہ بول اٹھی : میرے پروردگار ! حقیقت یہ ہے کہ میں نے (اب تک) اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ رب العالمین کی فرمانبرداری قبول کرلی ہے۔ (20)

19: حضرت سلیمان ؑ نے دنیا پرستوں پر رعب ڈالنے کے لئے ایک شیش محل بنوایا تھا جس کے صحن میں ایک پانی کا حوض تھا، اور اس پر بھی مہین اور شفاف شیشے کی چھت اس طرح ڈال دی تھی کہ غور سے دیکھے بغیر شیشہ نظر نہیں آتا تھا اور سرسری نظر سے دیکھیں تو وہ کھلا ہوا حوض معلوم ہوتا تھا، محل میں داخل ہونے کے لئے اسی حوض کے اوپر سے گزرنا پڑتا تھا، چنانچہ جب بلقیس محل میں داخل ہونے کے لئے چلی تو سامنے وہ حوض نظر آیا جس کا پانی گہرا نہیں تھا، اس لئے اس نے حوض سے گزرنے کے لئے اپنے پائینچے چڑھالئے، اس پر حضرت سلیمان ؑ نے اسے بتایا کہ پائینچے چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس حوض کے اوپر شیشہ چڑھا ہوا ہے اور اس پر سے گزرتے ہوئے پانی میں بھیگنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ 20: ملکہ بلقیس حضرت سلیمان ؑ کی سچائی کی تو پہلے ہی قائل ہوچکی تھی، محل کی شان و شوکت دیکھ کر اس کے دل میں آپ کی مزید عظمت پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے لحاظ سے بھی ایسی شان و شوکت سے نوازا ہے اس لئے وہ بالکل فرماں بردار ہو کر رہی، اس واقعے کو ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے دنیا کے مال و دولت اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ناشکری کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی اور زیادہ اطاعت کرتے ہیں اور دنیا کی رنگینیاں ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نہیں روکتیں۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے قوم ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو (21) تو اچانک وہ دو گروہ بن گئے جو آپس میں جھگڑنے لگے۔

21: قوم ثمود اور حضرت صالح ؑ کا تعارف پیچھے سورة اعراف : 72 اور سورة ہود : 61 تا 68 میں گذر چکا ہے۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے کہا : میری قوم کے لوگو ! اچھائی سے پہلے برائی کو کیوں جلدی مانگتے ہو۔ (22) تم اللہ سے معافی کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم فرمایا جائے ؟

22: اچھائی سے مراد ایمان ہے اور برائی سے مراد عذاب، مطلب یہ ہے کہ چاہیے تو یہ تھا کہ تم ایمان لا کر اچھائی حاصل کرتے، لیکن ایمان لانے کے بجائے تم نے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ شروع کردیا۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا : ہم نے تو تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے برا شگون لیا ہے، (23)۔ صالح نے کہا تمہارا شگون تو اللہ کے قبضے میں ہے، البتہ تم لوگوں کی آزمائش ہورہی ہے۔ (24)

23: یعنی آپ کے نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد ہماری قوم دو حصوں میں بٹ گئی ہے، اور ہم اسے آپ کی نحوست سمجھتے ہیں۔ نیز بعض روایات میں ہے کہ ان پر قحط بھی آپڑا تھا، اس کو بھی انہوں نے حضرت صالح ؑ کی نحوست قرار دیا۔ 24: یعنی نحوست تو تمہارے اعمال کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے اور اس لیے آئی ہے کہ تمہیں آزمایا جائے کہ ان مصائب کے وقت اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتے ہو یا اپنی بد اعمالیوں پر قائم رہتے ہو۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو آدمی ایسے تھے جو زمین میں فساد مچاتے تھے، اور اصلاح کا کام نہیں کرتے تھے۔ (25)

25: یہ حضرت صالح ؑ کی قوم کے نو سردار تھے، جن میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک جتھہ تھا۔ اور بالآخر یہی لوگ تھے جنہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کیا جو معجزے کے طور پر پیدا ہوئی تھی۔ جب حضرت صالح ؑ نے ان کو عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ وہ رات کے وقت ان پر خفیہ طور پر حملہ کریں گے، اور ان کو اور ان کے گھر والوں کو ہلاک کردیں گے۔
Ayahs 27:49–50

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے (آپس میں ایک دوسرے سے) کہا : سب ملکر اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر رات کے وقت حملہ کریں گے، پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم ان گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے۔ اور یقین جانو ہم بالکل سچے ہیں۔

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

انہوں نے یہ چال چلی اور ہم نے بھی ایک چال اس طرح چلی کہ ان کو پتہ بھی نہ لگ سکا۔ (26)

26: قرآن کریم نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ ان لوگوں کی سازش کس طرح ناکام ہوئی۔ بعض روایتوں میں ہے کہ جب یہ لوگ برا ارادہ کر کے چلے تو ایک چٹان ان پر آ گری، اور یہ سب ہلاک ہوگئے، اور بعد میں پوری قوم پر عذاب آگیا۔ اور بعض روایتوں میں ہے کہ جب وہ مسلح ہو کر حضرت صالح ؑ کے گھر پہنچے تو فرشتوں نے ان کا محاصرہ کرلیا، اور انہی کے ہاتھوں وہ مارے گئے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ابھی وہ اپنی سازش پر عمل نہیں کر پائے تھے کہ پوری قوم پر عذاب آگیا، اور اپنی قوم کے دوسرے لوگوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 27:51–52

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

اب دیکھو کہ ان کی چال بازی کا انجام کیسا ہوا کہ ہم نے انہیں اور ان کی ساری قوم کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

چنانچہ وہ رہے ان کے گھر جو ان کے ظلم کی وجہ سے ویران پڑے ہیں۔ (27) یقینا اس واقعے میں ان لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے جو علم سے کام لیتے ہیں۔

27: حضرت صالح علیہ السلا کی قوم کی بستیاں عرب ہی کے علاقے میں تھیں، اور مدینہ منورہ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع تھیں، اور اہل عرب جب شام کا سفر کرتے تو ان کے پاس سے گذرا کرتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا ہے جیسے وہ نظر آرہے ہوں۔ آج بھی یہ ویران بستیاں اور ان کے کھنڈر ”مدائن صالح“ کے نام سے مشہور ہیں، اور سامان عبرت بنی ہوئی ہیں۔
Ayahs 27:53–58

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے تھے اور تقوی اختیار کیے ہوئے تھے ان سب کو ہم نے بچا لیا۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : کیا تم کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے بھی بےحیائی کا یہ کام کرتے ہو ؟

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا یہ کوئی یقین کرنے کی بات ہے کہ تم اپنی جنسی خواہش کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم بڑی جہالت کے کام کرنے والے لوگ ہو۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

اس پر یہ کہنے کے سوا ان کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا کہ : لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

پھر ہوا یہ کہ ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا، سوائے ان کی بیوی کے جس کے بارے میں ہم نے یہ طے کردیا تھا کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک زبردست بارش برسائی، چنانچہ بہت بری بارش تھی جو ان لوگوں پر برسی جنہیں پہلے سے خبردار کردیا گیا تھا۔ (28)

28: حضرت لوط ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ہود : 77 تا 83 اور سورة حجر : 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، نیز پچھلی سورت سورة شعراء 160 تا 175 میں بھی گذرا ہے اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف 80 میں کرایا ہے۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہو : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے (29) بتاؤ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو ان لوگوں نے اللہ کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے ؟

29: مختلف پیغمبروں کے واقعات بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ عقیدہ توحید کے دلائل بیان فرما رہے ہیں جو تمام پیغمبروں کا مشترک اور متفقہ عقیدہ تھا۔ کائنات میں پھیلی ہوئی قدرت خداوندی کی نشانیون کی طرف توجہ دلا کر فرمایا جارہا ہے کہ جو ذات اس کائنات کی تخلیق کر کے اس کا محیر العقول انتظام کر رہی ہے، کیا اسے اپنی خدائی کا نظام چلانے میں کسی اور مدد کی ضرورت ہوسکتی ہے ؟ یہ توحید کے بارے میں ایک انتہائی بلیغ خطبہ ہے جس کے زور بیان کو کسی ترجمے میں منتقل کرنا ممکن نہیں، تاہم مفہوم ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ یہ خطبہ آنحضرت صلی اللہ کے ذریعے ہی لوگوں تک پہنچنا تھا، اس لیے اس کے شروع میں آپ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اس کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام بھیج کر کیا جائے اور اس طرح یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جب کوئی تقریر کرنی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے پیغمبروں پر درود وسلام بھیج کر کیا جائے۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ؟ پھر ہم نے اس پانی سے بارونق باغ اگائے، تمہارے بس میں نہیں تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگا سکتے۔ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ (30) نہیں ! بلکہ ان لوگوں نے راستے سے منہ موڑ رکھا ہے۔

30: واضح رہے کہ کفار مکہ یہ بات مانتے تھے کہ اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، مگر ساتھ ہی وہ کہتے تھے کہ اس نے کائنات کے انتظام کے بہت سے شعبے دوسرے خداؤں کو سونپ دئیے ہیں، اس لیے ان کی عبادت کرنی چاہیے۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا، اور اس کے بیچ بیچ میں دریا پیدا کیے، اور اس (کو ٹھہرانے) کے لیے (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں، اور دو سمندروں کے درمیان ایک آڑ رکھ دی ؟ (31) کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔

31: جہاں دو دریا یا دو سمندر ملتے ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ دکھایا ہے کہ دونوں کے پانی آپس میں ملتے نہیں ہیں، بلکہ دور تک دونوں دریا ساتھ ساتھ بہنے کے باوجود الگ الگ نظر آتے ہیں، گویا ان کے درمیان ایک آڑ کھڑی کردی گئی ہے۔
Ayahs 27:62–65

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے کہ جب کوئی بےقرار اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے، اور تکلیف دور کردیتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ نہیں ! بلکہ تم بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں تمہیں راستہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت (کی بارش) سے پہلے ہوائیں بھیجتا ہے جو تمہیں (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ (نہیں ! بلکہ) اللہ اس شرک سے بہت بالا و برتر ہے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جس نے ساری مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا کرے گا، اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق فراہم کرتا ہے ؟ کیا (پھر بھی تم کہتے ہو کہ) اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ کہو : لاؤ اپنی کوئی دلیل، اگر تم سچے ہو۔

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ : اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے۔ (32) اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔

32: للہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو غیب کی بہت سی باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں، اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ غیب کی خبریں حضور سرور دو عالم ﷺ کو عطا فرمائی گئی تھیں، لیکن مکمل علم غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے اس لئے اس کے سوا کسی کو عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔
Ayahs 27:66–72

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کے بارے میں ان (کافروں) کا علم بےبس ہو کر رہ گیا ہے، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں، بلکہ اس سے اندھے ہوچکے ہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادے مٹی ہوچکے ہوں گے تو کیا اس وقت واقعی ہمیں (قبروں سے) نکالا جائے گا ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے اس قسم کے وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے، (لیکن) ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ قصہ کہانیاں ہیں جو پرانے زمانے کے لوگوں سے نقل ہوتی چلی آرہی ہیں۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہو کہ : ذرا زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا ہے۔

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تم ان لوگوں پر غم نہ کرو، اور یہ جس مکاری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے گھٹن محسوس نہ کرو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

یہ (تم سے) یوں کہتے ہیں کہ : یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو کہ : کچھ بعید نہیں ہے کہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو، اس کا کچھ حصہ تمہارے بالکل پاس آلگا ہو۔ (33)

33: یعنی کفر کا اصل عذاب تو آخرت ہی میں ہوگا، لیکن اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے، چنانچہ قریش کے بڑے بڑے سردار جنگ بدر میں مارے گئے، اور باقی لوگوں کو بری طرح شکست ہوئی۔
Ayahs 27:73–75

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارا پروردگار لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار وہ ساری باتیں بھی جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں، اور وہ باتیں بھی جو وہ علانیہ کرتے ہیں۔

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی کوئی پوشیدہ چیزایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں درج نہ ہو۔ (34)

34: اس سے مراد لوح محفوط ہے
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن بنو اسرائیل کے سامنے اکثر ان باتوں کی حقیقت واضح کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (35)

35: یہ بھی قرآن کریم کی حقانیت کی دلیل ہے کہ جن معاملات میں بنی اسرائیل کے بڑے بڑے علماء میں بھی اختلاف رہا، قرآن کریم نے ان کی حقیقت واضح فرما دی۔