28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsسراج البیان

Ayahs 28:1–4

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کھلی کتاب کی آیتیں ہیں

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم تجھے ایمان دار لوگوں کے لئے موسیٰ اور فرعون کے سچے حالات سناتے ہیں

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

فرعون ملک میں بڑھ چڑھ رہا تھا اور (ف 1) اور اس نے وہاں کے لوگوں کو فرقے فرقے بنارکھا تھا ۔ ان میں سے ایک فرقہ کو ضعیف سمجھنا تھا ۔ ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا ۔ بیشک وہ مفسدوں میں سے تھا

قصہ غلامی وآزادی 1: سورة قصص کی ابتدا موسیٰ اور فرعون کے قصے سے ہوتی ہے کیونکہ یہ قصہ اپنے اندر مظلوموں اور بیکسوں کے لئے ایک عجیب کشش رکھتا ہے ۔ اس کے بیان کرنے سے مقصد یہ ہے ۔ کہ مکہ کے زبردست انسانوں کے دل میں ابھار اور بلندی کی خواہشات پیدا کی جائیں ۔ اور انہیں بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کیونکر مدد کرتا ہے ۔ اور کس طرح حضیض غلامی سے اٹھا کر حکومت و وراثت کے بام بلند تک پہنچا دیتا ہے یہ قصہ حقیقت میں فرعون اور موسیٰ کا قصہ ہی نہیں ۔ بلکہ حق و باطل کی معرکہ آرائی کا مکمل نقشہ ہے ۔ فرعون اور فرعون جیسے ظالموں کی داستان عبرت ہے ۔ بلکہ یوں کہیے کہ آزادی اور غلامی کا کامل فوٹو ہے اس میں وہ تمام داؤ پیچ بیان کئے گئے ہیں ۔ جو ظالم اور برسراقتدار قومیں ۔ غلامی کی زنجیروں کو مستحکم کرنے کے لئے اختیار کرتی ہیں ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو ہمیشہ کے لئے ذلیل اور غلام رکھنے کے لئے دو تجویزوں کو پسند کیا ۔ ایک یہ کہ ان میں افتراق وتشقت کے جذبات پیدا کردیئے ۔ اور نہ حدت ویکسانی کی مخالفت کی جائے ۔ دوسرے یہ کہ لڑکوں کو ذبح کرڈالا جائے ۔ اور لڑکیوں کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس غلامانہ زندگی پر قانع رہیں بتائیے ۔ کہ کیا آج کا فرعون اس فرعون سے زیادہ دانائی سے انہیں دو طریقوں کو استعمال نہیں کررہا ؟ یہ لڑائی اور ہنگامے یہ اختلافات کے طوفان اور جھکڑیہ جماتع بندیاں اور گروہ سازیاں ۔ کیا محض اس لئے نہیں پیدا کی جارہی ہیں ۔ کہ اس طریق سے آزادی اور حریت کے جذبات کو سخت نقصان پہنچتا ہے ۔ اور قوم اپنے اختلافات کو سخت نقصان پہنچتا ہے ۔ اور قوم اپنے اختلافات میں الجھ کر اپنے غالب دشمن سے غافل ہوجاتی ہے یہ کالج اور یونیورسٹیاں ، یہ ھارس اور تعلیم گاہیں ۔ کیا مسلخ اور مذہبوں سے کم ہیں ۔ جہاں لاکھوں نوجوانوں کے ذبح کیا جاتا ہے ۔ عورتوں میں آوارگی اور فیشن کی ترویج کیا موجودہ تعلیمات کا نتیجہ نہیں ہے ؟ بہرحال فرعون ہمیشہ ایک رہتا ہے ۔ صرف ظلم وستم کا انداز ذرا بدل جاتا ہے ۔ حل لغات :۔ شیعاً ۔ گروہ گروہ ۔ شیعۃ کی جمع ہے
Ayah 28:5

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ میں کمزور (ف 1) پڑے تھے ۔ ان پر احسان کریں اور انہیں امام بنائیں اور وارث ٹھہرائیں

ف 1: ارشاد ہے کہ ایک طرف تو فرعون نے لوگوں کو ذلیل ٹھہرانے کی ٹھانی ، اور دوسری طرف ہم نے ارادہ کرلیا ۔ کہ غریبوں اور کمزوروں کی مدد کریں گے ۔ ان کو شرف وعزت کی نعمتوں سے نوازیں گے ۔ انہیں لوگوں کے لئے نمونہ بنائیں گے ۔ اور ارض مصر کی وراثت بخشیں گے ! اور فرعون وہامان کو بتائیں گے ۔ کہ تمہاری کوششیں بارآور نہیں ہوسکتیں اور اب تم بنی اسرائیل کو زیادہ دیر غلام نہیں رکھ سکتے حل لغات :۔ آئمۃ ۔ قائدین ۔ امام کی جمع ہے
Ayahs 28:6–7

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور انہیں زمین میں قدرت دیں ۔ اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو اسرائیلیوں کے ہاتھ سے وہی بات دکھلائیں جس سے وہ ڈرتے تھے (کہ اسرائیل غالب نہ ہوجائیں)

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اسے دودھ پلا ۔ پھر جب تجھے اس کی نسبت خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور نہ غم کر ۔ ہم اسے پھر تیری (ف 2) طرف لائیں گے اور اسے رسول بنائیں گے

ف 2: اس کے بعد قصہ کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں کہ کیونکر ہم نے موسیٰ کو ان کی ماں کی گود سے اٹھا کر فرعون کی آغوش میں پہنچا دیا ۔ اور پھر کیونکر ام موسیٰ کو موقع دیا ۔ کہ وہ مادرانہ جذبات محبت و شفقت کی تکمیل کرے ۔
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

پھر اسے فرعون کے گھر والوں نے اٹھا لیا تاکہ وہ ان کے لئے ایک دشمن اور باعث غم ہو ۔ بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے

حل لغات : فالتقط ۔ اٹھا لیا ۔ التقاط سے ہے ۔ گری بڑی چیز کو لقیط کہتے ہیں ۔
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور (ف 1) فرعون کی عورت نے کہا ۔ کہ (یہ لڑکا) تیرے اور میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا ۔ اسے قتل نہ کرو ۔ شاید ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنائیں اور وہ نہ جانتے (ف 2) تھے

ف 1: حضرت موسیٰ کی ماں جب فرعون کے ڈر سے اپنے بچہ کو دریا میں ڈال دیا ۔ تو وہ کسی طریق سے قصر شاہی میں پہنچ گیا ۔ فرعون چاہتا تھا کہ اس بچہ کو بھی فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ مگر بوی نے روکا اور کہا ۔ اس کو اپنا متبنی بنائیں گے ۔ بڑا پیارا بچہ ہے ۔ ممکن ہے یہ ہمارے لئے نفع وخیرکا باعث ہوں اس لئے اس کو نہ مارو ۔ خدا کی تدبیر دیکھئے ۔ کہ کیونکر فرعون کو لاولاد رکھا ۔ پھر کس طریق سے اس کی بیوی کے دل میں شفقت و محبت کے جذبات پیدا کردیئے ۔ اور کس حکمت سے موسیٰ کو شاہانہ ٹھاٹھہ دیکھنے کے مواقع بہم پہنچائے غرض یہ تھی کہ جو شخص فرعون جیسے شاندار بادشاہ کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس کی حربیت اسی کے محل اور اسی کی شاندار قصر میں ہو ۔ تاکہ ابتدا ہی سے اس کے حوصلے بلند ہوں ۔ اور خیالات شاہانہ ہوں ۔ وہ اس کے سازو سامان کو دیکھ کر مرعوب نہ ہوجائے ۔ اور پوری خودداری ۔ بےخوفی اور شان استغنا کے ساتھ بنی اسرائیل کی رانمائی کرسکے ۔ ارشاد ہے کہ یہ سب کچھ فرعون کی تباہی کے لئے ہورہا تھا ۔ وہ اتنا سمجھدار تھا ۔ مگر ہماری تدبیر کی باریکیوں کو نہ سمجھ سکا ۔ اس کے گھر میں اس کا دشمن جوان ہورہا تھا ۔ اور وہ اس سے بالکل بیخبر تھا ۔ وھم لایشعرون حل لغات :۔ قرۃ عین ۔ آنکھوں کی ٹھنڈک ۔ یعنی باعث سرور
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل بیقرار ہوگیا ۔ اگر ہم اس کے دل کو ڈھارس نہ بندھاتے تو قریب تھا کہ وہ اس بیقراری کو ظاہر کردیتی (مگر ہم نے اس کے دل کو اس لئے ڈھارس بندھائی) کہ مومنین میں (ف 3) رہے

ف 2: حضرت موسیٰ کی والدہ آخر عورت ہی تو تھیں ۔ بچے کو ہاتھ سے جاتا دیکھ کر گھبراگئیں ۔ ارشاد ہے کہ اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کردیتے ۔ اور اس کو تسلی نہ دیتے ۔ تو قریب تھا کہ راز افشا کردیتیں 3: جب موسیٰ فرعون کے محل میں جارہے تھے ۔ تو اس کی ماں نے ان کی بہن کو پیچھے لگا دیا ۔ کہ وہ دور سے حالات کا مطالعہ کرتی رہے اور دیکھتی رہے کہ کیا ہوتا ہے حل لغات : فارغا ۔ یعنی صبر قرار سے خالی ہوگیا
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا ۔ کہ تو اس پیچھے چلی جا ۔ پھر وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور انہیں معلوم بھی نہ ہوا

حل لغات :۔ عن جنب ۔ بُعد اور دوری سے
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے تو پہلے ہی سے سب دودھ پلانے والی عورتیں موسیٰ پر حرام کردی تھیں ۔ پھر بہن نے کہا ۔ کہ تمہیں ایک گھر والے بتلاؤں ۔ کہ وہ اسے تم کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں

حل لغات : حرمنا ۔ اس سے مقصود تحریم طبعی ہے یعنی موسیٰ طبعا دودھ پینے سے مستنفر ہوگئے
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

پھر (ف 1) ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ کی طرف پہنچا دیا ۔ تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور تاکہ اسے معلوم ہو کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ لیکن بہت لوگ نہیں جانتے

ف 1: ان آیات میں اس بات کا ذکر ہے ۔ کہ جب فرعون کی بیوی نے دیکھا ۔ کہ بچہ مطلقاً دودھ نہیں پیتا ہے تو اس کو تشویش ہوئی ۔ اور اس سوچ میں بھی کہ کیا کیا جائے ۔ بچہ دودھ نہیں پیتا ہے ۔ کہ اتنے میں اس کی بہن کو جو کسی طریق سے محل میں پہنچ گئی ۔ کچھ کہنے کا موقع ملا اس نے کہا کہ میں تم کو ایسے گھر والے بتائے دیتی ہوں ۔ جو اس بچہ کی عمدگی کے ساتھ پرورش کریں گے ۔ اور بچہ ان کے ساتھ زیادہ خوش وخرم رہے گا ۔ ارشاد ہے ۔ اس طریق سے ہم نے ام موسیٰ کی آنکھوں کی ٹھنڈا کیا ۔ اور تسلی دی ۔ تاکہ اس کو معلوم ہو ۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ فرمایا ۔ مگر افسوس ہے ۔ کہ اکثر لوگ اللہ پر بھروسہ نہیں رکھتے ۔ اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی بہرحال اعانت کرتا ہے
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور سنبھلا اور ہم نے اسے حکم (ف 2) اور علم دیا ۔ اور یوں ہم نیکوں کو جزا دیتے ہیں

ف 2: یعنی موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوئے تو ہم نے انہیں علم بخشا ۔ اور پیغمبرانہ سوجھ بوجھ عنایت فرمائی وکذالک نجزی المحسنین سے غرض یہ ہے کہ جو لوگ نیک اور صالح ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے علم اور حکمت میں اضافہ کرتا رہتا ہے ۔ حل لغات اشدہ ۔ قوت ۔ توانائی ۔ جوانی ۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ شہر میں آیا ۔ جب وہاں کے لوگ بیخبر تھے تو وہاں اس نے دو آدمی لڑتے پائے یہ اس کے رفیقوں میں سے تھا ۔ اور یہ اس کے دشمنوں میں سے تھا ۔ تو اس نے جو اس کی قوم کا تھا اس کے مقابلہ میں جو اس کے دشمنوں تھا ۔ موسیٰ سے مدد مانگی ۔ تب موسیٰ نے اس کے مکامارا ۔ پھر اس کو تمام کردیا ۔ تو کہا کہ یہ شیطانی کام ہوا ۔ بیشک وہ کھلم کھلا بہکانے والا دشمن ہے (ف 1)

حضرت موسیٰ کی جوانی کا ایک واقعہ 1: موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت جس ماحول میں ہوئی تھی ۔ اس کا تقاضا یہ تھا ۔ کہ وہ بالکل بےخوف اور نڈر ہوئے ہوتے ۔ اور ان میں زبردست جرات اور جسارت ہوتی ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقصد بھی یہی تھا ۔ کہ موسیٰ فرعون کے گھر میں رہ کر اتنے جسور ہوجائیں ۔ کہ آئندہ چل کر بنی اسرائیل کے صحیح معنوں میں راہنما ثابت ہوں ان آیات میں موسیٰ کے عتفوان شباب کا ایک واقعہ ہے ۔ کہ انہوں نے ایک دن ایک قبطی اور اسرائیلی کو آپس میں لڑتے ہوئے پایا ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ اس زمانے میں حضرت موسیٰ فرعون کی تربیت سے آزاد ہوچکے تھے ۔ اسی لئے مصر میں وہ رات کے وقت آئے جب کہ سب لوگ سو رہے تھے ۔ اس اسرائیلی نے جب یہ دیکھا کہ موسیٰ آرہے ہیں تو مدد کے لئے بلایا ۔ حضرت موسیٰ نے عصبیت قومی کے جوش میں آکر قبطی کے ایک گھونسہ رسید کیا ۔ جس سے وہ جانبر نہ ہوسکا اب موسیٰ کو احساس ہوا ۔ کہ انہوں نے غلطی کی ۔ فوراً جناب باری میں جھک گئے اور اپنے گناہ کی معافی چاہی اور کہا ۔ پروردگار بیشک مجھ سے قصور ہوا ۔ میں ہرگز نہیں چاہتا ۔ کہ مجرم کی مدد کروں ۔ اس لئے میری لغزش کو معاف کردیجئے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے معاف کردیا ۔ کیونکہ ہم غفور اور رحیم ہیں یاد رہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ ارادہ نہیں کیا تھا ۔ کہ قبطی کو جان سے مار ڈالا جائے ۔ یہ تو اس کی قسمت میں منظور تھا کہ وہ اس ضرب کو برداشت نہ کرسکے ۔ اور مرجائے ۔ ورنہ عموماً ایک گھونسے کی معمولی چوٹ ہوتی ہے اس واقعہ سے یہ بتایا ہے ۔ کہ مقام نبوت کس درجہ بلند ہوتا ہے ۔ اور خدا کے نیک بندے کس جرات اور صفائی سے اپنی لغزشوں کا اعتراف کرلیتے ہیں ازبسکہ وہ قبطی دشمن کا ایک فرد تھا ۔ اور اس دشمن قوم کا جس نے کہ بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا تھا ۔ جو سینکڑوں اسرائیلی بچوں کو زندگی سے محروم کرچکی تھی ۔ اور جس کے نزدیک خون اسرائیلی کی قوئی قیمت نہ تھی مگر باوجود اس کے حضرت موسیٰ نے اپنے فعل کو غلطی سے تعبیر کیا ۔ اور اللہ سے عفو ورحم کے طالب ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ بشر تھے ۔ جوان تھے مقابل میں مخالف گروہ کا ایک فرد قبطی تھا ۔ اسرائیلی مدد کا طالب تھا ۔ اس لئے یقینا اس وقت کے حالات کا تقاضا ہی تھا کہ حضرت موسیٰ مدد کے لئے آگے بڑھتے مگر وہ اس ناخوشگوار حادثہ کے متوقع نہ تھے ۔ اس لئے جب انہوں نے دیکھا ۔ کہ قبطی مرگیا ۔ تو ان کو قدرتاً ندامت محسوس ہوئی ۔ یہ کوئی ایسی گناہ کی بات نہ تھی صرف حالات کا تقاضا تھا ۔ مگر شان نبوت کا اقتضاد تھا کہ ترک اولیٰ کو بھی گناہ سمجھا جائے ۔ اور اللہ سے غیر مشروط طور پر معافی مانگی جائے ۔ حل لغات :۔ فاستغاثہ ۔ مدد طلب کی فوکزہ ۔ ٹھوکا ۔ مکا مارا
Ayahs 28:16–17

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

کہا اے رب میرے میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ۔ سو مجھے بخش دے ۔ پھر اس کو بخش دیا ۔ بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

کہا اے رب جیسا تونے مجھ پر نعمت کی ۔ میں بھی آئندہ مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا ۔

حل لغات :۔ ظھیرا ۔ مددگار
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر صبح کو ڈرتے ہوئے راہ دیکھتا شہر میں گیا ۔ ناگاہ کیا دیکھتا ہے ۔ کہ وہی جس نے کل اس سے مدد چاہی تھی ۔ پھر اس کو مدد کے لئے پکار رہا ہے ۔ موسیٰ نے کہا کچھ شک نہیں کہ تو صریح گمراہ ہے

حل لغات : استنصرہ ۔ مدد کے لئے چیخنا
Ayah 28:19

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب اس نے اس پر جو ان دونوں کا دشمن تھا ۔ ہاتھ ڈالنا چاہا ۔ تو وہ بولا کہ اے موسیٰ تو مجھے قتل کیا چاہتا ہے ؟ جیسے کل تونے ایک شخص کو قتل کیا تھا ۔ تو یہی چاہتا ہے کہ ملک میں زبردستی کرتا پھرے ۔ اور صلح کاروں میں ہونا نہیں چاہتا ۔

حل لغات جبارا ۔ ظالم اس لفظ کا انتساب جب اللہ کی طرف ہو ۔ تو اس کے معنے ضروریات کو پورا کرنے والے کے ہوتے ہیں
Ayah 28:20

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور شہر کے پرلے سرے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا کہا اے موسیٰ اہل دربار تیرے بارہ میں مشورہ کررہے ہیں کہ تجھے قتل کریں ۔ سو تو یہاں سے نکل بھاگ میں تیرے خیر خواہوں (ف 1) میں سے ہوں

موسیٰ مدین کے کنویں پر 1: موسیٰ (علیہ السلام) کے قبطی کو مارنے کے واقعہ سے مصر میں سنسنی پھیل گئی ۔ اور طبقہ امرا میں ہل چل مچ گئی ۔ ان کو تشویش لاحق ہوئی ۔ کہ کہیں یہی نوجوان بنی اسرائیل کی نجات کا باعث نہ ہو ۔ اس لئے سب نے مل کر مشورہ کیا ۔ کہ اس کو پکڑ کر مار ڈالو ۔ حضرت موسیٰ کے مخلصین میں سے ایک آدمی تھا ۔ وہ دوڑتا ہوا آیا ۔ اور اس نے حقیقت حال سے موسیٰ کو آگاہ کردیا ۔ اس نے کہا ۔ کہ کہیں بھاگ جائیں ۔ آپ کے قتل کے مشو رہے ہورہے ہیں ۔ اب حضرت موسیٰ پریشان ہوئے ۔ اور مدین کی طرف چل کھڑے ہوئے ان کو معلوم تھا کہ وہاں ان کے عزیز و اقارب رہتے ہیں لیکن راستہ معلوم نہیں تھا ۔ ڈرتے ڈرتے مصر سے نکلے ۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ کہ مولا اس ظالم قوم سے مخلصی عطا فرمائیے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ مصر سے نکلے ہیں ۔ اس وقت نبوت سے باقاعدہ نہیں نوازے گئے تھے مگر وجدانی طور پر بنیاسرائیل کی محبت ان کے دل میں ضرور جاگزین تھی ۔ اور وہ قطعاً فرعون اور اس کی قوم کو ظالم خیال کرتے تھے ۔ دوسری بات جو اس ہجرت سے مستطاد ہوتی ہے ۔ یہ ہے کہ مصائب ومشکلات کے وقت صرف اللہ سے طلب اعانت کرنا چاہئے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت فرمائی ۔ تو آپ نے بھی کہا ۔ انی ذاھب الی ربی سیھدین ۔ کہ میں اپنے رب کے لئے ہجرت کر رہا ہوں ۔ میری وہی راہ نمائی کرے گا ۔ اور حضرت موسیٰ اب جانے لگے ہیں تو بھی یہی فرماتے ہیں عسی ربی اللہ یھدینی سواء السبیل جس کے صاف معنے یہ ہیں ۔ کہ ہر واقعہ میں جب انسان اپنے کو کسی الجھن میں دیکھے ۔ تو اللہ سے استعانت چاہے ۔ اور فی الحقیقت جو لوگ اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور اسے اپناکار ساز اور وکیل سمجھتے ہیں ۔ اللہ ان کو کبھی ذلیل اور رسوا نہیں کرتا ۔ وہ ضرور ان کی آرزوؤں کو سنتا اور خواہشوں کو پورا کرتا ہے ۔ اس کی نسبت یہی ہے کہ اس کو پکارو ۔ وہ سنے گا ۔ اس سے مانگو ۔ تو وہ ضرور دے گا ۔ اور اگر اس پر مستحکم ایمان نہ ہو ۔ اس پر پورا بھروسہ اور توکل نہ ہو ۔ تو پھر وہ بھی پرواہ نہیں کرتا ۔ اور اس حالت میں اس پر کوئی الزام بھی عائد نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ خدا کو آزمانے کی ضرورت نہیں ۔ وہ آزمائشوں سے قطعاً مبرا ہے حل لغات :۔ یأتمرون ۔ ائتمار سے ہے ۔ باہم کسی بات کے متعلق سوچنا ۔ مشورہ کرنا
Ayahs 28:21–23

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

تب وہ ڈرتا اور راہ تکتا ہوا شہر سے نکلا ۔ بولا اے میرے رب ظالم لوگوں سے مجھے بچا

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب مدین کی سیدھ پر متوجہ ہوا ۔ بولا امید ہے کہ میرا رب مجھے راہ راست دکھلائے گا

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب مدین کے پانی پر آیا تو اس پر لوگوں کی جماعت پائی جو پانی پلا رہے تھے ۔ اور ان سے الگ دو عورتیں پائیں کہ (اپنی بکریاں) روکے کھڑے تھیں ۔ بولا تمہارا کیا حال ہے ؟ بولیں ہم نہیں پلائیں گے ۔ جب تک چرواہے (اپنے مویشی) واپس نے لے جائیں اور ہمارا باپ بوڑھا بڑی عمر کا ہے (ف 1)

ف 1 : جب حضرت موسیٰ ڈھونڈتے اور تلاش کرتے ہوئے مدین پہنچ گئے ۔ تو وہاں ایک پانی کے مقام پر لوگوں کا مجمع دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں ۔ اور ان سے الگ دو عورتیں چپ چاپ کھڑی ہیں ۔ اور دیکھ رہی ہیں ۔ موسیٰ اپنی مصیبت کو بھول گئے ۔ اور انسانی ہمدردی سے مجبور ہوکر پوچھا ۔ خاتون محترم ! یہاں کیوں کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا ۔ ہم جانوروں کو اس وقت تک کیسے پانی پلاسکتی ہیں ۔ جب تک کہ یہ بھیڑ نہ چھٹ جائے ۔ اور پھر یہ خیال کرکے کہ کہیں یہ اجنبی دل میں ہمارے متعلق کوئی بری رائے قائم نہ کرلے ۔ اور یہ نہ کہے کہ یہ پانی پلانے کے لئے یہاں کیوں آئی ہیں ؟ انہوں نے دفع دخل مقدر کے طور پر کہہ دیا ۔ کہ ہمارے آبا بوڑھے ہیں ۔ وہ یہاں تک نہیں آسکتے ۔ یہ بات سن کر آپ آگے بڑھے ۔ اور ان کے جانوروں کو پانی پلادیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ سے ایک طرف درخت کے سایہ میں کھڑے ہوکر کہا ۔ کہ میں تیری رحمت اور نعمت کا محتاج ہوں ۔ حل لغات :۔ ماخطیکھا ۔ معقول کے معنوں میں سے ہے یعنی تمہاری خواہش کیا ہے
Ayahs 28:24–25

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

تب موسیٰ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا ۔ پھر سایہ کی طرف لوٹ آیا اور بولا اے میرے رب جو بھلائی تونے میری طرف نازل کی ہے میں اس کا محتاج ہوں

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پھر ان دو میں سے ایک عورت شرم سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی ۔ کہا کہ بیشک میرا بات تجھے بلاتا ہے تاکہ تجھے اس کا بدلہ دے ۔ کہ تونے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا پھر جب وہ اس کے پاس آیا اور اس سے سارا حال بیان کیا ۔ تو وہ بولا کہ خوف نہ کر تونے ان ظالموں سے نجات پائی

آجر ۔ مزدوری ہوسکتا ہے بنت شعیب نے انہیں غریب اور مزدور سمجھ کر باپ سے سفارش کی ہو ۔ کہ انہیں کچھ دیدیا جائے ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) جو ان کے ساتھ چلے گئے تو اس لئے کہ شائد اس کے ساتھ جانے میں موافق اور مساعد حالات پیدا ہوجائیں
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان دو میں سے ایک بولی کہ اے باپ اسے نوکر رکھ لے البتہ بہتر نوکر جو تو رکھے وہ ہے جو زور آور اور امانت دار ہو

حل لغات :۔ استاجرہ ۔ یعنی انہیں اچیر بنا کر رکھ لیجئے
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

کہا میں چاہتا ہوں ۔ کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک تیرے نکاح میں دوں ۔ اس شرط پر کہ تو آٹھ1 برس میرا نوکر رہے ۔ اور جو تو دس برس پورے کردے تو وہ تیری طرف سے (مہربانی) ہے اور میں تجھ پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا اگر اللہ نے چاہا تو مجھے نیکو میں پائے گا2

شادی کے سامان 1: حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہوگئی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت کا سامان مہیا کردیا ۔ ایک لڑکی شرماتی اور لجاتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی میرے ابا آپ کو بلاتے ہیں ۔ تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلا کر جو احسان کیا ہے ۔ اس کا معاوضہ آپ کو دیں ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ کہ جب یہ بہنیں اپنے جانوروں کو پانی پلا کر پہنچی ہیں ۔ تو انہوں نے حضرت موسیٰ کی ہمدردی کا تذکرہ اپنے والد حضرت شعیب سے کیا ہوگا ۔ اور حضرت شعیب نے اس سنا پر انہیں بلالیا ہوگا ۔ اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے ۔ کہ عورتیں اگر حالات وقضا سے مجبور ہوکر کام کاج کریں ۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اور یہ بھی معلوم ہوا ۔ کہ اجنبی عورت سے ہمدردانہ گفتگو میں کوئی گناہ نہیں ۔ بلکہ بعض حالات میں ضروری ہوجاتا ہے کہ کمزور طبقہ کی مدد کی جائے غرض کہ حضرت موسیٰ ۔ حضرت شعیب کے ہاں پہنچے تو انہوں نے سارا قصہ سنایا ۔ کہ میں فلاح ہوں ۔ اور اس طرح مصر سے بھاگا ہوں ۔ انہوں نے واقعہ سن کر کہا ۔ کہ تم خوف نہ کھاؤ ۔ خاطر جمع رکھو ۔ اب ظالم فراعنہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے 2: جب ابتعائی رسمی گفتگو ختم ہوگئی ۔ تو اللہ نے انتظام فرمادیا ۔ کہ مہاجر موسیٰ قصر فرعون سے آزاد ہوکر حضرت شعیب کی صحبت سے استفادہ کرے ۔ چناچہ حضرت شعیب کی لڑکی کی سفارش پر کہ آبا انہیں اپنے ہاں ملازم رکھ لیجئے ۔ آدمی مضبوط اور دیانت دار ہیں ۔ حضرت موسیٰ وہاں روپڑے ۔ اور مزید کرم اللہ کے یہ کیا کہ ان کی خانہ آبادی کی طرح ڈال دی حضرت شعیب نے کہا تم یہاں رہو سہو یہ تمہارا گھر ہے ۔ میں چاہتا ہوں ۔ کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی تمہارے نکاح میں دے دوں ۔ مگر شرط یہ ہے ۔ کہ پورے آٹھ سال تک میری خدمت میں رہو ۔ اور اگر دس سال رہ جاؤ ۔ تو یہ تمہاری مرضی ہوگی ۔ میری طرف سے جبر نہ ہوگا ۔ تم انشاء اللہ یہاں رہ کر محسوس کروگے ۔ کہ میں خوش معاملہ آدمی ہوں ۔ حضرت موسیٰ نے بخوشی یہ شرط مان لی ۔ اور کہا ۔ کہ ان دونوں مدتوں میں سے جو چاہوں پوری کردوں ۔ آپ کو کوئی اعتراض نہ ہوگا ۔ پس یہ طے ہے ۔ میرے اور آپ کے درمیان اللہ گواہ ہے : یہ آٹھ سال کی خدمت اصل میں نکاح کے لئے شرط نہ تھی ۔ بلکہ بات یہ تھی ۔ کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) بذریعہ الہام جانتے تھے کہ موسیٰ آئندہ چل کر بڑے جلیل القدر پیغمبر ہونے والے ہیں ۔ اور اب نوجوان ہیں ۔ ان کو ثقہ اور معین ہونے کے لئے کڑی ٹریننگ کی ضرورت ہے ۔ اس لئے انہوں نے اس حیلے سے ان کو اپنے ہاں رہنے پر مجبور کردیا ۔ کہ وہ ان کی صحبت اور فیوض سے اس قابل ہوجائیں ۔ کہ فرعون کا مقابلہ کرسکیں ۔ حل لغات : حجج : حجۃ کی جمع ہے ۔ یعنی سال
Ayahs 28:28–30

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

وہ بولا میرے اور تیرے درمیان یہی اقرار رہا ۔ ان دونوں مدتوں میں سے جونسی مدت میں پوری کروں تو مجھ پر کچھ زیادتی نہ ہوگی اور جو ہم اس پر کہتے ہیں خدا گواہ ہے ۔

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا تو کوہ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی اپنے گھروالوں سے کہا کہ تم ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس کچھ خبر یا آگ کا انگار لاؤں تاکہ تم تاپو

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب وہاں آیا تو اس مبارک قطعہ میں میدان کے داہنے کنارہ کی طرف سے درخت سے یوں آواز آئی ۔ کہ اے موسیٰ بیشک میں اللہ رب العالمین ہوں

حل لغات :۔ شاطی الوادالایمن ۔ یعنی مبارک میدان کے کنارے سے یا میدان کے داہنی جانب سے اس کا مطلب دونوں معنوں میں مشترک ہے یمن سے بھی اس کا اشتقاق ہوسکتا ہے اور یمن سے بھی ۔
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنی لاٹھی نیچے ڈال دے ۔ پھر جب اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا ۔ کہ گویا وہ سانپ ہے ۔ تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اپنے پیچھے پھر کر نہ دیکھا اے موسیٰ آگے آ اور نہ ڈر بیشک تجھ کو خطرہ نہیں ہے

تھتز ۔ اہتزاز سے بمعنی جنبش کرنا
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر بغیر برائی سفید (ف 1) نکلے گا ۔ اور خوف کے سبب اپنا بازو اپنی طرف ملا (یعنی سینہ پر رکھ) غرض فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف یہ تیرے رب کی طرف سے دو سندیں ہیں ۔ کیونکہ وہ بدکار لوگ ہیں

تجلیات 1: حضرت شعیب کے گھر سے موسیٰ (علیہ السلام) جس وقت رخصت ہوتے ہیں ۔ اس وقت ان کی بیوی ان کے ساتھ تھیں ۔ جنگل میں جارہے تھے ۔ تاریکی اور سردی تھی ۔ آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ موسیٰ نے دور سے دیکھا ۔ کہ آگ کا شعلہ نظر آرہا ہے ۔ بیوی نے کہا ۔ میں نے آگ دیکھی ہے ۔ ذرا دور ہے ۔ میں جاتا ہوں ۔ شاید آگ مل جائے اور کچھ پتہ لگے تم یہیں ٹھہرو ۔ یہ کہہ کر موسیٰ آگے بڑھے دیکھا تو وہاں آگ نہ تھی ۔ تجلیات الٰہیہ کا ظہور تھا ارشاد ہوا ۔ کہ موسیٰ میں تمہارا خدا ہوں ۔ ساری کائنات کا رب ہوں ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ موسیٰ کو عہدہ نبوت پر سرفراز کیا جائے ۔ ان کو معجزات عطا کئے جائیں ۔ اور بتایا جائے کہ اب تمہاری زندگی کا اصل دور شروع ہوتا ہے ۔ یہ تجلی تو محض مخاطب کرنے کا ایک ذریعہ تھی تجلیات کی حقیقت تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے ۔ مختصرا یوں سمجھ لیجئے ۔ کہ جس طرح الفاظ معنی کے اظہار کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں ۔ اسی طرح تجلیات اللہ کے منشا کے اظہار کی تعبیرات ہیں ۔ اور بس ارشاد ہوا کہ یہ عصا جو تمہارے ہاتھ میں ہے ۔ زمین پر ڈال دو ۔ اور جب موسیٰ نے اس حکم کی تعمیل کی ۔ تو دیکھا کہ لٹھ اژدہا بن گیا ہے ۔ اس پر وہ ڈرے اور ڈر کر بھاگے ۔ حکم ہوا ۔ کہ ڈرتے کیوں ہو ۔ واپس آجاؤ۔ تم بالکل محفوظ اور مامون ہو ۔ دوسرا حکم ہوا ۔ کہ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو ۔ اور پھر نکالو ۔ اور دیکھو کہ کس قدر سفید براق ہوگیا ہے یہ دو معجزے ہیں جو تمہیں دیئے گئے ہیں ۔ یا یوں سمجھ لو ۔ کہ فرعون کے طلسم کبرہ غرور کو توڑنے کے لئے دو بڑی بڑی دلیلیں ہیں ۔ ان کو لے کر اس کے اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ کہ وہ فسق وفجور کو اپنا وطیرہ و خصلت بنا چکے ہیں ۔ تم ان کی اصلاح کرو ان دو معجزوں سے ایک تو یہ مقصود تھا کہ بےسروسامان موسیٰ کا دل مضبوط ہوجائے اور وہ معلوم کرلے ۔ کہ اللہ کی مدد میرے شامل حال ہے ۔ اور دوسری جانب فرعون اور اس کی قوم کو یہ محسوس ہو کہ جس طرح یہ خشک لکڑی اژدہا بن سکتی ہے ۔ اور گوشت پوست کا ہاتھ براق اور چمکیلا ہوسکتا ہے ۔ اسی طرح بنی اسرائیل جیسی بےضرر قوم ہمارے لئے خطرہ اور خوف ثابت ہوسکتی ہے ۔ اور اس کا نصیبہ چمک سکتا ہے ۔ اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتی ہے حل لغات :۔ من غیر سوء ۔ یعنی مبروص نہ ہونا ، جیسا کہ بائبل میں لکھا ہے ۔
Ayahs 28:33–34

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

بولا اے رب میں نے ان میں سے ایک آدمی کا خون کیا ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ مجھے قتل کریں

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح (ف 1) ہے سو اسے میرے ساتھ مدد کے لئے بھیج دے ۔ کہ وہ میری تصدیق کرے میں ڈرتا ہوں کہ مجھے جھٹلائیں گے

ف 1: حضرت موسیٰ نے فرمایا ۔ میں اس خدمت پر خوش ہوں ۔ اور میں بنی اسرائیل کی آزادی کے لئے ضرور کوشش کروں گا ۔ مگر وقت یہ ہے کہ تنہا اس ذمہ داری کو اپنے لئے گراں سمجھتا ہوں ۔ ہارون کو میرے ساتھ کردیجئے ۔ کیونکہ اس کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے ۔ اور یہ بھی لازم ہے کہ شاید مجھے وہ قتل والے معاملہ میں مار نہ ڈالیں حل لغات : حل لغات :۔ رداً ۔ مددگار اور معاون
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا ۔ ہم تیرے بھائی سے تیرے بازو کو زور دیں گے ۔ اور تم دونوں کو غلبہ بخشیں گے ۔ سو وہ (بقصد ایذا) تم تک نہ پہنچیں گے ۔ ہماری نشانی لے کر جاؤ۔ تم دونوں اور تمہارے تابعین ہی غالب (ف 2) رہیں گے

ف 2: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ تمہاری درخواست قبول ہے ہم تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائیں گے ۔ اور تم دونوں کو غلبہ دینگے ۔ مخالفین عداوت کا ہاتھ تمہاری طرف نہیں بڑھا سکیں گے ۔ اور تم مع اپنے ماننے والوں کے غالب ومقصود رہو گے ۔ حل لغات : سلطانا ۔ غلبہ ۔ قوت اور دلیل
Ayahs 28:36–37

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا ۔ تو بولے کچھ یہ تو افترا کیا ہوا جادو ہے ۔ اور ہم نے تو اپنے اگلے باپ دادوں سے ایسی باتیں سنی نہیں

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا ۔ میرا رب خوب جانتا ہے ۔ جو اس کی طرف سے ہدایت لایا ہے اور جس کو آخرت کا گھر ملے گا ۔ بیشک ظالموں کا بھلا نہ ہوگا

حل لغات :۔ عاقبۃ الدار ۔ حسن انجام سے تعبیر ہے ۔ مراد بہشت سے ہے صرحا ۔ محل
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا ۔ اے درباریو میں تو جانتا نہیں کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود ہو ۔ پس اے ہامان میرے واسطے انگارے کو آگ دے یعنی پکی اینٹیں بنا ، پھر میرے ایک محل تیار کر شاید میں اس محل پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں ۔ اور میرے خیال میں تو وہ جھوٹا ہے

حق وصداقت کا ایک انوکھا معیار 1: ان آیات میں اس بات کا ذکر ہے ۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب خوشخبریوں اور معجزوں سے مسلح ہوکر فرعون کے پاس پہنچے ۔ تو انہوں نے کہا ۔ کہ یہ سب جادو اور کرشمہ سازی ہے ۔ اور یہ تمہارا پیغام توحید وتجرید تو ہماری سمجھ میں آتا نہیں ۔ ہم نے کبھی اپنے باپ دادا سے اس قسم کی باتیں نہیں سنیں ۔ گویا حق وصداقت کا یہ بھی ایک معیار ہے ۔ کہ فرعون کے باپ دادا یا اس کے اکابر اس سے آشنا ہوں حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ قدیم اعتراض ہے ۔ جو اہل نصروعصیان کی جانب سے ہمیشہ پیش کیا جاتا رہا ہے چناچہ جب بھی اللہ کے پیغمبروں اور رسول آئے ۔ اور انہوں نے لوگوں کو راہ راست کی جانب بلایا تو انہوں نے بھی اعتراض پیش کردیا کہ جناب ہمارے آباؤ اجداد تو اس طرح کی باتوں سے آگاہ نہ تھے ۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا ۔ تم ہم کو جھوٹا سمجھتے ہو ۔ مگر اللہ ہماری صداقت پر گواہ ہے ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون حق اور ہدایت کی طرف بلاتا ہے ۔ اور کون عاقبت کے لحاظ سے کامیاب ہے ۔ پھر انہ لا یفلح الظالمون کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ کہ اگر ہم جادو کر ہیں اور جھوٹے ہیں ۔ تو ہم کو کامیابی میسر نہیں ہوگی ۔ اور ہمیشہ اپنے مشن میں ناکام اور غائب وخاشر رہیں گے ۔
Ayahs 28:39–40

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور اس کے لشکروں نے ملک میں ناحق تکبر اور سمجھے کہ وہ ہماری طرف پھر نہ آئیں گے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

سو ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا ۔ پھر ہم نے انہیں دریا (ف 1) میں ڈال دیا ۔ سو دیکھ کہ ظالموں کا انجام کیسا ہوا

ف 1: فرعون دراصل بڑا مکار اور گھاگ تھا ۔ اس نے جب دیکھا کہ موسیٰ کی تعلیم لوگوں میں اثر کررہی تو اس نے اراہ طنز عقیدہ توحید کا مضحکہ اڑایا ۔ اور کہنے لگا کہ اے معزین و شرفاء میں تو یہ جانتا ہوں کہ میں تمہارا خدا ہوں ۔ اور موسیٰ کے کلام سے جو یہ مستفاد ہوتا ہے ۔ کہ اللہ آسمان پر ہے ۔ تو یہ کیونکر ممکن ہے ! پھر ہامان سے مخاطب ہوکر کہا ۔ کہ ہامان ایک اونچا سا محل تو تعمیر کردو ۔ میں دیکھوں تو سہی کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے ؟ ظاہر ہے یہ جملہ محض موسیٰ کے عقیدہ کے استخفاف کے لئے کہا گیا ۔ ورنہ انہوں نے کبھی اس سے یا اس کی قوم سے یہ نہیں کہا ۔ کہ خدا آسمان پر بیٹھا ہوا نظر آتا ہے ۔ اور نہ حقیقتاً فرعون یہ سمجھتا تھا ۔ کہ موسیٰ کا یہ مذہب ہے ۔ یہ تو محض اپنے حاشیہ برداروں کو مطمن کرنے کا ایک حیلہ تھا ارشاد ہے کہ فرعون کی قوم نے اس پیغام کو ٹھکرا دیا ۔ اور سخت کبروغرور کا اظہار کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا ۔ کہ اللہ کا قانون ہلاکت حرکت میں آیا ۔ اور یہ لوگ دریا میں غرق کردیئے گئے