28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 28:1–4

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

طٰسۤمّۤ

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ کو موسیٰ اور فرعون کی بعض خبریں حق کے ساتھ سناتے ہیں ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

بلاشبہ فرعون زمین میں چڑھ گیا تھا۔ اور اس نے زمین والوں کی کئی قسمیں بنا رکھی تھیں۔ ان میں ایک جماعت کو کمزور کر رکھا تھا۔ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ بلاشبہ وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔

فرعون کی سرکشی اور بنی اسرائیل پر مظالم کا تذکرہ ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں پھر فرمایا کہ آپ کو موسیٰ اور فرعون کی بعض خبروں کو حق کے ساتھ بالکل ٹھیک ٹھیک آپ کو سناتے ہیں آپ کے واسطہ سے یہ خبریں اہل ایمان کو پہنچیں گی اور وہ ان سے عبرت حاصل کریں گے۔ پھر فرمایا کہ فرعون زمین میں یعنی سر زمین مصر میں حکومت اور اقتدار کے اعتبار سے بڑھ چڑھ گیا تھا۔ اس نے وہاں کے رہنے والوں کو کئی جماعتوں میں تقسیم کر رکھا تھا انہیں جماعتوں میں سے ایک جماعت بنی اسرائیل کی تھی ان کو اس نے ضعیف بنا رکھا تھا اور ان کے ضعف اور مجبوری کا یہ عالم تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ اتنی مظلومیت ہوتے ہوئے بنی اسرائیل اف نہیں کرسکتے تھے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں لکھا جا چکا ہے کہ نجومیوں نے فرعون کو خبر دی تھی کہ تیری حکومت کا زوال بنی اسرائیل کے ایک لڑکے کے ہاتھوں ہوگا۔ لہٰذا اس نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہوتا تھا اسے ذبح کردیتا تھا اور لڑکیوں سے کیونکہ کوئی خطرہ نہیں تھا اس لیے انہیں زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ (اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ) (بلاشبہ وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا) (وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ ) (الآیتین) سارے بندے اللہ تعالیٰ ہی کے مخلوق ہیں۔ سب کی عزت اور ذلت، بلندی اور پستی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، اس کی حکمت کا تقاضا ہوا کہ جو لوگ سرزمین مصر میں ضعیف اور ذلیل بنائے ہوئے ہیں ان پر احسان فرمائے اور انہیں آنے والی نسلوں کے لیے پیشوا بنا دے اور انہیں زمین میں حکومت بھی عطا فرمائے۔ اور فرعون اس کا وزیر ہامان اور ان دونوں کے لشکر والے جن خطرات کا ان ضعیف لوگوں کی طرف سے خوف رکھتے تھے وہ خطرات واقعہ بن کر ان کے سامنے آجائیں چناچہ فرعون اور اس کا لشکر غرق ہوئے اور ہلاکت اور زوال سلطنت کا جو انہیں اندیشہ تھا کہ بنی اسرائیل اس کا ذریعہ بن جائیں، آخر وہ واقعہ کی صورت میں سامنے آگیا اور بنی اسرائیل کے ذریعہ کو قتل کر کے جو اس کی پیش بندی کی تھی اس کا اسے کچھ فائدہ نہ پہنچا۔
Ayahs 28:5–7

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم نے چاہا کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کیا ہوا ہے ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنا دیں اور انہیں وارث بنا دیں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور زمین میں انہیں حکومت دیدیں۔ اور فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان مستضعفین کی جانب سے وہ واقعہ دکھلائیں جس سے وہ اپنا بچاؤ کرتے تھے

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں ڈالا کہ تم ان کو دودھ پلاؤ۔ پھر جب تمہیں اس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے سمندر میں ڈال دینا اور نہ ڈرنا نہ غم کرنا، بلاشبہ ہم اسے تیری طرف واپس کر دینگے، اور اسے پیغمبروں میں سے بنا دیں گے

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا صندوق میں رکھ کر انہیں سمندر میں ڈال دینا اور فرعون کے گھر والوں کا ان کو اٹھا لینا، پھر فرعون کے محل میں پرورش پانا فرعون یہ سن کر کہ میری سلطنت کا زوال بنی اسرائیل کے لڑکے کے ہاتھ ہوگا اس کے توڑ میں لگ گیا اور اس کے نزدیک اس کا توڑ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے چناچہ اس کی حکومت کے جاسوس بنی اسرائیل کے رہنے کی جگہوں میں گھومتے پھرتے تھے اور بنی اسرائیل کے جس گھر میں کسی لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر ملتی تھی اسے ماں باپ سے چھین کرلے جاتے تھے اور ذبح کر ڈالتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ اپنے بچہ کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہوئیں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کے دل میں ڈالا کہ تم بچہ کو دودھ پلاتی رہو پھر جب تمہیں جاسوسوں کا خطرہ ہو تو اس بچہ کو تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا اور اس کی ہلاکت کا خوف نہ کرنا اور نہ اس کی جدائی سے رنجیدہ ہونا ہم اسے تمہاری طرف واپس لوٹا دیں گے اور یہی نہیں کہ تمہارے پاس واپس بھیج کر وہ دوسرے انسانوں کی طرح ایک عام انسان ہوگا بلکہ ہم اسے رسالت کا مرتبہ دیں گے۔ اور اسے اپنے پیغمبروں میں سے بنا دیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین کر کے بچہ کو دریا میں ڈال دیا، اور دریا کے کنارے کنارے تابوت بہ کر جا رہا تھا۔ فرعون کے گھر والوں کی نظر پڑی تو اس کو منگا کر دیکھا اس میں ایک بچہ نکلا جو بڑا پیارا معلوم ہوا۔ جو دیکھتا گود میں لینے کی کوشش کرتا۔ لیکن فرعون کو یہ کھٹک ہوئی کہ کہیں یہ بنی اسرائیل کا وہی لڑکا نہ ہو جس کے بارے میں نجومیوں نے بتایا کہ وہ میری سلطنت کے زوال کا باعث ہوگا۔ لہٰذا اس نے قتل کرنے کا ارادہ کیا کہا جاتا ہے فرعون لاولد تھا۔ جب فرعون کی بیوی نے محسوس کیا کہ وہ اس بچہ کو قتل کرنے کے درپے ہے تو کہنے لگی کہ یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو دیکھ کر جی خوش ہوا کرے گا اسے قتل نہ کرو ممکن ہے کہ بڑا ہو کر ہمیں فائدہ پہنچا دے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں۔ فرعون کی سمجھ میں بات آگئی اور طے ہوا کہ اس کے لیے کوئی دودھ پلانے والی اور پرورش کرنے والی تلاش کی جائے۔ جتنی بھی دائیاں دودھ پلانے والی عورتیں بلائی گئیں (بوتل سے دودھ پلانے کا رواج نہ تھا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی کا دودھ پینا گوارا نہ کیا۔ اب تو بڑی مشکل پیش آئی اور فکر مند ہوئے کہ اس کی پرورش کس طرح ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے تو باز آگئے اور اپنے مشوروں میں اپنی حکومت کے اعتبار سے چوک گئے انہیں پتہ نہ تھا کہ جس کی پرورش کے مشورے کر رہے ہیں یہی وہ بچہ ہے جس کے ہاتھوں سلطنت برباد ہوگی۔ (اِنَّھُمْ کَانُوْا خَاطِءِیْنَ ) کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ لوگ نافرمان تھے اس نافرمانی کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوئے۔ و ھذا الذی اختارہ فی الجلالین وھو الصواب عندی و الجنود لا دخل لھم فی تربیۃ موسیٰ (علیہ السلام) فیقال ان فرعون و ھامان و جنودھما اضطؤا فی تربیتہ (علیہ السلام) ۔ (اور یہی تفسیر ہے جو تفسیر جلالین میں مختار سمجھی گئی ہے اور میرے نزدیک یہی صحیح ہے کیونکہ فرعون کے لشکر کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت میں کوئی دخل نہیں تھا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت میں غلطی کی ہے۔ اسی کو فرمایا گیا ہے کہ (اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ ھَامٰنَ وَجُنُوْدَھُمَا کَانُوْا خٰطِءِیْنَ ) ادھر تو یہ ہوا اور ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بیقرار ہوگیا۔ اور اتنا بیقرار ہوا کہ قریب تھا کہ اپنی بیقراری ظاہر کردیں اور یہ بتادیں کہ میرا بیٹا تھا میں نے ایسے ایسے تابوت میں ڈالا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط رکھا اور ظاہر کرنے نہ دیا تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا اس پر ان کا یقین پختہ رہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایک بات ڈالی کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو حکم دیا کہ جاؤ اس کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔ یعنی جدھر کو تابوت جائے ادھر ہی چلتی رہو اور یہ دیکھتی رہو کہ تابوت کہاں جاتا ہے وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہیں پھر دور سے دیکھ لیا کہ اسے آل فرعون نے اٹھا لیا ہے اور اس انداز سے پیچھے لگی رہیں کہ آل فرعون کو پتہ نہ چلے کہ یہ کون عورت ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمشیرہ نے دیکھا کہ موسیٰ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتے اور آل فرعون اس کے بارے میں پریشان ہو رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں ایسا خاندان نہ بتادوں جو نہ صرف اسے دودھ پلائیں بلکہ اس کی پرورش میں انہیں کسی لالچ کی امید نہ ہو وہ اس کی پوری خیر خواہی کے ساتھ کفالت کریں۔ وہ لوگ پریشان تو ہو ہی رہے تھے کہنے لگے کہ بلاؤ وہ کون عورت ہے جس کا دودھ یہ بچہ قبول کرسکتا ہے۔ اس پر انہوں نے اپنی والدہ کا پتہ بتادیا چناچہ وہ بلائی گئیں جب موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی گود میں دیا گیا تو فوراً ہی دودھ پینا شروع کردیا آل فرعون نے کہا کہ اچھا تم اسے لے جاؤ دودھ پلاؤ، اور پرورش کرو چناچہ وہ انہیں لے گئیں دودھ پلاتی رہیں اور پرورش کرتی رہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے انہیں اس کا معاوضہ بھی ملتا رہا جو روزانہ ایک دینار تھا۔
Ayahs 28:8–13

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

سو اسے آل فرعون نے اٹھا لیا تاکہ ان کے لیے دشمن بن جائے اور غم کا باعث بنے بلاشبہ فرعون اور ہامان اور اس کا لشکر خطا کرنے والوں میں سے تھے۔

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ ہمیں نفع پہنچا دے یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنا لیں اور ان کو خبر نہ تھی،

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل بیقرار ہوگیا قریب تھا کہ وہ اس کا حال ظاہر کردیتی اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کردیتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے رہے

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور موسیٰ کی والدہ نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے چلی جا۔ سو اس نے اسے دور سے دیکھ لیا اور انہیں خبر بھی نہ ہوئی۔

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں پر بندش کر رکھی تھی۔ سو موسیٰ کی بہن بولی کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ بتادوں جو تمہارے لیے اس کی پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں۔

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

سو ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غمگین نہ ہو اور تاکہ وہ اس بات کو جان لے کہ بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے

(فَرَدَدْنٰہُ الآی اُمِّہٖ ) (الآیۃ) سو ہم نے موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور بچہ کی جدائی سے غمگین نہ ہوں اور تاکہ اس بات کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح اپنے بندوں کے ساتھ رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور کس کس طرح ظالموں کو ان کی تدبیروں میں نا کام بناتا ہے۔ فائدہ : یہاں بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنی اولاد کی پرورش کرنا تو فرض ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بچہ کی پرورش کرنے اور دودھ پلانے پر اجرت کیسے قبول فرمائی ؟ لیکن قرآن مجید میں اجرت لینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور اگر اجرت لی بھی ہو تو کافر ہی سے لی تھی اور حربی کا مال یوں بھی مباح ہے جبکہ وہ کسی دھوکہ دہی کے طریقہ پر نہ لیا جائے پھر جب دشمن کی خوشی سے معاملہ معاہدہ کر کے لے لیا تو اس کے جواز میں شبہ رہتا ہی نہیں۔
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی بھری جوانی کو پہنچے اور پوری طرح درست ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا اور اچھا کام کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک شخص کا قتل ہوجانا پھر مصر چھوڑ کر مدین چلے جانا ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل جانے کا اور اس کے لیے ایک قبطی کے قتل کا بہانہ بن جانے کا ذکر ہے اور چونکہ مصر سے نکل کر مدین تشریف لے گئے تھے اور وہاں سے واپس ہو کر راستہ میں نبوت سے سر فراز کردیئے گئے تھے اس لیے قتل قبطی کے قصہ سے پہلے یہ بیان فرما دیا کہ جب وہ اپنی بھری جوانی کو پہنچ گئے اور صحت اور تندرستی کے اعتبار سے خوب اچھی طرح مضبوط اور ٹھیک ہوگئے تو ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا فرما دیا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے فہم سلیم اور عقل مستقیم مراد ہے۔ جو مدین کو جانے سے پہلے انہیں عطا کردی گئی تھی۔ (وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور ہم اسی طرح اچھے کام کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک دن کہیں شہر سے باہر تشریف لے گئے (ممکن ہے کہ اپنی والدہ کے پاس تشریف لے گئے ہوں جو بظاہر شہر سے دور کسی دیہات میں رہتی ہوں گی) پھر وہاں سے شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جو عام طور سے لوگوں کے غفلت کا وقت تھا، بعض مفسرین نے فرمایا کہ وہ دوپہر کا وقت تھا جبکہ لوگ سو چکے تھے۔ جب شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں ایک آدمی ان کی جماعت میں سے تھا یعنی اسرائیلی تھا اور دوسرا شخص ان کے دشمنوں میں سے تھا یعنی فرعون کی قوم میں سے جنہیں قوم قبط کہا جاتا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برادری والے شخص کو اپنا ایک آدمی نظر آگیا اور آدمی بھی وہ جو خوب جوانی میں بھرا ہوا تھا اور قوت جسمانیہ کے اعتبار سے بالکل مضبوط اور پکا تھا۔ اس نے آپ سے مدد مانگی اور کہنے لگا کہ دیکھئے یہ شخص مجھ پر زیادتی کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ایک گھونسہ مار دیا جس سے اس کا کام تمام ہوگیا یعنی اس کا دم نکل گیا اور جان جاتی رہی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصود اس کو جان سے مارنا نہ تھا تادیباً ایک گھونسہ مارا تھا لیکن ایک ہی گھونسہ اس کی موت کا بہانہ بن گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑی پشیمانی ہوئی کہ ایک شخص کا قتل ہوگیا لہٰذا انہوں نے اول تو یوں کہا کہ یہ ایک شیطانی حرکت ہوگئی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اس کا کام گمراہ کرنا ہے بنی آدم سے ایسی حرکتیں کراتا رہتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں دعا کی کہ اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا لہٰذا میری مغفرت فرمائیے۔ لہٰذا للہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی۔ اہل خیر اور اہل اصلاح کا یہ طریقہ ہے کہ بلا ارادہ بھی اگر ان سے کوئی ایسا کام سرزد ہوجائے جو گناہ کی فہرست میں آسکتا ہو تو اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ اور قتل خطا میں تو دیت بھی لازمی ہوتی ہے لیکن چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کافر حربی کا قتل کیا تھا اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی شریعت بھی جاری نہیں تھی اس لیے دیت کا سوال پیدا نہیں ہوا۔ لیکن قتل نفس کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور مغفرت کی درخواست پیش کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی (اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) (بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے) ۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ ایسے وقت میں شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے لوگ غافل تھے سو اس میں دو مردوں کو پایا جو آپس میں لڑتے تھے، سو جو شخص ان کی جماعت میں سے تھا اس نے ان سے اس شخص کے مقابلہ میں مدد طلب کی جو ان کے دشمنوں میں سے تھا۔ سو موسیٰ نے اس کو گھونسا مار دیا۔ سو اس کا کام تمام کردیا۔ موسیٰ نے کہا یہ شیطانی حرکت ہے بلاشبہ وہ دشمن ہے گمراہ کرنے والا ہے واضح طور پر

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ خداوندی میں مزید عرض کیا کہ اے میرے رب مجھ پر آپ کے بڑے بڑے انعامات ہیں۔ ان کا تقاضا یہ ہے کہ میں مجرمین کا مددگار نہ بنوں لہٰذا میں کبھی ان کی مدد نہ کروں گا جو گناہ کرنے والے اور گناہ کروانے والے ہوتے ہیں۔ دونوں قسم کے مجرموں سے دور رہنے اور ان کا معاون نہ بننے کا بار گاہ خداوندی میں عہد کیا شیطان چونکہ گناہ کراتا ہے لہٰذا اس بیزاری کے عموم میں وہ بھی آگیا اس میں یہ بات بھی داخل ہوگئی ہے کہ شیطان کے کہنے پر عمل نہ کروں گا کیونکہ اس کی بات ماننے میں اس کی مدد ہوتی ہے اور یہ عہد بھی ہوگیا کہ ہمیشہ احتیاط سے کام لوں گا۔ آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جس طرح ہر گناہ گناہ ہے اسی طرح گناہ کی مدد کرنا بھی گناہ ہے عام طور سے لوگ اس سے غافل ہیں گنہگاروں کے ساتھ جاتے ہیں ان کی مدد کرتے ہیں، رشوت دلانے کے ایجنٹ بنتے ہیں بنکوں میں اور انشورنس کمپنیوں میں نوکریاں کرتے ہیں شراب بیچنے والی دکانوں میں ملازم ہوجاتے ہیں امیروں، وزیروں اور چھوٹے بڑے حاکموں کے مظالم میں ان کا ساتھ دیتے ہیں یہ سب گناہ ہے۔ حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تجھے بیوقوفوں کی امارت سے اللہ کی پناہ دیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں فرمایا، میرے بعد ایسے امراء ہوں گے کہ جو شخص ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ کو سچ بتایا اور ظلم پر ان کی مدد کی تو وہ شخص مجھ سے نہیں اور ایسے اشخاص سے میرا تعلق نہیں، اور وہ ہرگز میرے پاس حوض پر نہ پہنچیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 332 از ترمذی) رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چلاتا کہ اس کو قوت پہنچائے اور وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو یہ شخص اسلام سے نکل گیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 436 عن البیہقی فی شعب الایمان) حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 322) ہر وہ ملازمت حرام ہے جس میں گناہ کیا جاتا ہو، ظلم کیا جاتا ہو، ظالم کی مدد کی جاتی ہو کیونکہ گناہ کرنا، اور گناہ کی مدد کرنا دونوں حرام ہیں اسی لیے گناہ کی اجرت اور گناہ پر مدد کرنے کی اجرت بھی حرام ہے جو لوگ حکومتوں کے محکموں میں یا دوسرے اداروں اور فرموں میں اور کمپنیوں میں لگے ہوئے ہیں وہ اپنے بارے میں غور کرلیں کہ وہ کس طرز پر چل رہے ہیں اور وہ خود اپنی جان کے لیے وبال تو نہیں بن رہے ہیں ؟ قرآن مجید میں اس کی تصریح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جو قتل ہوگیا تھا اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرلی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا اس کے بعد جب ان سے قیامت کے دن سفارش کرنے کے لیے عرض کیا جائے گا تو وہ اپنے اس قتل والے واقعہ کو یاد کر کے شفاعت کرنے سے یہ فرما کر عذر کردیں گے قتلت نفسا لم اُوْمِرَ بقَتْلِھَا کہ میں نے ایک جان کو قتل کردیا تھا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا۔ جن کے بلند مراتب ہیں ان کی باتیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ آج یہ واقعہ ہوا کہ ایک قبطی کو تادیباً گھونسہ مارا تو وہ مر ہی گیا اب اگلے دن یہ ہوا کہ جب صبح ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) شہر میں نکلے، لیکن ساتھ ہی خوف زدہ بھی تھے کہ دشمنوں کو واقعہ کا پتہ نہ چل گیا ہو اور اس کا بھی انتظار تھا کہ فرعونی حکومت اور اس کے کارندے کہیں قبطی کے قتل کرنے کی وجہ سے میرے قتل کے درپے نہ ہوں اسی خوف اور غور و فکر میں تھے کہ اچانک وہی اسرائیلی شخص نظر آگیا جس نے گزشتہ کل ایک قبطی کے مقابلے میں مدد طلب کی تھی۔ آج بھی ایک آدمی سے اس کی لڑائی ہو رہی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو مدد طلب کرنے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اول تو اس کو تنبیہ فرمائی کہ تو کل بھی لڑ رہا تھا اور آج بھی لڑ رہا ہے، تو تو صریح طور پر بےراہ آدمی ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قبطی کی طرف متوجہ ہوئے جس سے اسرائیلی کی لڑائی ہو رہی تھی قبطی پورے بنی اسرائیل کے دشمن تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا کہ اسے پکڑیں ابھی ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسرائیلی نے یہ سمجھا کہ جب مجھے بےراہ بتا رہے ہیں تو مجھ ہی کو مارنے کے لیے ہاتھ بڑھا رہے ہیں مشہور ہے کہ نادان دوست سمجھدار دشمن سے بھی زیادہ تکلیف دیتا ہے، اسرائیلی نے کہا کہ اے موسیٰ کیا تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل ایک آدمی کو قتل کرچکے ہو بس تمہارا یہی کام رہ گیا ہے کہ زمین میں اپنی زور آوری دکھایا کرو اور تم اصلاح کرنے والوں میں ہونا نہیں چاہتے۔ بعض مفسرین نے یہاں پر یہ نکتہ بیان کیا ہے جو حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چونکہ (فَلَنْ اَکُوْنَ ظَھِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ ) کے ساتھ انشاء اللہ نہیں کہا اس لیے اگلے ہی دن پھر اسی میں مبتلا ہوگئے جس میں کل ابتلا ہوا تھا اور جبکہ ایک اسرائیلی کی زبان سے یہ بات نکل گئی کہ کل تم ایک آدمی کو قتل کرچکے ہو تو اس شخص کے قاتل کا پتہ چل گیا جو کل مقتول ہوگیا تھا۔ اس بات کو فرعون کی قوم کے آدمی نے بھی سن لیا اور فرعون کے درباریوں کو قاتل کا علم ہوگیا لہٰذا فرعون نے اور اس کے درباریوں نے باہمی مشورہ کیا کہ موسیٰ کو قتل کردینا چاہیے اور گو کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کروائی تھی۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طور طریق سے اسے اس بات کا خطرہ لگا رہتا تھا کہ یہ وہی شخص تو نہیں جس کے ذریعہ میری حکومت برباد ہوگی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا مشورہ ہوگیا تو ایک شخص کو اس مشورے کا پتہ چل گیا (ممکن ہے یہ شخص فرعون کے درباریوں میں سے ہو اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے محبت اور عقیدت رکھتا ہو) یہ شخص دوڑتا ہوا شہر کے دور والے کنارہ سے آیا اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تمہارے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں تم یہاں سے چلے جاؤ اور یہ میں آپ کی خیرخواہی کی بات کر رہا ہوں۔ اس شخص کی بات سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ڈرتے ہوئے اور دشمن کی گرفت کا خطرہ دل میں لیے ہوئے وہاں سے تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے میرے پروردگار مجھے ظالموں سے نجات دے دیجیے۔
Ayahs 28:16–22

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ سو آپ میری مغفرت فرما دیجیے۔ سو اللہ نے ان کو بخش دیا۔ بلاشبہ وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے،

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے رب اس سبب سے کہ آپ نے مجھ پر انعام فرمایا۔ سو میں ہرگز بھی مجرمین کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر اگلے دن شہر میں موسیٰ کو صبح ہوئی خوف کی حالت میں کہ اچانک وہی شخص جس نے کل گزشتہ میں ان سے مدد طلب کی تھی پھر ان سے مدد طلب کر رہا ہے۔ موسیٰ نے کہا بلاشبہ تو صریح گمراہ ہے۔

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑیں جو ان دونوں کا دشمن تھا تو وہ اسرائیلی شخص بول اٹھا کہ اے موسیٰ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ مجھے قتل کر دو جیسا کہ کل تو نے ایک شخص کو قتل کیا ہے بس تم یہی چاہتے ہو کہ زمین میں اپنا زور بٹھلاتے رہو اور اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں ہونا چاہتے

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کے دور والے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے موسیٰ بلاشبہ بات یہ ہے کہ اہل دربار آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں۔ لہٰذا آپ نکل جائیں بلاشبہ میں آپ کی بھلائی چاہنے والوں میں سے ہوں۔

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

سو وہاں سے ڈرتے ہوئے انتظار کرتے ہوئے نکل گئے۔ کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار مجھے ظالم قوم سے نجات دیجیے

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے مدین کی طرف توجہ کی تو یوں کہا کہ امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ چلا دے گا۔

موسیٰ (علیہ السلام) کا مدین پہنچنا وہاں دو لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلانا پھر ان میں سے ایک لڑکی سے شادی ہونا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ایک شخص نے رائے دی کہ دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں تم یہاں سے نکل جاؤ تو وہ سرزمین مصر سے روانہ ہوگئے اور مدین کی طرف چل دیئے جو ملک شام کا ایک شہر ہے۔ یہ علاقہ فرعونی حکومت میں شامل نہیں تھا۔ اور وہ زمانہ پاسپورٹ اور ویزے کا بھی نہیں تھا جو شخص جس ملک میں اور جس شہر میں چاہتا جاسکتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کا رخ کیا وہاں کبھی تشریف نہیں لے گئے تھے راستہ معلوم نہیں تھا اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور یوں کہا کہ (عَسٰی رَبّْیْٓ اَنْ یَّھْدِیَنِیْ سَوَآء السَّبِیْلِ ) (امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتادے گا) موسیٰ (علیہ السلام) تنہا تھے کوئی رہبر نہ تھا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے اور اللہ کی مدد سے سیدھی راہ پر چل کر مدین پہنچنے کی امید باندھ کر روانہ ہوگئے بالآخر صحیح سلامت مدین پہنچ گئے۔ پہنچ تو گئے لیکن وہاں کبھی نہ جانا ہوا تھا نہ کسی سے شناسائی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے سوا کوئی ظاہری اور مجازی مددسامنے نہ تھی جب مدین پہنچے تو ایک کنوئیں پر گزر ہوا وہاں دیکھا کہ ایک بڑی جماعت ہے بھیڑ بھاڑ ہے بکریاں چرانے والے اپنی بکریاں لے کر آئے ہیں۔ اور انہیں پانی پلا رہے ہیں اور یہ بھی دیکھا کہ دو عورتیں اپنی بکریاں لیے کھڑی ہیں وہ اپنی بکریوں کو روک رہی ہیں تاکہ دوسروں کی بکریوں میں رل مل نہ جائیں اور دوسروں کا کھینچا ہوا پانی نہ پی لیں ورنہ پانی کھینچنے والے بکریوں کو مار بھگائیں گے جو ان کی اپنی نہیں ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان دونوں سے کہا کہ تمہارا کیا حال ہے، الگ کھڑے ہونے کا مقصد کیا ہے ان دونوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ جو پانی پلا رہے ہیں، مرد ہیں ہم ان کے ساتھ ساتھ کنوئیں میں ڈول ڈال کر اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلا سکتے، لہٰذا ہم یہ کرتے ہیں کہ جب چرواہے اپنے اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر واپس لے جاتے ہیں تو ہم اپنی بکریوں کو پانی پلاتے ہیں۔ ایک تو عورت ذات مردوں کی بھیڑ میں ڈول نہیں کھینچ سکتی، دوسرے مردوں کے اختلاط سے بھی بچنا ہے چونکہ یہ ایک اشکال ہوتا تھا کہ بکریوں کو پانی پلانا تم دونوں کے ذمہ کیوں پڑا ؟ کیا تمہارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے اس لیے اس کا جواب بھی انہوں نے دے دیا (وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ) کہہ کر بتادیا کہ ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ پانی پلانے کے لیے نہیں آسکتے اور اتنا کہنے کے بعد جو خاموشی اختیار کرلی اسی خاموشی میں یہ بھی بتادیا کہ نہ ہمارے شوہر ہیں اور نہ بھائی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ترس آگیا اور جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا اور پانی پلانے کے بعد کنوئیں سے ہٹ کر سایہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں متوجہ ہو کر عرض کیا (رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ) (اے میرے رب جو خیر آپ میرے لیے نازل فرمائیں میں اس کا محتاج ہوں۔ ) حضرت انبیائے کرام (علیہ السلام) اور مومنین صالحین کا یہی طریقہ رہا ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اور ہر مشکل میں اور ہر بےبسی میں اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ لفظ مِنْ خَیْرٍ میں جو نکرہ ہے اس کے عموم میں سب کچھ آگیا ہے۔ بھوک دور کرنے کا انتظام بھی، کچھ غذا بھی اور امن وامان بھی، نیز رہنے کا ٹھکانہ بھی، مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے روانہ ہو کر مدین پہنچے، پورے سفر میں سبزیوں کے پتے کھاتے رہے بھوک کی وجہ سے پیٹ کمر سے لگ گیا تھا بھوکے بھی تھے، دبلا پن بھی ظاہر ہو رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے جو خیر کا سوال کیا اس میں خاص طور سے کھانے والی چیز کا سوال بھی تھا۔ دونوں عورتیں آج اپنی بکریوں کو لے کر خلاف عادت جلدی گھر پہنچیں تو ان کے والد نے کہا کہ کیا بات ہے کہ آج تم جلدی آگئیں، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے ہماری بکریوں کو پانی پلا دیا ہے اور ساتھ ہی اس شخص کی اچھی صفات بھی بیان کردیں۔ ان دونوں عورتوں کے والد نے کہا کہ اچھا جاؤ اس شخص کو بلا لاؤ۔ چناچہ ان دونوں میں سے ایک عورت آئی جو شرماتی ہوئی چل رہی تھی۔ روح المعانی میں لکھا ہے کہ اس نے اپنے چہرہ پر کپڑا ڈال رکھا تھا اس نے کہا کہ یقین جانئے کہ میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ کو پانی پلانے کا صلہ دیں۔ روح المعانی میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے ساتھ روانہ ہوگئے۔ لیکن انہوں نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا کہ وہ شرماتی ہوئی آرہی ہے اور خود بھی شرمیلے تھے اور حیا و شرم تمام نبیوں کا شعار تھا لہٰذا اس عورت سے کہا کہ تو میرے پیچھے پیچھے چل اور مجھے راستہ بتاتی رہنا۔ دائیں بائیں جدھر کو مڑنا ہو بتادینا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی گوارہ نہ کیا کہ پردہ دار عورت کے پیچھے چلیں جو اچھی طرح کپڑوں کو ڈھانکی ہوتی تھی۔ اس طرح چلتے ہوئے اس لڑکی کے والد کے پاس پہنچے۔ جب ان کے پاس پہنچ گئے تو اپنا واقعہ بتایا۔ انہوں نے قصہ سن کر تسلی دی اور کہا کہ آپ خوفزدہ نہ ہوں آپ ظالم قوم سے نجات پا چکے ہیں جن لوگوں نے آپ کے قتل کا مشورہ کیا ہے ان کی دسترس سے نکل چکے ہیں اس ملک میں ان لوگوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک عورت نے کہا ابا جان اس شخص کو آپ ملازمت پر رکھ لیجیے۔ یہ بکریاں بھی چرائیں گے اور دوسری خدمت بھی انجام دیں گے۔ میرے نزدیک یہ شخص قوی بھی ہے امین بھی ہے اور ملازم رکھنے کے لیے وہی شخص بہتر ہے جو قوی ہو اور امین بھی ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قوی ہونا ان کی بھری ہوئی جوانی سے ظاہر تھا اور پانی پلاتے وقت جو ان کا عمل دیکھا تھا اس سے بھی ان کی قوت و طاقت کا مظاہرہ ہوچکا تھا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جب ان دونوں عورتوں نے یوں کہا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتے جب تک چرواہے اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر واپس نہ لے جائیں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دریافت فرمایا، کیا اس کنوئیں کے علاوہ کہیں اور بھی پانی ہے ؟ اس پر ان دونوں عورتوں نے کہا کہ ہاں قریب میں ایک کنواں اور ہے اسکے منہ پر ایک بھاری پتھر رکھا ہوا ہے اسے چند آدمی بھی مل کر نہیں اٹھا سکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بتاؤ وہ کہاں ہے وہ دونوں انہیں اس کنویں پر لے گئیں حضرت موسیٰ نے ایک ہی ہاتھ سے اس پتھر کو ہٹا دیا پھر ان کی بکریوں کو پانی پلا کر پتھر کو اسی طرح کنویں کے منہ پر رکھ دیا جس طرح پہلے رکھا تھا۔ (روح المعانی ص 63: ج 2) اور موسیٰ (علیہ السلام) کا امین ہونا اس سے ظاہر ہوا کہ انہوں نے اپنی نظر تک کو خیانت سے بچایا اور یہاں تک احتیاط کی کہ عورت کو اپنے پیچھے چلنے کے لیے فرمایا اور خود آگے آگے چلے۔ شیخ مدین نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان دونوں لڑکیوں میں سے تمہارے ساتھ ایک کا نکاح کر دوں، بشرطیکہ تم میرے پاس بطور اجیر آٹھ سال کام کرو۔ میری طرف سے تو آٹھ سال ہی کا مطالبہ رہے گا اور اگر تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری طرف سے بطور تفضل اور مہربانی کے ہوگا یعنی تمہاری طرف سے ایک احسان ہوگا۔ میں تمہیں تکلیف میں ڈالنا نہیں چاہتا، نہ دس سال پورے کرنے کے لیے کہوں گا اور نہ کاموں میں دارو گیر کروں گا۔ (قال فی الروح بالزام اتمام العشر والمناقشۃ فی مراعاۃ الاوقات واستیفاء الاعمال) ساتھ ہی یہ بھی فرمایا : (سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآء اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (کہ انشاء اللہ تم مجھے اچھے لوگوں میں پاؤگے) حسن معاملہ اور برتاؤ میں نرمی اور وفائے عہد میں تم مجھے اچھاپاؤ گے اور میری طرف سے کوئی دکھ تکلیف اور کدورت والی کوئی بات محسوس نہ کرو گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شیخ مدین کی پیش کش پسند آگئی اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کی تھی اس کی قبولیت سامنے آگئی، نکاح کا بھی انتظام ہوگیا اور کھانے پینے کا بھی نیز رہنے کا ٹھکانہ بھی مل گیا، لہٰذا شیخ مدین کے جواب میں فرمایا کہ ہاں ٹھیک ہے یہ میرا اور آپ کا معاملہ اور معاہدہ ہوگیا، آپ بھی اپنی بات پر قائم رہیں اور میں بھی اس معاملے کے مطابق عمل کرتا رہوں گا جو آپ نے آٹھ یا دس سال کے لیے مجھ سے خدمت لینے کا معاملہ کیا۔ دونوں مدتوں میں جو بھی پورا کرلوں، مجھے اختیار ہے اگر آٹھ سال کے بعد میں نے کام چھوڑ دیا تو آپ کی طرف سے مجھ پر زیادہ تکلیف دینے کے لیے زیادتی نہ ہوگی۔ آخر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یوں کہا کہ (وَ اللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوْلُ وَکِیْلٌ) (اللہ اس پر وکیل ہے جو ہم کہہ رہے ہیں) وکیل کا ترجمہ کسی نے نگران کا کیا ہے کسی نے گواہ کا کیا ہے اور کسی نے معنی معرف کا مراد لیا ہے۔ (وَ ھُوَ الَّذِیْ وُکِّلَ اِلَیْہِ الْاَمْرُ ) یہ سارے معانی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ وکیل بمعنی گواہ مراد لینے سے یہ مطلب ہوگا کہ ہم نے جو کچھ آپس میں معاہدہ و معاملہ کیا ہے ہم اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتے ہیں کسی بھی فریق کو اپنے عہد کی مخالفت کرنے کی گنجائش نہ ہوگی۔ حضرت عتبہ بن ندر ؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔ آپ نے سورة طسٓمٓ پڑھی۔ یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے تک پہنچ گئے (اور) فرمایا بلاشبہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی شرمگاہ کو پاک رکھنے کی اور اپنے پیٹ کی روزی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کو آٹھ سال یا دس سال مزدوری کے کام میں لگایا۔ (رواہ احمد وابن ماجہ ص 167) مفسر ابن کثیر ؓ نے متعدد روایات نقل کی ہیں جن میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پورے دس سال شیخ مدین کے پاس گزارے اور ان کی بکریاں چرائیں۔ (ابن کثیر ص 386: ج 3) شرح مواہب لدنیہ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیدہ فاطمہ ؓ حاضر خدمت ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے اور علی کے پاس صرف ایک مینڈھے کی کھال ہے جس پر ہم رات کو سوتے ہیں اور دن کو اس پر اونٹ کو چارہ کھلاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے میری بیٹی ! صبر کر ! کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس تک اپنی بیوی کے ساتھ قیام کیا اور دونوں کے پاس صرف ایک عبا تھی (اسی کو اوڑھتے اور اسی کو بچھاتے تھے) اگر یہ روایت صحیح السند ہو تو پھر دس سال پورے کرنا متعین ہوجاتا ہے اور اس صورت میں حضرت عتبہ بن ندر ؓ کی روایت میں جو دس یا آٹھ سال کے الفاظ شک کے ساتھ ہیں اس شک کو راوی کے شک پر محمول کیا جائے گا۔ 1 ؂ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا کہ جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا، کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں ؟ آپ نے فرمایا، ہاں چند قیراط کے عوض میں نے بھی اہل مکہ کی بکریاں چرائی ہیں۔ (رواہ البخاری ص 301) مرقات شرح مشکوٰۃ میں لکھا ہے کہ اس زمانہ میں ایک قیراط ایک درہم کا چھٹا حصہ ہوتا ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ بکری ضعیف جنس ہے ادھر ادھر بھاگ جاتی ہے اسے مارا جائے تو ٹانگ ٹوٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے لہٰذا بکری چرانے والے کو شفقت اور صبر سے ہی کام لینا پڑتا ہے۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے پہلے بکریاں چرائیں، مزاج میں صبر اور تحمل کی شان پیدا ہوئی پھر ان کو نبوتیں عطا کی گئیں تاکہ مخالفین سے پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کرسکیں اور تحمل اور برداشت سے کام لیں۔ فوائد فائدہ اولیٰ : قرآن مجید میں اس کی تصریح نہیں ہے کہ ان دونوں عورتوں کے والد نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی معاوضہ دیایا کھانا کھلایا البتہ روح المعانی (ص 65 ج 2) میں ابن عساکر سے نقل کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے تو شیخ رات کے کھانے کے لیے بیٹھے تھے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آؤ کھانا کھاؤ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ میرے پانی پلانے کا عوض بھی نہیں دے سکتے جس سے پوری زمین بھر جائے، شیخ نے کہا کہ یہ اجرت نہیں ہے۔ میرے اور میرے باپ دادوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ ہم مہمان نوازی کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھالیا۔ 1 ؂ صحیح بخاری ص 329 میں ہے کہ حضرت سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے کون سی مدت پوری کی، انہوں نے جواب میں فرمایا کہ دونوں میں جو اکثر اور اطیب تھی وہی پوری کی (یعنی دس سال شیخ مدین کی خدمت میں رہے) اللہ کے رسولوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب کوئی بات کہتے تھے تو اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ ولفظہ قضی اکثرھما واطیبھما ان رسول اللّٰہ اذا قال فعل (باب من امربانجاز الوعد) (اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے زیادہ اور بہتر مدت کو پورا کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رسول جب کوئی بات کہتا ہے تو کر کے دکھاتا ہے) فائدہ ثانیہ : یہ شیخ مدین کون تھے جن کے یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قیام فرمایا ؟ اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے مفسر ابن کثیر ؓ نے حضرت حسن بصری ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے لیکن بہت سے علماء نے فرمایا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے بہت پہلے گزر چکے تھے ان لوگوں کا استدلال سورة ہود کی آیت (وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْدٍ ) سے ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ لوط کی قوم زمانے کے اعتبار سے تم سے دور نہیں ہے اور یہ معلوم ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوئی تھی۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے درمیان چار سو سال کا فصل تھا۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے خسر شعیب (علیہ السلام) کیسے ہوسکتے ہیں ؟ بعض لوگوں نے اس اشکال کو یوں رفع کیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی عمر اتنی زیادہ دراز ہوئی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا زمانہ پا لیا۔ لیکن اس کی کوئی سند نہیں۔ (ابن کثیر) صاحب روح المعانی نے حضرت ابو عبیدہ سے نقل کیا ہے کہ جو صاحب موسیٰ (علیہ السلام) کے خسر تھے ان کا نام اثرون تھا اور یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور بعض حضرات نے ان کا نام ہارون اور بعض حضرات نے مروان اور بعض حضرات نے عاوید بتایا ہے اور ان سب کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بھتیجا ظاہر کیا ہے۔ مفسر ابن جریر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جس صاحب نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بطور اجیر اپنے یہاں رکھا تھا ان کا نام یثرب تھا۔ اس بارے میں بعض دیگر اقوال بھی ہیں۔ صاحب روح المعانی اور علامہ قرطبی ؓ کا رجحان اسی طرف ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خسر شعیب (علیہ السلام) ہی تھے، لیکن مفسر ابن کثیر ؓ نے ابن جریر سے نقل کیا ہے کہ (اِنَّ ھٰذَا لا یدرک الا بخبر و لا خبر تجب بہٖ الحجۃُ فِیْ ذٰلِکَ ) یعنی کسی حدیث کے بغیر اس کے بارے میں صحیح بات نہیں کہی جاسکتی اور اس بارے میں کوئی ایسی روایت سامنے نہیں ہے جس سے حجت قائم ہو سکے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ فائدہ ثالثہ : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شیخ مدین نے یوں کہا کہ میں آپ کو اپنے یہاں کام پر ملازم رکھنا چاہتا ہوں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بلا تکلف اسے منظور فرما لیا اس سے معلوم ہوا کہ اپنی ضرورت اور حاجت کے لیے مزدوری کرنا کوئی عار اور عیب نہیں ہے، خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے بارے میں فرمایا کہ میں نے بھی چند قیراط کے عوض اہل مکہ کی بکریاں چرائی ہیں۔ (کما مر فی الحدیث) بہت سے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ کچھ پڑھ لکھ لیتے ہیں یا اپنے آپ کو کسی اونچے خاندان کا فرد سمجھتے ہیں تو ملازمت و مزدوری کرنے کو عار سمجھتے ہیں۔ بھوکے رہتے ہیں۔ حاجتیں رکی رہتی ہیں۔ لیکن مزدوری کرنے سے بچتے ہیں اور اس میں اپنی حقارت سمجھتے ہیں۔ قرضوں پر قرضے لیے چلے جاتے ہیں جبکہ ادائیگی کا بظاہر انتظام بھی نہیں ہوتا لیکن محنت مزدوری کر کے کسب حلال کی طرف نہیں بڑھتے۔ یہ صالحین کا طریقہ نہیں ہے۔
Ayahs 28:23–26

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب مدین کے پانی پر پہنچے تو وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو دیکھا جو پانی پلا رہے تھے اور وہاں دو عورتوں کو دیکھا جو ان لوگوں سے رک رہی تھیں موسیٰ نے پوچھا تم دونوں کا کیا حال ہے ؟ وہ دونوں کہنے لگیں کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک کہ چرواہے واپس نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

سو موسیٰ نے ان کے لیے پانی پلا دیا، پھر سایہ کی طرف ہٹ گئے، پھر یوں کہا کہ اے میرے رب آپ جو کچھ میرے لیے نازل فرمائیں میں اس کا محتاج ہوں

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

سو ان عورتوں میں سے ایک عورت موسیٰ کے پاس آئی جو چلتے ہوئے شرما رہی تھی اس نے کہا بلاشبہ میرے والد تم کو بلا رہے ہیں تاکہ تمہیں اس کا صلہ دیں جو تم نے ہمارے لیے پانی پلایا، پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کو واقعات سنائے تو انہوں نے کہا کہ خوف نہ کرو تم ظالم قوم سے نجات پا گئے ہو

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان دونوں عورتوں میں سے ایک کہنے لگی کہ ابا جی آپ اس شخص کو مزدوری پر رکھ لیجیے بیشک جس کسی کو آپ مزدوری پر رکھیں ان میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قوی ہو امانت دار ہو۔

فائدہ رابعہ : شیخ مدین کی ایک لڑکی نے جو کہا کہ اے ابا جان اس شخص کو اپنے یہاں اجرت پر رکھ لیجیے اور ساتھ یوں بھی کہا (اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ) (کہ جسے آپ مزدوری پر رکھیں ان میں بہتر آدمی وہ ہے جو قوی بھی ہو امین بھی ہو) اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعریف تو ہے ہی کہ یہ شخص قوت والا ہے اور امانتدار ہے ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اپنے کام کے لیے ایسے شخص کو مزدور رکھا جائے جو اس کام کو کرسکتا ہو جس کے لیے ملازم رکھا جا رہا ہے اور ہر عمل کی قوت علیحدہ ہوتی ہے کسی کو پڑھانے کی قوت و صلاحیت ہوتی ہے۔ جس کسی کو محاسب رکھا جائے وہ حساب دان ہونا چاہیے۔ جس کسی سے عمارت بنوائے، وہ اس کا اہل ہونا چاہیے۔ خواہ معمار ہو خواہ سیمنٹ بنانے والا ہو خواہ اینٹیں اٹھا کردینے والا ہو لفظ قوی، جسمانی، قلبی، دماغی سب قوتوں کو شامل ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ جسے کسی کام پر رکھا جائے وہ امانتدار بھی ہونا چاہیے اس میں ہر قسم کی امانت داخل ہے۔ مال میں بھی خیانت نہ کرے، وقت بھی پورا دے اور جس کے یہاں کام پر لگے اس کے اہل و عیال کے بارے میں بھی بد نفسی سے بد نظری کے خیال سے پاک اور صاف رہے۔ آج کل لوگوں میں خیانت بہت ہے جب کوئی شخص مزدوروں کو کام پر لاتا ہے تو جب تک سامنے رہتا ہے اچھی طرح لگ کر کام کرتے ہیں اور جہاں وہ نظروں سے اوجھل ہوا باتیں بنانے لگے۔ عموماً دفتروں میں کام کرنے والے اور اسکولوں میں پڑھانے والے تنخواہ پوری لے لیتے ہیں اور کام آدھا تہائی کرتے ہیں۔ آپس میں مل کر نمبر وار ایک شخص پورے مہینہ غیر حاضری کرتا ہے اور رجسٹر حاضری میں برابر لکھی جاتی ہے یہ سب خیانت ہے۔ جن لوگوں کو حکومت کے محکموں میں یا دوسرے اداروں میں ملازم رکھنے کا اختیار دیا گیا ہو ان لوگوں پر لازم ہے کہ جسے ملازم رکھیں اس کی صلاحیت بھی دیکھیں اور امانتدار ہونے کا بھی پتہ چلائیں محض ڈگریاں دیکھنے پر اکتفا نہ کریں اور نہ رشوت لے کر کسی کو ملازم رکھیں اور نہ قرابت داری کو ملازم رکھنے کا سبب بنائیں۔
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

شیخ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم سے اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا نکاح کر دوں اس شرط پر کہ تم میرے پاس آٹھ سال نوکری کے طور پر عمل کرو۔ سو اگر تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری طرف سے ہوگا اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تم پر مشقت ڈالوں، انشاء اللہ تم مجھے صالحین میں سے پاؤ گے

فائدہ خامسہ : شیخ مدین نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ میں تم سے اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب لڑکی نکاح کے قابل ہوجائے اور اس کے مناسب حال رشتہ مل جائے تو اس میں دیر نہ لگائے۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے علی ! تین چیزیں ایسی ہیں جس میں دیر نہ لگائی جائے۔ (1) نماز (جب اس کا وقت ہوجائے) (2) جنازہ (اس کی نماز اور تدفین) جب حاضر ہوجائے۔ (3) بےشوہر والی عورت (جب تو) اس کے لیے کفو پالے۔ (رواہ الترمذی بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح ص 61) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو ۔ ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ ہوجائے گا اور (لمبا) چوڑا فساد ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح) شیخ مدین کے عمل سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ کسی شخص سے یہ کہنا کہ میں تم سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتا ہوں، کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ آج کل جو لوگوں میں یہ طریقہ ہے کہ لڑکیوں کے لیے خود رشتہ نہیں ڈھونڈتے، پیغام آنے کے انتظار میں رہتے ہیں اگرچہ اچھا رشتہ سامنے آجائے تو اپنی زبان سے بات چلانے کو عیب سمجھتے ہیں۔ یہ جاہلانہ بات ہے۔ اسی طرح اگر لڑکی کا نکاح ہوتا ہے تو باپ چھپا چھپا پھرتا ہے۔ اور مجلس عقد میں حاضر ہوتا ہے تو خود ایجاب و قبول کرنے کو آبرو کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ کی بیٹی حفصہ ؓ ان کے شوہر کے شہید ہوجانے کی وجہ سے بیوہ ہوگئیں تو عدت گزر جانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے عرض کیا کہ میری بیٹی کو نکاح میں قبول کرلیں۔ وہ خاموش ہوگئے۔ انہی دنوں حضرت عثمان ؓ کی اہلیہ حضرت رقیہ ( رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی) کی وفات ہوگئی تھی لہٰذا حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا کہ میری بیٹی کو اپنے نکاح میں قبول کرلو۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ان دنوں نکاح کرنے کا خیال نہیں ہے، حضرت عمر ؓ نے یہ بات بطور شکایت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر کردی تو آپ نے فرمایا کہ حفصہ سے وہ شخص نکاح کرے گا جو عثمان سے بہتر ہے اور عثمان کے نکاح میں ایسی بیوی آجائے گی جو حفصہ سے بہتر ہے۔ اس کے بعد آپ نے حضرت حفصہ سے خود نکاح فرما لیا اور حضرت عثمان ؓ سے اپنی صاحبزادی کلثوم ؓ کا نکاح کردیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ دیکھو اپنے دل میں ناراض نہ ہونا رسول اللہ ﷺ نے میرے سامنے تذکرہ فرمایا تھا کہ میں حفصہ سے نکاح کرلوں گا لہٰذا مجھے یہ بات پسند نہ ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کا راز افشا کروں اگر آپ حفصہ سے نکاح کرنے کا خیال چھوڑ دیتے تو میں نکاح کرلیتا۔ (راجع الاستیعاب والاصابہ ذکر حفصہ و رقیہ و ام کلثوم رضی اللّٰہ عھن) ۔ فائدہ سادسہ : شیخ مدین نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یوں کہا کہ میں ان دو لڑکیوں میں اس شرط پر تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں کہ آٹھ سال میرے پاس ملازمت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مہر میں کوئی دینار و درہم روپیہ و پیسہ اور کوئی مالیت کی چیز دینا ہی ضروری نہیں ہے۔ شوہر کا خدمت کرنا بھی مہر بن سکتا ہے۔ البتہ فقہاء حنفیہ یوں کہتے ہیں کہ کوئی آزاد شخص (جو غلام نہ ہو) اپنی بیوی کی خدمت کرنے کو مہر بنا کر نکاح کرلے تو اسے مہر مثل ملے گا۔ نکاح تو ہوجائے گا لیکن شوہر اس کی خدمت نہ کرے گا کیونکہ یہ قلب موضوع ہے کہ شوہر بیوی کا خادم بن جائے اور شیخ مدین اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ سے جو شوافع نے جواز پر استدلال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں اس شرط پر نکاح کرنے کا ذکر ہے کہ تم آٹھ سال میرے ہاں اجرت پر کام کرو وہاں مہر کا ذکر ہی نہیں ہے اور اس کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ ان کی شریعت میں مہر ضروری تھا پھر یہ بات بھی ہے کہ بکریاں بیوی کے باپ کی تھیں اور انہیں کی خدمت کا وعدہ تھا اسی لیے ان تاجرھا نہیں فرمایا۔ قال ابن الھمام فی فتح القدیر ص 224 ج 3 و کون الا وجہ الصحۃ لقص اللّٰہ سبحانہ قصۃ شعیب و موسیٰ علیھما السلام من غیر بیان نفیہ فی شرعنا انما یلزم لو کانت الغنم ملک البنت دون شعیب وھو منتف۔ (امام ابن الھمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں حضرت شعیب و حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے قصہ کو ہماری شریعت میں نفی کے بغیر بیان کرنا آزاد آدمی کی خدمت کو بیوی کے حق مہر مقرر کرنے کے جائز ہونے کی دلیل تب ہوتا جب بکریاں ان کی بیٹی کی ملکیت ہوتیں نہ کہ حضرت شعیب کی جبکہ یہ بات ہے نہیں کہ بکریاں بیٹی کی تھیں) شوہر اگر بیوی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی خدمت کر دے اگرچہ مہر ہی کے طور پر تو حنفیہ اس کے جواز کے قائل نہیں ہیں۔ رہی یہ بات کہ جب باپ کی خدمت کردی تو بیٹی کو کیا ملا اور اس کا مہر اس طرح ادا ہوا تو اس کی ادائیگی اس کے ذمہ آتی ہے جس نے محنت مزدوری پر رکھا اور کام لیا۔ اب تو باپ کے ذمہ ہوگا کہ حق الخدمت کا عوض اپنی بیٹی کے حوالے کر دے بیٹی کو بھی اختیار ہے کہ پہلے ہی سے معاف کر دے یا باپ دینے لگے تو وصول نہ کرے۔ فائدہ سابعہ : شیخ مدین نے جو یوں کہا تھا کہ میں تم سے ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کا نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ اس وقت انہوں نے بیٹی کی تعیین نہیں کی تھی اگر کوئی شخص اس پر یہ اشکال کرے کہ بغیر تعیین کے نکاح کیسے صحیح ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت شیخ مدین نے آٹھ سال ملازمت کرنے کی شرط پر نکاح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا نکاح نہیں ہو رہا تھا۔ حضرت موسیٰ نے معاہدہ کرلیا۔ بعد باقاعدہ نکاح کردیا گیا۔ اس وقت منکوحہ کی بھی تعیین ہو گئیقال القرطبی (رح) ص 272 ج 7 یدل علیٰ انہ لا عقد لأنہ لو کان عقد العین المعقود علیھا لہ۔ (امام قرطبی ؓ فرماتے ہیں آیت کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ شیخ مدین نے ارادہ ظاہر کیا تھا ان مذکورہ الفاظ سے عقد نکاح نہیں کیا اگر اسی بات میں نکاح بھی مقصود ہوتا تو جس کا نکاح ہو رہا تھا اس کی تعیین بھی فرما دیتے۔ ) فائدہ ثامنہ : آیت کریمہ میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ شیخ مدین نے اپنی بیٹی سے نکاح کرنے کی اجازت لی تھی۔ حضرات شوافع کا مذہب یہ ہے کہ بالغ لڑکی کا نکاح اس کا والد اس سے دریافت کیے بغیر کرسکتا ہے لیکن اس پر آیت کریمہ سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔ کیونکہ آیت میں صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے نکاح بشرط ملازمت کرنے کا ذکر ہے۔ جب آپس میں معاہدہ ہوگیا تب نکاح ہوا اس میں لڑکی سے دریافت کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہاں بعض روایات حدیث سے شوافع کا استدلال ہوسکتا ہے جو متکلم فیہا ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب یہ ہے کہ بالغ لڑکی سے ولی کا اجازت لینا ضروری ہے اگر لڑکی کنواری ہے تو اجازت کے وقت اس کا چپ ہوجانا کافی ہے۔ یعنی خاموشی اجازت میں شمار ہے اور جو عورت بیوہ یا مطلقہ ہو اس کا ولی اس سے نکاح کی اجازت طلب کرے تو جب تک وہ زبان سے اجازت نہ دے اس وقت تک اجازت نہیں مانی جائے گی۔ نیز قرآن مجید کی آیت (وَ لَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ ) سے بھی یہ بات صاف ظاہر ہے کہ بالغ عورت اپنا نکاح خود کرے تو کرسکتی ہے، البتہ جب عورت کا مخلص خیر خواہ ولی موجود ہو تو عورت آگے نہ بڑھے اور نکاح کا معاملہ ولی کے سپرد رکھے۔ احادیث کے مراجعہ کے لیے مشکوٰۃ المصابیح ص 270 کا مراجعہ کیا جائے۔ فائدہ تاسعہ : شیخ مدین نے یہ جو فرمایا کہ (وَ مَآ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْکَ ) اس میں یہ بتادیا کہ تمہارے ذمہ جو کام لگایا جائے گا تمہارے ذمہ بس وہی ہوگا، اور میں تم پر سختی نہ کروں گا۔ معاہدہ اور طے شدہ معاملہ سے زیادہ کام نہ لوں گا پھر (سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآء اللّٰہُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) بھی فرمایا اس میں یہ بھی بتادیا کہ تم مجھے حسن معاملہ میں اور نرم برتاؤ میں اور عہد کے پورا کرنے میں اچھا پاؤ گے معلوم ہوا کہ مزدور اور ملازم پوری طرح محنت سے مفوضہ اعمال پورا کرنے کی کوشش کرے اور جو شخص ملازم رکھے وہ اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اس کا حق واجب ادا کرے اس کی ادائیگی میں دیر نہ لگائے اور ملازم سے کبھی کوئی کوتاہی ہوجائے تو اس سے درگزر کرے اگر کسی بات پر مواخذہ کرنا ہو تو اس کا اندازہ بھی مناسب رکھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو (رواہ ابن ماجہ ص 176) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن میں تین آدمیوں کے خلاف مدعی بنوں گا۔ (1) وہ شخص جس نے میرا نام لے کر عہد کیا پھر دھوکہ دیا۔ (2) جس شخص نے کسی آزاد کو بیچ دیا پھر اس کی قیمت کھا گیا۔ (3) جس شخص کو مزدوری پر لیا پھر اس سے اپنا کام لے لیا اور اسے اس کی مزدوری نہ دی۔ (رواہ البخاری) فائدہ عاشرہ : شیخ مدین کی جن دونوں بیٹیوں کا ذکر ہے بعض مفسرین نے ان کے نام بھی لکھے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تھی ایک چھوٹی تھی۔ ان میں سے ایک کا نام لیّا اور دوسری کا نام صفورا تھا اور یہ بھی لکھا ہے کہ صفورا چھوٹی تھی اور وہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بلانے گئی تھی اور اسی سے ان کا نکاح ہوا تھا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ بڑی لڑکی موسیٰ (علیہ السلام) کے نکاح میں دی گئی تھی۔