Al-Qasas 28:10

Al-Qasas · from ayah 10

28:10

وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًا ؕ— اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْلَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟وَاَصۡبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوۡسٰى فٰرِغًا‌ ؕ اِنۡ كَادَتۡ لَـتُبۡدِىۡ بِهٖ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

اور موسٰی کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا اگر ہم اُن کے دل مضبوط نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ اس (قصّے) کو ظاہر کر دیں۔ غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the heart of Moses' mother became empty [of all else]. She was about to disclose [the matter concerning] him had We not bound fast her heart that she would be of the believers.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:10

اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اڑا جا رہا تھا وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور موسٰی کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا اگر ہم اُن کے دل مضبوط نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ اس (قصّے) کو ظاہر کر دیں۔ غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ کی والده کا دل بے قرار ہوگیا، قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ﻇاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہ دے دیتے یہ اس لیے کہ وه یقین کرنے والوں میں رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ادھر موسیٰ کی والدہ کا دل بےقرار تھا۔ قریب تھا کہ وہ یہ سارا راز کھول دیتیں، اگر ہم نے ان کے دل کو سنبھالا نہ ہوتا، تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) یقین کیے رہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بے صبر ہوگیا ضرو ر قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی اگر ہم نہ ڈھارس بندھاتے اس کے دل پر کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور موسٰی ؑ کی والدہ کا دل (صبر سے) خالی ہوگیا، قریب تھا کہ وہ (اپنی بے قراری کے باعث) اس راز کو ظاہر کردیتیں اگر ہم ان کے دل پر صبر و سکون کی قوّت نہ اتارتے تاکہ وہ (وعدۂ الٰہی پر) یقین رکھنے والوں میں سے رہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا۔ یقینا وہ قریب تھی کہ اسے ظاہر کر ہی دیتی، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے اس کے دل پر بند باندھ دیا تھا، تاکہ وہ ایمان والوں میں سے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور موسیٰ کی والدہ کا دل سخت بےقرار ہوگیا۔ اور اگر ہم اس کی دھارس نہ بندھاتے تو قریب تھا کہ وہ راز فاش کردیتی۔ (ڈھارس بندھانے کا دوسرا فائدہ یہ تھا) کہ وہ (ہمارے موسیٰ کو واپس اس کے پاس لوٹانے کے وعدہ پر) یقین کرنے والوں سے ہوجائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور موسیٰ کی ماں کا دل بالکل بےچین ہوگیا۔ قریب تھا کہ وہ اس کے راز کو ظاہر کردیتی اگر ہم اس کے دل کو نہ سنبھالتے کہ وہ اہل ایمان میں سے بنی رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے ادھر موسیٰ کی ماں کا دل اڑا جا رہا تھا اور اس کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا تھا یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ اس کے راز کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم نے پختہ اور مضبوط نہ کردیا ہوتا اس کے دل کو اور اس کی ڈھارس نہ بندھا دی ہوتی تاکہ وہ برقرار رہے ایمان و یقین والوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور والدہ موسیٰ ؑ کا دل بےقرار ہوا (ایسا کہ) قریب تھا کہ وہ موسیٰ ؑ کا حال ظاہر کردیتیں اگر ہم ان کے دل کو اسی لئے مضبوط نہ کیے رہتے کہ وہ یقین کیے رہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (ادھر) موسیٰ ؑ کی ماں کا دل حوصلہ چھوڑ بیٹھا قریب تھا کہ وہ اس (راز) کو ظاہر ہی کردیتی اگر ہم نے اس کے دل کو مضبوط نہ کردیا ہوتا تاکہ وہ ہوجائے ایمان والوں میں سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا اگر ہم اس کا دل مضبوط نہ کردیتے تو قریب تھا کہ وہ اس غصہ کو ظاہر کردیں غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On the other hand, the heart of Moses' mother was sorely distressed. Had We not strengthened her heart that she might have full faith (in Our promise), she would have disclosed the secret.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the heart of the mother of Musa became restless; indeed she was about to disclose this (the real facts about Musa), had We not strengthened her heart to remain among those who have firm belief (in Allah‘s promise).

— Muhammad Taqi Usmani

And the heart of the mother of Musa became restless; indeed she was about to disclose this (the real facts about Musa), had We not strengthened her heart to remain among those who have firm belief (in Allah‘s promise).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the heart of the mother of Musa became empty. She was very near to disclose his (case), had We not strengthened her heart, so that she might remain as one of the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the heart of the mother of Moses became void, and she would have betrayed him if We had not fortified her heart, that she might be of the believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the heart of Moses' mother became empty [of all else]. She was about to disclose [the matter concerning] him had We not bound fast her heart that she would be of the believers.

— Saheeh International

The heart of Moses' mother was relieved and confident. But she would almost have made the whole matter public had We not strengthened her heart with faith.

— Muhammad Sarwar

And the heart of Musa's mother was free (from anxiety) she would have almost disclosed it had We not strengthened her heart so that she might be of the believers.

— Muhammad Habib Shakir

And the heart of the mother of Musa became void, and she had wellnigh disclosed him, had We not fortified her heart, that she might remain one of the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

But there came to be a void in the heart of the mother of Moses: She was going almost to disclose his (case), had We not strengthened her heart (with faith), so that she might remain a (firm) believer.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–13

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ؟ موسیٰ ؑ کی و الدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر حضرت موسیٰ کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتارہا دل میں بجز حضرت موسیٰ کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کردی جاتی تو وہ تو بےصبری میں راز فاش کردیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہوگیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة القصص 12 اس بیان سے جو صورت معاملہ صاف سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ تابوت یا ٹوکرا دریا میں بہتا ہوا جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے، تو فرعون کے خدام نے اسے پکڑ لیا اور لے جاکر بادشاہ اور ملکہ کے سامنے پیش کردیا۔ ممکن ہے کہ بادشاہ اور ملکہ خود اس وقت دریا کے کنارے سیر میں مشغول ہوں اور ان کی نگاہ اس ٹوکرے پر پڑی ہو اور انہی کے حکم سے وہ نکالا گیا ہو۔ اس میں ایک بچہ پڑا ہوا دیکھ کر بآسانی یہ قیاس کیا جاسکتا تھا کہ یہ ضرور کسی اسرائیلی کا بچہ ہے، کیونکہ وہ ان محلوں کی طرف سے آرہا تھا جن میں بنی اسرائٰل رہتے تھے، اور انہی کے بیٹے اس زمانے میں قتل کیے جارہے تھے، اور انہی کے متعلق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–13

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى، وحی کا لفظ اس جگہ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، وحی نبوت مراد نہیں اس کی تحقیق سورة طہ میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آزمائشوں میں اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے جب کوئی مقر نہ دیکھا تو جی کڑا کر کے صندوق دریا میں ڈالنے کو تو ڈال دیا لیکن اس کے بعد ان پر جو کچھ گزری یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا دل صبر وقرار سے بالکل خالی ہوگیا۔ قریب تھا کہ بےصبری میں ان سے کوئی ایسی بات صادر ہوجائے جس سے سارا راز فاش ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ نے انکو سنبھال لیا تاکہ جس دولت ایمان سے وہ بہرہ مند تھیں اس پر اس آزمائش میں بھی وہ ثابت قدم رہیں۔ انسان ہر حال انسان ہے کسی ماں کے لئے خوداپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کو دریا کی موجوں کے حوالہ کردینا کوئی آسان بازی نہیں ہے۔ اگرچہ ایک اشارہ غیبی کا سہارا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10-1یعنی ان کا دل ہر چیز اور فکر سے فارغ (خالی) ہوگیا اور ایک ہی فکر یعنی موسیٰ ؑ کا غم دل میں سما گیا، جس کو اردو میں بےقراری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 10-2یعنی شدت غم سے یہ ظاہر کر دیتیں کہ یہ ان کا بچہ ہے لیکن اللہ نے ان کے دل کو مضبوط کردیا جس پر انہوں نے صبر کیا اور یقین کرلیا کہ اللہ نے اس موسیٰ ؑ کو بخریت واپس لٹانے کا جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

3: خطا کار ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کافر اور گناہگار لوگ تھے، اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بچے کو اٹھا کر اپنے حق میں غلطی کی، کیونکہ وہی بچہ آخر ان کے زوال کا سبب بنا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–11

واصبح فؤاد ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (10- 11) اس نے عالم بالا کی طرف سے اشارہ پایا اور اپنے بچے کو دریا کی موجوں کے نذر کردیا۔ لیکن اب وہ کہاں جا رہا ہے اس کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ وہ دل میں سوچتی رہی۔ کس طرح اس کے لئے ممکن ہوا کہ وہ اپنے جگر گوشے کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے۔ کس طرح اس سے یہ ہوسکا جبکہ اس سے قبل کوئی ماں ایسا نہ کرسکی تھی۔ اس حالت خوف میں کیا یہی سلامتی کا راستہ تھا ؟ کیونکہ یہ ممکن ہوا کہ اس نے آواز غیب پر اس طرح لبیک کہہ دیا ؟ قرآن کریم اس بیچاری کی دلی کیفیات کی تصویر کشی عجیب انداز میں کرتا ہے۔ یہ دل خالی اور فارغ ہے ۔ نہ اس میں عقل ہے ، نہ اسے کچھ سمجھ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ بچہ کو دریا میں ڈال آئیں مگر ماں کی مامتا کہاں چین سے رہنے دیتی۔ موسیٰ کا رہ رہ کر خیال آتا تھا۔ دل سے قرار جاتا رہا۔ موسیٰ کی یاد کے سوا کوئی چیز دل میں باقی نہ رہی، قریب تھا کہ صبرو ضبط کا رشتہ ہاتھ سے چھوٹ جائے اور عام طور پر ظاہر کردیں کہ میں نے اپنا بچہ دریا میں ڈالا ہے کسی کو خبر ہو تو لاؤ۔ لیکن خدائی الہام (اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :17) کو یاد کر کے تسلی پاتی تھی۔ یہ خدا ہی کا کام تھا کہ اس کے دل کو مضبوط باندھ دیا کہ خدائی راز قبل از وقت کھلنے نہ پائے۔ اور تھوڑی دیر بعد خود موسیٰ کی والدہ کو عین الیقین…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًا ط ” ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے اورّ شدتِ غم سے جذبات میں ایسا ہیجان برپا تھا کہ دل اڑا جا رہا تھا۔ اِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِہَا لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ” اگر ہم نے اس کی ڈھارس نہ بندھائی ہوتی تو وہ اپنی اس اضطراری کیفیت میں خود ہی بھانڈا پھوڑ دیتی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 ام موسیٰ نے وحی کے مطابق حضرت موسیٰ کو دریا کی موجوں کے سپرد کر تو دیا مگر بعد میں سخت بےتاب ہوگئیں۔ ماں کی مامتا چین نہ لینے دیتی تھی۔ کئی بار دل میں خیال آیا تو لوگوں سے کہہ دیں کہ میں نے بچہ دریا میں ڈال دیا ہے۔ کوئی مجھ پر مہربانی کرے اور اسے وہاں سے نکال کر مجھے واپس لادے۔ اس صورت میں کئی طرح کے خطرات نظر آرہے تھے۔ پھر وحی میں یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ کہ عنقریب وہ بچہ تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اس خیال سے پھر دل کو کسی قدر قرار آجاتا تھا۔ یہ اللہ ہی کی مہربانی تھی کہ اس نے ام موسیٰ کے دل قرار بخش دیا اور یہ راز فاش نہ ہوا۔ جبکہ اسے اب یہ یقین ہوگیا کہ بس چند دن تک میرا بچہ مجھے واپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ یعنی ادھر انہوں نے اپنے نور نظر کو سپرددریا کیا اور ادھر ان کے قلب پر غم و صدمہ نے اتنا ہجوم کیا کہ قریب تھا کہ مضطر ہو کر وہ سب ہی راز ظاہر کردیں لیکن ہم نے ان کے دل کو مضبوط رکھا تاکہ وہ ہمارے وعدہ پر یقین کیے بیٹھی رہیں۔ گویا طبعی تقاضا تو شدت غم وحزن میں اس راز کے افشاء ہی کا تھا لیکن تائید ایزدی کے شامل حال رہی اور انہوں نے طبیعت کے مقتضا پر عمل نہ کیا، عارفین نے لکھا ہے کہ کاملین بھی امور طبعیہ کے اثرات سے بالکل محفوظ نہیں ہوجاتے چناچہ حضرت موصوفہ کو باجود وعدہ الہی کے تردد قلبی شدت کے ساتھ محسوس ہوا لیکن آپ نے بفضل الہی اس کے مقتضا پر عمل نہ کیا اور یہ شیوہ کاملین کا ہوتا ہے۔ (آیت)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واصبح فواد ام موسیٰ فرغًا . اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا۔ یعنی شدت خوف اور ہجوم غم سے موسیٰ کی ماں کا دل عقل سے خالی ہوگیا (اس کے اوسان خطا ہوگئے) کیونکہ اس نے سن پایا تھا کہ موسیٰ فرعون کے ہاتھوں میں پڑگئے۔ ایک اور آیت میں وَاَفْءِدَتُھُمْ ھَوَآءٌ یعنی ان کے دل عقل سے خالی ہیں ‘ ان میں فہم نہیں ہے۔ اکثر اہل تفسیر نے خالی ہونے کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ موسیٰ کی یاد کے علاوہ اس کا دل ہر بات سے خالی ہوگیا۔ حسن نے یہ مطلب بیان کیا کہ اس کا دل خالی ہوگیا ‘ وہ اس الہام کو بھول گئی جو اللہ نے اس کے دل میں پیدا کردیا تھا کہ اس کو دریا میں ڈال دینا اور کچھ خوف و غم نہ کرنا ‘ ہم ضرور اس کو لوٹا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) ادھر حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کا دل حضرت موسیٰ ؑ کے غم میں بےقرار ہوگیا قریب تھا ک کہ وہ اس بےقراری میں موسیٰ ؑ کا حال سب پر ظاہر کردیں اگر ہم ان کے دل کو اس غرض سے مضبوط نہ کرتے کہ یہ وعدہ خداوندی پر یقین کیے بیٹھی رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو رسول بنائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا : اوپر ان کا حال بیان ہوا جنھیں وہ بچہ ملا، اب اس کا حال بیان ہوتا ہے جس سے وہ جدا ہوا۔ ابن ابی حاتم نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا : (فَارِغًا مِنْ کُلِّ شَيْءٍ غَیْرِ ذِکْرِ مُوْسٰی)”موسیٰ ؑ کی ماں اتنی بےقرار ہوگئی کہ اس کا دل موسیٰ کی یاد کے سوا ہر چیز سے خالی ہوگیا۔“ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِهٖ : یہ ”اِنْ“ اصل میں ”إِِنَّ“ ہے، جس کا اسم محذوف ہے۔ دلیل اس کی ”لَتُبْدِيْ بِهٖ“ پر آنے والا لام ہے۔ محذوف کو ظاہر کریں تو عبارت ہوگی : ”إِِنَّھَا کَادَتْ لَتُبْدِيْ بِہِ“ یعنی وہ بےقراری کی وجہ سے قریب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–13

واصبح قوادام موسیٰ فرغاً حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، عکرمہ، قتادہ، ضحاک، ابو عمران جونی اور ابو عبیدہ نے فرغاً کا معنی یہ کیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا دل آپ کے ذکر کے سوا دنیا کی ہر شے کے ذکر سے خالی تھا۔ حضرت حسن بصری نے یہ بھی کہا نیز اب ن اسحاق اور ابن زید نے کہ؁، وہ وحی سے خالی تھی کیونکہ ان کی طرف وحی کی گئی جب اسے حکم دیا گیا کہ وہ اس بچے کو پانی میں پھینک دے وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ السلام کی ماں سے کیا وہ یہ وعدہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو واپس اس کی طرف لوٹائے گا اور اسے رسولوں میں سے بنائے گا۔ شیطان نے اسے کہا، اے موسیٰ کی ماں !…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت واصبح فؤاد ام موسیٰ فارغا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ دنیا کی تمام چیزوں سے بےنیاز ہوگئیں مگر موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے بےنیاز نہ ہوئی۔ یعنی اگر ذکر کرتیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصھحہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا، سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا ہر ذکر سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل فارغ ہوگیا آیت ان کا دت لتبدی بہ، یعنی قریب تھا کہ وہ کہہ اٹھتی اے میرے بیٹے۔ 3۔ الفریابی وعبد بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَصْبَحَ [ اور ہوگیا ] فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى [ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل ] فٰرِغًا ۭ [ بےچین ہونے والا ] اِنْ [ بیشک ] كَادَتْ [ قریب تھا کہ ] لَتُبْدِيْ [ وہ یقینا ظاہر کردیں ] بِهٖ [ اس کو ] لَوْلَآ اَنْ [ اگر نہ ہوتا کہ ] رَّبَطْنَا [ ہم نے مضبوط کیا ] عَلٰي قَلْبِهَا [ ان کے دل کو ] لِتَكُوْنَ [ تاکہ وہ ہوجائیں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ بات ماننے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–13

(فَرَدَدْنٰہُ الآی اُمِّہٖ ) (الآیۃ) سو ہم نے موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور بچہ کی جدائی سے غمگین نہ ہوں اور تاکہ اس بات کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح اپنے بندوں کے ساتھ رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور کس کس طرح ظالموں کو ان کی تدبیروں میں نا کام بناتا ہے۔ فائدہ : یہاں بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنی اولاد کی پرورش کرنا تو فرض ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بچہ کی پرورش کرنے اور دودھ پلانے پر اجرت کیسے قبول فرمائی ؟ لیکن قرآن مجید میں اجرت لینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–21

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ فارغاً ، یعنی صبر سے خالی یا خیال فرزند کے سوا ہر خیال سے خالی (روح) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ محترمہ (محیانۃ بنت یصہر بن لادی) کو جب معلوم ہوا کہ فرعون نے ان کے فرزند ارجمند کو اٹھا لیا ہے اور وہ صحیح سلامت اور زندہ بچ گیا ہے تو ان کا دل صبر و استقلال سے خالی ہوگیا اور قریب تھا کہ مارے خوشی کے وہ فرعون کو بتا دیں کہ اس کا بیٹا ہے۔ قیل المعنی انھا کا دت تظہر امرہ من شدۃ الفرح بنجاتہ و تنبئ فرعون ایاہ (روح ج 20 ص 49) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب بچے کو صندوق میں بند کر کے انہوں نے دریا میں ڈال دیا تو موجوں نے اس کو ادھر سے ادھر پھینکنا شروع کیا یا جب وہ فرعون کے ہاتھ آگیا تو والدہ کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–10

ربط آیات اس سورة مبارکہ کی ابتدائی آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کے ذکر کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کیا گیا ۔ امام احمد (رح) نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت معدی کرب ؓ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے عرض کیا کہ مجھے سورة طسم سنائو تو انہوں نے فرمایا کہ تم یہ سورة اس شخص سے سنو جس نے اے براہ راست حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سن کر یاد کیا ہو ۔ اس سلسلے میں انہوں نے حضرت خباب بن ارت ؓ کا پتہ بتایا ۔ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے یہ ساری سورة سنا دی ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کل ستتر 77 سورتیں حضور حضور ﷺ کے دہن مبارک سے سن کر سیکھی تھیں مگر اس سورة سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا۝ 0 ۭ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِيْ بِہٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰي قَلْبِہَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 10 صبح الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ، وقال : فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، والتَّصَبُّحُ : النّوم بالغداة، والصَّبُوحُ : شرب الصّباح، يقال : صَبَحْتُهُ : سقیته صبوحا، والصَّبْحَانُ : الْمُصْطَبَحُ ، والْمِصْبَاحُ : ما يسقی منه، ومن الإبل ما يبرک فلا ينهض حتی يُصْبَحَ ، وما يجعل فيه الْمِصْبَاحُ ، قال : مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكاةٍ فِيها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–13

ترکیب : ان ارضعیہ اگر ان مصدر یہ ہے تو یہ اوحینا کا مفعول اور اگر بمعنی ای تفسیر کے لیے تو یہ اوحینا کی تفسیر ہوگی، لیکون والعلام للصیروۃ لا للغرض فارغًا ای خالیا من الصبر و الخوف او مما سواہ یہ اصبح کی خبر فواد ام موسیٰ اسم، ان کا دت ان مخففہ ہے، ثقیلہ سے واسمہا محذوف ای انہا وقیل بمعنی ماجواب لولا محذوف دلَّ علیہ ان کا دت لتکون لام متعلقہ ربطنا عن جنب من مکان بعید اختلاساً ہو فی موضع الحال من الفاعل فی بصرت والمراضع جمع مرضعۃ و یمکن ان یکون جمع مرضع بمعنی مصدر۔ تفسیر : واوحینا یہاں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی یعنی اس کے دل میں القاء کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَصْبَحَ فُؤَا دُاُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًا ط اِنْ کَادَتْ لَـتُبْدِیْ بِہٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِھَا لِتَـکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (القصص : 10) (اور موسیٰ کی ماں کا دل اڑا جارہا تھا، قریب تھا کہ وہ اس کے راز کو ظاہر کردیتی، اگر ہم اس کے دل کو نہ سنبھالتے کہ وہ بنی رہے اللہ کے وعدہ پر یقین کرنے والی۔ ) ماں کی بےقراری اور اللہ تعالیٰ کی دستگیری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے خطرات کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے بیٹے کو دریائے نیل کی موجوں کے حوالے تو کردیا اور ایک غیبی وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے غیرمعمولی اقدام کر ڈالا۔ لیکن اس کے بعد ماں کی مامتا بےقابو ہونے لگی، دل کا قرار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–11

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنا اور صندوق کا فرعون کے ہاتھ لگنا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اے اُمِّ موسیٰ ! تیرے ساتھ تیرے رب کا وعدہ ہے کہ نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو تیرے پاس لوٹائے گا بلکہ اسے رسول منتخب کرے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں ڈال کر دریا کی لہروں کے حوالے کیا اور اپنی بیٹی یعنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10: وَاَصْبَحَ یہ صار کے معنی میں ہے۔ (ہو گیا) ۔ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًا۔ (موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل خالی) ۔ جب اس کو فرعون کے ہاتھ میں پڑنے کی اطلاع ملی تو شدید گھبراہٹ سے ان کو کچھ سوجھ نہ رہی۔ (اکثر مفسرین نے فرمایا کہ ان کا دل موسیٰ کی محبت کے علاوہ ہر چیز سے خالی ہوگیا) (مترجم) اِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہٖ (قریب تھا کہ وہ اس کو ظاہر کردیتی) ۔ : ہٗ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ مراد اس کا معاملہ اور واقعہ کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ ایک قول یہ ہے : جب اس نے صندوق کے ساتھ امواج نیل کو کھیلتے دیکھا تو قریب تھا کہ وہ چیخ کر یہ کہہ ڈالے یا بناہ ! (قول مقاتل) قولِ دیگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10۔ واصبح فواد ام موسیٰ فارغا، ان کا دل ہرچیز کے خوف سے خالی ہوگیا صرف حضرت موسیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتیں، اکثر مفسرین نے اس کا قول یہ نقل کیا ہے کہ حضرت حسن کا قول ہے کہ اس کا دل خالی ہوگیا اور وہ اس الہام کو بھول گئی جو اللہ نے ان کے دل میں پیدا کردیا تھا، کہ موسیٰ کو دریا میں ڈال دینا اور کچھ خوف وغم نہ کرنا، ہم ضروری اس کو لوٹا کر تیرے پاس لوٹا دیں گے اور اس کو پیغمبر بنائی گے مگر شیطان نے اس سے آکرکہا کیا تجھے یہ بات پسند نہیں کہ فرعون تیرے بچے کو قتل کردے اور تجھے اس کا اجروثواب ملے اور تو خود بچہ کو قتل کرنے کے درپے ہورہی ہے اور اس کو دریا میں غرق کررہی ہے۔ جب اس کو اطلاع ملی کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10 تا 13۔ اگرچہ بعضے مفسروں نے اس آیت کے معنے یہ کئے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کا دل ہر طرح کے غم سے خالی تھا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں پہلے ہی یہ اطمینان الہام کے ذریعہ سے پیدا کردیا تھا کہ ان کا لڑکا دریا میں ڈال دینے سے ضائع نہ ہوگا اور صحیح سلامت پھر ان کے پاس آجائے گا لیکن یہ معنے قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہیں اسی واسطے حافظ ابو جعفرابن جریر نے اس معنے کو ضعیف ٹھہرایا ہے کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں نے بےقراری کے سبب سے حضرت موسیٰ کی بہن کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال دریافت کرنے کو بھیجا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13 اُمِّ موسیٰ کی بےقراری اپنی انتہا کو پہنچ گئی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ادھر موسیٰ کی والدہ کا دل اڑا جا رہا تھا اور اس قدر کہ قریب تھا کہ وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتیں اگر ہم نے انکے دل کو مضبوط نہ کردیا ہوتا "۔ معلوم ہوا کہ معاملہ سب اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے نہ کہ کسی ولی و بزرگ کے ہاتھ میں کہ حضرت موسیٰ کی والدہ جن کے لئے وحی والہام کی تصریح قرآن مجید میں موجود ہے، ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے دل کو بھی اگر ہم نے مضبوط نہ کردیا ہوتا تو وہ بھی قریب تھا کہ اس راز کو فاش کر بیٹھتیں۔ سو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت نے انکو سنبھالا دے دیا جس کے نتیجے میں انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

سورة القصص آیات 1 تا 13 اسرار و معارف طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ لفظ شیعہ : یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ یعنی بیٹے کی جدائی میں ایسی بےقرار ہوئیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا کسی اور چیز کا خیال دل میں نہ رہا، یا وہ اللہ کی وحی کے سبب مطمئن تھیں۔ (شوکانی) 3 ۔ یعنی ہم نے جو اس سے وعدہ کیا تھا کہ ” انا رادوہ الیک “ اس کو عنقریب تیرے پاس لے آئیں گے۔ “ اس پر اس کا ایمان پختہ رکھنے کے لئے اگر ہم نے ان کی ڈھارس نہ بندھائی ہوتی تو وہ لوگوں پر اپنا راز فاش کر بیٹھتیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:10) اصح ۔۔ فارغا : ای صار خالیا من کل شیء غیر ذکر موسیٰ علیہ السلام۔ حضرت موسیٰ کی یاد اور اس کے خیال کے سوا ہر چیز سے خالی ہوگیا۔ الفراغ۔ یہ شغل کی ضد ہے فرغ یفرغ فروغا۔ خالی ہونا۔ فارغ خالی۔ افرغت الدلو کے معنی ڈول سے پانی بہا کر اسے خالی کردینا کے ہیں اور استعارہ اسی سے ہے افرغ علینا صبرا (2:250) ہم پر صبر کے دہانے کھول دے۔ ان کا دت میں ان ان سے مخفف ہے اور لتبدی بہ میں لام الفارقہ ہے اور بہ میں ہ ضمیر مجرور راجع بسوئے موسیٰ (علیہ السلام) ہے ان کا دت ای انھا کا دت۔ ھا ضمیر قصہ ان کا اسم ہے۔ قریب تھا کہ وہ موسیٰ (کے راز) کو ظاہر کردیتی۔ لالا۔ امتناعیہ ہے۔ لو حرف شرط۔ اور لا نافیہ سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–13

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 13 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ارضعیہ ( دودھ پلا) ‘ الیم (دریا۔ سمندر) انا رادوہ (بےشک ہم اس کو لوٹا دیں گے) ‘ التقط ( اس نے اٹھالیا) ‘ خطئین ( خطا کرنے والے) ‘ امرأ ۃ (عورت) قرۃ عین (آنکھوں کی ٹھنڈک) اصبح (ہوگیا) فئواد ( دل) فرغ (بےقرار۔ بےچین) ‘ کا دت (قریب ہے) ‘ ربطنا ( ہم نے باندھ دیا) قصی (پیچھے جا) ‘ جنب (دور۔ اجنبیت) ‘ حرمنا ( ہم نے روک دیا) ‘ المراضع (دودھ پلانے والیاں) ھل ادل (کیا میں بتاؤں ) یکفلون (وہ ذمہ داری لیتے ہیں) ‘ کی تقر ( تاکہ ٹھنڈی رہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 13 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ نے ان کو فرعون کی ان جاسوس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل ان کی جدائی سے بےقرار ہوگیا، اور فرعون کے ہاتھوں میں جانے سے موسیٰ کی ماں نے حضرت موسیٰ کی ہمشیرہ سے کہا کہ تو اس کی خبرلا کہ اس کا کیا حال ہو، اللہ کا وعدہ سچا ہے جو ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارے پاس لوٹا کر موسیٰ کو لاؤں گا اس کو پورا کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: حضرت موسیٰ کی والدہ آخر عورت ہی تو تھیں ۔ بچے کو ہاتھ سے جاتا دیکھ کر گھبراگئیں ۔ ارشاد ہے کہ اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کردیتے ۔ اور اس کو تسلی نہ دیتے ۔ تو قریب تھا کہ راز افشا کردیتیں 3: جب موسیٰ فرعون کے محل میں جارہے تھے ۔ تو اس کی ماں نے ان کی بہن کو پیچھے لگا دیا ۔ کہ وہ دور سے حالات کا مطالعہ کرتی رہے اور دیکھتی رہے کہ کیا ہوتا ہے حل لغات : فارغا ۔ یعنی صبر قرار سے خالی ہوگیا

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

10۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا دل عقل و صبر سے خالی ہوگیا اور اس کی ماں کا قلب بےقرار ہوگیا قریب تھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کا حال ظاہر کردیتی اگر ہم اس کی ماں کے دل کو سہارا نہ لگاتے اور مضبوط نہ کردیتے اور جمانہ دیتے یہ اس لئے کیا تا کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے اور حق تعالیٰ کے وعدے پر یقین کئے بیٹھی رہیں ۔ یعنی یہ اطلاع ان کو ملی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا صندوق فرعون کے گھر پہنچ گیا تو اس اطلاع سے وہ بےحد پریشان ہوئیں صبر وقرار رخصت ہوگئے اور قریب تھا کہ وہ سب سے کہہ دیتی کہ یہ بچہ میرا ہے اور میں نے ہی صندوق میں رکھ کر ڈالا ہے لیکن حضرت حق جل مجدہٗ نے ان کی ماں کے دل کو سہارا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–14

ف 4۔ یعنی نبوت سے پہلے ہی فہم سلیم و عقل مستقیم جس سے حسن و قبح میں امتیاز کرسکیں عنایت فرمائی۔ 5۔ اس میں اشارہ ہے کہ فرعون کے مشرب کو موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی اختیار نہ کیا تھا بلکہ اس سے نفور رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوا تو ہم نے اس کو فورا مضبوط کردیا : 10۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں یوکابد کا دل بےقرار ہوگیا کیونکہ فطری تقاضے بھی بڑے ہی عجیب ہوتے ہیں ماں کی مامتا اپنے نور نظر کی دریا کی لہروں کے سپرد کرکے کیوں بےچین نہ ہوجاتی بلاشبہ اس کا دل بےچین ہوا اور اس کا دل بار بار یہ تقاضا کر رہا تھا کہ وہ اپنے دل کی بھڑاس کس سے نکالے کہ میں نے ایسا کیوں کیا اور نہ معلوم اس کے دل میں کیا کیا باتیں گزریں اور وہ کن کن سوالوں سے دوچار ہوئی ، شیطان نے اس نے دل کے اندر کیا کیا بات ڈالی ہوگی لیکن بہرحال جیسے کیسے بھی ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مضبوط رکھا اور سارے خطرات کو اپنے دل ہی دل تک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–14

Commentary وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ (And when he reached his maturity and became perfect - 28:14). The literal meaning of 'ashudd (أَشُدَّ ) is to attain the peak of strength or intensity. For instance a person gradually develops from the position of juvenile weakness to the strength of adulthood. A time comes when he has attained full strength and vigour that he could achieve. That point in life is called أَشُدَّ 'ashudd. In different parts of the world and for different people this point in life varies according to climate, character of the land, race etc. Some people attain it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

13 That is, the girl walked along and watched the floating basket in such a manner that the enemies could not know that she had anything to do with the child in it. According to the Israelite traditions, this sister of the Prophet Moses was 10 to 12 years old. She followed up her brother intelligently and cleverly and ascertained that he had been picked up by the Pharaoh's household.

Read the full tafseer →